فِیْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ ۟ۚۙفِىۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ
(یعنی) باغوں اور چشموں میں
— Fateh Muhammad Jalandhari
Within gardens and springs,
— Saheeh International
Juz 25 · Ruku 3 of surah · Ruku 16 of juz
فِیْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ ۟ۚۙفِىۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ
(یعنی) باغوں اور چشموں میں
— Fateh Muhammad Jalandhari
Within gardens and springs,
— Saheeh International
Juz 25 · Ruku 3 of surah · Ruku 16 of juz
Read the whole surah · Surah Ad-Dukhaan
باغوں اور چشموں میں
(یعنی) باغوں اور چشموں میں
باغوں اور چشموں میں
باغات میں اور چشموں میں۔
باغوں اور چشموں میں،
باغات اور چشموں میں،
باغوں اور چشموں میں۔
باغوں اور چشموں میں
باغوں اور چشموں میں
یعنی طرح طرح کے عظیم الشان باغوں اور چشموں میں
) یعنی) باغوں میں اور نہروں میں
باغات اور چشموں میں
یعنی باغوں اور چشموں میں
amidst gardens and springs.
in gardens and fountains.
in gardens and fountains.
Among Gardens and Springs,
Amid gardens and watersprings,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Within gardens and springs,
amid gardens and springs,
In gardens and springs;
Amidst gardens and springs.
Among Gardens and Springs;
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 51–59
جب موت کو ذبح کرایا جائے گا بدبختوں کا ذکر کر کے اب نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے۔ اسی لئے قرآن کریم کو مثانی کہا گیا ہے اس دنیا میں جو اللہ تعالیٰ مالک و خالق و قادر سے ڈرتے دبتے رہے وہ قیامت کے دن جنت میں نہایت امن وامان سے ہوں گے۔ موت سے وہاں سے نکلنے کے، غم و رنج، گھبراہٹ، مشکلوں، دکھ درد، تکلیف، مشقت، شیطان اور اس کے مکر سے رب کی ناراضگی سے غرض تمام آفتوں اور مصیبتوں سے نڈر بےفکر مطمئن اور بےاندیشہ ہوں گے۔ جہنمیوں کو تو زقوم کا درخت اور آگ جیسا گرم پانی ملے گا اور انہیں جنتیں اور نہریں ملیں گی مختلف قسم کے ریشمی پارچہ جات انہیں پہننے کو ملیں گے جن میں نرم باریک بھی ہوگا اور دبیز چمکیلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
سورة الدُّخَان 41 اصل میں سُنْدُس اور اِسْتَبْرَق کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ سُندس عربی زبان میں باریک ریشمی کپڑے کو کہتے ہیں۔ اور استبرَق فارسی لفظ ستبر کا معرب ہے، اور یہ دبیز ریشمی کپڑے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
(آیت) اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ مَقَامٍ اَمِيْنٍ ، ان آیات کے ذریعہ جنت کی سرمدی نعمتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور نعمت کی تقریباً تمام اصناف کو جمع کردیا گیا ہے۔ کیونکہ انسانی ضرورت کی چیزیں عموماً یہ ہوتی ہیں۔ عمدہ رہائش گاہ، عمدہ لباس، بہتر شریک زندگی، بہتر ماکولات، پھر ان سب نعمتوں کے باقی رہنے کی ضمانت اور رنج و تکلیف سے کلی طور پر مامون رہنے کا یقین یہاں ان چھ کی چھ باتوں کو اہل جنت کے لئے ثابت کردیا گیا ہے جیسا کہ ان چھ آیتوں پر غور کرنے سے صاف ظاہر ہے۔ یہاں اہل جنت کی قیام گاہ کو ”امین“ (پرامن) کہہ کر اس طرف بھی اشارہ فرما دیا گیا ہے کہ انسانی رہائش گاہ کی سب سے قابل تعریف صفت اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
ان المتقین فی مقام امین فی جنت عیون (52-51) خدا ترسوں کا صلہ گنہگاروں کے انجام کے بیان کے بعد یہ خدا ترسوں کے انجام کی تصویر ہے کہ وہ ایک مقام مامون میں ہوں گے، نہ وہاں ان کو کوئی خوف ہوگا نہ کوئی غم وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے اور اس بات کا ان کو کوئی اندیشہ نہیں ہوگا کہ ان چیزوں کو کوئی ان سے چھین سکے گا یا ان پر کوئی زوال آئے گا یا ان میں کسی چیز کے باب میں ان سے کوئی پرسش ہونی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
53۔ 1 اہل کفر و فسق کے مقابلے میں اہل ایمان وتقویٰ کا مقام بیان کیا جا رہا ہے جنہوں نے اپنا دامن کفر و فسق اور معاصی سے بچائے رکھا تھا۔ آمین کا مطلب ایسی جگہ، جہاں ہر قسم کے خوف اور اندیشوں سے وہ محفوظ ہونگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
13: یہ دونوں ریشمی کپڑوں کی دو قسمیں ہیں۔ سندس باریک اور استبرق دبیز ہوتا ہے، لیکن جنت کے سندس اور استبرق کی صحیح کیفیت اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–57
آیت نمبر 43 تا 57 یہ منظر زقوم کے درخت کے پیش کرنے سے شروع ہوتا ہے اور یہ بدکاروں کی خوراک ہوگا۔ اور یہ اس قدر کڑوا ہوگا جس طرح تیل کی تلچھٹ کڑوی ہوتی ہے۔ یہ جہنمیو کی خوراک کی خوفناک تصویر کشی ہے اور یہ تلچھت پیٹ میں یوں جوش مارے گا جس طرح پتیلے میں پانی کھولتا ہے۔ ان بدکاروں کے پیٹ میں ، جو برتری دکھاتے تھے رب پر اور اس کے رسول ﷺ امین پر۔ فرمان الٰہی یوں ان ” شرفاء “ کے لئے صادر ہوتا ہے۔ خذوہ فاعتلوہ الی سواء الجحیم (44 : 47) ثم صبوا فوق راسہ من عذاب الحمیم (44 : 48) ” پکڑو اسے اور رگیدنے ہوئے لے جاؤ اس کو جہنم کے بیچوں بیچ اور انڈیل دو اس کے سر پر کھولتے پانی کا عذاب “۔ یعنی پکڑو اسے سخت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
2 یعنی ان کی پوشاک باریک اور دبیز ریشم کی ہوگی۔ اور ایک جنتی دوسرے سے اعراض نہ کرے گا بےتکلف دوستوں کی طرح آمنے سامنے بیٹھیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 52 { فِیْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ } ”باغات اور چشموں میں۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
35 تکبر کرنے والوں کا انجام :۔ یعنی اہل دوزخ تو اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے ندامت کی وجہ سے چھپتے پھریں گے۔ اس کے مقابلہ میں اہل جنت ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے آرام و اطمینان سے محو گفتگو ہوں گے۔ ایک دوسرے سے پیار و محبت اور سلام و دعا کی باتیں کریں گے۔ دنیا میں گزشتہ ایام کی یادیں تازہ کریں گے اور اللہ کا شکر بجا لائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
27۔ یعنی اہل جنت علاوہ روحانی نعمتوں کے ہر قسم کی مادی وجسمانی لذتوں سے بھی پوری طرح لذت گیر ہوں گے، یہ نہ ہوگا کہ یہاں کی جسمانی لذتوں سے انہیں وہاں خواہ مخواہ بےجرم محروم کردیاجائے۔ ہمارے ہاں کے جن جدید اہل قلم نے جنت کی لذات جسمانی کی تاویلیں کرکے انہیں خواہ مخواہ بدل دینا چاہا ہے وہ درحقیقت خود مسیحیت اور دوسرے باطل مذہبوں سے کسی حد تک مرعوب ہیں جنہوں نے جسم وجسمانیات ہی کو مطلق شر تسلیم کیا ہے۔ (آیت) ” مقام امین “۔ یعنی ایسی جگہ جو مصیبت، ہر نہ خوشگواری سے محفوظ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–59
آیت نمبر 43 تا 59 ترجمہ : بیشک زقوم (تھوہڑ) کا درخت جو کڑوا اور خبیث ترین ہے تہامہ میں پیدا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ میں پیدا فرمائے گا، مجرموں کا کھانا ہے یعنی ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کا جو بڑا گنہگار ہیں، اور وہ سیاہ تیل (تارکول) کی تلچھٹ کے مانند ہے (کالمھل) ثانی خبر ہے، وہ تیز گرم پانی کے مانند پیٹ میں کھولتا رہتا ہے (تغلی) تاء فوقانیہ کے ساتھ تیسری خبر ہے اور یاء تحتانیہ کے ساتھ المھل سے حال ہے جہنم پر مقرر فرشتوں کو حکم دیا جائے گا کہ مجرم کو پکڑ لو پھر گھسیٹتے ہوئے بیچ جہنم تک پہنچا دو (فاعتلوہ) کسرۂ اور ضمہ تاء کے ساتھ یعنی اس کو سختی اور شدت کے ساتھ کھینچو، پھر اس کے سر پر…
Read the full tafseer →فی جنت وعیون۔ (یعنی باغوں میں) اور (جاری) نہروں (کے مقام) میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
اور کفر و شرک اور برائیوں سے بچنے والے لوگ یعنی حضرت ابوبکر صدیق وہ امن کی جگہ میں ہوں گے کہ موت و عذاب اور زوال کا کوئی خدشہ نہیں ہوگا۔ باغوں میں دودھ، شہد، شراب اور پانی کی نہروں میں ہوں گے اور وہ باریک اور دبیز ریشم کا لباس پہنیں گے اور آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔
Read the full tafseer →فی جنت وعیون : یہ امن والی جگہ کا بیان ہے۔ تفسیر کے لئے دیکھیے سورة حجر (45)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
جب اللہ تعالیٰ نے کافروں کے مستقر اور عذاب کا ذکر کیا تو مومنوں کی مہمانی اور نعمتوں کا ذکر کیا۔ نافع اور ابن عامر نے فی مقام پڑھا ہے باقی قراء نے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ نسائی نے کہا : مقام سے مراد مکان ہے اور مقام سے مرا اقامت بھی ہے جس طرح شاعر نے کہا : گھر یعنی اترنے کی جگہیں اور اقامت کی جگہیں ناپید ہوگئے۔ جوہری نے کہا : مقام اور مقام دونوں میں سے ہر ایک اقامت کے معنی میں ہوتے ہیں، بعض اوقات یہ قیام کی جگہ کے لئے بھی لفظ بولا جاتا ہے کیونکہ جب تو اسے قام یقوم سے مشتق مانے تو یہ مقامہ ہوگا اور اگر تو اسے اقام یقیم سے مشتق مانے تو مقام ہوگا کیوند کہ جب فعل غیر ثلاثی ہو تو اس ظرف کے صیغہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–59
18:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان المتقین فی مقام امین “ (بلاشبہ متقی لوگ امن کی جگہ ہوں گے یعنی موت اور عذاب سے امن میں ہوں گے۔ 19:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ضحاک (رح) سے (آیت ) ” فی مقام امین “ کے بارے میں روایت کیا کہ (جنت) میں موت سے امن میں ہوں گے اور بوڑھا ہونے سے بھی امن میں ہوں گے۔ اور نہ وہ بھوکے ہوں گے اور نہ وہ ننگے ہوں گے۔ 20:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان المتقین فی مقام امین “ یعنی وہ امن میں ہوں گے شیطان سے اور بیماریوں سے اور غموں سے (آیت ) ” زوجنا ھم بحور عین “ (اور ہم ان کا گوری گوری فراخ آنکھوں والیوں سے…
Read the full tafseer →فِيْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍ [ باغات اور چشموں میں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
متقیوں کے انعامات، باغ اور چشمے، لباس اور ازواج، ہر قسم کے پھل اور حیات ابدی دوزخیوں کے عذاب بتانے کے بعد اہل جنت کے بعض انعامات ذکر فرمائے۔ اولاً تو یہ فرمایا کہ متقی لوگ امن وامان کی جگہ میں ہوں گے یعنی جنت ایسی جگہ ہے کہ جہاں کسی قسم کا خوف و ہراس، بےاطمینانی، بےچینی نہیں ہوگی اور ہمیشہ اسی حالت میں رہیں گے انہیں کبھی خوف یا غم نہ ہوگا نہ وہاں سے نکالے جانے کا خطرہ ہوگا۔ ثانیاً فرمایا کہ یہ متقی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ ثالثاً یہ فرمایا کہ سندس اور استبرق کا لباس پہنیں گے سندس باریک ریشم کو اور استبرق موٹے ریشم کو کہتے ہیں۔ رابعاً یہ فرمایا کہ آپس میں مقابل ہوکر ایک دوسرے کے سامنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–59
تہدید وتنبیہ از روز قیامت وبیان نجات و کامیابی مومنین ومتقین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان یوم الفصل ...... الی ........ فارتقب انھم مرتقبون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مجرمین کی سزاؤں اور ان کے عبرت ناک انجام کا بیان تھا جس کے بعد ان کے بالمقابل مطیعین کے انعام واکرام کا ذکر فرمایا گیا تو اب اختتام مضمون پر مزید یوم آخرت کی عظمت ومصیبت کا بیان فرماتے ہوئے اہل ایمان وتقوی پر حق تعالیٰ کے جو انعامات ہوں گے ان کا ذکر کیا گیا ، اور کافر ونافرمان کیسی شدت و تکلیف اور مصیبتوں میں مبتلا ہوں گے اس کو بھی واضح کرتے ہوئے فیصلہ فرمایا گیا کہ اصل کامیابی اور کامرانی حق تعالیٰ پر ایمان لانے اور آنحضرت ﷺ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
27:۔ ” یدعون فیہا “ وہ جنت میں جو میوہ چاہیں گے طلب کریں گے یعنی وہاں انہیں ہر منہ مانگا میوہ ملے گا اور وہ ہر ضرر و تکلیف سے محفوظ ہوں گے۔ ” لایذوقون الخ “ جنت میں ان پر موت نہیں آئیگی ایک بار جو موت ان کے لیے مقدر تھی اس کا مزہ وہ دنیا میں چکھ چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں دوزخ کے عذاب سے بھی بچائیگا۔ یہ ساری نعمتیں انہیں محض اللہ کے فضل و کرم سے حاصل ہوں گی اور اصل میں یہی بڑی کامیابی ہے کہ جنت میں ہر نعمت میسر ہو، تکلیف کا شائبہ تک نہ ہو، نہ نعیم جنت کو زوال ہو، جنت والوں پر فنا آئے، دائمی راحت اور دائمی زندگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–59
ربط آیات پہلے قرآن کی حقانیت اور صداقت بیان کی۔ پھر توحید کا مسئلہ سمجھایا ، مشرکین کی قباحت ، شرک کا رد اور پھر اس کا انجام بھی بیان ہوا۔ حق کی مخالفت کرنے والوں میں فرعون اور اس کے حواریوں کا تذکرہ ہوا اور پھر ان کی غرقابی کا ذکر بھی ہوا اللہ نے بنی اسرائیل کو فرعن کی غلامی سے نجات دلائی اور ان کو اپنے زمانے میں ہاں بھر میں فضیلت عطا کی ، پھر قریش مکہ اور مشرکین عرب کو تنبیہ کی گئی کہ تم سے پہلے قوم تبع جیسے بڑے بڑے ساز و سامان اور دولت والے لوگ گزر چکے ہیں ، ان کے حالات سے عبرت پکڑو تم کس بنا پر قیامت کا انکار کر رہے ہو ، فرمایا ہم نے ارض و سما اور ان کے درمیان کی اشیاء کو محض لہو و لہب کے…
Read the full tafseer →فِيْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍ 52 ۚۙ جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2) جنۃ عدن (3) جنۃ النعیم (4) دار الخلد (5) جنۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–55
دارِ آخرت کا ثبوت کرکے اب کچھ وہاں کے حالات بیان فرماتا ہے۔ سب سے پہلے بدکاروں کی سزا بیان کرتا ہے فقال ان شجرۃ الزقوم گناہگاروں کا کھانا تھور ہوگا جو نہایت تلخ اور بدمزہ چیز ہے لاچار ہو کر اسی کو کھاویں گے وہ پیٹ میں جا کر گرم پانی کی طرح کھولے گا مہل تلچھٹ یا تانبا سیسہ وغیرہ پگھلا ہوا۔ مہل پر جملہ تمام ہوگیا پھر یغلی سے اس کے غلیان کی کیفیت شروع ہوتی ہے۔ بعض کالمہل کو یغلی سے بھی ربط دیتے ہیں۔ اس کے لیے یہ بھی فرشتوں کو حکم دیا جاوے گا کہ اس کو پکڑو اور دھکے دیتے ہوئے جہنم میں لے جاؤ اور اس کے سر پر کھولتا ہوا پانی ڈالو اور کہو چکھ کیونکہ تو اپنے زعم میں بڑا عزت والا ‘ زبردست سمجھا ہوا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ اَمِیْنٍ ۔ فِیْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ ۔ یَّلْبَسُوْنَ مِنْ سُنْدُسٍ وَّاِسْتَبْرَقٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ ۔ (الدخان : 51 تا 53) (بےشک اللہ سے ڈرنے والے امن کی جگہ میں ہوں گے۔ باغوں اور چشموں میں۔ وہ سندس اور استبرق کا لباس پہنے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ ) اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں پر انعام گنہگاروں اور نافرمانوں کے انجام کی تصویرکشی کے بعد، اب متقین کے انجام کی تصویرکشی کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے اللہ تعالیٰ کی عنایات اور اس کی رحمتوں کا مورد ہوں گے۔ اس کی سب سے پہلی عنایت یہ ہوگی کہ وہ ایسی امن کی جگہ میں ہوں گے جہاں کوئی کھٹکا اور اندیشہ ان کے قریب نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–57
فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کی سزا کے بیان کے بعد جنتیوں کے انعامات کا تذکرہ۔ فہم القرآن کا مطالعہ کرنے والے حضرات جانتے ہیں کہ یہ بات کئی مقامات پر ذکر ہوچکی ہے کہ قرآن مجید کا اسلوب تکلّم ہے کہ وہ اپنے مخاطبین کے سامنے بیک وقت جنتیوں کے انعامات اور جہنمیوں کے عذاب کا ذکر کرتا ہے تاکہ قرآن کی تلاوت کرنے والا شخص موقع پر فیصلہ کرپائے کہ اس نے کس چیز کا انتخاب کرنا ہے۔ اسی اسلوب کے پیش نظر جہنمیوں کی سزاؤں کا ذکر کرنے کے متصل بعد جنتیوں کے انعامات کا تذکرہ کیا جارہا ہے۔ جنت میں وہی شخص داخل ہوگا جس کا عقیدہ کفر و شرک کی ملاوٹ سے پاک ہوگا اور اس نے سنت رسول کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کی…
Read the full tafseer →آیت 52 : فِیْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ (وہ باغات اور چشموں میں ہونگے) نحو : یہ مقام امین سے بدل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
51، ان المتقین فی مقام امین، اہل مدینہ اور اہل شام نے، فی مقام ، میم کے پیش کے ساتھ مصدرہونے کی بناء پر پڑھا ہے ۔ یعنی اقامت میں ۔ اور دیگر حضرات نے میم کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی فی مجلس امین پرامن مجلس میں جس میں وہ غیر سے امن میں ہوں گے یعنی موت سے اور اس سے نکلنے سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
51۔ 57۔ اس سے پہلے کی آیتوں میں خدا تعالیٰ جب بد لوگوں کا حال بیان فرما چکا تو اب نیک لوگوں کا حال بیان فرمایا کہ بیشک جو لوگ پرہیز گار ہیں اور خدا سے ڈر کر دنیا میں گناہوں سے بچتے اور نیک کام کرتے ہیں وہ آخرت میں امن والی جگہ میں ہوں گے مراد اس سے جنت ہے کہ نہ اس میں موت ہوگی اور نہ کسی طرح کی بیماری ہوگی چین سے بےخوف رہیں گے باغوں کے اندر ریشمی باریک اور کپڑے چمک دارپہنیں گے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے ایک کی دوسرے کی طرف پیٹھ نہ ہوگی باہم ان کے محبت و سرور زیادہ ہوگا ‘ کذلک اس کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح کا اچھا معاملہ کرتے ہیں ہم پرہیز گاروں کے ساتھ ‘ پھر فرمایا بیاہ دیا ہم نے ان کو گورے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–59
آیت 51 یہ تقویٰ شعار لوگوں کی جزا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے ڈر کر گناہوں کو ترک کیا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔ جب ان سے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب کی نفی ہوگئی تو ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی رضا ثابت ہوگئی، نیز ثواب عظیم کے طور پر انہیں بیشمار درختوں کے گھنے سائے، پھل اور چشمے عطا ہوں گے، ان درختوں کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی جن کو اہل ایمان نعمتوں بھری جنت میں اپنے لئے نکال لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کی اضافت نعمتوں کی طرف کی ہے کیونکہ وہ جنت جن چیزوں پر مشتمل ہے وہ سب نعمتیں ہیں جو ہر لحاظ سے کامل ہیں اور کسی طرح بھی ان میں کوئی رکاوٹ اور کسی قسم کا کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
51 اہل جنت کی نعمتوں کی ایک جھلک : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ وہاں پر عظیم الشان باغوں، چشموں میں باریک اور گاڑھے ریشم پہنے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے "۔ یعنی وہاں کی کیفیت اور صورت حال کچھ اس طرح کی ہوگی کہ ایک دوسرے کی طرف پیٹھ کرنے کی نوبت بھی نہیں آئے گی۔ کیونکہ کسی کی طرف اور خاص کر کسی بڑے معزز شخص کی طرف بلاوجہ پیٹھ کر کے بیٹھنا بھی ایک ناپسندیدہ امر ہے۔ اور جنت کا وہ مقام امین اس طرح کے ناپسندیدہ امور سے بھی پاک و صاف اور مامون و مطہر ہوگا ۔ سبحان اللہ ! ۔ کیا کہنے جنت اور اس کی بےمثال و بےپایاں نعمتوں کے ۔ اللّٰہم اجْعَلِنا مِنْ اَھْلِھِا بِمَحْضِ مَنکَ وَکَرَمِکَ یَا اَرْحَمَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–59
گنہگاروں کا حال اور نیکو کاروں کا حال تشریح : قیامت، حساب کا دن اور پھر بدلے کا دن۔ یہ سب بڑی وضاحت سے بیان کئے جا چکے ہیں۔ ایک بار پھر ہم اس پر غور کرتے ہیں بیشک انسانی تاریخ میں حق شناسی کی چنگاریاں بھی ملتی ہیں۔ مگر اس کا بڑا حصہ حق تلفی کی رو داد سے بھرا پڑا ہے۔ مورخ کو بڑی مایوسی ہوتی ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ انسان کا ضمیر جو کچھ چاہتا ہے دنیا کے واقعی حالات اس کے خلاف ہیں یہاں ہم چند اقوال نقل کرتے ہیں۔ والٹر : ” انسانی تاریخ محض جرائم اور مصائب کی تصویر ہے “۔ ہربرٹ اسن پر : ” تاریخ محض بےفائدہ گپ ہے “۔ نپولین : ” تاریخ تمام کی تمام لایعنی قصے کا نام ہے “۔ کیا انسانیت کا یہ عظیم الشان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–59
آیات 43 تا 59۔ اسرار ومعارف۔ کفار کا یہ حال ہوگا کہ کھانے کو انہیں زقوم (تھوہر کیکٹس) ملے گا اور بدکاروں کا کھاناایسا ہی ہوناچاہیے پھر وہ زقوم دوزخ کا ہوگا جبکہ دنیا کا بھی بہت کڑوا کسیلا اور بدشکل کانٹوں سے بھرپور ہوتا ہے وہ تو پیٹ میں ایسے کھولے گا جیسے پگھلا ہواتانبا ہو یا جی سے پانی کھولتا ہے اور حکم ہوگا کہ انہیں پکڑ لو اور گھسیٹتے ہوئے دوزخ کے درمیان لے جاؤ اور ان پر دوزخ کے جلتے پانی کا عذاب چھوڑ دو اور انہیں کہو اب اپنی کرتوتوں کا مزہ چکھو کہ تم تو بہت بڑے آدمی بنتے تھے اور تمہیں اللہ کی اطاعت اور نبی کی اتباع کرنے میں عار آتی تھی یہ وہی دوزخ ہے جس کا تمہین یقین نہ آتا تھا اور وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
ف 3 حور ” حورا کی جمع ہے جس کے معنی ” گورے رنگ کی عورت “ کے ہیں اور ” عین عینا “ کی جمع ہے اور اس سے مراد ڑی اور سیاہ آنکھوں والی عورت ہے۔
Read the full tafseer →(44:52) عیون عین کی جمع۔ چشمے۔ نیز بمعنی آنکھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–59
لغات القرآن آیت نمبر 43 تا 59 : شجرت الزقوم ( زقوم ( جہنمیوں کی غذا) کا درخت) الاثیم ( گناہ گار) المھل (پگھلا ہوا تانبہ) یغلی (ابل رہا ہے ، کھول رہا ہے) البطون ( بطن) ( پیٹ) الحمیم (کھولتا پانی) اعتلوا ( گھسیٹتے لے جائو) صبوا (انڈیل دو ) ذق (چکھ) مقام امین ( امن و سکون کی جگہ) سندس ( باریک ریشم) استبرق (دبیر ریشم) تشریح : آیت نمبر 43 تا 59 : اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو نصیحت و عبرت کے لئے نہایت آسان اور سہل بنا کر بھیجا ہے جس میں اس حقیقت کو نہایت وضاحت سے بیان کردیا ہے کہ برے اور اچھے اعمال کا نتیجہ کیا ہے۔ جو لوگ دنیا میں زندگی بھر وقتی لذتوں ، خواہشوں ، تمناؤں اور جھوٹی عزت کے پیچھے دوڑتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
اہل جنت کی پرکیف زندگی کابیان۔ (ف 1) اس سے پہلے کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ جب بدلوگوں کا حال بیان فرماچکا تو اب متقی لوگوں کا حال بیان فرمایا کہ بیشک جو لوگ پرہیزگار ہیں اور خدا سے ڈرکر دنیا میں گناہوں سے بچتے ہیں اور نیک کام کرتے ہیں وہ آخرت میں امن والی جگہ میں ہوں گے یعنی جنت میں نہ اس میں موت ہوگی اور نہ کسی طرح کی بیماری ہوگی، امن سے رہیں گے باغوں کے اندر ریشمی باریک اور دبیز کپڑے چمک دار پہنیں گے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے ایک دوسرے کی طرف پیٹھ نہ ہوگی۔ باہم ان کے محبت و سرور ہوگا۔ کذالک۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح کا اچھامعاملہ پرہیزگاروں کے ساتھ کرتے ہیں یوں ہی ان کو ہم حوریں جنت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–59
[13] یعنی یہ لوگ اگر نہ سمجھیں تو تم چندے انتظار کرو۔ ان کا انجام بد سامنے آجائے گا۔ یہ تو منتظر ہیں کہ تم پر کوئی افتاد پڑے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–57
حل لغات :۔ بلوء ۔ آزمائش ۔ انعام ۔ ہم نے کائنات کو بلا مقصد نہیں پیدا کیا 1: مادیت کا نظریہ ہے ۔ کہ یہ کارگاہ حیات کا نتیجہ ہے ۔ محض بخت واخلاق کا اور مجازفۃ وتخمین کا ۔ یہ عالم حیات یونہی بلا کسی غرض اور غایت کے پیدا کردیا گیا ہے یا پیدا ہوگیا ہے ۔ اور اس کی تخلیق میں کسی اخلاقی ۔ نصب العین کو کوئی دخل نہیں ۔ قرآن حکیم اس نظریہ کی مخالفت کرتا ہے اور کہتا ہے ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو محض فعل عبث کے طور پر نہیں پیدا کیا ہے ۔ کہ اس کا کچھ مقصد بھی نہ ہو ۔ بلکہ ان کے بنانے میں حکمت ضرور ہے ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ زندگی کی تکمیل ہو ۔ اور انسان کو مواقع دیئے جائیں ۔ کہ وہ آخرت کے لئے تیاری…
Read the full tafseer →(52) باغوں میں اور چشموں میں۔ یعنی وہ باغوں میں ہوں گے جن باغوں میں نہریں اور چشمے بہہ رہے ہوں گے ان لوگوں کو کسی قسم کا رنج یا فکر نہ ہوگا نہ بیماری کا خطرہ نہ بڑھاپے کا خوف نہ مرنے کا خیال غرض ہر اعتبار سے بےخوف و بےبلا اور امن وچین میں ہوں گے۔ یہ بات یادرکھنی چاہیے کہ ہم متقیوں کے درجات متفادتہ کی تفصیل تو سورة بقرہ کی ابتداء میں بیان کرچکے ہیں کم سے کم درجے کا متقی وہ ہے جو شرک سے بچتا اور پرہیز کرتا ہو تقویٰ کا اونچا اور بڑا درجہ بہت بلند ہے اس تمام بحث کو سورة بقرہ میں دیکھنا چاہیے ان مامون حضرات کے لباس کا ذکر فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–59
ف 2۔ یعنی آپ تبلیغ سے زیادہ فکر میں نہ پڑیئے نہ مخالفت پر رنج کیجئے، ان کا معاملہ خدا تعالیٰ کے سپرد کیجئے وہ خود سمجھ لے گا۔
Read the full tafseer →25 ؎ پانی بہنے کی جتنی صورتیں دنیا میں انسان کو میسر ہیں ان سب صورتوں میں بہتر ، خوبصورت اور دل کو بہت ہی لبھانے والی صورت اس چشمہ کے پانی کی ہے جس چشمہ میں ہمیشہ پانی بہتا رہے اور اس میں مزید خوبی یہ ہو کہ گرمیوں میں معمول کے مطابق ٹھنڈا اور میٹھا ہو اور سردیوں میں معمول کے مطابق گرم اور مزہ دار ہو اور پھر فراز سے جب نشیب کو چل رہا ہو تو اس سے کیا ہی انسان لطف اندوز ہوتا ہے اور کیا ہی اپنی ضروریات کو پورا کرتا ہے اور خوشی ومسرت اس کو حاصل ہوتی ہے اور پھر یہ تصور عربوں میں جہاں پانی کی اتنی قلت ہے کہ پینے کے لیے بھی فراوانی سے میسر نہیں آتا اور جو زمین سے نکلتا ہے وہ کڑوا اور کھاری ہوتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
Reward of the Inmates of Paradise إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي مَقَامٍ أَمِينٍ (Indeed the God-fearing will be in a place free from fear, - 44:51). The current set of verses describes the eternal blessings of Paradise. Almost all sorts of blessings have been referred to in these verses, because the following are generally the human needs: (1) fine dwelling; (2) fine clothing; (3) the best life-partner; (4) the best food; (5) the satisfaction that these blessings will remain available; and (6) assurance of total security from grief and affliction. In these verses all the six kinds of blessings for…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
41 Sundus and istabraq in the original are fine silk cloth and thick silk cloth respectively.
Read the full tafseer →