Explained with ayahs 3–8
عظیم الشان قرآن کریم کا نزول اور ماہ شعبان
اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس عظیم الشان قرآن کریم کو بابرکت رات یعنی لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ جیسے ارشاد ہے آیت (اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ښ) 97۔ القدر :1) ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ اور یہ رات رمضان المبارک میں ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے (شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ01805) 2۔ البقرة :185) رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔ سورة بقرہ میں اس کی پوری تفسیر گذر چکی ہے اس لئے یہاں دوبارہ نہیں لکھتے بعض لوگوں…
Read the full tafseer →سورة الدُّخَان 6
اہل عرب خود اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی کائنات اور اس کی ہر چیز کا رب (مالک و پروردگار) ہے۔ اس لیے ان سے فرمایا گیا کہ اگر تم بےسوچے سمجھے محض زبان ہی سے یہ اقرار نہیں کر رہے ہو، بلکہ تمہیں واقعی اس کی پروردگاری کا شعور اور اس کے مالک ہونے کا یقین ہے، تو تمہیں تسلیم کرنا چاہیے کہ (1) انسان کی رہنمائی کے لیے کتاب اور رسول کا بھیجنا اس کی شان رحمت و پروردگاری کا عین تقاضا ہے، اور (2) مالک ہونے کی حیثیت سے یہ اس کا حق اور مملوک ہونے کی حیثیت سے یہ تمہارا فرض ہے کہ اس کی طرف سے جو ہدایت آئے اسے مانو اور جو حکم آئے اس کے آگے سر اطاعت جھکا دو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
(آیت) لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ سے مراد جمہور مفسرین کے نزدیک شب قدر ہے جو رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں ہوتی ہے۔ اس رات کو مبارک فرمانا اس لئے ہے کہ اس رات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر بیشمار خیرات و برکات نازل ہوتی ہیں اور قرآن کریم کا شب قدر میں نازل ہونا قرآن کی سورة قدر میں تصریح کے ساتھ آیا ہے۔ (آیت) انا انزلنہ فی لیلة القدر، اس سے ظاہر ہوا کہ یہاں بھی لیلة مبارکہ سے مراد شب قدر ہی ہے۔ اور ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ سے یہ بھی منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی کتابیں ابتداء دنیا سے آخر تک اپنے انبیاء (علیہم السلام) پر نازل فرمائی ہیں وہ سب کی سب ماہ رمضان المبارک ہی کی مختلف تاریخوں…
Read the full tafseer →رب السموت والارض وما بینھما ان کنتم موقنین (7)
مخالفین کو ایک تحت و عید
یہ مخالفین کو وعید اور بڑی ہی سخت وعید ہے۔ فرمایا کہ اس انذار وتبشیر کو محض ہوائی بات نہ سجھو جو محض تم پر دھونس جمانے کے لئے کہی جا رہی ہو بلکہ یہ آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کے خداوند کی طرف سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہی ہر چیز کا مالک اور خداوند ہے تو کس کے امکان میں ہے کہ اس کے کسی ارادے میں مزاحم ہو سکے۔ اگر وہ لوگوں کو پکڑنا چاہے تو جب چاہے پکڑ لے کوئی اس کو بچا نہیں سکتا اور اگر وہ کسی کو کچھ بخشنا چاہے تو جو چاہے بخش دے کوئی اس کو چھین نہیں سکتا۔
ان کنتم موقنین یہ مخاطبوں کو ملامت ہے کہ ہے تو یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
9۔ 1 یعنی حق اور اس کے دلائل کے سامنے آگئے۔ لیکن وہ اس پر ایمان لانے کے بجائے شک میں مبتلا ہیں اور اس شک کے ساتھ استہزاء اور کھیل کود میں پڑے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
3: اس آیت کی تفسیر حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے یہ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو متنبہ کرنے کے لیے انہیں ایک سخت قحط میں مبتلا فرما دیا تھا، اس وقت لوگ بھوک کی شدت کے عالم میں جب آسمان کی طرف دیکھتے تو انہیں آسمان پر دھواں ہی دھواں چھایا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ اس آیت میں اس قحط سالی کی پیشین گوئی کی گئی ہے، اور فرمایا گیا ہے کہ کافروں کو سزا کے طور پر ایسے قحط میں مبتلا کیا جائے گا کہ انہیں بھوک کی وجہ سے آسمان پر دھواں ہی دھواں نظر آئے گا، اور اس وقت یہ لوگ وعدہ کریں گے کہ اگر یہ قحط ہم سے دور ہوگیا تو ہم ایمان لے آئیں گے، لیکن جب قحط دور ہوگا تو اپنے وعدے سے پھر کر دوبارہ شرک کی طرف لوٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
درس نمبر 234 تشریح آیات
1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 59
آیت نمبر 1 تا 8
آغاز دو حروف سے ہوتا ہے حا۔ میم۔ اور دونوں کی قسم اٹھائی جاتی ہے اور پھر کتاب مبین کی بھی قسم اٹھائی جاتی ہے جو ایسے ہی حروف تہجی سے مرکب ہے۔ ان کے بارے میں سورتوں کے آغاز میں ہم بار ہا بات کرچکے ہیں۔ پھر ان حروف کی بھی اسی طرح قسم اٹھائی گئی جس طرح کتاب مبین کی قسم اٹھائی گئی۔ کتاب مبین کی اہمیت مسلم مگر ان حروف کی اہمیت کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر حرف بھی ایک معجزہ اور نشانی ہے اور ہر حرف انسان کی زبان کی ساخت کی نشانی ہے اور پھر کس انداز سے زبان اپنے مخرج سے اس حرج و صوت کو نکالتی ہے ، پھر ان حروف کے مخارج کی ترتیب پھر ہر حرف کے نام…
Read the full tafseer →6 یعنی اگر تم میں کسی چیز پر یقین رکھنے کی صلاحیت ہے تو سب سے پہلی چیز یقین رکھنے کے قابل اللہ کی ربوبیت عامہ ہے جس کے آثار ذرہ ذرہ میں روز روشن سے زیادہ ہوا ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 7 { رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا 7 اِنْ کُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ } ”آسمانوں اور زمین کا رب اور جو کچھ ان کے مابین ہے۔ اگر تم یقین کرنے والے ہو !“
یقینا ساری کائنات کا پروردگار اور مالک اللہ ہی ہے۔ اس حقیقت کو مان لینا تو آسان ہے لیکن دل کی گہرائیوں میں اس کا یقین بٹھانا انسان کے لیے بہت مشکل ہے۔ انسان کا نفس اس سلسلے میں اسے قدم قدم پر دھوکہ دیتا ہے کہ فلاں چیز میری ہے اور فلاں چیز کا مالک میں ہوں۔ بہر حال ہمیں دل سے یقین کرلینا چاہیے کہ ہرچیز اللہ کی ہے اور وہی ہر شے کا مالک ہے : ؎
ایں امانت چند روزہ نزد ماست در حقیقت مالک ِ ہر شے خدا ست !
گویا ہر انسان کی جان ‘ اس کا…
Read the full tafseer →5 یعنی اگر تمہیں اس بات کا یقین ہے کہ کائنات میں موجود ساری مخلوق کی ربوبیت عامہ کی ذمہ داری صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے تو پھر تمہیں یہ بھی یقین کرلینا چاہئے کہ یہ رسول اللہ فی الواقع اللہ تعالیٰ نے ہی تمہاری ہدایت کے لیے بھیجا ہے۔ کیونکہ وہ صرف تمہاری جسمانی تربیت کا ہی ذمہ دار نہیں بلکہ تمہاری روحانی تربیت اور تمہیں ہدایت کی راہ بتانا بھی اس کے ذمہ ہے۔
Read the full tafseer →6۔ یعنی اگر تم میں طلب صادق ہے، حق کی جستجو و تلاش ہے۔ (آیت) ” رب ..... بینھما “۔ ساری کائنات کے اسی خدائے واحد کی ملک ومملوک ہونے کا ایک بار پھر اثبات۔ کسی گوشہ ہستی میں کسی جہت و اعتبار سے بھی کوئی دوسرا مالک و متصرف نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
آیت نمبر 1 تا 29
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اللہ کی کیا مراد ہے ؟ وہی بہتر جانتا ہے قسم ہے واضح کتاب قرآن کی جو حلال کو حرام سے ممتاز کرنے والی ہے، یقیناً ہم نے اس کو بابرکت رات میں نازل کیا ہے اور وہ شب قدر یا شب نصف شعبان ہے، اسی رات میں قرآن کو ساتویں آسمان پر موجود لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا، بیشک ہم اس کے ذریعہ ڈرانے والے ہیں، اسی رات یعنی شب قدر یا شب نصف شعبان میں ہر محکم کام کا مثلاً روزی، موت وغیرہ جو اس سال اسی جیسی (آئندہ) رات تک ہونے والے ہوتے ہیں فیصلہ کیا جاتا ہے، ہمارے پاس سے حکم صادر ہو کر ہم ہی ہیں رسول بنا کر…
Read the full tafseer →رب السموات والارض وما بینھما جو آسمانوں اور زمین کا اور دونوں کی درمیانی کائنات کا رب ہے۔
رَبِّ السَّمٰوٰتِ الخ۔ رَبِّکَ سے بدل ہے۔
ان کنتم موقنین اگر تم یقین کرنے والے ہو۔
جزاء محذوف ہے ‘ یعنی اگر تم اہل یقین ہو تو یقین کرو۔ یا یہ مطلب ہے کہ جب تم اللہ کو زمین و آسمان کا خالق کہتے ہو تو دل سے اس کو مانو اور یقین کرو کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
Read the full tafseer →وہ آسمانوں اور زمین اور تمام مخلوقات کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی معبود حقیقی ہے اگر تم اس کا یقین کرنا چاہو کہ اس کے سوا اور کوئی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا نہیں۔
Read the full tafseer →رب السموت والارض وما بینھما …: پچھلی آیت میں رسول اللہ ﷺ سے خطاب تھا۔ کفار مکہ یہ اقرار کرتے تھے کہ زمین و آسمان اور ساری کائنات کا رب اللہ تعالیٰ ہے، اس لئے اب ان سے دوبارہ خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تمہیں اس بات کا یقین ہے کہ کائنات میں موجود ساری مخلوق کی ربوبیت اور پرورش کی ذمہ دار صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے تو پھر تمہیں یہ بھی یقین کرلینا چاہیے کہ یہ رسول فی الواقع اللہ تعالیٰ ہی نے تمہاری ہدایت کے لئے بھیجا ہے، کیونکہ وہ صرف تمہاری جسمانی پرورش ہی کا ذمہ دار نہیں بلکہ تمہاری روحانی پرورش اور تمہیں سیدھا راستہ بتانا بھی اسی کے ذمے ہے۔
Read the full tafseer →کو فیوں نے رب جر کے ساتھ پڑھا ہے باقی قرأ نے رفع کے ساتھ پڑھا ہے یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان : کی طرف لوٹے گا، چاہے تو اس سے کلام کو شروع کرے جز ہے یا یہ مبتدا مخدوف کی خبر ہو، تقدیر کلام ہو
جر یہ سے بدل ہونے کی وجہ سے ہوگی، اسی طرح دونوں میں جر کی صورت ہوگی : شیزی نے نسائی سے یہ روایت نقل کی ہے باقی قراء نے آستسائف کے طریقہ پر مرفوع پڑھا ہے پھر یہ احتمال موجود ہے کہ یہ خطاب اس معترف کو ہو جو تسلیم کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا خالق ہے یعنی اگر تم اس کا یقین رکھتے ہو تو جان لو کہ اس کا حق ہے کہ رسولوں کو بھیجے اور کتابوں کو نازل کرے۔
یہ بھی جائز ہے کہ خطاب اس کو ہو جو اس کے خالق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
1:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو اس طرح پڑھا (آیت ) ” انہ ھو السمیع العلیم (6) رب السموت والارض “ یا کہ زیر کے سایہ۔
Read the full tafseer →رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [ جو زمین اور آسمانوں کا رب ہے ] وَمَا بَيْنَهُمَا ۘ [ اور اس کا جو ان کے درمیان ہے ] اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِيْنَ [ اگر تم لوگ یقین کرنے والے ہو ]
Read the full tafseer →﴿ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَيْنَهُمَا 1ۘ﴾ (وہ آسمانوں کا اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کا بھی رب ہے) ﴿ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِيْنَ 007﴾ اگر تم یقین کرنے والے ہو تو سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو بھیجا اور کتابوں کو نازل فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
بیان عظمت کتاب اللہ وبرکات زمانہ نزول قرآن مع دعوت ایمان وبدنصیبی محرومین واشقیاء از سعادت خداوندی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” حم والکتب المبین ...... الی ....... انا منتقمون “۔
(ربط) گزشتہ سورتک مضمون توحید و رسالت کا اثبات تھا اور اس سے اختلاف واعراض کرنے والے مجرمین کی بدنصیبی کا ذکر کرتے ہوئے ان کے افسوس ناک عبرت ناک انجام کا بیان تھا اور اسی موضوع پر سورت کا مضمون ختم فرما دیا گیا تھا کہ اگر ان واقعات کو سن کر بھی قریش کے لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کو سوچ لینا چاہئے کہ ایسا ہی عبرت ناک انجام ان کا بھی ہوگا، ساتھ ہی آپ ﷺ کو تسلی دینا بھی مقصود تھا کہ قریش مکہ کی مخالفت ودشمنی…
Read the full tafseer →8:۔ ” رب السموات “ اس میں دو قراءتیں ہیں۔ اول جر اس صورت میں یہ ” من ربک “ سے بدل ہے۔ دوم رفع اس صورت میں یہ ان کی دوسری خبر ہوگی یا مبتدا محذوف کی خبر ہوگی۔ ای ھو رب السموات الخ۔ اس قراءت پر لا الہ الا ھو یحییٰ ویمیت اور ربکم ورب اباء کم الاولین، سب اِنَّ کی خبریں ہوں گی یا جمل مستانفہ یا مبتداءات محذوفہ کی خبریں ہوں گی اور پہلی قراءت پر یہ جمل مستانفہ ہیں یا مبتداءات محذوفہ کی خبریں (کل ذلک من الروح) ۔ وہ زمین و آسمان اور ساری کائنات کا مالک ہے اگر واقعی تمہارا اس پر ایمان ہے جیسا کہ تم اس کا اقرار کرتے ہو اور تمہارا اقرار ایمان وایقان سے ناشی ہے تو پھر اس سے جو مدعا ثابت ہوتا ہے اسے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نامہ سورة الدخان ہے۔ یہ نام اس کی آیت 100 میں آمدہ لفظ دخان سے ماخوذ ہے۔ عربی زبان میں دخان دھوئیں کھتے ہیں اور یہ دو قسم سے مذکور ہے دسواں نو قحط سالی کا ہوتا ہے اور دوسرا دھواں وہ ہے جو قیامت کی نشانی کے طور پر قرب قیامت میں ظاہر ہوگا۔
یہ سورة حوامیم سبعہ کی پانچویں سورة ہے جو مکی زندگی کے آخری حصہ میں گزشتہ سورة زخرف کے بعد نازل ہوئی اس کی انسٹھ آیات اور تین رکوع ہیں۔ یہ سورة مبارکہ 346 الفاظ اور 431 حروف پر مشتمل ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ جمعہ کی رات یا جمعہ کے دن اس سورة کی تلاوت کا بڑا اجر ہے ۔ آیات دوسری حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص رات کے وقت اس سورة کی تلاوت…
Read the full tafseer →رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَہُمَا 0 ۘ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِيْنَ 7
سما
سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه،
قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ،
( س م و ) سماء
ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–16
فیہا یفرق کل امرا حکیم امرامن عندنا کہ اس رات میں ہر حکمت کی بات بیان اور ظاہر کی جاتی ہے۔ یعنی جو حوادث دنیا میں ظاہر ہونے والے ہوتے ہیں (جیسا کہ کسی کا مرنا ‘ کسی کا امیر ہونا ‘ کسی کا فقیر ہونا ‘ بیمار و تندرست ہونا ‘ قحط و ارزانی کا ہونا ‘ سلطنت و حکومت کا تبدل و تغیر وغیرہ) ان کو بارگاہ قدس سے ملائکہ مدبران عالم پر ظاہر کیا جاتا ہے گو لوح محفوظ میں روز اول لکھے گئے تھے مگر اس رات میں انتظام عالم کے لیے ایک سال کے حوادث ان کے مدبر اور کارکن ملائکہ پر ظاہر کئے جاتے ہیں تاکہ اس کی تعمیل کریں۔ یہ اس رات کی بڑی عظمت و عزت ہے اس کے یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ عالم ناسوت میں جو معاملات ظہور کرنے…
Read the full tafseer →رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا م اِنْ کُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ ۔ (الدخان : 7)
(آسمانوں اور زمین کا رب اور ہر اس چیز کا رب جو آسمان اور زمین کے درمیان ہے اگر تم لوگ واقعی یقین رکھنے والے ہو۔ )
ایک غلط فہمی کا ازالہ
گزشتہ آیت کریمہ میں فرمایا کہ ہم نے اس مبارک رات میں ایک رسول کی بعثت کا فیصلہ کیا جو قیامت تک کے انسانوں کے لیے سراسر رحمت بن کر آئے۔ اس کی وجہ سے دنیا کی قسمت بدلی اور صدیوں کی محرومیوں نے خوشیوں کا راستہ دیکھا انسان اپنے مقدر سے آشنا ہوا اور اسے انسانیت کے ادراک کی دولت ملی۔ اس اتنی بڑی رحمت کو یہ نہ سمجھا جائے کہ محض انسانوں کے لیے ایک بشارت ہے جس کے قبول اور عدم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
فہم القرآن
ربط کلام : جس رب نے مبارک رات میں قرآن مجید نازل کیا ہے وہی زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کو پیدا کرنے والا اور مالک ہے۔
قرآن مجید کا پہلا اور مرکزی پیغام ” اللہ “ کی ذات اور اس کی صفات کی پہچان کروانا ہے۔” اللہ “ ہی سب کا رب ہے اور اسی نے زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو پیدا کیا ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور وہی کائنات کی موت اور زندگی پر اختیار رکھنے والا ہے۔ وہ تمہارا اور تمہارے آباؤ اجداد کا رب ہے۔ اگر واقعی تم اس پر یقین کرنے والے ہو۔ لیکن اکثر لوگ اپنے رب کی ذات اور اس کی صفات میں شک کرتے ہیں۔
اہل علم کی تقسیم کے مطابق یہ توحید کی…
Read the full tafseer →اگر دل سے اللہ کو خالق مانتے ہو تو محمد ﷺ کو اس کا رسول مان لو :
آیت 7 : رَبِّ قراءت و نحو : یہ من ربک سے بدل ہے۔ کوفی نے اس کو مکسور پڑھا ہے اور دیگر قراء نے رفع سے پڑھا ہے ای ہو ربُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا اِنْ کُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ (جو کہ مالک ہے آسمان و زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔ اس کا بھی اگر تم یقین لانا چاہو) اور شرط کا مطلب یہ ہے کہ ان کو اقرار تھا کہ آسمانوں اور زمین کا ایک رب اور خالق ہے۔ پس ان کو کہا گیا۔ کہ ارسال رسل اور انزال کتب یہ رب العالمین کی محض رحمت ہے۔ پھر فرمایا بلاشبہ یہ رب ہی تو ہر بات کو سننے اور جاننے والا ہے۔ جس کے تم خود اقراری ہو اور…
Read the full tafseer →تفسیر 6۔ ، رحمۃ من ربک ، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میری طرف میری مخلوق پر شفقت ہے اور میرا ان پر انعام ہے کہ ان کی طرف ہم نے رسول بھیجے اور زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ ہم نے اس کو مبارک رات میں رحمت کے لیے اتارا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1۔ 16۔ حم و الکتب المبین کی تفسیر سورة الزحزف کے شروع میں گزر چکی ہے جس برکت والی رات کا ذکر ان آیتوں میں ہے اگرچہ بعض فسروں نے لکھا ہے کہ یہ برکت والی رات شعبان کی پندرھویں رات ہے لیکن یہ قول شھر رمضان الذی انزل فیہ القران کے مخالف ہے صحیح وہی حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے جس کو نسائی 1 ؎ اور حاکم وغیرہ نے معتبر سند سے روایت کیا ہے کہ شب قدر میں ایک دفعہ سارا قرآن لوح محفوظ سے اول آسمان پر نازل ہوا پھر ہر ایک موقع پر ہر ایک آیت حضرت جبرئیل آنحضرت ﷺ کے پاس تشریف لائے۔ صحیح بخاری 2 ؎ میں حضرت عائشہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس سے جو روایتیں ہیں۔ ان میں اللہ کے رسول ﷺ نے یہ صاف جتلا دیا ہے کہ شب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
آیت 1
یہ قرآن پر قرآن ہی کی قسم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی جو ہر اس چیز کے لئے ہے جس کے بیان کی حاجت ہے۔ بیشک وہ اتاری گئی ہے (فی لیلۃ مبرکۃ) یعنی خیر کثیر اور بکت والی رات میں، اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ یقیناً اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین کلام کو سب راتوں اور دنوں سے افضل رات میں مخلوق میں سے افضل ہستی پر معززین اہل عرب کی زبان میں نازل فرمایا ات کہ اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو ڈرائے جنہیں جہالت نے اندھا کر رکھا ہے اور بدبختی ان پر غالب آچکی ہے۔ پس وہ اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اس کی ہدایت کو اختیار کریں اور اس کے پیچھے چلیں، اس طرح انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
8 بعثت رسول رب کی شان ربوبیت کا تقاضا : سو ارشاد فرمایا گیا " جو کہ رب ہے آسمان و زمین کی اس ساری کائنات کا "۔ سو اس کی اس عظیم الشان ربوبیت کا جو کہ اس عالم میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہے کا تقاضا یہ ہے کہ جس طرح اس نے تمہاری جسمانی اور مادی ضرورتوں کی تکمیل و تحصیل کے لئے اس طرح عظیم الشان اور حکمتوں بھرا انتظام فرمایا اسی طرح بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر وہ تمہاری روحانی ضرورتوں کی تکمیل کا سامان کرے۔ کیونکہ اس مادی جسم اور اس کے تقاضوں کے مقابلے میں اصل چیز روح اور اس کے تقاضے ہی ہیں۔ اس لئے اس نے مختلف انبیائے کرام مبعوث فرمائے۔ ان پر اپنی کتابیں اتاریں۔ اور اب حضرت خاتم الانبیاء ۔ ﷺ ۔ کی بعثت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
قرآن سچ ہے اور اس کے علاہ سب غلط ہے
تشریح : ان تمام آیات میں اللہ کی ان تدابیر کا ذکر کیا گیا ہے جو اس نے کائنات کے لیے مرتب کر رکھی ہیں۔ مثلاً میجر جنرل غلام محمد ملک صاحب اس کی بڑے خوبصورت انداز میں یوں وضاحت کرتے ہیں : فلسفہ تاریخ جس طرح سیاسی واقعات کی تکرار اور حوادث کے بار بار اعادہ سے اصول اور نتائج تک پہنچ کر ایک عام تاریخی قانون بنا لیتا ہے اسی طرح انبیاء علیھم السلام کے سوانح اور تاریخیں بھی اپنے واقعات کے بار بار اعادہ سے خصائصِ نبوت کا اصول قانون ہمارے لیے مرتب کرتی ہے۔ پیغمبرانہ تاریخ کے انہی اصول و قوانین میں سے ایک یہ ہے کہ نبی جب اپنے کمال انسانیت کو پہنچ کر فیضان نبوت کے قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
آیات 1 تا 29۔
اسرار ومعارف۔
حم۔ اس کتاب واضح کی قسم ہے یعنی یہ دلائل سے حق کو واضح کردینے والی کتاب اس پر گواہ ہے جسے ہم نے ایک بہت بابرکت شب کو لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل فرمایا کہ اس کے نزول سے مراد مخلوق کو صحیح راہ عمل دکھانا اور اعمال بد کے بد انجام سے بروقت خبر دینا ہے کہ وہ اپنی راہ متعین کرسکیں
لیلہ مبارکہ :
لیلہ مبارکہ سے مراد مفسرین کرام سے لیلۃ القدر ہے کہ قرآن کریم کی دوسری آیات سے اس کی تعیین ہوجاتی ہے نیز نزول قران رمضان المبارک ہی میں ہوا اور جو بات نصف شعبان کی شب کے بارے مشہور ہے ، اس کی سندیں ضعیف ہیں اس لیے اکثر علماء نے اسے قبول نہیں کیا ، اور بعض نے اس کی فضیلت اس…
Read the full tafseer →ف 13 کفار مکہ یہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی ان کا اور اس ساری کائنات کا مالک ہے۔ اس لئے ان سے فرمایا جا رہا ہے اگر تم یہ اقرار دلی یقین سے کرتے ہو تو تمہیں تسلیم کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی تمام پیغمبروں ﷺ کو بھیجا ہے اور کتابیں اتاری ہیں کیونکہ ایسا کرنا اس کی رحمت کا عین تقاضا ہے۔
Read the full tafseer →(44:7) رب السموت والارض وما بینھما : بدل ہے ربک (آیۃ 6 متذکرۃ الصدر) سے ما موصولہ بینھما مضاف مضاف الیہ ان دونوں کے درمیان ھما تثنیہ غائب ہے اس کا مرجع سموت والارض ہے۔
ان کنتم موقنین۔ ان شرطیہ ہے۔ موقنین اسم فاعل جمع مذکر بحالت نصب بوجہ خبر کان۔ ایقان (افعال) مصدر ایمان لانے والے۔ یقین رکھنے والے۔ یہ جملہ شرط ہے جواب شرط محذوف ہے۔ یا اس کی ایسی توضیح کی جاسکتی ہے۔
مشرکین اپنے منہ سے کہتے تھے کہ اللہ زمین ومافیہا کا مالک ہے (23:84-85) وہ ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا رب ہے (23:86-87) ہر چیز کی بادشاہت اس کے ہاتھ میں ہے (23:88-89) فرمایا اگر تمہیں یقین اور ایمان ہے تو حقیقت یہی ہے کہ وہ رب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 16 : لیلۃ مبارکۃ (برکت والی رات) یفرق (وہ جدا کردیتا ہے، الگ کردیتا ہے) امر حکیم ( حکمت بھرا فیصلہ) ارتقب (تو انتظارکر ، راہ دیکھ) دخان ( دھواں) یغشی (وہ ڈھانپ لے گا) معلم ( پڑھایا گیا) عائدون ( وہ لوٹنے والے ہیں) البطشۃ (سخت پکڑ)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 16 : قرآن کریم میں سات سورتیں وہ ہیں جن کی ابتداء ” حم ‘ ‘ سے کی گئی ہے۔ احادیث میں ان سات سورتوں کے بہت سے فضائل بیان کئے گئے ہیں ۔ ان ہی میں سے یہ پانچویں سورت ہے۔
” حا۔ میم “ حروف مقطعات میں سے ہیں جن کی تفصیل اس سے پہلی سورتوں میں بیان کردی گئی ہے۔ علماء مفسرین نے بیان کیا ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–16
علامات قیامت۔
(ف 1) اللہ آسمانوں اور زمین کا مالک اور پروردگار ہے اور جو ان میں اور ان کے درمیان میں عجائب غرائب ہیں مشرکین اگر تم سمجھو اور مانو تو آیات قدرت بہت واضح ہیں، اس کے سوا کوئی لائق معبود نہیں جہان کا کوئی خالق نہیں وہ تو جلاتا ہے اور وہی مارتا ہے دنیا میں مارے گا قیامت کو جلائے گا تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا سب کا پروردگار خالق ہے، اے محبوب ﷺ یہ کفار نہیں مانتے بلکہ یہ توحید ورسول وقیامت وغیرہ کی طرف سے شک میں پڑے ہیں اور دنیا کے کھیل کود میں مصروف ہیں آخرت کی فکر نہیں جو حق کو طلب کریں اور اس میں غوروفکر سے کام لیں، یہ اس دھوکہ میں ہیں ہمیشہ یوں ہی رہنا خدا کے سامنے کبھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
[5] یعنی قیامت کے قریب ایک دھواں اٹھے گا جو تمام لوگوں کو گھیر لے گا۔ نیک شخص پر اس کا اثر خفیف سا ہوگا لیکن کافر کو وہ بیہوش کر دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
جس طرح بیت اللہ کو تمام اماکن مقدسہ پر فضیلت حاصل ہے اس کے ساتھ کچھ انوار اور سعادتیں مختص ہیں اور کہیں نہیں پائی جاتیں ۔ پھر جس طرح شخصیتوں کے مراتب میں تفاوت ہے حضور ﷺ کو وہ مقام رفیع حاصل ہے ۔ جو ابد تک کسی انسان کی قسمت میں نہیں ہوسکتا اسی طرح کچھ دن اور کچھ راتیں ایسی ہیں ۔ جو بیحد برکات کی حامل ہیں ۔ ان میں لیلۃ القدر کا رتبہ سب سے زیادہ ہے ۔ یہ وہ مبارک رات ہے جس میں قرآن نازل ہوا ۔ اور انسانوں کو آخری پیغام رشدوہدایت دیا گیا ۔ جس میں انسانی فلاح و بہبود کا پورا انتظام ہے ۔ اور اس کے ارتقاء ارتفاع کے لئے ایک آخری پروگرام تجویز کیا گیا ۔ یہ وہ رات ہے جس میں کائنات کے لئے فرائض کو تفریض…
Read the full tafseer →(7) آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اس سب کا مالک ہے اور اگر تم یقین رکھتے ہو۔ یعنی وہ پروردگار ہے تمام مخلوقات کا اگر تم کو اس کا یقین ہے جیسا کہ تم اے اہل مکہ اس کو جانتے ہو تو تم اس امر کا بھی یقین کرو کہ محمد ﷺ اسی کے بھیجے ہوئے رسول ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
ف 4۔ آخرت کی فکر نہیں جو حق کو طلب کریں اس میں غور سے کام لیں۔
Read the full tafseer →وہ آسمانوں زمین کا رب ہے اور ہر اس چیز کا جو ان دونوں کے درمیان ہے
7 ؎ پیچھے لوگوں کو ڈرایا بھی گیا اور خوشخبری بھی سنائی گئی ہے اب ان سے کہا جارہا ہے کہ اس ڈرانے اور خوشخبری دینے کو تم لوگ محض ایک ڈراواہی نہ سمجھو کہ محض تم کو ڈرانے اور دھمکانے کے لیے زمین پر پائوں مارا جارہا ہے نہیں نہیں یہ عین حقیقت ہے کہ ہر ایک چیز پر اصل قبضہ اسی ذات اقدس ہی کا ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور ہر اس چیز کا بھی جو آسمانوں اور زمین کے درمیان ہے۔ وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے اور اسی کا قانون ہے کہ جو اسی کا قانون ہے کہ جو اس کائنات کے بندھن کو ایک دوسرے سے باندھ کر چلائے جارہا ہے۔ بلاشبہ ہے تو یہ حقیقت لیکن تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–10
لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ 'blessed night', in verse 2 according to majority of the Commentators, refers to 'laylatul Qadr' or the 'Night of Power' which occurs in the last ten nights of the month of Ramadan. During this night Allah sends down countless blessings for his slaves/servants. It has been explicitly mentioned in Surah Al-Qadr, thus:
إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ
"We sent it (the Qur'an) down in the Night of Qadr". (97:1)
This clearly indicates that the phrase 'laylah mubarakah' (blessed night) occurring in the verse refers to the 'Night of Power'. It is narrated in a…
Read the full tafseer →6 The Arabs themselves admitted that Allah alone is the Lord (Master and Providencc) of the Universe and of everything in it. Therefore, it has been said to them: "If you arc not admitting only verbally but are really conscious of His being the Providence and are convinced of His being the Master, you should admit that: (I) It is the very demand of His Mercifulness and Providence that He should send a Hook and a Messenger for the guidance of man; and (2) it is His right as the Master and your duty as His servants that you should obey every Guidance and submit to every Command that comes from…
Read the full tafseer →