Explained with ayahs 3–8
عظیم الشان قرآن کریم کا نزول اور ماہ شعبان
اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس عظیم الشان قرآن کریم کو بابرکت رات یعنی لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ جیسے ارشاد ہے آیت (اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ښ) 97۔ القدر :1) ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ اور یہ رات رمضان المبارک میں ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے (شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ01805) 2۔ البقرة :185) رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔ سورة بقرہ میں اس کی پوری تفسیر گذر چکی ہے اس لئے یہاں دوبارہ نہیں لکھتے بعض لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
سورة الدُّخَان 4
یعنی یہ کتاب دے کر ایک رسول کو بھیجنا نہ صرف حکمت کا تقاضا تھا، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا بھی تھا، کیونکہ وہ رب ہے اور ربوبیت صرف اسی بات کی متقاضی نہیں ہے کہ بندوں کے جسم کی پرورش کا سامان کیا جائے اور انہیں تاریکی میں بھٹکتا نہ چھوڑ دیا جائے۔
سورة الدُّخَان 5
اس سیاق وسباق میں اللہ تعالیٰ کی ان دو صفت کو بیان کرنے سے مقصود لوگوں کو اس حقیقت پر متنبہ کرنا ہے کہ صحیح علم صرف وہی دے سکتا ہے، کیونکہ تمام حقائق کو وہی جانتا ہے۔ ایک انسان تو کیا، سارے انسان مل کر بھی اگر اپنے لیے کوئی راہ حیات متعین کریں تو اس کے حق ہونے کی کوئی ضمانت نہیں، کیونکہ پوری نوع انسانی یکجار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
(آیت) لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ سے مراد جمہور مفسرین کے نزدیک شب قدر ہے جو رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں ہوتی ہے۔ اس رات کو مبارک فرمانا اس لئے ہے کہ اس رات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر بیشمار خیرات و برکات نازل ہوتی ہیں اور قرآن کریم کا شب قدر میں نازل ہونا قرآن کی سورة قدر میں تصریح کے ساتھ آیا ہے۔ (آیت) انا انزلنہ فی لیلة القدر، اس سے ظاہر ہوا کہ یہاں بھی لیلة مبارکہ سے مراد شب قدر ہی ہے۔ اور ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ سے یہ بھی منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی کتابیں ابتداء دنیا سے آخر تک اپنے انبیاء (علیہم السلام) پر نازل فرمائی ہیں وہ سب کی سب ماہ رمضان المبارک ہی کی مختلف تاریخوں…
Read the full tafseer →رحمۃ من ربک ط انہ ھو السمیع العلیم (6)
آنحضرت صلعم کے رحمت ہونے کی طرف اشارہ
یہ ارسال رسول کا مقصد واضح فرمایا اور خطاب رسول الہ ﷺ سے ہے کہ تہارے رب نے تم کو اپنی جانب سے ایک عظیم رحمت کے طور پر مبعوث فرمایا ہے۔ اگر لوگوں نے تمہاری قدر نہ کی تو تمہارا کچھ نہیں بگاڑیں گے، اپنے ہی کو اللہ کی سب سے بڑی رحمت سے محروم کریں گے۔ آیت 3 میں رسول کے منذر ہونے کا ذکر تھا، اس آی میں اس کے رحمت و بشارت ہونے کی طرف اشارہ ہوگیا۔ اور یہ دونوں باتیں ایک ہی حقیت کے دو پہلو ہیں جو چیز سب سے بڑی رحمت ہوگی وہ سب سے بڑی نقمت بھی بن سکتی ہے اگر اس کی قدر نہ کی جائے۔
یہاں یہ امر پیش نظر رہے کہ انذار کے پہلو کو مقدم…
Read the full tafseer →6۔ 1 یعنی انزال کتب کے ساتھ (رسولوں کا بھیجنا) یہ بھی ہماری رحمت ہی کا ایک حصہ ہے تاکہ وہ ہماری نازل کردہ کتابوں کو کھول کر بیان کریں اور ہمارے احکام لوگوں تک پہنچائیں۔ اس طرح مادی ضرورتوں کی فراہمی کے ساتھ ہم نے اپنی رحمت سے لوگوں کے روحانی تقاضوں کی تکمیل کا بھی سامان مہیا کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
3: اس آیت کی تفسیر حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے یہ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو متنبہ کرنے کے لیے انہیں ایک سخت قحط میں مبتلا فرما دیا تھا، اس وقت لوگ بھوک کی شدت کے عالم میں جب آسمان کی طرف دیکھتے تو انہیں آسمان پر دھواں ہی دھواں چھایا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ اس آیت میں اس قحط سالی کی پیشین گوئی کی گئی ہے، اور فرمایا گیا ہے کہ کافروں کو سزا کے طور پر ایسے قحط میں مبتلا کیا جائے گا کہ انہیں بھوک کی وجہ سے آسمان پر دھواں ہی دھواں نظر آئے گا، اور اس وقت یہ لوگ وعدہ کریں گے کہ اگر یہ قحط ہم سے دور ہوگیا تو ہم ایمان لے آئیں گے، لیکن جب قحط دور ہوگا تو اپنے وعدے سے پھر کر دوبارہ شرک کی طرف لوٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
درس نمبر 234 تشریح آیات
1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 59
آیت نمبر 1 تا 8
آغاز دو حروف سے ہوتا ہے حا۔ میم۔ اور دونوں کی قسم اٹھائی جاتی ہے اور پھر کتاب مبین کی بھی قسم اٹھائی جاتی ہے جو ایسے ہی حروف تہجی سے مرکب ہے۔ ان کے بارے میں سورتوں کے آغاز میں ہم بار ہا بات کرچکے ہیں۔ پھر ان حروف کی بھی اسی طرح قسم اٹھائی گئی جس طرح کتاب مبین کی قسم اٹھائی گئی۔ کتاب مبین کی اہمیت مسلم مگر ان حروف کی اہمیت کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر حرف بھی ایک معجزہ اور نشانی ہے اور ہر حرف انسان کی زبان کی ساخت کی نشانی ہے اور پھر کس انداز سے زبان اپنے مخرج سے اس حرج و صوت کو نکالتی ہے ، پھر ان حروف کے مخارج کی ترتیب پھر ہر حرف کے نام…
Read the full tafseer →5 یعنی تمام عالم کے حالات سے باخبر ہے اور ان کی پکار سنتا ہے۔ اسی لیے عین ضرورت کے وقت خاتم النبیین ﷺ کو قرآن دے کر اور عالم کے لیے رحمت کبریٰ بنا کر بھیج دیا۔
Read the full tafseer →آیت 6 { رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَط اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ } ”رحمت کے طور پر آپ کے رب کی طرف سے۔ یقینا وہی ہے سب کچھ سننے والا ‘ سب کچھ جاننے والا۔“
یہ تمام فیصلے یقینا اللہ تعالیٰ کی رحمت پر مبنی ہوتے ہیں۔ خاص طور پر قرآن کا نزول اور نبی آخر الزماں ﷺ کی بعثت تو نوع انسانی کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمت کا مظہر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
4 آپ رحمۃ للعالمین تھے :۔ یعنی تمام اہل عالم کے لئے ایک خبردار کرنے والا رسول بھیجنا صرف ہماری حکمت کا ہی تقاضا نہ تھا بلکہ یہ اہل عالم پر ہماری رحمت کا بھی تقاضا تھا۔ وہ لوگوں کی پکار اور فریاد بھی سنتا ہے اور ان کے حالات کو جانتا بھی ہے۔ اسی لیے اس نے عین ضرورت کے مطابق خاتم النبییّن کو قرآن دے کر اور تمام اہل عالم کے لیے رحمت کبریٰ بناکر مبعوث فرمایا۔ تاکہ کفر و شرک کی گمراہیوں میں پھنسی اور ظلم و جور میں ڈوبی ہوئی انسانیت کو سیدھی راہ دکھا دی جائے کہ کس طرح وہ اپنی باہمی نہ ختم ہونے والی لڑائیوں، لوٹ مار اور قتل و غارت سے نجات حاصل کرکے دنیا میں امن و چین کے ساتھ زندگی بسر کرسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
4۔ (کہ آپ ﷺ کے ذریعہ سے بندوں کو حق و باطل، خیروشر کی راہوں سے پوری طرح آگاہ کردیں) (آیت) ” رحمۃ من ربک “۔ رحمۃ للعالمین “۔ اس معنی میں کہ آپ ﷺ ہی کے ذریعہ سے کل بندوں کو بلاامتیاز وتفریق نیکی وبدی کے راستوں سے آگاہ کردیا گیا۔ (آیت) ” وبال مومنین رء وف رحیم “۔ مومنین کے حق میں آپ ﷺ رؤف و رحیم اس معنی میں کہ انہیں نے آپ ﷺ کے پیام کو قبول کیا اور آپ ﷺ کی ہدایت سے پوری طرح مستفید ہوئے اور رحمت خاص خود آپ ﷺ کے حق میں، اس معنی میں کہ آپ ﷺ ہی کو ذریعہ وواسطہ اس رحمت عالم کا بنایا۔
5۔ (تو اس سے بڑھ کر بندوں کی ضرورتوں کو جاننے والا اور ان کی مصلحتوں کی رعایت کرنے والا اور کون ہوسکتا ہے ؟ )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
آیت نمبر 1 تا 29
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اللہ کی کیا مراد ہے ؟ وہی بہتر جانتا ہے قسم ہے واضح کتاب قرآن کی جو حلال کو حرام سے ممتاز کرنے والی ہے، یقیناً ہم نے اس کو بابرکت رات میں نازل کیا ہے اور وہ شب قدر یا شب نصف شعبان ہے، اسی رات میں قرآن کو ساتویں آسمان پر موجود لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا، بیشک ہم اس کے ذریعہ ڈرانے والے ہیں، اسی رات یعنی شب قدر یا شب نصف شعبان میں ہر محکم کام کا مثلاً روزی، موت وغیرہ جو اس سال اسی جیسی (آئندہ) رات تک ہونے والے ہوتے ہیں فیصلہ کیا جاتا ہے، ہمارے پاس سے حکم صادر ہو کر ہم ہی ہیں رسول بنا کر…
Read the full tafseer →رحمۃ من ربک آپ کے رب کی رحمت کے سبب سے۔
اس جگہ لفظ رب بتارہا ہے کہ پیغمبروں کو بھیجنا اللہ کی ربوبیت کا تقاضا ہے (بندوں کا اللہ پر حق لازم نہیں ہے) ۔
حضرت ابن عباس نے تشریحی مطلب اس طرح بیان کیا : ہم پیغمبروں کو بھیجنے والے ہیں ‘ اپنی مخلوق پر مہربانی کے زیر اثر اور کافروں پر عذاب نازل کرنے کیلئے۔
انہ ھو السمیع العلیم بلاشبہ وہی سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔ یعنی بندوں کے اقوال کو سنتا اور ان کے احوال
کو جانتا ہے۔ یہ جملہ ربوبیت کو ثابت کر رہا ہے۔ رب ہونے کا استحقاق اسی کو ہے جس کے اندر یہ اوصاف ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
(5۔ 6) آپ کا پروردگار اپنی رحمت سے اپنے بندوں پر سولوں کو کتابوں کے ساتھ بھیج کر فرماتا ہے کہ آپ کو رسول بنانے والے تھے بیشک وہ قریش کی اس آہ وزاری کو سننے والا ہے کہ ہمارے پروردگار ہم سے اس عذاب کو دور کردے اور ان سے اور ان کی سزا سے بھی واقف ہے۔
Read the full tafseer →6(1) رحمۃ من ربک یہ ”مرسلین“ کا مفعول لہ ہے۔ یعنی ہم تیرے رب کی رحمت کی وجہ سے رسول کو بھی جنے والے اور کتاب کو نازل کرنے والے تھے۔”اپنی رحمت“ کے بجائے ”تیرے رب کی رحمت“ کا لفظ رسول اللہ ﷺ کے شرف کے اظہار کیلئے ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ صرف آپ ﷺ ہی کا نہیں بلکہ کل کائنات کا رب ہے، جیسا کہ آگے یہ بات ابھی رہی ہے۔ (رب السموت والارض وما بینھما ان کنتم موقنین)”آسمانوں اور زمین اور ان چیزوں کا رب جو ان دونوں کے درمیان ہیں، اگر تم یقین کرنے والے ہو۔“”رحمتہ من ربک“ میں لفظ ”رب“ کا مطلب یہ ہے کہ بندوں پر یہ رحمت
ہمارے رب ہونے کا تقاضا ہے، کیونکہ ”رب“ کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے جسم کی پرورش کا انتظام کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
نقاش نے کہا : امر سے مراد قرآن ہے، اللہ تعالیٰ نے جسے اپنی جناب سے نازل کیا ہے (2) ابن عیسیٰ نے کہا : اس سے مراد یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے بندوں کے احوال میں سے فیصلہ کیا ہوگا یہ مصدر ہے اور حال کے محل میں ہے اسی طرح اخفش کے نزدیک دونوں حال ہیں ان کی تقدیر ہے مبرو نے کہا : مصدر کے محل میں ہے تقدیر کلام ہے زجاج نے کہا : یفرق کی وجہ سے منصوب ہے۔ جس طرح تیرا قول ہے : پس امر فرق کے معنی میں ہوگا یہ مصدر ہے جس طرح تیرا قول یضرب ضربا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یومر پر دلالت کرتا ہے یہ اس کا عمل مصدر ہے جو اس سے قبل ہے۔ فراء نے کہا : مرسلین کا معفول بہ ہے رحمتہ سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں زجاج نے کہا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
1:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو اس طرح پڑھا (آیت ) ” انہ ھو السمیع العلیم (6) رب السموت والارض “ یا کہ زیر کے سایہ۔
Read the full tafseer →رَحْمَةً [ رحمت ہوتے ہوئے ] مِّنْ رَّبِّكَ ۭ [ آپ کے رب (کی طرف) سے ] اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ [بیشک وہی ہی سننے والا ہے ] الْعَلِيْمُ [ جاننے والا ہے ]
Read the full tafseer →﴿رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ 1ؕ﴾ یعنی اس قرآن کا نازل فرمانا آپ کے رب کی طرف سے رحمت فرمانے کی وجہ سے ہے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے اپنی مخلوق پر رحم فرمایا ان کی ہدایت کے لیے اپنی کتاب نازل فرمائی، فی معالم التنزیل ناقلاً عن الزجاج انزلنہ فی لیلة مبٰركة للرحمة
﴿اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُۙ006﴾ (بلاشبہ وہ سننے والا، جاننے والا ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
بیان عظمت کتاب اللہ وبرکات زمانہ نزول قرآن مع دعوت ایمان وبدنصیبی محرومین واشقیاء از سعادت خداوندی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” حم والکتب المبین ...... الی ....... انا منتقمون “۔
(ربط) گزشتہ سورتک مضمون توحید و رسالت کا اثبات تھا اور اس سے اختلاف واعراض کرنے والے مجرمین کی بدنصیبی کا ذکر کرتے ہوئے ان کے افسوس ناک عبرت ناک انجام کا بیان تھا اور اسی موضوع پر سورت کا مضمون ختم فرما دیا گیا تھا کہ اگر ان واقعات کو سن کر بھی قریش کے لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کو سوچ لینا چاہئے کہ ایسا ہی عبرت ناک انجام ان کا بھی ہوگا، ساتھ ہی آپ ﷺ کو تسلی دینا بھی مقصود تھا کہ قریش مکہ کی مخالفت ودشمنی…
Read the full tafseer →7:۔ ” انہ ہو السمیع العلیم “ یہ سورت کا مقصود دعوی ہے اور مشرکین کے ایک شب ہے کا جواب ہے۔ جیسا کہ ربط میں ذکر کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نامہ سورة الدخان ہے۔ یہ نام اس کی آیت 100 میں آمدہ لفظ دخان سے ماخوذ ہے۔ عربی زبان میں دخان دھوئیں کھتے ہیں اور یہ دو قسم سے مذکور ہے دسواں نو قحط سالی کا ہوتا ہے اور دوسرا دھواں وہ ہے جو قیامت کی نشانی کے طور پر قرب قیامت میں ظاہر ہوگا۔
یہ سورة حوامیم سبعہ کی پانچویں سورة ہے جو مکی زندگی کے آخری حصہ میں گزشتہ سورة زخرف کے بعد نازل ہوئی اس کی انسٹھ آیات اور تین رکوع ہیں۔ یہ سورة مبارکہ 346 الفاظ اور 431 حروف پر مشتمل ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ جمعہ کی رات یا جمعہ کے دن اس سورة کی تلاوت کا بڑا اجر ہے ۔ آیات دوسری حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص رات کے وقت اس سورة کی تلاوت…
Read the full tafseer →رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّكَ 0 ۭ اِنَّہٗ ہُوَالسَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ 6 ۙ
رحم
والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من الرّحمة، فمعناه الموجود في الناس من المعنی الموجود لله تعالی،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–16
فیہا یفرق کل امرا حکیم امرامن عندنا کہ اس رات میں ہر حکمت کی بات بیان اور ظاہر کی جاتی ہے۔ یعنی جو حوادث دنیا میں ظاہر ہونے والے ہوتے ہیں (جیسا کہ کسی کا مرنا ‘ کسی کا امیر ہونا ‘ کسی کا فقیر ہونا ‘ بیمار و تندرست ہونا ‘ قحط و ارزانی کا ہونا ‘ سلطنت و حکومت کا تبدل و تغیر وغیرہ) ان کو بارگاہ قدس سے ملائکہ مدبران عالم پر ظاہر کیا جاتا ہے گو لوح محفوظ میں روز اول لکھے گئے تھے مگر اس رات میں انتظام عالم کے لیے ایک سال کے حوادث ان کے مدبر اور کارکن ملائکہ پر ظاہر کئے جاتے ہیں تاکہ اس کی تعمیل کریں۔ یہ اس رات کی بڑی عظمت و عزت ہے اس کے یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ عالم ناسوت میں جو معاملات ظہور کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
فِیْھَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍحَکِیْمٍ ۔ اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا ط اِنَّا کُنَّا مُرْسِلِیْنَ ۔ رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَط اِنَّـہٗ ھُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔ (الدخان : 4، 6)
(اس رات میں ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ صادر کیا جاتا ہے۔ ہمارے حکم سے، بیشک ہم رسول بھیجنے والے تھے۔ خاص آپ کے رب کی رحمت سے، یقینا وہی سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ )
لَیْلَۃٍ مُّبٰـرَکَۃٍ کی وضاحت
جس شب میں قرآن اتارا گیا ہے اس شب کی مزید خصوصیت یہ ہے کہ کائنات کے جتنے اہم امور ہیں بالخصوص جن کا تعلق انسانی بھلائی سے ہے ان کے حکیمانہ فیصلے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسی رات میں کیے جاتے ہیں اور سورة القدر کی روشنی میں کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
فہم القرآن
ربط سورت : الزّخرف کا اختتام اس بات پر ہوا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کو خالق کل ماننے کے باوجود اس کی خالص بندگی کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ان سے جھگڑا کرنے کی بجائے آپ ان کو سلام کہہ کر الگ ہوجائیں۔ الدّخان کی ابتداء اس فرمان سے ہوئی کہ ہم نے آپ پر قرآن مجید اس لیے نازل کیا ہے تاکہ ہم اس کے ذریعے کفار اور مشرکین کو ڈرائیں شاید کہ وہ اپنی روش سے باز آجائیں۔
جن سورتوں کی ابتداء میں حٰمٓ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان میں یہ پانچویں سورت ہے۔ حٰمٓ حروف مقطعات میں شمار ہوتے ہیں۔ جن کے بارے میں ہر صاحب علم جانتا ہے کہ ان کا معنٰی اور مفہوم نبی ﷺ نے بیان نہیں فرمایا اور نہ صحابہ کرام نے ان کا…
Read the full tafseer →آیت 6 : رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ (بوجہ رحمت کے جو آپ کے رب کی طرف سے ہوتی ہے) نمبر 1۔ اس کو مفعول لہ بنائیں تو معنی اس طرح ہوگا۔ ہم نے قرآن مجید اتارا ہے۔ کیونکہ ہماری شان یہ ہے کہ رسولوں کو کتابیں دے کر اپنے بندوں کی طرف بھیجتے ہیں۔ ان بندوں پر رحمت کرنے کے لئے۔ نمبر 2۔ امرًا من عندنا کی یہ علت ہے۔ اور رحمۃً مفعول بہٖ ہے۔
ایک نکتہ :
رحمت کی صفت ارسال کے ساتھ لائی گئی ہے۔ جیسا کہ اس کی صفت اس ارشاد میں بھی اسی طرح ہے۔ وما یمسک فلا مرسل لہ من بعدہٖ ۔ [ فاطر : 2] اصل عبارت اس طرح ہے۔ انا کنا مرسلین رحمۃً منا۔ پس منّا ضمیر کی بجائے من ربک کو لایا گیا تاکہ بتلا دیا جائے ربوبیت کا تقاضا یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →5، امرا، یعنی ہم نے اتارا امرکو، من عندنا، فراء (رح) فرماتے ہیں کہ اس کو اس معنی پر نصب دیا گیا ہے۔ ، فیھا یفرق کل امرحکیم فرقاوامرا، یعنی آپ حکم دیں حکم دینا اس کے بیان کا۔ ، اناکنا مرسلین ، محمد ﷺ اور جو آپ (علیہ السلام) سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1۔ 16۔ حم و الکتب المبین کی تفسیر سورة الزحزف کے شروع میں گزر چکی ہے جس برکت والی رات کا ذکر ان آیتوں میں ہے اگرچہ بعض فسروں نے لکھا ہے کہ یہ برکت والی رات شعبان کی پندرھویں رات ہے لیکن یہ قول شھر رمضان الذی انزل فیہ القران کے مخالف ہے صحیح وہی حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے جس کو نسائی 1 ؎ اور حاکم وغیرہ نے معتبر سند سے روایت کیا ہے کہ شب قدر میں ایک دفعہ سارا قرآن لوح محفوظ سے اول آسمان پر نازل ہوا پھر ہر ایک موقع پر ہر ایک آیت حضرت جبرئیل آنحضرت ﷺ کے پاس تشریف لائے۔ صحیح بخاری 2 ؎ میں حضرت عائشہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس سے جو روایتیں ہیں۔ ان میں اللہ کے رسول ﷺ نے یہ صاف جتلا دیا ہے کہ شب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
آیت 1
یہ قرآن پر قرآن ہی کی قسم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی جو ہر اس چیز کے لئے ہے جس کے بیان کی حاجت ہے۔ بیشک وہ اتاری گئی ہے (فی لیلۃ مبرکۃ) یعنی خیر کثیر اور بکت والی رات میں، اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ یقیناً اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین کلام کو سب راتوں اور دنوں سے افضل رات میں مخلوق میں سے افضل ہستی پر معززین اہل عرب کی زبان میں نازل فرمایا ات کہ اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو ڈرائے جنہیں جہالت نے اندھا کر رکھا ہے اور بدبختی ان پر غالب آچکی ہے۔ پس وہ اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اس کی ہدایت کو اختیار کریں اور اس کے پیچھے چلیں، اس طرح انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
8 بعثت رسول رب کی شان ربوبیت کا تقاضا : سو ارشاد فرمایا گیا " جو کہ رب ہے آسمان و زمین کی اس ساری کائنات کا "۔ سو اس کی اس عظیم الشان ربوبیت کا جو کہ اس عالم میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہے کا تقاضا یہ ہے کہ جس طرح اس نے تمہاری جسمانی اور مادی ضرورتوں کی تکمیل و تحصیل کے لئے اس طرح عظیم الشان اور حکمتوں بھرا انتظام فرمایا اسی طرح بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر وہ تمہاری روحانی ضرورتوں کی تکمیل کا سامان کرے۔ کیونکہ اس مادی جسم اور اس کے تقاضوں کے مقابلے میں اصل چیز روح اور اس کے تقاضے ہی ہیں۔ اس لئے اس نے مختلف انبیائے کرام مبعوث فرمائے۔ ان پر اپنی کتابیں اتاریں۔ اور اب حضرت خاتم الانبیاء ۔ ﷺ ۔ کی بعثت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
قرآن سچ ہے اور اس کے علاہ سب غلط ہے
تشریح : ان تمام آیات میں اللہ کی ان تدابیر کا ذکر کیا گیا ہے جو اس نے کائنات کے لیے مرتب کر رکھی ہیں۔ مثلاً میجر جنرل غلام محمد ملک صاحب اس کی بڑے خوبصورت انداز میں یوں وضاحت کرتے ہیں : فلسفہ تاریخ جس طرح سیاسی واقعات کی تکرار اور حوادث کے بار بار اعادہ سے اصول اور نتائج تک پہنچ کر ایک عام تاریخی قانون بنا لیتا ہے اسی طرح انبیاء علیھم السلام کے سوانح اور تاریخیں بھی اپنے واقعات کے بار بار اعادہ سے خصائصِ نبوت کا اصول قانون ہمارے لیے مرتب کرتی ہے۔ پیغمبرانہ تاریخ کے انہی اصول و قوانین میں سے ایک یہ ہے کہ نبی جب اپنے کمال انسانیت کو پہنچ کر فیضان نبوت کے قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
آیات 1 تا 29۔
اسرار ومعارف۔
حم۔ اس کتاب واضح کی قسم ہے یعنی یہ دلائل سے حق کو واضح کردینے والی کتاب اس پر گواہ ہے جسے ہم نے ایک بہت بابرکت شب کو لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل فرمایا کہ اس کے نزول سے مراد مخلوق کو صحیح راہ عمل دکھانا اور اعمال بد کے بد انجام سے بروقت خبر دینا ہے کہ وہ اپنی راہ متعین کرسکیں
لیلہ مبارکہ :
لیلہ مبارکہ سے مراد مفسرین کرام سے لیلۃ القدر ہے کہ قرآن کریم کی دوسری آیات سے اس کی تعیین ہوجاتی ہے نیز نزول قران رمضان المبارک ہی میں ہوا اور جو بات نصف شعبان کی شب کے بارے مشہور ہے ، اس کی سندیں ضعیف ہیں اس لیے اکثر علماء نے اسے قبول نہیں کیا ، اور بعض نے اس کی فضیلت اس…
Read the full tafseer →ف 12 یعنی پیغمبروں ﷺ کو خصوصاً حضرت محمد ﷺ کو لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرانے کے لئے بھیجنا اللہ تعالیٰ کی بڑی رحمت ہے۔
Read the full tafseer →(44:6) رحمۃ من ربک : مفعول لہ۔ (تیرے پروردگار کی طرف سے) بطور رحمت کے ۔ مطلب یہ کہ اے محمد ﷺ تیرے پروردگار نے تجھے اور تیرے سے قبل جملہ پیغمبروں کو بقضائے رحمت بمعہ کتب الٰہیہ کے اپنے بندوں کی طرف بھیجا کہ تیرے اور تجھ سے قبل پیغمبروں کے ذریعہ اپنے بندوں کو عواقب امور سے مطلع اور متنبہ کر دے۔
السمیع : بروزن فعیل صفت مشبہ کا سیغہ اسماء حسنی میں سے ہے۔ جب یہ حق تعالیٰ کی صفت واقع ہو۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ : ایسی ذات جس کی سماعت ہر شے پر حاوی ہو ۔
العلیم : بروزن فعیل مبالغہ کا صیغہ ہے علم سے اسماء حسنی میں سے ہے۔ قرآن مجید میں اس کا استعمال بیشتر اللہ تعالیٰ ہی کی صفت ہی میں ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 16 : لیلۃ مبارکۃ (برکت والی رات) یفرق (وہ جدا کردیتا ہے، الگ کردیتا ہے) امر حکیم ( حکمت بھرا فیصلہ) ارتقب (تو انتظارکر ، راہ دیکھ) دخان ( دھواں) یغشی (وہ ڈھانپ لے گا) معلم ( پڑھایا گیا) عائدون ( وہ لوٹنے والے ہیں) البطشۃ (سخت پکڑ)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 16 : قرآن کریم میں سات سورتیں وہ ہیں جن کی ابتداء ” حم ‘ ‘ سے کی گئی ہے۔ احادیث میں ان سات سورتوں کے بہت سے فضائل بیان کئے گئے ہیں ۔ ان ہی میں سے یہ پانچویں سورت ہے۔
” حا۔ میم “ حروف مقطعات میں سے ہیں جن کی تفصیل اس سے پہلی سورتوں میں بیان کردی گئی ہے۔ علماء مفسرین نے بیان کیا ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
(ف 1) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف کی قسم کھاکرفرماتا ہے کہ یہ قرآن حلال و حرام وغیرہ احکام کا بیان فرمانے والا ہے ، اور یہ قرآن اللہ کا کلام ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے پہلے شب قدر میں لوح محفوظ سے آسمان دنیا کی طرف اتارا پھر وہاں سے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تئیس سال کے عرصہ میں تھوڑا تھوڑا لے کر نازل ہوئے، اس شب کو شب مبارکہ اس لیے فرمایا گیا کہ اس میں قرآن پاک نازل ہوا، اور ہمیشہ اس شب میں خیروبرکت نازل ہوتی ہے دعائیں قبول کی جاتی ہیں اور اس مبارک رات میں ہر امر جو تقدیر میں ہوچکا ہوتا ہے الگ کرلیاجاتا ہے یعنی ایک سال کے حساب کتاب کا دفتر الگ بن جاتا ہے ، حضرت…
Read the full tafseer →[4] یعنی آپ کو رحمت کے طور پر معبوث فرمایا کہ آپ ہی کے ذریعے تمام انسانوں کو بلا امتیاز و تفریق نیکی اور بدی کے راستوں سے آگاہ کردیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
جس طرح بیت اللہ کو تمام اماکن مقدسہ پر فضیلت حاصل ہے اس کے ساتھ کچھ انوار اور سعادتیں مختص ہیں اور کہیں نہیں پائی جاتیں ۔ پھر جس طرح شخصیتوں کے مراتب میں تفاوت ہے حضور ﷺ کو وہ مقام رفیع حاصل ہے ۔ جو ابد تک کسی انسان کی قسمت میں نہیں ہوسکتا اسی طرح کچھ دن اور کچھ راتیں ایسی ہیں ۔ جو بیحد برکات کی حامل ہیں ۔ ان میں لیلۃ القدر کا رتبہ سب سے زیادہ ہے ۔ یہ وہ مبارک رات ہے جس میں قرآن نازل ہوا ۔ اور انسانوں کو آخری پیغام رشدوہدایت دیا گیا ۔ جس میں انسانی فلاح و بہبود کا پورا انتظام ہے ۔ اور اس کے ارتقاء ارتفاع کے لئے ایک آخری پروگرام تجویز کیا گیا ۔ یہ وہ رات ہے جس میں کائنات کے لئے فرائض کو تفریض…
Read the full tafseer →(6) بوجہ آپ کے پروردگار کی رحمت کے بیشک وہ بڑا سننے والا جاننے والا ہے۔ یعنی یہ قرآن کا نازل فرمانا اور خیر و شر سے مطلع کرنا اور آپ کو پیغمبر بنا کر بھیجنا یہ آپ کے پروردگار کی رحمت کے سبب ہے کہ اس کی رحمت کا یہ مقتضا ہے کہ بندوں کو ہر بات سے آگاہ کردیا جائے اور پیغمبر کو بھیج کر ان کو ان کا انجام سمجھا دیا جائے اور ان کو عمل کرنے کے لئے احکام کی ایک مکمل کتاب دی جائے تاکہ وہ تاریکی میں نہ رہیں اور قیامت میں یہ نہ کہیں لو لا ارسلت الینا رسولا یہ حضرت حق تعالیٰ کی رحمت ہے اس نے ابتداء آفرینش سے یہ سلسلہ جاری کیا اور خاتم البنیین ﷺ تک اس سلسلہ کو پہنچایا بیشک وہ اپنی تمام مخلوق کی باتوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
ف 4۔ آخرت کی فکر نہیں جو حق کو طلب کریں اس میں غور سے کام لیں۔
Read the full tafseer →رب کریم کی طرف سے یہ رحمت ہے جو سننے والا علم والا ہے
6 ؎ جو کچھ نبی کریم ﷺ پر نازل ہوا وہ بلاشبہ رحمت خداوندی ہے اور یہ رحمت سینہ اقدس پر نازل کی گئی ہے وہ بھی رحمۃ للعالمین ﷺ کی ذات گرامی ہے اور وہ اللہ جو اس کا نازل کرنے والا ہے اس کی رحمت کی وسعتوں نے ساری کائنات کو اپنے پردہ رحمت میں چھپا رکھا ہے اور اعلان کردیا کہ (رحمتی وسعت کل شی) میری رحمت نے ہر ایک چیز کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور اسی کی رحمت بےپایاں نے اس رات کو برکت والی رات اور نبی اعظم و آخر ﷺ کو خاتم النبین اور رحمۃ للعالمین بناکر مبعوث فرمادیا اور بلاریب وہ اللہ رب ذوالجلال والا کرام سننے والا اور جاننے والا ہے کہ انسانوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–10
لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ 'blessed night', in verse 2 according to majority of the Commentators, refers to 'laylatul Qadr' or the 'Night of Power' which occurs in the last ten nights of the month of Ramadan. During this night Allah sends down countless blessings for his slaves/servants. It has been explicitly mentioned in Surah Al-Qadr, thus:
إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ
"We sent it (the Qur'an) down in the Night of Qadr". (97:1)
This clearly indicates that the phrase 'laylah mubarakah' (blessed night) occurring in the verse refers to the 'Night of Power'. It is narrated in a…
Read the full tafseer →4 That is, "It was not only a demand of wisdom to send a Messenger with. this Book but also of Allah's mercy, for He is the Providence, and Providence requires that not only should arrangements be made for nourishing the servants' bodies but they should also be afforded right guidance by knowledge, that they should be made aware of the distinction between right and wrong and that they should not be left wandering in darkness."
5 The object of mentioning these two attributes of AIlah in this context is to warn the people of the truth that He alone can give correct knowledge for He alone knows…
Read the full tafseer →