Ad-Dukhaan 44:55

Ad-Dukhaan · from ayah 55

44:55

یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ اٰمِنِیْنَ ۟ۙيَدۡعُوۡنَ فِيۡهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ اٰمِنِيۡنَۙ

وہاں خاطر جمع سے ہر قسم کے میوے منگوائیں گے (اور کھائیں گے)

— Fateh Muhammad Jalandhari

They will call therein for every [kind of] fruit - safe and secure.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 3 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Ad-Dukhaan

All translations of 44:55

وہاں وہ اطمینان سے ہر طرح کی لذیذ چیزیں طلب کریں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہاں خاطر جمع سے ہر قسم کے میوے منگوائیں گے (اور کھائیں گے)

— مولانا فتح محمد جالندہری

دل جمعی کے ساتھ وہاں ہر طرح کے میوؤں کی فرمائشیں کرتے ہوں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ وہاں بڑے اطمینان سے ہر قسم کے میوے منگواتے ہوں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس میں ہر قسم کا میوہ مانگیں گے امن و امان سے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہاں (بیٹھے) اطمینان سے ہر طرح کے پھل اور میوے طلب کرتے ہوں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ اس میں ہر پھل بےخوف ہو کر منگوا رہے ہوں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ وہاں امن و اطمینان سے ہر قسم کے میوے طلب کریں گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ اس میں طلب کریں گے ہر قسم کے میوے، نہایت چین سے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہاں وہ پورے امن و اطمینان کے ساتھ ہر قسم کی لذت بخش چیزیں طلب کر رہے ہوں گے

— مولانا اسحاق مدنی

وہ وہاں ہر قسم کے میوے منگائیں گے اطمینان سے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ طلب کریں گے اس میں ہر طرح کے پھل اطمینان کے ساتھ

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہاں وہ امن و اطمینان سے ہر قسم کے میوے طلب کریں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

While resting in security, they shall call for all kinds of fruit.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They will call therein for every fruit peacefully.

— Muhammad Taqi Usmani

They will call therein for every fruit peacefully.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They will call therein for every kind of fruit in peace and security;

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They call therein for every fruit in safety.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They will call therein for every [kind of] fruit - safe and secure.

— Saheeh International

They will be offered all kinds of fruits, in peace and security.

— Muhammad Sarwar

They shall call therein for every fruit in security;

— Muhammad Habib Shakir

They will call therein for every kind of fruit in security.

— Abdul Majid Daryabadi

There can they call for every kind of fruit in peace and security;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 44:55

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 51–59

جب موت کو ذبح کرایا جائے گا بدبختوں کا ذکر کر کے اب نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے۔ اسی لئے قرآن کریم کو مثانی کہا گیا ہے اس دنیا میں جو اللہ تعالیٰ مالک و خالق و قادر سے ڈرتے دبتے رہے وہ قیامت کے دن جنت میں نہایت امن وامان سے ہوں گے۔ موت سے وہاں سے نکلنے کے، غم و رنج، گھبراہٹ، مشکلوں، دکھ درد، تکلیف، مشقت، شیطان اور اس کے مکر سے رب کی ناراضگی سے غرض تمام آفتوں اور مصیبتوں سے نڈر بےفکر مطمئن اور بےاندیشہ ہوں گے۔ جہنمیوں کو تو زقوم کا درخت اور آگ جیسا گرم پانی ملے گا اور انہیں جنتیں اور نہریں ملیں گی مختلف قسم کے ریشمی پارچہ جات انہیں پہننے کو ملیں گے جن میں نرم باریک بھی ہوگا اور دبیز چمکیلا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الدُّخَان 43 " اطمینان سے " طلب کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جو چیز جتنی چاہیں گے بےفکری کے ساتھ جنت کے خادموں کو اس کے لانے کا حکم دیں گے اور وہ حاضر کردی جائے گی۔ دنیا میں کوئی شخص ہوٹل تو درکنار، خود اپنے گھر میں اپنی چیز بھی اس اطمینان سے طلب نہیں کرسکتا جس طرح وہ جنت میں طلب کرے گا۔ کیونکہ یہاں کسی چیز کے بھی اتھاہ ذخیرے کسی کے پاس نہیں ہوتے، اور جو چیز بھی آدمی استعمال کرتا ہے اس کی قیمت بہرحال اس کی اپنی جیب ہی سے جاتی ہے۔ جنت میں مال اللہ کا ہوگا اور بندے کو اس کے استعمال کی کھلی اجازت ہوگی۔ نہ کسی چیز کے ذخیرے ختم ہوجانے کا خطرہ ہوگا نہ بعد میں بل پیش ہونے کا کوئی سوال۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 54–55

(آیت) وَزَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِيْنٍترویج کے معنی اصل میں ہیں ”کسی کو کسی کا جوڑ قرار دے دینا ‘ بعد میں یہ لفظ نکاح کرانے کے معنی میں بکثرت استعمال ہونے لگا ہے۔ اس جگہ اس کے دونوں معنی ہو سکتے ہیں۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ جنتی مردوں کا حور عین سے باقاعدہ عقد نکاح کرا دیا جائے گا اور اگرچہ جنت میں کوئی شخص احکام کا مکلف نہیں ہوگا لیکن یہ عقد نکاح بطور اعزازو اکرام کے ہوگا اس لئے کوئی اشکال نہیں اور اگر پہلے معنی لئے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ حورعین کو جنتی مردوں کا جوڑا قرار دے دیا جائے گا اور وہ جنتی عورتیں بطور ہبہ انہیں عطا کردی جائیں گی اور اس کے لئے دنیا کی طرح عقد نکاح کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 54–55

کذلک وزوجنھم بحورعین، یدعون فیھا بکل فاکھۃ امنین (55-54) فرمایا کہ ان کی مسرت کی تکمیل کے لئے ہم آہو چشم حوریں ان کی زوجیت میں دے دیں گے۔ عربی ادب میں عورت کے لئے یہ صفت اس کے کمال حسن کی ایک جامع تعبیر ہے۔ یدعون فیھا الآیۃ ان کے لئے ہر قسم کے میوئوں کی بہتات ہوگی وہ جو میوے چاہیں گے حاضر باش خدام سے طلب کریں گے۔ نہ ان کو میووں کی کمی کا کوئی اندیشہ ہوگا۔ نہ اس عیش سے محرومی کا کوئی خوف ہوگا اور نہ موت ہی کا کوئی کھٹکا ہوگا۔ ہر اندیشہ سے نچنت وہ ابدی عیش کا لطف اٹھائیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

55۔ 1 آمِنِیْنَ (بےخوفی کے ساتھ) کا مطلب ان کے ختم ہونے کا اندیشہ ہوگا نہ کے کھانے سے بیماری وغیرہ کا خوف یا موت، تھکاوٹ اور شیطان کا کوئی خوف نہیں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 54–59

14: یہ لوگ تو جھٹلانے کے انداز میں قیامت کا انتظار کر رہے ہیں، اور آنحضرت ﷺ کو تصدیق کے ساتھ اس کے انتظار کا حکم دیا گیا ہے کہ اس وقت ساری حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی، اور ان کافروں کو سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 43–57

آیت نمبر 43 تا 57 یہ منظر زقوم کے درخت کے پیش کرنے سے شروع ہوتا ہے اور یہ بدکاروں کی خوراک ہوگا۔ اور یہ اس قدر کڑوا ہوگا جس طرح تیل کی تلچھٹ کڑوی ہوتی ہے۔ یہ جہنمیو کی خوراک کی خوفناک تصویر کشی ہے اور یہ تلچھت پیٹ میں یوں جوش مارے گا جس طرح پتیلے میں پانی کھولتا ہے۔ ان بدکاروں کے پیٹ میں ، جو برتری دکھاتے تھے رب پر اور اس کے رسول ﷺ امین پر۔ فرمان الٰہی یوں ان ” شرفاء “ کے لئے صادر ہوتا ہے۔ خذوہ فاعتلوہ الی سواء الجحیم (44 : 47) ثم صبوا فوق راسہ من عذاب الحمیم (44 : 48) ” پکڑو اسے اور رگیدنے ہوئے لے جاؤ اس کو جہنم کے بیچوں بیچ اور انڈیل دو اس کے سر پر کھولتے پانی کا عذاب “۔ یعنی پکڑو اسے سخت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی جس میوے کو جی چاہے گا فوراً حاضر کرا دیا جائے گا۔ کوئی فکر نہ ہوگی۔ پوری دلجمعی سے کھائیں پئیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 55 { یَدْعُوْنَ فِیْہَا بِکُلِّ فَاکِہَۃٍ اٰمِنِیْنَ } ”وہ طلب کریں گے اس میں ہر طرح کے پھل اطمینان کے ساتھ۔“ جنت کے پھلوں میں سے جس پھل کی وہ خواہش کریں گے وہ ان کے سامنے پیش کر دیاجائے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 55–56

37 اخروی زندگی میں موت نہیں :۔ سیدنا ابو سعید خدری اور سیدنا ابوہریرہ ؓ دونوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ : ایک پکارنے والا جنت کے لوگوں کو پکارے گا اور کہے گا : آئندہ تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ ہوگے، تم ہمیشہ زندہ رہو گے، کبھی مرو گے نہیں، تم ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے، اور تم ہمیشہ امن اور چین میں رہو گے کبھی کوئی رنج نہ ہوگا (مسلم۔ کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھاو اھلھا)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 51–55

27۔ یعنی اہل جنت علاوہ روحانی نعمتوں کے ہر قسم کی مادی وجسمانی لذتوں سے بھی پوری طرح لذت گیر ہوں گے، یہ نہ ہوگا کہ یہاں کی جسمانی لذتوں سے انہیں وہاں خواہ مخواہ بےجرم محروم کردیاجائے۔ ہمارے ہاں کے جن جدید اہل قلم نے جنت کی لذات جسمانی کی تاویلیں کرکے انہیں خواہ مخواہ بدل دینا چاہا ہے وہ درحقیقت خود مسیحیت اور دوسرے باطل مذہبوں سے کسی حد تک مرعوب ہیں جنہوں نے جسم وجسمانیات ہی کو مطلق شر تسلیم کیا ہے۔ (آیت) ” مقام امین “۔ یعنی ایسی جگہ جو مصیبت، ہر نہ خوشگواری سے محفوظ ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 43–59

آیت نمبر 43 تا 59 ترجمہ : بیشک زقوم (تھوہڑ) کا درخت جو کڑوا اور خبیث ترین ہے تہامہ میں پیدا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ میں پیدا فرمائے گا، مجرموں کا کھانا ہے یعنی ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کا جو بڑا گنہگار ہیں، اور وہ سیاہ تیل (تارکول) کی تلچھٹ کے مانند ہے (کالمھل) ثانی خبر ہے، وہ تیز گرم پانی کے مانند پیٹ میں کھولتا رہتا ہے (تغلی) تاء فوقانیہ کے ساتھ تیسری خبر ہے اور یاء تحتانیہ کے ساتھ المھل سے حال ہے جہنم پر مقرر فرشتوں کو حکم دیا جائے گا کہ مجرم کو پکڑ لو پھر گھسیٹتے ہوئے بیچ جہنم تک پہنچا دو (فاعتلوہ) کسرۂ اور ضمہ تاء کے ساتھ یعنی اس کو سختی اور شدت کے ساتھ کھینچو، پھر اس کے سر پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 54–57

(54۔ 57) اسی طرح جنت میں اہل ایمان کا مقام ہوگا اور ہم ان کا گوری گوری بڑی بڑی آنکھوں والیوں اور خوبصورت چہرے والی حوروں سے نکاح کردیں گے اور وہ جنت میں موت و عذاب اور زوال سے امن میں ہوں گے، اور ہر قسم کے میوے منگاتے ہوں گے یا یہ کہ خود ان کو پیش ہوتے ہوں گے اور وہ جنت میں سوائے اس موت کے جو دنیا میں آچکی تھی اور موت کا ذائقہ بھی نہ چکھیں گے اور ان کا پروردگار ان کو دوزخ کے عذاب سے بھی بچا لے گا یہ سب کچھ آپ کے پروردگار کے فضل سے ہوگا یا یہ کہ اس کی بخشش و انعام سے۔ اور یہی فضل خداوندی بڑی کامیابی ہے کہ جنت حاصل ہوگی اور دوزخ سے بچ گئے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

یدعون فیھا بکل فاکھۃ امنین : بےخوف ہو کر منگوانے کا مطلب یہ ہے کہ نہ انھیں یہ فکر ہوگا کہ وہ چیز موجود نہ ہو نہ یہ کہ قیمت کہاں سے ادا کریں گے، نہ یہ کہ ختم ہوجائے گی، نہ یہ کہ کھانے سے بدہضمی نہ ہوجائے، پھر نہ قبض کا خوف نہ اسہال۔ غرض جو چاہیں گے بےفکر ہو کر جنت کے خادموں کو لانے کا حکم دیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

قتادہ نے کہا : وہ موت سے، بیماری سے اور شیطان سے محفوظ ہوں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس میں جو نعمتیں ہیں ان کے انقطاع سے امن میں ہوں گے یا اس چیز سے امن میں ہوں گے کہ ان چیزوں کے کھانے سے انہیں کوئی تکلیف یا ناپسندیدہ چیز لاحق ہوسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 51–59

18:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان المتقین فی مقام امین “ (بلاشبہ متقی لوگ امن کی جگہ ہوں گے یعنی موت اور عذاب سے امن میں ہوں گے۔ 19:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ضحاک (رح) سے (آیت ) ” فی مقام امین “ کے بارے میں روایت کیا کہ (جنت) میں موت سے امن میں ہوں گے اور بوڑھا ہونے سے بھی امن میں ہوں گے۔ اور نہ وہ بھوکے ہوں گے اور نہ وہ ننگے ہوں گے۔ 20:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان المتقین فی مقام امین “ یعنی وہ امن میں ہوں گے شیطان سے اور بیماریوں سے اور غموں سے (آیت ) ” زوجنا ھم بحور عین “ (اور ہم ان کا گوری گوری فراخ آنکھوں والیوں سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يَدْعُوْنَ فِيْهَا [ وہ لوگ بلائیں (مانگیں ) گے اس میں ] بِكُلِّ فَاكِهَةٍ [ ہر میوے کو ] اٰمِنِيْنَ [ امن میں ہونے والے ہوتے ہوئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 51–57

متقیوں کے انعامات، باغ اور چشمے، لباس اور ازواج، ہر قسم کے پھل اور حیات ابدی دوزخیوں کے عذاب بتانے کے بعد اہل جنت کے بعض انعامات ذکر فرمائے۔ اولاً تو یہ فرمایا کہ متقی لوگ امن وامان کی جگہ میں ہوں گے یعنی جنت ایسی جگہ ہے کہ جہاں کسی قسم کا خوف و ہراس، بےاطمینانی، بےچینی نہیں ہوگی اور ہمیشہ اسی حالت میں رہیں گے انہیں کبھی خوف یا غم نہ ہوگا نہ وہاں سے نکالے جانے کا خطرہ ہوگا۔ ثانیاً فرمایا کہ یہ متقی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ ثالثاً یہ فرمایا کہ سندس اور استبرق کا لباس پہنیں گے سندس باریک ریشم کو اور استبرق موٹے ریشم کو کہتے ہیں۔ رابعاً یہ فرمایا کہ آپس میں مقابل ہوکر ایک دوسرے کے سامنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 40–59

تہدید وتنبیہ از روز قیامت وبیان نجات و کامیابی مومنین ومتقین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان یوم الفصل ...... الی ........ فارتقب انھم مرتقبون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مجرمین کی سزاؤں اور ان کے عبرت ناک انجام کا بیان تھا جس کے بعد ان کے بالمقابل مطیعین کے انعام واکرام کا ذکر فرمایا گیا تو اب اختتام مضمون پر مزید یوم آخرت کی عظمت ومصیبت کا بیان فرماتے ہوئے اہل ایمان وتقوی پر حق تعالیٰ کے جو انعامات ہوں گے ان کا ذکر کیا گیا ، اور کافر ونافرمان کیسی شدت و تکلیف اور مصیبتوں میں مبتلا ہوں گے اس کو بھی واضح کرتے ہوئے فیصلہ فرمایا گیا کہ اصل کامیابی اور کامرانی حق تعالیٰ پر ایمان لانے اور آنحضرت ﷺ کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 52–55

27:۔ ” یدعون فیہا “ وہ جنت میں جو میوہ چاہیں گے طلب کریں گے یعنی وہاں انہیں ہر منہ مانگا میوہ ملے گا اور وہ ہر ضرر و تکلیف سے محفوظ ہوں گے۔ ” لایذوقون الخ “ جنت میں ان پر موت نہیں آئیگی ایک بار جو موت ان کے لیے مقدر تھی اس کا مزہ وہ دنیا میں چکھ چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں دوزخ کے عذاب سے بھی بچائیگا۔ یہ ساری نعمتیں انہیں محض اللہ کے فضل و کرم سے حاصل ہوں گی اور اصل میں یہی بڑی کامیابی ہے کہ جنت میں ہر نعمت میسر ہو، تکلیف کا شائبہ تک نہ ہو، نہ نعیم جنت کو زوال ہو، جنت والوں پر فنا آئے، دائمی راحت اور دائمی زندگی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 42–59

ربط آیات پہلے قرآن کی حقانیت اور صداقت بیان کی۔ پھر توحید کا مسئلہ سمجھایا ، مشرکین کی قباحت ، شرک کا رد اور پھر اس کا انجام بھی بیان ہوا۔ حق کی مخالفت کرنے والوں میں فرعون اور اس کے حواریوں کا تذکرہ ہوا اور پھر ان کی غرقابی کا ذکر بھی ہوا اللہ نے بنی اسرائیل کو فرعن کی غلامی سے نجات دلائی اور ان کو اپنے زمانے میں ہاں بھر میں فضیلت عطا کی ، پھر قریش مکہ اور مشرکین عرب کو تنبیہ کی گئی کہ تم سے پہلے قوم تبع جیسے بڑے بڑے ساز و سامان اور دولت والے لوگ گزر چکے ہیں ، ان کے حالات سے عبرت پکڑو تم کس بنا پر قیامت کا انکار کر رہے ہو ، فرمایا ہم نے ارض و سما اور ان کے درمیان کی اشیاء کو محض لہو و لہب کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَدْعُوْنَ فِيْہَا بِكُلِّ فَاكِہَۃٍ اٰمِنِيْنَ۝ 55 ۙ دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 43–55

دارِ آخرت کا ثبوت کرکے اب کچھ وہاں کے حالات بیان فرماتا ہے۔ سب سے پہلے بدکاروں کی سزا بیان کرتا ہے فقال ان شجرۃ الزقوم گناہگاروں کا کھانا تھور ہوگا جو نہایت تلخ اور بدمزہ چیز ہے لاچار ہو کر اسی کو کھاویں گے وہ پیٹ میں جا کر گرم پانی کی طرح کھولے گا مہل تلچھٹ یا تانبا سیسہ وغیرہ پگھلا ہوا۔ مہل پر جملہ تمام ہوگیا پھر یغلی سے اس کے غلیان کی کیفیت شروع ہوتی ہے۔ بعض کالمہل کو یغلی سے بھی ربط دیتے ہیں۔ اس کے لیے یہ بھی فرشتوں کو حکم دیا جاوے گا کہ اس کو پکڑو اور دھکے دیتے ہوئے جہنم میں لے جاؤ اور اس کے سر پر کھولتا ہوا پانی ڈالو اور کہو چکھ کیونکہ تو اپنے زعم میں بڑا عزت والا ‘ زبردست سمجھا ہوا تھا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 54–55

کَذٰلِکَ قف وَزَوَّجْنٰـھُمْ بِحُوْرٍعِیْنٍ ۔ یَدْعُوْنَ فِیْھَا بِکُلِّ فَاکِھَۃٍ اٰمِنِیْنَ ۔ (الدخان : 54، 55) (یہ ہوگی اللہ سے ڈرنے والوں کی شان، اور ہم ان سے بیاہ دیں گے آہوچشم حوریں۔ وہ اس میں طلب کریں گے ہر قسم کے میوے نہایت اطمینان سے۔ ) اہلِ جنت کی مسرتوں کی تکمیل اہلِ جنت پر عنایات کی یہ بارش دیکھ کر کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جس طرح ہر قسم کی تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بڑے بڑے مصائب کو استقامت کی ڈھال پر لینا پڑتا ہے انسانی ہمت دم توڑنے لگتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ایک مومن کی گردن کو خم نہیں ہونے دیتا۔ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک ایک…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 52–57

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کی سزا کے بیان کے بعد جنتیوں کے انعامات کا تذکرہ۔ فہم القرآن کا مطالعہ کرنے والے حضرات جانتے ہیں کہ یہ بات کئی مقامات پر ذکر ہوچکی ہے کہ قرآن مجید کا اسلوب تکلّم ہے کہ وہ اپنے مخاطبین کے سامنے بیک وقت جنتیوں کے انعامات اور جہنمیوں کے عذاب کا ذکر کرتا ہے تاکہ قرآن کی تلاوت کرنے والا شخص موقع پر فیصلہ کرپائے کہ اس نے کس چیز کا انتخاب کرنا ہے۔ اسی اسلوب کے پیش نظر جہنمیوں کی سزاؤں کا ذکر کرنے کے متصل بعد جنتیوں کے انعامات کا تذکرہ کیا جارہا ہے۔ جنت میں وہی شخص داخل ہوگا جس کا عقیدہ کفر و شرک کی ملاوٹ سے پاک ہوگا اور اس نے سنت رسول کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 55 : یَدْعُوْنَ فِیْہَا (وہ منگاتے ہونگے) جنت میں طلب کریں گے۔ بِکُلِّ فَاکِہَۃٍ اٰمِنِیْنَ (ہر قسم کے میوے اطمینان سے) وہ میوے زوال و انقطاع اور کثرت کی وجہ سے ضرر کے پیدا ہونے سے محفوظ ہونگے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

54، کذلک وزوجناھم ، یعنی جیسے ہم نے اس کا اعزاز کیا ان باغات اور چشموں اور لباس کے ساتھ جو ہم نے ابھی بیان کیے ۔ اسی طرح ہم نے ان کا اکرام کیا کہ ان کا نکاح کیا۔ ، بحور عین، یعنی ہم نے ان کو ان حوروں کے ساتھ ملادیا، عقد نکاح مراد نہیں ، اس لیے کہ عقید نکاح کے لیے نکاح کے لیے یوں نہیں کہا جاتا، زوجتہ بامراہ، ابو عبیدہ (رح) فرماتے ہیں کہ ہم نے ان حوروں کو ان کے جوڑے بنادیا۔ جیسا کہ جوتے کو جوتے کے ساتھ جو ڑاجاتا ہے۔ یعنی ہم نے ان کو دودو کردیا اور حورعین صاف ستھری سفید عورتیں۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ نگاہ ان کی سفیدی اور چمک داررنگ کی وجہ سے حیران ہوجائے ۔ ابوعبیدہ (رح) فرماتے ہیں کہ حور وہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 51–57

51۔ 57۔ اس سے پہلے کی آیتوں میں خدا تعالیٰ جب بد لوگوں کا حال بیان فرما چکا تو اب نیک لوگوں کا حال بیان فرمایا کہ بیشک جو لوگ پرہیز گار ہیں اور خدا سے ڈر کر دنیا میں گناہوں سے بچتے اور نیک کام کرتے ہیں وہ آخرت میں امن والی جگہ میں ہوں گے مراد اس سے جنت ہے کہ نہ اس میں موت ہوگی اور نہ کسی طرح کی بیماری ہوگی چین سے بےخوف رہیں گے باغوں کے اندر ریشمی باریک اور کپڑے چمک دارپہنیں گے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے ایک کی دوسرے کی طرف پیٹھ نہ ہوگی باہم ان کے محبت و سرور زیادہ ہوگا ‘ کذلک اس کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح کا اچھا معاملہ کرتے ہیں ہم پرہیز گاروں کے ساتھ ‘ پھر فرمایا بیاہ دیا ہم نے ان کو گورے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 51–59

آیت 51 یہ تقویٰ شعار لوگوں کی جزا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے ڈر کر گناہوں کو ترک کیا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔ جب ان سے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب کی نفی ہوگئی تو ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی رضا ثابت ہوگئی، نیز ثواب عظیم کے طور پر انہیں بیشمار درختوں کے گھنے سائے، پھل اور چشمے عطا ہوں گے، ان درختوں کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی جن کو اہل ایمان نعمتوں بھری جنت میں اپنے لئے نکال لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کی اضافت نعمتوں کی طرف کی ہے کیونکہ وہ جنت جن چیزوں پر مشتمل ہے وہ سب نعمتیں ہیں جو ہر لحاظ سے کامل ہیں اور کسی طرح بھی ان میں کوئی رکاوٹ اور کسی قسم کا کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

53 اہل جنت کے لیے ہر قسم کے پھلوں کی بہتات کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہاں پر وہ ہر قسم کے پھل اور لذت بخش چیزیں طلب کر رہے ہوں گے پورے امن و سکون کے ساتھ "۔ " فاکھہ " دراصل اس چیز کو کہا جاتا ہے جو لذت کے لئے کھائی جائے نہ کہ بھوک پیاس کی ضرورت کے لئے۔ اسی لئے پھلوں کو بھی " فاکہہ " کہا جاتا ہے کہ وہ بھی کھانے کے بعد محض لذت اور لطف اندوزی کے لئے کھائے جاتے ہیں۔ اور اہل جنت کو چونکہ بھوک پیاس کی کوئی تکلیف نہیں ستائے گی بلکہ وہ جو کچھ کھائیں گے لطف و لذت ہی کے لئے کھائیں گے اس لئے اس کو " فاکہہ " سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اسی لئے ہم نے اس کا ترجمہ لذت بخش چیزوں سے کیا ہے۔ جس میں ہر طرح کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 43–59

گنہگاروں کا حال اور نیکو کاروں کا حال تشریح : قیامت، حساب کا دن اور پھر بدلے کا دن۔ یہ سب بڑی وضاحت سے بیان کئے جا چکے ہیں۔ ایک بار پھر ہم اس پر غور کرتے ہیں بیشک انسانی تاریخ میں حق شناسی کی چنگاریاں بھی ملتی ہیں۔ مگر اس کا بڑا حصہ حق تلفی کی رو داد سے بھرا پڑا ہے۔ مورخ کو بڑی مایوسی ہوتی ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ انسان کا ضمیر جو کچھ چاہتا ہے دنیا کے واقعی حالات اس کے خلاف ہیں یہاں ہم چند اقوال نقل کرتے ہیں۔ والٹر : ” انسانی تاریخ محض جرائم اور مصائب کی تصویر ہے “۔ ہربرٹ اسن پر : ” تاریخ محض بےفائدہ گپ ہے “۔ نپولین : ” تاریخ تمام کی تمام لایعنی قصے کا نام ہے “۔ کیا انسانیت کا یہ عظیم الشان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 43–59

آیات 43 تا 59۔ اسرار ومعارف۔ کفار کا یہ حال ہوگا کہ کھانے کو انہیں زقوم (تھوہر کیکٹس) ملے گا اور بدکاروں کا کھاناایسا ہی ہوناچاہیے پھر وہ زقوم دوزخ کا ہوگا جبکہ دنیا کا بھی بہت کڑوا کسیلا اور بدشکل کانٹوں سے بھرپور ہوتا ہے وہ تو پیٹ میں ایسے کھولے گا جیسے پگھلا ہواتانبا ہو یا جی سے پانی کھولتا ہے اور حکم ہوگا کہ انہیں پکڑ لو اور گھسیٹتے ہوئے دوزخ کے درمیان لے جاؤ اور ان پر دوزخ کے جلتے پانی کا عذاب چھوڑ دو اور انہیں کہو اب اپنی کرتوتوں کا مزہ چکھو کہ تم تو بہت بڑے آدمی بنتے تھے اور تمہیں اللہ کی اطاعت اور نبی کی اتباع کرنے میں عار آتی تھی یہ وہی دوزخ ہے جس کا تمہین یقین نہ آتا تھا اور وہی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 اطمینان سے منگوانے کا مطلب یہ ہے کہ انہیں بدہضمی یا کسی قسم کی مضرت کا اندیشہ لاحق نہ ہوگا۔ اس لئے وہ جس مقدار میں جو میوہ منگوانا چاہیں گے بےفکری کے ساتھ منگوائیں گے اور وہ فوراً حاضر کردیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(44:55) یدعون مضارع جمع مذکر غائب۔ دعوۃ باب نصر۔ مصدر۔ وہ طلب کرتے ہیں یا طلب کریں گے۔ بکل فاکہۃ۔ یعنی پھلوں میں سے جس پھل کو پسند کریں گے۔ طلب کریں گے۔ امنین۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر بحالت نصب بوجہ حال۔ امن باب سمع مصدر سے محفوظ ہونا۔ امنین مطمئن ہونا۔ دل جمع۔ بےخوف۔ یعنی ان کو نہ پھلوں کے ختم ہونے کا کوئی اندیشہ ہوگا اور نہ کسی پھل کے کھانے سے کسی مضرت کا کوئی پہلو ہوگا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 43–59

لغات القرآن آیت نمبر 43 تا 59 : شجرت الزقوم ( زقوم ( جہنمیوں کی غذا) کا درخت) الاثیم ( گناہ گار) المھل (پگھلا ہوا تانبہ) یغلی (ابل رہا ہے ، کھول رہا ہے) البطون ( بطن) ( پیٹ) الحمیم (کھولتا پانی) اعتلوا ( گھسیٹتے لے جائو) صبوا (انڈیل دو ) ذق (چکھ) مقام امین ( امن و سکون کی جگہ) سندس ( باریک ریشم) استبرق (دبیر ریشم) تشریح : آیت نمبر 43 تا 59 : اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو نصیحت و عبرت کے لئے نہایت آسان اور سہل بنا کر بھیجا ہے جس میں اس حقیقت کو نہایت وضاحت سے بیان کردیا ہے کہ برے اور اچھے اعمال کا نتیجہ کیا ہے۔ جو لوگ دنیا میں زندگی بھر وقتی لذتوں ، خواہشوں ، تمناؤں اور جھوٹی عزت کے پیچھے دوڑتے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 51–57

اہل جنت کی پرکیف زندگی کابیان۔ (ف 1) اس سے پہلے کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ جب بدلوگوں کا حال بیان فرماچکا تو اب متقی لوگوں کا حال بیان فرمایا کہ بیشک جو لوگ پرہیزگار ہیں اور خدا سے ڈرکر دنیا میں گناہوں سے بچتے ہیں اور نیک کام کرتے ہیں وہ آخرت میں امن والی جگہ میں ہوں گے یعنی جنت میں نہ اس میں موت ہوگی اور نہ کسی طرح کی بیماری ہوگی، امن سے رہیں گے باغوں کے اندر ریشمی باریک اور دبیز کپڑے چمک دار پہنیں گے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے ایک دوسرے کی طرف پیٹھ نہ ہوگی۔ باہم ان کے محبت و سرور ہوگا۔ کذالک۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح کا اچھامعاملہ پرہیزگاروں کے ساتھ کرتے ہیں یوں ہی ان کو ہم حوریں جنت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 44–59

[13] یعنی یہ لوگ اگر نہ سمجھیں تو تم چندے انتظار کرو۔ ان کا انجام بد سامنے آجائے گا۔ یہ تو منتظر ہیں کہ تم پر کوئی افتاد پڑے

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 38–57

حل لغات :۔ بلوء ۔ آزمائش ۔ انعام ۔ ہم نے کائنات کو بلا مقصد نہیں پیدا کیا 1: مادیت کا نظریہ ہے ۔ کہ یہ کارگاہ حیات کا نتیجہ ہے ۔ محض بخت واخلاق کا اور مجازفۃ وتخمین کا ۔ یہ عالم حیات یونہی بلا کسی غرض اور غایت کے پیدا کردیا گیا ہے یا پیدا ہوگیا ہے ۔ اور اس کی تخلیق میں کسی اخلاقی ۔ نصب العین کو کوئی دخل نہیں ۔ قرآن حکیم اس نظریہ کی مخالفت کرتا ہے اور کہتا ہے ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو محض فعل عبث کے طور پر نہیں پیدا کیا ہے ۔ کہ اس کا کچھ مقصد بھی نہ ہو ۔ بلکہ ان کے بنانے میں حکمت ضرور ہے ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ زندگی کی تکمیل ہو ۔ اور انسان کو مواقع دیئے جائیں ۔ کہ وہ آخرت کے لئے تیاری…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(55) وہ ان باغوں میں اطمینان سے ہر قسم کے میوے طلب کرتے ہوں گے۔ یعنی ہر قسم کا اطمینان میسر ہوگا اور درآنحالیکہ وہ امن والے ہوں گے وہاں کے باغوں میں ہر قسم کے میوے خدام سے منگا رہے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 50–59

ف 2۔ یعنی آپ تبلیغ سے زیادہ فکر میں نہ پڑیئے نہ مخالفت پر رنج کیجئے، ان کا معاملہ خدا تعالیٰ کے سپرد کیجئے وہ خود سمجھ لے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جنت میں وہ اطمینان سے ہر طرح کی لذیذ چیزیں طلب کریں گے 55 ؎ یہ انسانوں کے فرشتہ سیرت جوڑے جنت میں پوری آزادی سے رہیں گے اور جتنی بار پھل طلب کریں گے اور جتنی مقدار میں چاہیں گے ان کے سامنے پیش کردئیے جائیں گے اور کسی طرح کی روک ورکاوٹ ان کو نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی طرح کا ان کو فکر وفاقہ ہوگا اور نہ ہی ان پھلوں اور کھانوں کو سنبھال سنبھال کر رکھنا پڑے گا۔ اس سے مقصود انسان کو بتایا ہے کہ جس چیز کی وہاں طلب ہوگی وہ تیار ملے گی کیونکہ کسی شخص کو وہاں ” بل “ کی ادائیگی نہیں کرنی ہوگی یہ سارے کے سارے ان کی دنیوی زندگی کی پاکیزگی کا صلہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق زندگی گزارنے کا نتیجہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 54–55

وَزَوَّجْنَاهُم بِحُورٍ‌ عِينٍ (We will marry them with houris having big dark eyes) - 44:54). The word tazwij originally means 'to make one person partner of another'. Later on it came to be utilised abundantly in the sense of 'marrying'. According to the second sense, the men of Paradise will be married technically to houris having big dark eyes. This is the apparent sense of verse (54). Although the inmates of Paradise will not be legally obligated to observe the precepts of Shari'ah, the purpose of marriage will be to honour them. Therefore, this should not raise any objection. If the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

43 That is, they will order the attendants in Paradise to bring anything they would like in any measure they would demand, and it will be presented before them. In this world, a man cannot ask for a thing in a hotel, or even his own things in his own house, with the freedom and satisfaction as he will ask for these in Paradise, for in the world nothing is found anywhere in un-limited measure; whatever man uses here, he has to pay for it. In Paradise, things will belong to Allah, and the servants will enjoy full freedom to use them. Neither will there be the danger of the failure of the…

Read the full tafseer →