Explained with ayahs 3–8
عظیم الشان قرآن کریم کا نزول اور ماہ شعبان
اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس عظیم الشان قرآن کریم کو بابرکت رات یعنی لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ جیسے ارشاد ہے آیت (اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ښ) 97۔ القدر :1) ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ اور یہ رات رمضان المبارک میں ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے (شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ01805) 2۔ البقرة :185) رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔ سورة بقرہ میں اس کی پوری تفسیر گذر چکی ہے اس لئے یہاں دوبارہ نہیں لکھتے بعض لوگوں…
Read the full tafseer →سورة الدُّخَان 7
معبود سے مراد ہے حقیقی معبود جس کا حق یہ ہے کہ اس کی عبادت (بندگی و پرستش) کی جائے۔
سورة الدُّخَان 8
یہ دلیل ہے اس امر کی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ یہ بات سراسر عقل کے خلاف ہے کہ جس نے بےجان مادوں میں جان ڈال کر تم کو جیتا جاگتا انسان بنایا، اور جو اس امر کے کلی اختیارات رکھتا ہے کہ جب تک چاہے تمہاری اس زندگی کو باقی رکھے اور جب چاہے اسے ختم کر دے، اس کی تم بندگی نہ کرو، یا اس کے سوا کسی اور کی بندگی کرو، یا اس کے ساتھ دوسروں کی بندگی بھی کرنے لگو۔
سورة الدُّخَان 9
اس میں ایک لطیف اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ تمہارے جن اسلاف نے اس کو چھوڑ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
(آیت) لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ سے مراد جمہور مفسرین کے نزدیک شب قدر ہے جو رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں ہوتی ہے۔ اس رات کو مبارک فرمانا اس لئے ہے کہ اس رات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر بیشمار خیرات و برکات نازل ہوتی ہیں اور قرآن کریم کا شب قدر میں نازل ہونا قرآن کی سورة قدر میں تصریح کے ساتھ آیا ہے۔ (آیت) انا انزلنہ فی لیلة القدر، اس سے ظاہر ہوا کہ یہاں بھی لیلة مبارکہ سے مراد شب قدر ہی ہے۔ اور ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ سے یہ بھی منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی کتابیں ابتداء دنیا سے آخر تک اپنے انبیاء (علیہم السلام) پر نازل فرمائی ہیں وہ سب کی سب ماہ رمضان المبارک ہی کی مختلف تاریخوں…
Read the full tafseer →لا الہ الا ھو یحی ویمیت ربکم و رب ابآء ئکم الاولین 8
یہ اوپر والے مضمون ہی کی مزید تاکید ہے کہ اس کے سوا کوئی الہ نہیں جس کی سفارش تمہارے کچھ کام آسکے۔ زندگی اور موت سب اسی کے اختیار میں ہے۔ وہی تمہارا بھی رب ہے اور وہی تمہارے اگلے آباء و اجداد کا بھی رب ہے۔ اگر تمہارے آباء و اجداد نے اس کے سوا کسی اور کو پوجا تو یہ ان کی سفاہت و جہالت ہے۔ ان کی تقلید کو اپنے لئے دلیل نہ بنائو ورنہ پرائے شگون پر اپنی ناک کٹوا بیٹھو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
9۔ 1 یعنی حق اور اس کے دلائل کے سامنے آگئے۔ لیکن وہ اس پر ایمان لانے کے بجائے شک میں مبتلا ہیں اور اس شک کے ساتھ استہزاء اور کھیل کود میں پڑے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
3: اس آیت کی تفسیر حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے یہ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو متنبہ کرنے کے لیے انہیں ایک سخت قحط میں مبتلا فرما دیا تھا، اس وقت لوگ بھوک کی شدت کے عالم میں جب آسمان کی طرف دیکھتے تو انہیں آسمان پر دھواں ہی دھواں چھایا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ اس آیت میں اس قحط سالی کی پیشین گوئی کی گئی ہے، اور فرمایا گیا ہے کہ کافروں کو سزا کے طور پر ایسے قحط میں مبتلا کیا جائے گا کہ انہیں بھوک کی وجہ سے آسمان پر دھواں ہی دھواں نظر آئے گا، اور اس وقت یہ لوگ وعدہ کریں گے کہ اگر یہ قحط ہم سے دور ہوگیا تو ہم ایمان لے آئیں گے، لیکن جب قحط دور ہوگا تو اپنے وعدے سے پھر کر دوبارہ شرک کی طرف لوٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
درس نمبر 234 تشریح آیات
1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 59
آیت نمبر 1 تا 8
آغاز دو حروف سے ہوتا ہے حا۔ میم۔ اور دونوں کی قسم اٹھائی جاتی ہے اور پھر کتاب مبین کی بھی قسم اٹھائی جاتی ہے جو ایسے ہی حروف تہجی سے مرکب ہے۔ ان کے بارے میں سورتوں کے آغاز میں ہم بار ہا بات کرچکے ہیں۔ پھر ان حروف کی بھی اسی طرح قسم اٹھائی گئی جس طرح کتاب مبین کی قسم اٹھائی گئی۔ کتاب مبین کی اہمیت مسلم مگر ان حروف کی اہمیت کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر حرف بھی ایک معجزہ اور نشانی ہے اور ہر حرف انسان کی زبان کی ساخت کی نشانی ہے اور پھر کس انداز سے زبان اپنے مخرج سے اس حرج و صوت کو نکالتی ہے ، پھر ان حروف کے مخارج کی ترتیب پھر ہر حرف کے نام…
Read the full tafseer →7 یعنی جس کے قبضہ میں مارنا جلانا اور وجود و عدم کی باگ ہو۔ اور سب اولین و آخرین جس کے زیر تربیت ہوں۔ کیا اس کے سوا دوسرے کلی بندگی جائز ہوسکتی ہے ؟ یہ ایک ایسی صاف حقیقت ہے جس میں شک و شبہ کی قعطاً گنجائش نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 8 { لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ } ”اس کے سوا کوئی معبود نہیں ‘ وہی زندہ رکھتا ہے اور وہی مارتا ہے۔“
{ رَبُّکُمْ وَرَبُّ اٰبَآئِکُمُ الْاَوَّلِیْنَ } ”وہ تمہارا بھی رب ہے اور تمہارے پہلے آباء واجداد کا بھی رب ہے۔“
Read the full tafseer →6 یعنی تم ہی نہیں بلکہ تمہارے آباء و اجداد بھی اس غلطی اور گمراہی میں مبتلا تھے۔ ان کا پروردگار بھی وہی معبود برحق ہے جو زندہ کرسکتا اور مار سکتا ہے۔ لہذا انہیں بھی اسی معبود کی عبادت کرنا چاہئے تھی۔ اب تم اپنے آباء کی اس غلطی اور گمراہی کو ہی سند بناکر اپنے لیے غیر اللہ کی عبادت کا جواز پیش کرنا چاہتے ہو ؟۔
Read the full tafseer →7۔ آیت ماقبل کی طرح اس میں بھی توحید ہی کے مختلف پہلوؤں کی تاکید اور شرک کے مختلف مظاہر کی تریدد ہے۔ (آیت) ” لاالہ الا ھو۔ اس کی صفت الوہیت میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں۔ (آیت) ” یحی ویمیت “۔ جان ڈالنے اور جان لینے کی قوتیں بھی صرف اسی کے ہاتھ میں ہیں ..... زندگی کے کوئی الگ دیوتا اور موت کے کوئی الگ دیوتا نہیں۔ (آیت) ” ربکم ..... الاولین “۔ وہ کوئی نوپیدا معبود نہیں۔ دنیا جب سے قائم ہے اس کا وہی ایک اور اکیلا پروردگار رہا ہے .... بعض جاہلی قوموں نے اپنے اسلاف قدیم کو معبود مانا اور ان کی پرستش کی ہے۔ آیت میں اس اسلاف پرستی کی بھی تردید آگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
آیت نمبر 1 تا 29
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اللہ کی کیا مراد ہے ؟ وہی بہتر جانتا ہے قسم ہے واضح کتاب قرآن کی جو حلال کو حرام سے ممتاز کرنے والی ہے، یقیناً ہم نے اس کو بابرکت رات میں نازل کیا ہے اور وہ شب قدر یا شب نصف شعبان ہے، اسی رات میں قرآن کو ساتویں آسمان پر موجود لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا، بیشک ہم اس کے ذریعہ ڈرانے والے ہیں، اسی رات یعنی شب قدر یا شب نصف شعبان میں ہر محکم کام کا مثلاً روزی، موت وغیرہ جو اس سال اسی جیسی (آئندہ) رات تک ہونے والے ہوتے ہیں فیصلہ کیا جاتا ہے، ہمارے پاس سے حکم صادر ہو کر ہم ہی ہیں رسول بنا کر…
Read the full tafseer →لا الہ الا ھو یحییٰ ویمیت ربکم ورب ابائکم الاولین اس کے سوا کوئی معبود ہونے کا مستحق نہیں
ہے (کیونکہ اسکے سوا کوئی خالق نہیں) وہی زندگی دیتا ہے اور وہی زندگی لیتا ہے۔ وہی تمہارا اور تمہارے باپ دادا کا رب ہے (جیسا کہ تم مشاہدہ کر رہے ہو) ۔
Read the full tafseer →وہی دوبارہ زندہ کرنے کے لیے جان ڈالے گا اور وہ دنیا میں جان نکالتا ہے وہ تمہارا بھی خالق ہے اور تمہارے اگلے آباؤ اجداد کا بھی خالق ہے۔
Read the full tafseer →(1) لا الہ الا ہو : یہ پچھلی آیت کا نتیجہ ہے کہ جب آسمان و زمین اور ساری کائنات کا مالک اور رب اللہ تعالیٰ ہے تو پھر معبود بھی وہی ہے۔
(2) یحی ویمیت ربکم و رب ابائکم الاولین : یہ دونوں جملے اللہ تعالیٰ کے معبود واحد ہونے کی مزید تاکید کے لئے بیان فرمائے کہ معبود اسی کو مانو جو زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے اور جو تمہارا اور تمہارے پہلے آباء کا رب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
وہ عالم کا خالق ہے اس لئے جائز نہیں کہ اس کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا جائے جو کسی چیز کے پیدا کرنے پر قادر نہیں وہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور زندروں کو مارتا ہے۔ یعنی تمہارا مالک ہے اور تم سے پہلوں کا مالک ہے حضرت محمد ﷺ کو جھٹلانے سے بچو تاکہ تم پر عذاب نازل نہ ہو۔ یعنی جس ایمان اور اقرار کا اظہار کرتے ہیں اس میں یقین پر نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کا خالق ہے وہ یہ بات علم کے بغیر اپنے آباء کی تقلید میں کہتے ہیں پس وہ شک میں مبتلا ہیں اگر وہ یہ وہم کرتے ہیں کہ وہ مومن ہیں تو وہ اپنے دین میں اس چیز کے ساتھ کھیلتے ہیں جو ان کے لئے بغیر حجت کے ظاہر ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یلعبون کا معنی ہے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
1:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو اس طرح پڑھا (آیت ) ” انہ ھو السمیع العلیم (6) رب السموت والارض “ یا کہ زیر کے سایہ۔
Read the full tafseer →لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ [ کوئی الہ نہیں ہے مگر وہ ] يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ ۭ [ وہ (ہی ) زندگی دیتا ہے اور موت دیتا ہے ] رَبُّكُمْ [ (وہ ہی ) تمہارا رب ہے ] وَرَبُّ اٰبَاۗىِٕكُمُ الْاَوَّلِيْنَ [ اور تمہارے اگلے آباء و اجداد کا رب ہے ]
Read the full tafseer →﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُحْيٖ وَ يُمِيْتُ 1ؕ﴾ (اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے) ﴿ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الْاَوَّلِيْنَ 008﴾ وہ تمہارا رب ہے اور جو تم سے پہلے تمہارے باپ دادے گزرے ہیں ان کا بھی رب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
بیان عظمت کتاب اللہ وبرکات زمانہ نزول قرآن مع دعوت ایمان وبدنصیبی محرومین واشقیاء از سعادت خداوندی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” حم والکتب المبین ...... الی ....... انا منتقمون “۔
(ربط) گزشتہ سورتک مضمون توحید و رسالت کا اثبات تھا اور اس سے اختلاف واعراض کرنے والے مجرمین کی بدنصیبی کا ذکر کرتے ہوئے ان کے افسوس ناک عبرت ناک انجام کا بیان تھا اور اسی موضوع پر سورت کا مضمون ختم فرما دیا گیا تھا کہ اگر ان واقعات کو سن کر بھی قریش کے لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کو سوچ لینا چاہئے کہ ایسا ہی عبرت ناک انجام ان کا بھی ہوگا، ساتھ ہی آپ ﷺ کو تسلی دینا بھی مقصود تھا کہ قریش مکہ کی مخالفت ودشمنی…
Read the full tafseer →9:۔ ” لا الہ الا ھو۔ الایۃ “ صفات بالا سے جو متصف ہے وہی الٰہ ہے، وہی متصرف و کارساز اور عالم الغیب ہے۔ زندگی اور موت اسی کے اختیار میں ہے۔ وہ تمہارا بھی مالک و کارساز ہے اور تمہارے باپ دادا کا مالک اور کارساز بھی وہی تھا جب سب کا مالک و خالق وہی ہے، تو اس کے سوا کوئی کارساز اور غیب داں بھی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نامہ سورة الدخان ہے۔ یہ نام اس کی آیت 100 میں آمدہ لفظ دخان سے ماخوذ ہے۔ عربی زبان میں دخان دھوئیں کھتے ہیں اور یہ دو قسم سے مذکور ہے دسواں نو قحط سالی کا ہوتا ہے اور دوسرا دھواں وہ ہے جو قیامت کی نشانی کے طور پر قرب قیامت میں ظاہر ہوگا۔
یہ سورة حوامیم سبعہ کی پانچویں سورة ہے جو مکی زندگی کے آخری حصہ میں گزشتہ سورة زخرف کے بعد نازل ہوئی اس کی انسٹھ آیات اور تین رکوع ہیں۔ یہ سورة مبارکہ 346 الفاظ اور 431 حروف پر مشتمل ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ جمعہ کی رات یا جمعہ کے دن اس سورة کی تلاوت کا بڑا اجر ہے ۔ آیات دوسری حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص رات کے وقت اس سورة کی تلاوت…
Read the full tafseer →لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَيُـحْيٖ وَيُمِيْتُ 0 ۭ رَبُّكُمْ وَرَبُّ اٰبَاۗىِٕكُمُ الْاَوَّلِيْنَ 8
لا
«لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت .
ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–16
فیہا یفرق کل امرا حکیم امرامن عندنا کہ اس رات میں ہر حکمت کی بات بیان اور ظاہر کی جاتی ہے۔ یعنی جو حوادث دنیا میں ظاہر ہونے والے ہوتے ہیں (جیسا کہ کسی کا مرنا ‘ کسی کا امیر ہونا ‘ کسی کا فقیر ہونا ‘ بیمار و تندرست ہونا ‘ قحط و ارزانی کا ہونا ‘ سلطنت و حکومت کا تبدل و تغیر وغیرہ) ان کو بارگاہ قدس سے ملائکہ مدبران عالم پر ظاہر کیا جاتا ہے گو لوح محفوظ میں روز اول لکھے گئے تھے مگر اس رات میں انتظام عالم کے لیے ایک سال کے حوادث ان کے مدبر اور کارکن ملائکہ پر ظاہر کئے جاتے ہیں تاکہ اس کی تعمیل کریں۔ یہ اس رات کی بڑی عظمت و عزت ہے اس کے یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ عالم ناسوت میں جو معاملات ظہور کرنے…
Read the full tafseer →لَآاِلٰـہَ اِلاَّھُوَ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ ط رَبُّـکُمْ وَرَبُّ اٰبَـآئِکُمُ الْاَوَّلِیْنَ ۔ (الدخان : 8)
(کوئی معبود اس کے سوا نہیں، وہی زندگی عطا کرتا ہے اور وہی مارتا ہے، تمہارا بھی رب اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا بھی رب۔ )
یہ گزشتہ مضمون کا تسلسل ہے کہ وہی ذات جو آسمانوں اور زمین کی رب ہے اس کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں جس کی بندگی یا جس کی سفارش تمہارے کام آسکے۔ زندگی اور موت سب اسی کے اختیار میں ہے، وہی تمہارا بھی رب ہے اور وہی تمہارے اگلے آبائواجداد کا بھی رب ہے۔ اگر تمہارے آبائواجداد نے اس کے علاوہ کسی اور کی پوجا کی، کسی اور کی بندگی بجا لائے تو یہ ان کی غلطی تھی اس کا خمیازہ انھیں قیامت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
فہم القرآن
ربط کلام : جس رب نے مبارک رات میں قرآن مجید نازل کیا ہے وہی زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کو پیدا کرنے والا اور مالک ہے۔
قرآن مجید کا پہلا اور مرکزی پیغام ” اللہ “ کی ذات اور اس کی صفات کی پہچان کروانا ہے۔” اللہ “ ہی سب کا رب ہے اور اسی نے زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو پیدا کیا ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور وہی کائنات کی موت اور زندگی پر اختیار رکھنے والا ہے۔ وہ تمہارا اور تمہارے آباؤ اجداد کا رب ہے۔ اگر واقعی تم اس پر یقین کرنے والے ہو۔ لیکن اکثر لوگ اپنے رب کی ذات اور اس کی صفات میں شک کرتے ہیں۔
اہل علم کی تقسیم کے مطابق یہ توحید کی…
Read the full tafseer →آیت 8 : لَآ اِلٰہَ اِلاَّ ہُوَ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ رَبُّکُمْ (اس کے سوا اور کوئی لائق عبادت نہیں) وہی جان ڈالتا ہے اور جان نکالتا ہے۔ وہ تمہارا بھی پروردگار ہے۔ یعنی وہ تمہارا بھی پروردگار ہے۔ وَرَبُّ اٰبَآئِکُمُ الْاَوَّلِیْنَ (اور تمہارے پہلے باپ دادوں کا بھی پروردگار ہے) اس پر عطف کیا۔ پھر اگلی آیت میں ان کے دعویٰ یقین کی تردید کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
(7) رب السموات والارض ومابینھا، اہل کوفہ نے ، رب ، پر زیرپڑھی ہے اس کو باری تعالیٰ کے قول، من ربک، پر لوٹاتے ہوئے اور دیگر حضرات نے اس کو پیش دی ہے باری تعالیٰ کے قول ، ھوالسمیع العلیم، پر لوٹا تے ہوئے اور کہا گیا ہے کہ ابتداء کی وجہ سے۔ ، ان کنتم موقنین، کہ اللہ آسمانوں وزمینون کا رب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1۔ 16۔ حم و الکتب المبین کی تفسیر سورة الزحزف کے شروع میں گزر چکی ہے جس برکت والی رات کا ذکر ان آیتوں میں ہے اگرچہ بعض فسروں نے لکھا ہے کہ یہ برکت والی رات شعبان کی پندرھویں رات ہے لیکن یہ قول شھر رمضان الذی انزل فیہ القران کے مخالف ہے صحیح وہی حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے جس کو نسائی 1 ؎ اور حاکم وغیرہ نے معتبر سند سے روایت کیا ہے کہ شب قدر میں ایک دفعہ سارا قرآن لوح محفوظ سے اول آسمان پر نازل ہوا پھر ہر ایک موقع پر ہر ایک آیت حضرت جبرئیل آنحضرت ﷺ کے پاس تشریف لائے۔ صحیح بخاری 2 ؎ میں حضرت عائشہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس سے جو روایتیں ہیں۔ ان میں اللہ کے رسول ﷺ نے یہ صاف جتلا دیا ہے کہ شب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
آیت 1
یہ قرآن پر قرآن ہی کی قسم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی جو ہر اس چیز کے لئے ہے جس کے بیان کی حاجت ہے۔ بیشک وہ اتاری گئی ہے (فی لیلۃ مبرکۃ) یعنی خیر کثیر اور بکت والی رات میں، اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ یقیناً اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین کلام کو سب راتوں اور دنوں سے افضل رات میں مخلوق میں سے افضل ہستی پر معززین اہل عرب کی زبان میں نازل فرمایا ات کہ اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو ڈرائے جنہیں جہالت نے اندھا کر رکھا ہے اور بدبختی ان پر غالب آچکی ہے۔ پس وہ اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اس کی ہدایت کو اختیار کریں اور اس کے پیچھے چلیں، اس طرح انہیں…
Read the full tafseer →10 معبود برحق اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر اور ادوات حصر و قصر کے ساتھ فرمایا گیا کہ " کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں سوائے اس وحدہ لاشریک کے "۔ پس اس وحدہ لاشریک کے سوا جس کسی کی بھی بندگی و پوجا کسی نے کی اس نے بڑے بھاری ظلم کا ارتکاب کیا۔ اور جس کا بھگتان اس کو بہرحال بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ اوپر والے مضمون کی تاکید مزید ہے کہ اس وحدہ لاشریک کے سوا دوسرا کوئی بھی ایسا معبود نہیں جسکی سفارش تمہارے کچھ کام آسکے۔ زندگی اور موت کے سب اختیارات اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں۔ وہی ہے جو زندگی بخشتا ہے اور موت سے ہمکنار کرتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
قرآن سچ ہے اور اس کے علاہ سب غلط ہے
تشریح : ان تمام آیات میں اللہ کی ان تدابیر کا ذکر کیا گیا ہے جو اس نے کائنات کے لیے مرتب کر رکھی ہیں۔ مثلاً میجر جنرل غلام محمد ملک صاحب اس کی بڑے خوبصورت انداز میں یوں وضاحت کرتے ہیں : فلسفہ تاریخ جس طرح سیاسی واقعات کی تکرار اور حوادث کے بار بار اعادہ سے اصول اور نتائج تک پہنچ کر ایک عام تاریخی قانون بنا لیتا ہے اسی طرح انبیاء علیھم السلام کے سوانح اور تاریخیں بھی اپنے واقعات کے بار بار اعادہ سے خصائصِ نبوت کا اصول قانون ہمارے لیے مرتب کرتی ہے۔ پیغمبرانہ تاریخ کے انہی اصول و قوانین میں سے ایک یہ ہے کہ نبی جب اپنے کمال انسانیت کو پہنچ کر فیضان نبوت کے قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
آیات 1 تا 29۔
اسرار ومعارف۔
حم۔ اس کتاب واضح کی قسم ہے یعنی یہ دلائل سے حق کو واضح کردینے والی کتاب اس پر گواہ ہے جسے ہم نے ایک بہت بابرکت شب کو لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل فرمایا کہ اس کے نزول سے مراد مخلوق کو صحیح راہ عمل دکھانا اور اعمال بد کے بد انجام سے بروقت خبر دینا ہے کہ وہ اپنی راہ متعین کرسکیں
لیلہ مبارکہ :
لیلہ مبارکہ سے مراد مفسرین کرام سے لیلۃ القدر ہے کہ قرآن کریم کی دوسری آیات سے اس کی تعیین ہوجاتی ہے نیز نزول قران رمضان المبارک ہی میں ہوا اور جو بات نصف شعبان کی شب کے بارے مشہور ہے ، اس کی سندیں ضعیف ہیں اس لیے اکثر علماء نے اسے قبول نہیں کیا ، اور بعض نے اس کی فضیلت اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
ف 1 یعنی یہ جو زبان سے خدا کے خالق ومالک ہونے کا اقرار کرتے ہیں۔ یہ محض کھیل کود کے طور پر ایسا کرتے ہیں۔ انہیں دل سے توحید اور قیامت کا یقین نہیں ہے۔
Read the full tafseer →(44:8) لا الہ الا ھو : جملہ مستانفہ ہے ماقبل پر مبنی۔ یعنی جب یہ بات واضح ہوگئی کہ زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے اس کا مالک اور پروردگار وہی ہے اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں ہے وہ سمیع وعلیم ہے اس کا ہر فیصلہ اس کی رحمت کا مظہر ہے تو اب یہ بات ثابت ہوگئی کہ وہی اور صرف وہی عبادت کا سزاوار ہے اور زندہ کرنا اور مارنا اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔
ربکم ورب ابائکم الاولین : ای وھو ربکم ۔۔ الخ اور وہی تمہارا رب ہے اور تمہارے پہلے باپ داروں کا رب مضاف۔ اباء موصوف الاولین صفت، موصوف و صفت مل کر مضاف۔ کم ضمیر جمع ذکر حاضر مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر رب (مضاف) کا مضاف الیہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 16 : لیلۃ مبارکۃ (برکت والی رات) یفرق (وہ جدا کردیتا ہے، الگ کردیتا ہے) امر حکیم ( حکمت بھرا فیصلہ) ارتقب (تو انتظارکر ، راہ دیکھ) دخان ( دھواں) یغشی (وہ ڈھانپ لے گا) معلم ( پڑھایا گیا) عائدون ( وہ لوٹنے والے ہیں) البطشۃ (سخت پکڑ)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 16 : قرآن کریم میں سات سورتیں وہ ہیں جن کی ابتداء ” حم ‘ ‘ سے کی گئی ہے۔ احادیث میں ان سات سورتوں کے بہت سے فضائل بیان کئے گئے ہیں ۔ ان ہی میں سے یہ پانچویں سورت ہے۔
” حا۔ میم “ حروف مقطعات میں سے ہیں جن کی تفصیل اس سے پہلی سورتوں میں بیان کردی گئی ہے۔ علماء مفسرین نے بیان کیا ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–16
علامات قیامت۔
(ف 1) اللہ آسمانوں اور زمین کا مالک اور پروردگار ہے اور جو ان میں اور ان کے درمیان میں عجائب غرائب ہیں مشرکین اگر تم سمجھو اور مانو تو آیات قدرت بہت واضح ہیں، اس کے سوا کوئی لائق معبود نہیں جہان کا کوئی خالق نہیں وہ تو جلاتا ہے اور وہی مارتا ہے دنیا میں مارے گا قیامت کو جلائے گا تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا سب کا پروردگار خالق ہے، اے محبوب ﷺ یہ کفار نہیں مانتے بلکہ یہ توحید ورسول وقیامت وغیرہ کی طرف سے شک میں پڑے ہیں اور دنیا کے کھیل کود میں مصروف ہیں آخرت کی فکر نہیں جو حق کو طلب کریں اور اس میں غوروفکر سے کام لیں، یہ اس دھوکہ میں ہیں ہمیشہ یوں ہی رہنا خدا کے سامنے کبھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
[5] یعنی قیامت کے قریب ایک دھواں اٹھے گا جو تمام لوگوں کو گھیر لے گا۔ نیک شخص پر اس کا اثر خفیف سا ہوگا لیکن کافر کو وہ بیہوش کر دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
ف 1: قرآن کا استدالال توحید کے متعلق یوں ہے کہ وہ خدا جو احیاواماتت پر قادر ہے ۔ جو زندگی کو موت سے بدل سکتا ہے ، اور موت کو زندگی کا لباس پہنا دیتا ہے ۔ وہی عبادت اور پرستش کے لائق ہے اور اسی کو تمہارے آباء علم پوجتے تھے ۔ آج تم کو جو اس کی ذات کے متعلق شکوک و شبہات ہیں ۔ تو وہ محض جہالت پر مبنی ہیں ۔ ورنہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے (جس کا) انکار ممکن ہی نہیں ۔ مادہ پرستوں کے پاس اس عقدہ کا جواب کوئی نہ تھا ۔ کہ عام میں زندگی کہاں سے آئی کیونکہ فی نفسہٖ اس چیز میں حیات کے کہیں عناصر نہیں ہیں ۔ یہ اپنے ہر مظہر میں اور اپنی ہر شکل میں بےجان ہے ۔ قرآن حکیم کہتا ہے ۔ کہ اگر اس مشکل کو حل کرنا چاہتے…
Read the full tafseer →(8) سوائے اس کے کوئی دوسرا لائق عبادت نہیں وہی زندگی عطا کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے وہی تمہارا پروردگار ہے اور وہی تمہارے اگلے باپ دادوں کا بھی پروردگار ہے۔ یعنی اس کے سوا کوئی مستحق عبادت بھی نہیں اور اس کے سوا کوئی مالک حقیقی اور پروردگار بھی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
ف 4۔ آخرت کی فکر نہیں جو حق کو طلب کریں اس میں غور سے کام لیں۔
Read the full tafseer →اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہی زندہ کرتا اور وہی مارتا ہے
8 ؎ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سوا کوئی الٰہ اور معبود نہیں نہ آسمانوں میں نہ زمین میں لیکن کتنے لوگ ہیں جنہوں نے اپنے جیسی مخلوق کو رب بنالیا ہے اور اگر رب نہیں بنایا تو رب کے لیے سفارش کرنے والا بنالیا ہے حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے جو ہمیشہ سے زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گی وہ اول بھی ہے اور آخر بھی ، ظاہر بھی ہے اور باطن ، اسی سے زندگی ہے اور وہی ہے جو کائنات کی ہرچیز کو موت سے دوچار کردیتا ہے۔ تمہارا رب ہے تو وہی اور تمہارے آبائو اجداد کا رب ہے تو وہی۔ وہی اس قابل ہے کہ اس کی پرستش کی جائے اگر تمہارے آبائو اجداد نے اس رب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–10
لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ 'blessed night', in verse 2 according to majority of the Commentators, refers to 'laylatul Qadr' or the 'Night of Power' which occurs in the last ten nights of the month of Ramadan. During this night Allah sends down countless blessings for his slaves/servants. It has been explicitly mentioned in Surah Al-Qadr, thus:
إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ
"We sent it (the Qur'an) down in the Night of Qadr". (97:1)
This clearly indicates that the phrase 'laylah mubarakah' (blessed night) occurring in the verse refers to the 'Night of Power'. It is narrated in a…
Read the full tafseer →7 The real God Who alone has the right that He should be worshipped and served.
8 That is, "There is no god other than Allah, nor can there be. Therefore, it is against reason that you should disdain the worship of Him Who breathed life into dead matter and made you a living man, and Who possesses full powers to keep you alive as long as He likes and bring your life to an end whenever He likes, or you serve any other than Him, or start worshipping others besides Hint."
9 There is a subtle allusion in it to this: "He was also Lord of those of your ancestors who took other gods besides Allah;…
Read the full tafseer →