Explained with ayahs 38–42
صور پھونکنے کے بعد
یہاں اللہ عزوجل اپنے عدل کا بیان فرما رہا ہے اور بےفائدہ لغو اور عبث کاموں سے اپنی پاکیزگی کا اظہار فرماتا ہے جیسے اور آیت میں ارشاد ہے کہ ہم نے اپنی مخلوق کو باطل پیدا نہیں کیا ایسا گمان ہماری نسبت صرف ان کا ہے جو کفار ہیں اور جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور ارشاد ہے آیت (افحسبتم انما خلقناکم عبثا وانکم الینا لا ترجعون) الخ، یعنی کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بیکار و عبث پیدا کیا ہے اور تم لوٹ کر ہماری طرف آنے ہی کے نہیں ؟ اللہ حق مالک بلندیوں اور بزرگیوں والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش کریم کا رب ہے فیصلوں کا دن یعنی قیامت کا دن جس دن باری تعالیٰ اپنے بندوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
سورة الدُّخَان 34
یہ ان کے اعتراض کا دوسرا جواب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی حیات بعد الموت اور آخرت کی جزا و سزا کا منکر ہے وہ دراصل اس کارخانہ عالم کو کھلونا اور اس کے خالق کو نادان بچہ سمجھتا ہے، اسی بناء پر اس نے یہ رائے قائم کی ہے کہ انسان دنیا میں ہر طرح کے ہنگامے برپا کر کے ایک روز بس یونہی مٹی میں رل مل جائے گا اور اس کے کسی اچھے یا برے کام کا کوئی نتیجہ نہ نکلے گا۔ حالانکہ یہ کائنات کسی کھلنڈرے کی نہیں بلکہ ایک خالق حکیم کی بنائی ہوئی ہے اور کسی حکیم سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی ہے کہ وہ فعل عبث کا ارتکاب کرے گا۔ انکار آخرت کے جواب میں یہ استدلال قرآن مجید میں متعدد مقامات پر کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–42
(آیت) مَا خَلَقْنٰهُمَآ اِلَّا بالْحَقِّ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ (ہم نے ان دونوں یعنی زمین و آسمان کو کسی حکمت ہی سے بنایا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے) مطلب یہ ہے کہ اگر سوچنے سمجھنے والی عقل ہو تو آسمان و زمین اور ان کے اندر جو مخلوقات پیدا کی گئی ہیں وہ سب بہت سے حقائق پر دلالت کرتی ہیں، مثلاً ایک تو قدرت خدا وندی پر۔ دوسرے آخرت کے امکان پر، کیونکہ جس ذات نے ان عظیم اجسام کو عدم سے وجود عطا کیا وہ یقینا اس بات پر بھی قادر ہے کہ انہیں ایک مرتبہ فنا کر کے دوبارہ پیدا کر دے۔ تیسرے جزا و سزا کی ضرورت پر، کیونکہ اگر آخرت کی جزا و سزا نہ ہو تو یہ سارا کارخانہ و جود بیکار ہوجاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
اھم خیرام قوم تبع والذین من قبلھم اھلکنھم انھم کانوا مجرمین (37)
قوم تبع سے مراد تبابعہ یمن ہیں جن کی ماذی شوتک و عظمت اور ذہنی صلاحیتوں کی عرب میں بڑی شہرت رہی ہے۔ عرب شعراء ان کی عظمت کا چرچا بہت کرتے ہیں۔
قوموں پر جب خدا کا عذاب آتا ہے تو وہ اپنے ہی اسلحہ سے خودکشی
قرآن نے قریش کے مذکورہ بالا مطالبہ کے جواب میں ان سے یہ سوال کیا ہے کہ وہ تائیں کہ مادی شان و شوکت اور ذہنی و عقلی صلاحیتوں کے اعتبار سے وہ برتر ہیں یا تبابعہ برتر تھے ؟ اگر وہ برتر تھے اور اس برتری کے باوجود خدا نے ان کو تباہ کردیا، نہ ان کے مادی قوت و وصولت ہی خدا کی پکڑ سے ان کو بچاسکی نہ ان کی ذہانت ہی ان کے کچھ کام آئی تو…
Read the full tafseer →39۔ 1 یعنی وہ اس مقصد سے غافل اور بیخبر ہیں۔ اسی لئے آخرت کی تیاری سے لا پروا ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
11: اگر آخرت کا انکار کردیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ایسا دن آنے والا نہیں ہے جس میں نیک لوگوں کو انعام اور ظالموں کو سزا دی جائے، اور اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات (معاذ اللہ) یونہی بےفائدہ کھیل کے طور پر پیدا کردی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–42
آیت نمبر 34 تا 42
مشرکین عرب یہ کہتے تھے ، بس ہماری یہی موت ہے ، جس سے ہم دو چار ہوں گے۔ اس کے بعد نہ زندگی ہے اور نہ حشرونشر ہے اور اس کو وہ ” پہلی “ اس معنی میں کہتے تھے کہ حشر ونشر کا جو ڈر اوا ہمیں سنایا جارہا ہے اس سے یہ پہلی ہے۔ وہ یہ کہتے تھے کہ یہی موت ہے اور اس پر سب کچھ ختم ہونے والا ہے۔ کیونکہ ان کے آباء و اجداد بس ایک ہی بار مر گئے۔ اور ان میں سے کوئی بھی اس جہاں میں واپس نہیں آیا۔ نہ کبھی کوئی اٹھایا گیا اور ان کا مطالبہ ہی یہ ہوتا تھا کہ اگر نشو رحق ہے تو لاؤ ہمارے آباء کو۔
لیکن اس مسئلے پر وہ حشر و نشر کی حکمت پر غور نہ کرتے تھے اور یہ بھی محسوس نہ کرتے تھے کہ حشر اور نشر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
7 یعنی اتنا بڑا کارخانہ کوئی کھیل تماشا نہیں۔ بلکہ بڑی حکمت سے بنایا گیا ہے۔ جس کا نتیجہ ایک دن نکل کر رہے گا۔ وہ ہی نتیجہ آخرت ہے۔
Read the full tafseer →آیت 39 { مَا خَلَقْنٰہُمَآ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ } ”اور ہم نے نہیں بنایا ان دونوں کو مگر حق کے ساتھ ‘ مگر ان لوگوں کی اکثریت علم نہیں رکھتی۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
29 دوسرا عقلی جواب : یہ کائنات بیکار پیدا نہیں کی گئی :۔ یہ کفار مکہ کی اس کٹ حجتی کا عقلی جواب ہے۔ یعنی جو شخص روز آخرت اور اپنے اعمال کی جزا و سزا کا منکر ہے وہ دراصل یہ سمجھتا ہے کہ یہ کارخانہ کائنات بس ایک کھیل تماشا ہی ہے۔ اور اس دنیا میں کوئی شخص جو چاہتا ہے کرتا رہے۔ وہ مر کر مٹی ہوجائے گا اور اسے کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے۔ اور خالق کائنات نے بس یونہی ایک شغل اور کھیل تماشے کے طور پر پیدا کردیا ہے۔ حالانکہ اس کائنات کی ایک ایک چیز میں باہمی ربط، نظم و نسق، انضباط باقاعدگی اور ہر چیز کا کثیر المقاصد اور اسی نسبت سے افادیت سے معمور ہونا اس بات پر کھلی شہادت ہے کہ اس کائنات کا خالق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
24۔ اس میں رد آگیا اس ان ساری جاہلی قوموں کا، جو یہ سمجھتی ہیں کہ یہ ساری کائنات محض ایک تماشہ گاہ ہے۔ اور خالق کائنات کو (نعوذ باللہ) محض ایک میلہ رچانا (تماشہ کرنا) مقصود تھا۔ قرآن مجید اس کی بار بار تردید کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ اس کارخانہ آفرینش سے بڑے بڑے اہم مقصود ہیں ..... اکبر الہی آبادی (رح) کے الفاظ ہیں۔
ع : اکبر اس فطرت خاموش کو بےحس نہ سمجھ، ہاں بصیرت سے تہی دیدۂ نرگس نہ سمجھ۔
(آیت) ” ماخلقنھما الابالحق “۔ یعنی ان کی آفرنیش میں بڑی بڑی غایتیں اور مصلحتیں پنہاں ہیں۔ اور ان میں سے ایک بڑی حکمت قانون مجازات ومکافات کا اجراء ونفاذ ہے۔ (آیت) ” ولکن اکثرھم لایعلمون “۔ کثرت سے لوگ عقیدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–42
آیت نمبر 30 تا 42
ترجمہ : اور بیشک ہم نے (ہی) بنی اسرائیل کو رسواکن سزا سے نجات دی یعنی لڑکوں کے قتل اور عورتوں کو خادمہ بنانے سے، جو فرعون کی طرف سے (ہو رہی) تھی، کہا گیا ہے کہ مِنْ فرعونَ ، عذاب سے تقدیر مضاف کے ساتھ بدل ہے ای من عذاب فرعون اور کہا گیا ہے کہ عزاب سے حال ہے فی الواقع وہ سرکش حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے تھا اور ہم نے بنی اسرائیل کو ہمارے ان کے حالات سے واقف ہونے کی وجہ سے ان کے زمانہ کے عقلاء پر فوقیت دی اور ہم نے ان کو ایسی نشانیاں دیں جن میں صریح انعام تھا یعنی کھلی نعمتیں تھیں، مثلاً دریا کو چیرنا اور من و سلوٰی وغیرہ یہ لوگ یعنی کفار مکہ تو یہی کہتے ہیں، نہیں ہے ایسی…
Read the full tafseer →ما خلقنھما الا بالحق ولکن اکثرھم لا یعلمون نہیں پیدا کیا۔ ہم نے ان دونوں کو کسی حکمت سے ہی بنایا ہے ‘ لیکن یہ لوگ نہیں سمجھتے۔
لٰعِبِیْنَ کھیل کرتے ہوئے ‘ محض بیکار ‘ عبث۔
اوپر کے جملہ میں ضمناً انکار ‘ قیامت کا انکار تھا۔ یہ جملہ پہلے جملہ کے مضمون کی حالت بیان کر رہا ہے۔ تشریحی مطلب اس طرح ہے کہ یہ لوگ قیامت (یعنی آخرت کی جزا و سزا) کا انکار کرتے ہیں ‘ حالانکہ ہم نے زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی چیزیں بیکار ‘ محض کھیل کے طور پر نہیں پیدا کیں ‘ بلکہ ان کی تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ ان کے وجود سے ہماری ذات وصفات پر استدلال کیا جائے اور لوگوں کے اعمال کی جانچ کی جائے۔
اِلاَّ بالْحَقِّ حق کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
(38۔ 40) تو پھر آپ کی قوم ان کی ہلاکت اور ان کے عذاب سے بھی نہیں ڈرتی اور ہم نے تمام مخلوقات کو بےکار نہیں بنایا ہم نے حق قبول کرنے کے لیے بنایا ہے باطل قبول کرنے کے لیے نہیں، مگر مکہ والے نہ اس چیز کو جانتے ہیں اور نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں بیشک مخلوق کے درمیان فیصلہ کے دن ان سب کا وقت مقرر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
وما خلقنا السموت والارض …: یہ منکرین قیامت کے اعتراض کا عقلی جواب ہے کہ اگر سب لوگوں کو زندہ کر کے ان سے باز پرس کا اور نیک و بد کی جزا و سزا کا کوئی دن نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اتنی عظیم کائنات محض کھیلنے کیلئے بنائی ہے، اس کا کوئی مقصد نہیں، اس کے ہاں نیک و بد اور ظالم و مظلوم برابر ہیں، نہ اس کے ہاں عدل ہے نہ حکمت۔ فرمایا ایسا نہیں ہے، ہم نے آسمان و زمین کو حق ہی کے ساتھ پیدا کیا ہے اور قیامت قائم کرنا ہماری حکمت اور عدل کا تقاضا ہے، مگر اکثر لوگ نہیں جانتے، اس لئے آخرت کی تیاری سے غافل ہیں۔ یہ مضمون قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے، دیکھیے سورة انبیاء (16 تا 18)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
ہی مقاتل کا قول ہے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے، لاھین یہ کلبی قول ہے الحق سے پہلے الامر مخذوف ہے، یہ مقاتل کا قول ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ باء لام کے معنی میں ہے، یہ کلبی اور حضرت حسن بصری کا قول ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے حق قائم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی توحید کو ظاہر کرنے کے لئے اور اس کی اطاعت کو لازم پکڑنے کے لئے۔ سورة الانبیاء میں یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔
لوگوں میں سے اکثر اسے نہیں جانتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
1:۔ الطبرانی وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تبع (بادشاہ) کو برا نہ کہو کیونکہ وہ مسلمان ہوگیا تھا۔
2:۔ احمد والطبرانی وابن ابی حاتم وابن مردویہ (رح) نے سہل بن سعدی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تبع کو برا نہ کہو کیونکہ وہ مسلمان ہوچکا تھا۔
3:۔ ابن عساکر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ تم ہر کز تبع کے معاملہ میں شبہ میں نہ پڑو کیونکہ وہ مسلمان تھا۔
4:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ تم تبع کے لئے خیر کے سوا کچھ نہ کہو کیونکہ اس نے بیت اللہ کا حج کیا اور اس کتاب پر ایمان لے آیا تھا جو عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) لائے تھے۔
5:۔…
Read the full tafseer →مَا خَلَقْنٰهُمَآ [ ہم نے نہیں پیدا کیا دونوں کو ] اِلَّا بِالْحَقِّ [ مگر حق کے ساتھ ] وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ [ اور لیکن ان کی اکثریت ] لَا يَعْلَمُوْنَ [ جانتی نہیں ہے ]
Read the full tafseer →﴿مَا خَلَقْنٰهُمَاۤ اِلَّا بالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ 0039﴾ (ہم نے ان دونوں کو حکمت ہی سے بنایا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے) ان کے بنانے میں جو حکمتیں ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ لوگ اس سے ان کے پیدا کرنے والے کی قدرت کاملہ پر استدلال کریں سورة یٰسین میں فرمایا ﴿ اَوَ لَيْسَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ 1 ﷺ ؕ بَلٰى 1ۗ وَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِيْمُ 0081﴾ (کیا وہ ذات جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اس پر قادر نہیں ہے کہ ان کے جسے پیدا فرما دے، ہاں وہ قادر ہے اور بہت پیدا کرنے والا بڑے علم والا ہے۔ )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–39
نجات و کامیابی بنی اسرائیل مع بیان بعث بعد موت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ولقد نجینا بنی ٓ اسرآء یل ....... الی ...... اکثرھم لا یعلمون “۔
(ربط) گزشتہ آیات کا مضمون قوم مجرمین کے عبرت ناک انجام اور فرعون لعین کی ہلاکت اور تباہی کا تھا تو اب ان آیات میں اس کے بالمقابل یہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ حق تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کے ساتھیوں کو کس طرح نجات و کامیابی عطا فرمائی اور اسی کے ساتھ ان دلائل کو بھی ذکر کیا جارہا ہے، جو بعث بعد از موت کو ثابت کرنے والے ہیں، اور ان شبہات اور لغو اعتراضات کو بھی رد کیا گیا، جو منکرین کیا کرتے تھے، ارشاد فرمایا ! اور بیشک ہم نے نجات دی بنی اسرائیل کو ایک ذلت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
24:۔ ” ان یوم الفصل “ یہ تخویف اخروی ہے۔ سب کے حساب کتاب اور جزاء و سزا کے لیے فیصلے کا دن مقرر ہے جس میں حق و باطل اور محق و مبطل کے درمیان آخری فیصلہ کیا جائیگا۔ ” یوم لایغنی مولی الخ “ اس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ بھی کام نہ آسکے گا اور نہ ان کا کوئی حامی و ناصر ہی ہوگا جو انہیں اللہ کے عذاب سے چھڑا سکے۔ البتہ جن پر اللہ تعالیی کی رحمت ہوگی وہ عفو و مغفرت سے یا نیک لوگوں کی شفاعت کے باعث عذاب سے بچ جائیں گے۔ یہ ” ینصرون “ کی ضمیر سے بدل ہے یا استثناء منقطع ہے اور اس سے مراد مؤمنین ہیں الا من رحم اللہ بالعفو و قبول الشفاعۃ فیہ و محلہ الرفع علی البدل من الواو او النصب علی الاستثناء (روح،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–41
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید ، رسالت اور معاد کا مسئلہ سمجھانے کے لئے سابقہ اقوام اور خاص طور پر قوم فرعون کا ذکر کیا۔ پھر اس کے انجام کو بھی بیان کیا جو اس کے غرور وتکبر کی وجہ سے ہوا۔ وہ لوگ خود تو بحر قلزم میں غرق ہوگئے اور اپنے پیچھے ساز و سامان ، باغات ، چشمے ، مملات اور دیگر عیش و عشرت کی اشیاء چھوڑ گئے جن کا وارث اللہ نے دوسرے لوگوں کو بنایا۔ اللہ نے یہ بھی عبرت کے طور پر فرمایا کہ ان ناہنجاروں کی ہلاکت پر ارض و سمانہ رونے یعنی انہوں نے کوئی افسوس نہ کیا۔ جب ان لوگوں پر گرفت آئی تو پھر انہیں سنبھلنے کی مہلت بھی نہ ملی۔ اس سے حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کی تسلی بھی مطلوب…
Read the full tafseer →مَا خَلَقْنٰہُمَآ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَہُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ 39
ما
مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف .
فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع .
فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي
نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] .
الثاني…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–42
ترکیب : من فرعون بدل من العذاب علی حذف المضاف ای من عذابہ وقیل لاحاجۃ الی الحذف لان فرعون فی نفسہ کان عذابا مہینالافراطہ فی تعذیب بنی اسرائیل قرء ابن عباس ؓ من فرعون فیکون استفہاما انہ کان الخ جو ابہ مافیہ الخ مفعول ثان لاتینا۔
تفسیر : ولقد نجینا یہ بیان سابق کا تتمہ ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو سخت عذاب سے نجات دی جو فرعون سرکش کے ہاتھ سے ان پر ہوا کرتا تھا اور صرف مصیبت ہی دفع نہیں کی بلکہ ذلت کے بدلے ان کو عزت دی۔ یہ ہیں اخترناھم علی العالمین کے معنی اور مصیبت کے بدلہ بڑی نعمتیں دیں کہ جن میں ان کی آزمائش تھی اور وہ نعماء خدا کی نشانیاں تھیں جیسا کہ قلزم سے پاراتارنا ‘ من وسلویٰ ‘ پانی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَا لٰعِبِیْنَ ۔ مَاخَلَقْنٰـھُمَـآ اِلاَّ بِالْحَقِّ وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (الدخان : 38، 39)
(آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو ہم نے کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ ہم نے ان کو پیدا نہیں کیا ہے مگر ایک غایت کے ساتھ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں۔ )
آخرت اللہ تعالیٰ کی صفات کا لازمی تقاضا
گزشتہ آیت کریمہ میں اثباتِ قیامت کی دلیل دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ قیامت کا یقین انسان کے اندر صحیح عقیدے اور کردار کے پیدا ہونے کا ضامن ہے۔ اور اگر قیامت کا انکار کردیا جائے تو انسان کو جرائم کے ارتکاب سے روکنے والی کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
فہم القرآن
ربط کلام : جرائم میں وہی شخص آگے بڑھتا ہے جو زبانی یا عملی طور پر آخرت کا انکار کرتا ہے۔ جو آخرت کا انکار کرتا ہے وہ قولاً یا فعلاً سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو محض شغل کے طور پر پیدا کیا ہے۔
آخرت کا انکار کرنے اور کائنات کو شغل قرار دینے والوں کو سمجھانے کے لیے ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے انہیں شغل کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ زمین و آسمانوں کے درمیان جو کچھ پیدا کیا گیا ہے یا آئندہ پیدا کیا جائے گا اس کا ایک مقصد ہے لیکن لوگوں کی اکثریت اس مقصد کی طرف متوجہ نہیں ہوتی۔ سورة الانبیاء آیت 16 میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے زمین و آسمانوں کو…
Read the full tafseer →آیت 39 : مَا خَلَقْنٰہُمَا اِلاَّ بِالْحَقِّ (ہم نے ان دونوں کو کسی حکمت ہی سے بنایا ہے) حق کا معنی مقصد ہے جو کہ عبث کی ضد ہے۔
وَلٰکِنَّ اَکْثَرَہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ (لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے) کہ انسان اس خاطر پیدا کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
37، اھم خیرام قوم تبع، یعنی وہ ان سے بہتر نہیں ہیں یعنی تعداد اور قوت میں قوم تبع سے زیادہ نہیں ہیں۔
قوم تبع کا واقعہ
قتادہ (رح) فرماتے ہیں وہ تبع حمیری ہے اور یہ یمن کے بادشاہوں میں سے تھا۔ اس کا نام تبع اس وجہ سے رکھا گیا کہ اس کے متبعین بہت زیادہ تھے اور ان میں سے ہر بادشاہ کا نام تبع رکھا جاتا تھا۔ اس لیے کہ وہ پہلے کاتابع ہوتا تھا۔ یہ بادشاہ آگ کی پوجا کرتا تھا، اسلالے آیا اور اپنی قوم حمیر کو اسلام کی طرف بلایا۔ انہوں نے اس کو جھٹلایا اور اس کا واقعہ وہ ہے جو محمد بن اسحاق وغیرہ اور عکرمہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے ذکر کیا ہے کہ یہ حضرات فرماتے ہیں کہ یہ تبع الاخر تھا۔ اس کا نام ابوکرب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–50
37۔ 50۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تبع کی قوم کو برا فرمایا خاص تبع کو برا نہیں فرمایا معتبر سند سے مسند 1 ؎ امام احمد اور طبرانی میں سہل ؓ بن سعد سے روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تبع کو برا نہ کہو تبع مسلمان ہوگیا تھا اور نیک آدمی تھا 2 ؎ عبد الرزاق وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے جو روایت ہے کہ حضرت ﷺ نے فرمایا مجھ کو معلوم نہیں تبع ملعون شخص تھا یا اچھا ‘ اس روایت پر دارقطنی اور علما نے اعتراض کیا ہے حاصل یہ ہے کہ حشر کے انکار کے سبب سے پہلی قومیں جو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوئیں اگر یہ قریش ان کے سے کام کریں گے تو ان کا بھی وہی انجام ہوگا ‘ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
آیت 38
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ اور حکمت تامہ کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو کھیل تماشے کے طور پر، عبث اور بےفائدہ پیدا نہیں کیا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حق کے ساتھ پیدا کیا، ان کا پیدا کرنا ہی حق ہے اور ان کی پیدائش حق ہی پر مشتمل ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو اس لئے وجود بخشا ہے تاکہ وہ اللہ واحد کی عبادت کریں تاکہ وہ اپنے بندوں کو حکم دے اور منع کرے، ان کو ثواب عطا کرے اور سزا دے۔ (ولکن اکثرھم لایعلمون) ” لیکن ان سب میں سے اکثر نہیں جانتے۔ “ اس لئے انہوں نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں کبھی غور و فکر نہیں کیا۔ (ان یوم الفصل) ” بیشک فیصلے کا دن “…
Read the full tafseer →45 کائنات کی تخلیق بالحق اور بامقصد : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے تو انکو حق ہی کے ساتھ پیدا کیا ہے "۔ یعنی ہم نے ان کو نہایت بامقصد اور عظیم حکمتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے تاکہ انسان اس کائنات کے عجائبات پر غور کر کے اپنے خالق ومالک کی معرفت حاصل کرے۔ اور پھر صدق دل سے اس پر ایمان لا کر زندگی اس کی اطاعت و فرمانبرداری میں گزارے۔ اور اس طرح وہ اس کی دائمی نعمتوں اور ابدی رحمتوں سے متمتع و مستفید ہو سکے۔ اور جو اس کے برعکس کفر و معصیت کی زندگی گزارے اور انحراف و بغاوت کی راہ کو اپنائے وہ اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا پھل بھرپور طریقے سے پائے تاکہ عدل و انصاف کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
زمین و آسمان اور انسان کی پیدائش کا ایک مقصد ہے، کھیل نہیں
تشریح : یہاں انسان کی پیدائش کو معمولی اور فضول کھیل سے بلند ایک با مقصد تخلیق قرار دیا جا رہا ہے۔ کفار جو اس زندگی کو صرف عیش و عشرت تک ہی محدود سمجھتے ہیں کہ بس مرگئے تو قصہ ختم مگر اللہ تعالیٰ نے بار بار اس بات کی وضاحت کی ہے کہ تمہاری زندگی کا ایک ایک لمحہ نوٹ کیا جا رہا ہے اس لیے کہ جب مرنے کے بعد تم دوبارہ زندہ کر کے اللہ کے سامنے اپنے نامہ اعمال کے ساتھ پیش کئے جاؤ گے تو پھر تمہیں اپنی زندگی کا مقصد معلوم ہوجائے گا۔ سائنس دان جب کائنات کی تحقیق میں کچھ تھوڑا بہت کامیاب ہوئے تو ان کو معلوم ہوگیا کہ کائنات میں حیرت انگیز طور پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–42
آیات 30 تا 42۔
اسرار ومعارف۔
اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے اس عذاب سے جس میں فرعون نے انہیں مبتلا کررکھا تھا نجات دی ، کہ فرعون بہت ہی سرکش تھا اور تمام حدود عبور کرجانے والوں میں سے تھا ، نیز ہم نے انہیں اپنے علم کے مطابق اس دور کے تمام لوگوں پہ فضیلت بخشی اور ہم نے انہیں اپنی عظمت کی نشانیاں عطا کیں۔ مادی اور ظاہری بھی کہ فرعون سے نجات اور باطنی بھی علوم نبوت اور معجزات کا ظہور جو اللہ کی طرف سے انعام بھی تھیں اور آزمائش کا سبب بھی۔
یہ لوگ ان اقوام کے حالات سے سبق حاصل نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ صرف یہی دنیا کی زندگی ہے اور یہی ایک بات موت ہے ہمیں دوبارہ زندہ نہیں ہوناچاہیے ، اور دلیل یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
ف 12 یعنی قیامت ہی کے دن سب کو زندہ کر کے فیصلہ کے لئے جمع کیا جائے گا۔ اس سے پہلے کسی کو زندہ کر کے سامنے لانا اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف ہے۔
Read the full tafseer →(44:39) ما خلقنھما : ما نافیہ۔ ای ما خلقنا السموت والارض وما بینھما۔ یعنی یہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان جملہ مخلوق کو کسی مصلحت اور حکمت کی بنیاد پر پیدا کیا ہے۔
الا بالحق : استثناء مفرغ (جس کا مستثنیٰ منہ مذکور نہ ہو) ۔ حق کے اظہار کے لئے۔ یعنی توحید کو ثابت کرنے اور اطاعت کو واجب کرنے کے لئے تاکہ فرماں بردار کو ثواب اور نافرمان کو عذاب دیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–42
لغات القرآن آیت نمبر 34 تا 42 : منشرین (دوبارہ اٹھنے والے) میقات ( مقررہ وقت) لا یغنی (کام نہ آئے گا) مولی ( ساتھی ، دوست)
تشریح : آیت نمبر 34 تا 42 : جس طرح نمرود ، فرعون ، قیصر و کسریٰ مختلف ملکوں کے بادشاہوں کے لقب تھے اسی طرح قبیلہ حمیر کے بادشاہ کا لقب تبع تھا۔ تبع نام کے بہت سے بادشاہ گزرے ہیں ، چونکہ حجاز سے قریب تر علاقے ملک یمن اور سباپر قوم تبع کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے دو ڈھائی سو سال پہلے اور نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی پیدائش سے تقریباً سات سو سال پہلے حکمرانی کا موقع ملا تھا اس لئے عرب میں قوم تبع کا کا فی چرچا تھا اور جزریۃ العرب کے لوگ تبع اور قوم تبع سے اچھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
(ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تبع کی قوم کو برا فرمایا خاص تبع کو برا نہیں فرمایا۔ معتبر سند سے مسند امام احمد ، اور طبرانی میں ہے کہ تبع حمیری بادشاہ یمن صاحب ایمان تھے جو نوسو برس پہلے نبی کی پیدائش سے حضور پر ایمان لائے تھے ان کا نام اسعد بن ملکی کرب تھا اور کنیت ، ابوکرب ، مسلمان تھے بزرگ تھے اور ان کی قوم کافر تھی جو نہایت قوی زورآور اور کثیر التعداد تھی، حاصل یہ ہے کہ ان کے کفر کے باعث اور حشر کے انکار کے سبب سے پہلی کافر قوم میں جو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوئیں اگر یہ مشرکین ان کے سے کام کریں گے توا کا بھی وہی انجام ہوگا دنیا میں اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور انسان کی ضرورت ک لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
[11] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة انعام حاشیہ 52 صفحہ 823۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–57
حل لغات :۔ بلوء ۔ آزمائش ۔ انعام ۔
ہم نے کائنات کو بلا مقصد نہیں پیدا کیا
1: مادیت کا نظریہ ہے ۔ کہ یہ کارگاہ حیات کا نتیجہ ہے ۔ محض بخت واخلاق کا اور مجازفۃ وتخمین کا ۔ یہ عالم حیات یونہی بلا کسی غرض اور غایت کے پیدا کردیا گیا ہے یا پیدا ہوگیا ہے ۔ اور اس کی تخلیق میں کسی اخلاقی ۔ نصب العین کو کوئی دخل نہیں ۔ قرآن حکیم اس نظریہ کی مخالفت کرتا ہے اور کہتا ہے ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو محض فعل عبث کے طور پر نہیں پیدا کیا ہے ۔ کہ اس کا کچھ مقصد بھی نہ ہو ۔ بلکہ ان کے بنانے میں حکمت ضرور ہے ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ زندگی کی تکمیل ہو ۔ اور انسان کو مواقع دیئے جائیں ۔ کہ وہ آخرت کے لئے تیاری…
Read the full tafseer →(39) اور ہم نے ان دونوں کو نہیں بنایا مگر کمال حکمت کے ساتھ بنایا لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔ یعنی ان دونوں میں بےانتہا مخلوق کے لئے منافع ہیں قدرت کے استدلالات ہیں الوہیت کے دلائل اور توحید کے براہین ہیں اور ایک ٹھیک اندازے پر ہرچیز کو پیدا کیا ہے یہ سارا نظام اس کی توحید پر دال ہے لیکن اکثر لوگ ان امور کو نہیں سمجھتے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں آگے قیامت کے واقعات کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
ف 8۔ وہ کافروں سے انتقام لے گا اور مسلمانوں پر رحمت فرمائے گا۔
Read the full tafseer →بلاشبہ ہم نے ان آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے اگرچہ اکثریت نہیں سمجھتی
93 ؎ جیسا کہ گزشتہ آیت میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ یہ سمجھنے اور نہ سمجھنے کا معاملہ صرف اور صرف انسان سے متعلق ہے اور انسان کی دونوں اصناف اس میں شامل ہیں اور انسانوں کے متعلق خود قرآن کریم نے یہ فیصلہ دے دیا ہے کہ ان کی اکثریت (لایعلمون) ہے اور قرآن کریم نے اس میں ایک اصولی بات بتادی ہے کہ تم جتنا اس پر غور کرتے جائو گے یہ خود بخود واضح ہوتی چلی جائے گی۔ جب سے دنیا پیدا ہوئی اور انسان نے اس دنیا میں قدم رکھا اور اس کی نسل آگے بڑھی اور اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے نبیوں اور رسولوں کا سلسلہ جاری کیا اس وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–42
مَا خَلَقْنَاهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ "We did not create them but with true purpose, yet most of them do not know. (44:39) " In other words, every wise and thinking person should realise that there is a purpose and objective for creating this universe. The heavens and the earth and everything created in them manifest many realities. Examples are: (1) the manifestation of Divine power; (2) the possibility of the Hereafter. Obviously, the Supreme Creator Who drew out such huge bodies from the realm of non-existence into the realm of existence surely has…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
34 This is the second answer to their objection; it means: "Whoever denies life-after-death and the rewards and punishments of the hereafter, in fact, regards this world as a plaything and its Creator as a foolish child. This is why he has formed the view that tnan, after raising aII sorts of the storms in the world, will end up in the dust one day and none of his good or bad acts will bear any fruit. The fact, however, is that this universe is the creation of an AlI-Wise Creator and not of a frivolous being, and it cannot be expected from an AlI-Wise Creator that he would perform a useless…
Read the full tafseer →