وَالْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ ۟ۙۛوَالۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ
اس کتاب روشن کی قسم
— Fateh Muhammad Jalandhari
By the clear Book,
— Saheeh International
Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz
وَالْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ ۟ۙۛوَالۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ
اس کتاب روشن کی قسم
— Fateh Muhammad Jalandhari
By the clear Book,
— Saheeh International
Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz
Read the whole surah · Surah Ad-Dukhaan
قسم ہے اِس کتاب مبین کی
اس کتاب روشن کی قسم
قسم ہے اس وضاحت والی کتاب کی
قسم ہے اس کتاب کی جو حق کو واضح کرنے والی ہے۔
قسم اس روشن کتاب کی
اس روشن کتاب کی قسم،
اس بیان کرنے والی کتاب کی قسم !
اس واضح کتاب کی قسم
قسم ہے واضح کردینے والی کتاب کی۔
قسم ہے اس کتاب کی جو کھول کر بیان کرنے والی ہے
) اس) کتاب واضح کی
قسم ہے اس روشن کتاب کی
اس روشن کتاب کی قسم۔
By the Clear Book.
By the manifest Book,
By the manifest Book,
By the manifest Book that makes things clear.
By the Scripture that maketh plain
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
By the clear Book,
I swear by the illustrious Book.
I swear by the Book that makes manifest (the truth).
By the luminious Book.
By the Book that makes things clear;-
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–3
سورة الدُّخَان 1 کتاب مبین کی قسم کھانے کا مطلب سورة زخرف 1 میں بیان کیا جا چکا ہے۔ یہاں بھی قسم جس بات پر کھائی ہے وہ یہ ہے کہ اس کتاب کے مصنف محمد ﷺ نہیں ہیں بلکہ " ہم " ہیں، اور اس کا ثبوت کہیں اور ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں، خود یہ کتاب ہی اس کے ثبوت کے لیے کافی ہے۔ اس کے بعد مزید بات یہ فرمائی گئی کہ وہ بڑی خیر و برکت والی رات تھی جس میں اسے نازل کیا گیا۔ یعنی نادان لوگ، جنہیں اپنی بھلائی برائی کا شعور نہیں ہے، اس کتاب کی آمد کو اپنے لیے بلائے ناگہانی سمجھ رہے ہیں اور اس سے پیچھا چھڑانے کی فکر میں غلطاں و پیچاں ہیں۔ لیکن در حقیقت ان کے لیے اور تمام نوع انسانی کے لیے وہ ساعت بڑی سعید تھی جب "…
Read the full tafseer →معارف مسائل فضیلت سورت حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص جمعہ کی رات میں سورة دخان پڑھ لے تو صبح کو اس کے گناہ معاف ہوچکے ہوں گے۔ اور حضرت امامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے جمعہ کی رات یا دن میں سورة دخان پڑھ لی اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنائیں گے۔ (قرطبی بروایت ثعلبی) آیات مذکورہ میں قرآن کی عظمت اور بعض خاص صفات کا بیان ہے والکتاب المبین یعنی واضح کتاب سے مراد قرآن ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کی قسم کھا کر ارشاد فرمایا ہے کہ اس کو ہم نے ایک مبارک رات میں نازل فرمایا جس کا مقصد غافل انسانوں کو بیدار کرنا ہے۔ اسی طرح کی قسم انہی…
Read the full tafseer →والکتب المبین (2) ’ و ‘ یہاں قسم کے لئے ہے اور یہ وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے کہ عربی میں قسم کا اصل مقصد کسی وعدے پر شہادت پیش کرنا ہوتا ہے۔ اس وجہ سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کا مقسم علیہ کیا ہے ؟ عام طور پر ہمارے مفسرین نے اس کا مقسم علیہ بعد والی آیت انا انزلنہ فی لیلۃ مبرکۃ … کو قرار دیا ہے۔ اگرچہ زبان کے قواعد کے اعتبار سے اس میں کوئی خامی نہیں ہے لیکن مجھے اس پر پورا اطمینان نہیں ہے۔ قسم اور مقسم علیہ میں تعلق دلیل اور دعوے کا ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ قرآن کا کتاب مبین ہونا اس بات کی دلیل کس طرح بن سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ایک مبارک رات میں اتارا ہے۔ میرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
3۔ 1 بابرکت رات (لَیْلَۃُ الْقَدْرِ) سے مراد شب قدر ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر صراحت ہے (شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ) 2۔ البقرۃ :185) رمضان کے مہینے میں قرآن نازل کیا گیا، یہ شب قدر رمضان کے عشرہ اخیر کی طاق راتوں میں سے ہی کوئی ایک رات ہوتی ہے۔ یہاں قدر کی رات اس رات کو بابرکت رات قرار دیا گیا ہے۔ اس کے بابرکت ہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے کہ ایک تو اس میں قرآن کا نزول ہوا دوسرے، اس میں فرشتوں اور روح الامین کا نزول ہوتا ہے تیسرے اس میں سارے سال میں ہونے والے واقعات کا فیصلہ کیا جاتا ہے (جیسا کہ آگے آرہا ہے) چوتھے اس رات کی عبادت ہزار مہینے (83 سال 4 ماہ) کی عبادت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1: اس سے مراد شب قدر ہے، کیونکہ اسی رات میں قرآن کریم لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا، اور پھر وہاں سے تھوڑا تھوڑا کر کے آنحضرت ﷺ پر نازل ہوتا رہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
درس نمبر 234 تشریح آیات 1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 59 آیت نمبر 1 تا 8 آغاز دو حروف سے ہوتا ہے حا۔ میم۔ اور دونوں کی قسم اٹھائی جاتی ہے اور پھر کتاب مبین کی بھی قسم اٹھائی جاتی ہے جو ایسے ہی حروف تہجی سے مرکب ہے۔ ان کے بارے میں سورتوں کے آغاز میں ہم بار ہا بات کرچکے ہیں۔ پھر ان حروف کی بھی اسی طرح قسم اٹھائی گئی جس طرح کتاب مبین کی قسم اٹھائی گئی۔ کتاب مبین کی اہمیت مسلم مگر ان حروف کی اہمیت کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر حرف بھی ایک معجزہ اور نشانی ہے اور ہر حرف انسان کی زبان کی ساخت کی نشانی ہے اور پھر کس انداز سے زبان اپنے مخرج سے اس حرج و صوت کو نکالتی ہے ، پھر ان حروف کے مخارج کی ترتیب پھر ہر حرف کے نام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1 " برکت کی رات " شب قدر ہے کما قال تعالیٰ ۔ (اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ) 97 ۔ القدر :1) اور جو رمضان میں واقع ہے لقولہ تعالٰی۔ (شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ ) 2 ۔ البقرۃ :185) اس رات میں قرآن کریم لوح محفوظ سے سمائے دنیا پر اتار گیا۔ پھر بتدریج تئیس سال میں پیغمبر پر اترا۔ نیز اسی شب میں پیغمبر پر اس کے نزول کی ابتداء ہوئی۔ 2 یعنی کہہ سنایا ہمیشہ ہمارا دستور رہا ہے۔ اسی کے موافق پر قرآن اتارا۔
Read the full tafseer →آیت 2 { وَالْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ } ”قسم ہے اس روشن کتاب کی۔“ جیسا کہ سورة الزخرف کے آغاز میں عرض کیا گیا ‘ سورة الدخان کی سورة الزخرف کے ساتھ نسبت ِزوجیت ہے اور اس کی ایک علامت یہ ہے کہ دونوں سورتوں کی دو ابتدائی آیات مشترک ہیں اور ان کا اسلوب بھی ایک جیسا ہے۔ چناچہ سورة الزخرف کی طرح یہاں اس آیت میں بھی قرآن کی قسم کا جوابِ قسم یا مقسم علیہ محذوف ہے۔ اس ضمن میں یہ وضاحت قبل ازیں کی جا چکی ہے کہ ایسے مقامات پر مقسم علیہ گویا وہی حقیقت ہے جس کا ذکر سورة یٰسٓ کے آغاز میں ہوچکا ہے : { یٰسٓ۔ وَالْقُرْاٰنِ الْحَکِیْمِ۔ اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ۔۔ چناچہ یہاں پر اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1 لیلۃ القدر اور شب برات ایک ہی رات ہے :۔ یعنی جس رات قرآن نازل ہوا وہ بڑی خیر و برکت والی رات تھی۔ کیونکہ اس رات کو تمام دنیا کی ہدایت کا اہتمام کیا جارہا تھا۔ اس مقام پر اس رات کو (لَیْلَۃٍ مُّبَارَکَۃٍ ) کہا گیا اور سورة القدر میں (لَیْلَۃُ الْقَدْرِ ) یعنی بڑی قدر و منزلت والی رات یا وہ رات جس میں بڑے اہم امور کے فیصلے کئے جاتے ہیں۔ جیسا کہ اس سے اگلی آیت میں اس کی وضاحت موجود ہے۔ مطلب دونوں کا ایک ہی ہے بالفاظ دیگر ایک ہی رات کو یہاں (لَیْلَۃٍ مُّبَارِکَۃٍ ) کہا گیا ہے اور سورة القدر میں (لَیْلَۃُ الْقَدْرِ ) ۔ اور سورة بقرہ میں یہ صراحت بھی موجود ہے ہے کہ یہ رات ماہ رمضان المبارک کی رات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ (لوح محفوظ سے آسمان دنیاپر) (آیت) ” لیلۃ مبرکۃ “۔ مراد شب قدر ہے جو حدیث نبوی ﷺ کے مطابق ماہ رمضان کے آخری عشرہ کی کسی طاق رات میں واقع ہوتی ہے۔ ھی لیلۃ القدر علی ماروی عن ابن عباس وقتادۃ وابن جبیر و مجاھد وابن زید والحسن وعلیہ اکثر المفسرین (روح) ایک قول یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد نصف شعبان کی رات ہے۔ لیکن محدثانہ رنگ کے مفسر ابن کثیر نے اس کی تردید زور سے کی ہے۔ وقد ذکرنا الاحادیث الواردۃ فی ذلک فی سورة البقرۃ بما اغنی من اعادۃ ومن قال انما لیلۃ النصف من شعبان کما روی عن عکرمۃ فقد ابعد التحیۃ (ابن کثیر) ملاحظہ ہوضمیہ ” رحمت والی رات “ صفحہ نمبر 989 پر۔ (آیت) ” حم والکتب “۔ ان پر حاشیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
آیت نمبر 1 تا 29 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اللہ کی کیا مراد ہے ؟ وہی بہتر جانتا ہے قسم ہے واضح کتاب قرآن کی جو حلال کو حرام سے ممتاز کرنے والی ہے، یقیناً ہم نے اس کو بابرکت رات میں نازل کیا ہے اور وہ شب قدر یا شب نصف شعبان ہے، اسی رات میں قرآن کو ساتویں آسمان پر موجود لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا، بیشک ہم اس کے ذریعہ ڈرانے والے ہیں، اسی رات یعنی شب قدر یا شب نصف شعبان میں ہر محکم کام کا مثلاً روزی، موت وغیرہ جو اس سال اسی جیسی (آئندہ) رات تک ہونے والے ہوتے ہیں فیصلہ کیا جاتا ہے، ہمارے پاس سے حکم صادر ہو کر ہم ہی ہیں رسول بنا کر…
Read the full tafseer →والکتب المبین قسم ہے کھول کر بیان کرنے والی کتاب (یعنی قرآن) کی۔ الْمُبِیْنَ حرام و حلال کو ظاہر کرنے والی کتاب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(1۔ 3) حم۔ جو کچھ ہونے والا ہے اس کا للہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا اور کتاب مبین یعنی قرآن کریم کی جو کہ حلال و حرام اوامرو نواہی کو بیان کرنے والا ہے۔ قسم ہے کہ ہم نے اس قرآن حکیم کو شب قدر میں جو کہ برکتوں اور رحمتوں اور مغفرتوں والی رات ہے، بذریعہ جبریل امین آسمان دنیا پر اتارا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بیس سال کے عرصے میں ایک ایک آیت اور سورت کر کے رسول اکرم پر اس قرآن کریم کو بذریعہ جبریل امین نازل فرمایا کیونکہ ہم بذریعہ قرآن کریم لوگوں کو ڈرانے والے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(1) حم والکتب المبین انا انزلنہ : اللہ تعالیٰ نے اس کتاب مبین کی قسم کھا کر فرمایا کہ یقیناً ہم نے ہی اسے نازل فرمایا ہے۔ یعنی یہ کتاب مبین خود اس بات کی شاہد ہے کہ یہ محمد ﷺ یا کسی اور کی تصنیف نہیں، بلکہ اسے ہم نے ہی نازل کیا ہے۔ اگر کوئی اسے مخلوق کی تصنیف کہتا ہے تو وہ اس کی ایک سورت کی مثل ہی تصنیف کر کے لے آئے۔ (2) فی لیلۃ مبرکۃ : کتاب کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ رات بڑی خیر و برکت والی ہے جس میں ہم نے اسے نازل فرمایا۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے خود بیان فرما دیا کہ وہ مبارک رات لیلتہ القدر ہے، جیسا کہ سورة قدر میں ہے :(انا انزلنہ فی لیلۃ القدر) (القدر : 1) ”بلاشبہ ہم نے اسے قدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
اگر تو میم کو جواب قسم بنائے تو کلام المبین پر مکمل ہوجائے گی پھر تو نئے سرے سے کلام کو شروع کرے گا۔ اگر تو اس قسم کا جواب بنائے جو قسم الکتب ہے تو منذرین پر وقف کرے گا اور سے نئی کلام شروع کرے گی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے جواب انا انزلناہ ہے بعض نحویوں نے اس کا انکار کیا ہے کیونکہ یہ مقسم بمہ کی صفت ہے تو مقسم بہ کی صفت جواب قسم نہ ہوگی اور قرآن کے لئے ہے جس نے کہا : باقی کتابوں کی قسم اٹھائی تو اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد میں ضمیر سے مراد غیر قرآن ہے جس کا بیان سورة احزاب کی ابتدای حصہ میں ہوچکا ہے۔ لیلۃ مبارک سے مراد لیلۃ القدر ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس سے مراد شعبان کے نصف کی رات ہے (3) اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انا انزلنہ فی لیلۃ مبرکۃ “ (کہ ہم نے اس کو مبارک رات میں نازل کیا) یعنی قرآن لیلۃ القدر میں نازل کیا گیا پھر جبرائیل (علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ پر لوگوں کی باتوں کے جواب میں آیت در آیت کی صورت میں نازل کرتے رہے۔ 2:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انا انزلنہ فی لیلۃ مبرکۃ “ سے مراد ہے لیلۃ القدر۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابو الجلد (رح) سے روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا صحیفہ رمضان کی پہلی رات میں نازل ہوا اور انجیل رمضان کی اٹھارویں رات گزرنے پر نازل ہوا اور یہ فرقان (یعنی قرآن مجید) رمضان کی چوبیس…
Read the full tafseer →وَالْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ [ قسم ہے اس واضح کرنے والی کتاب کی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
بیان عظمت کتاب اللہ وبرکات زمانہ نزول قرآن مع دعوت ایمان وبدنصیبی محرومین واشقیاء از سعادت خداوندی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” حم والکتب المبین ...... الی ....... انا منتقمون “۔ (ربط) گزشتہ سورتک مضمون توحید و رسالت کا اثبات تھا اور اس سے اختلاف واعراض کرنے والے مجرمین کی بدنصیبی کا ذکر کرتے ہوئے ان کے افسوس ناک عبرت ناک انجام کا بیان تھا اور اسی موضوع پر سورت کا مضمون ختم فرما دیا گیا تھا کہ اگر ان واقعات کو سن کر بھی قریش کے لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کو سوچ لینا چاہئے کہ ایسا ہی عبرت ناک انجام ان کا بھی ہوگا، ساتھ ہی آپ ﷺ کو تسلی دینا بھی مقصود تھا کہ قریش مکہ کی مخالفت ودشمنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2:۔ ” والکتب المبین “ یہ تمہید مع ترغیب ہے۔ کتاب سے یا تو قرآن مراد ہے۔ اس صورت میں قرآن کو لیلہ مبارکہ میں نازل کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ اس رات میں قرآن کا نازل کرنا شروع ہوا۔ وقال غیر واحد المراد ابتداء انزالہ فی تلک اللیلۃ علی التجوز (روح ج 25 ص 111) ۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس برکت والی رات میں سارا قرآن لوح مھفوظ سے یکبارگی آسمان دنیا پر اترا اور وہاں سے تھوڑا تھوڑا حسب ضرورت تیئس سال میں اتار لیکن اس بات میں جو حدیث ذکر کی جاتی ہے وہ قوی نہیں یا سورت مراد ہے جیسا کہ فرمایا ” یتلوا صحفا مطہرۃ فیہا کتب قیمۃ “ (البینہ) یہاں ” کتب “ سے سورتیں مراد ہیں۔ اس صورت میں ” انزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نامہ سورة الدخان ہے۔ یہ نام اس کی آیت 100 میں آمدہ لفظ دخان سے ماخوذ ہے۔ عربی زبان میں دخان دھوئیں کھتے ہیں اور یہ دو قسم سے مذکور ہے دسواں نو قحط سالی کا ہوتا ہے اور دوسرا دھواں وہ ہے جو قیامت کی نشانی کے طور پر قرب قیامت میں ظاہر ہوگا۔ یہ سورة حوامیم سبعہ کی پانچویں سورة ہے جو مکی زندگی کے آخری حصہ میں گزشتہ سورة زخرف کے بعد نازل ہوئی اس کی انسٹھ آیات اور تین رکوع ہیں۔ یہ سورة مبارکہ 346 الفاظ اور 431 حروف پر مشتمل ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ جمعہ کی رات یا جمعہ کے دن اس سورة کی تلاوت کا بڑا اجر ہے ۔ آیات دوسری حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص رات کے وقت اس سورة کی تلاوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ حٰـمۗ 1 ۚۛ وَالْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ 2 ۙۛ كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترکیب : والکتاب۔ الواوللقسم اناانزلناہ جواب القسم وقیل ہذہ صفۃ للمقسم بہ والجواب اناکنا منذرین واختارہ ابن عطیہ۔ انا کنا مستانفۃ جواب ثان بغیر عطف فیھایفرق ھذہ الجملۃ اماصفۃ اخریٰ للیلۃ وما بینھما اعتراض۔ اومستانفۃ۔ امرا انتصابہ بیفرق ای یفرق فرقالان امرابمعنی فرقا قالہ الزجاج والفراء۔ وقال الاخفش انتصابہ علی الحال ای امرین۔ رحمۃ منصوب لکونہ مفعولا لاجلہ وقیل مصدر فی موضع الحال من ربک متعلق بالرحمۃ رب السماوات الخ قرء الجمہور بالرفع علی انہ مبتداء اوعطف بیان علی السمع۔ و قرء الکوفیون بالجریدلامن ربک۔ تفسیر : قرطبی کہتے ہیں کہ یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے ابن عباس وابن زبیر ؓ کا بھی یہی قول…
Read the full tafseer →وَالْـکِتٰبِ الْمُبِیْنِ ۔ (الدخان : 2) (قسم ہے کتاب مبین کی۔ ) قسم کا مفہوم اس آیت میں وائو قسم کے لیے ہے۔ اور الْـکِتٰبِ الْمُبِیْنِکی قسم کھائی گئی ہے۔ ہم متعدد مواقع پر یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ قرآن کریم میں بالعموم قسم دلیل ہوتی ہے اور اس کے بعد آنے والا جملہ جوابِ قسم کہلاتا ہے اور اس کی حیثیت دعویٰ کی ہوتی ہے۔ انسانی تحریر و خطاب میں بالعموم کسی بات کے اثبات کے لیے دعویٰ پہلے لایا جاتا ہے پھر اس کے ثبوت کے لیے دلیل پیش کی جاتی ہے۔ لیکن قرآن کریم کا اسلوب اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس میں قسم یعنی دلیل پہلے آتی ہے اور دعویٰ اس کے بعد آتا ہے جسے جوابِ قسم یا مقسم علیہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
فہم القرآن ربط سورت : الزّخرف کا اختتام اس بات پر ہوا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کو خالق کل ماننے کے باوجود اس کی خالص بندگی کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ان سے جھگڑا کرنے کی بجائے آپ ان کو سلام کہہ کر الگ ہوجائیں۔ الدّخان کی ابتداء اس فرمان سے ہوئی کہ ہم نے آپ پر قرآن مجید اس لیے نازل کیا ہے تاکہ ہم اس کے ذریعے کفار اور مشرکین کو ڈرائیں شاید کہ وہ اپنی روش سے باز آجائیں۔ جن سورتوں کی ابتداء میں حٰمٓ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان میں یہ پانچویں سورت ہے۔ حٰمٓ حروف مقطعات میں شمار ہوتے ہیں۔ جن کے بارے میں ہر صاحب علم جانتا ہے کہ ان کا معنٰی اور مفہوم نبی ﷺ نے بیان نہیں فرمایا اور نہ صحابہ کرام نے ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
حٰمٓ۔ وَالْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ ۔ اِنَّآ اَنْزَلْنٰـہُ فِیْ لَیْلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ اِنَّا کُنَّا مُنْذِرِیْنَ ۔ (حم۔ قسم ہے اس واضح کتاب کی۔ کہ ہم نے اس کو ایک برکت والی رات میں اتارا ہے۔ ہم آگاہ کرنے والے تھے) آیت 1 : حٰمٓ۔ (2) وَالْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ یعنی قرآن مجید۔ : وائو قسمیہ ہے اگر حم کو حروف مقطعات میں سے بنائو۔ یا سورت کا نام قرار دیں تو خبر ہے اور اس کا مبتداء محذوف ہے اور وائو عاطفہ ہے۔ جب حم کو مقسم بہٖ بنائیں اور جواب قسم انا انزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
مکی ہے اور اس کی انسٹھ (59) آیات ہیں خواص سورة الدخان 1، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص رات کے وقت سورة حم الدخان پڑھے سترہزار فرشتے اس کے لئے مغفرت کی دعا مانگتے ہیں اور صبح تک اس کے سب گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔ 2، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے عالم ملکوت میں سورة حم کا نام، مبارکہ، ہے کیونکہ اس کے پر ھنے والے پر اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے برکت بھیجتے ہیں۔ 3، حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے جو شخص اس سورة کو جمعہ کی رات کو پڑھے وہ صبح تک بخش دیاجاتا ہے اور جو جمعہ کے دن کو پڑھے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بناتے ہیں۔ 4، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے جو شخص جمعہ کی رات سورة حم دخان اور سورة یسین کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1۔ 16۔ حم و الکتب المبین کی تفسیر سورة الزحزف کے شروع میں گزر چکی ہے جس برکت والی رات کا ذکر ان آیتوں میں ہے اگرچہ بعض فسروں نے لکھا ہے کہ یہ برکت والی رات شعبان کی پندرھویں رات ہے لیکن یہ قول شھر رمضان الذی انزل فیہ القران کے مخالف ہے صحیح وہی حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے جس کو نسائی 1 ؎ اور حاکم وغیرہ نے معتبر سند سے روایت کیا ہے کہ شب قدر میں ایک دفعہ سارا قرآن لوح محفوظ سے اول آسمان پر نازل ہوا پھر ہر ایک موقع پر ہر ایک آیت حضرت جبرئیل آنحضرت ﷺ کے پاس تشریف لائے۔ صحیح بخاری 2 ؎ میں حضرت عائشہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس سے جو روایتیں ہیں۔ ان میں اللہ کے رسول ﷺ نے یہ صاف جتلا دیا ہے کہ شب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
آیت 1 یہ قرآن پر قرآن ہی کی قسم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی جو ہر اس چیز کے لئے ہے جس کے بیان کی حاجت ہے۔ بیشک وہ اتاری گئی ہے (فی لیلۃ مبرکۃ) یعنی خیر کثیر اور بکت والی رات میں، اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ یقیناً اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین کلام کو سب راتوں اور دنوں سے افضل رات میں مخلوق میں سے افضل ہستی پر معززین اہل عرب کی زبان میں نازل فرمایا ات کہ اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو ڈرائے جنہیں جہالت نے اندھا کر رکھا ہے اور بدبختی ان پر غالب آچکی ہے۔ پس وہ اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اس کی ہدایت کو اختیار کریں اور اس کے پیچھے چلیں، اس طرح انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 قرآن حکیم اپنی صداقت و حقانیت کی دلیل آپ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " قسم ہے اس کتاب کی جو کہ کھول کر بیان کرنے والی ہے "۔ حق و باطل کو، حلال و حرام کو، جائز و ناجائز کو، صحیح و غلط کو، اسباب فوز و فلاح کو اور ہر اس چیز کو جسکی انسان کو راہ ِحق و ہدایت کے سلسلہ میں ضرورت پیش آسکتی ہے۔ پس اس قدر جامع اور اتنی عظیم کتاب کا ایک ایسے نبی امّی کے ذریعے پیش کیا جانا جس نے دنیا میں کبھی کسی انسان سے کوئی کلمہ و حرف تک نہ سیکھا ہو اس کتاب حکیم کی اور اس کے لانے والے رسول کی صداقت و حقانیت کی ایک زبردست اور کھلی دلیل ہے۔ سو یہ کتاب حکیم اپنے دعوے پر خود ایک قطعی حجت ہے۔ پس یہ کتاب حکیم جس انجام بد سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
قرآن سچ ہے اور اس کے علاہ سب غلط ہے تشریح : ان تمام آیات میں اللہ کی ان تدابیر کا ذکر کیا گیا ہے جو اس نے کائنات کے لیے مرتب کر رکھی ہیں۔ مثلاً میجر جنرل غلام محمد ملک صاحب اس کی بڑے خوبصورت انداز میں یوں وضاحت کرتے ہیں : فلسفہ تاریخ جس طرح سیاسی واقعات کی تکرار اور حوادث کے بار بار اعادہ سے اصول اور نتائج تک پہنچ کر ایک عام تاریخی قانون بنا لیتا ہے اسی طرح انبیاء علیھم السلام کے سوانح اور تاریخیں بھی اپنے واقعات کے بار بار اعادہ سے خصائصِ نبوت کا اصول قانون ہمارے لیے مرتب کرتی ہے۔ پیغمبرانہ تاریخ کے انہی اصول و قوانین میں سے ایک یہ ہے کہ نبی جب اپنے کمال انسانیت کو پہنچ کر فیضان نبوت کے قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
آیات 1 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ حم۔ اس کتاب واضح کی قسم ہے یعنی یہ دلائل سے حق کو واضح کردینے والی کتاب اس پر گواہ ہے جسے ہم نے ایک بہت بابرکت شب کو لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل فرمایا کہ اس کے نزول سے مراد مخلوق کو صحیح راہ عمل دکھانا اور اعمال بد کے بد انجام سے بروقت خبر دینا ہے کہ وہ اپنی راہ متعین کرسکیں لیلہ مبارکہ : لیلہ مبارکہ سے مراد مفسرین کرام سے لیلۃ القدر ہے کہ قرآن کریم کی دوسری آیات سے اس کی تعیین ہوجاتی ہے نیز نزول قران رمضان المبارک ہی میں ہوا اور جو بات نصف شعبان کی شب کے بارے مشہور ہے ، اس کی سندیں ضعیف ہیں اس لیے اکثر علماء نے اسے قبول نہیں کیا ، اور بعض نے اس کی فضیلت اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 9 برکت والی رات سے مراد لیلۃ القدر ہے جیسا کہ سورة قدر میں ہے اور سورة بقرہ میں ہے ( اشھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن) رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا۔ ( آیت 85) اس رات کو قرآن کے اترنے کا مطلب تو یہ ہے کہ اس میں اترنے کا سلسلہ شرع ہوا یا اس میں سارے کا سارا قرآن لوح محفوظ سے اتار کر پہلے آسمان میں بیت العزۃ میں رکھ دیا گیا اور پھر 23 برس تک تدریجا ً اترتا رہا۔ ( کذا فی ابن کثیر) ۔
Read the full tafseer →(44:2) والکتب المبین : واؤقسمیہ ہے الکتب موصوف المبین صفت۔ اسم فاعل واحد مذکر ابانہ (افعال) مصدر۔ کھلا ہوا۔ ظاہر کرنے والا۔ موصوف و صفت مل کر المقسم بہ الکتب ای القران۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 16 : لیلۃ مبارکۃ (برکت والی رات) یفرق (وہ جدا کردیتا ہے، الگ کردیتا ہے) امر حکیم ( حکمت بھرا فیصلہ) ارتقب (تو انتظارکر ، راہ دیکھ) دخان ( دھواں) یغشی (وہ ڈھانپ لے گا) معلم ( پڑھایا گیا) عائدون ( وہ لوٹنے والے ہیں) البطشۃ (سخت پکڑ) تشریح : آیت نمبر 1 تا 16 : قرآن کریم میں سات سورتیں وہ ہیں جن کی ابتداء ” حم ‘ ‘ سے کی گئی ہے۔ احادیث میں ان سات سورتوں کے بہت سے فضائل بیان کئے گئے ہیں ۔ ان ہی میں سے یہ پانچویں سورت ہے۔ ” حا۔ میم “ حروف مقطعات میں سے ہیں جن کی تفصیل اس سے پہلی سورتوں میں بیان کردی گئی ہے۔ علماء مفسرین نے بیان کیا ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
[1] یعنی شب ِ قدر میں۔ [2] شب ِ قدر میں قرآن کے اتارے جانے سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ پورا قرآن اسی شب میں اتارا گیا ہو بلکہ یہ اس کے مبارک آغاز کا پتہ دیتا ہے۔ جب ایک کام کا آغاز ایک مبارک ساعت میں ہوگیا اور اس کے پورے کئے جانے کا فیصلہ بھی ہوگیا تو گویا وہ کام اس مبارک ساعت میں ہوگیا اس لئے کہ اللہ کے فیصلوں کو تبدیل کرنے والا کوئی نہیں۔
Read the full tafseer →(2) قسم ہے اس واضح اور صاف بیان کرنے والی کتاب کی - اپنے معنی اور مفہوم میں واضح ہے یا حق و باطل کو الگ لگ کرنے والی ہے یا حلال و حرام کو صاف صاف اور واضح طور پر بیان کرنے والی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 2۔ یعنی ہم کو منظور ہوا کہ ان مضرتوں سے بچا لینے کے لئے خیر و شر کی اطلاع کردیں، یہ علت ہو تو تنزیل قرآن کی۔
Read the full tafseer →قسم ہے رب ذوالجلال والاکرم کی جس نے واضح کرنے والی کتاب نازل کی 2 ؎ یہ آیت گزشتہ سورة الزخرف کی دوسری آیت اور زیر نظر سورت میں بھی دوسری آیت ہی کے طور پر آئی ہے۔ وائو قسمیہ ہے اور قسمیہ حروف میں رب کا لفظ محذوف ہوتا ہے۔ (مبین) ابان یبین باب افعال کا اسم فاعل ہے اور لازم ، متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے پہلی صورت میں معنی ہیں اس رب کی قسم جس نے واضح ، ظاہر اور روشن کتاب نازل کی ہے اور معتدی ہونے کی صورت میں مفہوم ہوگا کہ اس رب کی قسم جس نے ایسی کتاب نازل کی ہے جو حق اور باطل کو واضح کرنے والی ہے۔ راہ ہدایت کو راہ ضلالت سے ممتاز کرنے والی ہے اور اس طرح ایک لفظ سے دونوں صفات کو بیان کردیا گیا…
Read the full tafseer →Commentary The Merit of the Surah Sayyidna Abu Hurairah رضی اللہ تعالیٰ عنہ reports that the Messenger of Allah ﷺ said that whoever recites Surah Dukhan on Friday night, his sins will have been forgiven by the morning. Sayyidna Umamah ؓ narrates that the Messenger of Allah ﷺ said anyone who recites Surah Dukhan on Friday, in the night or in the day, Allah will build for him a house in Paradise. (Qurtubi on the authority of Thalabi). In the present set of verses, the greatness of Qur'an and some of its special features are described. وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ "By the manifest Book". This verse…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1 The meaning of taking an oath by "the lucid Book" has been explained in E.N. 1 of Surah Zukhruf. Here also what has been sworn by is that Muhammad (upon whom be Allah's peace) is not the author of this Book but "We", and this Book by itself is enough to provide a proof of this. Furthermore, it has been said chat the night in which it was sent down was full of blessings. That is, the foolish and ignorant people, who have no idea of their own well-being or otherwise, regard the revelation of this Book as a disaster for themselves and are deeply anxious as how to get rid of it. But, as a…
Read the full tafseer →