Ad-Dukhaan 44:41

Ad-Dukhaan · from ayah 41

44:41

یَوْمَ لَا یُغْنِیْ مَوْلًی عَنْ مَّوْلًی شَیْـًٔا وَّلَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ ۟ۙيَوۡمَ لَا يُغۡنِىۡ مَوۡلًى عَنۡ مَّوۡلًى شَيۡـئًا وَّلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَۙ

جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان کو مدد ملے گی

— Fateh Muhammad Jalandhari

The Day when no relation will avail a relation at all, nor will they be helped -

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 2 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Ad-Dukhaan

All translations of 44:41

وہ دن جب کوئی عزیز قریب اپنے کسی عزیز قریب کے کچھ بھی کام نہ آئے گا، اور نہ کہیں سے انہیں کوئی مدد پہنچے گی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان کو مدد ملے گی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ ان کی امداد کی جائے گی

— مولانا محمد جوناگڑہی

جس دن کوئی حمایتی کسی حمایتی کے ذرا بھی کام نہیں آئے گا اور ان میں سے کسی کی کوئی مدد نہیں کی جائے گی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان کی مدد ہوگی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ہی اُن کی مدد کی جائے گی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جس دن کوئی دوست اپنے دوست کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ہی انہیں کہیں سے مدد ملے گی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جس دن کوئی رشتہ دار کسی رشتہ دار کے کام نہیں آئے گا اور نہ ان کی کوئی مدد ہی ہو سکے گی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جس دن نہ تو کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام آسکے گا اور نہ (کہیں اور سے) ان کی کوئی مدد کی جائے گی

— مولانا اسحاق مدنی

جس دن کوئی تعلق والا کسی تعلق والے کے کام نہ آئے گا اور نہ ان کی حمایت ہی کی جائے گی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہیں آسکے گا اور نہ ہی ان کی کوئی مدد کی جائے گی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان کو مدد ملے گی

— محترمہ رفعت اعجاز

the Day when a friend shall be of no avail to his friend nor shall they be helped,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

the day when no close relation will be of any use to any close relation, nor will they be helped,

— Muhammad Taqi Usmani

the day when no close relation will be of any use to any close relation, nor will they be helped,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The Day when a near relative cannot avail a near relative in aught, and no help can they receive,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

A day when friend can in naught avail friend, nor can they be helped,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The Day when no relation will avail a relation at all, nor will they be helped -

— Saheeh International

(when wrong will be distinguished from right). On this day friends will be of no benefit to one another, nor will they receive any help

— Muhammad Sarwar

The day on which a friend shall not avail (his) friend aught, nor shall they be helped,

— Muhammad Habib Shakir

A Day whereon a friend shall not avail a friend at all, nor shall they be helped.

— Abdul Majid Daryabadi

The Day when no protector can avail his client in aught, and no help can they receive,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 44:41

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 38–42

صور پھونکنے کے بعد یہاں اللہ عزوجل اپنے عدل کا بیان فرما رہا ہے اور بےفائدہ لغو اور عبث کاموں سے اپنی پاکیزگی کا اظہار فرماتا ہے جیسے اور آیت میں ارشاد ہے کہ ہم نے اپنی مخلوق کو باطل پیدا نہیں کیا ایسا گمان ہماری نسبت صرف ان کا ہے جو کفار ہیں اور جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور ارشاد ہے آیت (افحسبتم انما خلقناکم عبثا وانکم الینا لا ترجعون) الخ، یعنی کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بیکار و عبث پیدا کیا ہے اور تم لوٹ کر ہماری طرف آنے ہی کے نہیں ؟ اللہ حق مالک بلندیوں اور بزرگیوں والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش کریم کا رب ہے فیصلوں کا دن یعنی قیامت کا دن جس دن باری تعالیٰ اپنے بندوں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الدُّخَان 36 اصل میں لفظ " مولیٰ " استعمال کیا گیا ہے جو عربی زبان میں ایسے شخص کے لیے بولا جاتا ہے جو کسی تعلق کی بنا پر دوسرے شخص کی حمایت کرے، قطع نظر اس سے کہ وہ رشتہ داری کا تعلق ہو یا دوستی کا یا کسی اور قسم کا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 39–42

(آیت) مَا خَلَقْنٰهُمَآ اِلَّا بالْحَقِّ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ (ہم نے ان دونوں یعنی زمین و آسمان کو کسی حکمت ہی سے بنایا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے) مطلب یہ ہے کہ اگر سوچنے سمجھنے والی عقل ہو تو آسمان و زمین اور ان کے اندر جو مخلوقات پیدا کی گئی ہیں وہ سب بہت سے حقائق پر دلالت کرتی ہیں، مثلاً ایک تو قدرت خدا وندی پر۔ دوسرے آخرت کے امکان پر، کیونکہ جس ذات نے ان عظیم اجسام کو عدم سے وجود عطا کیا وہ یقینا اس بات پر بھی قادر ہے کہ انہیں ایک مرتبہ فنا کر کے دوبارہ پیدا کر دے۔ تیسرے جزا و سزا کی ضرورت پر، کیونکہ اگر آخرت کی جزا و سزا نہ ہو تو یہ سارا کارخانہ و جود بیکار ہوجاتا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یوم لایغنی مولی عن مولی شیئاً ولاھم ینصرون (41) لفظ مولی خاندان اور قبیلہ کے ان افراد کے لئے آتا ہے جن کے ساتھ آدمی کا خون اور نسب کا رشتہ اور جن میں باہم عصبیت کا جذبہ ہو۔ فرمایا کہ وہ دن ایسا نفسی نفسی کا ہوگا کہ کوئی عزیز و قریب کسی کے کچھ کام آنے والا نہیں بنے گا۔ ولا ھم ینصرون اور نہ ان کی کسی اور ہی طرف سے کوئی مدد کی جائے گی۔ قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس مدد کی نفی ہے جو مشرکین اپنے مزعومہ شرکاء و شفعاء سے رکھتے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 41–45

45۔ 1 پگھلا ہوا تانبہ، آگ میں پگھلی ہوئی چیز یا تلچھٹ تیل وغیرہ کے آخر میں جو گدلی سی مٹی کی تہ رہ جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 40–49

12: یعنی دنیا میں تو اپنے آپ کو بڑا صاحب اقتدار اور بڑا با عزت سمجھتا تھا اور اس پر تجھے گھمنڈ تھا، آج اپنی یہ حالت دیکھ لے کہ تکبر، گھمنڈ اور حق کے انکار کا انجام کیا ہوتا ہے ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 34–42

آیت نمبر 34 تا 42 مشرکین عرب یہ کہتے تھے ، بس ہماری یہی موت ہے ، جس سے ہم دو چار ہوں گے۔ اس کے بعد نہ زندگی ہے اور نہ حشرونشر ہے اور اس کو وہ ” پہلی “ اس معنی میں کہتے تھے کہ حشر ونشر کا جو ڈر اوا ہمیں سنایا جارہا ہے اس سے یہ پہلی ہے۔ وہ یہ کہتے تھے کہ یہی موت ہے اور اس پر سب کچھ ختم ہونے والا ہے۔ کیونکہ ان کے آباء و اجداد بس ایک ہی بار مر گئے۔ اور ان میں سے کوئی بھی اس جہاں میں واپس نہیں آیا۔ نہ کبھی کوئی اٹھایا گیا اور ان کا مطالبہ ہی یہ ہوتا تھا کہ اگر نشو رحق ہے تو لاؤ ہمارے آباء کو۔ لیکن اس مسئلے پر وہ حشر و نشر کی حکمت پر غور نہ کرتے تھے اور یہ بھی محسوس نہ کرتے تھے کہ حشر اور نشر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 41 { یَوْمَ لَا یُغْنِیْ مَوْلًی عَنْ مَّوْلًی شَیْئًا وَّلَا ہُمْ یُنْصَرُوْنَ } ”جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہیں آسکے گا اور نہ ہی ان کی کوئی مدد کی جائے گی۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 41–42

31 یعنی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کسی کے حق میں جو فیصلہ کردے گا وہ نافذ ہو کے رہے گا اور اس کی کہیں اپیل بھی نہ ہوسکے گی کیونکہ وہی سب پر غالب ہے۔ 32 یعنی وہ فیصلہ کرتے وقت کسی پر رحم تو کرسکتا ہے۔ مگر کسی پر ظلم اور زیادتی نہیں کرسکتا کیونکہ یہ بات اس کی صفت عدل کے خلاف ہے۔ وہ یہ تو کرسکتا کہ ایک قصوروار کو معاف کردے یا اس کے جرم سے کم سزا دے یا اس کے عمل سے بہت زیادہ بدلہ دے دے اور بیشتر مقدمات میں وہ اپنی اسی صفت رحیمیت کا ہی مظاہرہ کرے گا۔ سزا صرف ان لوگوں کو دے گا جنہوں نے شرک کیا ہو۔ یا از راہ تکبر دعوت حق کو ٹھکرا دیا ہو اور پھر معاندانہ سرگرمیوں میں ہی لگے رہے ہوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 40–42

25۔ چناچہ اپنی صفت عزیزیت کے تقاضہ سے کافروں کو خوب مغلوب کرے گا۔ اور صفت رحیمیت کا ظہور اہل ایمان پر پوری طرح فرمائے گا۔ (آیت) ” لایغنی ..... ینصرون “۔ مطلق دنیوی تعلق حشر میں ہرگز کسی ایک کا دوسرے سے کام نہ آئے گا۔ بلکہ اس کی بناء پر کوئی کسی کی مدد تک نہ کرسکے گا۔ (آیت) ” الا من رحم اللہ “۔ اور اللہ کی رحمت کا اثر یہ ظاہر ہوگا کہ وہ کسی مومن کے حق میں شفاعت کا اذن دیدے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 30–42

آیت نمبر 30 تا 42 ترجمہ : اور بیشک ہم نے (ہی) بنی اسرائیل کو رسواکن سزا سے نجات دی یعنی لڑکوں کے قتل اور عورتوں کو خادمہ بنانے سے، جو فرعون کی طرف سے (ہو رہی) تھی، کہا گیا ہے کہ مِنْ فرعونَ ، عذاب سے تقدیر مضاف کے ساتھ بدل ہے ای من عذاب فرعون اور کہا گیا ہے کہ عزاب سے حال ہے فی الواقع وہ سرکش حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے تھا اور ہم نے بنی اسرائیل کو ہمارے ان کے حالات سے واقف ہونے کی وجہ سے ان کے زمانہ کے عقلاء پر فوقیت دی اور ہم نے ان کو ایسی نشانیاں دیں جن میں صریح انعام تھا یعنی کھلی نعمتیں تھیں، مثلاً دریا کو چیرنا اور من و سلوٰی وغیرہ یہ لوگ یعنی کفار مکہ تو یہی کہتے ہیں، نہیں ہے ایسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یوم لا یغنی مولی عن مولی شیئا ولا ھم ینصرون۔ جس دن کہ کوئی تعلق والا کسی تعلق والے کے ذرا کام نہیں آئے گا اور نہ ان کی کچھ حمایت کی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور جس عذاب الہی کے مقابلے کے دن کوئی علاقہ والا کسی علاقہ والے کے اور نہ کافر کفر کے اور نہ کوئی قریبی رشتہ دار کسی رشتہ دار کے کچھ کام آئے گا اور نہ ان سے عذاب الہی روکا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) یوم لایغنی ملوی عن مولی شیائً : ”مولی“ کا معنی دوست بھی ہے، قریبی رشتہ دار بھی ، غلام بھی اور غلام کا مالک بھی۔ یعنی قیامت کے دن کوئی شخص کسی ایسے شخص کے کام نہیں آسکے گا جس سے اس کی دوستی یا رشتہ داری یا اس کی حمایت حاصل کرنے کا کوئی تعلق ہو۔ دیکھیے سورة مومنون (101) اور سورة معارج (10، 11) (2) ولا ھم ینصرون : اور نہ کسی اور طرف سے مدد مل سکے گی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

پہلے یوم سے بدل ہے مولی سے مراد ولی ہے جس سے مراد چچا زاد بھائی اور مددگار ہے یعنی چچا زاد بھائی چچازاد بھائی کا دفاع نہیں کرے گا۔ کوئی قریبی کسی قریبی کا اور کوئی دوست کسی دوست کا دفاع نہیں کرے گا۔ یعنی مومن کافر کا قربت کی وجہ سے دفاع نہیں کرے گا۔ اس آیت کی مثل یہ آیت ہے : (بقرۃ 48)

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 40–42

17:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان یوم الفصل میقاتھم اجمعین “ (بلاشبہ فیصلے کا دن ان سب کا مقرر ہے) یعنی جسمانی لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا ان کے اعمال کے مطابق اور اس میں پورا پورا (بدلہ دیا جائے گا) پہلے اور پچھلے لوگوں کو (آیت ) ” یوم لایغنی مولی عن مولی شیئا “ (جس دن کوئی تعلق والا کسی تعلق والے کے ذرا بھی کام نہیں آئے گا) یعنی تعلقات ٹوٹ جائیں گے اس دن اور عہد و پیمان جاتے رہیں گے اور لوگ اپنے اعمال کی طرف لوٹ جائیں گے اور جس نے اس دن خیر کو پالیا تو اس کے ذریعہ وہ سعادت مند ہوگا اور جس نے اس دن شرکو پایا تو اسکے ذریعہ وہ بدبخت ہوگا۔ 18:۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يَوْمَ [ جس دن ] لَا يُغْنِيْ [ کام نہ آئے گا ] مَوْلًى عَنْ مَّوْلًى [ کوئی ساتھی کسی ساتھی کے ] شَـيْــــًٔا [ذرا بھی ] وَّلَا هُمْ يُنْصَرُوْنَ [ اور نہ ہی ان کی مدد کی جائے گی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 40–42

قیامت کے دن کوئی کسی کے کام نہ آئے گا ﴿اِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيْقَاتُهُمْ اَجْمَعِيْنَۙ0040 ﴾ (بلاشبہ فیصلوں کا دن ان سب کا وقت مقرر ہے) یہ مانیں یا نہ مانیں بہرحال قیامت اپنے مقررہ وقت پر آجائے گی اور حساب کتاب ہوگا۔ ﴿ يَوْمَ لَا يُغْنِيْ مَوْلًى عَنْ مَّوْلًى شَيْـًٔا وَّ لَا هُمْ يُنْصَرُوْنَۙ0041﴾ اس دن کوئی تعلق والا کسی تعلق والے کو کچھ بھی نفع نہ دے گا اور نہ ان کی مدد کی جائے گی ﴿ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ اللّٰهُ 1ؕ﴾ ہاں مگر جس پر اللہ رحم فرمائے۔ اہل ایمان کا تعلق ایک دوسرے کو نفع دے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے گا آپس میں ایک دوسرے کی سفارش کردیں گے ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِيْزُ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 40–59

تہدید وتنبیہ از روز قیامت وبیان نجات و کامیابی مومنین ومتقین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان یوم الفصل ...... الی ........ فارتقب انھم مرتقبون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مجرمین کی سزاؤں اور ان کے عبرت ناک انجام کا بیان تھا جس کے بعد ان کے بالمقابل مطیعین کے انعام واکرام کا ذکر فرمایا گیا تو اب اختتام مضمون پر مزید یوم آخرت کی عظمت ومصیبت کا بیان فرماتے ہوئے اہل ایمان وتقوی پر حق تعالیٰ کے جو انعامات ہوں گے ان کا ذکر کیا گیا ، اور کافر ونافرمان کیسی شدت و تکلیف اور مصیبتوں میں مبتلا ہوں گے اس کو بھی واضح کرتے ہوئے فیصلہ فرمایا گیا کہ اصل کامیابی اور کامرانی حق تعالیٰ پر ایمان لانے اور آنحضرت ﷺ کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 41–43

25:۔ ” ان شجرت الزقوم “ یہ تخویف اخروی ہے۔ زقوم دوزخ کا ایک نہایت ہی کر یہ المنظر اور خبیث درخت ہے جس کا ادنی سا نمونہ دنیا کا خاردار تھوہر ہے۔ الاثیم سے مراد کافر ہے (روح، ابن کثیر ) ۔ ” المھل “ پگھلی ہوئی دھات (روح، بحر) دوزخ میں کافروں کی خوراک شجرہ خبیثہ زقوم (تھوہر) ہوگی اور وہ پگھلی ہوئی دھات کی طرح گرم ہوگا اور ان کے پیٹ میں اس طرح کھولے گی جس طرح سخت گرم پانی کھولتا ہے۔ خذوہ الخ ای یقال للزبانیۃ (مدارک) ۔ ” فاعتلوہ “ اسے گھسیٹ کرلے جاؤ۔ فجروہ بقہر (روح) دوزخ کے فرشتوں کو حکم ہوگا کہ اس مجرم کو گھسیٹ کر بھرکتی آگ کے وسط میں لے جاؤ اور اس کے سر پر کھولتا ہوا پانی ڈالو تاکہ اوپر سے بھی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 30–41

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید ، رسالت اور معاد کا مسئلہ سمجھانے کے لئے سابقہ اقوام اور خاص طور پر قوم فرعون کا ذکر کیا۔ پھر اس کے انجام کو بھی بیان کیا جو اس کے غرور وتکبر کی وجہ سے ہوا۔ وہ لوگ خود تو بحر قلزم میں غرق ہوگئے اور اپنے پیچھے ساز و سامان ، باغات ، چشمے ، مملات اور دیگر عیش و عشرت کی اشیاء چھوڑ گئے جن کا وارث اللہ نے دوسرے لوگوں کو بنایا۔ اللہ نے یہ بھی عبرت کے طور پر فرمایا کہ ان ناہنجاروں کی ہلاکت پر ارض و سمانہ رونے یعنی انہوں نے کوئی افسوس نہ کیا۔ جب ان لوگوں پر گرفت آئی تو پھر انہیں سنبھلنے کی مہلت بھی نہ ملی۔ اس سے حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کی تسلی بھی مطلوب…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَوْمَ لَا يُغْنِيْ مَوْلًى عَنْ مَّوْلًى شَـيْــــًٔا وَّلَا ہُمْ يُنْصَرُوْنَ۝ 41 ۙ غنی( فایدة) أَغْنَانِي كذا، وأغْنَى عنه كذا : إذا کفاه . قال تعالی: ما أَغْنى عَنِّي مالِيَهْ [ الحاقة/ 28] ، ما أَغْنى عَنْهُ مالُهُ [ المسد/ 2] ، لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوالُهُمْ وَلا أَوْلادُهُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئاً [ آل عمران/ 10] ، ( غ ن ی ) الغنیٰ اور اغنانی کذا اور اغنی کذا عنہ کذا کسی چیز کا کا فی ہونا اور فائدہ بخشنا ۔ قر آں میں ہے : ما أَغْنى عَنِّي مالِيَهْ [ الحاقة/ 28] میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا ما أَغْنى عَنْهُ مالُهُ [ المسد/ 2] تو اس کا مال ہی اس کے کچھ کام آیا ۔۔۔۔ لَنْ تُغْنِيَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 30–42

ترکیب : من فرعون بدل من العذاب علی حذف المضاف ای من عذابہ وقیل لاحاجۃ الی الحذف لان فرعون فی نفسہ کان عذابا مہینالافراطہ فی تعذیب بنی اسرائیل قرء ابن عباس ؓ من فرعون فیکون استفہاما انہ کان الخ جو ابہ مافیہ الخ مفعول ثان لاتینا۔ تفسیر : ولقد نجینا یہ بیان سابق کا تتمہ ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو سخت عذاب سے نجات دی جو فرعون سرکش کے ہاتھ سے ان پر ہوا کرتا تھا اور صرف مصیبت ہی دفع نہیں کی بلکہ ذلت کے بدلے ان کو عزت دی۔ یہ ہیں اخترناھم علی العالمین کے معنی اور مصیبت کے بدلہ بڑی نعمتیں دیں کہ جن میں ان کی آزمائش تھی اور وہ نعماء خدا کی نشانیاں تھیں جیسا کہ قلزم سے پاراتارنا ‘ من وسلویٰ ‘ پانی کا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یَوْمَ لاَ یُغْنِیْ مَوْلًی عَنْ مَّوْلًی شَیْئًا وَّلاَ ھُمْ یُنْصَرُوْنَ ۔ (الدخان : 41) (جس دن کوئی رشتہ دار کسی رشتہ دار کے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ وہ مدد کیے جائیں گے۔ ) مَوْلًی ایسے شخص کے لیے بولا جاتا ہے جو کسی تعلق کی بنا پر دوسرے شخص کی حمایت کرے، چاہے وہ تعلق رشتے داری کا تعلق ہو یا دوستی کا یا کسی اور قسم کا۔ قیامت کا ہولناک دن یعنی قیامت کا دن ایسا ہولناک اور ایسا انصاف پرور ہوگا کہ کوئی شخص کسی سے تعلق کی بنیاد پر اس کے کام نہیں آسکے گا۔ ایک نفسی نفسی کا عالم ہوگا۔ وہاں صرف ایمان و عمل کا سکہ چلے گا اور پروردگار کے حضور اسی کی قدر کی جائے گی۔ لوگوں نے جن قوتوں کو اللہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 38–42

فہم القرآن ربط کلام : جرائم میں وہی شخص آگے بڑھتا ہے جو زبانی یا عملی طور پر آخرت کا انکار کرتا ہے۔ جو آخرت کا انکار کرتا ہے وہ قولاً یا فعلاً سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو محض شغل کے طور پر پیدا کیا ہے۔ آخرت کا انکار کرنے اور کائنات کو شغل قرار دینے والوں کو سمجھانے کے لیے ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے انہیں شغل کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ زمین و آسمانوں کے درمیان جو کچھ پیدا کیا گیا ہے یا آئندہ پیدا کیا جائے گا اس کا ایک مقصد ہے لیکن لوگوں کی اکثریت اس مقصد کی طرف متوجہ نہیں ہوتی۔ سورة الانبیاء آیت 16 میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے زمین و آسمانوں کو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 41 : یَوْمَ لَا یُغْنِیْ مَوْلًی عَنْ مَّوْلًی (جس دن کوئی تعلق والا دوسرے تعلق والے کے کام نہ آئے گا) مولی یہاں ولیٌ کے معنی میں ہے کوئی دوستی وتعلق والا کسی کے بھی کام نہ آئے گا۔ شَیْئًا (ذرا بھر) ذرا بھر کام آنا یعنی بہت معمولی سا۔ وَّلَا ہُمْ یُنْصَرُوْنَ (اور نہ ان کی مدد کی جائے گی) : ہم کی ضمیر موالی کی طرف لوٹ رہی ہے۔ کیونکہ وہ کثیر کے معنی میں ہے۔ اس لئے کہ لفظ میں ابہام ہے۔ اور ہر تعلق کو شامل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

40، ان یوم الفصل، جس دن رحمن بندوں کے درمیان فیصلہ کریں گے ۔ ، میقاتھم اجمعین، قیامت کے دن اگلوں پچھلوں کو پورابدلہ دیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 37–50

37۔ 50۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تبع کی قوم کو برا فرمایا خاص تبع کو برا نہیں فرمایا معتبر سند سے مسند 1 ؎ امام احمد اور طبرانی میں سہل ؓ بن سعد سے روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تبع کو برا نہ کہو تبع مسلمان ہوگیا تھا اور نیک آدمی تھا 2 ؎ عبد الرزاق وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے جو روایت ہے کہ حضرت ﷺ نے فرمایا مجھ کو معلوم نہیں تبع ملعون شخص تھا یا اچھا ‘ اس روایت پر دارقطنی اور علما نے اعتراض کیا ہے حاصل یہ ہے کہ حشر کے انکار کے سبب سے پہلی قومیں جو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوئیں اگر یہ قریش ان کے سے کام کریں گے تو ان کا بھی وہی انجام ہوگا ‘ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 38–42

آیت 38 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ اور حکمت تامہ کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو کھیل تماشے کے طور پر، عبث اور بےفائدہ پیدا نہیں کیا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حق کے ساتھ پیدا کیا، ان کا پیدا کرنا ہی حق ہے اور ان کی پیدائش حق ہی پر مشتمل ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو اس لئے وجود بخشا ہے تاکہ وہ اللہ واحد کی عبادت کریں تاکہ وہ اپنے بندوں کو حکم دے اور منع کرے، ان کو ثواب عطا کرے اور سزا دے۔ (ولکن اکثرھم لایعلمون) ” لیکن ان سب میں سے اکثر نہیں جانتے۔ “ اس لئے انہوں نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں کبھی غور و فکر نہیں کیا۔ (ان یوم الفصل) ” بیشک فیصلے کا دن “…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 40–42

46 قیامت کے روز کی سرفرازی رحمت خداوندی ہی کے نتیجے میں : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ نفسی نفسی کے اس یوم عظیم میں نہ کسی کا کوئی عزیز و قریب آسکے گا اور نہ ہی ان کی کہیں اور سے کوئی مدد کی جائے گی سوائے ان لوگوں کے جن پر اللہ اپنا فضل و کرم فرمایا ہوگا۔ یعنی وہ مومن مخلص جس کو ایمان اور عمل صالح کی توفیق ملی ہوگی کہ ان کو سفارش کرنے کی اور ان کے لئے بوقت ضرورت سفارش کئے جانے کی اجازت ہوگی۔ مگر وہ بھی جس کو اجازت ملے اور جس کے لئے ملے ۔ { اِلا مَنْ اَذِنَ لَہ الرَّحْمٰنُ وَرَضِیَ لَہٗ قَوْلا } ۔ (طٰہٓ: 109) ۔ سو فیصلہ اور جزا کے اس دن فائز المرامی بس انہی لوگوں کو نصیب ہوگی جن پر اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 38–42

زمین و آسمان اور انسان کی پیدائش کا ایک مقصد ہے، کھیل نہیں تشریح : یہاں انسان کی پیدائش کو معمولی اور فضول کھیل سے بلند ایک با مقصد تخلیق قرار دیا جا رہا ہے۔ کفار جو اس زندگی کو صرف عیش و عشرت تک ہی محدود سمجھتے ہیں کہ بس مرگئے تو قصہ ختم مگر اللہ تعالیٰ نے بار بار اس بات کی وضاحت کی ہے کہ تمہاری زندگی کا ایک ایک لمحہ نوٹ کیا جا رہا ہے اس لیے کہ جب مرنے کے بعد تم دوبارہ زندہ کر کے اللہ کے سامنے اپنے نامہ اعمال کے ساتھ پیش کئے جاؤ گے تو پھر تمہیں اپنی زندگی کا مقصد معلوم ہوجائے گا۔ سائنس دان جب کائنات کی تحقیق میں کچھ تھوڑا بہت کامیاب ہوئے تو ان کو معلوم ہوگیا کہ کائنات میں حیرت انگیز طور پر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 30–42

آیات 30 تا 42۔ اسرار ومعارف۔ اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے اس عذاب سے جس میں فرعون نے انہیں مبتلا کررکھا تھا نجات دی ، کہ فرعون بہت ہی سرکش تھا اور تمام حدود عبور کرجانے والوں میں سے تھا ، نیز ہم نے انہیں اپنے علم کے مطابق اس دور کے تمام لوگوں پہ فضیلت بخشی اور ہم نے انہیں اپنی عظمت کی نشانیاں عطا کیں۔ مادی اور ظاہری بھی کہ فرعون سے نجات اور باطنی بھی علوم نبوت اور معجزات کا ظہور جو اللہ کی طرف سے انعام بھی تھیں اور آزمائش کا سبب بھی۔ یہ لوگ ان اقوام کے حالات سے سبق حاصل نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ صرف یہی دنیا کی زندگی ہے اور یہی ایک بات موت ہے ہمیں دوبارہ زندہ نہیں ہوناچاہیے ، اور دلیل یہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 13 جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا : فاذا الفخ فی الصور فلا انساب بینھم یومئذ ولا یتسآء لون اور جس دن صور پھونکا جائے گا تو ان میں کوئی نسب نہیں ہوں گے اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے۔ (مومنون :110) 14 یعنی نہ ان کو رشتہ داروں اور دوستوں اور نہ کسی اور سے کوئی مدد مل سکے گی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(44:41) یوم لا یغنی : بدل من یوم الفصل : یوم الفصل سے بدل ہے۔ لایغنی مضارع منفی۔ واحد مذکر غائب۔ اغناء (افعال) مصدر۔ کام نہیں آئے گا۔ مولی : ولی (لفیف مفروق، باب حسب یحسب) مصدر سے اسم مفعول و اسم فاعل ہر دو طرح مستعمل ہے۔ اسم مفرد ہے اس کی جمع موال ہے بمعنی آقا۔ آزاد کردہ غلام ، غلام کا آزاد کرنے والا۔ مددگار۔ انعام دینے والا۔ جس کو انعام دیا جائے۔ ساتھی۔ دوست۔ رفیق۔ پڑوسی۔ حلیف۔ پیرو۔ قاضی۔ لایغنی مولی عن مولی۔ کوئی دوست کسی دوست کے کام نہ آسکے گا۔ شیئا ذرا بھر بھی۔ کچھ بھی۔ کسی قسم کا فائدہ خواہ عطاء منفعت کی شکل میں ہو یا دفع مضرت کی صورت میں ۔ ولا ہم ینصرون۔ مضارع منفی مجہول مذکر غائب ۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 34–42

لغات القرآن آیت نمبر 34 تا 42 : منشرین (دوبارہ اٹھنے والے) میقات ( مقررہ وقت) لا یغنی (کام نہ آئے گا) مولی ( ساتھی ، دوست) تشریح : آیت نمبر 34 تا 42 : جس طرح نمرود ، فرعون ، قیصر و کسریٰ مختلف ملکوں کے بادشاہوں کے لقب تھے اسی طرح قبیلہ حمیر کے بادشاہ کا لقب تبع تھا۔ تبع نام کے بہت سے بادشاہ گزرے ہیں ، چونکہ حجاز سے قریب تر علاقے ملک یمن اور سباپر قوم تبع کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے دو ڈھائی سو سال پہلے اور نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی پیدائش سے تقریباً سات سو سال پہلے حکمرانی کا موقع ملا تھا اس لئے عرب میں قوم تبع کا کا فی چرچا تھا اور جزریۃ العرب کے لوگ تبع اور قوم تبع سے اچھی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 37–42

(ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تبع کی قوم کو برا فرمایا خاص تبع کو برا نہیں فرمایا۔ معتبر سند سے مسند امام احمد ، اور طبرانی میں ہے کہ تبع حمیری بادشاہ یمن صاحب ایمان تھے جو نوسو برس پہلے نبی کی پیدائش سے حضور پر ایمان لائے تھے ان کا نام اسعد بن ملکی کرب تھا اور کنیت ، ابوکرب ، مسلمان تھے بزرگ تھے اور ان کی قوم کافر تھی جو نہایت قوی زورآور اور کثیر التعداد تھی، حاصل یہ ہے کہ ان کے کفر کے باعث اور حشر کے انکار کے سبب سے پہلی کافر قوم میں جو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوئیں اگر یہ مشرکین ان کے سے کام کریں گے توا کا بھی وہی انجام ہوگا دنیا میں اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور انسان کی ضرورت ک لیے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 38–57

حل لغات :۔ بلوء ۔ آزمائش ۔ انعام ۔ ہم نے کائنات کو بلا مقصد نہیں پیدا کیا 1: مادیت کا نظریہ ہے ۔ کہ یہ کارگاہ حیات کا نتیجہ ہے ۔ محض بخت واخلاق کا اور مجازفۃ وتخمین کا ۔ یہ عالم حیات یونہی بلا کسی غرض اور غایت کے پیدا کردیا گیا ہے یا پیدا ہوگیا ہے ۔ اور اس کی تخلیق میں کسی اخلاقی ۔ نصب العین کو کوئی دخل نہیں ۔ قرآن حکیم اس نظریہ کی مخالفت کرتا ہے اور کہتا ہے ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو محض فعل عبث کے طور پر نہیں پیدا کیا ہے ۔ کہ اس کا کچھ مقصد بھی نہ ہو ۔ بلکہ ان کے بنانے میں حکمت ضرور ہے ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ زندگی کی تکمیل ہو ۔ اور انسان کو مواقع دیئے جائیں ۔ کہ وہ آخرت کے لئے تیاری…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(41) جس دن کوئی اپنا کسی اپنے کے کچھ کام نہ آسکے گا اور کوئی رفیق کے ذرا کام نہ آئے گا اور نہ ان کی کوئی مدد کی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 38–42

ف 8۔ وہ کافروں سے انتقام لے گا اور مسلمانوں پر رحمت فرمائے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ دن ایسا ہے کہ کوئی دوست کسی دوست کے کام نہیں آئے گا 14 ؎ (مولی) اسم مفرد ہے جمع اس کی موالی ہے اور اس کے معنی دوست ، کارساز اور حمایتی کے ہیں۔ وہ دن جو آخرت کا دن ہے اس کی پہنچان بتائی جارہی ہے کہ وہ کیسا دن ہوگا فرمایا وہ دن ایسا ہوگا کہ کوئی دوست ، یار ، عزیز و قریب کسی اپنے دوست یار ، عزیز و قریب کے کام نہیں آئے گا اور کسی طرح کا کوئی تعلق کسی سے قائم نہیں رہے گا اور سب کے سب ایک دوسرے سے منہ پھیر جائیں گے۔ اس کی وضاحت عزوہ الوثقی جلد اول سورة البقرہ کی آیت 561 تا 761 میں کردی گئی ہے اور اسی طرح جلد چہارم میں سورة یونس کی آیت 601 ، 701 جلد ششم سورة الحج کی آیت 37 تا 87 بھی ملاحظہ کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 39–42

مَا خَلَقْنَاهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ‌هُمْ لَا يَعْلَمُونَ "We did not create them but with true purpose, yet most of them do not know. (44:39) " In other words, every wise and thinking person should realise that there is a purpose and objective for creating this universe. The heavens and the earth and everything created in them manifest many realities. Examples are: (1) the manifestation of Divine power; (2) the possibility of the Hereafter. Obviously, the Supreme Creator Who drew out such huge bodies from the realm of non-existence into the realm of existence surely has…

Read the full tafseer →