Explained with ayahs 17–33
قبطیوں کا انجام
ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کردو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو…
Read the full tafseer →سورة الدُّخَان 15
یہ بات ابتدا ہی میں سمجھ لینی چاہیے کہ یہاں حضرت موسیٰ کے جو اقوال نقل کیے جا رہے ہیں وہ ایک وقت میں ایک ہی مسلسل تقریر کے اجزا نہیں ہیں، بلکہ سالہا سال کے دوران میں مختلف مواقع پر جو باتیں انہوں نے فرعون اور اس کے اہل دربار سے کہی تھیں ان کا خلاصہ چند فقروں میں بیان کیا جا رہا ہے۔ (تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، حواشی 83 تا 97، یونس، حواشی، 72 تا 93، جلد سوم، طہ، حواشی 18 الف تا 52، الشعراء، حواشی 7 تا 49، النمل، حواشی 8 تا 17، القصص، حواشی 46 تا 56،۔ جلد چہارم، المومن، آیات 23 ت 46۔ الزخرف 46 تا 56 مع حواشی)
سورة الدُّخَان 16
اصل میں اَدُّوْا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو آزمایا تھا اور (وہ آزمائش یہ تھی کہ) ان کے پاس ایک معزز پیغمبر (یعنی موسیٰ ؑ آئے تھے (پیغمبر کے آنے سے آزمائش ہی ہوتی ہے کہ کون ایمان لاتا ہے اور کون نہیں لاتا اور انہوں نے آ کر فرعون اور فرعون کی قوم سے فرمایا) کہ ان اللہ کے بندوں (یعنی بنی اسرائیل کو (جن کو تم نے طرح طرح کی تکالیف میں پھنسا رکھا ہے) میرے حوالے کردو (اور ان سے دست بردار ہوجاؤ کہ میں جہاں اور جس طرح مناسب ہو ان کو آزاد کر کے رکھوں) میں تمہاری طرف (خدا کا) فرستادہ (ہو کر آیا) ہوں (اور) دیانتدار ہوں (کوئی بات وحی سے کمی بیشی نہیں کرتا ہوں جو حکم ہوتا ہے پہنچاتا ہوں پس تم کو ماننا…
Read the full tafseer →ان ادوا الی عباد اللہ ط انی لکم رسول امین (18)
اللہ کے بندوں کو کوئی پانا بندہ نہیں بنا سکتا
ان سے پہلے حرف جو محذوف ہے یعنی با عزت رسول اس پیغام کے ساتھ ان کے پاس آیا کہ اللہ کے بندوں کو میرے حوالہ کرو۔ یہ وہی بات ہے جو دوسرے مقامات میں فارسل معنا بنی اسرآئیل (طہ : 47) کے الفاظ سے نقل ہوئی ہے۔ البتہ یہ فرق ہے کہ اس فقرے میں حضرت موسیٰ ؑ نے اپنے مطالبہ کی دلیل بھی سمودی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو اللہ کے بندے ہیں کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ ان کو اپنا بندہ بنانے کی کوشش کرے اس وجہ سے ان کو میرے ساتھ جانے اور تاکہ ہم اپنے رب کی بندگی جس طرح کرنی چاہتے ہیں بغیر کسی روک ٹوک کے کرسکیں۔ یہ سوال کہ حضرت…
Read the full tafseer →18۔ 1 عِبَاد اللّٰہِ سے مراد یہاں موسیٰ ؑ کی قوم بنی اسرائیل ہے جسے فرعون نے غلام بنا رکھا تھا حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم کی آزادی کا مطالبہ کیا۔
18۔ 2 اللہ کا پیغام پہنچانے میں امانت دار ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
5: اس سے مراد بنو اسرائیل ہیں جن کو فرعون نے غلام بنایا ہوا تھا۔ دیکھئے سورة طٰہٰ : 47
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
آیت نمبر 17 تا 33
اس وادی کے دروازے ہی پر یہ خوفناک اعلان لکھا ہوا ہے کہ یاد رکھو ، کسی قوم کی طرف رسول کا بھیجا جانا اس کی آزمائش ہوتی ہے۔ مکذبین کو یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ وقت بہت تھورا ہے ، اس میں تم تکذیب بھی کرسکتے ہو ، تکبر اور غرور بھی کرسکتے ہو۔ رسول کو ایذا بھی دے سکتے ہو ، تکبر اور غرور بھی کرسکتے ہو۔ رسول کو ایذا بھی دے سکتے ہو ، مومنین پر ظلم و ستم بھی ڈھا سکتے ہو لیکن آخر میں غرور کا سر نیچا ہوتا ہے اور تم جو رسول اللہ ﷺ کو طیش دلاتے ہو ، ان کا پیمانہ صبر لبریز کرتے ہو ، لیکن آپ ﷺ بدستور صبر کا پیکر بنے ہوئے ہیں اور تمہاری ہدایت ہی کے امیدوار ہیں ، اس کا انجام برا بھی ہو سکتا…
Read the full tafseer →4 یعنی خدا کے بندوں کو اپنا بندہ مت بناؤ۔ بنی اسرائیل کو غلامی سے آزادی دو اور میرے حوالہ کرو۔ میں جہاں چاہوں لے جاؤں۔
Read the full tafseer →آیت 18 { اَنْ اَدُّوْٓا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰہِط اِنِّیْ لَکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ} ”اس پیغام کے ساتھ کہ تم اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو۔ یقینا میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔“
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا کہ میں اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا ایک معزز اور امانت دار رسول ہوں اور تمہاری طرف اللہ کا یہ پیغام لے کر آیا ہوں کہ تم بنی اسرائیل کو آزاد کر کے میرے ساتھ جانے کی اجازت دے دو۔
Read the full tafseer →13 سیدنا موسیٰ کا فرعون سے مطالبہ :۔ اس آیت کے دو مطلب یہ ہیں۔ ایک تو ترجمہ سے واضح ہے اور قرآن میں متعدد مقامات پر مذکور ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون سے پہلا مطالبہ یہ تھا کہ میں اللہ کا رسول ہوں لہذا مجھ پر ایمان لاؤ اور دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ قوم بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کرکے میرے ہمراہ روانہ کردو۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ کے بندو ! میرا حق مجھے ادا کرو یعنی میری بات مانو اور مجھ پر ایمان لاؤ۔ یہ اللہ کی طرف سے تم پر میرا حق ہے۔ اور مابعد کا جملہ کہ میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں اس دوسرے مطلب سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
14۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اہل فرعون کے پاس آنے اور حق تعالیٰ کا پیام پہنچانے کا ذکر ایک نئے عنوان سے ہے۔ قبلھم۔ ضمیر ھم معاصر مشرکین مکہ کی جانب ہے۔ اے قبل ھؤلآء المشرکین (مدارک) (آیت) ’ ’ رسول کریم “۔ کھلی ہوئی مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ہے۔ (آیت) ” ان ادوا “۔ ان۔ یہاں تفسیر ہے۔ (آیت) ” ان .... اللہ “۔ عباد اللہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں، کہ انہیں میرے سپرد کردو۔ میں انہیں لے کر مسلک توحید پر چلانے کیلئے اپنے پرانے وطن شام کی طرف چلا جاؤں گا۔ (آیت) ” سلطن مبین “۔ اس کے تحت میں دلائل وخوارق سب آگئے۔ (آیت) ” انی ..... ترجمون “۔ صاف اشارہ اس طرف ہے کہ فرعونیوں یا مصریوں نے آپ ﷺ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
آیت نمبر 1 تا 29
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اللہ کی کیا مراد ہے ؟ وہی بہتر جانتا ہے قسم ہے واضح کتاب قرآن کی جو حلال کو حرام سے ممتاز کرنے والی ہے، یقیناً ہم نے اس کو بابرکت رات میں نازل کیا ہے اور وہ شب قدر یا شب نصف شعبان ہے، اسی رات میں قرآن کو ساتویں آسمان پر موجود لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا، بیشک ہم اس کے ذریعہ ڈرانے والے ہیں، اسی رات یعنی شب قدر یا شب نصف شعبان میں ہر محکم کام کا مثلاً روزی، موت وغیرہ جو اس سال اسی جیسی (آئندہ) رات تک ہونے والے ہوتے ہیں فیصلہ کیا جاتا ہے، ہمارے پاس سے حکم صادر ہو کر ہم ہی ہیں رسول بنا کر…
Read the full tafseer →ان ادوا الی عباد اللہ انی لکم رسول امین (اور اس نے کہا تھا) کہ اللہ کے بندوں کو (یعنی بنی اسرائیل کو) میرے حوالے کر دو ۔ میں تمہارے لئے امانت دار پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہوں۔
فَتَنَّا ہم نے امتحان لیا ‘ ہم نے جانچ کی۔
قَبْلَھُمْ کفار مکہ سے پہلے۔
قَوْمَ فِرْعَوْنَ یعنی قوم فرعون کی جانچ کی مع فرعون کے۔
رَسُوْلٌ عظیم الشان رسول (رسولٌ میں تنوین تعظیم کیلئے ہے ‘ مترجم) ۔
کَرِیْمٌ عزت والا۔ اللہ کے نزدیک ‘ یا مؤمنوں کے نزدیک ‘ یا نسب و حسب کے لحاظ سے فی نفسہٖ معزز۔ اس سے مراد حضرت موسیٰ ہیں۔
اَنْ اَدُّوْٓا اِلَیَّ یعنی حضرت موسیٰ نے کہا : بنی اسرائیل کو میرے سپرد کر دو ‘ میرے ساتھ جانے کی اجازت…
Read the full tafseer →اور انہوں نے کہا تھا کہ بنی اسرائیل کو میرے حوالہ کردو اور میرے ساتھ بھیج دو میں اللہ کی طرف سے امانت دار رسول ہوں۔
Read the full tafseer →(1) ان ادوا الی عباد اللہ …: یہاں یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ موسیٰ ؑ کے جو اقوال یہاں نقل ہوئے ہیں وہ ایک وقت کے نہیں بلکہ کئی سالوں میں مختلف مواقع پر انہوں نے فرعون اور اس کے درباریوں سے جو کچھ کہا اس کا خلاصہ چند فقروں میں بیان کیا گیا ہے۔
(2) ان اذوا الی عباد اللہ : اس جملے کی تفسیر دو طرح سے ہوسکتی ہے، ایک یہ کہ ”عباد اللہ“ کا لفظ ”اذوا الی“ کا مفعول بہ ہے، یعنی موسیٰ ؑ نے ان سے کہا کہ اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو۔”عباد اللہ“ (اللہ کے بندوں) سے مراد بنی اسرائیل ہیں، جنہیں فرعون نے غلام بنا رکھا تھا۔ موسیٰ ؑ کی بعثت کا مقصد فرعون اور اس کی قوم کو سالام کی دعوت کے ساتھ ساتھ بنی…
Read the full tafseer →حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : معنی ہے وہ ان کے پاس آیا، اس نے کہا میری اتباع کرو، یہ منادی ہے مجاہد نے کہا اللہ کے بندوں کو میرے ساتھ بھیج دو اور انہیں عذاب سے آزاد کر دو ۔ اس تعبیر کی بناء پر عباد اللہ مفعول بہ ہوگا ایک قول یہ کیا گیا ہے معنی ہے مجھے اپنی قوت سماعت دو یعنی میری بات سنو یہاں تک کہ میں تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچائوں۔
یعنی میں وحی پر امین ہوں پس میری نصیحتوں کو قبول کرو ایک قول یہ کیا گیا ہے جو میں تم سے لیتا ہوں اس میں امین ہوں میں اس میں کوئی خیانت نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے فرمایا کہ (آیت ) ” ولقد فتنا “ سے مراد ہے کہ ہم نے ان کو آزمایا۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد فتنا “ یعنی ہم نے اس کو آزمائش میں مبتلا کردیا (آیت ) ” قبلھم قوم فرعون وجاء ھم رسول کریم “ (ان سے پہلے فرعون کی قوم کو اور ان کے پاس ایک معزز پیغمبر آیا تھا فرمایا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) تھے (آیت) ” ان ادوا الی عباد اللہ “ (اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کردو) یعنی بنی اسرائیل کو بھیج دو ۔ (آیت ) ” وان لا تعلوا علی اللہ “ اور تم خدا سے سرکشی مت کرو) یعنی اللہ تعالیٰ پر بڑائی کا اظہار نہ کرو (آیت ) ”…
Read the full tafseer →اَنْ [ (اس پیغام کے ساتھ ) کہ )] اَدُّوْٓا اِلَيَّ [ تم لوگ واپس کر ومیری طرف ] عِبَادَ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے بندوں کو ] اِنِّىْ لَكُمْ [ بیشک میں تمہارے لئے ] رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ [ ایک امانتد ار رسول ہوں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
قوم فرعون کے پاس اللہ تعالیٰ کا رسول آنا، اور نافرمانی کی وجہ سے ان لوگوں کا غرق ہونا، بنی اسرائیل کا فرعون سے نجات پانا اور انعامات ربانیہ سے نوازا جانا
ان آیات میں فرعون کی نافرمانی کا اور بطور سزا لشکروں سمیت سمندر میں ڈوب جانے کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ ہم نے ان سے یعنی قریش مکہ سے پہلے قوم فرعون کو آزمایا ان کے پاس رسول کریم یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تشریف لائے۔ جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مکرم و معظم تھے انہوں نے فرعون سے اور اس کی جماعت سے کہا کہ بنی اسرائیل کو تم دکھ تکلیف دیتے ہو انہیں مصیبت میں مبتلا کر رکھا ہے ان اللہ کے بندوں کو تم میرے حوالے کردو اور میرے ساتھ بھیج دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
بیان عظمت کتاب اللہ وبرکات زمانہ نزول قرآن مع دعوت ایمان وبدنصیبی محرومین واشقیاء از سعادت خداوندی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” حم والکتب المبین ...... الی ....... انا منتقمون “۔
(ربط) گزشتہ سورتک مضمون توحید و رسالت کا اثبات تھا اور اس سے اختلاف واعراض کرنے والے مجرمین کی بدنصیبی کا ذکر کرتے ہوئے ان کے افسوس ناک عبرت ناک انجام کا بیان تھا اور اسی موضوع پر سورت کا مضمون ختم فرما دیا گیا تھا کہ اگر ان واقعات کو سن کر بھی قریش کے لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کو سوچ لینا چاہئے کہ ایسا ہی عبرت ناک انجام ان کا بھی ہوگا، ساتھ ہی آپ ﷺ کو تسلی دینا بھی مقصود تھا کہ قریش مکہ کی مخالفت ودشمنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
15:۔ ” وانی عذت “ اس سے پہلے ادماج ہے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا سرکشی نہ کرو تو انہوں نے ان کو قتل کرنے کی دھمکی دی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا۔ میں اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لیتا ہوں کہ تم مجھے سنگسار کرسکو۔ مطلب یہ ہے کہ میں اپنے رب کی حفاظت میں ہوں۔ تم مجھے کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکتے۔ لما قال ان لا تعلوا علی اللہ، توعدوہ بالقتل، فقال ذلک (روح) وان لم تؤمنوا الخ اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے ہو تو مجھ سے الگ ہوجاؤ اور میرے ساتھ کوئی سر و کار نہ رکھو اور میری ایذاء رسانی سے باز آجاؤ یہانتک کہ اللہ تعالیٰ خود ہی حق و باطل کا فیصلہ فرما دے۔ کیا ایک ناصح مہربان کی یہی جزا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–29
ربطہ آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے نزول قرآن کے زمانے کے مشرکین بالخصوص مشرکین مذکر انداز کیا ، ان کی نافرمانی کا حال بیان کیا اور پھر ان پر آن والی گرفت کا ذکر کیا۔ اللہ نے ان پر دھوئیں کی شکل میں قحط مسلط کیا۔ انہوں نے عہد کیا کہ یہ مصیبت دور ہوجائے تو وہ ایمان لے آئیں۔ مگر جب انہیں قحط سے نجات مل گئی تو وہ پہلے سے بھی زیادہ کفر و شرک میں منہمک ہوگئے۔ اللہ نے بھی فرما دیا کہ ہم تھوڑی مدت کے لئے ان سے تکلیف کو ہٹائیں گے لیکن نافرمانی کی صورت میں بڑی گرفت میں لے لیں گے۔ چناچہ اللہ نے بدر کے مقام پر بہت سے سرکردہ مشرکین کو ہلاک کیا ، بعض قیدی بنے اور بعض شکست کھا کر بھاگ گئے۔
قوم فرعون کی…
Read the full tafseer →اَنْ اَدُّوْٓا اِلَيَّ عِبَادَ اللہِ 0 ۭ اِنِّىْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ 18 ۙ
أدى
الأداء : دفع الحق دفعةً وتوفیته، كأداء الخراج والجزية وأداء الأمانة، قال اللہ تعالی: فَلْيُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ أَمانَتَهُ [ البقرة/ 283] ، إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَماناتِ إِلى أَهْلِها [ النساء/ 58] ، وقال : وَأَداءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 178] ، وأصل ذلک من الأداة، تقول : أدوت بفعل کذا، أي : احتلت، وأصله : تناولت الأداة التي بها يتوصل إليه، واستأديت علی فلان نحو : استعدیت
( ا د ی ) الاداء کے معنی ہیں یکبارگی اور پورا پورا حق دے دینا ۔ چناچہ خراج اور جزیہ کے دے دینے اور امانت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
ترکیب : ان ادوا قیل ان مفسرۃ لان مجئی الرسول متضمن لمعنی القول وقیل مخفقذمن الثقیلۃ عباد اللہ اما مفعول بہ لا دوا ای ارسلوھم معی اوانہ مناوی والتقدیر ادوا الی یا عباد اللہ ماھو واجب علیکم من الایمان والاعمال الصالحۃ۔
تفسیر : کفار مکہ کو ان کی سرکشی پر ایک آنے والی بلا سے ڈرایا گیا تھا اب اس جگہ فرعونیوں کا قصہ سنایا جاتا ہے کہ وہ باوجودیکہ تم سے زیادہ مالدار ‘ طاقت ور تھے ان کو رسول نے سمجھایا مگر نہ مانا اور سرکشی سے باز نہ آئے۔ بنی اسرائیل کے پیچھے دوڑے آئے کہ پکڑلاویں اور غلامی میں رکھیں آخر اس کے فضل سے بنی اسرائیل بحرِقلزم سے خشک پار اتر گئے اور فرعونی غرق ہوگئے تمام باغ و مکان و آرایش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَھُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَآئَ ھُمْ رَسُوْلٌ کَرِیْمٌ۔ اَنْ اَدُّوْٓا اِلَیَّ عِبَادَاللّٰہِ ط اِنِّیْ لَـکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ۔ وَاَنْ لاَ تَعْلُوْا عَلَی اللّٰہِ اِنِّیْٓ اٰتِیْـکُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ۔ (الدخان : 17 تا 19)
(ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو آزمایا اور ان کے پاس ایک نہایت معزز رسول آیا۔ اس پیغام کے ساتھ کہ اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کرو میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔ اور یہ کہ تم اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو، میں تمہارے سامنے ایک صریح حجت پیش کرتا ہوں۔ )
قریش اور قوم فرعون میں مشابہت
قرآن کریم نے مختلف مواقع پر قوم فرعون اور قریش کے حالات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح مکہ والوں کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں عذاب میں مبتلا کیا اسی طرح ہی قوم فرعون کو مختلف قسم کے عذابوں میں مبتلا کیا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہم نے تمہاری طرف ایسا رسول بھیجا ہے جس طرح قوم فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا۔ لیکن فرعون نے اسے ماننے سے انکار کردیا تھا جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اسے بڑے عذاب میں مبتلا کیا۔ (المزمل : 15، 16)
ارشاد فرمایا کہ ہم نے اس سے پہلے ایک معزز رسول کے ذریعے قوم فرعون کو آزمایا۔ اس کے رسول نے فرعون کو یہ بات کہی تھی کہ اللہ کے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو میرے حوالے کر دو ۔ میں تمہارے لیے امین اور ذمہ…
Read the full tafseer →آیت 18 : اَنْ اَدُّوْٓا اِلَیَّ (کہ میرے حوالے کردو) : یہ ان مفسرہ ہے۔ کیونکہ رسول کی آمد ان کی طرف جن کی طرف ان کی بعثت ہوتی ہے اس میں قول کا معنی خود پایا جاتا ہے۔ کیونکہ وہ پیغمبر ان کے ہاں مبشر ٗ نذیر اور داعی الی اللہ بن کر آتے ہیں۔ یا نمبر 2۔ ان مخففہ من المثقلہ ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہے۔ وجاء ہم بان الشان والحدیث ادوا ای سلموا الی۔ اور وہ رسول ان کے پاس آئے اس لئے کہ شان اور بات یہ ہے تم میرے سپرد کردو۔
عِبَادَ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کے بندوں کو) اور مراد بنو اسرائیل ہیں۔ عرب کہتے ہیں ادوہم الی وارسلوھم معی جیسا کہ اس ارشاد میں ہے۔ فارسل معنا بنی اسرائیل ولا تعذبہم۔ ] طہ۔ 47[ یہ مفعول…
Read the full tafseer →تفسیر 17۔ ، ولقد فتنا، ہم نے آزمایا۔ ، قبلھم ، ان لوگوں سے پہلے، قوم فرعون وجاء ھم رسول کریم، اللہ پر اور وہ موسیٰ (علیہ السلام) بن عمران ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
17۔ 23۔ اوپر ذکر تھا کہ قریش پر قحط کی آفت آئی تو انہوں نے اپنے بتوں کو چھوڑ کر خالص اللہ سے رفع قحط کی التجا کی اور جب اللہ نے اس بلا کو دفع کردیا تو وہ لوگ پھر وہی شرک کرنے لگے۔ قریش کی یہ حالت فرعون کی قوم کی حالت سے ملتی ہوئی تھی اس واسطے ان آیتوں میں فرعون اور اس کی قوم کا ذکر فرمایا۔ سورة یوسف میں گزر چکا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے مصر کے قیام کے زمانہ میں بنی اسرائیل اپنے اصلی وطن ملک شام کو چھوڑ کر مصر میں آ کر آباد ہوئے اب یوسف (علیہ السلام) کی وفات کے بعد فرعون بنی اسرائیل کو بڑی ذلت سے رکھتا تھا اس واسطے موسیٰ (علیہ السلام) کے نبی ہو کر مصر میں آنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے موسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
آیت 17
رسول مصطفیٰ محمد ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ گزشتہ زمانوں میں بھی جھٹلانے والے موجود تھے اور ان کا قصہ حضرت موسیٰ کے ساتھ ذکر فرمایا، نیز اس عذاب کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کیا تاکہ جھٹلانے والے اپنے اس رویے سے باز آجائیں فرمایا : (آیت) ” یعنی ہم نے اپنے رسول کریم حضرت موسیٰ بن عمران کو ان کی طرف مبعوث کر کے انہیں آزمایا جن میں بھلائی اور مکارم اخلاق بدرجہ اتم موجود تھے جو کسی اور میں موجود نہ تھے۔
(ان ادوآ الی عباد اللہ) یعنی حضرت موسیٰ نے فرعون اور اس کے سرداروں سے کہا ” اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کردو۔ “ اس سے حضرت موسیٰ کی مراد بنی اسرائیل…
Read the full tafseer →21 حضرت موسیٰ کا فرعون سے اللہ کے بندوں کو آزاد کرنے کا مطالبہ : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ حضرت موسیٰ کو قوم فرعون کی طرف اس پیغام کے ساتھ بھیجا گیا تھا کہ تم لوگ میرے حوالے کردو اللہ کے بندوں کو۔ اس صورت میں " عباد اللہ " فعل امر " ادوا " کا مفعول بہ ہوگا۔ جبکہ دوسرا احتمال اس میں یہ بھی ہے کہ " عِبَاد اللّٰہ " مفعول بہٖ نہیں بلکہ منادیٰ مضاف ہو۔ اور فعل امر " ادوا " کا مفعول بہ مخدوف ہو۔ یعنی " مَا اسْتَحقَّہٗ " یا اس جیسا کوئی اور مقدر۔ سو اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اللہ کے بندو اللہ کا رسول ہونے کے اعتبار سے جو میرا حقِّ اطاعت و اتباع تم پر واجب ہوتا ہے اس کو میرے لئے ادا کرو کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
قرآن سچ ہے اور اس کے علاہ سب غلط ہے
تشریح : ان تمام آیات میں اللہ کی ان تدابیر کا ذکر کیا گیا ہے جو اس نے کائنات کے لیے مرتب کر رکھی ہیں۔ مثلاً میجر جنرل غلام محمد ملک صاحب اس کی بڑے خوبصورت انداز میں یوں وضاحت کرتے ہیں : فلسفہ تاریخ جس طرح سیاسی واقعات کی تکرار اور حوادث کے بار بار اعادہ سے اصول اور نتائج تک پہنچ کر ایک عام تاریخی قانون بنا لیتا ہے اسی طرح انبیاء علیھم السلام کے سوانح اور تاریخیں بھی اپنے واقعات کے بار بار اعادہ سے خصائصِ نبوت کا اصول قانون ہمارے لیے مرتب کرتی ہے۔ پیغمبرانہ تاریخ کے انہی اصول و قوانین میں سے ایک یہ ہے کہ نبی جب اپنے کمال انسانیت کو پہنچ کر فیضان نبوت کے قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
آیات 1 تا 29۔
اسرار ومعارف۔
حم۔ اس کتاب واضح کی قسم ہے یعنی یہ دلائل سے حق کو واضح کردینے والی کتاب اس پر گواہ ہے جسے ہم نے ایک بہت بابرکت شب کو لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل فرمایا کہ اس کے نزول سے مراد مخلوق کو صحیح راہ عمل دکھانا اور اعمال بد کے بد انجام سے بروقت خبر دینا ہے کہ وہ اپنی راہ متعین کرسکیں
لیلہ مبارکہ :
لیلہ مبارکہ سے مراد مفسرین کرام سے لیلۃ القدر ہے کہ قرآن کریم کی دوسری آیات سے اس کی تعیین ہوجاتی ہے نیز نزول قران رمضان المبارک ہی میں ہوا اور جو بات نصف شعبان کی شب کے بارے مشہور ہے ، اس کی سندیں ضعیف ہیں اس لیے اکثر علماء نے اسے قبول نہیں کیا ، اور بعض نے اس کی فضیلت اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–20
ف 3 یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آچکا ہوں جو میرا ہی نہیں تمہارا بھی مالک ہے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں۔ شاید وہ ڈراتے ہونگے اس سے ( موضح)
Read the full tafseer →(44:18) ان ادوا الی عباد اللّٰہ : ان مفسرہ ہے کیونکہ حضرت موسیٰ کا فرعون اور اس کی قوم کے پاس آنا قول کے معنی کو بھی متضمن ہے یعنی وہ ان کے پاس آیا اور فرعون سے کہا کہ اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو ۔
ادوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تادیۃ (تفعیل) مصدر۔ جس کے معنی ادا کرنے یا حوالہ کرنے کے ہیں۔ ادی یا ادو مادہ۔
الاداء کے معنی یکبارگی اور پورا پورا حق دینا۔ چناچہ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے فلیؤد الذی ائتمن امانتہ (2:283) پس امانت دار کو چاہیے کہ صاحب امانت کی امانت کو ادا کر دے۔ یا ان اللّٰہ یأمرکم ان تودوا الامانات الی اہلہا (4:58) خدا تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کے حوالہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 33 : فتنا ( ہم نے آزمایا) لا تعلوا (تم نہ چڑھو) اعتزلون ( تم مجھ سے دور ہٹ جائو) اسر (تو راتوں رات چل) رھوا ( ٹھہرا ہوا) جند ( لشکر) مابکت (نہ روئی ، نہ رویا) منظرین (مہلت دیئے گئے) اخترانا ( ہم نے پسند کیا)
تشریح : آیت نمبر 17 تا 33 : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حق و صداقت کی سر بلندی اور ہدایت و تبلیغ میں ساری زندگی جدوجہد فرمائی فرعون اور آل فرعون نے جس طرح ان کی نافرمانی کی اس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی مختلف سورتوں میں عبرت و نصیحت کے لئے مختصر یا تفصیل سے بیان کیا ہے۔ یہاں ایک مرتبہ پھر حضرت موسیٰ کی زندگی کے ایک اور پہلو کو بیان کرکے کفار قریش کو آگاہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جیسے یہ قریش کافر ہیں یوں ہی ہم نے ان سے پہلے فرعون اور اس کی قوم کو فتنہ میں ڈالا تھا یعنی ان کو عذاب دیا اور آزمائش میں ڈالا، اور ان کے پاس خدا کے برگزیدہ کرامت والے رسول آئے، یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، اور آکر موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کی قوم سے درخواست کی کہ بنی اسرائیل کو مت ستاؤ، اور ان کو میرے حوالے کردو، اسی درخواست کی تائید میں حضرت موسیٰ نے یہ بھی کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے امانت دار رسول ہوں، جس طرح مجھ کو اللہ کا حکم ہوتا ہے وہی میں تم لوگوں کو پہنچادیتا ہوں اپنی طرف سے اس میں کچھ خیانت نہیں کرتا، اور یہ بھی کہا کہ اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
[7] یعنی بنی اسرائیل کو جنہیں فرعون نے غلام بنا رکھا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–32
دھوئیں کا عذاب
1: مکہ والوں نے جب حضور ﷺ کے پیغام توحید کو ٹھکرایا اور انتہائی تحقیر وتذلیل کے ساتھ آپ کا خیرمقدم کیا ۔ تو اس وقت آپ کی زبان الہام ترجمان سے یہ کلمات بےاختیار نکل گئے ۔ کہ اے اللہ ان لوگوں پر اس قحط کا عذاب نازل کر جو تونے یوسف کے زمانہ میں نازل کیا تھا ۔ بس ان الفاظ کا حضور ﷺ کے منہ سے نکلنا تھا ۔ کہ اجابت نے ہاتھوں ہاتھ لیا ۔ آسمان نے رحمت کے دراوزوں کو ان پر بند کرلیا ۔ زمین میں خشک ہوگئی ۔ اور قحط وجوع نے قریش کو آزمائش میں ڈال دیا ۔ اس قدر فاقے ہونے لگے ۔ کہ بھوک کے مارے ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے دھواں سا معلوم ہونے لگا ۔ زندگی کے لئے یہ لوگ مجبور ہوگئے ۔ کہ مردار…
Read the full tafseer →(18) کہ تم ان اللہ تعالیٰ کے بندوں کو یعنی بنی اسرائیل کو میرے حوالے اور میرے سپرد کردو میں تمہاری طرف اللہ کا فرستادہ ہوں اور معتبر اور امانت دار ہوں۔
Read the full tafseer →ف 7۔ اور ان سے دست بردار ہوجاو کہ میں جہاں اور جس طرح مناسب ہو ان کو آزاد کر کے رکھوں۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو کہا کہ بنی اسرائیل کو میرے حوالے کردو
81 ؎ (ادوا) کا اصل ادو ہے اور امرکا صیفہ جمع مذکر حاضر ہے جس کے معنی ہیں تم حوالے کرو اور (عباد اللہ) اللہ کے بندوں کو اور اس سے مراد بیا اسرائیل ہے یعنی فرعون کو سب سے پہلے آپ نے الٰہ اور رب ہونے سے روکا اور اس کو واضح الفاظ میں بتایا کہ تو الٰہ اور رب نہیں بلکہ رب وہ ہے جس نے مجھے اپنا رسول بناکر تیری اور قوم بنی اسرائیل کی طرف بھیجا ہے بہتر ہے کہ تم اپنی ربوبیت کا نہیں بلکہ اللہ رب العزت کی ربوبیت کا اقرار کرو جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے اور میں تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشانات اور روشن دلائل لے کر آیا ہوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
Commentary
دُخَانٍ مُّبِينٍ...visible smoke" in verse (10) embodies a prophecy and the Prophet ﷺ was asked to watch for the Day when the sky will bring forth a manifest smoke covering the people. There are three opinions recorded about this from the Companions and their pupils.
The first view is that the smoke is one of the portents of the Day of Judgment which will occur very close to the Day of Judgment. This view is held by Sayyidna al-Murtada, Ibn ` Abbas, Ibn ` Umar, Abu Hurairah, Zaid Ibn ` Ali ؓ ، Hasan al-Basri Ibn Abi Mulaikah and others رحمۃ اللہ علیہم . This view is recorded…
Read the full tafseer →15 One should note that the sayings of the Prophet Moses being cited here, are not parts of a continuous address delivered by him at any one time, but they are a summary in a few sentences of what he said to Pharaoh and his courtiers on different occasions during many years. For the details, sec AI-A'raf: 103-136, Yunus: 75-92, Ta Ha : 45-76, Ash-Shua'ra: 10-68, An-Naml: 7-14, AlQasas: 32-42, AI-Mu'min: 23-46, Az-Zukhruf: 46-56 and the corresponding E.N.'s.
16 That is. "Leave the children of Israel to go with me." This demand is synonymous with the demand made in Al-A`raf: 105, Ta Ha: 47 and…
Read the full tafseer →