Explained with ayahs 3–8
عظیم الشان قرآن کریم کا نزول اور ماہ شعبان
اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس عظیم الشان قرآن کریم کو بابرکت رات یعنی لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ جیسے ارشاد ہے آیت (اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ښ) 97۔ القدر :1) ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ اور یہ رات رمضان المبارک میں ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے (شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ01805) 2۔ البقرة :185) رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔ سورة بقرہ میں اس کی پوری تفسیر گذر چکی ہے اس لئے یہاں دوبارہ نہیں لکھتے بعض لوگوں…
Read the full tafseer →سورة الدُّخَان 2
اصل میں لفظ " اَمْرٍ حَکِیْم " استعمال ہوا ہے جس کے دو معنی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ حکم سراسر حکمت پر مبنی ہوتا ہے، کسی غلطی یا خامی کا اس میں کوئی امکان نہیں۔ دوسرے یہ کہ وہ ایک پختہ اور محکم فیصلہ ہوتا ہے، اسے بدل دینا کسی کے بس میں نہیں۔
سورة الدُّخَان 3
سورة قدر میں یہی مضمون اس طرح بیان کیا گیا ہے تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَالرُّوْحُ فِیْھَا بِاِذْنِ رَبِّھِمْ مِنْ کُلِّ اَمْرٍ ، " اس رات ملائکہ اور جبریل اپنے رب کے اذن سے ہر طرح کا حکم لے کر اترتے ہیں۔ " اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے شاہی نظم و نسق میں یہ ایک ایسی رات ہے جس میں وہ افراد اور قوموں اور ملکوں کی قسمتوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
(آیت) لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ سے مراد جمہور مفسرین کے نزدیک شب قدر ہے جو رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں ہوتی ہے۔ اس رات کو مبارک فرمانا اس لئے ہے کہ اس رات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر بیشمار خیرات و برکات نازل ہوتی ہیں اور قرآن کریم کا شب قدر میں نازل ہونا قرآن کی سورة قدر میں تصریح کے ساتھ آیا ہے۔ (آیت) انا انزلنہ فی لیلة القدر، اس سے ظاہر ہوا کہ یہاں بھی لیلة مبارکہ سے مراد شب قدر ہی ہے۔ اور ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ سے یہ بھی منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی کتابیں ابتداء دنیا سے آخر تک اپنے انبیاء (علیہم السلام) پر نازل فرمائی ہیں وہ سب کی سب ماہ رمضان المبارک ہی کی مختلف تاریخوں…
Read the full tafseer →فیھا یفرق کل امر حکیم (4)
مخاطبوں کو ایک تنبیہ
یہ اسی شب مبارک کی تعریف ہے کہ اس میں تمام مبنی بر حکمت امور کی تقسیم ہوتی ہے۔ اس آیت کو اگر سورة قدر کی روشنی میں دیکھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس رات میں اللہ تعالیٰ اپنے ملائکہ مقربین کو زمین سے متعلق تمام امور کلیہ سے آگاہ فرماتا ہے اور وہ ان سے زمین میں مامور ملائکہ کو آگاہ کرنے میں اللہ تعالیٰ کے مقرر کئے ہوئے نقشہ کے مطابق اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔
امر کے ساتھ حکیم کی صفت اس حقیقت کے اظہار کے لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم بھی حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ وہ کسی قوم پر عذاب نازل کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ بھی اس کے عدل و حکمت پر مبنی ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
5۔ 1 یعنی سارے فیصلے ہمارے حکم و اذن اور ہماری تقدیر و مشیت سے ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →2: اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سال میں جو اہم واقعات ہونے والے ہوتے ہیں مثلاً یہ کہ فلاں شخص پیدا ہوگا، اسے اتنا رزق دیا جائے گا، فلاں کا انتقال ہوگا، یہ ساری باتیں عملی تنفیذ کے لیے متعلقہ فرشتوں کے حوالے کردی جاتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
درس نمبر 234 تشریح آیات
1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 59
آیت نمبر 1 تا 8
آغاز دو حروف سے ہوتا ہے حا۔ میم۔ اور دونوں کی قسم اٹھائی جاتی ہے اور پھر کتاب مبین کی بھی قسم اٹھائی جاتی ہے جو ایسے ہی حروف تہجی سے مرکب ہے۔ ان کے بارے میں سورتوں کے آغاز میں ہم بار ہا بات کرچکے ہیں۔ پھر ان حروف کی بھی اسی طرح قسم اٹھائی گئی جس طرح کتاب مبین کی قسم اٹھائی گئی۔ کتاب مبین کی اہمیت مسلم مگر ان حروف کی اہمیت کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر حرف بھی ایک معجزہ اور نشانی ہے اور ہر حرف انسان کی زبان کی ساخت کی نشانی ہے اور پھر کس انداز سے زبان اپنے مخرج سے اس حرج و صوت کو نکالتی ہے ، پھر ان حروف کے مخارج کی ترتیب پھر ہر حرف کے نام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
3 یعنی سال بھر کے متعلق قضاء و قدر کے حکیمانہ اور اٹل فیصلے اسی عظیم الشان رات میں " لوح محفوظ " سے نقل کر کے ان فرشتوں کے حوالہ کیے جاتے ہیں جو شعبہ ہائے تکوینیات میں کام کرنے والے ہیں۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شعبان کی پندرھویں رات ہے جسے شب برات کہتے ہیں۔ ممکن ہے وہاں سے اس کام کی ابتداء اور شب قدر پر انتہاء ہوئی ہو۔ واللہ اعلم۔4 یعنی فرشتوں کو ہر کام پر جو ان کے مناسب ہو۔ چناچہ جبرائیل کو قرآن دے کر محمد رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا۔
Read the full tafseer →آیت 4 { فِیْہَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِیْمٍ } ”اس رات میں تمام ُ پر حکمت امور کے فیصلے صادر کیے جاتے ہیں۔“
اس سے پہلے ہم سورة السجدۃ میں پڑھ چکے ہیں کہ تدبیر ِکائنات کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کی منصوبہ بندی ایک ہزار سال کی ہوتی ہے : { یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآئِ اِلَی الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٓٗ اَلْفَ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ۔ ”وہ تدبیر کرتا ہے اپنے امر کی آسمان سے زمین کی طرف ‘ پھر وہ امر چڑھتا ہے اس کی طرف ‘ یہ سارا معاملہ طے پاتا ہے ایک دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی کے حساب سے ایک ہزار برس ہے“۔ البتہ انسانی معاملات کے حوالے سے یہ رات لیلہ…
Read the full tafseer →3 لیلۃ القدر کو کس قسم کے فیصلے ہوتے ہیں ؟:۔ یعنی جس رات قرآن کا نزول ہوا اس رات آئندہ سال میں دنیا پر واقع ہونے والے اہم امور کے نہایت ٹھوس اور پائیدار فیصلے کرکے فرشتوں کے حوالہ کردیئے جاتے ہیں۔ اور یہ فیصلے سراسر حکمت پر مبنی ہوتے ہیں اور اسی مضمون کو سورة القدر میں یوں بیان فرمایا کہ اس رات ملائکہ اور جبرئیل اپنے پروردگار کے اذن سے ہر طرح کا حکم لے کر اترتے ہیں (97: 4) اس آیت سے معلوم ہوا کہ کائنات کے نظم و نسق کے بارے میں یہ ایک ایسی رات ہے جس میں اللہ تعالیٰ افراد، اقوام اور ملکوں کی قسمتوں کے فیصلے کرکے اپنے فرشتوں کے حوالہ کردیتا ہے۔ پھر وہ انہی فیصلوں کے مطابق عملدرآمد کرتے رہتے ہیں۔…
Read the full tafseer →3۔ یعنی مشیت تکوینی جس طر پر جس کام کی انجام وہی منظور ہوتی ہے وہ اسی متعین طور پر ملائکہ متعلقہ کے سپرد کردیا جاتا ہے۔ بشری حساب وتخمینہ کے حساب سے ایک سال کی مدت کے لئے۔ وھکذا روی عن ابن عمر و مجاھد وابن مالک والضحاک وغیر واحد من السلف (ابن کثیر) (آیت) ” حکیم “۔ کے معنی پر حکمت کے ہیں۔ یجوز ان یکون المعنی کل امر متلبس بالحکمۃ (روح) (آیت) ” کل امر حکیم “۔ ہر حکمت والے معاملے سے یہ مراد نہیں کہ کچھ معاملے حکمت والے نہیں ہوتے، ہاحکمت تو سب ہی معاملات ہوتے ہیں۔ حکیم کی قید، قید واقعی ہے۔ (آیت) ” حکیم “۔ کے دوسرے معنی محکم ومضبوط کے ہیں۔ ووضع حکیم موضع محکم (ابن جریر) الامور الحکمۃ (بیضاوی)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
آیت نمبر 1 تا 29
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اللہ کی کیا مراد ہے ؟ وہی بہتر جانتا ہے قسم ہے واضح کتاب قرآن کی جو حلال کو حرام سے ممتاز کرنے والی ہے، یقیناً ہم نے اس کو بابرکت رات میں نازل کیا ہے اور وہ شب قدر یا شب نصف شعبان ہے، اسی رات میں قرآن کو ساتویں آسمان پر موجود لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا، بیشک ہم اس کے ذریعہ ڈرانے والے ہیں، اسی رات یعنی شب قدر یا شب نصف شعبان میں ہر محکم کام کا مثلاً روزی، موت وغیرہ جو اس سال اسی جیسی (آئندہ) رات تک ہونے والے ہوتے ہیں فیصلہ کیا جاتا ہے، ہمارے پاس سے حکم صادر ہو کر ہم ہی ہیں رسول بنا کر…
Read the full tafseer →فیھا یفرق کل امر حکیم اس رات میں ہر پر حکمت یا محکم معاملے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
آیت بتارہی ہے کہ قرآن شب قدر کی برکات میں بہت بڑی برکت ہے اور شب قدر میں پر حکمت محکم امور کا فیصلہ ہوتا ہے ‘ اسلئے قرآن کا نزول بھی اسی رات میں ہوا۔
حضڑت ابن عباس کا بیان ہے کہ شب قدر میں آئندہ سال میں ہونے والے تمام واقعات لوح محفوظ سے نقل کر لئے جاتے ہیں۔ خیر و شر ‘ رزق اور میعاد زندگی یعنی موت ‘ یہاں تک کہ یہ بھی لکھ لیا جاتا ہے کہ فلاں شخص اس سال حج کرے گا۔
حسن ‘ مجاہد اور قتادہ نے کہا : ماہ رمضان کے اندر شب قدر میں ہر (ایک کی) موت ‘ عمل پیدائش ‘ رزق اور آئندہ سال کے اندر ہونے والے واقعات کا قطعی فیصلہ کردیا…
Read the full tafseer →اس شب قدر میں ہر ایک حکمت والا معاملہ پورے سال کے لیے ہماری پیشی سے حکم صادر ہو کر طے کیا جاتا ہے جبریل، میکائیل، اسرافیل اور ملک الموت جو کہ پورے سال کے کاموں پر مقرر ہیں ہم ان پر یہ حکم طے شدہ صادر کردیتے ہیں۔
Read the full tafseer →فیما یفرق کل امر حکیم :”فرق“ کا معنی فیصلہ ہے، اسی لئے قرآن کو ”فرقان“ کہا جاتا ہے۔”حکیم“ کے مفہوم میں دو باتیں شامل ہیں، ایک یہ کہ وہ حکم حکمت اور دانائی پر مبنی ہوتا ہے، اس میں کسی غلطی یا خامی کا امکان نہیں ہوتا۔ دوسری یہ کہ وہ حکم محکم اور پختہ ہوتا ہے جسے کوئی بدلن ہیں سکتا۔ یعنی ہم نے اسے خصا طور پر اس بابرکت رات میں اس لئے نازل کیا کہ یہ قرآن ایک امر حکیم ہے اور اسی رات میں ہر امر حکیم کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ سورة قدر میں یہی مضمون ان الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ (تنزل الملئکۃ والروح فیھا باذن ربھم من کل امر) (القدر : 3)”اس میں فرشتے اور روح (جبریل امین) اپنے رب کے حکم سے ہر امر کے متعلق اترتے…
Read the full tafseer →حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اللہ تعالیٰ دنیا کے امور کا اگلی لیلۃ القدر تک فیصلہ فرما دیتا ہے وہ چیز زندگی سے متعلق ہو، موت سے متعلق ہو، یا رزق سے متعلق ہو (2) یہ قتادہ، مجاہد، حضرت حسن بصری اور دوسرے علماء کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مگر بدبختی اور سعادت مندی، کیونکہ یہ دونوں چیزیں تبدیل نہیں ہوتیں، یہ حضرت ابن عمر ؓ کا قول ہے۔ (3) مہدوی نے کہا : اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ جو کچھ اس سال میں ہوگا اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتا ہے۔ عکرمہ نے کہا : یہ شعبان کی نصف کی رات ہے جس میں سال بھر کے امور کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ مردوں سے زندوں کو لکھ لیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انا انزلنہ فی لیلۃ مبرکۃ “ (کہ ہم نے اس کو مبارک رات میں نازل کیا) یعنی قرآن لیلۃ القدر میں نازل کیا گیا پھر جبرائیل (علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ پر لوگوں کی باتوں کے جواب میں آیت در آیت کی صورت میں نازل کرتے رہے۔
2:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انا انزلنہ فی لیلۃ مبرکۃ “ سے مراد ہے لیلۃ القدر۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابو الجلد (رح) سے روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا صحیفہ رمضان کی پہلی رات میں نازل ہوا اور انجیل رمضان کی اٹھارویں رات گزرنے پر نازل ہوا اور یہ فرقان (یعنی قرآن مجید) رمضان کی چوبیس…
Read the full tafseer →فِيْهَا يُفْرَقُ [ اس (رات) میں جدا جدا کیے جاتے ہیں ] كُلُّ اَمْرٍ حَكِيْمٍ [ تمام حکمت والے کام ]
Read the full tafseer →﴿فِيْهَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِيْمٍۙ004﴾ اس رات میں ہر امر حکیم کا فیصلہ کردیا جاتا ہے۔ صاحب معالم التنزیل نے حکیم کو محکم کے معنی میں لیا ہے اور حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ شب قدر میں ام الکتاب (لوح محفوظ) سے وہ چیزیں علیحدہ کرکے لکھ دی جاتی ہیں جو آئندہ پورے سال میں وجود میں آئیں گی۔ خیر اور شر اور ارزاق و آجال سب کچھ لکھ دئیے جاتے ہیں حتیٰ کہ یہ بھی لکھ دیا جاتا ہے کہ فلاں فلاں شخص حج کرے گا اور علیحدہ لکھ کر تکوین الٰہی کے مطابق کام کرنے والوں یعنی فرشتوں کے حوالہ کردیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
بیان عظمت کتاب اللہ وبرکات زمانہ نزول قرآن مع دعوت ایمان وبدنصیبی محرومین واشقیاء از سعادت خداوندی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” حم والکتب المبین ...... الی ....... انا منتقمون “۔
(ربط) گزشتہ سورتک مضمون توحید و رسالت کا اثبات تھا اور اس سے اختلاف واعراض کرنے والے مجرمین کی بدنصیبی کا ذکر کرتے ہوئے ان کے افسوس ناک عبرت ناک انجام کا بیان تھا اور اسی موضوع پر سورت کا مضمون ختم فرما دیا گیا تھا کہ اگر ان واقعات کو سن کر بھی قریش کے لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کو سوچ لینا چاہئے کہ ایسا ہی عبرت ناک انجام ان کا بھی ہوگا، ساتھ ہی آپ ﷺ کو تسلی دینا بھی مقصود تھا کہ قریش مکہ کی مخالفت ودشمنی…
Read the full tafseer →4:۔ ” فیہا یفرق “ اس رات میں ہر اہم معاملہ مثلاً آجال موت، ارزاق وغیرہ قحط اہل مکہ اور جنگ بدر میں ان کی رسوائی بھی ایسے امور میں داخل ہے ایسے اہم امور جو پہلے ہی سے اس سال کے لیے مقدر ہوتے ہیں وہ ان فرشتوں پر ظاہر کردئیے اور انہیں لکھوا دئیے جاتے ہیں جن کے وہ فرائض ہوں۔ ومعنی یفرق یفصل ویکتب کل امر من ارزاق العباد وآجالہم (مدارک ج 4 ص 97) ۔ ومعنی ھذا ان اللہ یظہر لملائکتہ یامرہم بفعل ماھو من وظیفتہم بان یکتب لھم ماقدرہ فی تلک السنۃ ویعرفہم ایاہ (خازن ج 7 ص 271، القدر) ۔ صرف بڑے بڑے امور ملائکہ کے حوالے کیے جاتے ہیں تمام امور چھوٹے بڑے امور مراد نہیں، کیونکہ فرشتوں کو تمام امور کا علم نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نامہ سورة الدخان ہے۔ یہ نام اس کی آیت 100 میں آمدہ لفظ دخان سے ماخوذ ہے۔ عربی زبان میں دخان دھوئیں کھتے ہیں اور یہ دو قسم سے مذکور ہے دسواں نو قحط سالی کا ہوتا ہے اور دوسرا دھواں وہ ہے جو قیامت کی نشانی کے طور پر قرب قیامت میں ظاہر ہوگا۔
یہ سورة حوامیم سبعہ کی پانچویں سورة ہے جو مکی زندگی کے آخری حصہ میں گزشتہ سورة زخرف کے بعد نازل ہوئی اس کی انسٹھ آیات اور تین رکوع ہیں۔ یہ سورة مبارکہ 346 الفاظ اور 431 حروف پر مشتمل ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ جمعہ کی رات یا جمعہ کے دن اس سورة کی تلاوت کا بڑا اجر ہے ۔ آیات دوسری حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص رات کے وقت اس سورة کی تلاوت…
Read the full tafseer →فِيْہَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِيْمٍ 4 ۙ
فرق
الفَرْقُ يقارب الفلق لکن الفلق يقال اعتبارا بالانشقاق، والفرق يقال اعتبارا بالانفصال . قال تعالی: وَإِذْ فَرَقْنا بِكُمُ الْبَحْرَ [ البقرة/ 50] ، والفِرْقُ : القطعة المنفصلة، ومنه : الفِرْقَةُ للجماعة المتفرّدة من النّاس، وقیل : فَرَقُ الصّبح، وفلق الصّبح . قال : فَانْفَلَقَ فَكانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ [ الشعراء/ 63] ،
(ر ق ) الفرق
والفلق کے قریب ایک ہی معنی ہیں لیکن معنی انشقاق یعنی پھٹ جانا کے لحاظ سے فلق کا لفظ بولا جاتا ہے اور مغی انفعال یعنی الگ الگ ہونے کے لحاظ سے فرق قرآن میں ہے : ۔ وَإِذْ فَرَقْنا بِكُمُ الْبَحْرَ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–16
فیہا یفرق کل امرا حکیم امرامن عندنا کہ اس رات میں ہر حکمت کی بات بیان اور ظاہر کی جاتی ہے۔ یعنی جو حوادث دنیا میں ظاہر ہونے والے ہوتے ہیں (جیسا کہ کسی کا مرنا ‘ کسی کا امیر ہونا ‘ کسی کا فقیر ہونا ‘ بیمار و تندرست ہونا ‘ قحط و ارزانی کا ہونا ‘ سلطنت و حکومت کا تبدل و تغیر وغیرہ) ان کو بارگاہ قدس سے ملائکہ مدبران عالم پر ظاہر کیا جاتا ہے گو لوح محفوظ میں روز اول لکھے گئے تھے مگر اس رات میں انتظام عالم کے لیے ایک سال کے حوادث ان کے مدبر اور کارکن ملائکہ پر ظاہر کئے جاتے ہیں تاکہ اس کی تعمیل کریں۔ یہ اس رات کی بڑی عظمت و عزت ہے اس کے یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ عالم ناسوت میں جو معاملات ظہور کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
فِیْھَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍحَکِیْمٍ ۔ اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا ط اِنَّا کُنَّا مُرْسِلِیْنَ ۔ رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَط اِنَّـہٗ ھُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔ (الدخان : 4، 6)
(اس رات میں ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ صادر کیا جاتا ہے۔ ہمارے حکم سے، بیشک ہم رسول بھیجنے والے تھے۔ خاص آپ کے رب کی رحمت سے، یقینا وہی سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ )
لَیْلَۃٍ مُّبٰـرَکَۃٍ کی وضاحت
جس شب میں قرآن اتارا گیا ہے اس شب کی مزید خصوصیت یہ ہے کہ کائنات کے جتنے اہم امور ہیں بالخصوص جن کا تعلق انسانی بھلائی سے ہے ان کے حکیمانہ فیصلے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسی رات میں کیے جاتے ہیں اور سورة القدر کی روشنی میں کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
فہم القرآن
ربط سورت : الزّخرف کا اختتام اس بات پر ہوا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کو خالق کل ماننے کے باوجود اس کی خالص بندگی کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ان سے جھگڑا کرنے کی بجائے آپ ان کو سلام کہہ کر الگ ہوجائیں۔ الدّخان کی ابتداء اس فرمان سے ہوئی کہ ہم نے آپ پر قرآن مجید اس لیے نازل کیا ہے تاکہ ہم اس کے ذریعے کفار اور مشرکین کو ڈرائیں شاید کہ وہ اپنی روش سے باز آجائیں۔
جن سورتوں کی ابتداء میں حٰمٓ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان میں یہ پانچویں سورت ہے۔ حٰمٓ حروف مقطعات میں شمار ہوتے ہیں۔ جن کے بارے میں ہر صاحب علم جانتا ہے کہ ان کا معنٰی اور مفہوم نبی ﷺ نے بیان نہیں فرمایا اور نہ صحابہ کرام نے ان کا…
Read the full tafseer →قرآن خود امر حکیم سے ہے :
آیت 4 : فِیْہَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِیْمٍ (اسی رات میں ہر حکمت والا معاملہ طے کیا جاتا ہے) یہ اکٹھے دو جملے مستانفے ہیں۔ جن سے جواب قسم کی تفسیر کی گئی ہے۔ گویا اس طرح فرمایا۔ ہم نے اس کو اتارا کیونکہ ہماری شان انذار اور عقاب سے خبردار کرنا ہے۔ اور ہمارا قرآن مجید کو خصوصًا اس رات میں اتارنا کیونکہ انزال قرآن امور حکیمہ میں سے ہے۔ اور یہ رات ہر امر حکیمی کو جدا کرنے والی ہے اور یفرق کا معنی جدا کرنا اور لکھنا ہے۔ کل امر۔ سے بندوں کے ارزاق ٗ ان کی مدت عمر اور اس رات سے لے کر آئندہ رات پیش آنے والے معاملات مراد ہیں۔ حکیم۔ حکمت والے۔ اس طرح کئے جاتے ہیں جن کا حکمت…
Read the full tafseer →(3) انا انزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ، قتادہ اور ابن زید رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ وہ لیلۃ القد رہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو لیلۃ القدر میں ام الکتاب سے اسمان دنیا کی طرف اتارا۔ پھر جبرئیل (علیہ السلام) تھوڑا تھوڑا کرکے بیس سال نبی کریم ﷺ پرلے کر اترے اور دیگر حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ شعبان کی پندرہ کی رات ہے۔ قاسم بن محمد اپنے والد یاچچا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں رات کو آسمان دنیا کی طرف اترتے ہیں۔ پس ہر نفس کی مغفرت کرتے ہیں ، سوائے اس انسان کے جس کے دل میں بغض ہو یا اللہ کے ساتھ شرک کرنے والاہو۔ ، اناکنا منذرین،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1۔ 16۔ حم و الکتب المبین کی تفسیر سورة الزحزف کے شروع میں گزر چکی ہے جس برکت والی رات کا ذکر ان آیتوں میں ہے اگرچہ بعض فسروں نے لکھا ہے کہ یہ برکت والی رات شعبان کی پندرھویں رات ہے لیکن یہ قول شھر رمضان الذی انزل فیہ القران کے مخالف ہے صحیح وہی حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے جس کو نسائی 1 ؎ اور حاکم وغیرہ نے معتبر سند سے روایت کیا ہے کہ شب قدر میں ایک دفعہ سارا قرآن لوح محفوظ سے اول آسمان پر نازل ہوا پھر ہر ایک موقع پر ہر ایک آیت حضرت جبرئیل آنحضرت ﷺ کے پاس تشریف لائے۔ صحیح بخاری 2 ؎ میں حضرت عائشہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس سے جو روایتیں ہیں۔ ان میں اللہ کے رسول ﷺ نے یہ صاف جتلا دیا ہے کہ شب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
آیت 1
یہ قرآن پر قرآن ہی کی قسم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی جو ہر اس چیز کے لئے ہے جس کے بیان کی حاجت ہے۔ بیشک وہ اتاری گئی ہے (فی لیلۃ مبرکۃ) یعنی خیر کثیر اور بکت والی رات میں، اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ یقیناً اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین کلام کو سب راتوں اور دنوں سے افضل رات میں مخلوق میں سے افضل ہستی پر معززین اہل عرب کی زبان میں نازل فرمایا ات کہ اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو ڈرائے جنہیں جہالت نے اندھا کر رکھا ہے اور بدبختی ان پر غالب آچکی ہے۔ پس وہ اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اس کی ہدایت کو اختیار کریں اور اس کے پیچھے چلیں، اس طرح انہیں…
Read the full tafseer →4 نزول قرآن کی رات فیصلے کی رات : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس میں فیصلہ کیا جاتا ہے ہر حکمت والے کام کا "۔ یعنی اگلے سال تک کے لئے بندوں کی روزی اور زندگی و موت وغیرہ کے تمام اہم معاملات لوح محفوظ سے اتار کر متعلقہ فرشتوں کے حوالے کر دئے جاتے ہیں۔ تاکہ وہ اس کے مطابق ان کی تنفیذ کی خدمت انجام دیے سکیں۔ (خازن، مدارک، جامع البیان وغیرہ) ۔ اس آیت کریمہ اور سورة قدر کو ملا کر دیکھنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس رات میں اللہ تعالیٰ اپنے ملائکہ و مقربین کو زمین سے متعلق تمام امور کلیہ سے آگاہ فرما دیتا ہے۔ اور وہ ان سے زمین میں مامور ملائکہ کو آگاہ کرنے میں اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے نقشے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
قرآن سچ ہے اور اس کے علاہ سب غلط ہے
تشریح : ان تمام آیات میں اللہ کی ان تدابیر کا ذکر کیا گیا ہے جو اس نے کائنات کے لیے مرتب کر رکھی ہیں۔ مثلاً میجر جنرل غلام محمد ملک صاحب اس کی بڑے خوبصورت انداز میں یوں وضاحت کرتے ہیں : فلسفہ تاریخ جس طرح سیاسی واقعات کی تکرار اور حوادث کے بار بار اعادہ سے اصول اور نتائج تک پہنچ کر ایک عام تاریخی قانون بنا لیتا ہے اسی طرح انبیاء علیھم السلام کے سوانح اور تاریخیں بھی اپنے واقعات کے بار بار اعادہ سے خصائصِ نبوت کا اصول قانون ہمارے لیے مرتب کرتی ہے۔ پیغمبرانہ تاریخ کے انہی اصول و قوانین میں سے ایک یہ ہے کہ نبی جب اپنے کمال انسانیت کو پہنچ کر فیضان نبوت کے قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
آیات 1 تا 29۔
اسرار ومعارف۔
حم۔ اس کتاب واضح کی قسم ہے یعنی یہ دلائل سے حق کو واضح کردینے والی کتاب اس پر گواہ ہے جسے ہم نے ایک بہت بابرکت شب کو لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل فرمایا کہ اس کے نزول سے مراد مخلوق کو صحیح راہ عمل دکھانا اور اعمال بد کے بد انجام سے بروقت خبر دینا ہے کہ وہ اپنی راہ متعین کرسکیں
لیلہ مبارکہ :
لیلہ مبارکہ سے مراد مفسرین کرام سے لیلۃ القدر ہے کہ قرآن کریم کی دوسری آیات سے اس کی تعیین ہوجاتی ہے نیز نزول قران رمضان المبارک ہی میں ہوا اور جو بات نصف شعبان کی شب کے بارے مشہور ہے ، اس کی سندیں ضعیف ہیں اس لیے اکثر علماء نے اسے قبول نہیں کیا ، اور بعض نے اس کی فضیلت اس…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی سال بھر میں جو بڑے بڑے کام سر انجام پانے ہوتے ہیں ان کا آخری فیصلہ کردیا جاتا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ نصف شعبان کی رات دوسرے شعبان تک لوگوں کی عمر کا فیصلہ کردیا جاتا ہے۔ اس کے پیش نظر بعض مفسرین (رح) نے اس سے شعبان کی پندرھویں رات مراد لی ہیں جو عمواماً شب برأت کے نام سے مشہور ہے مگر یہ روایت مرسل ہے۔ ( ابن کثیر) قاضی ابوبکر ابن العربی لکھتے ہیں کہ شعبان کی پندرہویں رات سے متعلق کوئی رعایت قابل اعتماد نہیں ہے نہ اس کی فضلیت کے بارے میں اور نہ اس بارے میں کہ اس رات قسمتوں کے فیصلے ہوتے ہیں۔ ( احکام القرآن)
Read the full tafseer →(44:4) فیہا یفرق کل امر حکیم : یہ اس رات کی دوسری خصوصیت اور برکت ہے کہ ہر اہم کام کا اس رات فیصلہ کیا جاتا ہے۔
فیہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب لیلۃ مبارکۃ کی طرف راجع ہے۔ یفرق مضارع مجہول واحد مذکر غائب ۔ فوق باب نصر۔ مصدر۔ وہ فیصلہ کیا جاتا ہے۔ اس کی تفصیل الگ الگ بیان کردی جاتی ہے۔
کل امر حکیم : کل مضاف امر حکیم : موصوف و صفت مل کر مضاف الیہ مضاف مضاف الیہ مل کر یفرق کا مفعول مالم یسم فاعلہ۔ فیہا یفرق کل امر حکیم اس رات ہر امر حکیم فیصل کیا جاتا ہے۔
فرق مادہ سے جملہ مشتقات میں الگ الگ ہونے یا الگ الگ کرنے کے معنی پائے جاتے ہیں۔ مثلا آیت ہذا میں ہر امر حکیم کے فیصل ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 16 : لیلۃ مبارکۃ (برکت والی رات) یفرق (وہ جدا کردیتا ہے، الگ کردیتا ہے) امر حکیم ( حکمت بھرا فیصلہ) ارتقب (تو انتظارکر ، راہ دیکھ) دخان ( دھواں) یغشی (وہ ڈھانپ لے گا) معلم ( پڑھایا گیا) عائدون ( وہ لوٹنے والے ہیں) البطشۃ (سخت پکڑ)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 16 : قرآن کریم میں سات سورتیں وہ ہیں جن کی ابتداء ” حم ‘ ‘ سے کی گئی ہے۔ احادیث میں ان سات سورتوں کے بہت سے فضائل بیان کئے گئے ہیں ۔ ان ہی میں سے یہ پانچویں سورت ہے۔
” حا۔ میم “ حروف مقطعات میں سے ہیں جن کی تفصیل اس سے پہلی سورتوں میں بیان کردی گئی ہے۔ علماء مفسرین نے بیان کیا ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
(ف 1) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف کی قسم کھاکرفرماتا ہے کہ یہ قرآن حلال و حرام وغیرہ احکام کا بیان فرمانے والا ہے ، اور یہ قرآن اللہ کا کلام ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے پہلے شب قدر میں لوح محفوظ سے آسمان دنیا کی طرف اتارا پھر وہاں سے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تئیس سال کے عرصہ میں تھوڑا تھوڑا لے کر نازل ہوئے، اس شب کو شب مبارکہ اس لیے فرمایا گیا کہ اس میں قرآن پاک نازل ہوا، اور ہمیشہ اس شب میں خیروبرکت نازل ہوتی ہے دعائیں قبول کی جاتی ہیں اور اس مبارک رات میں ہر امر جو تقدیر میں ہوچکا ہوتا ہے الگ کرلیاجاتا ہے یعنی ایک سال کے حساب کتاب کا دفتر الگ بن جاتا ہے ، حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
[3] یعنی اللہ تعالیٰ کی اسکیم میں یہ بات پہلے سے طے تھی کہ وہ آپ کو پیغمبر بنا کر بھیجے گا اور یہ فیصلہ بھی اس رات میں ہوا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
جس طرح بیت اللہ کو تمام اماکن مقدسہ پر فضیلت حاصل ہے اس کے ساتھ کچھ انوار اور سعادتیں مختص ہیں اور کہیں نہیں پائی جاتیں ۔ پھر جس طرح شخصیتوں کے مراتب میں تفاوت ہے حضور ﷺ کو وہ مقام رفیع حاصل ہے ۔ جو ابد تک کسی انسان کی قسمت میں نہیں ہوسکتا اسی طرح کچھ دن اور کچھ راتیں ایسی ہیں ۔ جو بیحد برکات کی حامل ہیں ۔ ان میں لیلۃ القدر کا رتبہ سب سے زیادہ ہے ۔ یہ وہ مبارک رات ہے جس میں قرآن نازل ہوا ۔ اور انسانوں کو آخری پیغام رشدوہدایت دیا گیا ۔ جس میں انسانی فلاح و بہبود کا پورا انتظام ہے ۔ اور اس کے ارتقاء ارتفاع کے لئے ایک آخری پروگرام تجویز کیا گیا ۔ یہ وہ رات ہے جس میں کائنات کے لئے فرائض کو تفریض…
Read the full tafseer →(4) اس برکت والی رات میں ہر مبنی برحکمت کام طے کردیا جاتا ہے۔ یعنی ہر معاملہ میں جو حکمت کا مقتضی ہے اور مبنی برحکمت ہے اس کا فیصلہ کردیا جاتا ہے امر کے ساتھ جو حکیم کی قید لگائی وہ واقعی ہے یعنی ہر کام حکمت والا ہے آگے طے ہونے اور فیصلہ ہونے کی شکل بیان فرمائی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جدا ہوتا ہے یعنی لوح محفوظ میں سے جدا کرکے اس کام والوں کو لکھ دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ف 3۔ یعنی سال بھر کے معاملات ہیں کہ سب ہی باحکمت ہیں جس طور پر اللہ تعالیٰ کو کرنا منظور ہے، اس طور کو متعین کر کے اور ان کی اطلاع کا رکن ملائکہ کو کر کے ان کے سپرد کردیئے جاتے ہیں، چونکہ وہ رات ایسی ہے اور قرآن سب سے زیادہ امر حکیم تھا اس لئے اس کا نزول بھی اسی شب میں ہوا۔
Read the full tafseer →اس رات کو ہم نے ہر ایک اہم معاملہ کا فیصلہ کردیا
4 ؎ ( امر حکیم) کے متعلق بھی مفسرین میں بہت بحث چلی ہے اور انجام کام یہ کہا گیا ہے کہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ شب قدر میں آئندہ سال میں ہونے والے تمام کام لوح محفوظ سے نقل کرلیے جاتے ہیں۔ خیروشر ، رزق اور معیار زندگی وغیرہ یہاں تک کہ یہ بھی لکھ لیا جاتا ہے کہ فلاں شخص اس سال یہ یہ کام کرے گا جیسے حج وغیرہ۔ لوح محفوظ کیا ہے ؟ ایک استعارہ ہے جو محض اس لیے بولا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم ازلی ہے جو ہرچیز پر محیط ہے اور علم الٰہی میں کوئی ردوبدل نہیں ہوسکتا اس لیے کہ جن باتوں کا اس نے اعلان کیا ہے ان میں سے ایک بھی ایسی نہیں جو من وعن اسی طرح نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–10
لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ 'blessed night', in verse 2 according to majority of the Commentators, refers to 'laylatul Qadr' or the 'Night of Power' which occurs in the last ten nights of the month of Ramadan. During this night Allah sends down countless blessings for his slaves/servants. It has been explicitly mentioned in Surah Al-Qadr, thus:
إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ
"We sent it (the Qur'an) down in the Night of Qadr". (97:1)
This clearly indicates that the phrase 'laylah mubarakah' (blessed night) occurring in the verse refers to the 'Night of Power'. It is narrated in a…
Read the full tafseer →2 The word amr-in-,hakim as used in the Text has two meanings: (1) That the Command is wholly based on wisdom: there is no likelihood of any error or weakness in it; and (2) that it is a firm and stable decision: it lies in no one's power to change it.
Read the full tafseer →