Ad-Dukhaan 44:54

Ad-Dukhaan · from ayah 54

44:54

كَذٰلِكَ ۫— وَزَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍ ۟ؕكَذٰلِكَ وَزَوَّجۡنٰهُمۡ بِحُوۡرٍ عِيۡنٍؕ

اس طرح (کا حال ہوگا) اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی سفید رنگ کی عورتوں سے ان کے جوڑے لگائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Thus. And We will marry them to fair women with large, [beautiful] eyes.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 3 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Ad-Dukhaan

All translations of 44:54

یہ ہوگی ان کی شان اور ہم گوری گوری آہو چشم عورتیں ان سے بیاہ دیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس طرح (کا حال ہوگا) اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی سفید رنگ کی عورتوں سے ان کے جوڑے لگائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ اسی طرح ہے اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ان کا نکاح کردیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان کے ساتھ یہی معاملہ ہوگا اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں کا ان سے بیاہ کردیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یونہی ہے، اور ہم نے انہیں بیاہ دیا نہایت سیاہ اور روشن بڑی آنکھوں والیوں سے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اسی طرح (ہی) ہوگا، اور ہم انہیں گوری رنگت والی کشادہ چشم حوروں سے بیاہ دیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اسی طرح ہوگا اور ہم ان کا نکاح سفید جسم، سیاہ آنکھوں والی عورتوں سے کر دینگے، جو بڑی آنکھوں والی ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہم انہیں بڑی بڑی آنکھوں والی اور گوری گوری عورتوں سے بیاہ دیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم ان سے بیاہ دیں گے غزال چشم حوریں ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یونہی ہوگا اور ہم نے ان کی شادی بھی کردی ہوگی گوری رنگت کی آہو چشم عورتوں سے

— مولانا اسحاق مدنی

یہ بات اسی طرح ہے اور ہم ان کی زوجیت میں دے دیں گے گوری گوری بڑی بڑی آنکھوں والیوں کو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اسی طرح ہوگا اور ہم ان سے بیاہ دیں گے بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہاں اسی طرح ہوگا۔ اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی سفید رنگ کی عورتوں سے ان کو بیاہ دیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Thus shall it be: and We shall espouse them to fair, wide-eyed maidens.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Thus (it will happen,) and We will marry them with houris having big dark eyes.

— Muhammad Taqi Usmani

Thus (it will happen,) and We will marry them with houris having big dark eyes.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So (it will be). And We shall marry them to Hur (fair females) with wide lovely eyes,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Even so (it will be). And We shall wed them unto fair ones with wide, lovely eyes.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Thus. And We will marry them to fair women with large, [beautiful] eyes.

— Saheeh International

We shall unite them to maidens with big black and white lovely eyes.

— Muhammad Sarwar

Thus (shall it be), and We will wed them with Houris pure, beautiful ones.

— Muhammad Habib Shakir

Even so. And We shall pair them with fair damsels large- eyed.

— Abdul Majid Daryabadi

So; and We shall join them to fair women with beautiful, big, and lustrous eyes.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 44:54

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 51–59

جب موت کو ذبح کرایا جائے گا بدبختوں کا ذکر کر کے اب نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے۔ اسی لئے قرآن کریم کو مثانی کہا گیا ہے اس دنیا میں جو اللہ تعالیٰ مالک و خالق و قادر سے ڈرتے دبتے رہے وہ قیامت کے دن جنت میں نہایت امن وامان سے ہوں گے۔ موت سے وہاں سے نکلنے کے، غم و رنج، گھبراہٹ، مشکلوں، دکھ درد، تکلیف، مشقت، شیطان اور اس کے مکر سے رب کی ناراضگی سے غرض تمام آفتوں اور مصیبتوں سے نڈر بےفکر مطمئن اور بےاندیشہ ہوں گے۔ جہنمیوں کو تو زقوم کا درخت اور آگ جیسا گرم پانی ملے گا اور انہیں جنتیں اور نہریں ملیں گی مختلف قسم کے ریشمی پارچہ جات انہیں پہننے کو ملیں گے جن میں نرم باریک بھی ہوگا اور دبیز چمکیلا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الدُّخَان 42 اصل الفاظ ہیں حُوْرٌ عِیْن۔ حور جمع ہے حوراء کی اور حوراء عربی زبان میں گوری عورت کو کہتے ہیں۔ اور عین جمع ہے عیناء کی، اور یہ لفظ بڑی بڑی آنکھوں والی عورت کے لیے بولا جاتا ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو جلد چہارم، الصافات، حاشیہ 26 و 29)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 54–55

(آیت) وَزَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِيْنٍترویج کے معنی اصل میں ہیں ”کسی کو کسی کا جوڑ قرار دے دینا ‘ بعد میں یہ لفظ نکاح کرانے کے معنی میں بکثرت استعمال ہونے لگا ہے۔ اس جگہ اس کے دونوں معنی ہو سکتے ہیں۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ جنتی مردوں کا حور عین سے باقاعدہ عقد نکاح کرا دیا جائے گا اور اگرچہ جنت میں کوئی شخص احکام کا مکلف نہیں ہوگا لیکن یہ عقد نکاح بطور اعزازو اکرام کے ہوگا اس لئے کوئی اشکال نہیں اور اگر پہلے معنی لئے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ حورعین کو جنتی مردوں کا جوڑا قرار دے دیا جائے گا اور وہ جنتی عورتیں بطور ہبہ انہیں عطا کردی جائیں گی اور اس کے لئے دنیا کی طرح عقد نکاح کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 54–55

کذلک وزوجنھم بحورعین، یدعون فیھا بکل فاکھۃ امنین (55-54) فرمایا کہ ان کی مسرت کی تکمیل کے لئے ہم آہو چشم حوریں ان کی زوجیت میں دے دیں گے۔ عربی ادب میں عورت کے لئے یہ صفت اس کے کمال حسن کی ایک جامع تعبیر ہے۔ یدعون فیھا الآیۃ ان کے لئے ہر قسم کے میوئوں کی بہتات ہوگی وہ جو میوے چاہیں گے حاضر باش خدام سے طلب کریں گے۔ نہ ان کو میووں کی کمی کا کوئی اندیشہ ہوگا۔ نہ اس عیش سے محرومی کا کوئی خوف ہوگا اور نہ موت ہی کا کوئی کھٹکا ہوگا۔ ہر اندیشہ سے نچنت وہ ابدی عیش کا لطف اٹھائیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

54۔ 2 حُورَاَءُ اس لئے کہا جاتا ہے کہ نظریں ان کے حسن و جمال کو دیکھ کر حیرت زدہ ہوجائیں گی کشادہ چشم جیسے ہرن کی آنکھیں ہوتی ہیں۔ ہم پہلے وضاحت کر آئے ہیں کہ ہر جنتی کو کم ازکم دو حوریں ضرور ملیں گی، جو حسن جمال کے اعتبار سے چندے آفتاب و ماہتاب ہوں گی۔ البتہ ترمذی کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے، جسے صحیح کہا گیا ہے، کہ شہید کو خصوصی طور پر 72 حوریں ملیں گی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 54–59

14: یہ لوگ تو جھٹلانے کے انداز میں قیامت کا انتظار کر رہے ہیں، اور آنحضرت ﷺ کو تصدیق کے ساتھ اس کے انتظار کا حکم دیا گیا ہے کہ اس وقت ساری حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی، اور ان کافروں کو سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 43–57

آیت نمبر 43 تا 57 یہ منظر زقوم کے درخت کے پیش کرنے سے شروع ہوتا ہے اور یہ بدکاروں کی خوراک ہوگا۔ اور یہ اس قدر کڑوا ہوگا جس طرح تیل کی تلچھٹ کڑوی ہوتی ہے۔ یہ جہنمیو کی خوراک کی خوفناک تصویر کشی ہے اور یہ تلچھت پیٹ میں یوں جوش مارے گا جس طرح پتیلے میں پانی کھولتا ہے۔ ان بدکاروں کے پیٹ میں ، جو برتری دکھاتے تھے رب پر اور اس کے رسول ﷺ امین پر۔ فرمان الٰہی یوں ان ” شرفاء “ کے لئے صادر ہوتا ہے۔ خذوہ فاعتلوہ الی سواء الجحیم (44 : 47) ثم صبوا فوق راسہ من عذاب الحمیم (44 : 48) ” پکڑو اسے اور رگیدنے ہوئے لے جاؤ اس کو جہنم کے بیچوں بیچ اور انڈیل دو اس کے سر پر کھولتے پانی کا عذاب “۔ یعنی پکڑو اسے سخت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 54 { کَذٰلِکَقف وَزَوَّجْنٰـہُمْ بِحُوْرٍعِیْنٍ } ”اسی طرح ہوگا ‘ اور ہم ان سے بیاہ دیں گے بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

36 حور حوراء کی جمع ہے اور حوراء بمعنی گورے رنگ کی عورت اور عین عیناء کی جمع ہے۔ بمعنی عورت جس کی آنکھیں موٹی ہوں۔ آنکھ کی پتلی خوب سیاہ ہو اور سفیدی خوب سفید ہو۔ اور ایسی عورت انتہائی خوب صورت ہوتی ہے۔ اہل جنت کو ایک تو ایسی عورتیں ملیں گی دوسرے وہ جو دنیا میں ان کی بیویاں تھیں اور مومن تھیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 51–55

27۔ یعنی اہل جنت علاوہ روحانی نعمتوں کے ہر قسم کی مادی وجسمانی لذتوں سے بھی پوری طرح لذت گیر ہوں گے، یہ نہ ہوگا کہ یہاں کی جسمانی لذتوں سے انہیں وہاں خواہ مخواہ بےجرم محروم کردیاجائے۔ ہمارے ہاں کے جن جدید اہل قلم نے جنت کی لذات جسمانی کی تاویلیں کرکے انہیں خواہ مخواہ بدل دینا چاہا ہے وہ درحقیقت خود مسیحیت اور دوسرے باطل مذہبوں سے کسی حد تک مرعوب ہیں جنہوں نے جسم وجسمانیات ہی کو مطلق شر تسلیم کیا ہے۔ (آیت) ” مقام امین “۔ یعنی ایسی جگہ جو مصیبت، ہر نہ خوشگواری سے محفوظ ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 43–59

آیت نمبر 43 تا 59 ترجمہ : بیشک زقوم (تھوہڑ) کا درخت جو کڑوا اور خبیث ترین ہے تہامہ میں پیدا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ میں پیدا فرمائے گا، مجرموں کا کھانا ہے یعنی ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کا جو بڑا گنہگار ہیں، اور وہ سیاہ تیل (تارکول) کی تلچھٹ کے مانند ہے (کالمھل) ثانی خبر ہے، وہ تیز گرم پانی کے مانند پیٹ میں کھولتا رہتا ہے (تغلی) تاء فوقانیہ کے ساتھ تیسری خبر ہے اور یاء تحتانیہ کے ساتھ المھل سے حال ہے جہنم پر مقرر فرشتوں کو حکم دیا جائے گا کہ مجرم کو پکڑ لو پھر گھسیٹتے ہوئے بیچ جہنم تک پہنچا دو (فاعتلوہ) کسرۂ اور ضمہ تاء کے ساتھ یعنی اس کو سختی اور شدت کے ساتھ کھینچو، پھر اس کے سر پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

کَذٰلِکَ یعنی بات یونہی ہوگی۔ وزوجنھم بحور عین اور ہم ان کو گوری گوری ‘ فراخ آنکھوں والیوں سے بیاہ کردیں گے۔ زَوَّجْنٰھُمْ سے نکاح کرانا مراد نہیں ہے بلکہ جوڑا لگا دینا مراد ہے ‘ اسی لئے بِحُوْرٍ باء کے ساتھ ذکر کیا ‘ نکاح کرانا مراد ہوتا تو حورًا عینًا بغیر بَ کے کہا جاتا۔ عربی میں اگر کسی عورت کا کسی مرد کے ساتھ نکاح کرانے کا ذکر کیا جاتا ہے تو زَوَّجْتُہٗ بِفُلاَنَۃٍ نہیں کہا جاتا بلکہ زوجتہ فلانۃً کہا جاتا ہے۔ ابو عبیدہ نے جملۂ مذکورہ کی تشریح اس طرح کی : ہم نے حوروں سے ان کے جوڑے لگا دئیے۔ جیسے ایک جوتی کا جوڑا دوسری جوتی ہوتی ہے۔ حُوْرٌ۔ حوراء کی جمع ہے ‘ یعنی صاف گوری عورتیں جن کے رنگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 54–57

(54۔ 57) اسی طرح جنت میں اہل ایمان کا مقام ہوگا اور ہم ان کا گوری گوری بڑی بڑی آنکھوں والیوں اور خوبصورت چہرے والی حوروں سے نکاح کردیں گے اور وہ جنت میں موت و عذاب اور زوال سے امن میں ہوں گے، اور ہر قسم کے میوے منگاتے ہوں گے یا یہ کہ خود ان کو پیش ہوتے ہوں گے اور وہ جنت میں سوائے اس موت کے جو دنیا میں آچکی تھی اور موت کا ذائقہ بھی نہ چکھیں گے اور ان کا پروردگار ان کو دوزخ کے عذاب سے بھی بچا لے گا یہ سب کچھ آپ کے پروردگار کے فضل سے ہوگا یا یہ کہ اس کی بخشش و انعام سے۔ اور یہی فضل خداوندی بڑی کامیابی ہے کہ جنت حاصل ہوگی اور دوزخ سے بچ گئے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) کذلک :”ای الامر کذلک“ یا ”یکون کذلک“ یعنی ایسے ہی ہوگا، نہ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ (2) وزوجنھم یحورعین :”حور“ ”حورائ“ کی جمع ہے۔ نہایت گوری عورت جس کی آنکھوں کی سیاہی بہت سیاہ اور سفیدی بہت سفید ہو، جسے دیکھتے ہی بندہ حیران رہ جائے۔ بعض نے معنی کیا، سیاہ آنکھ والی عورت جس کی آنکھ میں سفیدی کا حصہ بہت کم ہو۔”عین“ ”عینآئ“ کی جمع ہے، بڑی آنکھوں والی عورت۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

امراسی طرح ہے جس کا ہم نے ذکر کیا۔ اس پر وقف ہوگا، ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے جس طرح ہم نے انہیں جنت میں داخل کیا اور ان کے ساتھ معاملہ کیا جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے اسی طرح ہم نے انہیں عزت دی کہ ان کی شادی حورعین سے کردی۔ عین کے بارے میں گفتگو سورة صافات میں گزر چکی ہے۔ حور کا معنی سفید ہے (1) یہ قتادہ اور عام علماء کا قول ہے۔ یہ حوراء کی جمع ہے۔ حوراء کا معنی سفید ہے، جس کی پنڈلی اس کے کپڑے کے باہر سے دکھائی دے گی اور دیکھنے والا اپنا چہرہ اس کے پستان سے دیکھ لے گا جس طرح آئینہ سے دیکھتا ہے کیونکہ اس کی جلد بڑی باریک چمڑہ ترو تازہ اور رنگ صاف ہوگا اس تاویل کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابن…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 51–59

18:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان المتقین فی مقام امین “ (بلاشبہ متقی لوگ امن کی جگہ ہوں گے یعنی موت اور عذاب سے امن میں ہوں گے۔ 19:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ضحاک (رح) سے (آیت ) ” فی مقام امین “ کے بارے میں روایت کیا کہ (جنت) میں موت سے امن میں ہوں گے اور بوڑھا ہونے سے بھی امن میں ہوں گے۔ اور نہ وہ بھوکے ہوں گے اور نہ وہ ننگے ہوں گے۔ 20:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان المتقین فی مقام امین “ یعنی وہ امن میں ہوں گے شیطان سے اور بیماریوں سے اور غموں سے (آیت ) ” زوجنا ھم بحور عین “ (اور ہم ان کا گوری گوری فراخ آنکھوں والیوں سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

كَذٰلِكَ ۣ [ ایسے ہی ہوگا ] وَزَوَّجْنٰهُمْ [ اور ان کے ہم جوڑے بنادیں گے ] بِحُوْرٍ [ خوبصورت آنکھوں ] عِيْنٍ [ بڑی آنکھوں والیوں سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 51–57

متقیوں کے انعامات، باغ اور چشمے، لباس اور ازواج، ہر قسم کے پھل اور حیات ابدی دوزخیوں کے عذاب بتانے کے بعد اہل جنت کے بعض انعامات ذکر فرمائے۔ اولاً تو یہ فرمایا کہ متقی لوگ امن وامان کی جگہ میں ہوں گے یعنی جنت ایسی جگہ ہے کہ جہاں کسی قسم کا خوف و ہراس، بےاطمینانی، بےچینی نہیں ہوگی اور ہمیشہ اسی حالت میں رہیں گے انہیں کبھی خوف یا غم نہ ہوگا نہ وہاں سے نکالے جانے کا خطرہ ہوگا۔ ثانیاً فرمایا کہ یہ متقی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ ثالثاً یہ فرمایا کہ سندس اور استبرق کا لباس پہنیں گے سندس باریک ریشم کو اور استبرق موٹے ریشم کو کہتے ہیں۔ رابعاً یہ فرمایا کہ آپس میں مقابل ہوکر ایک دوسرے کے سامنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 40–59

تہدید وتنبیہ از روز قیامت وبیان نجات و کامیابی مومنین ومتقین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان یوم الفصل ...... الی ........ فارتقب انھم مرتقبون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مجرمین کی سزاؤں اور ان کے عبرت ناک انجام کا بیان تھا جس کے بعد ان کے بالمقابل مطیعین کے انعام واکرام کا ذکر فرمایا گیا تو اب اختتام مضمون پر مزید یوم آخرت کی عظمت ومصیبت کا بیان فرماتے ہوئے اہل ایمان وتقوی پر حق تعالیٰ کے جو انعامات ہوں گے ان کا ذکر کیا گیا ، اور کافر ونافرمان کیسی شدت و تکلیف اور مصیبتوں میں مبتلا ہوں گے اس کو بھی واضح کرتے ہوئے فیصلہ فرمایا گیا کہ اصل کامیابی اور کامرانی حق تعالیٰ پر ایمان لانے اور آنحضرت ﷺ کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 52–55

27:۔ ” یدعون فیہا “ وہ جنت میں جو میوہ چاہیں گے طلب کریں گے یعنی وہاں انہیں ہر منہ مانگا میوہ ملے گا اور وہ ہر ضرر و تکلیف سے محفوظ ہوں گے۔ ” لایذوقون الخ “ جنت میں ان پر موت نہیں آئیگی ایک بار جو موت ان کے لیے مقدر تھی اس کا مزہ وہ دنیا میں چکھ چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں دوزخ کے عذاب سے بھی بچائیگا۔ یہ ساری نعمتیں انہیں محض اللہ کے فضل و کرم سے حاصل ہوں گی اور اصل میں یہی بڑی کامیابی ہے کہ جنت میں ہر نعمت میسر ہو، تکلیف کا شائبہ تک نہ ہو، نہ نعیم جنت کو زوال ہو، جنت والوں پر فنا آئے، دائمی راحت اور دائمی زندگی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 42–59

ربط آیات پہلے قرآن کی حقانیت اور صداقت بیان کی۔ پھر توحید کا مسئلہ سمجھایا ، مشرکین کی قباحت ، شرک کا رد اور پھر اس کا انجام بھی بیان ہوا۔ حق کی مخالفت کرنے والوں میں فرعون اور اس کے حواریوں کا تذکرہ ہوا اور پھر ان کی غرقابی کا ذکر بھی ہوا اللہ نے بنی اسرائیل کو فرعن کی غلامی سے نجات دلائی اور ان کو اپنے زمانے میں ہاں بھر میں فضیلت عطا کی ، پھر قریش مکہ اور مشرکین عرب کو تنبیہ کی گئی کہ تم سے پہلے قوم تبع جیسے بڑے بڑے ساز و سامان اور دولت والے لوگ گزر چکے ہیں ، ان کے حالات سے عبرت پکڑو تم کس بنا پر قیامت کا انکار کر رہے ہو ، فرمایا ہم نے ارض و سما اور ان کے درمیان کی اشیاء کو محض لہو و لہب کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كَذٰلِكَ۝ 0 ۣ وَزَوَّجْنٰہُمْ بِحُوْرٍ عِيْنٍ۝ 54 ۭ زوج يقال لكلّ واحد من القرینین من الذّكر والأنثی في الحیوانات الْمُتَزَاوِجَةُ زَوْجٌ ، ولكلّ قرینین فيها وفي غيرها زوج، کالخفّ والنّعل، ولكلّ ما يقترن بآخر مماثلا له أو مضادّ زوج . قال تعالی: فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثى[ القیامة/ 39] ، وقال : وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ [ البقرة/ 35] ، وزَوْجَةٌ لغة رديئة، وجمعها زَوْجَاتٌ ، قال الشاعر : فبکا بناتي شجوهنّ وزوجتي وجمع الزّوج أَزْوَاجٌ. وقوله : هُمْ وَأَزْواجُهُمْ [يس/ 56] ، احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْواجَهُمْ [ الصافات/ 22] ، أي : أقرانهم المقتدین بهم في أفعالهم،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 43–55

دارِ آخرت کا ثبوت کرکے اب کچھ وہاں کے حالات بیان فرماتا ہے۔ سب سے پہلے بدکاروں کی سزا بیان کرتا ہے فقال ان شجرۃ الزقوم گناہگاروں کا کھانا تھور ہوگا جو نہایت تلخ اور بدمزہ چیز ہے لاچار ہو کر اسی کو کھاویں گے وہ پیٹ میں جا کر گرم پانی کی طرح کھولے گا مہل تلچھٹ یا تانبا سیسہ وغیرہ پگھلا ہوا۔ مہل پر جملہ تمام ہوگیا پھر یغلی سے اس کے غلیان کی کیفیت شروع ہوتی ہے۔ بعض کالمہل کو یغلی سے بھی ربط دیتے ہیں۔ اس کے لیے یہ بھی فرشتوں کو حکم دیا جاوے گا کہ اس کو پکڑو اور دھکے دیتے ہوئے جہنم میں لے جاؤ اور اس کے سر پر کھولتا ہوا پانی ڈالو اور کہو چکھ کیونکہ تو اپنے زعم میں بڑا عزت والا ‘ زبردست سمجھا ہوا تھا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 54–55

کَذٰلِکَ قف وَزَوَّجْنٰـھُمْ بِحُوْرٍعِیْنٍ ۔ یَدْعُوْنَ فِیْھَا بِکُلِّ فَاکِھَۃٍ اٰمِنِیْنَ ۔ (الدخان : 54، 55) (یہ ہوگی اللہ سے ڈرنے والوں کی شان، اور ہم ان سے بیاہ دیں گے آہوچشم حوریں۔ وہ اس میں طلب کریں گے ہر قسم کے میوے نہایت اطمینان سے۔ ) اہلِ جنت کی مسرتوں کی تکمیل اہلِ جنت پر عنایات کی یہ بارش دیکھ کر کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جس طرح ہر قسم کی تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بڑے بڑے مصائب کو استقامت کی ڈھال پر لینا پڑتا ہے انسانی ہمت دم توڑنے لگتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ایک مومن کی گردن کو خم نہیں ہونے دیتا۔ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک ایک…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 52–57

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کی سزا کے بیان کے بعد جنتیوں کے انعامات کا تذکرہ۔ فہم القرآن کا مطالعہ کرنے والے حضرات جانتے ہیں کہ یہ بات کئی مقامات پر ذکر ہوچکی ہے کہ قرآن مجید کا اسلوب تکلّم ہے کہ وہ اپنے مخاطبین کے سامنے بیک وقت جنتیوں کے انعامات اور جہنمیوں کے عذاب کا ذکر کرتا ہے تاکہ قرآن کی تلاوت کرنے والا شخص موقع پر فیصلہ کرپائے کہ اس نے کس چیز کا انتخاب کرنا ہے۔ اسی اسلوب کے پیش نظر جہنمیوں کی سزاؤں کا ذکر کرنے کے متصل بعد جنتیوں کے انعامات کا تذکرہ کیا جارہا ہے۔ جنت میں وہی شخص داخل ہوگا جس کا عقیدہ کفر و شرک کی ملاوٹ سے پاک ہوگا اور اس نے سنت رسول کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 54 : کَذٰلِکَ (یہ بات اسی طرح ہے) کاف مرفوع ہے۔ ای الامرکذلک۔ مبتداء محذوف کی خبر ہے۔ وَزَوَّجْنٰہُمْ (ہم بیاہ کر دینگے) جوڑا بنادیں گے۔ اسی لئے باء سے متعدی کیا گیا ہے۔ بحور : (گوری گوری بڑی بڑی آنکھوں والیوں سے) حور جمع حوراء کی ہے۔ وہ آنکھ کی انتہاء سیاہی اور انتہائی سفیدی والی کو کہتے ہیں۔ عِیْنٍ جمع عیناء کی ہے بمعنی وسیع اور بڑی آنکھ والی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 52–54

51، ان المتقین فی مقام امین، اہل مدینہ اور اہل شام نے، فی مقام ، میم کے پیش کے ساتھ مصدرہونے کی بناء پر پڑھا ہے ۔ یعنی اقامت میں ۔ اور دیگر حضرات نے میم کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی فی مجلس امین پرامن مجلس میں جس میں وہ غیر سے امن میں ہوں گے یعنی موت سے اور اس سے نکلنے سے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 51–57

51۔ 57۔ اس سے پہلے کی آیتوں میں خدا تعالیٰ جب بد لوگوں کا حال بیان فرما چکا تو اب نیک لوگوں کا حال بیان فرمایا کہ بیشک جو لوگ پرہیز گار ہیں اور خدا سے ڈر کر دنیا میں گناہوں سے بچتے اور نیک کام کرتے ہیں وہ آخرت میں امن والی جگہ میں ہوں گے مراد اس سے جنت ہے کہ نہ اس میں موت ہوگی اور نہ کسی طرح کی بیماری ہوگی چین سے بےخوف رہیں گے باغوں کے اندر ریشمی باریک اور کپڑے چمک دارپہنیں گے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے ایک کی دوسرے کی طرف پیٹھ نہ ہوگی باہم ان کے محبت و سرور زیادہ ہوگا ‘ کذلک اس کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح کا اچھا معاملہ کرتے ہیں ہم پرہیز گاروں کے ساتھ ‘ پھر فرمایا بیاہ دیا ہم نے ان کو گورے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 51–59

آیت 51 یہ تقویٰ شعار لوگوں کی جزا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے ڈر کر گناہوں کو ترک کیا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔ جب ان سے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب کی نفی ہوگئی تو ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی رضا ثابت ہوگئی، نیز ثواب عظیم کے طور پر انہیں بیشمار درختوں کے گھنے سائے، پھل اور چشمے عطا ہوں گے، ان درختوں کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی جن کو اہل ایمان نعمتوں بھری جنت میں اپنے لئے نکال لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کی اضافت نعمتوں کی طرف کی ہے کیونکہ وہ جنت جن چیزوں پر مشتمل ہے وہ سب نعمتیں ہیں جو ہر لحاظ سے کامل ہیں اور کسی طرح بھی ان میں کوئی رکاوٹ اور کسی قسم کا کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

52 اہل جنت کی زوجیت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے ان کی شادی کردی ہوگی گوری رنگت کی آہوچشم حوروں کے ساتھ "۔ " عین " جمع ہے " عینا " کی۔ جس کے معنیٰ ہیں " خوبصورت موٹی آنکھوں والی " اور " حور " کے معنیٰ ہیں " گوری رنگت والی " اور یہ جنت ہی کی ایک خاص مخلوق ہوگی جس کو اللہ پاک اہل جنت کی زوجیت کے لئے خاص طور پر پیدا فرمائیں گے اور اپنی وہ صالح جنتی بیویاں جو اہل جنت کو ملیں گی وہ اس کے علاوہ ہوں گی۔ اور وہاں کی نئی اٹھان اور نئی زندگی کے باعث وہ ایک اور ہی شان کی ہوں گی ۔ سبحان اللہ !۔ کیا کہنے جنت کی رحمتوں اور عظمتوں کے ۔ اللہ پاک اپنے کرم سے نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یارب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 43–59

گنہگاروں کا حال اور نیکو کاروں کا حال تشریح : قیامت، حساب کا دن اور پھر بدلے کا دن۔ یہ سب بڑی وضاحت سے بیان کئے جا چکے ہیں۔ ایک بار پھر ہم اس پر غور کرتے ہیں بیشک انسانی تاریخ میں حق شناسی کی چنگاریاں بھی ملتی ہیں۔ مگر اس کا بڑا حصہ حق تلفی کی رو داد سے بھرا پڑا ہے۔ مورخ کو بڑی مایوسی ہوتی ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ انسان کا ضمیر جو کچھ چاہتا ہے دنیا کے واقعی حالات اس کے خلاف ہیں یہاں ہم چند اقوال نقل کرتے ہیں۔ والٹر : ” انسانی تاریخ محض جرائم اور مصائب کی تصویر ہے “۔ ہربرٹ اسن پر : ” تاریخ محض بےفائدہ گپ ہے “۔ نپولین : ” تاریخ تمام کی تمام لایعنی قصے کا نام ہے “۔ کیا انسانیت کا یہ عظیم الشان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 43–59

آیات 43 تا 59۔ اسرار ومعارف۔ کفار کا یہ حال ہوگا کہ کھانے کو انہیں زقوم (تھوہر کیکٹس) ملے گا اور بدکاروں کا کھاناایسا ہی ہوناچاہیے پھر وہ زقوم دوزخ کا ہوگا جبکہ دنیا کا بھی بہت کڑوا کسیلا اور بدشکل کانٹوں سے بھرپور ہوتا ہے وہ تو پیٹ میں ایسے کھولے گا جیسے پگھلا ہواتانبا ہو یا جی سے پانی کھولتا ہے اور حکم ہوگا کہ انہیں پکڑ لو اور گھسیٹتے ہوئے دوزخ کے درمیان لے جاؤ اور ان پر دوزخ کے جلتے پانی کا عذاب چھوڑ دو اور انہیں کہو اب اپنی کرتوتوں کا مزہ چکھو کہ تم تو بہت بڑے آدمی بنتے تھے اور تمہیں اللہ کی اطاعت اور نبی کی اتباع کرنے میں عار آتی تھی یہ وہی دوزخ ہے جس کا تمہین یقین نہ آتا تھا اور وہی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 52–54

ف 3 حور ” حورا کی جمع ہے جس کے معنی ” گورے رنگ کی عورت “ کے ہیں اور ” عین عینا “ کی جمع ہے اور اس سے مراد ڑی اور سیاہ آنکھوں والی عورت ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(44:54) کذلک : ای الامر کذلک (بات یونہی ہوگی) او اتینا ہم مثل ذلک۔ ہماری دادودہش ایسی ہی ہوگی (بیضاوی) وزوجنھم بحور عین : اور ہم ان کو گوری گوری فراخ آنکھوں والیوں سے بیاہ کردیں گے۔ زوجنھم : زوجنا ماضی جمع متکلم تزویج (تفعیل) مصدر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ہم نے ان کو بیاہ دیں۔ ہم ان کو بیاہ دیں گے (ماضی بمعنی مستقبل) زوجناہم سے مراد نکاح کرانا نہیں ہے بلکہ جوڑ لگا دینا مراد ہے اسی لئے بحور باء کے ساتھ ذکر کیا نکاح کرانا مراد ہوتا تو حورا عینا بغیر ب کے کہا جاتا۔ عربی میں اگر کسی مرد کا کسی عورت کے ساتھ نکاح کرانے کا ذکر کیا جاتا ہے تو زوجنتہ بفلانۃ نہیں آتا بلکہ زوجتہ فلانۃ کہا جاتا ہے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 43–59

لغات القرآن آیت نمبر 43 تا 59 : شجرت الزقوم ( زقوم ( جہنمیوں کی غذا) کا درخت) الاثیم ( گناہ گار) المھل (پگھلا ہوا تانبہ) یغلی (ابل رہا ہے ، کھول رہا ہے) البطون ( بطن) ( پیٹ) الحمیم (کھولتا پانی) اعتلوا ( گھسیٹتے لے جائو) صبوا (انڈیل دو ) ذق (چکھ) مقام امین ( امن و سکون کی جگہ) سندس ( باریک ریشم) استبرق (دبیر ریشم) تشریح : آیت نمبر 43 تا 59 : اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو نصیحت و عبرت کے لئے نہایت آسان اور سہل بنا کر بھیجا ہے جس میں اس حقیقت کو نہایت وضاحت سے بیان کردیا ہے کہ برے اور اچھے اعمال کا نتیجہ کیا ہے۔ جو لوگ دنیا میں زندگی بھر وقتی لذتوں ، خواہشوں ، تمناؤں اور جھوٹی عزت کے پیچھے دوڑتے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 51–57

اہل جنت کی پرکیف زندگی کابیان۔ (ف 1) اس سے پہلے کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ جب بدلوگوں کا حال بیان فرماچکا تو اب متقی لوگوں کا حال بیان فرمایا کہ بیشک جو لوگ پرہیزگار ہیں اور خدا سے ڈرکر دنیا میں گناہوں سے بچتے ہیں اور نیک کام کرتے ہیں وہ آخرت میں امن والی جگہ میں ہوں گے یعنی جنت میں نہ اس میں موت ہوگی اور نہ کسی طرح کی بیماری ہوگی، امن سے رہیں گے باغوں کے اندر ریشمی باریک اور دبیز کپڑے چمک دار پہنیں گے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے ایک دوسرے کی طرف پیٹھ نہ ہوگی۔ باہم ان کے محبت و سرور ہوگا۔ کذالک۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح کا اچھامعاملہ پرہیزگاروں کے ساتھ کرتے ہیں یوں ہی ان کو ہم حوریں جنت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 44–59

[13] یعنی یہ لوگ اگر نہ سمجھیں تو تم چندے انتظار کرو۔ ان کا انجام بد سامنے آجائے گا۔ یہ تو منتظر ہیں کہ تم پر کوئی افتاد پڑے

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 38–57

حل لغات :۔ بلوء ۔ آزمائش ۔ انعام ۔ ہم نے کائنات کو بلا مقصد نہیں پیدا کیا 1: مادیت کا نظریہ ہے ۔ کہ یہ کارگاہ حیات کا نتیجہ ہے ۔ محض بخت واخلاق کا اور مجازفۃ وتخمین کا ۔ یہ عالم حیات یونہی بلا کسی غرض اور غایت کے پیدا کردیا گیا ہے یا پیدا ہوگیا ہے ۔ اور اس کی تخلیق میں کسی اخلاقی ۔ نصب العین کو کوئی دخل نہیں ۔ قرآن حکیم اس نظریہ کی مخالفت کرتا ہے اور کہتا ہے ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو محض فعل عبث کے طور پر نہیں پیدا کیا ہے ۔ کہ اس کا کچھ مقصد بھی نہ ہو ۔ بلکہ ان کے بنانے میں حکمت ضرور ہے ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ زندگی کی تکمیل ہو ۔ اور انسان کو مواقع دیئے جائیں ۔ کہ وہ آخرت کے لئے تیاری…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(54) یہ سب اسی طرح ہوگا اور ہم گوری گوری بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں کو ان سے بیاہ دیں گے۔ یا حوروں کو ان کا قرین بنادیں گے چونکہ مفسرین کے دو قول ہیں اس لئے ہم نے ایک کو اختیار کرلیا ہے اور دوسرے کی طرف اشارہ کردیا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 50–59

ف 2۔ یعنی آپ تبلیغ سے زیادہ فکر میں نہ پڑیئے نہ مخالفت پر رنج کیجئے، ان کا معاملہ خدا تعالیٰ کے سپرد کیجئے وہ خود سمجھ لے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ ساری باتیں اسی طرح ہوں گی اور ان کے نکاح میں خوبصورت عورتیں دی جائیں گی 45 ؎ (کذلک) ہاں ! اسی طرح ہوگا۔ یعنی اہل جنت کو وہ سب کچھ ملے گا جس کا گزشتہ آیات میں ذکر کیا گیا ہے اور جنتی مردوں کے نکاح میں ہم عمر ، خوبصورت ، خوب سیرت ، نہایت ستھری اور پاکیزہ ، سفید رنگ ، آہو چشم عورتیں دے دیں گے۔ عورت اور مرد دونوں اصناف ایک دوسرے کے بغیر بلاشبہ غیر مکمل ہوتے ہیں اور فطری محبت کے تقاضے کی تکمیل دونوں کے ملنے ہی سے ہوتی ہے اور ان دونوں کے ملنے ہی سے ایک کامل انسان بنتا ہے دونوں ہی ایک دوسرے کے لیے سکون کا باعث ہوتے ہیں اور دونوں ہی کو ایک دوسرے کی برابر طلب ہوتی ہے لیکن مرد کے لیے عورت کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 54–55

وَزَوَّجْنَاهُم بِحُورٍ‌ عِينٍ (We will marry them with houris having big dark eyes) - 44:54). The word tazwij originally means 'to make one person partner of another'. Later on it came to be utilised abundantly in the sense of 'marrying'. According to the second sense, the men of Paradise will be married technically to houris having big dark eyes. This is the apparent sense of verse (54). Although the inmates of Paradise will not be legally obligated to observe the precepts of Shari'ah, the purpose of marriage will be to honour them. Therefore, this should not raise any objection. If the…

Read the full tafseer →