Explained with ayahs 3–8
عظیم الشان قرآن کریم کا نزول اور ماہ شعبان
اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس عظیم الشان قرآن کریم کو بابرکت رات یعنی لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ جیسے ارشاد ہے آیت (اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ښ) 97۔ القدر :1) ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ اور یہ رات رمضان المبارک میں ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے (شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ01805) 2۔ البقرة :185) رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔ سورة بقرہ میں اس کی پوری تفسیر گذر چکی ہے اس لئے یہاں دوبارہ نہیں لکھتے بعض لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
سورة الدُّخَان 4
یعنی یہ کتاب دے کر ایک رسول کو بھیجنا نہ صرف حکمت کا تقاضا تھا، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا بھی تھا، کیونکہ وہ رب ہے اور ربوبیت صرف اسی بات کی متقاضی نہیں ہے کہ بندوں کے جسم کی پرورش کا سامان کیا جائے اور انہیں تاریکی میں بھٹکتا نہ چھوڑ دیا جائے۔
سورة الدُّخَان 5
اس سیاق وسباق میں اللہ تعالیٰ کی ان دو صفت کو بیان کرنے سے مقصود لوگوں کو اس حقیقت پر متنبہ کرنا ہے کہ صحیح علم صرف وہی دے سکتا ہے، کیونکہ تمام حقائق کو وہی جانتا ہے۔ ایک انسان تو کیا، سارے انسان مل کر بھی اگر اپنے لیے کوئی راہ حیات متعین کریں تو اس کے حق ہونے کی کوئی ضمانت نہیں، کیونکہ پوری نوع انسانی یکجار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
(آیت) لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ سے مراد جمہور مفسرین کے نزدیک شب قدر ہے جو رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں ہوتی ہے۔ اس رات کو مبارک فرمانا اس لئے ہے کہ اس رات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر بیشمار خیرات و برکات نازل ہوتی ہیں اور قرآن کریم کا شب قدر میں نازل ہونا قرآن کی سورة قدر میں تصریح کے ساتھ آیا ہے۔ (آیت) انا انزلنہ فی لیلة القدر، اس سے ظاہر ہوا کہ یہاں بھی لیلة مبارکہ سے مراد شب قدر ہی ہے۔ اور ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ سے یہ بھی منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی کتابیں ابتداء دنیا سے آخر تک اپنے انبیاء (علیہم السلام) پر نازل فرمائی ہیں وہ سب کی سب ماہ رمضان المبارک ہی کی مختلف تاریخوں…
Read the full tafseer →امراض عندنا ط انا کنا مرسلین (5)
امراً کا نصب علی سبیل الاختصاص ہے اور مقصود اس سے اس تقسیم امور کی اہمیت و عظمت کو واضح فرمانا ہے کہ یہ جو کچھ بھی ہوتا ہے خاص امر الٰہی سے ہوتا ہے۔ اس میں کسی اور کو دذخل نہیں ہوتا اس وجہ سے بندوں پر واجب ہے کہ اس کو کائنات کے بادشاہ حقیقی کے خاص فرمان کی حیثیت سے قبول کریں اور سچے جذبہ انقیاد کے ساتھ اس کے ہر حکم کی اطاعت کریں۔ اگر انہوں نے اس کو رد کیا۔ اس کا مذاق اڑایا اور اس کی تکذیب کی تو یاد رکھیں کہ یہ اس کائنات کے بادشاہی حقیقی سے بغاوت ہوگی جس کی سزا بڑی ہی ہولناک ہے۔
ان پیشن گوئیوں کی طرف اشارہ جو انبیاء سے منقولی ہیں
انا کنامرسلین یہ بالکل انا کنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
5۔ 1 یعنی سارے فیصلے ہمارے حکم و اذن اور ہماری تقدیر و مشیت سے ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
3: اس آیت کی تفسیر حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے یہ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو متنبہ کرنے کے لیے انہیں ایک سخت قحط میں مبتلا فرما دیا تھا، اس وقت لوگ بھوک کی شدت کے عالم میں جب آسمان کی طرف دیکھتے تو انہیں آسمان پر دھواں ہی دھواں چھایا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ اس آیت میں اس قحط سالی کی پیشین گوئی کی گئی ہے، اور فرمایا گیا ہے کہ کافروں کو سزا کے طور پر ایسے قحط میں مبتلا کیا جائے گا کہ انہیں بھوک کی وجہ سے آسمان پر دھواں ہی دھواں نظر آئے گا، اور اس وقت یہ لوگ وعدہ کریں گے کہ اگر یہ قحط ہم سے دور ہوگیا تو ہم ایمان لے آئیں گے، لیکن جب قحط دور ہوگا تو اپنے وعدے سے پھر کر دوبارہ شرک کی طرف لوٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
درس نمبر 234 تشریح آیات
1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 59
آیت نمبر 1 تا 8
آغاز دو حروف سے ہوتا ہے حا۔ میم۔ اور دونوں کی قسم اٹھائی جاتی ہے اور پھر کتاب مبین کی بھی قسم اٹھائی جاتی ہے جو ایسے ہی حروف تہجی سے مرکب ہے۔ ان کے بارے میں سورتوں کے آغاز میں ہم بار ہا بات کرچکے ہیں۔ پھر ان حروف کی بھی اسی طرح قسم اٹھائی گئی جس طرح کتاب مبین کی قسم اٹھائی گئی۔ کتاب مبین کی اہمیت مسلم مگر ان حروف کی اہمیت کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر حرف بھی ایک معجزہ اور نشانی ہے اور ہر حرف انسان کی زبان کی ساخت کی نشانی ہے اور پھر کس انداز سے زبان اپنے مخرج سے اس حرج و صوت کو نکالتی ہے ، پھر ان حروف کے مخارج کی ترتیب پھر ہر حرف کے نام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
3 یعنی سال بھر کے متعلق قضاء و قدر کے حکیمانہ اور اٹل فیصلے اسی عظیم الشان رات میں " لوح محفوظ " سے نقل کر کے ان فرشتوں کے حوالہ کیے جاتے ہیں جو شعبہ ہائے تکوینیات میں کام کرنے والے ہیں۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شعبان کی پندرھویں رات ہے جسے شب برات کہتے ہیں۔ ممکن ہے وہاں سے اس کام کی ابتداء اور شب قدر پر انتہاء ہوئی ہو۔ واللہ اعلم۔4 یعنی فرشتوں کو ہر کام پر جو ان کے مناسب ہو۔ چناچہ جبرائیل کو قرآن دے کر محمد رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا۔
Read the full tafseer →آیت 5 { اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَاط اِنَّا کُنَّا مُرْسِلِیْنَ } ”طے شدہ احکام ہماری طرف سے۔ یقینا ہم ہی ہیں رسولوں کو بھیجنے والے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
4 آپ رحمۃ للعالمین تھے :۔ یعنی تمام اہل عالم کے لئے ایک خبردار کرنے والا رسول بھیجنا صرف ہماری حکمت کا ہی تقاضا نہ تھا بلکہ یہ اہل عالم پر ہماری رحمت کا بھی تقاضا تھا۔ وہ لوگوں کی پکار اور فریاد بھی سنتا ہے اور ان کے حالات کو جانتا بھی ہے۔ اسی لیے اس نے عین ضرورت کے مطابق خاتم النبییّن کو قرآن دے کر اور تمام اہل عالم کے لیے رحمت کبریٰ بناکر مبعوث فرمایا۔ تاکہ کفر و شرک کی گمراہیوں میں پھنسی اور ظلم و جور میں ڈوبی ہوئی انسانیت کو سیدھی راہ دکھا دی جائے کہ کس طرح وہ اپنی باہمی نہ ختم ہونے والی لڑائیوں، لوٹ مار اور قتل و غارت سے نجات حاصل کرکے دنیا میں امن و چین کے ساتھ زندگی بسر کرسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
4۔ (کہ آپ ﷺ کے ذریعہ سے بندوں کو حق و باطل، خیروشر کی راہوں سے پوری طرح آگاہ کردیں) (آیت) ” رحمۃ من ربک “۔ رحمۃ للعالمین “۔ اس معنی میں کہ آپ ﷺ ہی کے ذریعہ سے کل بندوں کو بلاامتیاز وتفریق نیکی وبدی کے راستوں سے آگاہ کردیا گیا۔ (آیت) ” وبال مومنین رء وف رحیم “۔ مومنین کے حق میں آپ ﷺ رؤف و رحیم اس معنی میں کہ انہیں نے آپ ﷺ کے پیام کو قبول کیا اور آپ ﷺ کی ہدایت سے پوری طرح مستفید ہوئے اور رحمت خاص خود آپ ﷺ کے حق میں، اس معنی میں کہ آپ ﷺ ہی کو ذریعہ وواسطہ اس رحمت عالم کا بنایا۔
5۔ (تو اس سے بڑھ کر بندوں کی ضرورتوں کو جاننے والا اور ان کی مصلحتوں کی رعایت کرنے والا اور کون ہوسکتا ہے ؟ )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
آیت نمبر 1 تا 29
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اللہ کی کیا مراد ہے ؟ وہی بہتر جانتا ہے قسم ہے واضح کتاب قرآن کی جو حلال کو حرام سے ممتاز کرنے والی ہے، یقیناً ہم نے اس کو بابرکت رات میں نازل کیا ہے اور وہ شب قدر یا شب نصف شعبان ہے، اسی رات میں قرآن کو ساتویں آسمان پر موجود لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا، بیشک ہم اس کے ذریعہ ڈرانے والے ہیں، اسی رات یعنی شب قدر یا شب نصف شعبان میں ہر محکم کام کا مثلاً روزی، موت وغیرہ جو اس سال اسی جیسی (آئندہ) رات تک ہونے والے ہوتے ہیں فیصلہ کیا جاتا ہے، ہمارے پاس سے حکم صادر ہو کر ہم ہی ہیں رسول بنا کر…
Read the full tafseer →امرا من عندنا حکم ہو کر ہمارے پاس سے۔
اس امر سے مراد ہے وہ امر جو ہماری حکمت کے مطابق ہماری طرف سے پیدا ہوتا ہے ‘ یا امر سے مراد ہے حکم۔ اس صورت میں یُفْرَقُ کا یا فعل محذوف کا مفعول مطلق ہوگا۔
انا کنا مرسلین ہم ہی (پیغمبروں کو) بھیجنے والے ہیں۔ یعنی ہمارا ضابطہ ہی یہ ہے کہ ہم بندوں کو عذاب سے ڈراتے ہیں اور پیغمبروں کو کتابیں دے کر بھیجتے ہیں ‘ اسی لئے ہم نے قرآن نازل کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
(5۔ 6) آپ کا پروردگار اپنی رحمت سے اپنے بندوں پر سولوں کو کتابوں کے ساتھ بھیج کر فرماتا ہے کہ آپ کو رسول بنانے والے تھے بیشک وہ قریش کی اس آہ وزاری کو سننے والا ہے کہ ہمارے پروردگار ہم سے اس عذاب کو دور کردے اور ان سے اور ان کی سزا سے بھی واقف ہے۔
Read the full tafseer →(1) امراً من عندناً : یعنی یہ سارے فیصلے ہمارے حکم سے ہوتے ہیں۔ مراد ان فیصلوں کی اہمیت اور عظمت پر متنبہ کرنا ہے کہ وہ فیصلے کسی معمولی ہستی کے نہیں ہوتے، بلکہ کائنات کے مالک کی طرف سے صادر ہوتے ہیں۔
(2) انا کنا مرسلین : یعنی ہم یہ کتاب نازل کرتے وقت رسول کو بھیجنے والے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
نقاش نے کہا : امر سے مراد قرآن ہے، اللہ تعالیٰ نے جسے اپنی جناب سے نازل کیا ہے (2) ابن عیسیٰ نے کہا : اس سے مراد یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے بندوں کے احوال میں سے فیصلہ کیا ہوگا یہ مصدر ہے اور حال کے محل میں ہے اسی طرح اخفش کے نزدیک دونوں حال ہیں ان کی تقدیر ہے مبرو نے کہا : مصدر کے محل میں ہے تقدیر کلام ہے زجاج نے کہا : یفرق کی وجہ سے منصوب ہے۔ جس طرح تیرا قول ہے : پس امر فرق کے معنی میں ہوگا یہ مصدر ہے جس طرح تیرا قول یضرب ضربا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یومر پر دلالت کرتا ہے یہ اس کا عمل مصدر ہے جو اس سے قبل ہے۔ فراء نے کہا : مرسلین کا معفول بہ ہے رحمتہ سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں زجاج نے کہا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انا انزلنہ فی لیلۃ مبرکۃ “ (کہ ہم نے اس کو مبارک رات میں نازل کیا) یعنی قرآن لیلۃ القدر میں نازل کیا گیا پھر جبرائیل (علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ پر لوگوں کی باتوں کے جواب میں آیت در آیت کی صورت میں نازل کرتے رہے۔
2:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انا انزلنہ فی لیلۃ مبرکۃ “ سے مراد ہے لیلۃ القدر۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابو الجلد (رح) سے روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا صحیفہ رمضان کی پہلی رات میں نازل ہوا اور انجیل رمضان کی اٹھارویں رات گزرنے پر نازل ہوا اور یہ فرقان (یعنی قرآن مجید) رمضان کی چوبیس…
Read the full tafseer →اَمْرًا [ حکم ہوتے ہوئے ] مِّنْ عِنْدِنَا ۭ [ ہمارے پاس سے ] اِنَّا كُنَّا [ بیشک ہم ہیں ] مُرْسِلِيْنَ [ بھیجنے والے ]
Read the full tafseer →﴿اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا 1ؕ﴾ (یہ فیصلہ ہماری طرف سے امر کے طور پر صادر کیا جاتا ہے۔ )
قال الفراء : علی معنی ﴿فِيْهَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِيْمٍۙ004﴾ فرقًا وامرًا ای نامرا مرًا ببیان ذلک (معالم التنزیل ج 4: ص 149) ﴿اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِيْنَۚ005﴾ بیشک ہم رسالت کے طور پر آپ کو اور دیگر انبیاء کرام بھیجنے والے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
بیان عظمت کتاب اللہ وبرکات زمانہ نزول قرآن مع دعوت ایمان وبدنصیبی محرومین واشقیاء از سعادت خداوندی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” حم والکتب المبین ...... الی ....... انا منتقمون “۔
(ربط) گزشتہ سورتک مضمون توحید و رسالت کا اثبات تھا اور اس سے اختلاف واعراض کرنے والے مجرمین کی بدنصیبی کا ذکر کرتے ہوئے ان کے افسوس ناک عبرت ناک انجام کا بیان تھا اور اسی موضوع پر سورت کا مضمون ختم فرما دیا گیا تھا کہ اگر ان واقعات کو سن کر بھی قریش کے لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کو سوچ لینا چاہئے کہ ایسا ہی عبرت ناک انجام ان کا بھی ہوگا، ساتھ ہی آپ ﷺ کو تسلی دینا بھی مقصود تھا کہ قریش مکہ کی مخالفت ودشمنی…
Read the full tafseer →5:۔ ” امرا من عندنا “ امرا منصوب علی الاختصاص ہے اور اس سے مقصود ان طے شدہ امور کی اہمیت و عظمت کا اظہار ہے۔ یعنی اس سے ہر عظیم اور اہم امر مراد ہے جو ہماری حکمت و تدبیر کے مطابق ہو۔ الزمخشری ” امر “ نصب علی الاختصاص جعل کل امر جزلا فخما بان وصفہ بالحکیم، ثم زادہ جزالۃ وکسبہ فخامۃ بان قال اعنی بھذا الامر امرا حاصلا من عندنا، کائنا من لدنا، وکما اقتضاہ علمنا وتدبیرنا (قرطبی ج 16 ص 129) ۔
6:۔ ” انا کنا مرسلین “ اس کا تعلق یا تو ” والکتب المبین “ سے ہے بایں معنی کہ ہم ہی اس کتاب کے ساتھ اپنے پیغمبر کو بھیجنے والے ہیں جو تیرے پروردگار کی طرف سے محض رحمت ہے۔ یا یہ ” لیلۃ مبارکۃ “ سے متعلق ہے یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نامہ سورة الدخان ہے۔ یہ نام اس کی آیت 100 میں آمدہ لفظ دخان سے ماخوذ ہے۔ عربی زبان میں دخان دھوئیں کھتے ہیں اور یہ دو قسم سے مذکور ہے دسواں نو قحط سالی کا ہوتا ہے اور دوسرا دھواں وہ ہے جو قیامت کی نشانی کے طور پر قرب قیامت میں ظاہر ہوگا۔
یہ سورة حوامیم سبعہ کی پانچویں سورة ہے جو مکی زندگی کے آخری حصہ میں گزشتہ سورة زخرف کے بعد نازل ہوئی اس کی انسٹھ آیات اور تین رکوع ہیں۔ یہ سورة مبارکہ 346 الفاظ اور 431 حروف پر مشتمل ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ جمعہ کی رات یا جمعہ کے دن اس سورة کی تلاوت کا بڑا اجر ہے ۔ آیات دوسری حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص رات کے وقت اس سورة کی تلاوت…
Read the full tafseer →اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا 0 ۭ اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِيْنَ 5 ۚ
عند
عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ،
( عند ) ظرف
عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو مکان کا قرب ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور کبھی اعتقاد کے معنی ظاہر کرتا ہے جیسے عندی کذا اور کبھی کسی شخص کی قرب ومنزلت کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–16
فیہا یفرق کل امرا حکیم امرامن عندنا کہ اس رات میں ہر حکمت کی بات بیان اور ظاہر کی جاتی ہے۔ یعنی جو حوادث دنیا میں ظاہر ہونے والے ہوتے ہیں (جیسا کہ کسی کا مرنا ‘ کسی کا امیر ہونا ‘ کسی کا فقیر ہونا ‘ بیمار و تندرست ہونا ‘ قحط و ارزانی کا ہونا ‘ سلطنت و حکومت کا تبدل و تغیر وغیرہ) ان کو بارگاہ قدس سے ملائکہ مدبران عالم پر ظاہر کیا جاتا ہے گو لوح محفوظ میں روز اول لکھے گئے تھے مگر اس رات میں انتظام عالم کے لیے ایک سال کے حوادث ان کے مدبر اور کارکن ملائکہ پر ظاہر کئے جاتے ہیں تاکہ اس کی تعمیل کریں۔ یہ اس رات کی بڑی عظمت و عزت ہے اس کے یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ عالم ناسوت میں جو معاملات ظہور کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
فِیْھَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍحَکِیْمٍ ۔ اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا ط اِنَّا کُنَّا مُرْسِلِیْنَ ۔ رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَط اِنَّـہٗ ھُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔ (الدخان : 4، 6)
(اس رات میں ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ صادر کیا جاتا ہے۔ ہمارے حکم سے، بیشک ہم رسول بھیجنے والے تھے۔ خاص آپ کے رب کی رحمت سے، یقینا وہی سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ )
لَیْلَۃٍ مُّبٰـرَکَۃٍ کی وضاحت
جس شب میں قرآن اتارا گیا ہے اس شب کی مزید خصوصیت یہ ہے کہ کائنات کے جتنے اہم امور ہیں بالخصوص جن کا تعلق انسانی بھلائی سے ہے ان کے حکیمانہ فیصلے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسی رات میں کیے جاتے ہیں اور سورة القدر کی روشنی میں کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
فہم القرآن
ربط سورت : الزّخرف کا اختتام اس بات پر ہوا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کو خالق کل ماننے کے باوجود اس کی خالص بندگی کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ان سے جھگڑا کرنے کی بجائے آپ ان کو سلام کہہ کر الگ ہوجائیں۔ الدّخان کی ابتداء اس فرمان سے ہوئی کہ ہم نے آپ پر قرآن مجید اس لیے نازل کیا ہے تاکہ ہم اس کے ذریعے کفار اور مشرکین کو ڈرائیں شاید کہ وہ اپنی روش سے باز آجائیں۔
جن سورتوں کی ابتداء میں حٰمٓ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان میں یہ پانچویں سورت ہے۔ حٰمٓ حروف مقطعات میں شمار ہوتے ہیں۔ جن کے بارے میں ہر صاحب علم جانتا ہے کہ ان کا معنٰی اور مفہوم نبی ﷺ نے بیان نہیں فرمایا اور نہ صحابہ کرام نے ان کا…
Read the full tafseer →آیت 5 : اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا (ہمارے پاس سے حکم ہو کر) امراً یہ منصوب بوجہ اختصاص ہے۔ ہر امر کو بڑا عظیم الشان قرار دیا کیونکہ وہ حکیم کی صفت رکھتا ہے۔ پھر اس کی عظمت و شان کو یہ کہہ کر چار چاند لگا دیئے کہ فرمایا یہ امر تو ہمارے پاس سے صادر ہونے والا ہے۔ جیسا ہمارا علم اور تدبیر اس کا تقاضا کرتی ہے۔ اِنَّا کُنَّا مُرْسِلِیْنَ (ہم ہی آپ کو پیغمبر بنانے والے تھے) : یہ انا کنا منذرین [ الدخان : 3] سے بدل ہے۔ رحمۃً من ربک اس کا مفعول لہ ہے۔
Read the full tafseer →4، فیھا، یعنی مبارک رات میں، یفرق، تفصیل کی جاتی ہے۔ ، کل امرحکیم، محکم امر کی۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ام الکتاب سے لیلۃ القدر میں آئندہ سال میں ہونے والے خیر و شر اور ملنے والے رزق اور لوگوں کی عمریں حتی کہ حج کرنے والوں کا کہ فلاں فلاں حج کرے گا لکھ لیاجاتا ہے۔
حسن، مجاہد اور قتادہ رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ رمضان کی لیلۃ القدر میں ہر مدت اور عمل اور پیدائش اور رزق اور جو اس سال میں ہونا ہوتا ہے پختہ کردیاجاتا ہے اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ شعبان کی پندرہ کی رات ہے کہ اس میں سال کا امرپختہ کردیا جاتا ہے اور زندوں کو مردوں میں لکھاجاتا ہے۔ پس نہ ان میں کوئی زیادہ کیا جاتا ہے اور نہ کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1۔ 16۔ حم و الکتب المبین کی تفسیر سورة الزحزف کے شروع میں گزر چکی ہے جس برکت والی رات کا ذکر ان آیتوں میں ہے اگرچہ بعض فسروں نے لکھا ہے کہ یہ برکت والی رات شعبان کی پندرھویں رات ہے لیکن یہ قول شھر رمضان الذی انزل فیہ القران کے مخالف ہے صحیح وہی حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے جس کو نسائی 1 ؎ اور حاکم وغیرہ نے معتبر سند سے روایت کیا ہے کہ شب قدر میں ایک دفعہ سارا قرآن لوح محفوظ سے اول آسمان پر نازل ہوا پھر ہر ایک موقع پر ہر ایک آیت حضرت جبرئیل آنحضرت ﷺ کے پاس تشریف لائے۔ صحیح بخاری 2 ؎ میں حضرت عائشہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس سے جو روایتیں ہیں۔ ان میں اللہ کے رسول ﷺ نے یہ صاف جتلا دیا ہے کہ شب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
آیت 1
یہ قرآن پر قرآن ہی کی قسم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی جو ہر اس چیز کے لئے ہے جس کے بیان کی حاجت ہے۔ بیشک وہ اتاری گئی ہے (فی لیلۃ مبرکۃ) یعنی خیر کثیر اور بکت والی رات میں، اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ یقیناً اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین کلام کو سب راتوں اور دنوں سے افضل رات میں مخلوق میں سے افضل ہستی پر معززین اہل عرب کی زبان میں نازل فرمایا ات کہ اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو ڈرائے جنہیں جہالت نے اندھا کر رکھا ہے اور بدبختی ان پر غالب آچکی ہے۔ پس وہ اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اس کی ہدایت کو اختیار کریں اور اس کے پیچھے چلیں، اس طرح انہیں…
Read the full tafseer →5 سب کچھ امر الٰہی ہی سے ہوتا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہمارے حکم کی بنا پر "۔ یعنی یہ سب کچھ ہمارے ہی حکم وارشاد سے اور ہماری ہی طرف سے ہوتا ہے۔ { اَمْرًا } کی تنکیر و تنوین اور پھر { مِنْ عِنْدِنَا } کی نسبت سے اس کی تفخیم و تعظیم کی طرف اشارہ نکلتا ہے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ سب کچھ خاص امر الہٰی سے ہوتا ہے " اس میں کسی اور کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ اس لیے بندوں پر واجب ہے کہ وہ اس کو اس کائنات کے بادشاہ حقیقی کے خاص فرمان کی حیثیت سے قبول کریں اور سچے جذبہ اطاعت کے ساتھ اس کے آگے سر تسلیم خم ہوجائیں۔ اور اس کے ہر حکم کی صدق دل سے اطاعت کریں۔ اور اگر اس کو انہوں نے رد کیا، اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
قرآن سچ ہے اور اس کے علاہ سب غلط ہے
تشریح : ان تمام آیات میں اللہ کی ان تدابیر کا ذکر کیا گیا ہے جو اس نے کائنات کے لیے مرتب کر رکھی ہیں۔ مثلاً میجر جنرل غلام محمد ملک صاحب اس کی بڑے خوبصورت انداز میں یوں وضاحت کرتے ہیں : فلسفہ تاریخ جس طرح سیاسی واقعات کی تکرار اور حوادث کے بار بار اعادہ سے اصول اور نتائج تک پہنچ کر ایک عام تاریخی قانون بنا لیتا ہے اسی طرح انبیاء علیھم السلام کے سوانح اور تاریخیں بھی اپنے واقعات کے بار بار اعادہ سے خصائصِ نبوت کا اصول قانون ہمارے لیے مرتب کرتی ہے۔ پیغمبرانہ تاریخ کے انہی اصول و قوانین میں سے ایک یہ ہے کہ نبی جب اپنے کمال انسانیت کو پہنچ کر فیضان نبوت کے قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
آیات 1 تا 29۔
اسرار ومعارف۔
حم۔ اس کتاب واضح کی قسم ہے یعنی یہ دلائل سے حق کو واضح کردینے والی کتاب اس پر گواہ ہے جسے ہم نے ایک بہت بابرکت شب کو لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل فرمایا کہ اس کے نزول سے مراد مخلوق کو صحیح راہ عمل دکھانا اور اعمال بد کے بد انجام سے بروقت خبر دینا ہے کہ وہ اپنی راہ متعین کرسکیں
لیلہ مبارکہ :
لیلہ مبارکہ سے مراد مفسرین کرام سے لیلۃ القدر ہے کہ قرآن کریم کی دوسری آیات سے اس کی تعیین ہوجاتی ہے نیز نزول قران رمضان المبارک ہی میں ہوا اور جو بات نصف شعبان کی شب کے بارے مشہور ہے ، اس کی سندیں ضعیف ہیں اس لیے اکثر علماء نے اسے قبول نہیں کیا ، اور بعض نے اس کی فضیلت اس…
Read the full tafseer →ف 11 یعنی جبریل ( علیہ السلام) اللہ کے اذن سے ہر حکم لے کر اترتے ہیں۔
Read the full tafseer →(44:5) امرا من عندنا۔ ہر حکم ہماری جانب سے جاری ہوتا ہے (ترجمہ ضیاء القرآن) یعنی یہ فیصلے میری بارگاہ جلالت و اقدس سے صادر ہوتے ہیں اور جو فیصلہ ہماری بارگاہ جلالت سے صادر ہوگا یقینا وہ خیر و برکت کا حامل ہوگا۔ عدل اور احسان کا آئینہ دار ہوگا۔ اس رات مبارک میں جو فیصلے کئے جاتے ہیں ان کی عظمت شان کے اظہار کے لئے امرا من عندنا کے الفاظ ذکر کئے گئے ہیں۔
امام رازی (رح) امرا کے منصوب ہونے کی دو وجہیں ذکر فرمائی ہیں۔ ان نصب علی الاختصاص کہ مخصوص ہونے کی وجہ سے منصوب ہوا۔ یا یہ حال ہے ذوالحال انزلنہ کی ضمیر فاعل ہوگی یا مفعول۔
فائدہ : لیلۃ مبارکۃ کو فیصل ہونے والے امور کو پہلے امر حکیم فرمایا کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 16 : لیلۃ مبارکۃ (برکت والی رات) یفرق (وہ جدا کردیتا ہے، الگ کردیتا ہے) امر حکیم ( حکمت بھرا فیصلہ) ارتقب (تو انتظارکر ، راہ دیکھ) دخان ( دھواں) یغشی (وہ ڈھانپ لے گا) معلم ( پڑھایا گیا) عائدون ( وہ لوٹنے والے ہیں) البطشۃ (سخت پکڑ)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 16 : قرآن کریم میں سات سورتیں وہ ہیں جن کی ابتداء ” حم ‘ ‘ سے کی گئی ہے۔ احادیث میں ان سات سورتوں کے بہت سے فضائل بیان کئے گئے ہیں ۔ ان ہی میں سے یہ پانچویں سورت ہے۔
” حا۔ میم “ حروف مقطعات میں سے ہیں جن کی تفصیل اس سے پہلی سورتوں میں بیان کردی گئی ہے۔ علماء مفسرین نے بیان کیا ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
(ف 1) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف کی قسم کھاکرفرماتا ہے کہ یہ قرآن حلال و حرام وغیرہ احکام کا بیان فرمانے والا ہے ، اور یہ قرآن اللہ کا کلام ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے پہلے شب قدر میں لوح محفوظ سے آسمان دنیا کی طرف اتارا پھر وہاں سے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تئیس سال کے عرصہ میں تھوڑا تھوڑا لے کر نازل ہوئے، اس شب کو شب مبارکہ اس لیے فرمایا گیا کہ اس میں قرآن پاک نازل ہوا، اور ہمیشہ اس شب میں خیروبرکت نازل ہوتی ہے دعائیں قبول کی جاتی ہیں اور اس مبارک رات میں ہر امر جو تقدیر میں ہوچکا ہوتا ہے الگ کرلیاجاتا ہے یعنی ایک سال کے حساب کتاب کا دفتر الگ بن جاتا ہے ، حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
[3] یعنی اللہ تعالیٰ کی اسکیم میں یہ بات پہلے سے طے تھی کہ وہ آپ کو پیغمبر بنا کر بھیجے گا اور یہ فیصلہ بھی اس رات میں ہوا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
جس طرح بیت اللہ کو تمام اماکن مقدسہ پر فضیلت حاصل ہے اس کے ساتھ کچھ انوار اور سعادتیں مختص ہیں اور کہیں نہیں پائی جاتیں ۔ پھر جس طرح شخصیتوں کے مراتب میں تفاوت ہے حضور ﷺ کو وہ مقام رفیع حاصل ہے ۔ جو ابد تک کسی انسان کی قسمت میں نہیں ہوسکتا اسی طرح کچھ دن اور کچھ راتیں ایسی ہیں ۔ جو بیحد برکات کی حامل ہیں ۔ ان میں لیلۃ القدر کا رتبہ سب سے زیادہ ہے ۔ یہ وہ مبارک رات ہے جس میں قرآن نازل ہوا ۔ اور انسانوں کو آخری پیغام رشدوہدایت دیا گیا ۔ جس میں انسانی فلاح و بہبود کا پورا انتظام ہے ۔ اور اس کے ارتقاء ارتفاع کے لئے ایک آخری پروگرام تجویز کیا گیا ۔ یہ وہ رات ہے جس میں کائنات کے لئے فرائض کو تفریض…
Read the full tafseer →(5) فیصلہ کیا جاتا ہے اس حکم کے مطابق جو حکم ہماری جناب سے صادر ہوتا ہے بیشک ہم ہی پیغمبروں کو یا فرشتوں کو بھیجنے والے ہیں۔ یعنی یہ ککام جو جدا کئے جاتے ہیں اور ان کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو یہ ہمارے اس روزی اچھی بری شہرت موت اور بیماری حج کو جانا، باغ لگانا، مکان بنانا وغیرہ کا اجمالی فیصلہ ملائکہ کے سپرد کردیاجاتا ہے اور وہ فرشتے اپنے اپنے مفوضہ کاموں کو حسب ہدایت انجام دیتے رہتے ہیں اور ان فیصلوں کا اجمالی علم ملائکہ کو حاصل رہتا ہے ہم بھیجنے والے ہیں یعنی رسولوں کو یا فرشتوں کو یا احکام کو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی فرشتوں کو ہر کام پر۔ آگے قرآن کے نازل کرنے اور آپ کو پیغمبر بناکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ف 3۔ یعنی سال بھر کے معاملات ہیں کہ سب ہی باحکمت ہیں جس طور پر اللہ تعالیٰ کو کرنا منظور ہے، اس طور کو متعین کر کے اور ان کی اطلاع کا رکن ملائکہ کو کر کے ان کے سپرد کردیئے جاتے ہیں، چونکہ وہ رات ایسی ہے اور قرآن سب سے زیادہ امر حکیم تھا اس لئے اس کا نزول بھی اسی شب میں ہوا۔
Read the full tafseer →اسی رات ایک رسول مبعوت کرنے کا حکم ہمارے ہاں طے تھا۔
5 ؎ ظاہر ہے کہ جب نبی اعظم وآخر ﷺ کو دوسرے انبیاء رسل بنائے جانے کی طرح رسول اور نبی بناکر بھیجا گیا اور اسی رات کو آپ ﷺ نے جبریل کو دیکھا اور اس نے آپ ﷺ سے مخاطب ہو کر اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا اور یہ سلسلہ بنام الٰہی شروع ہوا اور آپ ﷺ کو رسول بنادیا گا تو دوسرے سارے کاموں کی طرح اس کام کا فیصلہ بھی علم الٰہی میں پہلے سے موجود تھا اور پھر جب اس کے اظہار ہونے کا وقت آیا تو اس کو ظاہر کردیا گیا اور رب ذوالجلال والاکرام جو آدم (علیہ السلام) سے لے کر عیسیٰ (علیہ السلام) تک نبی ورسول بھیجتا رہا اس نے اپنا آخری رسول محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–10
لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ 'blessed night', in verse 2 according to majority of the Commentators, refers to 'laylatul Qadr' or the 'Night of Power' which occurs in the last ten nights of the month of Ramadan. During this night Allah sends down countless blessings for his slaves/servants. It has been explicitly mentioned in Surah Al-Qadr, thus:
إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ
"We sent it (the Qur'an) down in the Night of Qadr". (97:1)
This clearly indicates that the phrase 'laylah mubarakah' (blessed night) occurring in the verse refers to the 'Night of Power'. It is narrated in a…
Read the full tafseer →3 In Surah AI-Qadr, this same thing has been expressed thus: `The angels and the Spirit (Angel Gabriel) descend in it with every decree, by the leave of their Lord." This shows that it is such a Night in the Divine administration of Allah in which He decides the destinies of the individuals and nations and countries and entrusts His decisions to His angels, who then implement them accordingly. Some commentators among whom Hadrat `Ikrimah is most prominent, have been involved in the misunderstanding that this is the 15th night of Sha'ban, for in some traditions it has been said that the…
Read the full tafseer →