Ad-Dukhaan 44:56

Ad-Dukhaan · from ayah 56

44:56

لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰی ۚ— وَوَقٰىهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ ۟ۙلَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا الۡمَوۡتَ اِلَّا الۡمَوۡتَةَ الۡاُوۡلٰى‌ ۚ وَوَقٰٮهُمۡ عَذَابَ الۡجَحِيۡمِۙ

(اور) پہلی دفعہ کے مرنے کے سوا (کہ مرچکے تھے) موت کا مزہ نہیں چکھیں گے۔ اور خدا ان کو دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

They will not taste death therein except the first death, and He will have protected them from the punishment of Hellfire

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 3 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Ad-Dukhaan

All translations of 44:56

وہاں موت کا مزہ وہ کبھی نہ چکھیں گے، بس دنیا میں جو موت آ چکی سو آ چکی اور اللہ اپنے فضل سے،

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اور) پہلی دفعہ کے مرنے کے سوا (کہ مرچکے تھے) موت کا مزہ نہیں چکھیں گے۔ اور خدا ان کو دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

وہاں وه موت چکھنے کے نہیں ہاں پہلی موت (جو وه مر چکے)، انہیں اللہ تعالیٰ نے دوزخ کی سزا سے بچا دیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو موت ان کو پہلی آچکی تھی، اس کے علاوہ وہاں وہ کسی اور موت کا مزہ نہیں چکھیں گے، اور اللہ انہیں دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس میں پہلی موت کے سوا پھر موت نہ چکھیں گے اور اللہ نے انہیں آگ کے عذاب سے بچالیا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اس (جنت) میں موت کا مَزہ نہیں چکھیں گے سوائے (اس) پہلی موت کے (جو گزر چکی ہوگی) اور اللہ انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ اس میں موت کا مزہ نہیں چکھیں گے، مگر وہ موت جو پہلی تھی اور وہ انھیں بھڑکتی آگ کے عذاب سے بچائے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہاں وہ موت کا مزہ نہیں چکھیں گے۔ بس پہلی موت جو دنیا میں آچکی (سو آچکی) اور (اللہ) انہیں جہنم کے عذاب سے بچا لے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ اس میں پہلی موت کے بعد پھر موت سے آشنا نہیں ہوں گے اور اللہ نے ان کو جہنم کے عذاب سے محفوظ کرکھا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہاں پر وہ موت کا مزہ بھی نہیں چکھیں گے سوائے اسی پہلی موت کے (جو کہ دنیا میں آچکی تھی) اور اللہ نے ان کو بچا لیا ہوگا دوزخ کے عذاب سے

— مولانا اسحاق مدنی

وہ وہاں موت کا مزہ بھی نہ چکھیں گے ہاں بجز اس پہلی موت کے اور اللہ انہیں دوزخ سے بچائے گا (یہ سب)

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ نہیں چکھیں گے اس میں موت سوائے اس پہلی موت کے اور اللہ نے انہیں بچالیا ہے جہنم کے عذاب سے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہاں وہ موت کا مزہ نہیں چکھیں گے بس پہلی موت جو دنیا میں آچکی (سو آچکی) اور اللہ ان کو دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا

— محترمہ رفعت اعجاز

They shall not taste death except the death in this world. And Allah will save them from the chastisement of Hell

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They will not taste death therein beyond the first death (they faced in the world). And He (Allah) will save them from the torment of Hell,

— Muhammad Taqi Usmani

They will not taste death therein beyond the first death (they faced in the world). And He (Allah) will save them from the torment of Hell,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They will never taste death therein except the first death, and He will save them from the torment of the blazing Fire,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They taste not death therein, save the first death. And He hath saved them from the doom of hell,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They will not taste death therein except the first death, and He will have protected them from the punishment of Hellfire

— Saheeh International

They will not experience any death other than that which they have already been through.

— Muhammad Sarwar

They shall not taste therein death except the first death, and He will save them from the punishment of the hell,

— Muhammad Habib Shakir

They will not taste death therein, except the first death; and He will preserve them from the torment of the Flaming Fire.

— Abdul Majid Daryabadi

Nor will they there taste Death, except the first death; and He will preserve them from the Penalty of the Blazing Fire,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 44:56

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 51–59

جب موت کو ذبح کرایا جائے گا بدبختوں کا ذکر کر کے اب نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے۔ اسی لئے قرآن کریم کو مثانی کہا گیا ہے اس دنیا میں جو اللہ تعالیٰ مالک و خالق و قادر سے ڈرتے دبتے رہے وہ قیامت کے دن جنت میں نہایت امن وامان سے ہوں گے۔ موت سے وہاں سے نکلنے کے، غم و رنج، گھبراہٹ، مشکلوں، دکھ درد، تکلیف، مشقت، شیطان اور اس کے مکر سے رب کی ناراضگی سے غرض تمام آفتوں اور مصیبتوں سے نڈر بےفکر مطمئن اور بےاندیشہ ہوں گے۔ جہنمیوں کو تو زقوم کا درخت اور آگ جیسا گرم پانی ملے گا اور انہیں جنتیں اور نہریں ملیں گی مختلف قسم کے ریشمی پارچہ جات انہیں پہننے کو ملیں گے جن میں نرم باریک بھی ہوگا اور دبیز چمکیلا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الدُّخَان 44 اس آیت میں دو باتیں قابل توجہ ہیں ایک یہ کہ جنت کی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد جہنم سے بچائے جانے کا ذکر خاص طور پر الگ فرمایا گیا ہے، حالانکہ کسی شخص کا جنت میں پہنچ جانا آپ اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ جہنم میں جانے سے بچ گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فرمانبرداری کے انعام کی قدر انسان کو پوری طرح اسی وقت محسوس ہوسکتی ہے جبکہ اس کے سامنے یہ بات بھی ہو کہ نافرمانی کرنے والے کہاں پہنچے ہیں، اور وہ کس برے انجام سے بچ گیا ہے۔ دوسری قابل توجہ بات اس میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے جہنم سے بچنے اور جنت میں پہنچنے کو اپنے فضل کا نتیجہ قرار دے رہا ہے۔ اس سے انسان کو اس حقیقت پر متنبہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 56–59

(آیت) لَا يَذُوْقُوْنَ فِيْهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰى مطلب یہ ہے کہ جو موت ایک مرتبہ آ چکی بس وہ آ چکی اس کے بعد کوئی موت ان پر نہیں آئے گی اور یہ بات اگرچہ اہل جہنم کو بھی حاصل ہوگی، لیکن ظاہر ہے کہ وہ ان کے لئے اور زیادہ تکلیف کا سبب ہوگی اور اہل جنت کے لئے سرور و کیف میں اضافے کا باعث۔ کیونکہ نعمت خواہ کتنی بڑی ہو اس کے زوال کا تصور لازماً کدورت کا سبب ہوتا ہے اور اہل جنت جب یہ تصور کریں گے کہ یہ نعمتیں کبھی ہم سے نہیں چھنیں گی تو اس سے ان کی مسرتوں میں اضافہ ہوگا۔ الحمد اللہ کہ آج بتاریخ 6 رجب 1392 ھ بروز پنجشنبہ بوقت نماز عشاء سورة دخان کی تفسیر مکمل ہوئی واللہ الحمد…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 56–57

لایذوقون فیھا الموت الا الموتۃ الاولی، ووقھم عذاب الجحیم، فضلاً من وبک ذلک ھوا لفوز العظیم (57-56) یعنی اس دنیا میں جو موت انہوں چھ لی اس کے بعد پھر وہ موت سے آشنا نہیں ہوں گے۔ ان کی زندگی بھی جاوداں ہوگی اور ان کا عیش بھی۔ موت سے انہوں نے چھٹکارا پایا اور دوزخ سے ان کے رب نے ان کو بچیا ا یہ خاص فضل ہے جو ریے رب نے ان پر فمایا اور یہی درحقیت سب سے بڑی کامیابی ہے نہ کہ وہ جس پر اس دنیا کے پرستار ریجھے ہوئے ہیں اور اس کے عشق میں ایسے کھوئے گئے ہیں کہ سمجھتے ہیں کہ یہی دنیا کی زندگی بس کل زندگی ہے، اس کے بعد نہ جینا ہے نہ مرنا

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

56۔ 1 یعنی دنیا میں انہیں جو موت آئی تھی، اس موت کے بعد انہیں موت کا مزہ نہیں چکھنا پڑے گا جیسے حدیث میں آتا ہے ' کہ موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں لا کر دوزخ اور جنت کے درمیاں ذبح کردیا جائے گا اور اعلان کردیا جائے گا اے جنتیو ! تمہارے لئے جنت کی زندگی دائمی ہے، اب تمہارے لئے موت نہیں۔ اور اے جہنمیوں ! تمہارے لئے جہنم کا عذاب دائمی ہے موت نہیں

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 54–59

14: یہ لوگ تو جھٹلانے کے انداز میں قیامت کا انتظار کر رہے ہیں، اور آنحضرت ﷺ کو تصدیق کے ساتھ اس کے انتظار کا حکم دیا گیا ہے کہ اس وقت ساری حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی، اور ان کافروں کو سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 43–57

آیت نمبر 43 تا 57 یہ منظر زقوم کے درخت کے پیش کرنے سے شروع ہوتا ہے اور یہ بدکاروں کی خوراک ہوگا۔ اور یہ اس قدر کڑوا ہوگا جس طرح تیل کی تلچھٹ کڑوی ہوتی ہے۔ یہ جہنمیو کی خوراک کی خوفناک تصویر کشی ہے اور یہ تلچھت پیٹ میں یوں جوش مارے گا جس طرح پتیلے میں پانی کھولتا ہے۔ ان بدکاروں کے پیٹ میں ، جو برتری دکھاتے تھے رب پر اور اس کے رسول ﷺ امین پر۔ فرمان الٰہی یوں ان ” شرفاء “ کے لئے صادر ہوتا ہے۔ خذوہ فاعتلوہ الی سواء الجحیم (44 : 47) ثم صبوا فوق راسہ من عذاب الحمیم (44 : 48) ” پکڑو اسے اور رگیدنے ہوئے لے جاؤ اس کو جہنم کے بیچوں بیچ اور انڈیل دو اس کے سر پر کھولتے پانی کا عذاب “۔ یعنی پکڑو اسے سخت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی جو موت پہلے آچکی وہ آچکی، اب آگے کبھی موت نہیں دائماً اسی عیش و نشاط میں رہنا ہے نہ ان کو فنا، نہ ان کے سامانوں کو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 56 { لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْہَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَۃَ الْاُوْلٰی وَوَقٰٹہُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ } ”وہ نہیں چکھیں گے اس میں موت سوائے اس پہلی موت کے ‘ اور اللہ نے انہیں بچالیا ہے جہنم کے عذاب سے۔“ دنیا میں انہیں جو موت آئی تھی وہی ان کی آخری موت ہوگی ‘ اب انہیں موت کی سختی کا کبھی سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور جنت میں ان کا قیام ہمیشہ ہمیش کے لیے ہوگا۔ اَللّٰھُمَ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے ان بندوں میں شامل کرلے ‘ آمین !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 55–56

37 اخروی زندگی میں موت نہیں :۔ سیدنا ابو سعید خدری اور سیدنا ابوہریرہ ؓ دونوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ : ایک پکارنے والا جنت کے لوگوں کو پکارے گا اور کہے گا : آئندہ تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ ہوگے، تم ہمیشہ زندہ رہو گے، کبھی مرو گے نہیں، تم ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے، اور تم ہمیشہ امن اور چین میں رہو گے کبھی کوئی رنج نہ ہوگا (مسلم۔ کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھاو اھلھا)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 56–57

28۔ (جس کے سامنے اور کسی کامیابی کا نام بھی نہیں لیاجاسکتا) (آیت) ’ ’ لا ..... اولی۔ یعنی یہ ساری نعمتیں لازوال وغیر منقطع ہوں گی، اور آئندہ ان کے ختم و انقطاع کا کوئی خطرہ نہ ہوگا۔ (آیت) ” الاالموتۃ الاولی۔ یعنی وہی موت جو دنیا میں واقع ہوئی تھی، اور جو انہیں اس عالم آخرت میں لانے اور انہیں غیرفانی بنانے کا ذریعہ ہوئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 43–59

آیت نمبر 43 تا 59 ترجمہ : بیشک زقوم (تھوہڑ) کا درخت جو کڑوا اور خبیث ترین ہے تہامہ میں پیدا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ میں پیدا فرمائے گا، مجرموں کا کھانا ہے یعنی ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کا جو بڑا گنہگار ہیں، اور وہ سیاہ تیل (تارکول) کی تلچھٹ کے مانند ہے (کالمھل) ثانی خبر ہے، وہ تیز گرم پانی کے مانند پیٹ میں کھولتا رہتا ہے (تغلی) تاء فوقانیہ کے ساتھ تیسری خبر ہے اور یاء تحتانیہ کے ساتھ المھل سے حال ہے جہنم پر مقرر فرشتوں کو حکم دیا جائے گا کہ مجرم کو پکڑ لو پھر گھسیٹتے ہوئے بیچ جہنم تک پہنچا دو (فاعتلوہ) کسرۂ اور ضمہ تاء کے ساتھ یعنی اس کو سختی اور شدت کے ساتھ کھینچو، پھر اس کے سر پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لا یذوقون فیھا الموت الا الموتۃ الاولی ووقھم عذاب الجحیم۔ (اور) وہاں وہ بجز اس پہلی موت کے (جو دنیا میں آچکی ہوگی) موت کا ذائقہ بھی نہیں چکھیں گے اور اللہ ان کو دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 54–57

(54۔ 57) اسی طرح جنت میں اہل ایمان کا مقام ہوگا اور ہم ان کا گوری گوری بڑی بڑی آنکھوں والیوں اور خوبصورت چہرے والی حوروں سے نکاح کردیں گے اور وہ جنت میں موت و عذاب اور زوال سے امن میں ہوں گے، اور ہر قسم کے میوے منگاتے ہوں گے یا یہ کہ خود ان کو پیش ہوتے ہوں گے اور وہ جنت میں سوائے اس موت کے جو دنیا میں آچکی تھی اور موت کا ذائقہ بھی نہ چکھیں گے اور ان کا پروردگار ان کو دوزخ کے عذاب سے بھی بچا لے گا یہ سب کچھ آپ کے پروردگار کے فضل سے ہوگا یا یہ کہ اس کی بخشش و انعام سے۔ اور یہی فضل خداوندی بڑی کامیابی ہے کہ جنت حاصل ہوگی اور دوزخ سے بچ گئے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) لایذوقون فیھا الموت الا الموتہ الاولی : ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(یوتی بالموت کھیئۃ کبش املح فینا دی مناد یا اھل الجنۃ ! فیشرثبون و ینظرون فیقول ھل تعرفون ھذا ؟ فیقولون نعم، ھذا الموت و کلھم قد راہ، ثم ینادی یا اھل النار ! فیشرثبون و ینظرون فیقول ھل تعرفون ھذا ؟ فیقولون، نعم ھذا الموت و کلھم قدراہ فیدبح ثم یقول با اھل الجنۃ ! خلود فلا موت و ابا ھل النار ! خلود فلا موت ثم قراً :(وانذر ھم یوم الحسرۃ اذ قضی الامر وھم فی غفلۃ) وھولاء فی عملہ اھل الدنیا (وھم لا یومنون) (بخاری التفسیر، باب قولہ عزوجل :(واندرھم یوم الحسرۃ):8330)”موت کو ایک چتکبرے مینڈھے کی شکل میں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 56–57

یہ مستثنیٰ منقطع ہے۔ لیکن پہلی موت کا ذائقہ انہوں نے دنیا میں چکھ لیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ الابعد کے معنی میں ہے جس طرح تو کہتا ہے اس میں کے معنی میں ہے ایک قول یہ کیا گیا الاسوی کے معنی میں ہے یعنی سوائے اس موت کے جس کا ذائقہ دنیا میں انہوں نے چکھ لیا تھا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (النسائ 22) یہ اسی طرح ہے جس طرح تو کہتا ہے : امس میں نے آج کوئی کھانا نہیں کھایا سوائے اس کے جو میں نے کل کھایا تھا۔ قتبی نے کہا : اس کا معنی ہے مومن جب موت کے قریب جاتا ہے تو رحمت کے فرشتے اس کا استقبال کرتے ہیں اور وہ روح و ریحان سے ملاقات کرتا ہے جنت میں اس کی موت اس کے اسباب کے متصف ہونے کی بناء…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 51–59

18:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان المتقین فی مقام امین “ (بلاشبہ متقی لوگ امن کی جگہ ہوں گے یعنی موت اور عذاب سے امن میں ہوں گے۔ 19:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ضحاک (رح) سے (آیت ) ” فی مقام امین “ کے بارے میں روایت کیا کہ (جنت) میں موت سے امن میں ہوں گے اور بوڑھا ہونے سے بھی امن میں ہوں گے۔ اور نہ وہ بھوکے ہوں گے اور نہ وہ ننگے ہوں گے۔ 20:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان المتقین فی مقام امین “ یعنی وہ امن میں ہوں گے شیطان سے اور بیماریوں سے اور غموں سے (آیت ) ” زوجنا ھم بحور عین “ (اور ہم ان کا گوری گوری فراخ آنکھوں والیوں سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لَا يَذُوْقُوْنَ فِيْهَا [ وہ لوگ نہیں چکھیں گے اس میں ] الْمَوْتَ [موت کو ] اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰى ۚ [ سوائے پہلی بار مرنے کے ] وَوَقٰىهُمْ [ اور وہ (اللہ ) بچائے گا ان کو ] عَذَابَ الْجَحِيْمِ [ دوزخ کے عذاب سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 51–57

متقیوں کے انعامات، باغ اور چشمے، لباس اور ازواج، ہر قسم کے پھل اور حیات ابدی دوزخیوں کے عذاب بتانے کے بعد اہل جنت کے بعض انعامات ذکر فرمائے۔ اولاً تو یہ فرمایا کہ متقی لوگ امن وامان کی جگہ میں ہوں گے یعنی جنت ایسی جگہ ہے کہ جہاں کسی قسم کا خوف و ہراس، بےاطمینانی، بےچینی نہیں ہوگی اور ہمیشہ اسی حالت میں رہیں گے انہیں کبھی خوف یا غم نہ ہوگا نہ وہاں سے نکالے جانے کا خطرہ ہوگا۔ ثانیاً فرمایا کہ یہ متقی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ ثالثاً یہ فرمایا کہ سندس اور استبرق کا لباس پہنیں گے سندس باریک ریشم کو اور استبرق موٹے ریشم کو کہتے ہیں۔ رابعاً یہ فرمایا کہ آپس میں مقابل ہوکر ایک دوسرے کے سامنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 40–59

تہدید وتنبیہ از روز قیامت وبیان نجات و کامیابی مومنین ومتقین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان یوم الفصل ...... الی ........ فارتقب انھم مرتقبون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مجرمین کی سزاؤں اور ان کے عبرت ناک انجام کا بیان تھا جس کے بعد ان کے بالمقابل مطیعین کے انعام واکرام کا ذکر فرمایا گیا تو اب اختتام مضمون پر مزید یوم آخرت کی عظمت ومصیبت کا بیان فرماتے ہوئے اہل ایمان وتقوی پر حق تعالیٰ کے جو انعامات ہوں گے ان کا ذکر کیا گیا ، اور کافر ونافرمان کیسی شدت و تکلیف اور مصیبتوں میں مبتلا ہوں گے اس کو بھی واضح کرتے ہوئے فیصلہ فرمایا گیا کہ اصل کامیابی اور کامرانی حق تعالیٰ پر ایمان لانے اور آنحضرت ﷺ کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 56–58

28:۔ ” فانمایسرناہ “ یہ ساری سورت سے متعلق ہے گویا ساری سورت کا خلاصہ ہے۔ ہم نے اس (کتاب مبین) قرآن کو یا اس حکمنامے کو آپ کی زبان پر نہایت آسان زبان و اسلوب میں بیان کردیا ہے تاکہ لوگ اس آسانی سے سمجھ لیں اور اس کی تعلیمات پر عمل کریں۔ وھذا فذلکۃ و اجمال لما فی السورۃ بعد تفصیل تذکیرا لما سلف مشروحا فیہا فالمنعی ذکرہم بالکتاب المبین فنما یسرنہ بلسانک کی یفہموہ ویتذکروا بہ ویعملوا بموجبہ (روح ج 5 ص 137) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 42–59

ربط آیات پہلے قرآن کی حقانیت اور صداقت بیان کی۔ پھر توحید کا مسئلہ سمجھایا ، مشرکین کی قباحت ، شرک کا رد اور پھر اس کا انجام بھی بیان ہوا۔ حق کی مخالفت کرنے والوں میں فرعون اور اس کے حواریوں کا تذکرہ ہوا اور پھر ان کی غرقابی کا ذکر بھی ہوا اللہ نے بنی اسرائیل کو فرعن کی غلامی سے نجات دلائی اور ان کو اپنے زمانے میں ہاں بھر میں فضیلت عطا کی ، پھر قریش مکہ اور مشرکین عرب کو تنبیہ کی گئی کہ تم سے پہلے قوم تبع جیسے بڑے بڑے ساز و سامان اور دولت والے لوگ گزر چکے ہیں ، ان کے حالات سے عبرت پکڑو تم کس بنا پر قیامت کا انکار کر رہے ہو ، فرمایا ہم نے ارض و سما اور ان کے درمیان کی اشیاء کو محض لہو و لہب کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَا يَذُوْقُوْنَ فِيْہَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَۃَ الْاُوْلٰى۝ 0 ۚ وَوَقٰىہُمْ عَذَابَ الْجَحِيْمِ۝ 56 ۙ لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 56–59

لایذوقون فیہا الموت الالموتۃ الاولی یعنی جنت میں کبھی موت کا مزہ نہ چکھیں گے بجز اس کے کہ جو پہلے دنیا میں چکھ چکے ہیں استثناء منقطع ہے۔ اے لکن الموتۃ کذاقال الزجاج والفراء۔ ابتدائِ سورة میں قرآن مجید کے چند اوصاف بیان فرمائے تھے منجملہ ان کے ایک یہ کہ وہ مبین ہے یعنی اس میں ہر چیز کا بیان وضاحت کے ساتھ ہے اب یہاں اس کی اور بھی تشریح کرتا ہے کہ یسرناہ بلسانک کہ اے محمد ﷺ تیری زبان میں سمجھنے کے لیے اس کو آسان کیا تاکہ لوگ سمجھیں مگر بدبخت نہیں سمجھتے اور تجھ پر موت یا ہلاکت آنے کے منتظر رہتے ہیں سو تو بھی اے محمد ﷺ ان پر بلا آنے کا انتظار کر۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 56–57

لاَ یَذُوْقُوْنَ فِیْھَا الْمَوْتَ اِلاَّالْمَوْتَۃَ الْاُوْلٰی ج وَوَقٰـھُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ ۔ فَضْلاً مِّنْ رَّبِّکَ ط ذٰلِکَ ھُوَالْفَوْزُالْعَظِیْمُ ۔ (الدخان : 56، 57) (وہ اس میں پہلی موت کے بعد پھر موت کا مزہ نہیں چکھیں گے اور اللہ نے ان کو جہنم کے عذاب سے بچایا۔ آپ کے رب کے خاص فضل سے، یہی بڑی کامیابی ہے۔ ) اہلِ جنت کی زندگی ابدی ہے جنت کی نعمتوں میں ایک بہت بڑی نعمت یہ ہے کہ وہاں کا عیش، عیشِ دوام ہے۔ وہاں کی زندگی ہمیشہ کی زندگی ہے۔ دنیا میں جو ایک دفعہ موت آچکی، اب اہل جنت دوبارہ موت کا مزہ نہیں چکھیں گے۔ بڑی سے بڑی خوشی اگر اس اندیشے کا شکار ہوجائے کہ نہ جانے اس خوشی کا انجام…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 52–57

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کی سزا کے بیان کے بعد جنتیوں کے انعامات کا تذکرہ۔ فہم القرآن کا مطالعہ کرنے والے حضرات جانتے ہیں کہ یہ بات کئی مقامات پر ذکر ہوچکی ہے کہ قرآن مجید کا اسلوب تکلّم ہے کہ وہ اپنے مخاطبین کے سامنے بیک وقت جنتیوں کے انعامات اور جہنمیوں کے عذاب کا ذکر کرتا ہے تاکہ قرآن کی تلاوت کرنے والا شخص موقع پر فیصلہ کرپائے کہ اس نے کس چیز کا انتخاب کرنا ہے۔ اسی اسلوب کے پیش نظر جہنمیوں کی سزاؤں کا ذکر کرنے کے متصل بعد جنتیوں کے انعامات کا تذکرہ کیا جارہا ہے۔ جنت میں وہی شخص داخل ہوگا جس کا عقیدہ کفر و شرک کی ملاوٹ سے پاک ہوگا اور اس نے سنت رسول کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

دوزخیوں کا حال : آیت 56 : لَایَذُوْقُوْنَ فِیْہَا (وہ نہ چکھیں گے وہاں) یعنی جنت میں الْمَوْتَ (موت کو) قطعی طور پر اِلاَّ الْمَوْتَۃَ الْاُوْلٰی (مگر وہی موت جو دنیا میں آچکی) یعنی سوائے اس موت کے جو دنیا میں چکھ چکے۔ ایک قول یہ ہے : الا یہ لکن کے معنی میں ہے۔ لیکن پہلی موت اس کو دنیا میں چکھ چکے۔ وَوَقٰہُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ (اور اللہ تعالیٰ ان کو دوزخ سے بچا لے گا)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

55، یدعون فیھا بکل فاکھۃ، جو وہ چاہیں گے۔ ، آمنین، اس کے پسند نہ آنے اور نقسان دینے سے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ موت و تکلیف اور شیاطین سے امن میں ہونگے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 51–57

51۔ 57۔ اس سے پہلے کی آیتوں میں خدا تعالیٰ جب بد لوگوں کا حال بیان فرما چکا تو اب نیک لوگوں کا حال بیان فرمایا کہ بیشک جو لوگ پرہیز گار ہیں اور خدا سے ڈر کر دنیا میں گناہوں سے بچتے اور نیک کام کرتے ہیں وہ آخرت میں امن والی جگہ میں ہوں گے مراد اس سے جنت ہے کہ نہ اس میں موت ہوگی اور نہ کسی طرح کی بیماری ہوگی چین سے بےخوف رہیں گے باغوں کے اندر ریشمی باریک اور کپڑے چمک دارپہنیں گے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے ایک کی دوسرے کی طرف پیٹھ نہ ہوگی باہم ان کے محبت و سرور زیادہ ہوگا ‘ کذلک اس کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح کا اچھا معاملہ کرتے ہیں ہم پرہیز گاروں کے ساتھ ‘ پھر فرمایا بیاہ دیا ہم نے ان کو گورے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 51–59

آیت 51 یہ تقویٰ شعار لوگوں کی جزا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے ڈر کر گناہوں کو ترک کیا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔ جب ان سے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب کی نفی ہوگئی تو ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی رضا ثابت ہوگئی، نیز ثواب عظیم کے طور پر انہیں بیشمار درختوں کے گھنے سائے، پھل اور چشمے عطا ہوں گے، ان درختوں کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی جن کو اہل ایمان نعمتوں بھری جنت میں اپنے لئے نکال لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کی اضافت نعمتوں کی طرف کی ہے کیونکہ وہ جنت جن چیزوں پر مشتمل ہے وہ سب نعمتیں ہیں جو ہر لحاظ سے کامل ہیں اور کسی طرح بھی ان میں کوئی رکاوٹ اور کسی قسم کا کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 56–57

54 جنت سے سرفرازی فضل خداوندی کا ایک عظیم الشان مظہر و نمونہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " محض آپ ﷺ کے رب کے فضل کی بنا پر "۔ معلوم ہوا کہ دوزخ سے بچ جانا اور جنت سے سرفراز ہوجانا اللہ پاک کے فضل و کرم اور اس کی رحمت و عنایت سے ہوگا نہ کہ محض اپنے عمل کی بنا پر۔ جیسا کہ احادیث شریفہ میں اس کی طرح طرح تشریح و تفصیل فرمائی گئی ہے اور انسانی عمل کی اللہ پاک کی ان عظیم الشان نعمتوں کے مقابلے میں حقیقت اور حیثیت ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ یہ تو ساری زندگی کے اعمال ملا کر بھی اللہ پاک کی اس دنیا میں ملنے والی کسی نعمت کا بدلہ بھی نہیں ہوسکتے۔ تو پھر آخرت کے کہنے ہی کیا۔ سو وہ محض اس کا کرم اور احسان ہی ہوگا ۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 43–59

گنہگاروں کا حال اور نیکو کاروں کا حال تشریح : قیامت، حساب کا دن اور پھر بدلے کا دن۔ یہ سب بڑی وضاحت سے بیان کئے جا چکے ہیں۔ ایک بار پھر ہم اس پر غور کرتے ہیں بیشک انسانی تاریخ میں حق شناسی کی چنگاریاں بھی ملتی ہیں۔ مگر اس کا بڑا حصہ حق تلفی کی رو داد سے بھرا پڑا ہے۔ مورخ کو بڑی مایوسی ہوتی ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ انسان کا ضمیر جو کچھ چاہتا ہے دنیا کے واقعی حالات اس کے خلاف ہیں یہاں ہم چند اقوال نقل کرتے ہیں۔ والٹر : ” انسانی تاریخ محض جرائم اور مصائب کی تصویر ہے “۔ ہربرٹ اسن پر : ” تاریخ محض بےفائدہ گپ ہے “۔ نپولین : ” تاریخ تمام کی تمام لایعنی قصے کا نام ہے “۔ کیا انسانیت کا یہ عظیم الشان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 43–59

آیات 43 تا 59۔ اسرار ومعارف۔ کفار کا یہ حال ہوگا کہ کھانے کو انہیں زقوم (تھوہر کیکٹس) ملے گا اور بدکاروں کا کھاناایسا ہی ہوناچاہیے پھر وہ زقوم دوزخ کا ہوگا جبکہ دنیا کا بھی بہت کڑوا کسیلا اور بدشکل کانٹوں سے بھرپور ہوتا ہے وہ تو پیٹ میں ایسے کھولے گا جیسے پگھلا ہواتانبا ہو یا جی سے پانی کھولتا ہے اور حکم ہوگا کہ انہیں پکڑ لو اور گھسیٹتے ہوئے دوزخ کے درمیان لے جاؤ اور ان پر دوزخ کے جلتے پانی کا عذاب چھوڑ دو اور انہیں کہو اب اپنی کرتوتوں کا مزہ چکھو کہ تم تو بہت بڑے آدمی بنتے تھے اور تمہیں اللہ کی اطاعت اور نبی کی اتباع کرنے میں عار آتی تھی یہ وہی دوزخ ہے جس کا تمہین یقین نہ آتا تھا اور وہی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 یعنی وہاں کبھی موت نہ آئے گی۔ صحیحین کی ایک روایت میں ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا : موت کو ایک بھورے رنگ کے مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا اور اسے جنت و دوزخ کے درمیان کھڑا کر کے ذبح کردیا جائے گا پھر کہا جائیگا ” اے جنت والو ! تم ہمیشہ زندہ رہو گے۔ “ اور اے دوزخ والو ! تمہیں بھی ہمیشہ رہنا ہے۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(44:56) لا یذوقون فیہا الموت۔ وہ اس میں موت کو نہیں چکھیں گے یعنی ان کو وہاں کبھی موت نہیں آئے گی۔ بلکہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع یا تو آخرۃ ہے یا جنت۔ الا الموتۃ الاولی سوائے پہلی موت کے۔ صاحب تفسیر مظہری رقمطراز ہیں :۔ الا الموتۃ الاولی۔ یہ استثناء منقطع ہے یا متصل ہے اور فیہا کی ضمیر آخرت کی طرف راجع ہے (لیکن آخرت میں تو پہلی موت بھی نہیں آئے گی۔ اس لئے مجازی معنی مراد ہے۔ (کیونکہ) مرتے ہی قیامت کے احوال شروع ہوجاتے ہیں۔ یا جنت کی طرف راجع ہے (لیکن جنت میں بھی تو پہلی موت نہیں ہوگی۔ اس لئے اس صورت میں بھی مجازی مراد ہوں گے) مرتے ہی متقی فورا جنت کا مشاہدہ کرنے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 43–59

لغات القرآن آیت نمبر 43 تا 59 : شجرت الزقوم ( زقوم ( جہنمیوں کی غذا) کا درخت) الاثیم ( گناہ گار) المھل (پگھلا ہوا تانبہ) یغلی (ابل رہا ہے ، کھول رہا ہے) البطون ( بطن) ( پیٹ) الحمیم (کھولتا پانی) اعتلوا ( گھسیٹتے لے جائو) صبوا (انڈیل دو ) ذق (چکھ) مقام امین ( امن و سکون کی جگہ) سندس ( باریک ریشم) استبرق (دبیر ریشم) تشریح : آیت نمبر 43 تا 59 : اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو نصیحت و عبرت کے لئے نہایت آسان اور سہل بنا کر بھیجا ہے جس میں اس حقیقت کو نہایت وضاحت سے بیان کردیا ہے کہ برے اور اچھے اعمال کا نتیجہ کیا ہے۔ جو لوگ دنیا میں زندگی بھر وقتی لذتوں ، خواہشوں ، تمناؤں اور جھوٹی عزت کے پیچھے دوڑتے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 51–57

اہل جنت کی پرکیف زندگی کابیان۔ (ف 1) اس سے پہلے کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ جب بدلوگوں کا حال بیان فرماچکا تو اب متقی لوگوں کا حال بیان فرمایا کہ بیشک جو لوگ پرہیزگار ہیں اور خدا سے ڈرکر دنیا میں گناہوں سے بچتے ہیں اور نیک کام کرتے ہیں وہ آخرت میں امن والی جگہ میں ہوں گے یعنی جنت میں نہ اس میں موت ہوگی اور نہ کسی طرح کی بیماری ہوگی، امن سے رہیں گے باغوں کے اندر ریشمی باریک اور دبیز کپڑے چمک دار پہنیں گے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے ایک دوسرے کی طرف پیٹھ نہ ہوگی۔ باہم ان کے محبت و سرور ہوگا۔ کذالک۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح کا اچھامعاملہ پرہیزگاروں کے ساتھ کرتے ہیں یوں ہی ان کو ہم حوریں جنت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 44–59

[13] یعنی یہ لوگ اگر نہ سمجھیں تو تم چندے انتظار کرو۔ ان کا انجام بد سامنے آجائے گا۔ یہ تو منتظر ہیں کہ تم پر کوئی افتاد پڑے

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 38–57

حل لغات :۔ بلوء ۔ آزمائش ۔ انعام ۔ ہم نے کائنات کو بلا مقصد نہیں پیدا کیا 1: مادیت کا نظریہ ہے ۔ کہ یہ کارگاہ حیات کا نتیجہ ہے ۔ محض بخت واخلاق کا اور مجازفۃ وتخمین کا ۔ یہ عالم حیات یونہی بلا کسی غرض اور غایت کے پیدا کردیا گیا ہے یا پیدا ہوگیا ہے ۔ اور اس کی تخلیق میں کسی اخلاقی ۔ نصب العین کو کوئی دخل نہیں ۔ قرآن حکیم اس نظریہ کی مخالفت کرتا ہے اور کہتا ہے ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو محض فعل عبث کے طور پر نہیں پیدا کیا ہے ۔ کہ اس کا کچھ مقصد بھی نہ ہو ۔ بلکہ ان کے بنانے میں حکمت ضرور ہے ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ زندگی کی تکمیل ہو ۔ اور انسان کو مواقع دیئے جائیں ۔ کہ وہ آخرت کے لئے تیاری…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(56) وہ ان باغوں میں بجز اس موت کے جو دنیا میں آچکی تھی اور کسی موت کا مزہ نہیں چکھیں گے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو دوزخ کے عذاب سے بچا لیا۔ یعنی دنیاوی موت کے علاوہ کوئی اور موت نہیں اور وہ جب دنیا میں تھے تو اس پہلی موت کا مزہ چکھ چکے اب ان کے لئے اور کسی موت کا خطرہ نہیں اور جہنم کے عذاب سے ان کو بچا لیا گیا۔ غرض ہر قسم کے تفکرات اور خوف وخطر سے پاک اور بیشمار نعمتوں سے لذت اندوز۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 50–59

ف 2۔ یعنی آپ تبلیغ سے زیادہ فکر میں نہ پڑیئے نہ مخالفت پر رنج کیجئے، ان کا معاملہ خدا تعالیٰ کے سپرد کیجئے وہ خود سمجھ لے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہاں موت کا بھی کسی کو کھٹکا نہیں ہوگا کہ موت وہی تھی جو ان کو آچکی 65 ؎ دنیوی زندگی جو انسان کو دی گئی ہے اس کے پیچھے موت لگادی گئی ہے اور اس دنیا میں کسی کو کتنی ہی آسانیاں میسر ہوں بہرحال ان ساری آسانیوں کو اس کی موت ختم کرکے رکھ دیتی ہے اور اس کے بعد وہی مٹی سب کو کھا جاتی ہے جس سے انسان کو پیدا کیا گیا ہے خواہ کوئی ہو ، کہاں ہو اور کیسا ہو لیکن قیامت کے روز قیامت بپا ہونے کے بعد اور انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے کے بعد ان کی آنکھوں کے سامنے موت کو موت دے دی جائے گی اور اس دوبارہ زندگی کے بعد کسی کے لیے موت نہیں ہوگی نہ اہل جنت کے لیے اور نہ اہل دوزخ کے لیے لیکن دوزخیوں کے لیے ان کی وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 56–59

لَا يَذُوقُونَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلَّا الْمَوْتَةَ الْأُولَىٰ (They will not taste death therein, except for the first death (they faced in the world) - 44:56). In other words, they shall suffer no death other than the first death which they had encountered at the end of their lives in this world. The dwellers of Hell as well will suffer only one death at the end of their lives in this world. The latter, however, will suffer a greater degree of torture when they will know that they will remain alive in this miserable state of punishment, whereas for the former the thought that Allah has saved…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

44 Two things are worthy of notice in this verse. First, after mentioning the blessings of Paradise special mention has been made of being secure from Hell separately whereas a person's entry into Paradise by itself amounts to his being safe from Hell. This is because man can feel the worth of the reward of obedience fully only when he is informed what end the disobedient people have met and from what evil end he himself has ban saved. Secondly, Allah is mentioning those people's safety from Hell and their entry into Paradise as a result of His own grace. This is meant to warn man of the…

Read the full tafseer →