Explained with ayahs 17–33
قبطیوں کا انجام
ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کردو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو…
Read the full tafseer →سورة الدُّخَان 14
اصل میں " رَسُوْلٌ کَرِیْمٌ " کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ کریم کا لفظ جب انسان کے لیے بولا جاتا ہے تو اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ بہترین شریفانہ خصائل اور نہایت قابل تعریف صفات سے متصف ہے۔ معمولی خوبیوں کے لیے یہ لفظ نہیں بولا جاتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو آزمایا تھا اور (وہ آزمائش یہ تھی کہ) ان کے پاس ایک معزز پیغمبر (یعنی موسیٰ ؑ آئے تھے (پیغمبر کے آنے سے آزمائش ہی ہوتی ہے کہ کون ایمان لاتا ہے اور کون نہیں لاتا اور انہوں نے آ کر فرعون اور فرعون کی قوم سے فرمایا) کہ ان اللہ کے بندوں (یعنی بنی اسرائیل کو (جن کو تم نے طرح طرح کی تکالیف میں پھنسا رکھا ہے) میرے حوالے کردو (اور ان سے دست بردار ہوجاؤ کہ میں جہاں اور جس طرح مناسب ہو ان کو آزاد کر کے رکھوں) میں تمہاری طرف (خدا کا) فرستادہ (ہو کر آیا) ہوں (اور) دیانتدار ہوں (کوئی بات وحی سے کمی بیشی نہیں کرتا ہوں جو حکم ہوتا ہے پہنچاتا ہوں پس تم کو ماننا…
Read the full tafseer →-2 آگے کا مضمون …آیات : 33-17
آگے اس بات کی تاریخی دلیل پیش کی گئی ہے جو اوپر کے پیرے میں بیان فرمائی گی ہے۔ قریش کی تنبیہ کے لئے حضرت موسیٰ ؑ اور فعون کی سرگزشت کا اتنا حصہ بالا جمال سنا دیا گیا ہے جس سے ان پر حقیقت واضح ہوجائے کہ فرعون نے خدا کے رسول کے ساتھ جو چال چلی تھی وہی چال قریش کے فراعنہ بھی خدا کے رسول کے ساتھ چل رہے ہیں۔ فرعونیوں کو اللہ نے ان کی چالوں کی سزا دی اور ان کا سارا غرور پامال ہو کر رہ گیا۔ اسی طرح یہ لوگ بھی خدا کی پکڑ میں آجائیں گے اگر یہ اپنی روش سے باز نہ آئے … آیات کی تلاوت فرمایئے۔
ولقد فتنا قبلھم قوم فرعون وجآء ھم رسول کریم (17)
قریش اور قوم فرعون کے حالات میں…
Read the full tafseer →17۔ 1 آزمانے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے انہیں دنیاوی خوشی، خوشحالی و فراغت سے نوازا اور پھر اپنا جلیل القدر پیغمبر بھی ان کی طرف ارسال کیا لیکن انہوں نے رب کی نعمتوں کا شکر ادا نہ کیا اور نہ پیغمبر پر ایمان لائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
5: اس سے مراد بنو اسرائیل ہیں جن کو فرعون نے غلام بنایا ہوا تھا۔ دیکھئے سورة طٰہٰ : 47
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
آیت نمبر 17 تا 33
اس وادی کے دروازے ہی پر یہ خوفناک اعلان لکھا ہوا ہے کہ یاد رکھو ، کسی قوم کی طرف رسول کا بھیجا جانا اس کی آزمائش ہوتی ہے۔ مکذبین کو یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ وقت بہت تھورا ہے ، اس میں تم تکذیب بھی کرسکتے ہو ، تکبر اور غرور بھی کرسکتے ہو۔ رسول کو ایذا بھی دے سکتے ہو ، تکبر اور غرور بھی کرسکتے ہو۔ رسول کو ایذا بھی دے سکتے ہو ، مومنین پر ظلم و ستم بھی ڈھا سکتے ہو لیکن آخر میں غرور کا سر نیچا ہوتا ہے اور تم جو رسول اللہ ﷺ کو طیش دلاتے ہو ، ان کا پیمانہ صبر لبریز کرتے ہو ، لیکن آپ ﷺ بدستور صبر کا پیکر بنے ہوئے ہیں اور تمہاری ہدایت ہی کے امیدوار ہیں ، اس کا انجام برا بھی ہو سکتا…
Read the full tafseer →3 یعنی حضرت موسیٰ کے ذریعہ سے ان کا امتحان کیا گیا کہ اللہ کے پیغام کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 17 { وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَہُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَآئَ ہُمْ رَسُوْلٌ کَرِیْمٌ} ”اور ہم نے آزمایا تھا ان سے پہلے قوم فرعون کو بھی ‘ اور ان کے پاس بھی ایک بہت معزز رسول آیا تھا۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
11 فرعونیوں کی باربار کی عہد شکنی :۔ یعنی وہ بھی انتہائی ہٹ دھرم اور عہد شکن لوگ تھے۔ جب ان پر کوئی عذاب آتا تو سیدنا موسیٰ سے التجا کرتے کہ اللہ سے دعا کرو ہم پر سے یہ عذاب ہٹا دے تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ پھر جب سیدناموسیٰ کی دعا سے وہ عذاب دور ہوجاتا تو وہ پھر اکڑ جاتے۔ اور انہوں نے بار بار ایسی عہد شکنی کی تھی۔ یہ کفار مکہ بھی اسی قبیل سے تعلق رکھتے ہیں۔
12 یعنی ایسا رسول جو نہایت اعلیٰ اور بلند سیرت و کردار کا مالک تھا۔ مراد سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
14۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اہل فرعون کے پاس آنے اور حق تعالیٰ کا پیام پہنچانے کا ذکر ایک نئے عنوان سے ہے۔ قبلھم۔ ضمیر ھم معاصر مشرکین مکہ کی جانب ہے۔ اے قبل ھؤلآء المشرکین (مدارک) (آیت) ’ ’ رسول کریم “۔ کھلی ہوئی مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ہے۔ (آیت) ” ان ادوا “۔ ان۔ یہاں تفسیر ہے۔ (آیت) ” ان .... اللہ “۔ عباد اللہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں، کہ انہیں میرے سپرد کردو۔ میں انہیں لے کر مسلک توحید پر چلانے کیلئے اپنے پرانے وطن شام کی طرف چلا جاؤں گا۔ (آیت) ” سلطن مبین “۔ اس کے تحت میں دلائل وخوارق سب آگئے۔ (آیت) ” انی ..... ترجمون “۔ صاف اشارہ اس طرف ہے کہ فرعونیوں یا مصریوں نے آپ ﷺ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
آیت نمبر 1 تا 29
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اللہ کی کیا مراد ہے ؟ وہی بہتر جانتا ہے قسم ہے واضح کتاب قرآن کی جو حلال کو حرام سے ممتاز کرنے والی ہے، یقیناً ہم نے اس کو بابرکت رات میں نازل کیا ہے اور وہ شب قدر یا شب نصف شعبان ہے، اسی رات میں قرآن کو ساتویں آسمان پر موجود لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا، بیشک ہم اس کے ذریعہ ڈرانے والے ہیں، اسی رات یعنی شب قدر یا شب نصف شعبان میں ہر محکم کام کا مثلاً روزی، موت وغیرہ جو اس سال اسی جیسی (آئندہ) رات تک ہونے والے ہوتے ہیں فیصلہ کیا جاتا ہے، ہمارے پاس سے حکم صادر ہو کر ہم ہی ہیں رسول بنا کر…
Read the full tafseer →ولقد فتنا قبلھم قوم فرعون وجاءھم رسول کریم۔ اور ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو آزمایا تھا اور انکے پاس ایک معزز پیغمبر آیا تھا
Read the full tafseer →اور ہم نے قریش سے پہلے فرعون اور اس کی قوم کو آزمایا تھا وہ یہ کہ ان کے پاس ایک معزز پیغمبر حضرت موسیٰ آئے تھے۔
Read the full tafseer →(1) ولقد فتنا قبلھم قوم فرعون : یعنی ان کفار مکہ سے پہلے ہم نے فرعون کی قوم کو آزمایا، کبھی وسعت اور فراخی دے کر اور کبھی کوئی عذاب بھیج کر۔ ان کا بھی یہی حال تھا کہ جب ان پر خوش حالی آتی تو کہتے، یہ ہمارے ہنر کا کمال ہے اور جب ان پر عذاب آتا تو اے موسیٰ ؑ کی نحوست قرار دیتے، مگر پھر انھی سے درخواست کرتے کہ اپنے رب سے دعا کر، اگر اس نے یہ عذاب ہم سے ہٹا دیا تو ہم تجھ پر ایمان لے آئیں گے اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے۔ مگر جب ان کی دعا سے وہ عذاب دور ہوتا تو فوراً عہد توڑ ڈالتے۔ آخر انجام ان کا یہ ہوا کہ موسیٰ ؑ کی بد دعا سے ہم نے انھیں سمندر میں غرق کردیا۔ (دیکھیے اعراف :130 تا 136)…
Read the full tafseer →یعنی ہم نے انہیں آزمایا (3) اس فتنہ اور ابتلا کا معنی ہے طاعت کا امر یعنی ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو معبوث کر کے ممتحن کا سا معاملہ کیا تو انہوں نے آپ کو جھٹلایا تو انہیں ہلاک کردیا گیا۔ اے محمد ﷺ اگر وہ ایمان نہ لائے تو ہم تیرے دشمنوں کے ساتھ اسی قوم کا معاملہ کریں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کو فتنہ میں ڈالنے کا مطلب ہے ہم نے انہیں غرق کرنے کے ساتھ عذاب میں ڈالا کلام میں تقدیم و تاخیر ہے تقدیر کلام یہ ہوگی آل فرعون کے پاس رسول کریم آئے تو ہم نے انہیں غرق کردیا کیونکہ فتنہ رسول کے آنے کے بعد ہی ہوتا ہے وائو ترتیب کا فائدہ نہیں دیتی۔ کریم کا معنی ہے وہ اپنی قوم میں معزز تھے ایک قول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے فرمایا کہ (آیت ) ” ولقد فتنا “ سے مراد ہے کہ ہم نے ان کو آزمایا۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد فتنا “ یعنی ہم نے اس کو آزمائش میں مبتلا کردیا (آیت ) ” قبلھم قوم فرعون وجاء ھم رسول کریم “ (ان سے پہلے فرعون کی قوم کو اور ان کے پاس ایک معزز پیغمبر آیا تھا فرمایا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) تھے (آیت) ” ان ادوا الی عباد اللہ “ (اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کردو) یعنی بنی اسرائیل کو بھیج دو ۔ (آیت ) ” وان لا تعلوا علی اللہ “ اور تم خدا سے سرکشی مت کرو) یعنی اللہ تعالیٰ پر بڑائی کا اظہار نہ کرو (آیت ) ”…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ فَتَنَّا [ اور بیشک ہم آزما چکے ] قَبْلَهُمْ [ ان لوگوں سے پہلے ] قَوْمَ فِرْعَوْنَ [ فرعون کو قوم کو ] وَجَاۗءَهُمْ [ اور آئے ان کے پاس ] رَسُوْلٌ كَرِيْمٌ [ایک معزز رسول ]
ر ھ و : (ن) رھوا ، سمندر کا سکون پذیر ہونا ، ساکن ہونا، زیر مطالعہ آیت ۔ 24 ۔
ترکیب : (آیت ۔ 18) اس آیت میں دو امکانات ہیں اول یہ کہ ادوا (فعل امر) کا مخاطب اس میں شامل انتم کی ضمیر کو مانا جائے ایسی صورت میں عباد اللہ اس کا مفعول ہوگا اور ترجمہ ہوگا ” کہ تم لوگ واپس کرو میری طرف اللہ کے بندوں کو “۔ دوسری صورت یہ ہے کہ عباد اللہ کو منادی مضاف مانا جائے ۔ یعنی اے اللہ کے بندو ۔ ایسی صورت میں یہ ادوا کا مخاطب ہوگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
قوم فرعون کے پاس اللہ تعالیٰ کا رسول آنا، اور نافرمانی کی وجہ سے ان لوگوں کا غرق ہونا، بنی اسرائیل کا فرعون سے نجات پانا اور انعامات ربانیہ سے نوازا جانا
ان آیات میں فرعون کی نافرمانی کا اور بطور سزا لشکروں سمیت سمندر میں ڈوب جانے کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ ہم نے ان سے یعنی قریش مکہ سے پہلے قوم فرعون کو آزمایا ان کے پاس رسول کریم یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تشریف لائے۔ جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مکرم و معظم تھے انہوں نے فرعون سے اور اس کی جماعت سے کہا کہ بنی اسرائیل کو تم دکھ تکلیف دیتے ہو انہیں مصیبت میں مبتلا کر رکھا ہے ان اللہ کے بندوں کو تم میرے حوالے کردو اور میرے ساتھ بھیج دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
بیان عظمت کتاب اللہ وبرکات زمانہ نزول قرآن مع دعوت ایمان وبدنصیبی محرومین واشقیاء از سعادت خداوندی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” حم والکتب المبین ...... الی ....... انا منتقمون “۔
(ربط) گزشتہ سورتک مضمون توحید و رسالت کا اثبات تھا اور اس سے اختلاف واعراض کرنے والے مجرمین کی بدنصیبی کا ذکر کرتے ہوئے ان کے افسوس ناک عبرت ناک انجام کا بیان تھا اور اسی موضوع پر سورت کا مضمون ختم فرما دیا گیا تھا کہ اگر ان واقعات کو سن کر بھی قریش کے لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کو سوچ لینا چاہئے کہ ایسا ہی عبرت ناک انجام ان کا بھی ہوگا، ساتھ ہی آپ ﷺ کو تسلی دینا بھی مقصود تھا کہ قریش مکہ کی مخالفت ودشمنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
14:۔ ” ولقد فتنا “ تا ” مافیہ بلاء مبین “ یہ تخویف دنیوی کا ایک نمونہ ہے۔ اور ” فارتقب یوم الخ “ سے متعلق ہے جس طرح ان سے پہلے فرعون اور اس کی قوم کو دنیا ہی میں سرکشی کی سزا ملی اسی طرح ان کو بھی دنیا میں سزا ملے گی۔ ان سے پہلے ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو آزمایا یعنی اپنے احکام کی اطاعت کا حکم دیا اور ان کے پاس ایک نہایت معزز رسول یہ پیغام لے کر آیا کہ اے اللہ کے بندو، جو حقوق تم پر واجب ہیں میری طرف ادا کرو۔ اس صورت میں عباد اللہ منادی ہوگا اور حرف ندا مقدر ہوگا۔ حقوق واجبہ سے ایمان اور قبول دعوت مراد ہے۔ ادوا الی ھق اللہ تعالیٰ من الایمان و قبول الدعوۃ یا عباد اللہ علی ان مفعول (ادو)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–29
ربطہ آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے نزول قرآن کے زمانے کے مشرکین بالخصوص مشرکین مذکر انداز کیا ، ان کی نافرمانی کا حال بیان کیا اور پھر ان پر آن والی گرفت کا ذکر کیا۔ اللہ نے ان پر دھوئیں کی شکل میں قحط مسلط کیا۔ انہوں نے عہد کیا کہ یہ مصیبت دور ہوجائے تو وہ ایمان لے آئیں۔ مگر جب انہیں قحط سے نجات مل گئی تو وہ پہلے سے بھی زیادہ کفر و شرک میں منہمک ہوگئے۔ اللہ نے بھی فرما دیا کہ ہم تھوڑی مدت کے لئے ان سے تکلیف کو ہٹائیں گے لیکن نافرمانی کی صورت میں بڑی گرفت میں لے لیں گے۔ چناچہ اللہ نے بدر کے مقام پر بہت سے سرکردہ مشرکین کو ہلاک کیا ، بعض قیدی بنے اور بعض شکست کھا کر بھاگ گئے۔
قوم فرعون کی…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَہُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَاۗءَہُمْ رَسُوْلٌ كَرِيْمٌ 17 ۙ
( قَدْ )
: حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
ترکیب : ان ادوا قیل ان مفسرۃ لان مجئی الرسول متضمن لمعنی القول وقیل مخفقذمن الثقیلۃ عباد اللہ اما مفعول بہ لا دوا ای ارسلوھم معی اوانہ مناوی والتقدیر ادوا الی یا عباد اللہ ماھو واجب علیکم من الایمان والاعمال الصالحۃ۔
تفسیر : کفار مکہ کو ان کی سرکشی پر ایک آنے والی بلا سے ڈرایا گیا تھا اب اس جگہ فرعونیوں کا قصہ سنایا جاتا ہے کہ وہ باوجودیکہ تم سے زیادہ مالدار ‘ طاقت ور تھے ان کو رسول نے سمجھایا مگر نہ مانا اور سرکشی سے باز نہ آئے۔ بنی اسرائیل کے پیچھے دوڑے آئے کہ پکڑلاویں اور غلامی میں رکھیں آخر اس کے فضل سے بنی اسرائیل بحرِقلزم سے خشک پار اتر گئے اور فرعونی غرق ہوگئے تمام باغ و مکان و آرایش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَھُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَآئَ ھُمْ رَسُوْلٌ کَرِیْمٌ۔ اَنْ اَدُّوْٓا اِلَیَّ عِبَادَاللّٰہِ ط اِنِّیْ لَـکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ۔ وَاَنْ لاَ تَعْلُوْا عَلَی اللّٰہِ اِنِّیْٓ اٰتِیْـکُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ۔ (الدخان : 17 تا 19)
(ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو آزمایا اور ان کے پاس ایک نہایت معزز رسول آیا۔ اس پیغام کے ساتھ کہ اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کرو میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔ اور یہ کہ تم اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو، میں تمہارے سامنے ایک صریح حجت پیش کرتا ہوں۔ )
قریش اور قوم فرعون میں مشابہت
قرآن کریم نے مختلف مواقع پر قوم فرعون اور قریش کے حالات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح مکہ والوں کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں عذاب میں مبتلا کیا اسی طرح ہی قوم فرعون کو مختلف قسم کے عذابوں میں مبتلا کیا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہم نے تمہاری طرف ایسا رسول بھیجا ہے جس طرح قوم فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا۔ لیکن فرعون نے اسے ماننے سے انکار کردیا تھا جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اسے بڑے عذاب میں مبتلا کیا۔ (المزمل : 15، 16)
ارشاد فرمایا کہ ہم نے اس سے پہلے ایک معزز رسول کے ذریعے قوم فرعون کو آزمایا۔ اس کے رسول نے فرعون کو یہ بات کہی تھی کہ اللہ کے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو میرے حوالے کر دو ۔ میں تمہارے لیے امین اور ذمہ…
Read the full tafseer →تذکرئہ موسیٰ d:
آیت 17 : وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَہُمْ (ہم نے ان سے پہلے آزمایا) ان مشرکین سے یعنی ان کے ساتھ اس طرح کا معاملہ کیا جو مختبر مختبر کے ساتھ کرتا ہے۔ تاکہ ان کا باطن سامنے آجائے۔ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَآئَ ہُمْ رَسُوْلٌ کَرِیْمٌ (قوم فرعون کو اور ان کے پاس ایک معزز پیغمبر آئے تھے) جو اللہ تعالیٰ کے ہاں عزت والے اور اس کے مومن بندوں پر مہربانی کرنے والے یا ذاتی اعتبار سے کریم ٗ حسب و نسب والے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قوم کے سردار اور شرفاء کو ہی نبوت سے نوازا ہے۔
Read the full tafseer →16، یوم نبطش البطشۃ الکبری، اور وہ بدرکادن ہے۔ ، انا منتقمون، اور یہ ابن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اکثر علماء رحمہم اللہ کا قول ہے اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ قیامت کا دن اور یہی بات عکرمہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
17۔ 23۔ اوپر ذکر تھا کہ قریش پر قحط کی آفت آئی تو انہوں نے اپنے بتوں کو چھوڑ کر خالص اللہ سے رفع قحط کی التجا کی اور جب اللہ نے اس بلا کو دفع کردیا تو وہ لوگ پھر وہی شرک کرنے لگے۔ قریش کی یہ حالت فرعون کی قوم کی حالت سے ملتی ہوئی تھی اس واسطے ان آیتوں میں فرعون اور اس کی قوم کا ذکر فرمایا۔ سورة یوسف میں گزر چکا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے مصر کے قیام کے زمانہ میں بنی اسرائیل اپنے اصلی وطن ملک شام کو چھوڑ کر مصر میں آ کر آباد ہوئے اب یوسف (علیہ السلام) کی وفات کے بعد فرعون بنی اسرائیل کو بڑی ذلت سے رکھتا تھا اس واسطے موسیٰ (علیہ السلام) کے نبی ہو کر مصر میں آنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے موسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
آیت 17
رسول مصطفیٰ محمد ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ گزشتہ زمانوں میں بھی جھٹلانے والے موجود تھے اور ان کا قصہ حضرت موسیٰ کے ساتھ ذکر فرمایا، نیز اس عذاب کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کیا تاکہ جھٹلانے والے اپنے اس رویے سے باز آجائیں فرمایا : (آیت) ” یعنی ہم نے اپنے رسول کریم حضرت موسیٰ بن عمران کو ان کی طرف مبعوث کر کے انہیں آزمایا جن میں بھلائی اور مکارم اخلاق بدرجہ اتم موجود تھے جو کسی اور میں موجود نہ تھے۔
(ان ادوآ الی عباد اللہ) یعنی حضرت موسیٰ نے فرعون اور اس کے سرداروں سے کہا ” اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کردو۔ “ اس سے حضرت موسیٰ کی مراد بنی اسرائیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
20 منکروں کو قوم فرعون کے انجام کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے پہلے ہم قوم فرعون کو بھی آزمائش میں ڈال چکے ہیں اور ان کے پاس بھی ایک بڑا معزز رسول آیا تھا "۔ یعنی حضرت موسیٰ کلیم اللہ ۔ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والتسلیم ۔ کہ وہ بڑے ہی معزز اور اولو العزم رسول تھے۔ سو جس طرح کے امتحان میں ہم نے آج قوم قریش کو انکے اندر اپنا رسول مبعوث کرکے ڈالا ہے اسی طرح کے امتحان میں اس سے پہلے ہم قوم فرعون کو بھی ڈال چکے ہیں جبکہ انکے اندر بھی ایک بڑے عظیم الشان اور اولو العزم رسول کو مبعوث فرمایا گیا۔ سو جو انجام کل کے ان منکروں کا انکار حق کی پاداش میں ہوا وہی آج کے ان منکروں کا بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
قرآن سچ ہے اور اس کے علاہ سب غلط ہے
تشریح : ان تمام آیات میں اللہ کی ان تدابیر کا ذکر کیا گیا ہے جو اس نے کائنات کے لیے مرتب کر رکھی ہیں۔ مثلاً میجر جنرل غلام محمد ملک صاحب اس کی بڑے خوبصورت انداز میں یوں وضاحت کرتے ہیں : فلسفہ تاریخ جس طرح سیاسی واقعات کی تکرار اور حوادث کے بار بار اعادہ سے اصول اور نتائج تک پہنچ کر ایک عام تاریخی قانون بنا لیتا ہے اسی طرح انبیاء علیھم السلام کے سوانح اور تاریخیں بھی اپنے واقعات کے بار بار اعادہ سے خصائصِ نبوت کا اصول قانون ہمارے لیے مرتب کرتی ہے۔ پیغمبرانہ تاریخ کے انہی اصول و قوانین میں سے ایک یہ ہے کہ نبی جب اپنے کمال انسانیت کو پہنچ کر فیضان نبوت کے قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
آیات 1 تا 29۔
اسرار ومعارف۔
حم۔ اس کتاب واضح کی قسم ہے یعنی یہ دلائل سے حق کو واضح کردینے والی کتاب اس پر گواہ ہے جسے ہم نے ایک بہت بابرکت شب کو لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل فرمایا کہ اس کے نزول سے مراد مخلوق کو صحیح راہ عمل دکھانا اور اعمال بد کے بد انجام سے بروقت خبر دینا ہے کہ وہ اپنی راہ متعین کرسکیں
لیلہ مبارکہ :
لیلہ مبارکہ سے مراد مفسرین کرام سے لیلۃ القدر ہے کہ قرآن کریم کی دوسری آیات سے اس کی تعیین ہوجاتی ہے نیز نزول قران رمضان المبارک ہی میں ہوا اور جو بات نصف شعبان کی شب کے بارے مشہور ہے ، اس کی سندیں ضعیف ہیں اس لیے اکثر علماء نے اسے قبول نہیں کیا ، اور بعض نے اس کی فضیلت اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–20
ف 3 یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آچکا ہوں جو میرا ہی نہیں تمہارا بھی مالک ہے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں۔ شاید وہ ڈراتے ہونگے اس سے ( موضح)
Read the full tafseer →(44:17) ولقد فتنا۔ واؤ عاطفہ لام تاکید کا۔ قد کے دو فائدے ہیں :۔
(1) ماضی پر داخل ہوکر تحقیق کے معنی دیتا ہے۔
(2) ماضٰ کو زمانہی حال کے قریب کردیتا ہے۔ فتنا ماضی جمع متکلم فتنۃ باب ضرب مصدر۔ آزمانا۔ آزمائش میں ڈالنا۔ اور تحقیق ان سے قبل ہم نے ماضی قریب میں قوم فرعون کو آزمایا تھا۔
فتن کے اصل معنی سونے کو آگ میں گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا معلوم ہوجائے اس لئے کسی کو آگ میں ڈالنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ مثلا قرآن مجید میں ہے یوم ہم علی النار یفتنون (51:13) جس سن ان کو آگ میں (ڈال کر) عذاب دیا جائے گا۔ نفس عذاب پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے مثلا ذوقوا فتنتکم (51:14) اپنے عذاب کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 33 : فتنا ( ہم نے آزمایا) لا تعلوا (تم نہ چڑھو) اعتزلون ( تم مجھ سے دور ہٹ جائو) اسر (تو راتوں رات چل) رھوا ( ٹھہرا ہوا) جند ( لشکر) مابکت (نہ روئی ، نہ رویا) منظرین (مہلت دیئے گئے) اخترانا ( ہم نے پسند کیا)
تشریح : آیت نمبر 17 تا 33 : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حق و صداقت کی سر بلندی اور ہدایت و تبلیغ میں ساری زندگی جدوجہد فرمائی فرعون اور آل فرعون نے جس طرح ان کی نافرمانی کی اس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی مختلف سورتوں میں عبرت و نصیحت کے لئے مختصر یا تفصیل سے بیان کیا ہے۔ یہاں ایک مرتبہ پھر حضرت موسیٰ کی زندگی کے ایک اور پہلو کو بیان کرکے کفار قریش کو آگاہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جیسے یہ قریش کافر ہیں یوں ہی ہم نے ان سے پہلے فرعون اور اس کی قوم کو فتنہ میں ڈالا تھا یعنی ان کو عذاب دیا اور آزمائش میں ڈالا، اور ان کے پاس خدا کے برگزیدہ کرامت والے رسول آئے، یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، اور آکر موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کی قوم سے درخواست کی کہ بنی اسرائیل کو مت ستاؤ، اور ان کو میرے حوالے کردو، اسی درخواست کی تائید میں حضرت موسیٰ نے یہ بھی کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے امانت دار رسول ہوں، جس طرح مجھ کو اللہ کا حکم ہوتا ہے وہی میں تم لوگوں کو پہنچادیتا ہوں اپنی طرف سے اس میں کچھ خیانت نہیں کرتا، اور یہ بھی کہا کہ اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
[7] یعنی بنی اسرائیل کو جنہیں فرعون نے غلام بنا رکھا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–32
دھوئیں کا عذاب
1: مکہ والوں نے جب حضور ﷺ کے پیغام توحید کو ٹھکرایا اور انتہائی تحقیر وتذلیل کے ساتھ آپ کا خیرمقدم کیا ۔ تو اس وقت آپ کی زبان الہام ترجمان سے یہ کلمات بےاختیار نکل گئے ۔ کہ اے اللہ ان لوگوں پر اس قحط کا عذاب نازل کر جو تونے یوسف کے زمانہ میں نازل کیا تھا ۔ بس ان الفاظ کا حضور ﷺ کے منہ سے نکلنا تھا ۔ کہ اجابت نے ہاتھوں ہاتھ لیا ۔ آسمان نے رحمت کے دراوزوں کو ان پر بند کرلیا ۔ زمین میں خشک ہوگئی ۔ اور قحط وجوع نے قریش کو آزمائش میں ڈال دیا ۔ اس قدر فاقے ہونے لگے ۔ کہ بھوک کے مارے ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے دھواں سا معلوم ہونے لگا ۔ زندگی کے لئے یہ لوگ مجبور ہوگئے ۔ کہ مردار…
Read the full tafseer →(17) اور بلاشبہ ہم نے ان لوگوں سے پہلے فرعون کی قوم کو جانچا اور آزمایا تھا اور ان کے پاس ایک معزز اور گرامی قدر رسول پیغام لے کر آیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–17
ف 6۔ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) ۔
(فائدہ) پیغمبر کے آنے سے آزمائش یہ ہوتی ہے کہ کون ایمان لاتا ہے اور کون نہیں لاتا۔
Read the full tafseer →ہم ان سے پہلے اپنا ایک معزز رسول فرعون کی قوم کی طرف بھیج کر آزماچکے ہیں
71 ؎ فرعون مصر جس کا واسطہ موسیٰ (علیہ السلام) سے پڑا وہ کوئی معمولی آدمی نہیں تھا وقت کا حکمران بھی تھا اور قوم کا تسلیم شدہ شمس دیوتا یا اس کا اوتار بھی جس کو قوم نے اپنا الٰہ اور رب تسلیم کرلیا تھا اور اس نے اپنا الٰہ اور رب ہونا قوم سے تسلیم کرالیا تھا اور فراعنہ مصر نے قوم بنی اسرائیل کو اچھوت بناکر رکھ دیا تھا اور ان پر طرح طرح سے ظلم کرتے تھے۔ رسول سارے ہی کریم ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود اس جگہ مخصوص کرکے موسیٰ (علیہ السلام) کو ” رسول کریم “ کا خطاب دیا گیا کیوں ؟ اس لیے کہ دنیا والوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
Commentary
دُخَانٍ مُّبِينٍ...visible smoke" in verse (10) embodies a prophecy and the Prophet ﷺ was asked to watch for the Day when the sky will bring forth a manifest smoke covering the people. There are three opinions recorded about this from the Companions and their pupils.
The first view is that the smoke is one of the portents of the Day of Judgment which will occur very close to the Day of Judgment. This view is held by Sayyidna al-Murtada, Ibn ` Abbas, Ibn ` Umar, Abu Hurairah, Zaid Ibn ` Ali ؓ ، Hasan al-Basri Ibn Abi Mulaikah and others رحمۃ اللہ علیہم . This view is recorded…
Read the full tafseer →14 The words rasul-un karim in the original imply a man who is characterised with most noble traits of character and highly praiseworthy qualities.
Read the full tafseer →