Explained with ayahs 51–59
جب موت کو ذبح کرایا جائے گا
بدبختوں کا ذکر کر کے اب نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے۔ اسی لئے قرآن کریم کو مثانی کہا گیا ہے اس دنیا میں جو اللہ تعالیٰ مالک و خالق و قادر سے ڈرتے دبتے رہے وہ قیامت کے دن جنت میں نہایت امن وامان سے ہوں گے۔ موت سے وہاں سے نکلنے کے، غم و رنج، گھبراہٹ، مشکلوں، دکھ درد، تکلیف، مشقت، شیطان اور اس کے مکر سے رب کی ناراضگی سے غرض تمام آفتوں اور مصیبتوں سے نڈر بےفکر مطمئن اور بےاندیشہ ہوں گے۔ جہنمیوں کو تو زقوم کا درخت اور آگ جیسا گرم پانی ملے گا اور انہیں جنتیں اور نہریں ملیں گی مختلف قسم کے ریشمی پارچہ جات انہیں پہننے کو ملیں گے جن میں نرم باریک بھی ہوگا اور دبیز چمکیلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
سورة الدُّخَان 40
امن کی جگہ سے مراد ایسی جگہ ہے جہاں کسی قسم کا کھٹکا نہ ہو۔ کوئی پریشانی، کوئی خطرہ اور اندیشہ، کوئی مشقت اور تکلیف لاحق نہ ہو۔ حدیث میں آتا ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا، " اہل جنت سے کہہ دیا جائے گا کہ یہاں تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ ہوگے، ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی نہ مرو گے، ہمیشہ خوشحال رہو گے کبھی خستہ حال نہ ہو گے، ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہوگے " (مسلم بروایت ابوہریرہ و ابو سعید خدری)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
(آیت) اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ مَقَامٍ اَمِيْنٍ ، ان آیات کے ذریعہ جنت کی سرمدی نعمتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور نعمت کی تقریباً تمام اصناف کو جمع کردیا گیا ہے۔ کیونکہ انسانی ضرورت کی چیزیں عموماً یہ ہوتی ہیں۔ عمدہ رہائش گاہ، عمدہ لباس، بہتر شریک زندگی، بہتر ماکولات، پھر ان سب نعمتوں کے باقی رہنے کی ضمانت اور رنج و تکلیف سے کلی طور پر مامون رہنے کا یقین یہاں ان چھ کی چھ باتوں کو اہل جنت کے لئے ثابت کردیا گیا ہے جیسا کہ ان چھ آیتوں پر غور کرنے سے صاف ظاہر ہے۔ یہاں اہل جنت کی قیام گاہ کو ”امین“ (پرامن) کہہ کر اس طرف بھی اشارہ فرما دیا گیا ہے کہ انسانی رہائش گاہ کی سب سے قابل تعریف صفت اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
ان المتقین فی مقام امین فی جنت عیون (52-51)
خدا ترسوں کا صلہ
گنہگاروں کے انجام کے بیان کے بعد یہ خدا ترسوں کے انجام کی تصویر ہے کہ وہ ایک مقام مامون میں ہوں گے، نہ وہاں ان کو کوئی خوف ہوگا نہ کوئی غم وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے اور اس بات کا ان کو کوئی اندیشہ نہیں ہوگا کہ ان چیزوں کو کوئی ان سے چھین سکے گا یا ان پر کوئی زوال آئے گا یا ان میں کسی چیز کے باب میں ان سے کوئی پرسش ہونی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
53۔ 1 اہل کفر و فسق کے مقابلے میں اہل ایمان وتقویٰ کا مقام بیان کیا جا رہا ہے جنہوں نے اپنا دامن کفر و فسق اور معاصی سے بچائے رکھا تھا۔ آمین کا مطلب ایسی جگہ، جہاں ہر قسم کے خوف اور اندیشوں سے وہ محفوظ ہونگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
13: یہ دونوں ریشمی کپڑوں کی دو قسمیں ہیں۔ سندس باریک اور استبرق دبیز ہوتا ہے، لیکن جنت کے سندس اور استبرق کی صحیح کیفیت اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–57
آیت نمبر 43 تا 57
یہ منظر زقوم کے درخت کے پیش کرنے سے شروع ہوتا ہے اور یہ بدکاروں کی خوراک ہوگا۔ اور یہ اس قدر کڑوا ہوگا جس طرح تیل کی تلچھٹ کڑوی ہوتی ہے۔ یہ جہنمیو کی خوراک کی خوفناک تصویر کشی ہے اور یہ تلچھت پیٹ میں یوں جوش مارے گا جس طرح پتیلے میں پانی کھولتا ہے۔ ان بدکاروں کے پیٹ میں ، جو برتری دکھاتے تھے رب پر اور اس کے رسول ﷺ امین پر۔ فرمان الٰہی یوں ان ” شرفاء “ کے لئے صادر ہوتا ہے۔
خذوہ فاعتلوہ الی سواء الجحیم (44 : 47) ثم صبوا فوق راسہ من عذاب الحمیم (44 : 48) ” پکڑو اسے اور رگیدنے ہوئے لے جاؤ اس کو جہنم کے بیچوں بیچ اور انڈیل دو اس کے سر پر کھولتے پانی کا عذاب “۔ یعنی پکڑو اسے سخت…
Read the full tafseer →1 یعنی جو یہاں اللہ سے ڈرتے ہیں وہاں امن چین سے ہوں گے۔ کسی طرح کا خوف اور غم پاس نہ آئے گا۔
Read the full tafseer →آیت 51 { اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ اَمِیْنٍ۔ } ”اس کے برعکس متقین بڑی امن والی جگہ میں ہوں گے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
35 تکبر کرنے والوں کا انجام :۔ یعنی اہل دوزخ تو اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے ندامت کی وجہ سے چھپتے پھریں گے۔ اس کے مقابلہ میں اہل جنت ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے آرام و اطمینان سے محو گفتگو ہوں گے۔ ایک دوسرے سے پیار و محبت اور سلام و دعا کی باتیں کریں گے۔ دنیا میں گزشتہ ایام کی یادیں تازہ کریں گے اور اللہ کا شکر بجا لائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
27۔ یعنی اہل جنت علاوہ روحانی نعمتوں کے ہر قسم کی مادی وجسمانی لذتوں سے بھی پوری طرح لذت گیر ہوں گے، یہ نہ ہوگا کہ یہاں کی جسمانی لذتوں سے انہیں وہاں خواہ مخواہ بےجرم محروم کردیاجائے۔ ہمارے ہاں کے جن جدید اہل قلم نے جنت کی لذات جسمانی کی تاویلیں کرکے انہیں خواہ مخواہ بدل دینا چاہا ہے وہ درحقیقت خود مسیحیت اور دوسرے باطل مذہبوں سے کسی حد تک مرعوب ہیں جنہوں نے جسم وجسمانیات ہی کو مطلق شر تسلیم کیا ہے۔ (آیت) ” مقام امین “۔ یعنی ایسی جگہ جو مصیبت، ہر نہ خوشگواری سے محفوظ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–59
آیت نمبر 43 تا 59
ترجمہ : بیشک زقوم (تھوہڑ) کا درخت جو کڑوا اور خبیث ترین ہے تہامہ میں پیدا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ میں پیدا فرمائے گا، مجرموں کا کھانا ہے یعنی ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کا جو بڑا گنہگار ہیں، اور وہ سیاہ تیل (تارکول) کی تلچھٹ کے مانند ہے (کالمھل) ثانی خبر ہے، وہ تیز گرم پانی کے مانند پیٹ میں کھولتا رہتا ہے (تغلی) تاء فوقانیہ کے ساتھ تیسری خبر ہے اور یاء تحتانیہ کے ساتھ المھل سے حال ہے جہنم پر مقرر فرشتوں کو حکم دیا جائے گا کہ مجرم کو پکڑ لو پھر گھسیٹتے ہوئے بیچ جہنم تک پہنچا دو (فاعتلوہ) کسرۂ اور ضمہ تاء کے ساتھ یعنی اس کو سختی اور شدت کے ساتھ کھینچو، پھر اس کے سر پر…
Read the full tafseer →ان المتقین فی مقام امین۔ کذلک بیشک اللہ سے ڈرنے والے امن (چین) کی جگہ میں ہوں گے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
اور کفر و شرک اور برائیوں سے بچنے والے لوگ یعنی حضرت ابوبکر صدیق وہ امن کی جگہ میں ہوں گے کہ موت و عذاب اور زوال کا کوئی خدشہ نہیں ہوگا۔ باغوں میں دودھ، شہد، شراب اور پانی کی نہروں میں ہوں گے اور وہ باریک اور دبیز ریشم کا لباس پہنیں گے اور آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔
Read the full tafseer →ان المتقین فی مقام امین : کفار کے برے انجام کے ذکر کے بعد متقین کے حسن انجام کا ذکر فرمایا۔ ”مقام امین“ (امن والی جگہ) سے مراد وہ جگہ جہاں نہ موت کا کھٹکا ہے نہ نکالے جانے کی فکر، نہ کوئی غم نہ پریشانی اور نہ محنت نہ مشقت۔ ابو سعید خدری اور ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ینادی مناد ان لکم ان تصحوا فلاتسفموا ابداً و ان لکم ان تحیوا فلا تموتوا ابداً وان لکم ان تشبوا فلا تھرموا ابداً وان لکم ان تنعموا فلا تباً سوا ابداً) (مسلم الجنۃ وصفۃ نعیمھا، باب فی دوام نعیم اھل الجنۃ…:2838)”اہل جنت کو) ایک آواز دینے والا آواز دے گا کہ تمہیں یہ نعمت حاصل ہے کہ تم تندرست رہو گے کبھی بیمار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
جب اللہ تعالیٰ نے کافروں کے مستقر اور عذاب کا ذکر کیا تو مومنوں کی مہمانی اور نعمتوں کا ذکر کیا۔ نافع اور ابن عامر نے فی مقام پڑھا ہے باقی قراء نے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ نسائی نے کہا : مقام سے مراد مکان ہے اور مقام سے مرا اقامت بھی ہے جس طرح شاعر نے کہا :
گھر یعنی اترنے کی جگہیں اور اقامت کی جگہیں ناپید ہوگئے۔
جوہری نے کہا : مقام اور مقام دونوں میں سے ہر ایک اقامت کے معنی میں ہوتے ہیں، بعض اوقات یہ قیام کی جگہ کے لئے بھی لفظ بولا جاتا ہے کیونکہ جب تو اسے قام یقوم سے مشتق مانے تو یہ مقامہ ہوگا اور اگر تو اسے اقام یقیم سے مشتق مانے تو مقام ہوگا کیوند کہ جب فعل غیر ثلاثی ہو تو اس ظرف کے صیغہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–59
18:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان المتقین فی مقام امین “ (بلاشبہ متقی لوگ امن کی جگہ ہوں گے یعنی موت اور عذاب سے امن میں ہوں گے۔
19:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ضحاک (رح) سے (آیت ) ” فی مقام امین “ کے بارے میں روایت کیا کہ (جنت) میں موت سے امن میں ہوں گے اور بوڑھا ہونے سے بھی امن میں ہوں گے۔ اور نہ وہ بھوکے ہوں گے اور نہ وہ ننگے ہوں گے۔
20:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان المتقین فی مقام امین “ یعنی وہ امن میں ہوں گے شیطان سے اور بیماریوں سے اور غموں سے (آیت ) ” زوجنا ھم بحور عین “ (اور ہم ان کا گوری گوری فراخ آنکھوں والیوں سے…
Read the full tafseer →اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ [ بیشک متقی لوگ ] فِيْ مَقَامٍ اَمِيْنٍ [ امن والی ٹھہرنے کی جگہ میں ہوں گے ]
نوٹ ۔ 1: امن والی جگہ سے مراد ایسی جگہ ہے جہاں کوئی کھٹکا نہ ہو ۔ کوئی غم ، کوئی پریشانی ، کوئی اندیشہ ، کوئی مشقت اور تکلیف لاحق نہ ہو، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اہل جنت سے کہہ دیا جائے گا کہ یہاں تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ ہوگے ، ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی نہ مرو گے ، ہمیشہ خوشحال رہو گے کبھی خستہ حال نہ ہوگے ، ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہوگے ، (تفہیم القرآن)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
متقیوں کے انعامات، باغ اور چشمے، لباس اور ازواج، ہر قسم کے پھل اور حیات ابدی
دوزخیوں کے عذاب بتانے کے بعد اہل جنت کے بعض انعامات ذکر فرمائے۔ اولاً تو یہ فرمایا کہ متقی لوگ امن وامان کی جگہ میں ہوں گے یعنی جنت ایسی جگہ ہے کہ جہاں کسی قسم کا خوف و ہراس، بےاطمینانی، بےچینی نہیں ہوگی اور ہمیشہ اسی حالت میں رہیں گے انہیں کبھی خوف یا غم نہ ہوگا نہ وہاں سے نکالے جانے کا خطرہ ہوگا۔ ثانیاً فرمایا کہ یہ متقی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ ثالثاً یہ فرمایا کہ سندس اور استبرق کا لباس پہنیں گے سندس باریک ریشم کو اور استبرق موٹے ریشم کو کہتے ہیں۔ رابعاً یہ فرمایا کہ آپس میں مقابل ہوکر ایک دوسرے کے سامنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–59
تہدید وتنبیہ از روز قیامت وبیان نجات و کامیابی مومنین ومتقین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان یوم الفصل ...... الی ........ فارتقب انھم مرتقبون “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مجرمین کی سزاؤں اور ان کے عبرت ناک انجام کا بیان تھا جس کے بعد ان کے بالمقابل مطیعین کے انعام واکرام کا ذکر فرمایا گیا تو اب اختتام مضمون پر مزید یوم آخرت کی عظمت ومصیبت کا بیان فرماتے ہوئے اہل ایمان وتقوی پر حق تعالیٰ کے جو انعامات ہوں گے ان کا ذکر کیا گیا ،
اور کافر ونافرمان کیسی شدت و تکلیف اور مصیبتوں میں مبتلا ہوں گے اس کو بھی واضح کرتے ہوئے فیصلہ فرمایا گیا کہ اصل کامیابی اور کامرانی حق تعالیٰ پر ایمان لانے اور آنحضرت ﷺ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–51
26:۔ ” ان المتقین “ تا ” ذلک ھو الفوز العظیم “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ ” فی جنت و عیون “ مقام امین سے بدل ہے متقی اور پرہیز گار لوگ اور شرک سے بچنے والے قیامت کے دن پر امن مقام یعنی باغات جنت اور چشموں میں ہوں گے جہاں وہ ہر قسم کے خوف و ہراس اور تکلیف و عذاب سے محفوظ و مامون ہوں گے اور انہیں زندگی کی ہر راحت و آسائش میسر ہوگی۔ یلبسون من سندس الخ، وہاں وہ باریک اور موٹے ریشم کے کپڑے پہنیں گے یعنی جس قسم کا لباس چاہیں گے انہیں ملے گا۔ سندس، باریک ریشم۔ استبرق، موٹا ریشم۔ سندس مارق من الدیباج و استبرق ما غلظ منہ (مدارک ج 4 ص 100) ۔ وہ جنت میں محبت و الفت اور مسر و شادمانی کے اظہار کے لیے ایک دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–59
ربط آیات
پہلے قرآن کی حقانیت اور صداقت بیان کی۔ پھر توحید کا مسئلہ سمجھایا ، مشرکین کی قباحت ، شرک کا رد اور پھر اس کا انجام بھی بیان ہوا۔ حق کی مخالفت کرنے والوں میں فرعون اور اس کے حواریوں کا تذکرہ ہوا اور پھر ان کی غرقابی کا ذکر بھی ہوا اللہ نے بنی اسرائیل کو فرعن کی غلامی سے نجات دلائی اور ان کو اپنے زمانے میں ہاں بھر میں فضیلت عطا کی ، پھر قریش مکہ اور مشرکین عرب کو تنبیہ کی گئی کہ تم سے پہلے قوم تبع جیسے بڑے بڑے ساز و سامان اور دولت والے لوگ گزر چکے ہیں ، ان کے حالات سے عبرت پکڑو تم کس بنا پر قیامت کا انکار کر رہے ہو ، فرمایا ہم نے ارض و سما اور ان کے درمیان کی اشیاء کو محض لہو و لہب کے…
Read the full tafseer →اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ مَقَامٍ اَمِيْنٍ 51 ۙ
تَّقْوَى
والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، ثمّ يسمّى الخوف تارة تَقْوًى، والتَّقْوَى خوفاً حسب تسمية مقتضی الشیء بمقتضيه والمقتضي بمقتضاه، وصار التَّقْوَى في تعارف الشّرع حفظ النّفس عمّا يؤثم، وذلک بترک المحظور، ويتمّ ذلک بترک بعض المباحات لما روي : «الحلال بيّن، والحرام بيّن، ومن رتع حول الحمی فحقیق أن يقع فيه» قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] ، إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا
[ النحل/ 128] ، وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–55
دارِ آخرت کا ثبوت کرکے اب کچھ وہاں کے حالات بیان فرماتا ہے۔ سب سے پہلے بدکاروں کی سزا بیان کرتا ہے فقال ان شجرۃ الزقوم گناہگاروں کا کھانا تھور ہوگا جو نہایت تلخ اور بدمزہ چیز ہے لاچار ہو کر اسی کو کھاویں گے وہ پیٹ میں جا کر گرم پانی کی طرح کھولے گا مہل تلچھٹ یا تانبا سیسہ وغیرہ پگھلا ہوا۔ مہل پر جملہ تمام ہوگیا پھر یغلی سے اس کے غلیان کی کیفیت شروع ہوتی ہے۔ بعض کالمہل کو یغلی سے بھی ربط دیتے ہیں۔ اس کے لیے یہ بھی فرشتوں کو حکم دیا جاوے گا کہ اس کو پکڑو اور دھکے دیتے ہوئے جہنم میں لے جاؤ اور اس کے سر پر کھولتا ہوا پانی ڈالو اور کہو چکھ کیونکہ تو اپنے زعم میں بڑا عزت والا ‘ زبردست سمجھا ہوا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ اَمِیْنٍ ۔ فِیْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ ۔ یَّلْبَسُوْنَ مِنْ سُنْدُسٍ وَّاِسْتَبْرَقٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ ۔ (الدخان : 51 تا 53)
(بےشک اللہ سے ڈرنے والے امن کی جگہ میں ہوں گے۔ باغوں اور چشموں میں۔ وہ سندس اور استبرق کا لباس پہنے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ )
اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں پر انعام
گنہگاروں اور نافرمانوں کے انجام کی تصویرکشی کے بعد، اب متقین کے انجام کی تصویرکشی کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے اللہ تعالیٰ کی عنایات اور اس کی رحمتوں کا مورد ہوں گے۔ اس کی سب سے پہلی عنایت یہ ہوگی کہ وہ ایسی امن کی جگہ میں ہوں گے جہاں کوئی کھٹکا اور اندیشہ ان کے قریب نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–51
فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ کائنات کو کھیل تماشا سمجھتے ہیں اور آخرت کا انکار کرتے ہیں انہیں جہنّم میں داخل کیا جائے گا جس میں انہیں یہ سزائیں دی جائیں گی۔
جہنمی جہنّم میں اس لیے جائیں گے کہ انہوں نے اپنے رب کی نافرمانی کی انتہا کی ہوگی۔ ایسے نافرمانوں کو کھانے کے لیے تھوہر کا درخت دیا جائے گا وہ اسے کھانے کی کوشش کریں گے لیکن ان کے حلق میں اٹک جائے گا۔ اسے حلق سے اتارنے کے لیے پانی طلب کریں گے انہیں پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی اور جہنمیوں کی پیپ دی جائے گی۔ جونہی تھوہر کا درخت ان کے حلق سے نیچے اترے گا تو وہ اس طرح ان کے پیٹوں میں ہول پیدا کرے گا جس طرح پگھلا ہوا تانبا زمین پر انڈیلا جائے…
Read the full tafseer →متقین کا ٹھکانہ :
آیت 51 : اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ اَمِیْنٍ (بیشک متقی امن کی جگہ میں ہوں گے) مقام۔ فتحہ کے ساتھ ہو تو معنی کھڑے ہونے کی جگہ۔ اور مراد مکان اور یہ ان خاص الفاظ میں سے ہے جو اپنے عمومی معنی میں مستعمل ہوئے۔ مُقَام ضمہ میم ہو تو معنی ہوگا اقامت کی جگہ۔
قراءت : مدنی و شامی نے ضمہ میم سے پڑھا ہے۔
اَمِیْنٍ یہ امن الرجل امانۃ فہوامین سے لیا گیا ہے۔ یہ خائن کی ضد ہے۔ مکان کو امین بطور استعارہ کہا گیا ہے۔ گویا خوف والا مقام اس طرح ہے کہ اپنے ساتھی کو تکالیف پہنچا کر اس کی خیانت کرتا ہے۔
Read the full tafseer →50، ان ھذاماکنتم بہ تمترون، تم اس میں اس تک کرتے ہو اور تم اس پر ایمان نہیں لاتے ، پھر متقین کاٹھکا نہ ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
51۔ 57۔ اس سے پہلے کی آیتوں میں خدا تعالیٰ جب بد لوگوں کا حال بیان فرما چکا تو اب نیک لوگوں کا حال بیان فرمایا کہ بیشک جو لوگ پرہیز گار ہیں اور خدا سے ڈر کر دنیا میں گناہوں سے بچتے اور نیک کام کرتے ہیں وہ آخرت میں امن والی جگہ میں ہوں گے مراد اس سے جنت ہے کہ نہ اس میں موت ہوگی اور نہ کسی طرح کی بیماری ہوگی چین سے بےخوف رہیں گے باغوں کے اندر ریشمی باریک اور کپڑے چمک دارپہنیں گے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے ایک کی دوسرے کی طرف پیٹھ نہ ہوگی باہم ان کے محبت و سرور زیادہ ہوگا ‘ کذلک اس کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح کا اچھا معاملہ کرتے ہیں ہم پرہیز گاروں کے ساتھ ‘ پھر فرمایا بیاہ دیا ہم نے ان کو گورے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–59
آیت 51
یہ تقویٰ شعار لوگوں کی جزا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے ڈر کر گناہوں کو ترک کیا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔ جب ان سے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب کی نفی ہوگئی تو ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی رضا ثابت ہوگئی، نیز ثواب عظیم کے طور پر انہیں بیشمار درختوں کے گھنے سائے، پھل اور چشمے عطا ہوں گے، ان درختوں کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی جن کو اہل ایمان نعمتوں بھری جنت میں اپنے لئے نکال لیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے جنت کی اضافت نعمتوں کی طرف کی ہے کیونکہ وہ جنت جن چیزوں پر مشتمل ہے وہ سب نعمتیں ہیں جو ہر لحاظ سے کامل ہیں اور کسی طرح بھی ان میں کوئی رکاوٹ اور کسی قسم کا کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
50 پرہیزگاروں کے صلہ و انعام کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ پرہیزگار لوگ بڑے ہی امن و سکون کے مقام میں ہوں گے "۔ جہاں ان کو ہر طرح کا امن و سکون اور ہر تکلیف و مکروہ سے راحت و اطمینان نصیب ہوگا۔ کیونکہ دنیا میں وہ ایمان اور اس کے مطابق عمل صالح کی دولت سے سرشار و مالامال رہے ہوں گے۔ اور ایمان ہی امن بخشنے کی چیز ہے ۔ سبحان اللہ !۔ کیسی دولت ہے یہ ایمان و یقین کی دولت جو دنیا و آخرت دونوں میں انسان کے لیے امن و سکون کی ضامن و کفیل ہے ۔ فالحمد للہ رب العالمین ۔ سو یہ گناہگاروں کے انجام کے مقابلے میں پرہیزگاروں کے انجام کی تصویر پیش فرمائی گئی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–59
گنہگاروں کا حال اور نیکو کاروں کا حال
تشریح : قیامت، حساب کا دن اور پھر بدلے کا دن۔ یہ سب بڑی وضاحت سے بیان کئے جا چکے ہیں۔ ایک بار پھر ہم اس پر غور کرتے ہیں بیشک انسانی تاریخ میں حق شناسی کی چنگاریاں بھی ملتی ہیں۔ مگر اس کا بڑا حصہ حق تلفی کی رو داد سے بھرا پڑا ہے۔ مورخ کو بڑی مایوسی ہوتی ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ انسان کا ضمیر جو کچھ چاہتا ہے دنیا کے واقعی حالات اس کے خلاف ہیں یہاں ہم چند اقوال نقل کرتے ہیں۔
والٹر : ” انسانی تاریخ محض جرائم اور مصائب کی تصویر ہے “۔
ہربرٹ اسن پر : ” تاریخ محض بےفائدہ گپ ہے “۔
نپولین : ” تاریخ تمام کی تمام لایعنی قصے کا نام ہے “۔
کیا انسانیت کا یہ عظیم الشان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–59
آیات 43 تا 59۔
اسرار ومعارف۔
کفار کا یہ حال ہوگا کہ کھانے کو انہیں زقوم (تھوہر کیکٹس) ملے گا اور بدکاروں کا کھاناایسا ہی ہوناچاہیے پھر وہ زقوم دوزخ کا ہوگا جبکہ دنیا کا بھی بہت کڑوا کسیلا اور بدشکل کانٹوں سے بھرپور ہوتا ہے وہ تو پیٹ میں ایسے کھولے گا جیسے پگھلا ہواتانبا ہو یا جی سے پانی کھولتا ہے اور حکم ہوگا کہ انہیں پکڑ لو اور گھسیٹتے ہوئے دوزخ کے درمیان لے جاؤ اور ان پر دوزخ کے جلتے پانی کا عذاب چھوڑ دو اور انہیں کہو اب اپنی کرتوتوں کا مزہ چکھو کہ تم تو بہت بڑے آدمی بنتے تھے اور تمہیں اللہ کی اطاعت اور نبی کی اتباع کرنے میں عار آتی تھی یہ وہی دوزخ ہے جس کا تمہین یقین نہ آتا تھا اور وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
ف 2 امن کی جگہ سے مراد ایسی جگہ ہے جہاں نہ کوئی موت کا کھٹکا ہوگا نہ غم اور پریشانی اور نہ محنت و مشقت۔ حدیث میں ہے کہ اہل جنت سے کہ دیا جائے گا کہ یہاں تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ ہو گے ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی نہ مرو گے ہمیشہ خوشحال رہو گے کبھی خستہ حال نہ ہو گے ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(44:51) المتقین : اسم فاعل جمع مذکر۔ اتقاء (افتعال) مصدر۔ پرہیزگار لوگ۔ مقام امین موصوف وصفت۔ امن والی جگہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–59
لغات القرآن آیت نمبر 43 تا 59 : شجرت الزقوم ( زقوم ( جہنمیوں کی غذا) کا درخت) الاثیم ( گناہ گار) المھل (پگھلا ہوا تانبہ) یغلی (ابل رہا ہے ، کھول رہا ہے) البطون ( بطن) ( پیٹ) الحمیم (کھولتا پانی) اعتلوا ( گھسیٹتے لے جائو) صبوا (انڈیل دو ) ذق (چکھ) مقام امین ( امن و سکون کی جگہ) سندس ( باریک ریشم) استبرق (دبیر ریشم)
تشریح : آیت نمبر 43 تا 59 : اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو نصیحت و عبرت کے لئے نہایت آسان اور سہل بنا کر بھیجا ہے جس میں اس حقیقت کو نہایت وضاحت سے بیان کردیا ہے کہ برے اور اچھے اعمال کا نتیجہ کیا ہے۔
جو لوگ دنیا میں زندگی بھر وقتی لذتوں ، خواہشوں ، تمناؤں اور جھوٹی عزت کے پیچھے دوڑتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
اہل جنت کی پرکیف زندگی کابیان۔
(ف 1) اس سے پہلے کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ جب بدلوگوں کا حال بیان فرماچکا تو اب متقی لوگوں کا حال بیان فرمایا کہ بیشک جو لوگ پرہیزگار ہیں اور خدا سے ڈرکر دنیا میں گناہوں سے بچتے ہیں اور نیک کام کرتے ہیں وہ آخرت میں امن والی جگہ میں ہوں گے یعنی جنت میں نہ اس میں موت ہوگی اور نہ کسی طرح کی بیماری ہوگی، امن سے رہیں گے باغوں کے اندر ریشمی باریک اور دبیز کپڑے چمک دار پہنیں گے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے ایک دوسرے کی طرف پیٹھ نہ ہوگی۔ باہم ان کے محبت و سرور ہوگا۔
کذالک۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح کا اچھامعاملہ پرہیزگاروں کے ساتھ کرتے ہیں یوں ہی ان کو ہم حوریں جنت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–59
[13] یعنی یہ لوگ اگر نہ سمجھیں تو تم چندے انتظار کرو۔ ان کا انجام بد سامنے آجائے گا۔ یہ تو منتظر ہیں کہ تم پر کوئی افتاد پڑے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–57
حل لغات :۔ بلوء ۔ آزمائش ۔ انعام ۔
ہم نے کائنات کو بلا مقصد نہیں پیدا کیا
1: مادیت کا نظریہ ہے ۔ کہ یہ کارگاہ حیات کا نتیجہ ہے ۔ محض بخت واخلاق کا اور مجازفۃ وتخمین کا ۔ یہ عالم حیات یونہی بلا کسی غرض اور غایت کے پیدا کردیا گیا ہے یا پیدا ہوگیا ہے ۔ اور اس کی تخلیق میں کسی اخلاقی ۔ نصب العین کو کوئی دخل نہیں ۔ قرآن حکیم اس نظریہ کی مخالفت کرتا ہے اور کہتا ہے ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو محض فعل عبث کے طور پر نہیں پیدا کیا ہے ۔ کہ اس کا کچھ مقصد بھی نہ ہو ۔ بلکہ ان کے بنانے میں حکمت ضرور ہے ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ زندگی کی تکمیل ہو ۔ اور انسان کو مواقع دیئے جائیں ۔ کہ وہ آخرت کے لئے تیاری…
Read the full tafseer →(51) بلا شبہ جو لوگ متقی اور خدا سے ڈرنے والے ہیں وہ پرامن اور باامن مقام میں ہوں گے۔ وہاں ایسی جگہ میں ہوں گے جہاں کسی قسم کی بےچینی اور خطرہ نہ ہوگا آگے اس پرامن مقام کا بیان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–59
ف 2۔ یعنی آپ تبلیغ سے زیادہ فکر میں نہ پڑیئے نہ مخالفت پر رنج کیجئے، ان کا معاملہ خدا تعالیٰ کے سپرد کیجئے وہ خود سمجھ لے گا۔
Read the full tafseer →بلاشبہ پرہیز گار لوگ امن کی جگہ میں ہوں گے
15 ؎ جنت کے جتنے درجات ہوں گے سب کے سب میں امن ہی امن ہوگا اور کہیں بھی بدامنی اور بےآرامی کا نام و نشان تک نہیں ہوگا اور نہ ہی کسی طرح کی کوئی فکر کسی کو لاحق ہوگی اور اس طرح نہ کسی کو کوئی غم اور پریشانی ہوگی اور نہ ہی کوئی خطرہ اور اندیشہ ہوگا ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں پھیلی ہوئی ہوں گی اور سلامتی کا دور دورہ ہوگا ، خوشی اور سلامتی کی جو چیزیں انسان کے تصور میں آسکتی ہیں یا اس وقت کے ماحول کے مطابق جو چیزیں اس کے لیے خوشی اور مسرت کی ہوں گی سب اس کو میسر ہوں گی اور اہل جنت میں سب کے سب جوان ہوں گے مرد ہوں یا عورتیں تقریباً ہم عمر اور بچے محض ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
Reward of the Inmates of Paradise
إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي مَقَامٍ أَمِينٍ (Indeed the God-fearing will be in a place free from fear, - 44:51). The current set of verses describes the eternal blessings of Paradise. Almost all sorts of blessings have been referred to in these verses, because the following are generally the human needs:
(1) fine dwelling;
(2) fine clothing;
(3) the best life-partner;
(4) the best food;
(5) the satisfaction that these blessings will remain available; and
(6) assurance of total security from grief and affliction. In these verses all the six kinds of blessings for…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–51
40 "A secure place" : A place safe from every kind of fear, grief, worry and danger, hardship and trouble. According to a Hadith, the Holy Prophet said: "It will be proclaimed to the dwellers of Paradise: You will remain in good health, will never fall ill; will live for ever: will never die; will ever remain happy and prosperous and will never meet with a misfortune; will ever remain youthful, will never become old. " (Muslim, on the authority of Abu Hurairah and Abu Sa id Khudri).
Read the full tafseer →