Explained with ayahs 38–42
صور پھونکنے کے بعد
یہاں اللہ عزوجل اپنے عدل کا بیان فرما رہا ہے اور بےفائدہ لغو اور عبث کاموں سے اپنی پاکیزگی کا اظہار فرماتا ہے جیسے اور آیت میں ارشاد ہے کہ ہم نے اپنی مخلوق کو باطل پیدا نہیں کیا ایسا گمان ہماری نسبت صرف ان کا ہے جو کفار ہیں اور جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور ارشاد ہے آیت (افحسبتم انما خلقناکم عبثا وانکم الینا لا ترجعون) الخ، یعنی کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بیکار و عبث پیدا کیا ہے اور تم لوٹ کر ہماری طرف آنے ہی کے نہیں ؟ اللہ حق مالک بلندیوں اور بزرگیوں والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش کریم کا رب ہے فیصلوں کا دن یعنی قیامت کا دن جس دن باری تعالیٰ اپنے بندوں…
Read the full tafseer →سورة الدُّخَان 35
یہ ان کے اس مطالبے کا جواب ہے کہ " اٹھا لاؤ ہمارے باپ دادا کو اگر تم سچے ہو "۔ مطلب یہ ہے کہ زندگی بعد موت کوئی تماشا تو نہیں ہے کہ جہاں کوئی اس سے انکار کرے، فوراً ایک مردہ قبرستان سے اٹھا کر اس کے سامنے لا کھڑا کیا جائے اس کے لیے تو رب العالمین نے ایک وقت مقرر کردیا ہے جب تمام اولین و آخرین کو وہ دوبارہ زندہ کر کے اپنی عدالت میں جمع کرے گا اور ان کے مقدمات کا فیصلہ صادر فرمائے گا۔ تم مانو چاہے نہ مانو، یہ کام بہرحال اپنے وقت مقرر پر ہی ہوگا۔ تم مانو گے تو اپنا ہی بھلا کرو گے، کیونکہ اس طرح قبل از وقت خبردار ہو کر اس عدالت سے کامیاب نکلنے کی تیاری کرسکو گے۔ نہ مانو گے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–42
(آیت) مَا خَلَقْنٰهُمَآ اِلَّا بالْحَقِّ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ (ہم نے ان دونوں یعنی زمین و آسمان کو کسی حکمت ہی سے بنایا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے) مطلب یہ ہے کہ اگر سوچنے سمجھنے والی عقل ہو تو آسمان و زمین اور ان کے اندر جو مخلوقات پیدا کی گئی ہیں وہ سب بہت سے حقائق پر دلالت کرتی ہیں، مثلاً ایک تو قدرت خدا وندی پر۔ دوسرے آخرت کے امکان پر، کیونکہ جس ذات نے ان عظیم اجسام کو عدم سے وجود عطا کیا وہ یقینا اس بات پر بھی قادر ہے کہ انہیں ایک مرتبہ فنا کر کے دوبارہ پیدا کر دے۔ تیسرے جزا و سزا کی ضرورت پر، کیونکہ اگر آخرت کی جزا و سزا نہ ہو تو یہ سارا کارخانہ و جود بیکار ہوجاتا…
Read the full tafseer →ان یوم الفصل میقتھم اجمعین (40)
اس کائنات کے بالحق ہونے کا لازمی تقاضا
یہ اس کائنات کے بالحق ہونے کا لازمی نتیجہ مذکور ہوا ہے کہ یہ بات خدا کے علم، عدل اور اسکی حکمت و رحمت کے بالکل منفای ہے کہ یہ دنیا یوں ہی چلتی رہے یا یوں ہی متام ہوجائے بلکہ ضرور ہے کہ ایک ایسا دن آئے جس دن خدا عدل کی کرسی پر بیٹھے اور ہر ایک کے معاملات کا فیصلہ کرے۔ جنہوں نے حق و راستی کی زندگی بسر کی ہو وہ اس کا صلہ پائیں اور جنہوں نے ظلم و تعددی کا ارتکاب کیا وہ اپنے کئے کی سزا بھگتیں اور وہ دن عدل کامل کے ظہور کا دن ہو کہ کوئی بھی اس سے بچ نہ سکے۔ چھوٹے اور بڑے، امیر اور مامور، شاہ اور گداسب کا انصاف ہو اور ایسا انصاف…
Read the full tafseer →40۔ 1 یعنی وہ اصل مقصد ہے جس کے لئے انسانوں کو پیدا کیا گیا اور آسمان و زمین کی تخلیق کی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–49
12: یعنی دنیا میں تو اپنے آپ کو بڑا صاحب اقتدار اور بڑا با عزت سمجھتا تھا اور اس پر تجھے گھمنڈ تھا، آج اپنی یہ حالت دیکھ لے کہ تکبر، گھمنڈ اور حق کے انکار کا انجام کیا ہوتا ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–42
آیت نمبر 34 تا 42
مشرکین عرب یہ کہتے تھے ، بس ہماری یہی موت ہے ، جس سے ہم دو چار ہوں گے۔ اس کے بعد نہ زندگی ہے اور نہ حشرونشر ہے اور اس کو وہ ” پہلی “ اس معنی میں کہتے تھے کہ حشر ونشر کا جو ڈر اوا ہمیں سنایا جارہا ہے اس سے یہ پہلی ہے۔ وہ یہ کہتے تھے کہ یہی موت ہے اور اس پر سب کچھ ختم ہونے والا ہے۔ کیونکہ ان کے آباء و اجداد بس ایک ہی بار مر گئے۔ اور ان میں سے کوئی بھی اس جہاں میں واپس نہیں آیا۔ نہ کبھی کوئی اٹھایا گیا اور ان کا مطالبہ ہی یہ ہوتا تھا کہ اگر نشو رحق ہے تو لاؤ ہمارے آباء کو۔
لیکن اس مسئلے پر وہ حشر و نشر کی حکمت پر غور نہ کرتے تھے اور یہ بھی محسوس نہ کرتے تھے کہ حشر اور نشر…
Read the full tafseer →8 یعنی اس دن سب کا حساب بیک وقت ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →آیت 40 { اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ مِیْقَاتُہُمْ اَجْمَعِیْنَ } ”یقینا فیصلے کا دن ان سب کا وقت ِمعین ّہے۔“
Read the full tafseer →30 تیسرا جواب : دوبارہ زندگی کا اصل وقت :۔ یہ بھی کافروں کے مطالبہ کا جواب ہے۔ یعنی اس دن صرف تمہارے باپ دادا ہی زندہ نہیں ہوں گے تمہیں بھی ان کے ساتھ زندہ کیا جائے گا۔ اس وقت مقررہ پر تم سب کو اکٹھا کردیا جائے گا۔ کوئی بھی باقی نہ رہے گا اور تم سب ایک دوسرے کو پہچانتے ہوگے۔ مگر سب اپنی اپنی مصیبت میں گرفتار ہونگے۔ اس دن تمہیں ایسی سب کٹ حجتیاں بھول جائیں گی اور کوئی ایک دوسرے کی مدد کرنے کے قابل ہی نہ رہے گا۔۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
25۔ چناچہ اپنی صفت عزیزیت کے تقاضہ سے کافروں کو خوب مغلوب کرے گا۔ اور صفت رحیمیت کا ظہور اہل ایمان پر پوری طرح فرمائے گا۔ (آیت) ” لایغنی ..... ینصرون “۔ مطلق دنیوی تعلق حشر میں ہرگز کسی ایک کا دوسرے سے کام نہ آئے گا۔ بلکہ اس کی بناء پر کوئی کسی کی مدد تک نہ کرسکے گا۔ (آیت) ” الا من رحم اللہ “۔ اور اللہ کی رحمت کا اثر یہ ظاہر ہوگا کہ وہ کسی مومن کے حق میں شفاعت کا اذن دیدے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–42
آیت نمبر 30 تا 42
ترجمہ : اور بیشک ہم نے (ہی) بنی اسرائیل کو رسواکن سزا سے نجات دی یعنی لڑکوں کے قتل اور عورتوں کو خادمہ بنانے سے، جو فرعون کی طرف سے (ہو رہی) تھی، کہا گیا ہے کہ مِنْ فرعونَ ، عذاب سے تقدیر مضاف کے ساتھ بدل ہے ای من عذاب فرعون اور کہا گیا ہے کہ عزاب سے حال ہے فی الواقع وہ سرکش حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے تھا اور ہم نے بنی اسرائیل کو ہمارے ان کے حالات سے واقف ہونے کی وجہ سے ان کے زمانہ کے عقلاء پر فوقیت دی اور ہم نے ان کو ایسی نشانیاں دیں جن میں صریح انعام تھا یعنی کھلی نعمتیں تھیں، مثلاً دریا کو چیرنا اور من و سلوٰی وغیرہ یہ لوگ یعنی کفار مکہ تو یہی کہتے ہیں، نہیں ہے ایسی…
Read the full tafseer →ان یوم الفصل میقاتھم اجمعین۔ بیشک فیصلے کا دن ان سب کا وقت مقرر ہے ‘
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
(38۔ 40) تو پھر آپ کی قوم ان کی ہلاکت اور ان کے عذاب سے بھی نہیں ڈرتی اور ہم نے تمام مخلوقات کو بےکار نہیں بنایا ہم نے حق قبول کرنے کے لیے بنایا ہے باطل قبول کرنے کے لیے نہیں، مگر مکہ والے نہ اس چیز کو جانتے ہیں اور نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں بیشک مخلوق کے درمیان فیصلہ کے دن ان سب کا وقت مقرر ہے۔
Read the full tafseer →ان یوم الفصل میقاتھم اجمعین : یہ ان کے اس مطالبے کا جواب ہے کہ ”ہمارے باپ دادا کو لے آیا اگر تم سچے ہو۔“ فرمایا ، موت کے بعد زندگی کوئی کھیل نہیں کہ جب کوئی اس کا مطالبہ کرے اسے کوئی مردہ زندہ کر کے دکھا دیا جائے۔ اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک وقت مقرر فرما رکھا ہے جس میں وہ سب کو جمع کر کے ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔
Read the full tafseer →یوما الفصل سے مراد یوم قیامت ہے، اسے یہ نام اس لئے دیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اس دن میں لوگوں کے درمیان فیصلہ فرما دے گا اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (الممتحنہ 3) اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (الروم) یوم الفصل سب کے لئے میقات ہے جس طرح ارشاد فرمایا (النبیائ) یعنی وہ وقت جسے گناہ گار اور نیکو کار کے درمیان تمیز دینے اور فیصلہ کرنے کے لئے بنایا گیا ہے ایک جماعت جنت میں ہوگی اور ایک جماعت جہنم میں ہوگی۔ یہ حد درجہ کی تخدیر اور وعید ہے۔ قراء کے درمیان میقاتھم کو رفع دینے میں کوئی اختلاف نہیں کیونکہ یہ ان کی خبر ہے اور اس کا اسم یوم الفصل ہے۔ نسائی اور فراء نے میقاتھم کو ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
17:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان یوم الفصل میقاتھم اجمعین “ (بلاشبہ فیصلے کا دن ان سب کا مقرر ہے) یعنی جسمانی لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا ان کے اعمال کے مطابق اور اس میں پورا پورا (بدلہ دیا جائے گا) پہلے اور پچھلے لوگوں کو (آیت ) ” یوم لایغنی مولی عن مولی شیئا “ (جس دن کوئی تعلق والا کسی تعلق والے کے ذرا بھی کام نہیں آئے گا) یعنی تعلقات ٹوٹ جائیں گے اس دن اور عہد و پیمان جاتے رہیں گے اور لوگ اپنے اعمال کی طرف لوٹ جائیں گے اور جس نے اس دن خیر کو پالیا تو اس کے ذریعہ وہ سعادت مند ہوگا اور جس نے اس دن شرکو پایا تو اسکے ذریعہ وہ بدبخت ہوگا۔
18:۔…
Read the full tafseer →اِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ [ بیشک فیصلے کا دن ] مِيْقَاتُهُمْ [ ان کا طے شدہ وقت ہے ] اَجْمَعِيْنَ [ سب کے لیے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
قیامت کے دن کوئی کسی کے کام نہ آئے گا
﴿اِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيْقَاتُهُمْ اَجْمَعِيْنَۙ0040 ﴾ (بلاشبہ فیصلوں کا دن ان سب کا وقت مقرر ہے) یہ مانیں یا نہ مانیں بہرحال قیامت اپنے مقررہ وقت پر آجائے گی اور حساب کتاب ہوگا۔ ﴿ يَوْمَ لَا يُغْنِيْ مَوْلًى عَنْ مَّوْلًى شَيْـًٔا وَّ لَا هُمْ يُنْصَرُوْنَۙ0041﴾ اس دن کوئی تعلق والا کسی تعلق والے کو کچھ بھی نفع نہ دے گا اور نہ ان کی مدد کی جائے گی ﴿ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ اللّٰهُ 1ؕ﴾ ہاں مگر جس پر اللہ رحم فرمائے۔ اہل ایمان کا تعلق ایک دوسرے کو نفع دے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے گا آپس میں ایک دوسرے کی سفارش کردیں گے ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِيْزُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–59
تہدید وتنبیہ از روز قیامت وبیان نجات و کامیابی مومنین ومتقین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان یوم الفصل ...... الی ........ فارتقب انھم مرتقبون “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مجرمین کی سزاؤں اور ان کے عبرت ناک انجام کا بیان تھا جس کے بعد ان کے بالمقابل مطیعین کے انعام واکرام کا ذکر فرمایا گیا تو اب اختتام مضمون پر مزید یوم آخرت کی عظمت ومصیبت کا بیان فرماتے ہوئے اہل ایمان وتقوی پر حق تعالیٰ کے جو انعامات ہوں گے ان کا ذکر کیا گیا ،
اور کافر ونافرمان کیسی شدت و تکلیف اور مصیبتوں میں مبتلا ہوں گے اس کو بھی واضح کرتے ہوئے فیصلہ فرمایا گیا کہ اصل کامیابی اور کامرانی حق تعالیٰ پر ایمان لانے اور آنحضرت ﷺ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
24:۔ ” ان یوم الفصل “ یہ تخویف اخروی ہے۔ سب کے حساب کتاب اور جزاء و سزا کے لیے فیصلے کا دن مقرر ہے جس میں حق و باطل اور محق و مبطل کے درمیان آخری فیصلہ کیا جائیگا۔ ” یوم لایغنی مولی الخ “ اس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ بھی کام نہ آسکے گا اور نہ ان کا کوئی حامی و ناصر ہی ہوگا جو انہیں اللہ کے عذاب سے چھڑا سکے۔ البتہ جن پر اللہ تعالیی کی رحمت ہوگی وہ عفو و مغفرت سے یا نیک لوگوں کی شفاعت کے باعث عذاب سے بچ جائیں گے۔ یہ ” ینصرون “ کی ضمیر سے بدل ہے یا استثناء منقطع ہے اور اس سے مراد مؤمنین ہیں الا من رحم اللہ بالعفو و قبول الشفاعۃ فیہ و محلہ الرفع علی البدل من الواو او النصب علی الاستثناء (روح،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–41
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید ، رسالت اور معاد کا مسئلہ سمجھانے کے لئے سابقہ اقوام اور خاص طور پر قوم فرعون کا ذکر کیا۔ پھر اس کے انجام کو بھی بیان کیا جو اس کے غرور وتکبر کی وجہ سے ہوا۔ وہ لوگ خود تو بحر قلزم میں غرق ہوگئے اور اپنے پیچھے ساز و سامان ، باغات ، چشمے ، مملات اور دیگر عیش و عشرت کی اشیاء چھوڑ گئے جن کا وارث اللہ نے دوسرے لوگوں کو بنایا۔ اللہ نے یہ بھی عبرت کے طور پر فرمایا کہ ان ناہنجاروں کی ہلاکت پر ارض و سمانہ رونے یعنی انہوں نے کوئی افسوس نہ کیا۔ جب ان لوگوں پر گرفت آئی تو پھر انہیں سنبھلنے کی مہلت بھی نہ ملی۔ اس سے حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کی تسلی بھی مطلوب…
Read the full tafseer →اِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيْقَاتُہُمْ اَجْمَعِيْنَ 40 ۙ
فصل ( جدا)
الفَصْلُ : إبانة أحد الشّيئين من الآخر : حتی يكون بينهما فرجة، ومنه قيل : المَفَاصِلُ ، الواحد مَفْصِلٌ ، قال تعالی: وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ قالَ أَبُوهُمْ [يوسف/ 94] ، ويستعمل ذلک في الأفعال والأقوال نحو قوله : إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقاتُهُمْ أَجْمَعِينَ [ الدخان/ 40]
(ص ل ) الفصل
کے معنی دوچیزوں میں سے ایک کو دوسری سے اسی طرح علیحدہ کردینے کے ہیں کہ ان کے درمیان فاصلہ ہوجائے اسی سے مفاصل ( جمع مفصل ) ہے جس کے معنی جسم کے جوڑ کے ہیں . قرآن میں ہے : وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ قالَ أَبُوهُمْ [يوسف/ 94] اور جب قافلہ ( مصر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–42
ترکیب : من فرعون بدل من العذاب علی حذف المضاف ای من عذابہ وقیل لاحاجۃ الی الحذف لان فرعون فی نفسہ کان عذابا مہینالافراطہ فی تعذیب بنی اسرائیل قرء ابن عباس ؓ من فرعون فیکون استفہاما انہ کان الخ جو ابہ مافیہ الخ مفعول ثان لاتینا۔
تفسیر : ولقد نجینا یہ بیان سابق کا تتمہ ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو سخت عذاب سے نجات دی جو فرعون سرکش کے ہاتھ سے ان پر ہوا کرتا تھا اور صرف مصیبت ہی دفع نہیں کی بلکہ ذلت کے بدلے ان کو عزت دی۔ یہ ہیں اخترناھم علی العالمین کے معنی اور مصیبت کے بدلہ بڑی نعمتیں دیں کہ جن میں ان کی آزمائش تھی اور وہ نعماء خدا کی نشانیاں تھیں جیسا کہ قلزم سے پاراتارنا ‘ من وسلویٰ ‘ پانی کا…
Read the full tafseer →اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ مِیْقَاتُھُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ (الدخان : 40)
(ان سب کے اٹھائے جانے کے لیے طے شدہ وقت فیصلے کا دن ہے۔ )
مشرکین کی دلیل کا جواب
قیامت کے منکرین نے سب سے بڑی دلیل یہ پیش کی تھی کہ اگر واقعی قیامت برحق ہے تو پھر تم ہمارے مرحوم بزرگوں میں سے کسی کو زندہ کرکے اٹھا لائو تو ہم مان لیں گے کہ اگر ایک شخص زندہ ہوسکتا ہے تو ساری نوع انسانی بھی زندہ ہوسکتی ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ زندگی بعد موت کوئی تماشا نہیں ہے کہ جہاں کوئی اس سے انکار کرے تو فوراً ایک مردہ قبرستان سے اٹھا کر اس کے سامنے لا کھڑا کیا جائے۔ وہ دن تو اللہ تعالیٰ کے عدل کے ظہور کا دن ہوگا۔ تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
فہم القرآن
ربط کلام : جرائم میں وہی شخص آگے بڑھتا ہے جو زبانی یا عملی طور پر آخرت کا انکار کرتا ہے۔ جو آخرت کا انکار کرتا ہے وہ قولاً یا فعلاً سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو محض شغل کے طور پر پیدا کیا ہے۔
آخرت کا انکار کرنے اور کائنات کو شغل قرار دینے والوں کو سمجھانے کے لیے ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے انہیں شغل کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ زمین و آسمانوں کے درمیان جو کچھ پیدا کیا گیا ہے یا آئندہ پیدا کیا جائے گا اس کا ایک مقصد ہے لیکن لوگوں کی اکثریت اس مقصد کی طرف متوجہ نہیں ہوتی۔ سورة الانبیاء آیت 16 میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے زمین و آسمانوں کو…
Read the full tafseer →آیت 40 : اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ (بیشک فیصلہ کا دن) باطل پرست اور حق پرور کے درمیان وہ قیامت ہی کا دن ہے۔ مِیْقَاتُہُمْ اَجْمَعِیْنَ (ان سب کا وقت مقرر ہے) ان تمام کے وعدہ کا وقت ہے۔
Read the full tafseer →39، ماخلقناھما الابالحق، کہا گیا یعنی حق کے لیے اور وہ فرمانبرداری پر ثواب دینا اور نافرمانی پر سزادینا ہے۔ ، ولکن اکثرھم لایعلمون،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–50
37۔ 50۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تبع کی قوم کو برا فرمایا خاص تبع کو برا نہیں فرمایا معتبر سند سے مسند 1 ؎ امام احمد اور طبرانی میں سہل ؓ بن سعد سے روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تبع کو برا نہ کہو تبع مسلمان ہوگیا تھا اور نیک آدمی تھا 2 ؎ عبد الرزاق وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے جو روایت ہے کہ حضرت ﷺ نے فرمایا مجھ کو معلوم نہیں تبع ملعون شخص تھا یا اچھا ‘ اس روایت پر دارقطنی اور علما نے اعتراض کیا ہے حاصل یہ ہے کہ حشر کے انکار کے سبب سے پہلی قومیں جو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوئیں اگر یہ قریش ان کے سے کام کریں گے تو ان کا بھی وہی انجام ہوگا ‘ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
آیت 38
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ اور حکمت تامہ کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو کھیل تماشے کے طور پر، عبث اور بےفائدہ پیدا نہیں کیا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حق کے ساتھ پیدا کیا، ان کا پیدا کرنا ہی حق ہے اور ان کی پیدائش حق ہی پر مشتمل ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو اس لئے وجود بخشا ہے تاکہ وہ اللہ واحد کی عبادت کریں تاکہ وہ اپنے بندوں کو حکم دے اور منع کرے، ان کو ثواب عطا کرے اور سزا دے۔ (ولکن اکثرھم لایعلمون) ” لیکن ان سب میں سے اکثر نہیں جانتے۔ “ اس لئے انہوں نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں کبھی غور و فکر نہیں کیا۔ (ان یوم الفصل) ” بیشک فیصلے کا دن “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
46 قیامت کے روز کی سرفرازی رحمت خداوندی ہی کے نتیجے میں : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ نفسی نفسی کے اس یوم عظیم میں نہ کسی کا کوئی عزیز و قریب آسکے گا اور نہ ہی ان کی کہیں اور سے کوئی مدد کی جائے گی سوائے ان لوگوں کے جن پر اللہ اپنا فضل و کرم فرمایا ہوگا۔ یعنی وہ مومن مخلص جس کو ایمان اور عمل صالح کی توفیق ملی ہوگی کہ ان کو سفارش کرنے کی اور ان کے لئے بوقت ضرورت سفارش کئے جانے کی اجازت ہوگی۔ مگر وہ بھی جس کو اجازت ملے اور جس کے لئے ملے ۔ { اِلا مَنْ اَذِنَ لَہ الرَّحْمٰنُ وَرَضِیَ لَہٗ قَوْلا } ۔ (طٰہٓ: 109) ۔ سو فیصلہ اور جزا کے اس دن فائز المرامی بس انہی لوگوں کو نصیب ہوگی جن پر اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
زمین و آسمان اور انسان کی پیدائش کا ایک مقصد ہے، کھیل نہیں
تشریح : یہاں انسان کی پیدائش کو معمولی اور فضول کھیل سے بلند ایک با مقصد تخلیق قرار دیا جا رہا ہے۔ کفار جو اس زندگی کو صرف عیش و عشرت تک ہی محدود سمجھتے ہیں کہ بس مرگئے تو قصہ ختم مگر اللہ تعالیٰ نے بار بار اس بات کی وضاحت کی ہے کہ تمہاری زندگی کا ایک ایک لمحہ نوٹ کیا جا رہا ہے اس لیے کہ جب مرنے کے بعد تم دوبارہ زندہ کر کے اللہ کے سامنے اپنے نامہ اعمال کے ساتھ پیش کئے جاؤ گے تو پھر تمہیں اپنی زندگی کا مقصد معلوم ہوجائے گا۔ سائنس دان جب کائنات کی تحقیق میں کچھ تھوڑا بہت کامیاب ہوئے تو ان کو معلوم ہوگیا کہ کائنات میں حیرت انگیز طور پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–42
آیات 30 تا 42۔
اسرار ومعارف۔
اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے اس عذاب سے جس میں فرعون نے انہیں مبتلا کررکھا تھا نجات دی ، کہ فرعون بہت ہی سرکش تھا اور تمام حدود عبور کرجانے والوں میں سے تھا ، نیز ہم نے انہیں اپنے علم کے مطابق اس دور کے تمام لوگوں پہ فضیلت بخشی اور ہم نے انہیں اپنی عظمت کی نشانیاں عطا کیں۔ مادی اور ظاہری بھی کہ فرعون سے نجات اور باطنی بھی علوم نبوت اور معجزات کا ظہور جو اللہ کی طرف سے انعام بھی تھیں اور آزمائش کا سبب بھی۔
یہ لوگ ان اقوام کے حالات سے سبق حاصل نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ صرف یہی دنیا کی زندگی ہے اور یہی ایک بات موت ہے ہمیں دوبارہ زندہ نہیں ہوناچاہیے ، اور دلیل یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
ف 12 یعنی قیامت ہی کے دن سب کو زندہ کر کے فیصلہ کے لئے جمع کیا جائے گا۔ اس سے پہلے کسی کو زندہ کر کے سامنے لانا اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف ہے۔
Read the full tafseer →(44:40) یوم الفصل : یوم منصوب بوجہ عمل ان، یوم مضاف الفصل مضاف الیہ فیصلے کا دن۔ قیامت کا دن۔ حق کو باطل سے جدا کرنے کا دن۔ الفصل (باب ضرب) مصدر۔ ایک چیز کو دوسری چیز سے علیحدہ کرنا۔ ممیز کرنا۔ فاصلہ کرنا۔
یہاں بمعنی فصل الحق عن الباطل والمحق عن الباطل بالجزاء او فصل الشخص عن احبابہ وذوی قرابتہ۔ یعنی جس دن حق اور باطل میں تمیز کی جائے گی سچوں اور جھوٹوں کو الگ کیا جائے گا۔ یا لوگوں کو اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے جدا کیا جائے گا۔
میثاقھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ میقات اسم ظرف زمان۔ مقرر وقت۔ ان کا مقرر وقت۔
اجمعین۔ سب کے سب۔ ہم کی تاکید کے لئے آیا ہے۔ وہ سب کے سب ، ان سب کا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–42
لغات القرآن آیت نمبر 34 تا 42 : منشرین (دوبارہ اٹھنے والے) میقات ( مقررہ وقت) لا یغنی (کام نہ آئے گا) مولی ( ساتھی ، دوست)
تشریح : آیت نمبر 34 تا 42 : جس طرح نمرود ، فرعون ، قیصر و کسریٰ مختلف ملکوں کے بادشاہوں کے لقب تھے اسی طرح قبیلہ حمیر کے بادشاہ کا لقب تبع تھا۔ تبع نام کے بہت سے بادشاہ گزرے ہیں ، چونکہ حجاز سے قریب تر علاقے ملک یمن اور سباپر قوم تبع کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے دو ڈھائی سو سال پہلے اور نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی پیدائش سے تقریباً سات سو سال پہلے حکمرانی کا موقع ملا تھا اس لئے عرب میں قوم تبع کا کا فی چرچا تھا اور جزریۃ العرب کے لوگ تبع اور قوم تبع سے اچھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
(ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تبع کی قوم کو برا فرمایا خاص تبع کو برا نہیں فرمایا۔ معتبر سند سے مسند امام احمد ، اور طبرانی میں ہے کہ تبع حمیری بادشاہ یمن صاحب ایمان تھے جو نوسو برس پہلے نبی کی پیدائش سے حضور پر ایمان لائے تھے ان کا نام اسعد بن ملکی کرب تھا اور کنیت ، ابوکرب ، مسلمان تھے بزرگ تھے اور ان کی قوم کافر تھی جو نہایت قوی زورآور اور کثیر التعداد تھی، حاصل یہ ہے کہ ان کے کفر کے باعث اور حشر کے انکار کے سبب سے پہلی کافر قوم میں جو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوئیں اگر یہ مشرکین ان کے سے کام کریں گے توا کا بھی وہی انجام ہوگا دنیا میں اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور انسان کی ضرورت ک لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
[12] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة صافات حاشیہ 31 صفحہ 9701۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–57
حل لغات :۔ بلوء ۔ آزمائش ۔ انعام ۔
ہم نے کائنات کو بلا مقصد نہیں پیدا کیا
1: مادیت کا نظریہ ہے ۔ کہ یہ کارگاہ حیات کا نتیجہ ہے ۔ محض بخت واخلاق کا اور مجازفۃ وتخمین کا ۔ یہ عالم حیات یونہی بلا کسی غرض اور غایت کے پیدا کردیا گیا ہے یا پیدا ہوگیا ہے ۔ اور اس کی تخلیق میں کسی اخلاقی ۔ نصب العین کو کوئی دخل نہیں ۔ قرآن حکیم اس نظریہ کی مخالفت کرتا ہے اور کہتا ہے ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو محض فعل عبث کے طور پر نہیں پیدا کیا ہے ۔ کہ اس کا کچھ مقصد بھی نہ ہو ۔ بلکہ ان کے بنانے میں حکمت ضرور ہے ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ زندگی کی تکمیل ہو ۔ اور انسان کو مواقع دیئے جائیں ۔ کہ وہ آخرت کے لئے تیاری…
Read the full tafseer →(40) بلا شبہ وہ فیصلے کا دن ان سب لوگوں کے وعدے کا وقت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
ف 8۔ وہ کافروں سے انتقام لے گا اور مسلمانوں پر رحمت فرمائے گا۔
Read the full tafseer →ان سب کے اٹھائے جانے کے لیے طے شدہ وقت فیصلے کا دن ہے
04 ؎ فرمایا جارہا ہے کہ جو تم لوگوں نے ایک ہی رٹ لگارکھی ہے کہ اگر قیامت کے روز اٹھایا جانا حق ہے تو ابھی ہمارے آبائو اجداد کو ہمارے سامنے زندہ کرکے لے آئو تو تمہارا کیا خیال ہے کہ زندگی اور موت کوئی کھیل اور تماشا ہے کہ جب چاہا مرگئے اور جب چاہا زندہ ہوگئے اور جونہی کسی نے اس دوبارہ زندگی سے انکار کیا تو جھٹ اس کے سامنے دوچار مردے لاکرکھڑے کردئیے تم لوگ کیسی بچوں کی سی باتیں کرتے ہو اس دوبارہ زندگی کے لیے تو ایک دن مقرر کیا گیا ہے جس دن سب کے سب مرنے والوں کو اٹھا کردیا جائے گا اور کوئی نہیں جو اس فیصلہ شدہ دن کو دوبارہ اٹھنے سے انکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–42
مَا خَلَقْنَاهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ "We did not create them but with true purpose, yet most of them do not know. (44:39) " In other words, every wise and thinking person should realise that there is a purpose and objective for creating this universe. The heavens and the earth and everything created in them manifest many realities. Examples are: (1) the manifestation of Divine power; (2) the possibility of the Hereafter. Obviously, the Supreme Creator Who drew out such huge bodies from the realm of non-existence into the realm of existence surely has…
Read the full tafseer →35 This is the answer to their demand: "Bring back our forefathers if you are truthful." It means: 'Life-after-death is not a trivial matter; it cannot be that whenever somebody denies it, a dead person may he raised immediately from the graveyard and presented before him. For it a time has been fixed by the Lord of the worlds, when He will resurrect to life all the former and the latter generations, gather them together in His Court and will decide their cases. You may believe in it or may not, but this will in any case happen on its own pre ordained time. If you believe in it, it will be to…
Read the full tafseer →