Ad-Dukhaan 44:3

Ad-Dukhaan · from ayah 3

44:3

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِیْنَ ۟اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰهُ فِىۡ لَيۡلَةٍ مُّبٰـرَكَةٍ‌ اِنَّا كُنَّا مُنۡذِرِيۡنَ

کہ ہم نے اس کو مبارک رات میں نازل فرمایا ہم تو رستہ دکھانے والے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, We sent it down during a blessed night. Indeed, We were to warn [mankind].

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Ad-Dukhaan

All translations of 44:3

کہ ہم نے اِسے ایک بڑی خیر و برکت والی رات میں نازل کیا ہے، کیونکہ ہم لوگوں کو متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہ ہم نے اس کو مبارک رات میں نازل فرمایا ہم تو رستہ دکھانے والے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً ہم نے اسے بابرکت رات میں اتارا ہے بیشک ہم ڈرانے والے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہ ہم نے اسے ایک مبارک رات میں اتارا ہے۔ (کیونکہ) ہم لوگوں کو خبردار کرنے والے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک ہم نے اسے برکت والی رات میں اتارا بیشک ہم ڈر سنانے والے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں اتارا ہے بیشک ہم ڈر سنانے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک ہم نے اسے ایک بہت برکت والی رات میں اتارا، بیشک ہم ڈرانے والے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کہ ہم نے اسے خیر و برکت والی رات میں نازل کیا ہے کیونکہ ہمیں بلاشبہ اس سے ڈرانا مقصود تھا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک اس کو ہم نے ایک مبارک رات میں اتارا ہے۔ بیشک ہم لوگوں کو آگاہ کردینے والے تھے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ ہم نے ہی اتارا ہے اس (کتاب حکیم) کو ایک بڑی ہی بابرکت رات میں کہ ہمیں بہرحال خبردار کرنا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

ہم نے اس کو ایک برکت والی رات میں اتارا ہے۔ (کیونکہ) ہم (بندوں کو) خبردار کردینے والے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا ہم نے اس کو نازل کیا ہے ایک مبارک رات میں یقینا ہم خبردار کردینے والے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہ ہم نے اس کو مبارک رات میں نازل فرمایا بیشک ہم تو ڈرانے والے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

We revealed it on a Blessed Night, for We were intent on warning;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We have sent it down in a blessed night, (because) We had to warn (people).

— Muhammad Taqi Usmani

We have sent it down in a blessed night, (because) We had to warn (people).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

We sent it down on a blessed night. Verily, We are ever warning.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! We revealed it on a blessed night - Lo! We are ever warning -

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, We sent it down during a blessed night. Indeed, We were to warn [mankind].

— Saheeh International

that We have revealed the Quran on a blessed night to warn mankind.

— Muhammad Sarwar

Surely We revealed it on a blessed night surely We are ever warning--

— Muhammad Habib Shakir

Verily We have sent it down on a blessed night, verily We were to become warners.

— Abdul Majid Daryabadi

We sent it down during a Blessed Night: for We (ever) wish to warn (against Evil).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 44:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 3–8

عظیم الشان قرآن کریم کا نزول اور ماہ شعبان اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس عظیم الشان قرآن کریم کو بابرکت رات یعنی لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ جیسے ارشاد ہے آیت (اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ښ) 97۔ القدر :1) ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ اور یہ رات رمضان المبارک میں ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے (شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ01805) 2۔ البقرة :185) رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔ سورة بقرہ میں اس کی پوری تفسیر گذر چکی ہے اس لئے یہاں دوبارہ نہیں لکھتے بعض لوگوں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–3

سورة الدُّخَان 1 کتاب مبین کی قسم کھانے کا مطلب سورة زخرف 1 میں بیان کیا جا چکا ہے۔ یہاں بھی قسم جس بات پر کھائی ہے وہ یہ ہے کہ اس کتاب کے مصنف محمد ﷺ نہیں ہیں بلکہ " ہم " ہیں، اور اس کا ثبوت کہیں اور ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں، خود یہ کتاب ہی اس کے ثبوت کے لیے کافی ہے۔ اس کے بعد مزید بات یہ فرمائی گئی کہ وہ بڑی خیر و برکت والی رات تھی جس میں اسے نازل کیا گیا۔ یعنی نادان لوگ، جنہیں اپنی بھلائی برائی کا شعور نہیں ہے، اس کتاب کی آمد کو اپنے لیے بلائے ناگہانی سمجھ رہے ہیں اور اس سے پیچھا چھڑانے کی فکر میں غلطاں و پیچاں ہیں۔ لیکن در حقیقت ان کے لیے اور تمام نوع انسانی کے لیے وہ ساعت بڑی سعید تھی جب "…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–9

(آیت) لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ سے مراد جمہور مفسرین کے نزدیک شب قدر ہے جو رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں ہوتی ہے۔ اس رات کو مبارک فرمانا اس لئے ہے کہ اس رات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر بیشمار خیرات و برکات نازل ہوتی ہیں اور قرآن کریم کا شب قدر میں نازل ہونا قرآن کی سورة قدر میں تصریح کے ساتھ آیا ہے۔ (آیت) انا انزلنہ فی لیلة القدر، اس سے ظاہر ہوا کہ یہاں بھی لیلة مبارکہ سے مراد شب قدر ہی ہے۔ اور ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ سے یہ بھی منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی کتابیں ابتداء دنیا سے آخر تک اپنے انبیاء (علیہم السلام) پر نازل فرمائی ہیں وہ سب کی سب ماہ رمضان المبارک ہی کی مختلف تاریخوں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

انا انزلنہ فی لیلۃ مبارکۃ انا کنامنذرین (3) یہ اس اہتمام خاص کا بیان ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کے اتارنے کے لئے فرمایا۔ مقصود اس اہتمام کے ذکر سے مخاطبوں پر یہ واضح کرنا ہے کہ اس کو کوئی ہنسی مسخری کی چیز یا کسی مذوب کی بڑ نہ سمجھیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم اسکیم کا ایک نہایت عظیم حصہ ہے اور اس کے اتارنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے وہ مبارک شب منتخب فرمائی جو اس کی طرف سے تمام امور حکمت کی تقسیم کے لئے خاص کی ہوئی ہے۔ مقصود اس کے اتارنے سے ان لوگوں کو انذار کرنا ہے جن کے آباء و اجداد کو انذار نہیں کیا گیا تھا تاکہ ان پر اللہ کی حجت تمام ہوجائے اور قیامت کے دن وہ یہ عذر نہ کرسکیں کہ ان کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–3

3۔ 1 بابرکت رات (لَیْلَۃُ الْقَدْرِ) سے مراد شب قدر ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر صراحت ہے (شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ) 2۔ البقرۃ :185) رمضان کے مہینے میں قرآن نازل کیا گیا، یہ شب قدر رمضان کے عشرہ اخیر کی طاق راتوں میں سے ہی کوئی ایک رات ہوتی ہے۔ یہاں قدر کی رات اس رات کو بابرکت رات قرار دیا گیا ہے۔ اس کے بابرکت ہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے کہ ایک تو اس میں قرآن کا نزول ہوا دوسرے، اس میں فرشتوں اور روح الامین کا نزول ہوتا ہے تیسرے اس میں سارے سال میں ہونے والے واقعات کا فیصلہ کیا جاتا ہے (جیسا کہ آگے آرہا ہے) چوتھے اس رات کی عبادت ہزار مہینے (83 سال 4 ماہ) کی عبادت سے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–3

1: اس سے مراد شب قدر ہے، کیونکہ اسی رات میں قرآن کریم لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا، اور پھر وہاں سے تھوڑا تھوڑا کر کے آنحضرت ﷺ پر نازل ہوتا رہا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–8

درس نمبر 234 تشریح آیات 1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 59 آیت نمبر 1 تا 8 آغاز دو حروف سے ہوتا ہے حا۔ میم۔ اور دونوں کی قسم اٹھائی جاتی ہے اور پھر کتاب مبین کی بھی قسم اٹھائی جاتی ہے جو ایسے ہی حروف تہجی سے مرکب ہے۔ ان کے بارے میں سورتوں کے آغاز میں ہم بار ہا بات کرچکے ہیں۔ پھر ان حروف کی بھی اسی طرح قسم اٹھائی گئی جس طرح کتاب مبین کی قسم اٹھائی گئی۔ کتاب مبین کی اہمیت مسلم مگر ان حروف کی اہمیت کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر حرف بھی ایک معجزہ اور نشانی ہے اور ہر حرف انسان کی زبان کی ساخت کی نشانی ہے اور پھر کس انداز سے زبان اپنے مخرج سے اس حرج و صوت کو نکالتی ہے ، پھر ان حروف کے مخارج کی ترتیب پھر ہر حرف کے نام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–3

1 " برکت کی رات " شب قدر ہے کما قال تعالیٰ ۔ (اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ) 97 ۔ القدر :1) اور جو رمضان میں واقع ہے لقولہ تعالٰی۔ (شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ ) 2 ۔ البقرۃ :185) اس رات میں قرآن کریم لوح محفوظ سے سمائے دنیا پر اتار گیا۔ پھر بتدریج تئیس سال میں پیغمبر پر اترا۔ نیز اسی شب میں پیغمبر پر اس کے نزول کی ابتداء ہوئی۔ 2 یعنی کہہ سنایا ہمیشہ ہمارا دستور رہا ہے۔ اسی کے موافق پر قرآن اتارا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 3 { اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَـیْلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ } ”یقینا ہم نے اس کو نازل کیا ہے ایک مبارک رات میں“ یہ مضمون سورة القدر میں واضح تر انداز میں آیا ہے : { اِنَّآاَنْزَلْنٰـہُ فِیْ لَـیْلَۃِ الْقَدْرِ۔ کہ ہم نے اسے ”لیلۃ القدر“ میں نازل فرمایا۔ چونکہ قرآن مجید میں عام طور پر اہم مضامین کم از کم دو مرتبہ آئے ہیں اس لیے اس خاص رات کا ذکر بھی دو مرتبہ آیا ہے۔ وہاں ”لیلۃ القدر“ کے نام سے اور یہاں ”لیلۃ مبارکۃ“ کے نام سے۔ { اِنَّا کُنَّا مُنْذِرِیْنَ } ”یقینا ہم خبردار کردینے والے ہیں۔“ رسالت اور انزالِ کتب کا اصل مقصد لوگوں کا انذار خبردار کرنا ‘ آگاہ کرنا ہے۔ جیسے سورة المدثر میں حضور ﷺ کو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 1–3

1 لیلۃ القدر اور شب برات ایک ہی رات ہے :۔ یعنی جس رات قرآن نازل ہوا وہ بڑی خیر و برکت والی رات تھی۔ کیونکہ اس رات کو تمام دنیا کی ہدایت کا اہتمام کیا جارہا تھا۔ اس مقام پر اس رات کو (لَیْلَۃٍ مُّبَارَکَۃٍ ) کہا گیا اور سورة القدر میں (لَیْلَۃُ الْقَدْرِ ) یعنی بڑی قدر و منزلت والی رات یا وہ رات جس میں بڑے اہم امور کے فیصلے کئے جاتے ہیں۔ جیسا کہ اس سے اگلی آیت میں اس کی وضاحت موجود ہے۔ مطلب دونوں کا ایک ہی ہے بالفاظ دیگر ایک ہی رات کو یہاں (لَیْلَۃٍ مُّبَارِکَۃٍ ) کہا گیا ہے اور سورة القدر میں (لَیْلَۃُ الْقَدْرِ ) ۔ اور سورة بقرہ میں یہ صراحت بھی موجود ہے ہے کہ یہ رات ماہ رمضان المبارک کی رات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–3

1۔ (لوح محفوظ سے آسمان دنیاپر) (آیت) ” لیلۃ مبرکۃ “۔ مراد شب قدر ہے جو حدیث نبوی ﷺ کے مطابق ماہ رمضان کے آخری عشرہ کی کسی طاق رات میں واقع ہوتی ہے۔ ھی لیلۃ القدر علی ماروی عن ابن عباس وقتادۃ وابن جبیر و مجاھد وابن زید والحسن وعلیہ اکثر المفسرین (روح) ایک قول یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد نصف شعبان کی رات ہے۔ لیکن محدثانہ رنگ کے مفسر ابن کثیر نے اس کی تردید زور سے کی ہے۔ وقد ذکرنا الاحادیث الواردۃ فی ذلک فی سورة البقرۃ بما اغنی من اعادۃ ومن قال انما لیلۃ النصف من شعبان کما روی عن عکرمۃ فقد ابعد التحیۃ (ابن کثیر) ملاحظہ ہوضمیہ ” رحمت والی رات “ صفحہ نمبر 989 پر۔ (آیت) ” حم والکتب “۔ ان پر حاشیے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–29

آیت نمبر 1 تا 29 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اللہ کی کیا مراد ہے ؟ وہی بہتر جانتا ہے قسم ہے واضح کتاب قرآن کی جو حلال کو حرام سے ممتاز کرنے والی ہے، یقیناً ہم نے اس کو بابرکت رات میں نازل کیا ہے اور وہ شب قدر یا شب نصف شعبان ہے، اسی رات میں قرآن کو ساتویں آسمان پر موجود لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا، بیشک ہم اس کے ذریعہ ڈرانے والے ہیں، اسی رات یعنی شب قدر یا شب نصف شعبان میں ہر محکم کام کا مثلاً روزی، موت وغیرہ جو اس سال اسی جیسی (آئندہ) رات تک ہونے والے ہوتے ہیں فیصلہ کیا جاتا ہے، ہمارے پاس سے حکم صادر ہو کر ہم ہی ہیں رسول بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انا انزلنہ فی لیلۃ مبرکۃ ہم نے ہی برکت والی رات میں اس کو نازل کیا۔ برکت (خیر کثیر) رات میں اس وجہ سے پیدا ہوئی کہ اسی رات میں وہ قرآن نازل ہوا جو تمام دینی اور دنیوی منافع کا ضامن ہے ‘ اسی رات میں ملائکہ رحمت کا نزول ہوتا ہے اور دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ مبارک رات سے مراد ہے شب قدر۔ قتادہ اور ابن زید کا یہی قول ہے۔ دونوں بزرگوں کا بیان ہے کہ شب قدر میں قرآن مجید لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل ہوا ‘ پھر بیس سال میں حضرت جبرئیل کی وساطت سے تھوڑا تھوڑا رسول اللہ ﷺ پر اتارا گیا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نصف شعبان کی رات مراد ہے ‘ مگر یہ خیال غلط ہے۔ اللہ نے خود فرمایا ہے : شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–3

(1۔ 3) حم۔ جو کچھ ہونے والا ہے اس کا للہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا اور کتاب مبین یعنی قرآن کریم کی جو کہ حلال و حرام اوامرو نواہی کو بیان کرنے والا ہے۔ قسم ہے کہ ہم نے اس قرآن حکیم کو شب قدر میں جو کہ برکتوں اور رحمتوں اور مغفرتوں والی رات ہے، بذریعہ جبریل امین آسمان دنیا پر اتارا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بیس سال کے عرصے میں ایک ایک آیت اور سورت کر کے رسول اکرم پر اس قرآن کریم کو بذریعہ جبریل امین نازل فرمایا کیونکہ ہم بذریعہ قرآن کریم لوگوں کو ڈرانے والے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 1–3

(1) حم والکتب المبین انا انزلنہ : اللہ تعالیٰ نے اس کتاب مبین کی قسم کھا کر فرمایا کہ یقیناً ہم نے ہی اسے نازل فرمایا ہے۔ یعنی یہ کتاب مبین خود اس بات کی شاہد ہے کہ یہ محمد ﷺ یا کسی اور کی تصنیف نہیں، بلکہ اسے ہم نے ہی نازل کیا ہے۔ اگر کوئی اسے مخلوق کی تصنیف کہتا ہے تو وہ اس کی ایک سورت کی مثل ہی تصنیف کر کے لے آئے۔ (2) فی لیلۃ مبرکۃ : کتاب کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ رات بڑی خیر و برکت والی ہے جس میں ہم نے اسے نازل فرمایا۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے خود بیان فرما دیا کہ وہ مبارک رات لیلتہ القدر ہے، جیسا کہ سورة قدر میں ہے :(انا انزلنہ فی لیلۃ القدر) (القدر : 1) ”بلاشبہ ہم نے اسے قدر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–3

اگر تو میم کو جواب قسم بنائے تو کلام المبین پر مکمل ہوجائے گی پھر تو نئے سرے سے کلام کو شروع کرے گا۔ اگر تو اس قسم کا جواب بنائے جو قسم الکتب ہے تو منذرین پر وقف کرے گا اور سے نئی کلام شروع کرے گی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے جواب انا انزلناہ ہے بعض نحویوں نے اس کا انکار کیا ہے کیونکہ یہ مقسم بمہ کی صفت ہے تو مقسم بہ کی صفت جواب قسم نہ ہوگی اور قرآن کے لئے ہے جس نے کہا : باقی کتابوں کی قسم اٹھائی تو اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد میں ضمیر سے مراد غیر قرآن ہے جس کا بیان سورة احزاب کی ابتدای حصہ میں ہوچکا ہے۔ لیلۃ مبارک سے مراد لیلۃ القدر ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس سے مراد شعبان کے نصف کی رات ہے (3) اس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–5

1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انا انزلنہ فی لیلۃ مبرکۃ “ (کہ ہم نے اس کو مبارک رات میں نازل کیا) یعنی قرآن لیلۃ القدر میں نازل کیا گیا پھر جبرائیل (علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ پر لوگوں کی باتوں کے جواب میں آیت در آیت کی صورت میں نازل کرتے رہے۔ 2:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انا انزلنہ فی لیلۃ مبرکۃ “ سے مراد ہے لیلۃ القدر۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابو الجلد (رح) سے روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا صحیفہ رمضان کی پہلی رات میں نازل ہوا اور انجیل رمضان کی اٹھارویں رات گزرنے پر نازل ہوا اور یہ فرقان (یعنی قرآن مجید) رمضان کی چوبیس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ [ بیشک ہم نے اتارا اس کو ] فِيْ لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ [ ایک برکت دی ہوئی رات میں ] اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِيْنَ [ خبردار کرنے والے ] نوٹ ۔ 1: مبارک رات میں قرآن کے نازل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ لوح محفوظ سے پورا قرآن سماء دنیا پر اسی رات میں نازل کردیا گیا تھا پھر 23 سال کی مدت میں تھوڑا تھوڑا رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوتا رہا ۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ہر سال جتنا قرآن نازل ہونا مقدر ہوتا تھا اتناہی شب قدر میں لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل کردیا جاتا تھا ۔ (معارف القرآن ) لیلۃ مبارکۃ سے مراد ظاہر ہے کہ لیلۃ القدر ہے ۔ سورة قدر میں یہ تصریح موجود ہے کہ اسی رات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

قرآن مجید مبارک رات میں نازل کیا گیا، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے، اگلے پچھلے تمام لوگوں کا رب ہے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے قرآن حکیم کی قسم کھا کر فرمایا کہ ہم نے اس قرآن کو مبارک رات میں نازل کیا مبارک رات سے کون سی رات مراد ہے اس بارے میں محققین نے فرمایا ہے کہ اس سے شب قدر مراد ہے کیونکہ سورة بقرہ میں فرمایا ہے ﴿ شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ﴾ اور سورة قدر میں فرمایا ﴿اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِۚۖ001﴾ اور حضرت عکرمہ (رح) نے فرمایا جو حضرت ابن عباس ؓ کے شاگرد ہیں کہ اس سے شعبان کی پندرھویں شب مراد ہے جسے لیلۃ البرأۃ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–29

بیان عظمت کتاب اللہ وبرکات زمانہ نزول قرآن مع دعوت ایمان وبدنصیبی محرومین واشقیاء از سعادت خداوندی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” حم والکتب المبین ...... الی ....... انا منتقمون “۔ (ربط) گزشتہ سورتک مضمون توحید و رسالت کا اثبات تھا اور اس سے اختلاف واعراض کرنے والے مجرمین کی بدنصیبی کا ذکر کرتے ہوئے ان کے افسوس ناک عبرت ناک انجام کا بیان تھا اور اسی موضوع پر سورت کا مضمون ختم فرما دیا گیا تھا کہ اگر ان واقعات کو سن کر بھی قریش کے لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کو سوچ لینا چاہئے کہ ایسا ہی عبرت ناک انجام ان کا بھی ہوگا، ساتھ ہی آپ ﷺ کو تسلی دینا بھی مقصود تھا کہ قریش مکہ کی مخالفت ودشمنی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

3:۔ ” لیلۃ مبارکۃ “ جمہور کے نزدیک لیلہ مبارکہ (برکت والی رات) سے لیلۃ القدر (شب قدر) مراد ہے جو رمضان میں آتی ہے بقرینہ انا انزلناہ فی لیلۃ القدر (القدر) و شہر رمضان الذی انزل فیہ القران (اکبقرہ ع 23) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ لیلۃ البراءت یعنی شعبان کی پندرہویں رات مراد نہیں۔ قال ابوبکر بن العربی وجمعہور العلماء علی انھا لیلۃ القدر و منہم من قال انہا لیلۃ النصف من شعبان وھو باطل لان اللہ تعالیٰ قال فی کتابہ الصادق القاطع شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن (قرطبی ج 16 ص 127) ۔ ھی لیلۃ القدر علی ما روی عن ابن عباس وقتادۃ وابن جبیر و مجاھد وابن زید والحسن وعلیہ اکثر المفسرین والظواھر معہم (روح ج 25 ص…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–8

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نامہ سورة الدخان ہے۔ یہ نام اس کی آیت 100 میں آمدہ لفظ دخان سے ماخوذ ہے۔ عربی زبان میں دخان دھوئیں کھتے ہیں اور یہ دو قسم سے مذکور ہے دسواں نو قحط سالی کا ہوتا ہے اور دوسرا دھواں وہ ہے جو قیامت کی نشانی کے طور پر قرب قیامت میں ظاہر ہوگا۔ یہ سورة حوامیم سبعہ کی پانچویں سورة ہے جو مکی زندگی کے آخری حصہ میں گزشتہ سورة زخرف کے بعد نازل ہوئی اس کی انسٹھ آیات اور تین رکوع ہیں۔ یہ سورة مبارکہ 346 الفاظ اور 431 حروف پر مشتمل ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ جمعہ کی رات یا جمعہ کے دن اس سورة کی تلاوت کا بڑا اجر ہے ۔ آیات دوسری حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص رات کے وقت اس سورة کی تلاوت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِيْ لَيْلَۃٍ مُّبٰرَكَۃٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِيْنَ۝ 3 نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–3

ترکیب : والکتاب۔ الواوللقسم اناانزلناہ جواب القسم وقیل ہذہ صفۃ للمقسم بہ والجواب اناکنا منذرین واختارہ ابن عطیہ۔ انا کنا مستانفۃ جواب ثان بغیر عطف فیھایفرق ھذہ الجملۃ اماصفۃ اخریٰ للیلۃ وما بینھما اعتراض۔ اومستانفۃ۔ امرا انتصابہ بیفرق ای یفرق فرقالان امرابمعنی فرقا قالہ الزجاج والفراء۔ وقال الاخفش انتصابہ علی الحال ای امرین۔ رحمۃ منصوب لکونہ مفعولا لاجلہ وقیل مصدر فی موضع الحال من ربک متعلق بالرحمۃ رب السماوات الخ قرء الجمہور بالرفع علی انہ مبتداء اوعطف بیان علی السمع۔ و قرء الکوفیون بالجریدلامن ربک۔ تفسیر : قرطبی کہتے ہیں کہ یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے ابن عباس وابن زبیر ؓ کا بھی یہی قول…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّـآ اَنْزَلْـنٰـہُ فِیْ لَیْلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ اِنَّا کُنَّا مُنْذِرِیْنَ ۔ (الدخان : 3) (بےشک ہم نے اسے ایک بڑی خیر و برکت والی رات میں نازل کیا ہے، بیشک ہم لوگوں کو متنبہ کردینے والے تھے۔ ) قرآن کریم کی جلالتِ قدر اس کتاب کی عظمت اور جلالتِ قدر کا عالم یہ ہے کہ ہم نے اسے ایک خیروبرکت والی رات میں نازل کیا ہے اور یہ خیروبرکت والی رات وہی ہے جسے سورة القدر میں لیلۃ القدر کہا گیا ہے اور جس کی فضیلت کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ اس رات کی عبادت کی فضیلت اور اس رات میں ہونے والے فیصلوں کی اثراندازی کی کیفیت یہ ہے کہ جو کام ہزار مہینے میں طے پاتا ہے اور اپنے بےپناہ اثرات رکھتا ہے اس رات میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 2–6

فہم القرآن ربط سورت : الزّخرف کا اختتام اس بات پر ہوا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کو خالق کل ماننے کے باوجود اس کی خالص بندگی کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ان سے جھگڑا کرنے کی بجائے آپ ان کو سلام کہہ کر الگ ہوجائیں۔ الدّخان کی ابتداء اس فرمان سے ہوئی کہ ہم نے آپ پر قرآن مجید اس لیے نازل کیا ہے تاکہ ہم اس کے ذریعے کفار اور مشرکین کو ڈرائیں شاید کہ وہ اپنی روش سے باز آجائیں۔ جن سورتوں کی ابتداء میں حٰمٓ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان میں یہ پانچویں سورت ہے۔ حٰمٓ حروف مقطعات میں شمار ہوتے ہیں۔ جن کے بارے میں ہر صاحب علم جانتا ہے کہ ان کا معنٰی اور مفہوم نبی ﷺ نے بیان نہیں فرمایا اور نہ صحابہ کرام نے ان کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 3 : اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ لیلہ مبارک سے لیلۃ القدر کی رات مراد ہے۔ یا پندرہ شعبان کی رات مراد ہے۔ ایک قول یہ ہے : اس کے اور لیلۃ القدر کے درمیان چالیس راتیں ہیں۔ قول جمہور : اس سے لیلۃ القدر مراد ہے۔ اس لئے کہ دوسری آیت میں فرمایا انا انزلناہ فی لیلۃ القدر۔ (القدر) ۔ 1۔ اور دوسرا یہ ارشاد شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن۔ ] البقرۃ۔ 185[ اکثر علماء کا قول یہ ہے کہ لیلۃ القدر رمضان المبارک میں ہے۔ پھر علماء نے فرمایا۔ مکمل قرآن کو لوح محفوظ سے آسمان دنیا کی طرف لیلۃ القدر کی رات میں اتارا گیا۔ پھر جبرئیل (علیہ السلام) ضرورت کے وقت حضرت محمد ﷺ پر لے کر اترتے تھے۔ ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 1–3

مکی ہے اور اس کی انسٹھ (59) آیات ہیں خواص سورة الدخان 1، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص رات کے وقت سورة حم الدخان پڑھے سترہزار فرشتے اس کے لئے مغفرت کی دعا مانگتے ہیں اور صبح تک اس کے سب گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔ 2، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے عالم ملکوت میں سورة حم کا نام، مبارکہ، ہے کیونکہ اس کے پر ھنے والے پر اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے برکت بھیجتے ہیں۔ 3، حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے جو شخص اس سورة کو جمعہ کی رات کو پڑھے وہ صبح تک بخش دیاجاتا ہے اور جو جمعہ کے دن کو پڑھے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بناتے ہیں۔ 4، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے جو شخص جمعہ کی رات سورة حم دخان اور سورة یسین کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–16

1۔ 16۔ حم و الکتب المبین کی تفسیر سورة الزحزف کے شروع میں گزر چکی ہے جس برکت والی رات کا ذکر ان آیتوں میں ہے اگرچہ بعض فسروں نے لکھا ہے کہ یہ برکت والی رات شعبان کی پندرھویں رات ہے لیکن یہ قول شھر رمضان الذی انزل فیہ القران کے مخالف ہے صحیح وہی حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے جس کو نسائی 1 ؎ اور حاکم وغیرہ نے معتبر سند سے روایت کیا ہے کہ شب قدر میں ایک دفعہ سارا قرآن لوح محفوظ سے اول آسمان پر نازل ہوا پھر ہر ایک موقع پر ہر ایک آیت حضرت جبرئیل آنحضرت ﷺ کے پاس تشریف لائے۔ صحیح بخاری 2 ؎ میں حضرت عائشہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس سے جو روایتیں ہیں۔ ان میں اللہ کے رسول ﷺ نے یہ صاف جتلا دیا ہے کہ شب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–16

آیت 1 یہ قرآن پر قرآن ہی کی قسم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی جو ہر اس چیز کے لئے ہے جس کے بیان کی حاجت ہے۔ بیشک وہ اتاری گئی ہے (فی لیلۃ مبرکۃ) یعنی خیر کثیر اور بکت والی رات میں، اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ یقیناً اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین کلام کو سب راتوں اور دنوں سے افضل رات میں مخلوق میں سے افضل ہستی پر معززین اہل عرب کی زبان میں نازل فرمایا ات کہ اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو ڈرائے جنہیں جہالت نے اندھا کر رکھا ہے اور بدبختی ان پر غالب آچکی ہے۔ پس وہ اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اس کی ہدایت کو اختیار کریں اور اس کے پیچھے چلیں، اس طرح انہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

2 عظیم الشان کتاب کا نزول عظیم الشان رات میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ اس کو ہم ہی نے اتارا ایک بڑی ہی بابرکت رات میں "۔ یعنی لیلۃ القدر میں جو کہ رمضان المبارک میں ہوتی ہے۔ کیونکہ دوسری جگہ اس کی تصریح فرما دی گئی ہے کہ یہ قرآن لیلۃ القدر میں اتارا گیا۔ اور اس کی بھی کہ اسے رمضان المبارک کے مہینے میں اتارا گیا۔ لہذا جن لوگوں نے اس سے شعبان کی پندرہویں رات مراد لی ہے انہوں نے حقیقت سے دور کی بات کہی ہے۔ اور اس بارے جو بعض آثار وارد ہیں وہ موثوق بہا نہیں ہیں۔ اور محققین نے انہیں قابل اعتماد اور لائقِ استناد نہیں قرار دیا۔ سو اس لیلہ مبارکہ سے مراد لیلۃ القدر ہی ہے۔ جیسا کہ ثقہ مفسرین…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–37

قرآن سچ ہے اور اس کے علاہ سب غلط ہے تشریح : ان تمام آیات میں اللہ کی ان تدابیر کا ذکر کیا گیا ہے جو اس نے کائنات کے لیے مرتب کر رکھی ہیں۔ مثلاً میجر جنرل غلام محمد ملک صاحب اس کی بڑے خوبصورت انداز میں یوں وضاحت کرتے ہیں : فلسفہ تاریخ جس طرح سیاسی واقعات کی تکرار اور حوادث کے بار بار اعادہ سے اصول اور نتائج تک پہنچ کر ایک عام تاریخی قانون بنا لیتا ہے اسی طرح انبیاء علیھم السلام کے سوانح اور تاریخیں بھی اپنے واقعات کے بار بار اعادہ سے خصائصِ نبوت کا اصول قانون ہمارے لیے مرتب کرتی ہے۔ پیغمبرانہ تاریخ کے انہی اصول و قوانین میں سے ایک یہ ہے کہ نبی جب اپنے کمال انسانیت کو پہنچ کر فیضان نبوت کے قبول…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–29

آیات 1 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ حم۔ اس کتاب واضح کی قسم ہے یعنی یہ دلائل سے حق کو واضح کردینے والی کتاب اس پر گواہ ہے جسے ہم نے ایک بہت بابرکت شب کو لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل فرمایا کہ اس کے نزول سے مراد مخلوق کو صحیح راہ عمل دکھانا اور اعمال بد کے بد انجام سے بروقت خبر دینا ہے کہ وہ اپنی راہ متعین کرسکیں لیلہ مبارکہ : لیلہ مبارکہ سے مراد مفسرین کرام سے لیلۃ القدر ہے کہ قرآن کریم کی دوسری آیات سے اس کی تعیین ہوجاتی ہے نیز نزول قران رمضان المبارک ہی میں ہوا اور جو بات نصف شعبان کی شب کے بارے مشہور ہے ، اس کی سندیں ضعیف ہیں اس لیے اکثر علماء نے اسے قبول نہیں کیا ، اور بعض نے اس کی فضیلت اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–3

ف 9 برکت والی رات سے مراد لیلۃ القدر ہے جیسا کہ سورة قدر میں ہے اور سورة بقرہ میں ہے ( اشھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن) رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا۔ ( آیت 85) اس رات کو قرآن کے اترنے کا مطلب تو یہ ہے کہ اس میں اترنے کا سلسلہ شرع ہوا یا اس میں سارے کا سارا قرآن لوح محفوظ سے اتار کر پہلے آسمان میں بیت العزۃ میں رکھ دیا گیا اور پھر 23 برس تک تدریجا ً اترتا رہا۔ ( کذا فی ابن کثیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(44:3) انا انزلنہ فی لیلۃ مبارکۃ۔ یہ جواب قسم ہے یا یہ المقسم بہ کی صفت ہے اور جو اب قسم انا کنا منذرین ہے۔ انا : ان اور ضمیر جمع متکلم نا سے مرکب ہے۔ ان (تحقیق، بیشک، یقینا) حروف مشبہ بالفعل میں سے ہے۔ خبر کی تحقیق و تاکید مزید کے لئے آتا ہے۔ انا انزلنہ بیشک اس (کتاب) کو ہم نے ہی نازل کیا ہے نہ یہ انسانوں اور جنوں میں سے کسی فرد واحد کی تصنیف ہے اور نہ دانشوروں کے کسی بورڈ نے باہمی مشوروں سے اس کا مسودہ تیار کیا ہے۔ فی لیلۃ مبارکۃ یہ اس کی دوسری صفت ہے اول یہ کہ یہ کتاب یعنی قرآن حکیم ہماری طرف سے نازل شدہ ہے کسی اور کا اس میں نہ عمل و دخل ہے۔ دوم یہ کہ یہ قرآن مجید ایک برکت والی رات میں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–16

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 16 : لیلۃ مبارکۃ (برکت والی رات) یفرق (وہ جدا کردیتا ہے، الگ کردیتا ہے) امر حکیم ( حکمت بھرا فیصلہ) ارتقب (تو انتظارکر ، راہ دیکھ) دخان ( دھواں) یغشی (وہ ڈھانپ لے گا) معلم ( پڑھایا گیا) عائدون ( وہ لوٹنے والے ہیں) البطشۃ (سخت پکڑ) تشریح : آیت نمبر 1 تا 16 : قرآن کریم میں سات سورتیں وہ ہیں جن کی ابتداء ” حم ‘ ‘ سے کی گئی ہے۔ احادیث میں ان سات سورتوں کے بہت سے فضائل بیان کئے گئے ہیں ۔ ان ہی میں سے یہ پانچویں سورت ہے۔ ” حا۔ میم “ حروف مقطعات میں سے ہیں جن کی تفصیل اس سے پہلی سورتوں میں بیان کردی گئی ہے۔ علماء مفسرین نے بیان کیا ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–3

[1] یعنی شب ِ قدر میں۔ [2] شب ِ قدر میں قرآن کے اتارے جانے سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ پورا قرآن اسی شب میں اتارا گیا ہو بلکہ یہ اس کے مبارک آغاز کا پتہ دیتا ہے۔ جب ایک کام کا آغاز ایک مبارک ساعت میں ہوگیا اور اس کے پورے کئے جانے کا فیصلہ بھی ہوگیا تو گویا وہ کام اس مبارک ساعت میں ہوگیا اس لئے کہ اللہ کے فیصلوں کو تبدیل کرنے والا کوئی نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 3–7

جس طرح بیت اللہ کو تمام اماکن مقدسہ پر فضیلت حاصل ہے اس کے ساتھ کچھ انوار اور سعادتیں مختص ہیں اور کہیں نہیں پائی جاتیں ۔ پھر جس طرح شخصیتوں کے مراتب میں تفاوت ہے حضور ﷺ کو وہ مقام رفیع حاصل ہے ۔ جو ابد تک کسی انسان کی قسمت میں نہیں ہوسکتا اسی طرح کچھ دن اور کچھ راتیں ایسی ہیں ۔ جو بیحد برکات کی حامل ہیں ۔ ان میں لیلۃ القدر کا رتبہ سب سے زیادہ ہے ۔ یہ وہ مبارک رات ہے جس میں قرآن نازل ہوا ۔ اور انسانوں کو آخری پیغام رشدوہدایت دیا گیا ۔ جس میں انسانی فلاح و بہبود کا پورا انتظام ہے ۔ اور اس کے ارتقاء ارتفاع کے لئے ایک آخری پروگرام تجویز کیا گیا ۔ یہ وہ رات ہے جس میں کائنات کے لئے فرائض کو تفریض…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(3) ہم نے اس کتاب کو ایک بڑی برکت والی رات میں نازل فرمایا کیونکہ ہم لوگوں کو کہہ سنانے والے اور آگاہ کرنے والے تھے۔ یعنی ہم نے اس کتاب کو لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر اتارا اور وہاں سے وقتاً فوقتاً تھوڑا تھوڑا حسب ضرورت نبی کریم ﷺ پر نازل ہوتا رہا۔ برکت والی رات سے مراد لیلۃ القدر ہے اور لیلۃ القدر کو برکت والی رات فرمایا چونکہ اس رات کو دعائیں قبول ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ امت محمدیہ ﷺ پر خاص توجہ فرماتا ہے فرشتوں کا نزول ہے آخر میں نزول قرآن کی علت فرمائی کہ ہماری شفقت و مہربانی کا تقاضا یہ تھا کہ ہم اپنے بندوں کو خیر اور شر سے آگاہ کردیں تاکہ وہ نقصان کی چیزوں سے بچیں اور نفع کی چیزوں پر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–3

ف 2۔ یعنی ہم کو منظور ہوا کہ ان مضرتوں سے بچا لینے کے لئے خیر و شر کی اطلاع کردیں، یہ علت ہو تو تنزیل قرآن کی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ ہم نے اس قرآن کریم کو ایک برکت والی رات میں نازل کیا ہے۔ 3 ؎ (لیلۃ مبرکۃ) قرآن کریم کا نزول شروع ہونے کی رات کو برکت والی رات کہا گیا ہے اور دوسری جگہ قرآن کریم میں اس کو (لیلۃ القدر) بھی کہا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس رات کو اس جگہ (لیلۃ مبرکۃ) کہا گیا ہے اس رات کو سورة القدر کی آیت اول میں (لیلۃ القدر) کہا گیا ہے۔ مفسرین نے اس رات میں پورے قرآن کریم کو نازل کردینے کے معنوں میں لیا ہے اور کہا ہے کہ یہ قرآن کریم پورے کا پورا لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کردیا گیا اور پھر وہاں سے نجماً نجماً نازل کیا جاتا رہا لیکن ایسی باتوں کی صداقت کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا واضح مفہوم یہی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 3–10

لَيْلَةٍ مُّبَارَ‌كَةٍ 'blessed night', in verse 2 according to majority of the Commentators, refers to 'laylatul Qadr' or the 'Night of Power' which occurs in the last ten nights of the month of Ramadan. During this night Allah sends down countless blessings for his slaves/servants. It has been explicitly mentioned in Surah Al-Qadr, thus: إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ‌ "We sent it (the Qur'an) down in the Night of Qadr". (97:1) This clearly indicates that the phrase 'laylah mubarakah' (blessed night) occurring in the verse refers to the 'Night of Power'. It is narrated in a…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–3

1 The meaning of taking an oath by "the lucid Book" has been explained in E.N. 1 of Surah Zukhruf. Here also what has been sworn by is that Muhammad (upon whom be Allah's peace) is not the author of this Book but "We", and this Book by itself is enough to provide a proof of this. Furthermore, it has been said chat the night in which it was sent down was full of blessings. That is, the foolish and ignorant people, who have no idea of their own well-being or otherwise, regard the revelation of this Book as a disaster for themselves and are deeply anxious as how to get rid of it. But, as a…

Read the full tafseer →