Ad-Dukhaan 44:42

Ad-Dukhaan · from ayah 42

44:42

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ اللّٰهُ ؕ— اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ۟۠اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ اللّٰهُ‌ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ

مگر جس پر خدا مہربانی کرے۔ وہ تو غالب اور مہربان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Except those [believers] on whom Allah has mercy. Indeed, He is the Exalted in Might, the Merciful.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 2 of surah · Ruku 15 of juzع

Read the whole surah · Surah Ad-Dukhaan

All translations of 44:42

سوائے اِس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم کرے، وہ زبردست اور رحیم ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مگر جس پر خدا مہربانی کرے۔ وہ تو غالب اور مہربان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

مگر جس پر اللہ کی مہربانی ہوجائے وه زبردست اور رحم کرنے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

سوائے اس کے جس پر اللہ رحم فرمائے۔ یقینا وہ مکمل اقتدار کا مالک بھی ہے اور بہت مہربان ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

مگر جس پر اللہ رحم کرے بیشک وہی عزت والا مہربان ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سوائے اُن کے جن پر اللہ نے رحمت فرمائی ہے (وہ ایک دوسرے کی شفاعت کریں گے)، بیشک وہ بڑا غالب بہت رحم فرمانے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

مگر جس پر اللہ نے رحم کیا، بیشک وہی سب پر غالب، نہایت رحم والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

مگر جس پر اللہ نے رحم کردیا۔ کیونکہ وہ ہر چیز پر غالب اور رحم کرنے والا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہاں مگر وہ جن پر اللہ رحم فرمائے۔ بیشک وہی عزیز و رحیم ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم فرما دے بلاشبہ وہی ہے سب پر غالب انتہائی مہربان

— مولانا اسحاق مدنی

ہاں مگر اللہ ہی کسی پر رحم فرمائے بیشک وہ زبردست ہے رحیم ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

سوائے اس کے جس پر اللہ رحم فرما دے۔ یقینا وہی ہے زبردست بہت رحم فرمانے والا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

مگر جس پر اللہ مہربانی کرے، وہ تو غالب اور مہربان ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

except those to whom Allah shows mercy. He is the Most Mighty, the Most Compassionate.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

except the One on whom Allah has mercy. Of course, He is the All-Mighty, the Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

except the One on whom Allah has mercy. Of course, He is the All-Mighty, the Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Except him on whom Allah has mercy. Verily, He is the All-Mighty, the Most Merciful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Save him on whom Allah hath mercy. Lo! He is the Mighty, the Merciful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Except those [believers] on whom Allah has mercy. Indeed, He is the Exalted in Might, the Merciful.

— Saheeh International

except for those to whom God grants mercy. He is Majestic and All-merciful.

— Muhammad Sarwar

Save those on whom Allah shall have mercy; surely He is the Mighty the Merciful.

— Muhammad Habib Shakir

Save those on whom Allah will have mercy. Verily He! He is the Mighty, the Merciful.

— Abdul Majid Daryabadi

Except such as receive Allah's Mercy: for He is Exalted in Might, Most Merciful.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 44:42

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 38–42

صور پھونکنے کے بعد یہاں اللہ عزوجل اپنے عدل کا بیان فرما رہا ہے اور بےفائدہ لغو اور عبث کاموں سے اپنی پاکیزگی کا اظہار فرماتا ہے جیسے اور آیت میں ارشاد ہے کہ ہم نے اپنی مخلوق کو باطل پیدا نہیں کیا ایسا گمان ہماری نسبت صرف ان کا ہے جو کفار ہیں اور جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور ارشاد ہے آیت (افحسبتم انما خلقناکم عبثا وانکم الینا لا ترجعون) الخ، یعنی کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بیکار و عبث پیدا کیا ہے اور تم لوٹ کر ہماری طرف آنے ہی کے نہیں ؟ اللہ حق مالک بلندیوں اور بزرگیوں والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش کریم کا رب ہے فیصلوں کا دن یعنی قیامت کا دن جس دن باری تعالیٰ اپنے بندوں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الدُّخَان 37 ان فقروں میں بتایا گیا ہے کہ فیصلے کے دن جو عدالت قائم ہوگی اس کا کیا رنگ ہوگا۔ کسی کی مدد یا حمایت وہاں کسی مجرم کو نہ چھڑا سکے گی، نہ اس کی سزا کم ہی کرا سکے گی۔ کلی اختیارات اس حاکم حقیقی کے ہاتھ میں ہوں گے جس کے فیصلے کو نافذ ہونے سے کوئی طاقت روک نہیں سکتی، اور جس کے فیصلے پر اثر انداز ہونے کا بل بوتا کسی میں نہیں ہے۔ یہ بالکل اس کے اپنے اختیار تمیزی پر موقوف ہوگا کہ کسی پر رحم فرما کر اس کو سزا نہ دے یا کم سزا دے، اور حقیقت میں اس کی شان یہی ہے کہ انصاف کرنے میں بےرحمی سے نہیں بلکہ رحم ہی سے کام لے۔ لیکن جس کے مقدمے میں جو فیصلہ بھی وہ کرے گا وہ بہرحال بےکم وکاست نافذ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 39–42

(آیت) مَا خَلَقْنٰهُمَآ اِلَّا بالْحَقِّ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ (ہم نے ان دونوں یعنی زمین و آسمان کو کسی حکمت ہی سے بنایا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے) مطلب یہ ہے کہ اگر سوچنے سمجھنے والی عقل ہو تو آسمان و زمین اور ان کے اندر جو مخلوقات پیدا کی گئی ہیں وہ سب بہت سے حقائق پر دلالت کرتی ہیں، مثلاً ایک تو قدرت خدا وندی پر۔ دوسرے آخرت کے امکان پر، کیونکہ جس ذات نے ان عظیم اجسام کو عدم سے وجود عطا کیا وہ یقینا اس بات پر بھی قادر ہے کہ انہیں ایک مرتبہ فنا کر کے دوبارہ پیدا کر دے۔ تیسرے جزا و سزا کی ضرورت پر، کیونکہ اگر آخرت کی جزا و سزا نہ ہو تو یہ سارا کارخانہ و جود بیکار ہوجاتا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

الا من رحم اللہ ط انہ ھو العزیزا الرحیم (42) اللہ کی رحمت کے حق دار یعنی اس دن فائز المرامی صرف انہی کا حصہ ہوگی جن پر خدا اپنا فضل فرمائے اور اس کا فضل انہی پر ہوگا جو اس کے مستحق ٹھہریں گے۔ اللہ عزیز بھی ہے اور ساتھ ہی رحیم بھی۔ وہ جن کو پکڑے گا کوئی ان کو چھڑا نہ سکے گا اور جن کو وہ اپنی رحمت کا مستحق پائے گا کوئی ان کو اس کی رحمت سے محروم نہیں کرسکتا۔ مطلب یہ ہے کہ بندوں کو ڈرنا بھی اسی سے چاہئے اور رحمت کی امید بھی اسی سے رکھنی چاہئے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 41–45

45۔ 1 پگھلا ہوا تانبہ، آگ میں پگھلی ہوئی چیز یا تلچھٹ تیل وغیرہ کے آخر میں جو گدلی سی مٹی کی تہ رہ جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 40–49

12: یعنی دنیا میں تو اپنے آپ کو بڑا صاحب اقتدار اور بڑا با عزت سمجھتا تھا اور اس پر تجھے گھمنڈ تھا، آج اپنی یہ حالت دیکھ لے کہ تکبر، گھمنڈ اور حق کے انکار کا انجام کیا ہوتا ہے ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 34–42

آیت نمبر 34 تا 42 مشرکین عرب یہ کہتے تھے ، بس ہماری یہی موت ہے ، جس سے ہم دو چار ہوں گے۔ اس کے بعد نہ زندگی ہے اور نہ حشرونشر ہے اور اس کو وہ ” پہلی “ اس معنی میں کہتے تھے کہ حشر ونشر کا جو ڈر اوا ہمیں سنایا جارہا ہے اس سے یہ پہلی ہے۔ وہ یہ کہتے تھے کہ یہی موت ہے اور اس پر سب کچھ ختم ہونے والا ہے۔ کیونکہ ان کے آباء و اجداد بس ایک ہی بار مر گئے۔ اور ان میں سے کوئی بھی اس جہاں میں واپس نہیں آیا۔ نہ کبھی کوئی اٹھایا گیا اور ان کا مطالبہ ہی یہ ہوتا تھا کہ اگر نشو رحق ہے تو لاؤ ہمارے آباء کو۔ لیکن اس مسئلے پر وہ حشر و نشر کی حکمت پر غور نہ کرتے تھے اور یہ بھی محسوس نہ کرتے تھے کہ حشر اور نشر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی بس جس پر اللہ کی رحمت ہوجائے وہ ہی بچے گا۔ کما وردفی الحدیث۔ لا " الا ان یتغمدنی اللہ برحمتہ "

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 42 { اِلَّا مَنْ رَّحِمَ اللّٰہُط اِنَّہٗ ہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ } ”سوائے اس کے جس پر اللہ رحم فرما دے۔ یقینا وہی ہے زبردست ‘ بہت رحم فرمانے والا۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 41–42

31 یعنی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کسی کے حق میں جو فیصلہ کردے گا وہ نافذ ہو کے رہے گا اور اس کی کہیں اپیل بھی نہ ہوسکے گی کیونکہ وہی سب پر غالب ہے۔ 32 یعنی وہ فیصلہ کرتے وقت کسی پر رحم تو کرسکتا ہے۔ مگر کسی پر ظلم اور زیادتی نہیں کرسکتا کیونکہ یہ بات اس کی صفت عدل کے خلاف ہے۔ وہ یہ تو کرسکتا کہ ایک قصوروار کو معاف کردے یا اس کے جرم سے کم سزا دے یا اس کے عمل سے بہت زیادہ بدلہ دے دے اور بیشتر مقدمات میں وہ اپنی اسی صفت رحیمیت کا ہی مظاہرہ کرے گا۔ سزا صرف ان لوگوں کو دے گا جنہوں نے شرک کیا ہو۔ یا از راہ تکبر دعوت حق کو ٹھکرا دیا ہو اور پھر معاندانہ سرگرمیوں میں ہی لگے رہے ہوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 40–42

25۔ چناچہ اپنی صفت عزیزیت کے تقاضہ سے کافروں کو خوب مغلوب کرے گا۔ اور صفت رحیمیت کا ظہور اہل ایمان پر پوری طرح فرمائے گا۔ (آیت) ” لایغنی ..... ینصرون “۔ مطلق دنیوی تعلق حشر میں ہرگز کسی ایک کا دوسرے سے کام نہ آئے گا۔ بلکہ اس کی بناء پر کوئی کسی کی مدد تک نہ کرسکے گا۔ (آیت) ” الا من رحم اللہ “۔ اور اللہ کی رحمت کا اثر یہ ظاہر ہوگا کہ وہ کسی مومن کے حق میں شفاعت کا اذن دیدے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 30–42

آیت نمبر 30 تا 42 ترجمہ : اور بیشک ہم نے (ہی) بنی اسرائیل کو رسواکن سزا سے نجات دی یعنی لڑکوں کے قتل اور عورتوں کو خادمہ بنانے سے، جو فرعون کی طرف سے (ہو رہی) تھی، کہا گیا ہے کہ مِنْ فرعونَ ، عذاب سے تقدیر مضاف کے ساتھ بدل ہے ای من عذاب فرعون اور کہا گیا ہے کہ عزاب سے حال ہے فی الواقع وہ سرکش حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے تھا اور ہم نے بنی اسرائیل کو ہمارے ان کے حالات سے واقف ہونے کی وجہ سے ان کے زمانہ کے عقلاء پر فوقیت دی اور ہم نے ان کو ایسی نشانیاں دیں جن میں صریح انعام تھا یعنی کھلی نعمتیں تھیں، مثلاً دریا کو چیرنا اور من و سلوٰی وغیرہ یہ لوگ یعنی کفار مکہ تو یہی کہتے ہیں، نہیں ہے ایسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الا من رحم اللہ انہ ھو العزیز الرحیم ہاں ‘ جس پر اللہ رحم فرما دے۔ بلاشبہ وہ زبردست ہے ‘ مہربان ہے۔ یَوْمَ الْفَصْلِ یعنی روز قیامت۔ جس میں حق کو باطل سے جدا کیا جائے گا اور اہل حق اور اہل باطل کی سزا و جزا میں تفریق کردی جائے گی۔ مِیْقَانُھُمْ یعنی لوگوں کو زندہ کر کے قبروں سے اٹھانے اور بدلہ دینے کا مقرر وقت۔ یَوْمَ لاَ یُغْنِیْ یعنی قیامت کا دن وہ ہوگا کہ کوئی دوست فائدہ نہیں پہنچا سکے گا۔ مَوْلیً دوست خواہ قرابت دار ہو ‘ یا غیر ہو۔ شَیْءًا کسی قسم کا فائدہ خواہ عطاء منفعت کی شکل میں ہو ‘ یا دفع مضرت کی صورت میں۔ وَلاَ ھُمْ یُنْصَرُوْنَ یعنی عذاب سے ان کو بچایا نہیں جاسکے گا۔ اِلاَّ مِنْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

البتہ مسلمانوں کے کیونکہ وہ ایسے نہیں اور ان میں ایک ایک کے لیے اللہ کے حکم سے شفاعت کرے گا اور اللہ تعالیٰ زبردست ہے کافروں کو سزا دے گا اور مہربان ہے مسلمانوں پر رحمت فرمائے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) الا من رحم اللہ : یعنی جس پر اللہ نے رحم فرما دیا وہی بچے گا، جیسا کہ ابوہریرہ ؓ عنہب یان کرتے ہیں کیہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(لن ینجی احداً منکم عملہ، قالوا ولاا نت یا رسول اللہ ؟ قال ولا انا، الا ان یتعمدنی اللہ برحمۃ) (بخاری، الرقاق، باب القصد والمداومۃ علی العمل :6363)”تم میں کسی کو اس کا عمل نجات نہیں دلائے گا۔“ صحابہ نے کہا :”یا رسول اللہ ! کیا آپ کو بھی نہیں ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا :”مجھے بھی نہیں، الا یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت کے ساتھ ڈھانپ لے۔“ (2) انہ ھو العزیز الرحیم : یہ اس بات کا جواب ہے کہ کوئی کسی کی مدد کیوں نہیں کرسکے گا ؟ فرمایا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ہی سب پر غالب ہے، وہ جو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

من محل رفع میں ہے یہ ینصرون کی خبر سے بدل ہے گویا تو نے کہا : یا یہ مبتدا ہے اور خبر مضمر ہے گویا فرمایا : یا اس کو فائدہ دے او شفاعت کرے اور مدد کرے یا پھر پہلے مولیٰ سے بدل ہے گویا کہا : کوئی فائدہ نہیں دے گا مگر جس پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔ نسائی اور فراء کے نزدیک یہ مستثنیٰ منقطع ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، لیکن جس پر اللہ تعالیٰ رحمت فرمائے جس چیز کے وہ محتاج ہوں گے وہ اس دن انہیں ملے گی یہاں تک کہ وہ مخلوق کو فائدہ پہنچائیں۔ یہ بھی جائز ہے کہ مستثنیٰ متصل ہو یعنی کوئی قریبی کسی قریبی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا مگر مومن فائدہ پہنچائیں گے کیونکہ انہیں اجازت دی گئی ہے کہ وہ ایک دوسرے کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 40–42

17:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان یوم الفصل میقاتھم اجمعین “ (بلاشبہ فیصلے کا دن ان سب کا مقرر ہے) یعنی جسمانی لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا ان کے اعمال کے مطابق اور اس میں پورا پورا (بدلہ دیا جائے گا) پہلے اور پچھلے لوگوں کو (آیت ) ” یوم لایغنی مولی عن مولی شیئا “ (جس دن کوئی تعلق والا کسی تعلق والے کے ذرا بھی کام نہیں آئے گا) یعنی تعلقات ٹوٹ جائیں گے اس دن اور عہد و پیمان جاتے رہیں گے اور لوگ اپنے اعمال کی طرف لوٹ جائیں گے اور جس نے اس دن خیر کو پالیا تو اس کے ذریعہ وہ سعادت مند ہوگا اور جس نے اس دن شرکو پایا تو اسکے ذریعہ وہ بدبخت ہوگا۔ 18:۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِلَّا مَنْ [ سوائے اس کے جس پر ] رَّحِمَ اللّٰهُ ۭ [ رحم کیا اللہ نے ] اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِيْزُ [ بیشک وہ ہی بالادست ہے ] الرَّحِيْمُ [ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 40–42

قیامت کے دن کوئی کسی کے کام نہ آئے گا ﴿اِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيْقَاتُهُمْ اَجْمَعِيْنَۙ0040 ﴾ (بلاشبہ فیصلوں کا دن ان سب کا وقت مقرر ہے) یہ مانیں یا نہ مانیں بہرحال قیامت اپنے مقررہ وقت پر آجائے گی اور حساب کتاب ہوگا۔ ﴿ يَوْمَ لَا يُغْنِيْ مَوْلًى عَنْ مَّوْلًى شَيْـًٔا وَّ لَا هُمْ يُنْصَرُوْنَۙ0041﴾ اس دن کوئی تعلق والا کسی تعلق والے کو کچھ بھی نفع نہ دے گا اور نہ ان کی مدد کی جائے گی ﴿ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ اللّٰهُ 1ؕ﴾ ہاں مگر جس پر اللہ رحم فرمائے۔ اہل ایمان کا تعلق ایک دوسرے کو نفع دے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے گا آپس میں ایک دوسرے کی سفارش کردیں گے ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِيْزُ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 40–59

تہدید وتنبیہ از روز قیامت وبیان نجات و کامیابی مومنین ومتقین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان یوم الفصل ...... الی ........ فارتقب انھم مرتقبون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مجرمین کی سزاؤں اور ان کے عبرت ناک انجام کا بیان تھا جس کے بعد ان کے بالمقابل مطیعین کے انعام واکرام کا ذکر فرمایا گیا تو اب اختتام مضمون پر مزید یوم آخرت کی عظمت ومصیبت کا بیان فرماتے ہوئے اہل ایمان وتقوی پر حق تعالیٰ کے جو انعامات ہوں گے ان کا ذکر کیا گیا ، اور کافر ونافرمان کیسی شدت و تکلیف اور مصیبتوں میں مبتلا ہوں گے اس کو بھی واضح کرتے ہوئے فیصلہ فرمایا گیا کہ اصل کامیابی اور کامرانی حق تعالیٰ پر ایمان لانے اور آنحضرت ﷺ کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 41–43

25:۔ ” ان شجرت الزقوم “ یہ تخویف اخروی ہے۔ زقوم دوزخ کا ایک نہایت ہی کر یہ المنظر اور خبیث درخت ہے جس کا ادنی سا نمونہ دنیا کا خاردار تھوہر ہے۔ الاثیم سے مراد کافر ہے (روح، ابن کثیر ) ۔ ” المھل “ پگھلی ہوئی دھات (روح، بحر) دوزخ میں کافروں کی خوراک شجرہ خبیثہ زقوم (تھوہر) ہوگی اور وہ پگھلی ہوئی دھات کی طرح گرم ہوگا اور ان کے پیٹ میں اس طرح کھولے گی جس طرح سخت گرم پانی کھولتا ہے۔ خذوہ الخ ای یقال للزبانیۃ (مدارک) ۔ ” فاعتلوہ “ اسے گھسیٹ کرلے جاؤ۔ فجروہ بقہر (روح) دوزخ کے فرشتوں کو حکم ہوگا کہ اس مجرم کو گھسیٹ کر بھرکتی آگ کے وسط میں لے جاؤ اور اس کے سر پر کھولتا ہوا پانی ڈالو تاکہ اوپر سے بھی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 42–59

ربط آیات پہلے قرآن کی حقانیت اور صداقت بیان کی۔ پھر توحید کا مسئلہ سمجھایا ، مشرکین کی قباحت ، شرک کا رد اور پھر اس کا انجام بھی بیان ہوا۔ حق کی مخالفت کرنے والوں میں فرعون اور اس کے حواریوں کا تذکرہ ہوا اور پھر ان کی غرقابی کا ذکر بھی ہوا اللہ نے بنی اسرائیل کو فرعن کی غلامی سے نجات دلائی اور ان کو اپنے زمانے میں ہاں بھر میں فضیلت عطا کی ، پھر قریش مکہ اور مشرکین عرب کو تنبیہ کی گئی کہ تم سے پہلے قوم تبع جیسے بڑے بڑے ساز و سامان اور دولت والے لوگ گزر چکے ہیں ، ان کے حالات سے عبرت پکڑو تم کس بنا پر قیامت کا انکار کر رہے ہو ، فرمایا ہم نے ارض و سما اور ان کے درمیان کی اشیاء کو محض لہو و لہب کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ اللہُ۝ 0 ۭ اِنَّہٗ ہُوَالْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ۝ 42 ۧ «أَلَا»«إِلَّا»هؤلاء «أَلَا» للاستفتاح، و «إِلَّا» للاستثناء، وأُولَاءِ في قوله تعالی: ها أَنْتُمْ أُولاءِ تُحِبُّونَهُمْ [ آل عمران/ 119] وقوله : أولئك : اسم مبهم موضوع للإشارة إلى جمع المذکر والمؤنث، ولا واحد له من لفظه، وقد يقصر نحو قول الأعشی: هؤلا ثم هؤلا کلّا أع طيت نوالا محذوّة بمثال الا) الا یہ حرف استفتاح ہے ( یعنی کلام کے ابتداء میں تنبیہ کے لئے آتا ہے ) ( الا) الا یہ حرف استثناء ہے اولاء ( اولا) یہ اسم مبہم ہے جو جمع مذکر و مؤنث کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس کا مفرد من لفظہ نہیں آتا ( کبھی اس کے شروع ۔ میں ھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 30–42

ترکیب : من فرعون بدل من العذاب علی حذف المضاف ای من عذابہ وقیل لاحاجۃ الی الحذف لان فرعون فی نفسہ کان عذابا مہینالافراطہ فی تعذیب بنی اسرائیل قرء ابن عباس ؓ من فرعون فیکون استفہاما انہ کان الخ جو ابہ مافیہ الخ مفعول ثان لاتینا۔ تفسیر : ولقد نجینا یہ بیان سابق کا تتمہ ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو سخت عذاب سے نجات دی جو فرعون سرکش کے ہاتھ سے ان پر ہوا کرتا تھا اور صرف مصیبت ہی دفع نہیں کی بلکہ ذلت کے بدلے ان کو عزت دی۔ یہ ہیں اخترناھم علی العالمین کے معنی اور مصیبت کے بدلہ بڑی نعمتیں دیں کہ جن میں ان کی آزمائش تھی اور وہ نعماء خدا کی نشانیاں تھیں جیسا کہ قلزم سے پاراتارنا ‘ من وسلویٰ ‘ پانی کا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِلاَّ مَنْ رَّحِمَ اللّٰہُ اِنَّـہٗ ھُوَالْعَزِیْزُالرَّحِیْمُ ۔ (الدخان : 42) (سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم کرے، بیشک وہی عزیزورحیم ہے۔ ) اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قیامت کے روز ایمان و عمل ہی انسان کے کام آئیں گے۔ لیکن اس کے لیے بھی لازمی شرط یہ ہے کہ صاحب ایمان اور صاحب عمل کے اندر اپنے ایمان اور اپنے عمل کا پندار پیدا نہ ہو، وہ ایمان کے تقاضوں پر کان دھرے اور عمل کے لیے پوری کوشش بروئے کار لائے۔ لیکن ساتھ ہی اس بات پر یقین رکھے کہ کسی شخص کا عمل بھی اس وقت تک آبرومند نہیں ہوگا جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل اس کے شامل حال نہ ہو۔ یہ صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے لیے ایمان و عمل ضروری ہے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 38–42

فہم القرآن ربط کلام : جرائم میں وہی شخص آگے بڑھتا ہے جو زبانی یا عملی طور پر آخرت کا انکار کرتا ہے۔ جو آخرت کا انکار کرتا ہے وہ قولاً یا فعلاً سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو محض شغل کے طور پر پیدا کیا ہے۔ آخرت کا انکار کرنے اور کائنات کو شغل قرار دینے والوں کو سمجھانے کے لیے ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے انہیں شغل کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ زمین و آسمانوں کے درمیان جو کچھ پیدا کیا گیا ہے یا آئندہ پیدا کیا جائے گا اس کا ایک مقصد ہے لیکن لوگوں کی اکثریت اس مقصد کی طرف متوجہ نہیں ہوتی۔ سورة الانبیاء آیت 16 میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے زمین و آسمانوں کو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 42 : اِلاَّ مَنْ رَّحِمَ اللّٰہُ (ہاں مگر جس پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے) : یہ محل رفع ہے۔ ینصرون کی ضمیر وائو سے بدل ہے۔ یعنی عذاب سے نہ بچے گا مگر وہ جس پر اللہ تعالیٰ کا رحم ہوا۔ اِنَّہٗٗٗ ہُوَ الْعَزِیْزُ (بےشک وہ زبردست ہے) اپنے دشمنوں پر غالب ہے۔ الرَّحِیْمُ (مہربان ہے) اپنے اولیاء پر۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

41، یوم لا یغنی مولی عن مولی شیئا، کوئی فریبی اپنے قریبی ساتھی کو نفع نہ دے سکے گا اور نہ اس سے کچھ دور کرسکے گا۔ ، ولاھم ینصرون، وہ اللہ کے عذاب سے نہ روکے جائیں گے ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 37–50

37۔ 50۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تبع کی قوم کو برا فرمایا خاص تبع کو برا نہیں فرمایا معتبر سند سے مسند 1 ؎ امام احمد اور طبرانی میں سہل ؓ بن سعد سے روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تبع کو برا نہ کہو تبع مسلمان ہوگیا تھا اور نیک آدمی تھا 2 ؎ عبد الرزاق وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے جو روایت ہے کہ حضرت ﷺ نے فرمایا مجھ کو معلوم نہیں تبع ملعون شخص تھا یا اچھا ‘ اس روایت پر دارقطنی اور علما نے اعتراض کیا ہے حاصل یہ ہے کہ حشر کے انکار کے سبب سے پہلی قومیں جو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوئیں اگر یہ قریش ان کے سے کام کریں گے تو ان کا بھی وہی انجام ہوگا ‘ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 38–42

آیت 38 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ اور حکمت تامہ کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو کھیل تماشے کے طور پر، عبث اور بےفائدہ پیدا نہیں کیا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حق کے ساتھ پیدا کیا، ان کا پیدا کرنا ہی حق ہے اور ان کی پیدائش حق ہی پر مشتمل ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو اس لئے وجود بخشا ہے تاکہ وہ اللہ واحد کی عبادت کریں تاکہ وہ اپنے بندوں کو حکم دے اور منع کرے، ان کو ثواب عطا کرے اور سزا دے۔ (ولکن اکثرھم لایعلمون) ” لیکن ان سب میں سے اکثر نہیں جانتے۔ “ اس لئے انہوں نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں کبھی غور و فکر نہیں کیا۔ (ان یوم الفصل) ” بیشک فیصلے کا دن “…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 40–42

46 قیامت کے روز کی سرفرازی رحمت خداوندی ہی کے نتیجے میں : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ نفسی نفسی کے اس یوم عظیم میں نہ کسی کا کوئی عزیز و قریب آسکے گا اور نہ ہی ان کی کہیں اور سے کوئی مدد کی جائے گی سوائے ان لوگوں کے جن پر اللہ اپنا فضل و کرم فرمایا ہوگا۔ یعنی وہ مومن مخلص جس کو ایمان اور عمل صالح کی توفیق ملی ہوگی کہ ان کو سفارش کرنے کی اور ان کے لئے بوقت ضرورت سفارش کئے جانے کی اجازت ہوگی۔ مگر وہ بھی جس کو اجازت ملے اور جس کے لئے ملے ۔ { اِلا مَنْ اَذِنَ لَہ الرَّحْمٰنُ وَرَضِیَ لَہٗ قَوْلا } ۔ (طٰہٓ: 109) ۔ سو فیصلہ اور جزا کے اس دن فائز المرامی بس انہی لوگوں کو نصیب ہوگی جن پر اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 38–42

زمین و آسمان اور انسان کی پیدائش کا ایک مقصد ہے، کھیل نہیں تشریح : یہاں انسان کی پیدائش کو معمولی اور فضول کھیل سے بلند ایک با مقصد تخلیق قرار دیا جا رہا ہے۔ کفار جو اس زندگی کو صرف عیش و عشرت تک ہی محدود سمجھتے ہیں کہ بس مرگئے تو قصہ ختم مگر اللہ تعالیٰ نے بار بار اس بات کی وضاحت کی ہے کہ تمہاری زندگی کا ایک ایک لمحہ نوٹ کیا جا رہا ہے اس لیے کہ جب مرنے کے بعد تم دوبارہ زندہ کر کے اللہ کے سامنے اپنے نامہ اعمال کے ساتھ پیش کئے جاؤ گے تو پھر تمہیں اپنی زندگی کا مقصد معلوم ہوجائے گا۔ سائنس دان جب کائنات کی تحقیق میں کچھ تھوڑا بہت کامیاب ہوئے تو ان کو معلوم ہوگیا کہ کائنات میں حیرت انگیز طور پر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 30–42

آیات 30 تا 42۔ اسرار ومعارف۔ اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے اس عذاب سے جس میں فرعون نے انہیں مبتلا کررکھا تھا نجات دی ، کہ فرعون بہت ہی سرکش تھا اور تمام حدود عبور کرجانے والوں میں سے تھا ، نیز ہم نے انہیں اپنے علم کے مطابق اس دور کے تمام لوگوں پہ فضیلت بخشی اور ہم نے انہیں اپنی عظمت کی نشانیاں عطا کیں۔ مادی اور ظاہری بھی کہ فرعون سے نجات اور باطنی بھی علوم نبوت اور معجزات کا ظہور جو اللہ کی طرف سے انعام بھی تھیں اور آزمائش کا سبب بھی۔ یہ لوگ ان اقوام کے حالات سے سبق حاصل نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ صرف یہی دنیا کی زندگی ہے اور یہی ایک بات موت ہے ہمیں دوبارہ زندہ نہیں ہوناچاہیے ، اور دلیل یہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 15 یعنی اس روز کسی سفارش سے بس اسی کو فائدہ پہنچ سکے گا جس پر اللہ تعالیٰ رحم کرے اور اس کی سفارش کرنے کی اجازت دے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(44:42) الا من رحم اللّٰہ (استثناء متصل) ای لایمنع من العذاب الا من رحمہ اللّٰہ تعالیٰ وذلک بالعفو عنہ و قبول الشفاعۃ فیہ۔ یعنی کوئی بھی عذاب سے بچ نہیں سکے گا سوائے اس کے کہ جس پر اللہ رحم فرمائے گا۔ معافی دے کر اور اس کے حق میں شفاعت قبول فرما کر (روح المعانی) یا۔ لکن من رحمہ اللّٰہ تعالیٰ فانہ یدفع عنہ العذاب وینصر (الجزائری) لیکن جس پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے گا اس پر سے عذاب بھی ہٹایا جاسکے گا۔ اور اس کی امداد بھی کی جاسکے گی۔ العزیز : عزۃ سے فعیل کے وزن پر بمعنی فاعل مبالغہ کا صیغہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی سے ہے۔ الرحیم : رحمۃ سے بروزن فعیل مبالغہ کا صیغہ ہے۔ اسماء الحسنی سے ہے۔ بڑا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 34–42

لغات القرآن آیت نمبر 34 تا 42 : منشرین (دوبارہ اٹھنے والے) میقات ( مقررہ وقت) لا یغنی (کام نہ آئے گا) مولی ( ساتھی ، دوست) تشریح : آیت نمبر 34 تا 42 : جس طرح نمرود ، فرعون ، قیصر و کسریٰ مختلف ملکوں کے بادشاہوں کے لقب تھے اسی طرح قبیلہ حمیر کے بادشاہ کا لقب تبع تھا۔ تبع نام کے بہت سے بادشاہ گزرے ہیں ، چونکہ حجاز سے قریب تر علاقے ملک یمن اور سباپر قوم تبع کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے دو ڈھائی سو سال پہلے اور نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی پیدائش سے تقریباً سات سو سال پہلے حکمرانی کا موقع ملا تھا اس لئے عرب میں قوم تبع کا کا فی چرچا تھا اور جزریۃ العرب کے لوگ تبع اور قوم تبع سے اچھی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 37–42

(ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تبع کی قوم کو برا فرمایا خاص تبع کو برا نہیں فرمایا۔ معتبر سند سے مسند امام احمد ، اور طبرانی میں ہے کہ تبع حمیری بادشاہ یمن صاحب ایمان تھے جو نوسو برس پہلے نبی کی پیدائش سے حضور پر ایمان لائے تھے ان کا نام اسعد بن ملکی کرب تھا اور کنیت ، ابوکرب ، مسلمان تھے بزرگ تھے اور ان کی قوم کافر تھی جو نہایت قوی زورآور اور کثیر التعداد تھی، حاصل یہ ہے کہ ان کے کفر کے باعث اور حشر کے انکار کے سبب سے پہلی کافر قوم میں جو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوئیں اگر یہ مشرکین ان کے سے کام کریں گے توا کا بھی وہی انجام ہوگا دنیا میں اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور انسان کی ضرورت ک لیے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 38–57

حل لغات :۔ بلوء ۔ آزمائش ۔ انعام ۔ ہم نے کائنات کو بلا مقصد نہیں پیدا کیا 1: مادیت کا نظریہ ہے ۔ کہ یہ کارگاہ حیات کا نتیجہ ہے ۔ محض بخت واخلاق کا اور مجازفۃ وتخمین کا ۔ یہ عالم حیات یونہی بلا کسی غرض اور غایت کے پیدا کردیا گیا ہے یا پیدا ہوگیا ہے ۔ اور اس کی تخلیق میں کسی اخلاقی ۔ نصب العین کو کوئی دخل نہیں ۔ قرآن حکیم اس نظریہ کی مخالفت کرتا ہے اور کہتا ہے ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو محض فعل عبث کے طور پر نہیں پیدا کیا ہے ۔ کہ اس کا کچھ مقصد بھی نہ ہو ۔ بلکہ ان کے بنانے میں حکمت ضرور ہے ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ زندگی کی تکمیل ہو ۔ اور انسان کو مواقع دیئے جائیں ۔ کہ وہ آخرت کے لئے تیاری…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(42) مگر ہاں جس پر اللہ تعالیٰ مہربانی فرمائے بیشک وہ بڑا زبردست بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔ یعنی یوم الفصل جو حقیقی فیصلے کا دن ہے وہ ان سب کی سزا اور جزا عذاب اور ثواب کا دن ہے اس دن کوئی دوست رفیق اور اپنا کسی دوست رفیق اور اپنے کے بالکل کام نہ آئے گا اور نہ کسی کی طرف سے کوئی مدد پہنچے گی۔ البتہ اس سے وہ لوگ مستثنیٰ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور اس کی مہر ہوجائے اور ا س کے لئے شفاعت کی اجازت مل جائے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو مدد پہنچ جائے وہ بڑا زبردست اور کمال قوت کا مالک ہے کافر اس کے انتقام سے بچ نہیں سکتے وہ بڑی مہربانی کرنے والا ہے اور اس کی مہربانی سے قیامت کے دن…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 38–42

ف 8۔ وہ کافروں سے انتقام لے گا اور مسلمانوں پر رحمت فرمائے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ کی ذات ہی کسی پر رحم کرے تو کرے کہ وہ زبردست اور رحیم ہے 24 ؎ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی جن اقسام کے لیے طے کردیا ہے کہ میری طرف سے ان کو کسی طرح چھوٹ نہیں ملے گی بلاریب ان کو تو یقینا چھوٹ نہیں ملے گی لیکن وہ بھی کتنے ہوں گے جن کے متعلق ایسا فیصلہ نہیں کیا گیا اور اگر اللہ چاہے تو وہ ان کو مکمل چھوٹ دے دے کسی کے متعلق اس کے کسی تعلق دار کی اجازت عطا کردے اور چاہے تو اسے عذاب دے کر عذاب سے نکلنے کا حکم دے دے بہرحال جب کسی طرف سے کسی طرح کی کوئی مدد نہ دئیے جانے کا اعلان فرمادیا تو اللہ تعالیٰ کی ذات کو اس میں سے مستثنیٰ بھی کردیا کہ وہ جس کے لیے چاہے اپنے کامل علم کی بنا پر کسی کے کام آئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 39–42

مَا خَلَقْنَاهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ‌هُمْ لَا يَعْلَمُونَ "We did not create them but with true purpose, yet most of them do not know. (44:39) " In other words, every wise and thinking person should realise that there is a purpose and objective for creating this universe. The heavens and the earth and everything created in them manifest many realities. Examples are: (1) the manifestation of Divine power; (2) the possibility of the Hereafter. Obviously, the Supreme Creator Who drew out such huge bodies from the realm of non-existence into the realm of existence surely has…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

37 These sentences portray the nature of the Court that will be established on the Day of Decision. It will be a Court where nobody's help or support will help rescue any culprit nor have his sentence reduced. All powers will rest with the real Sovereign Whose decisions cannot be withheld from being enforced nor influenced by any power. It will entirely depend on His own discretion whether He forgives somebody mercifully, or awards him a lesser punishment; it indeed behoves Him to exercise justice mercifully and not mercilessly, but whatever decision He gives in any case, will be enforced…

Read the full tafseer →