Ad-Dukhaan 44:50

Ad-Dukhaan · from ayah 50

44:50

اِنَّ هٰذَا مَا كُنْتُمْ بِهٖ تَمْتَرُوْنَ ۟اِنَّ هٰذَا مَا كُنۡتُمۡ بِهٖ تَمۡتَرُوۡنَ

یہ وہی (دوزخ) ہے جس میں تم لوگ شک کیا کرتے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, this is what you used to dispute."

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 3 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Ad-Dukhaan

All translations of 44:50

یہ وہی چیز ہے جس کے آنے میں تم لوگ شک رکھتے تھے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ وہی (دوزخ) ہے جس میں تم لوگ شک کیا کرتے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہی وه چیز ہے جس میں تم شک کیا کرتے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ وہی چیز ہے جس کے بارے میں تم لوگ شک کیا کرتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک یہ ہے وہ جس میں تم شبہہ کرتے تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک یہ وہی (دوزخ) ہے جس میں تم شک کیا کرتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک یہ ہے جس میں تم شک کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ کچھ ہے جس میں تم لوگ شک کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ وہی چیز ہے جس کے بارے میں تم شک میں پڑے رہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ یہ وہی ہے جس کے بارے میں تم لوگ شک کیا کرتے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

یہی وہ چیز ہے جس کے باب میں تم شک کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینایہی ہے وہ چیز جس کے بارے میں تم شک کرتے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ وہی دوزخ ہے جس میں تم لوگ شک کیا کرتے تھے

— محترمہ رفعت اعجاز

This is what you used to doubt.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

This is the thing about which you used to be skeptic.

— Muhammad Taqi Usmani

This is the thing about which you used to be skeptic.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Verily, this is that whereof you used to doubt!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! this is that whereof ye used to doubt.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, this is what you used to dispute."

— Saheeh International

This is the torment that you persistently doubted".

— Muhammad Sarwar

Surely this is what you disputed about.

— Muhammad Habib Shakir

Verily this is that whereof ye were wont to doubt.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 44:50

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 43–50

زقوم ابو جہل کی خوراک ہوگا منکرین قیامت کو جو سزا وہاں دی جائے گی اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ان مجرموں کو جو اپنے قول اور فعل کو نافرمانی سے ملوث کئے ہوئے تھے آج زقوم کا درخت کھلایا جائے گا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ابو جہل ہے۔ گو دراصل وہ بھی اس آیت کی وعید میں داخل ہے لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ آیت صرف اسی کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ حضرت ابو درداء ایک شخص کو یہ آیت پڑھا رہے تھے مگر اس کی زبان سے لفظ (اثیم) ادا نہیں ہوتا تھا اور وہ بجائے اس کے یتیم کہہ دیا کرتا تھا تو آپ نے اسے (طعام الفاجر) پڑھوایا یعنی اسے اس کے سوا کھانے کو اور کچھ نہ دیا جائے گا۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 47–51

سورة الدُّخَان 40 امن کی جگہ سے مراد ایسی جگہ ہے جہاں کسی قسم کا کھٹکا نہ ہو۔ کوئی پریشانی، کوئی خطرہ اور اندیشہ، کوئی مشقت اور تکلیف لاحق نہ ہو۔ حدیث میں آتا ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا، " اہل جنت سے کہہ دیا جائے گا کہ یہاں تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ ہوگے، ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی نہ مرو گے، ہمیشہ خوشحال رہو گے کبھی خستہ حال نہ ہو گے، ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہوگے " (مسلم بروایت ابوہریرہ و ابو سعید خدری)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 43–50

خلاصہ تفسیر بیشک زقوم کا درخت (جس کی تحقیق سورة صافات کے دوسرے رکوع میں گزر چکی ہے) بڑے مجرم (یعنی کافر) کا کھانا ہوگا جو (صورت کے مکروہ ہونے میں) تیل کی تلچھن جیسا ہوگا (اور) وہ پیٹ میں ایسا کھولے گا جیسا تیز گرم پانی کھولتا ہے (اور فرشتوں کو حکم ہوگا کہ) اس کو پکڑو پھر گھسیٹتے ہوئے دوزخ کے بیچوں بیچ تک لے جاؤ، پھر اس کے سر کے اوپر تکلیف دینے والا گرم پانی چھوڑو (اور اس سے بطور استہزاء کہا جائے گا کہ) لے چکھ، تو بڑا معزز مکرم ہے (یہ تیری تعظیم ہو رہی ہے جیسا تو دنیا میں اپنے آپ کو معظم و مکرم سمجھ کر ہمارے احکام سے عار کیا کرتا تھا اور دوزخیوں سے کہا جائے گا کہ) یہ وہی چیز ہے جس میں تم شک (و…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 49–50

ذق، انک انت العزیز الکریم، ان ھذا ماکنتم بہ تمترون (50-49) یہ قول عذاب کی زبان حال سے بھی ہوسکتا ہے اور عذاب دینے والوں کی زبن قال سے بھی ایک ایک سے یہ کہا جائے گا کہ تم دنیا میں بڑے مقتدر اور عزت والے بنے رہے اور اس گھمنڈ میں تم نے اس دن کی پیشی کو جھٹلایا۔ آج اس کا مزہ چکھو۔ یہ وہی چیز ہے جس کے بارے میں تم طرح طرح کے شبہات پیدا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 50–53

53۔ 1 اہل کفر و فسق کے مقابلے میں اہل ایمان وتقویٰ کا مقام بیان کیا جا رہا ہے جنہوں نے اپنا دامن کفر و فسق اور معاصی سے بچائے رکھا تھا۔ آمین کا مطلب ایسی جگہ، جہاں ہر قسم کے خوف اور اندیشوں سے وہ محفوظ ہونگے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 50–53

13: یہ دونوں ریشمی کپڑوں کی دو قسمیں ہیں۔ سندس باریک اور استبرق دبیز ہوتا ہے، لیکن جنت کے سندس اور استبرق کی صحیح کیفیت اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 43–57

آیت نمبر 43 تا 57 یہ منظر زقوم کے درخت کے پیش کرنے سے شروع ہوتا ہے اور یہ بدکاروں کی خوراک ہوگا۔ اور یہ اس قدر کڑوا ہوگا جس طرح تیل کی تلچھٹ کڑوی ہوتی ہے۔ یہ جہنمیو کی خوراک کی خوفناک تصویر کشی ہے اور یہ تلچھت پیٹ میں یوں جوش مارے گا جس طرح پتیلے میں پانی کھولتا ہے۔ ان بدکاروں کے پیٹ میں ، جو برتری دکھاتے تھے رب پر اور اس کے رسول ﷺ امین پر۔ فرمان الٰہی یوں ان ” شرفاء “ کے لئے صادر ہوتا ہے۔ خذوہ فاعتلوہ الی سواء الجحیم (44 : 47) ثم صبوا فوق راسہ من عذاب الحمیم (44 : 48) ” پکڑو اسے اور رگیدنے ہوئے لے جاؤ اس کو جہنم کے بیچوں بیچ اور انڈیل دو اس کے سر پر کھولتے پانی کا عذاب “۔ یعنی پکڑو اسے سخت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

15 یعنی تم کو کہاں یقین تھا کہ یہ دن بھی دیکھنا پڑے گا۔ اسی دھوکہ میں تھے کہ بس زندگی یونہی کھیلتے کودتے گزر جائے گی۔ آخر مٹی میں مل کر مٹی ہوجائیں گے، آگے کچھ بھی نہیں۔ اب دیکھ لیا کہ وہ باتیں سچی تھیں جو پیغمبروں نے بیان کی تھیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 50 { اِنَّ ہٰذَا مَا کُنْتُمْ بِہٖ تَمْتَرُوْنَ } ”یقینایہی ہے وہ چیز جس کے بارے میں تم شک کرتے تھے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 50–53

35 تکبر کرنے والوں کا انجام :۔ یعنی اہل دوزخ تو اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے ندامت کی وجہ سے چھپتے پھریں گے۔ اس کے مقابلہ میں اہل جنت ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے آرام و اطمینان سے محو گفتگو ہوں گے۔ ایک دوسرے سے پیار و محبت اور سلام و دعا کی باتیں کریں گے۔ دنیا میں گزشتہ ایام کی یادیں تازہ کریں گے اور اللہ کا شکر بجا لائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 43–50

26۔ عذاب جسمانی کے ساتھ ساتھ اہل جہنم کی اذیت قلب کے بڑھانے کو یہ بھی بطور طعن و استہزاء کہا جائے گا ..... دوزخیوں کے مقدر میں تو ہر قسم کی انتہائی اذیت ہے۔ جسمانی ومادی کے علاوہ ذہنی وقلبی بھی۔ (آیت) ” الاثیم “۔ بڑے مجرم سے مراد کافر ہے۔ اے الکثیر الاثام والمراد بہ الکافر لدلالۃ ماقبلہ وما بعدہ علیہ (بیضاوی) الاثیم اے فی قولہ وفعلہ وھو الکافر (ابن کثیر) (آیت) ” الاثیم “۔ کے صیغہ مفرد سے مراد جنس کافر ہے کوئی مخصوص فرد یا متعین شخصیت مراد نہیں۔ المراد بہ جنس الکافر لاواحد بعینہ (روح) اور یہ جو بعض اقوال میں آیا ہے کہ اس سے مراد ابوجہل یا فلاں متعین کافر ہے، سو یہ قول خلاف تحقیق وبلادلیل ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 43–59

آیت نمبر 43 تا 59 ترجمہ : بیشک زقوم (تھوہڑ) کا درخت جو کڑوا اور خبیث ترین ہے تہامہ میں پیدا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ میں پیدا فرمائے گا، مجرموں کا کھانا ہے یعنی ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کا جو بڑا گنہگار ہیں، اور وہ سیاہ تیل (تارکول) کی تلچھٹ کے مانند ہے (کالمھل) ثانی خبر ہے، وہ تیز گرم پانی کے مانند پیٹ میں کھولتا رہتا ہے (تغلی) تاء فوقانیہ کے ساتھ تیسری خبر ہے اور یاء تحتانیہ کے ساتھ المھل سے حال ہے جہنم پر مقرر فرشتوں کو حکم دیا جائے گا کہ مجرم کو پکڑ لو پھر گھسیٹتے ہوئے بیچ جہنم تک پہنچا دو (فاعتلوہ) کسرۂ اور ضمہ تاء کے ساتھ یعنی اس کو سختی اور شدت کے ساتھ کھینچو، پھر اس کے سر پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان ھذا ما کنتم بہ تمترون یہ وہی چیز ہے جس میں تم شک کیا کرتے تھے۔ خُذُوْہُ یعنی دوزخ کے کارندوں سے (جن کو زبانیہ کہا جاتا ہے) کہا جائے گا : اس کافر کو پکڑو۔ فَاعْتِلُوْہُ اور زبردستی دھکے دیتے ہوئے اس کو وسط جحیم تک لے جاؤ۔ عَتْلٌ کا معنی ہے کسی چیز کو بھرپور طور پر مضبوطی کے ساتھ پکڑنا اور زبردستی کھینچ کرلے جانا۔ سَوَآءِ الْجَحِیْم وسط جہنم۔ صُبُّوْا فَوْقَ رَاْسِہٖ مِنْ عَذَابِ الْحَمِیْمِ عذاب کی اضافت حمیم کی طرف کلام کو پرزور بنانے کیلئے کی ‘ اصل میں کلام اس طرح تھا : صُبُّوْا فَوْقَ رَاْسِہٖ عَذَابًا ھُوَ الْحَمِیْمُ ۔ ذُقْ یعنی عذاب دینے والے کہیں گے : اس عذاب کا مزہ چکھ ‘ تو تو اپنے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ان ھذا ما کنتم بہ تمترون : یعنی یہ ہے وہ جہنم جس کا تمہیں یقین نہیں تھا۔ فرشتے انھیں جہنم کی مار دے دے کر جتلائیں گے کہ یہ وہ آگ ہے جس میں تم شک کرتے تھے اور جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ دیکھیے سورة طور (13 تا 15)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 49–50

ابن انباری نے کہا، عوام نے ان کے کسرہ پر اتفاق کیا ہے حضرت حسن بصری نے حضرت علی شیر خدا ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ ان ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ ہے نسائی نے اسی طرح پڑھا ہے جس نے ہمزہ کو کسرہ س یدیا ہے اس نے ذق پر وقف کیا ہے جس نے ہمزہ ک فتحہ دیا ہے اس نے ذق پر وقف نہیں کیا کیونکہ معنی ہے تم چکھو کیونکہ تو عزیز و کریم ہے قتادہ نے کہا : یہ ابو جہل کے حق میں آیت نازل ہوئی (1) اس نے کہا تھا : اس وادی میں مجھ سے بڑھ کر قوت والا اور معزز نہیں اسی وجہ سے اسے کہا گیا، عکرمہ نے کہا : نبی کریم ﷺ اور ابو جہل کی ملاقات ہوئی، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تجھے کہوں ابو جہل نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 49–50

6:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ذق انک انت العزیز الکریم “ (چکھ لو بڑا معزز مکرم ہے) یعنی تو نہ عزیز اور نہ کریم ہے۔ 7:۔ الدموی فی ماغازیہ میں عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ابوجہل کو ملے اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تجھ سے کہو (آیت) ” اولی لک فاولی ثم اولی لک فاولی “ (القیامۃ آیت 35) (تیرے لئے ہلاکت در ہلاکت ہو۔ ابوجہل نے اپنا ہاتھ رسول اللہ ﷺ سے الگ کیا اور کہا تو اور تیرا ساتھی یعنی خدا تعالیٰ میرا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے تو جانتا ہے کہ میں اس طحاء کے تمام باشندوں میں سب سے زیادہ محفوظ ہوں اور میں عزیز وکریم ہوں اللہ تعالیٰ نے اس کو بدر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّ ھٰذَا مَا [ بیشک یہ ہے وہ ] كُنْتُمْ بِهٖ [ تم لوگ جس کے بارے میں ] تَمْتَرُوْنَ [ شک کرتے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 49–50

دنیا کی بڑائی کا انجام دوزخی وہاں ایسے عذاب میں مبتلا ہوگا حالانکہ دنیا میں بڑا عزت والا سمجھا جاتا تھا اس کا بڑا نام تھا اور شہرت تھی بادشاہ تھا صدر تھا یا وزیر تھا بڑے بڑے القاب تھے وہ اپنے آپ کو بڑا آدمی سمجھتا تھا دوزخ میں سخت عذاب کی وجہ سے اس کا برا حال ہوگا اس کی دنیا والی حالت یاد دلانے کے لیے (جس کو بہت بڑی کامیابی سمجھتا تھا) کہا جائے گا ﴿ ذُقْ 1ۙۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ 0049﴾ تو یہ عذاب چکھ لے دنیا میں تو بڑی عزت والا اور بڑے اکرام والا سمجھا جاتا تھا یہ چند دن کی بڑائی اور چہل پہل پر جو لوگ جان اور دل سے فدا ہیں وہ اس سے عبرت حاصل کریں۔ ﴿اِنَّ هٰذَا مَا كُنْتُمْ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 40–59

تہدید وتنبیہ از روز قیامت وبیان نجات و کامیابی مومنین ومتقین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان یوم الفصل ...... الی ........ فارتقب انھم مرتقبون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مجرمین کی سزاؤں اور ان کے عبرت ناک انجام کا بیان تھا جس کے بعد ان کے بالمقابل مطیعین کے انعام واکرام کا ذکر فرمایا گیا تو اب اختتام مضمون پر مزید یوم آخرت کی عظمت ومصیبت کا بیان فرماتے ہوئے اہل ایمان وتقوی پر حق تعالیٰ کے جو انعامات ہوں گے ان کا ذکر کیا گیا ، اور کافر ونافرمان کیسی شدت و تکلیف اور مصیبتوں میں مبتلا ہوں گے اس کو بھی واضح کرتے ہوئے فیصلہ فرمایا گیا کہ اصل کامیابی اور کامرانی حق تعالیٰ پر ایمان لانے اور آنحضرت ﷺ کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 44–51

26:۔ ” ان المتقین “ تا ” ذلک ھو الفوز العظیم “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ ” فی جنت و عیون “ مقام امین سے بدل ہے متقی اور پرہیز گار لوگ اور شرک سے بچنے والے قیامت کے دن پر امن مقام یعنی باغات جنت اور چشموں میں ہوں گے جہاں وہ ہر قسم کے خوف و ہراس اور تکلیف و عذاب سے محفوظ و مامون ہوں گے اور انہیں زندگی کی ہر راحت و آسائش میسر ہوگی۔ یلبسون من سندس الخ، وہاں وہ باریک اور موٹے ریشم کے کپڑے پہنیں گے یعنی جس قسم کا لباس چاہیں گے انہیں ملے گا۔ سندس، باریک ریشم۔ استبرق، موٹا ریشم۔ سندس مارق من الدیباج و استبرق ما غلظ منہ (مدارک ج 4 ص 100) ۔ وہ جنت میں محبت و الفت اور مسر و شادمانی کے اظہار کے لیے ایک دوسرے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 42–59

ربط آیات پہلے قرآن کی حقانیت اور صداقت بیان کی۔ پھر توحید کا مسئلہ سمجھایا ، مشرکین کی قباحت ، شرک کا رد اور پھر اس کا انجام بھی بیان ہوا۔ حق کی مخالفت کرنے والوں میں فرعون اور اس کے حواریوں کا تذکرہ ہوا اور پھر ان کی غرقابی کا ذکر بھی ہوا اللہ نے بنی اسرائیل کو فرعن کی غلامی سے نجات دلائی اور ان کو اپنے زمانے میں ہاں بھر میں فضیلت عطا کی ، پھر قریش مکہ اور مشرکین عرب کو تنبیہ کی گئی کہ تم سے پہلے قوم تبع جیسے بڑے بڑے ساز و سامان اور دولت والے لوگ گزر چکے ہیں ، ان کے حالات سے عبرت پکڑو تم کس بنا پر قیامت کا انکار کر رہے ہو ، فرمایا ہم نے ارض و سما اور ان کے درمیان کی اشیاء کو محض لہو و لہب کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ ھٰذَا مَا كُنْتُمْ بِہٖ تَمْتَرُوْنَ۝ 50 هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] ، ويقال بإزاء هذا في المستبعد بالشخص أو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 43–55

دارِ آخرت کا ثبوت کرکے اب کچھ وہاں کے حالات بیان فرماتا ہے۔ سب سے پہلے بدکاروں کی سزا بیان کرتا ہے فقال ان شجرۃ الزقوم گناہگاروں کا کھانا تھور ہوگا جو نہایت تلخ اور بدمزہ چیز ہے لاچار ہو کر اسی کو کھاویں گے وہ پیٹ میں جا کر گرم پانی کی طرح کھولے گا مہل تلچھٹ یا تانبا سیسہ وغیرہ پگھلا ہوا۔ مہل پر جملہ تمام ہوگیا پھر یغلی سے اس کے غلیان کی کیفیت شروع ہوتی ہے۔ بعض کالمہل کو یغلی سے بھی ربط دیتے ہیں۔ اس کے لیے یہ بھی فرشتوں کو حکم دیا جاوے گا کہ اس کو پکڑو اور دھکے دیتے ہوئے جہنم میں لے جاؤ اور اس کے سر پر کھولتا ہوا پانی ڈالو اور کہو چکھ کیونکہ تو اپنے زعم میں بڑا عزت والا ‘ زبردست سمجھا ہوا تھا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 49–50

ذُقْ ج لا اِنَّـکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُالْـکَرِیْمُ ۔ اِنَّ ھٰذَا مَاکُنْتُمْ بِہٖ تَمْتَرُوْنَ ۔ (الدخان : 49، 50) (چکھ اس کا مزہ، بیشک تو تو بڑا زبردست اور عزت والا آدمی ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کے بارے میں تم شک رکھتے تھے۔ ) جہنم کے کارکن اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہر اس شخص سے جس کے سر پر گرم پانی کا عذاب انڈیلیں گے، کہیں گے کہ تو تو دنیا میں اپنے آپ کو بہت بڑا آدمی سمجھتا تھا، تو کسی کو خاطر میں نہیں لاتا تھا اور تجھے اپنی عزت وہیبت کا انتہا درجے کا گھمنڈ تھا۔ جس کا نتیجہ یہ تھا کہ تم آج کے دن کا ہمیشہ انکار کرتے رہے اور تمہیں اس کے بارے میں ہمیشہ شک و شبہ رہا۔ یہ وہی دن ہے، اب اپنے انکار کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 43–51

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ کائنات کو کھیل تماشا سمجھتے ہیں اور آخرت کا انکار کرتے ہیں انہیں جہنّم میں داخل کیا جائے گا جس میں انہیں یہ سزائیں دی جائیں گی۔ جہنمی جہنّم میں اس لیے جائیں گے کہ انہوں نے اپنے رب کی نافرمانی کی انتہا کی ہوگی۔ ایسے نافرمانوں کو کھانے کے لیے تھوہر کا درخت دیا جائے گا وہ اسے کھانے کی کوشش کریں گے لیکن ان کے حلق میں اٹک جائے گا۔ اسے حلق سے اتارنے کے لیے پانی طلب کریں گے انہیں پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی اور جہنمیوں کی پیپ دی جائے گی۔ جونہی تھوہر کا درخت ان کے حلق سے نیچے اترے گا تو وہ اس طرح ان کے پیٹوں میں ہول پیدا کرے گا جس طرح پگھلا ہوا تانبا زمین پر انڈیلا جائے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 50 : اِنَّ ہٰذَا (یہ وہی چیز ہے) عذاب یا یہ معاملہ وہی ہے۔ مَا کُنْتُمْ بِہٖ تَمْتَرُوْنَ (جس میں تم شک کیا کرتے تھے) تمترون کا معنی تم شک کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

49، پھر اس کو کہاجائے گا، ذق، اس عذاب کو، انک، کسائی (رح) نے، انک، الف کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے یعنی ، لانک تقوال الخ، یعنی اس لیے کہ تو کہتا تھا کہ میں غالب معززہوں اور یگر حضرات نے الف کی زیر کے ساتھ ابتداء پر پڑھا ہے۔ ، انت العزیزالکریم، اپنی قوم کے نزدیک تیرے گمان میں اور یہ اس وجہ سے کہ ابوجہل کہا کرتا تھا کہ میں اس وادی والوں میں غالب اور زیادہ عزت والا ہوں ۔ پس یہ لفظ اس کو جہنم کے داروغے استہزاء اور ڈانٹ کے طور پر کہیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 37–50

37۔ 50۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تبع کی قوم کو برا فرمایا خاص تبع کو برا نہیں فرمایا معتبر سند سے مسند 1 ؎ امام احمد اور طبرانی میں سہل ؓ بن سعد سے روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تبع کو برا نہ کہو تبع مسلمان ہوگیا تھا اور نیک آدمی تھا 2 ؎ عبد الرزاق وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے جو روایت ہے کہ حضرت ﷺ نے فرمایا مجھ کو معلوم نہیں تبع ملعون شخص تھا یا اچھا ‘ اس روایت پر دارقطنی اور علما نے اعتراض کیا ہے حاصل یہ ہے کہ حشر کے انکار کے سبب سے پہلی قومیں جو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوئیں اگر یہ قریش ان کے سے کام کریں گے تو ان کا بھی وہی انجام ہوگا ‘ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 43–50

آیت 43 جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کا ذکر فرمایا، نیز یہ بھی واضح فرمایا کہ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا تو اس کے بعد فرمایا کہ بندے دو گروہوں میں تقسیم ہوں گے، ان میں سے ایک فریق جنت میں جائے گا اور ایک گروہ جہنم میں اور جہنم میں جانے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا اور (ان) ” بیشک “ ان کا کھانا (شجرت الزقوم) ” زقوم کا درخت ہوگا۔ “ جو بدترین اور سب سے گندا درخت ہے۔ اس درخت کا ذائقہ (کالمھل) بدبو دار پیپ کے مانند ہے جس کی بو اور ذائقہ انتہائی گندا اور وہ سخت گرم ہوگا۔ وہ ان کے پیٹوں میں اسطرح جشو کھائے گا (کغلی الحمیم) ” جس طرح کھولتا ہوا پانی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 50–51

50 پرہیزگاروں کے صلہ و انعام کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ پرہیزگار لوگ بڑے ہی امن و سکون کے مقام میں ہوں گے "۔ جہاں ان کو ہر طرح کا امن و سکون اور ہر تکلیف و مکروہ سے راحت و اطمینان نصیب ہوگا۔ کیونکہ دنیا میں وہ ایمان اور اس کے مطابق عمل صالح کی دولت سے سرشار و مالامال رہے ہوں گے۔ اور ایمان ہی امن بخشنے کی چیز ہے ۔ سبحان اللہ !۔ کیسی دولت ہے یہ ایمان و یقین کی دولت جو دنیا و آخرت دونوں میں انسان کے لیے امن و سکون کی ضامن و کفیل ہے ۔ فالحمد للہ رب العالمین ۔ سو یہ گناہگاروں کے انجام کے مقابلے میں پرہیزگاروں کے انجام کی تصویر پیش فرمائی گئی ہے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 43–59

گنہگاروں کا حال اور نیکو کاروں کا حال تشریح : قیامت، حساب کا دن اور پھر بدلے کا دن۔ یہ سب بڑی وضاحت سے بیان کئے جا چکے ہیں۔ ایک بار پھر ہم اس پر غور کرتے ہیں بیشک انسانی تاریخ میں حق شناسی کی چنگاریاں بھی ملتی ہیں۔ مگر اس کا بڑا حصہ حق تلفی کی رو داد سے بھرا پڑا ہے۔ مورخ کو بڑی مایوسی ہوتی ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ انسان کا ضمیر جو کچھ چاہتا ہے دنیا کے واقعی حالات اس کے خلاف ہیں یہاں ہم چند اقوال نقل کرتے ہیں۔ والٹر : ” انسانی تاریخ محض جرائم اور مصائب کی تصویر ہے “۔ ہربرٹ اسن پر : ” تاریخ محض بےفائدہ گپ ہے “۔ نپولین : ” تاریخ تمام کی تمام لایعنی قصے کا نام ہے “۔ کیا انسانیت کا یہ عظیم الشان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 43–59

آیات 43 تا 59۔ اسرار ومعارف۔ کفار کا یہ حال ہوگا کہ کھانے کو انہیں زقوم (تھوہر کیکٹس) ملے گا اور بدکاروں کا کھاناایسا ہی ہوناچاہیے پھر وہ زقوم دوزخ کا ہوگا جبکہ دنیا کا بھی بہت کڑوا کسیلا اور بدشکل کانٹوں سے بھرپور ہوتا ہے وہ تو پیٹ میں ایسے کھولے گا جیسے پگھلا ہواتانبا ہو یا جی سے پانی کھولتا ہے اور حکم ہوگا کہ انہیں پکڑ لو اور گھسیٹتے ہوئے دوزخ کے درمیان لے جاؤ اور ان پر دوزخ کے جلتے پانی کا عذاب چھوڑ دو اور انہیں کہو اب اپنی کرتوتوں کا مزہ چکھو کہ تم تو بہت بڑے آدمی بنتے تھے اور تمہیں اللہ کی اطاعت اور نبی کی اتباع کرنے میں عار آتی تھی یہ وہی دوزخ ہے جس کا تمہین یقین نہ آتا تھا اور وہی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 50–51

ف 2 امن کی جگہ سے مراد ایسی جگہ ہے جہاں نہ کوئی موت کا کھٹکا ہوگا نہ غم اور پریشانی اور نہ محنت و مشقت۔ حدیث میں ہے کہ اہل جنت سے کہ دیا جائے گا کہ یہاں تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ ہو گے ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی نہ مرو گے ہمیشہ خوشحال رہو گے کبھی خستہ حال نہ ہو گے ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(44:50) ھذا : ای ھذا العذاب۔ یہ عذاب (جو اب تمہیں مل رہا ہے) ۔ ما موصولہ ۔ بمعنی الذی۔ کنتم تمترون : ماضی استمراری جمع مذکر حاضر۔ جس کے متعلق تم شک کیا کرتے تھے۔ امتراء (افتعال) مصدر ۔ جس کے معنی کسی ایسی چیز کی بابت حجت کرنے اور جھگڑنے کے ہیں کہ جس میں شک اور شبہ و تردد ہو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 43–59

لغات القرآن آیت نمبر 43 تا 59 : شجرت الزقوم ( زقوم ( جہنمیوں کی غذا) کا درخت) الاثیم ( گناہ گار) المھل (پگھلا ہوا تانبہ) یغلی (ابل رہا ہے ، کھول رہا ہے) البطون ( بطن) ( پیٹ) الحمیم (کھولتا پانی) اعتلوا ( گھسیٹتے لے جائو) صبوا (انڈیل دو ) ذق (چکھ) مقام امین ( امن و سکون کی جگہ) سندس ( باریک ریشم) استبرق (دبیر ریشم) تشریح : آیت نمبر 43 تا 59 : اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو نصیحت و عبرت کے لئے نہایت آسان اور سہل بنا کر بھیجا ہے جس میں اس حقیقت کو نہایت وضاحت سے بیان کردیا ہے کہ برے اور اچھے اعمال کا نتیجہ کیا ہے۔ جو لوگ دنیا میں زندگی بھر وقتی لذتوں ، خواہشوں ، تمناؤں اور جھوٹی عزت کے پیچھے دوڑتے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 43–50

اہل دوزخ کا عذاب۔ (ف 1) اوپر قیامت کو فیصلہ کا دن فرماکراب اس دن کے فیصلے کا نتیجہ بیان فرمایا کہ دوزخ والے جب بھوکے ہوں گے تو دوز میں تھوہر کی صورت کا ایک درخت جو پیدا کیا گیا ہے اس کا پھل ان دوزخیوں کوکھلایاجائے گا جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح کھولتا ہوا ہوگا، مختصر طور پر فقط دوزخیوں کے کھانے کا ذکر ہے ۔ سورة والصافات میں گزرچکا ہے کہ تھوہر کے پھل کے کھلانے کے بعد کھولتا ہوا پانی بھی پلایاجائے گا اسی واسطے یہاں فرمایا کہ دوزخیوں کے پیٹ میں جس طرح وہ کھولتا ہوا پانی کھولے گا اسی طرح یہ تھوہر کا پھل کھولے گا اور ان دوزخیوں کے لیے فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ان دوزخیوں کو پکڑ کر زنجیروں میں جکڑ کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 44–59

[13] یعنی یہ لوگ اگر نہ سمجھیں تو تم چندے انتظار کرو۔ ان کا انجام بد سامنے آجائے گا۔ یہ تو منتظر ہیں کہ تم پر کوئی افتاد پڑے

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 38–57

حل لغات :۔ بلوء ۔ آزمائش ۔ انعام ۔ ہم نے کائنات کو بلا مقصد نہیں پیدا کیا 1: مادیت کا نظریہ ہے ۔ کہ یہ کارگاہ حیات کا نتیجہ ہے ۔ محض بخت واخلاق کا اور مجازفۃ وتخمین کا ۔ یہ عالم حیات یونہی بلا کسی غرض اور غایت کے پیدا کردیا گیا ہے یا پیدا ہوگیا ہے ۔ اور اس کی تخلیق میں کسی اخلاقی ۔ نصب العین کو کوئی دخل نہیں ۔ قرآن حکیم اس نظریہ کی مخالفت کرتا ہے اور کہتا ہے ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو محض فعل عبث کے طور پر نہیں پیدا کیا ہے ۔ کہ اس کا کچھ مقصد بھی نہ ہو ۔ بلکہ ان کے بنانے میں حکمت ضرور ہے ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ زندگی کی تکمیل ہو ۔ اور انسان کو مواقع دیئے جائیں ۔ کہ وہ آخرت کے لئے تیاری…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(50) یہی وہ چیز ہے جس میں تم لوگ شک اور شبہ کیا کرتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ زقوم کا درخت جس کی تفصیل سورة الصافات میں گزر چکی یہ اہل جہنم کی خوراک ہوگی۔ ہندوستان میں اس کے تین نام لئے گئے ہیں۔ کہتے ہیں مکہ معظمہ کے کسی جانب میں پیدا ہوتا ہے اس کا مزہ سخت کڑوا ہوتا ہے جہنم میں زقوم کی کیا شکل ہوگی وہ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ قرآن کریم میں سیاہ تیل کی تلچھٹ سے تشبیہ دی گئی ہے پھر پیٹ میں جاکر اس کا کھولنا بیان کیا گیا ہے جس طرح گرم پانی کھولتا اور جوش مارتا ہے پھر زبانیہ جو دوزخ پر متعین فرشتے ہیں ان کو حکم ہوگا کہ اس کو گھسیٹے ہوئے وسط جہنم تک لے جائو پھر اس پر عذاب اور تکلیف کا گرم کھولتا ہوا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 50–59

ف 2۔ یعنی آپ تبلیغ سے زیادہ فکر میں نہ پڑیئے نہ مخالفت پر رنج کیجئے، ان کا معاملہ خدا تعالیٰ کے سپرد کیجئے وہ خود سمجھ لے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ وہی عذاب آخرت ہے جس کو ماننے کے لیے تم تیارہی نہ تھے 05 ؎ عذاب الٰہی کی جو جور صورتیں بیان کی گئیں ہیں ایک سے ایک بڑھ کر ہے اور پھر آخری صورت عذاب نے جس میں اس صاحب اقتدار اور نہایت ہی اکھڑا اور ہیکڑ لوگوں کو جب مخاطب کرکے کہا جائے گا کہ چکھو اس عذاب کو تم لوگ تو دنیا میں بہت عزت و تکریم کے مالک بنے بیٹھے تھے اور اس کے بعد ان کو مخاطب کرکے کہا جائے گا کہ یہ عذاب وہی ہے اور اسی طرح یہ دن بھی وہی دن ہے جس کا تم نہایت سختی سے انکار کیا کرتے تھے اور جن کو انکار نہیں تھا شک وشبہ سے خالی وہ بھی نہیں تھے۔ اس لیے اب انکار کرنے والوں کا انکار اور شک کرنے والوں کا شک دور ہوا ہے یا ابھی نہیں ہوا ؟…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 43–50

Commentary Punishment and Reward of the Hereafter In these verses, according to the style of the Qur'an, Allah describes Hell and the way the unbelievers will be punished, and Paradise and the way the believers will be rewarded. Punishment of the Dwellers of Hell "Indeed the tree of zaqqum... (44:43) ". Some necessary information regarding the reality of zaqqum has been given in Surah As-Saffat. Please see under (37:64-65). Here the Qur'an apparently indicates that the infidels will be given zaqqum to eat even before they enter Hell, because in this verse the Qur'an says that after having…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 46–51

40 "A secure place" : A place safe from every kind of fear, grief, worry and danger, hardship and trouble. According to a Hadith, the Holy Prophet said: "It will be proclaimed to the dwellers of Paradise: You will remain in good health, will never fall ill; will live for ever: will never die; will ever remain happy and prosperous and will never meet with a misfortune; will ever remain youthful, will never become old. " (Muslim, on the authority of Abu Hurairah and Abu Sa id Khudri).

Read the full tafseer →