Explained with ayahs 17–33
قبطیوں کا انجام
ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کردو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو…
Read the full tafseer →سورة الدُّخَان 29
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول، البقرہ، حواشی 64 تا 85، النساء، حواشی 182 تا 199، المائدہ، حواشی 42 تا 47، جلد دوم الاعراف، حواشی 97 تا 132، جلد سوم، طہ، حواشی 56 تا 74۔
Read the full tafseer →(آیت) وَاٰتَيْنٰهُمْ مِّنَ الْاٰيٰتِ مَا فِيْهِ بَلٰۗــــــؤٌا مُّبِيْنٌ (اور ہم نے ان کو ایسی نشانیاں دیں، جن میں صریح انعام تھا) نشانیوں سے مراد عصا اور ید بیضاء وغیرہ کے معجزات ہیں۔ اور بلو کے دو معنی آتے ہیں، ایک انعام اور دوسرے آزمائش، یہاں دونوں معنی بلاتکلف ممکن ہیں۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →واتینھم من الایت مافیہ بلوآء مبین (33)
بنی اسرائیل کا امتحان انعامات کے ذریعہ سے
بلوآء کے اصل معنی تو امتحان اور جانچ کے ہیں لیکن امتحان نعمت کے ذریعے سے بھی ہوتا ہے در مصیبت کے ذریعے سے بھی۔ نعمت کا امتحان شکر کی جانچ کے لئے ہوتا ہے اور مصیبت کا امتحان صبر و رضا کی جانچ کے لئے۔ یہاں قرینہ دلیل ہے کہ یہ نعمت اور انعام کے مفہوم میں آیا ہے جس طرح الانفال آیت 17 میں بلآء کا لفظ حسناً کی صفت کے ساتھ آیا ہے۔ یہ اشارہ ان انعامات کی طرف ہے جو سمندر سے پار کراتے ہوئے اور اس کے بعد صحرا کی زندگی میں اور فتح فلسطین اور اس کے بعد کے ادوار میں اللہ تعالیٰ نے گوناگوں شکلوں میں بنی اسرائیل پر فرمائے جن کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
34۔ 1 یہ اشارہ کفار مکہ کی طرف ہے۔ اس لئے کہ سلسلہ کلام ان ہی سے متعلق ہے۔ درمیان میں فرعون کا قصہ ان کی تنبیہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–33
9: اس سے مراد وہ انعامات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے بنو اسرائیل پر فرمائے، مثلاً من وسلوی نازل کرنا، پتھر سے چشمے نکال دینا وغیرہ، جن کا ذکر سورة بقرہ : 47 تا 58 میں فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
آیت نمبر 17 تا 33
اس وادی کے دروازے ہی پر یہ خوفناک اعلان لکھا ہوا ہے کہ یاد رکھو ، کسی قوم کی طرف رسول کا بھیجا جانا اس کی آزمائش ہوتی ہے۔ مکذبین کو یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ وقت بہت تھورا ہے ، اس میں تم تکذیب بھی کرسکتے ہو ، تکبر اور غرور بھی کرسکتے ہو۔ رسول کو ایذا بھی دے سکتے ہو ، تکبر اور غرور بھی کرسکتے ہو۔ رسول کو ایذا بھی دے سکتے ہو ، مومنین پر ظلم و ستم بھی ڈھا سکتے ہو لیکن آخر میں غرور کا سر نیچا ہوتا ہے اور تم جو رسول اللہ ﷺ کو طیش دلاتے ہو ، ان کا پیمانہ صبر لبریز کرتے ہو ، لیکن آپ ﷺ بدستور صبر کا پیکر بنے ہوئے ہیں اور تمہاری ہدایت ہی کے امیدوار ہیں ، اس کا انجام برا بھی ہو سکتا…
Read the full tafseer →2 یعنی حضرت موسیٰ کے ذریعہ سے مثلاً " من وسلویٰ " کا اتارنا، بادل کا سایہ کرنا وغیرہ ذلک۔
Read the full tafseer →آیت 33 { وَاٰتَیْنٰہُمْ مِّنَ الْاٰیٰتِ مَا فِیْہِ بَلٰٓؤٌا مُّبِیْنٌ } ”اور ہم نے انہیں بہت سی ایسی نشانیاں دیں جن میں بہت واضح آزمائش تھی۔“
اللہ تعالیٰ کی طرف سے بنی اسرائیل کو بار بار ایسی آزمائشوں سے دو چار کیا گیا جو ان کے لیے ”بَلَآئً حَسَنًا“ الانفال : 17 کا درجہ رکھتی تھیں۔ یعنی ایسی آزمائشیں جو انسان کی بھلائیوں کو بڑھانے اور اچھائیوں کو نکھارنے کا باعث بنتی ہیں۔
Read the full tafseer →25 بلاء کا لغوی مفہوم قوم موسیٰ پر اللہ تعالیٰ کے احسانات :۔ بلاء کا بنیادی معنی ایسی آزمائش ہے جو ایسے حادثات اور واقعات سے تعلق رکھتی ہو جسے دوسرے لوگ بھی دیکھ سکتے ہوں۔ اور یہ آزمائش خیر اور شر دونوں صورتوں میں ہوسکتی ہے۔ یعنی احسانات سے نواز کر بھی اور تنگی یا تکلیف پہنچا کر بھی اس مقام پر یہ آزمائش خیر کی صورت میں ہوئی۔ اسی لیے بعض مترجمین نے اس لفظ کا ترجمہ احسان سے کیا ہے بعض نے مدد سے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے فرعون کی غرقابی کے بعد بنی اسرائیل پر ایسے احسانات کیے جن میں ان کی مدد بھی تھی اور آزمائش بھی اور اس سے مراد اللہ کے وہ احسانات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے میدان تیہ میں بنی اسرائیل پر…
Read the full tafseer →21۔ مثلا دولت توحید، نعمت رسالت، اور پھر دنیوی حکومت وعزاز۔ (آیت) ” بلاء “۔ یہاں مصیبت کے معنی میں نہیں، انعام کے معنی میں ہے۔ اے نعمۃ ظاھرۃ (کشاف، روح) بلاء کے عام متداول معنی یہی لئے جاسکتے ہیں، یعنی ان نشانات کے ذریعہ سے خوب آزمائش اور تجربہ ہوگیا۔ اے اختبارظاھر جلی لمن اھتدی بہ (ابن کثیر) اختبار ظاھر لننظر کیف یعملون (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–42
آیت نمبر 30 تا 42
ترجمہ : اور بیشک ہم نے (ہی) بنی اسرائیل کو رسواکن سزا سے نجات دی یعنی لڑکوں کے قتل اور عورتوں کو خادمہ بنانے سے، جو فرعون کی طرف سے (ہو رہی) تھی، کہا گیا ہے کہ مِنْ فرعونَ ، عذاب سے تقدیر مضاف کے ساتھ بدل ہے ای من عذاب فرعون اور کہا گیا ہے کہ عزاب سے حال ہے فی الواقع وہ سرکش حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے تھا اور ہم نے بنی اسرائیل کو ہمارے ان کے حالات سے واقف ہونے کی وجہ سے ان کے زمانہ کے عقلاء پر فوقیت دی اور ہم نے ان کو ایسی نشانیاں دیں جن میں صریح انعام تھا یعنی کھلی نعمتیں تھیں، مثلاً دریا کو چیرنا اور من و سلوٰی وغیرہ یہ لوگ یعنی کفار مکہ تو یہی کہتے ہیں، نہیں ہے ایسی…
Read the full tafseer →واتینھم من الایت ما فیہ بلؤ مبین اور ہم نے ان کو ایسی نشانیاں دیں جن میں صریح انعام تھا۔
اِخْتَرْنٰھُمْ یعنی موسیٰ اور بنی اسرائیل کو ہم نے برتری دی۔
عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ان کے زمانہ کے لوگوں پر۔
عَلٰی عِلْمٍ یعنی ہم کو علم تھا کہ وہ اسکے مستحق ہیں ‘ یا ہم جانتے تھے کہ بعض احوال میں وہ کجرو ہوجائیں گے۔
وَاٰتَیْنٰھُمْ مِّنَ الْاٰیٰتِ (المعجزات) جیسے دریا کے پانی کو ان کیلئے پھاڑ دیا (اور اس میں الگ الگ بارہ راستے بنا دئیے) اور (میدان تیہ میں) ان پر ابر کا سایہ کردیا اور مَنّ و سلوٰی نازل کیا وغیرہ۔
بَلٰٓؤٌ مُّبِیْنٌ کھلی ہوئی نعمت (قتادہ) ابن زید نے کہا : راحت و مصیبت دے کر جانچ کرنا مقصود ہے۔…
Read the full tafseer →اور ہم نے ان کو ایسی بڑی بڑی نشانیاں دیں جن میں عظیم الشان انعام تھا یا یہ کہ صریح انتخاب تھا وہ یہ کہ فرعون سے اور غرق سے نجات دی اور وادی تیہ میں ان پر من وسلوی اتارا۔
Read the full tafseer →واتینھم من الایت …:”بلوٓئ“ کا معنی آزمائش ہے، یہ لفظ مصیبت اور انعام دونوں معنوں میں آتا ہے کیونکہ آزمائش دونوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ یہاں مراد ان پر کئے جانے والے احسانات ہیں، جن میں آزادی صحرا میں کھانے پینے اور دھوپ سے بچنے کی تمام ضرورتوں کا انتظام اور پھر ارض مقدس کی تولیت کا شرف سب چیزیں شامل ہیں۔ مزید دیکھیے سورة بقرہ (49)۔
Read the full tafseer →آیات سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات ہیں : قتادہ نے کہا : آیات سے مراد انہیں فرعون کے ظلم سے نجات دینا، ان کے لئے سمندر کو پھاڑنا، ان پر بادل سے سایہ کرنا اور من وسلوی کو نازل کرنا ہے (1) یہ خطاب بنی اسرائیل کی طرف متوجہ ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد عصا اور یدبیضا کا معجزہ ہے۔ یہ فراء کے قول کے مشابہ ہے اور خطاب قوم فرعون کی طرف متوجہ ہوگا۔ ایک تیسرا قول یہ ہے، اس سے مراد وہ برائی ہے جس سے آپ نے ان کو روکا او وہ بھلائی ہے جس کا آپ نے انہیں حکم دیا تھا : یہ عبدالرحمن بن زید کا قول ہے خطاب ایک ہی ہے دونوں فریقوں کی طرف متوجہ ہوگا یعنی قوم فرعون اور بنی اسرائیل : میں چار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–36
1:۔ الفریابی وابن جریر وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد اخترنہم علی علم علی العلمین “ (اور ہم نے اسرائیل اپنے علم کی رو سے تمام جہاں والو پر فوقیت دی) یعنی ہم نے ان کو فضیلت دی دوسرے لوگوں پر۔
2:۔ عبدبن حمید (رح) اور ابن جریر (رح) اور ابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے ان کو اس بھلائی سے چن لیا جو اللہ تعالیٰ نے ان کو تعلیم دی جہاں والوں پر (یعنی سارے جہاں والوں کو چھوڑ کر ان کو علم دیا) فرمایا علم جو ان میں تھے اور ہر زمانے کا عالم ہے (آیت ) ” واتینہم من الایت مافیہ بلٓؤا مبین “ یعنی (اور ہم نے ان کو نشانیاں دی جن میں صریح آزمائش تھی یعنی ان کو نجات…
Read the full tafseer →وَاٰتَيْنٰهُمْ [ اور ہم نے دیا ان کو ] مِّنَ الْاٰيٰتِ [ نشانیوں میں سے ] مَا [ وہ ] فِيْهِ [ جس میں ] بَلٰۗــــــؤٌا مُّبِيْنٌ [ کھلی آزمائش تھی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
پھر فرمایا ﴿فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِيْنَ (رح) 0029﴾ (سو ان پر آسمان اور زمین کو رونا نہ آیا اور وہ مہلت دئیے جانے والے نہ تھے) یعنی اللہ تعالیٰ نے مبغوض اور مغضوب علہیم ہونے کی وجہ سے ہلاک فرما دیا اور یہ لوگ نہ صرف اللہ تعالیٰ کے مبغوض تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو بھی ان سے بغض تھا گو تکوینی طور پر بامر الٰہی ان پر بارش ہوتی تھی اور زمین بھی ان کا رزق اگاتی تھی، لیکن اللہ تعالیٰ اور اس کے عظیم آسمان و زمین ان سے راضی نہ تھے لہٰذا ان کے بیک وقت غرق ہونے پر انہیں ذرا بھی ترس نہ آیا اور ان کی ہلاکت کی وجہ سے وہ ذرا بھی نہ روئے۔
مومن کی موت پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–39
نجات و کامیابی بنی اسرائیل مع بیان بعث بعد موت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ولقد نجینا بنی ٓ اسرآء یل ....... الی ...... اکثرھم لا یعلمون “۔
(ربط) گزشتہ آیات کا مضمون قوم مجرمین کے عبرت ناک انجام اور فرعون لعین کی ہلاکت اور تباہی کا تھا تو اب ان آیات میں اس کے بالمقابل یہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ حق تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کے ساتھیوں کو کس طرح نجات و کامیابی عطا فرمائی اور اسی کے ساتھ ان دلائل کو بھی ذکر کیا جارہا ہے، جو بعث بعد از موت کو ثابت کرنے والے ہیں، اور ان شبہات اور لغو اعتراضات کو بھی رد کیا گیا، جو منکرین کیا کرتے تھے، ارشاد فرمایا ! اور بیشک ہم نے نجات دی بنی اسرائیل کو ایک ذلت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
21:۔ ” ان ھؤلاء “ یہ اہل مکہ کی طرف التفات اور شکوی ہے۔ مشرکین مکہ کہتے ہیں کہ بس اس پہلی زندگی کے ختم ہوجانے سے قصہ تمام ہوجائیگا اور اس کے بعد پھر کوئی زندگی نہیں ہوگی اور ہمیں دوبارہ نہیں اٹھایا جائیگا۔ یعنی یہ جو پہلے آنے والی موت ہے اس کو تو ہم مانتے ہیں، لیکن اس کے بعد جو دوسری زندگی بتائی جاتی ہے اسے ہم نہیں مانتے۔ اب یہ اعتراض نہ رہا کہ کفار موت کو تو مانتے تھے اور انکار دوسری حیاتی کا کرتے تھے اس لیے ” انھی الا حیاتنا الاولی “ کہنا چاہئے تھا۔ ” فاتوا بابائنا الخ “ خطاب رسول اللہ ﷺ اور مومنین سے ہے یعنی اگر تم اس دعوے میں سچے ہو کہ انسان مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوں گے تو ہمارے باپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–41
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید ، رسالت اور معاد کا مسئلہ سمجھانے کے لئے سابقہ اقوام اور خاص طور پر قوم فرعون کا ذکر کیا۔ پھر اس کے انجام کو بھی بیان کیا جو اس کے غرور وتکبر کی وجہ سے ہوا۔ وہ لوگ خود تو بحر قلزم میں غرق ہوگئے اور اپنے پیچھے ساز و سامان ، باغات ، چشمے ، مملات اور دیگر عیش و عشرت کی اشیاء چھوڑ گئے جن کا وارث اللہ نے دوسرے لوگوں کو بنایا۔ اللہ نے یہ بھی عبرت کے طور پر فرمایا کہ ان ناہنجاروں کی ہلاکت پر ارض و سمانہ رونے یعنی انہوں نے کوئی افسوس نہ کیا۔ جب ان لوگوں پر گرفت آئی تو پھر انہیں سنبھلنے کی مہلت بھی نہ ملی۔ اس سے حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کی تسلی بھی مطلوب…
Read the full tafseer →وَاٰتَيْنٰہُمْ مِّنَ الْاٰيٰتِ مَا فِيْہِ بَلٰۗــؤٌا مُّبِيْنٌ 33
آتینا
وَأُتُوا بِهِ مُتَشابِهاً [ البقرة/ 25] ، وقال : فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقال : وَآتَيْناهُمْ مُلْكاً عَظِيماً [ النساء/ 54] .
[ وكلّ موضع ذکر في وصف الکتاب «آتینا» فهو أبلغ من کلّ موضع ذکر فيه «أوتوا» ، لأنّ «أوتوا» قد يقال إذا أوتي من لم يكن منه قبول، وآتیناهم يقال فيمن کان منه قبول ] . وقوله تعالی: آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ
[ الكهف/ 96] وقرأه حمزة موصولة أي : جيئوني .
{ وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا } [ البقرة : 25] اور ان کو ایک دوسرے کے ہم شکل میوے دیئے جائیں گے ۔ {…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–42
ترکیب : من فرعون بدل من العذاب علی حذف المضاف ای من عذابہ وقیل لاحاجۃ الی الحذف لان فرعون فی نفسہ کان عذابا مہینالافراطہ فی تعذیب بنی اسرائیل قرء ابن عباس ؓ من فرعون فیکون استفہاما انہ کان الخ جو ابہ مافیہ الخ مفعول ثان لاتینا۔
تفسیر : ولقد نجینا یہ بیان سابق کا تتمہ ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو سخت عذاب سے نجات دی جو فرعون سرکش کے ہاتھ سے ان پر ہوا کرتا تھا اور صرف مصیبت ہی دفع نہیں کی بلکہ ذلت کے بدلے ان کو عزت دی۔ یہ ہیں اخترناھم علی العالمین کے معنی اور مصیبت کے بدلہ بڑی نعمتیں دیں کہ جن میں ان کی آزمائش تھی اور وہ نعماء خدا کی نشانیاں تھیں جیسا کہ قلزم سے پاراتارنا ‘ من وسلویٰ ‘ پانی کا…
Read the full tafseer →وَاٰ تَیْنٰـھُمْ مِّنَ الْاٰیٰتِ مَافِیْہِ بَـٰٓلؤٌا مُّبِیْنٌ۔ (الدخان : 33)
(اور ہم نے ان کو ایسی نشانیاں دیں جن میں کھلی آزمائش تھی۔ )
بَـٰٓلؤٌاکا معنی تو آزمائش ہے اور مبین کھلا، واضح اور صریح کو کہتے ہیں۔ لیکن آزمائش چونکہ دو طرح سے ہوتی ہے کبھی نعمتیں دے کر اور کبھی تنگدستی کے ذریعے۔ نعمتوں سے شکر کا اندازہ کیا جاتا ہے کہ نعمتیں پانے والا کیا نعمتیں دینے والے کا شکرگزار بھی ہے یا نہیں۔ اور نعمتوں سے محروم کردینے سے صبر اور رضا کی آزمائش ہوتی ہے۔ یعنی جس کو اللہ تعالیٰ نے تنگدستی میں مبتلا کیا ہے کیا وہ اس پر صبر کرتا اور اسی میں اللہ تعالیٰ کی رضا ڈھونڈتا ہے یا اس پر زبان شکایت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کا اذیت ناک عذاب سے نجات پانا ہے۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں کا غرق ہونا۔
اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو سمندر میں غرقاب کیا کیونکہ وہ بڑا ہی عالی اور غالی انسان تھا۔ دنیا میں بڑے بڑے باغی اور سرکش انسان گزرے ہیں مگر کسی نے رب الاعلیٰ ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ فرعون ایساغالی اور متکبر انسان تھا کہ اس نے رب الاعلیٰ ہونے کا دعویٰ کیا اور لوگوں کو جبراً اپنے سامنے جھکا یا کرتا تھا۔ وہ بنی اسرائیل کو اذیت ناک سزائیں دیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ جنہیں بنی اسرائیل موسیٰ (علیہ السلام) کی بےمثال جدوجہد کے نتیجے میں نجات عطا فرمائی۔ جس کے بارے میں عذاب مھین کے الفاظ…
Read the full tafseer →آیت 33 : وَاٰتَیْنٰہُمْ مِّنَ الْاٰیٰتِ (اور ہم نے ان کو ایسی نشانیاں دیں) مثلاً سمندر کا پھٹنا ٗ بادلوں کا سائبانوں کی طرح سایہ کرنا من وسلویٰ کا نزول وغیر ذلک۔ مَافِیْہِ بَلٰٓؤٌا مُّبِیْنٌ (جن میں صریح انعام تھا) بلاء مبینٌ ظاہری نعمت یا ظاہر اختبارو امتحان تاکہ ان کی عملی حالت کو جانچا جاسکے۔
Read the full tafseer →32، ولقد اخترناھم، یعنی بنی اسرائیل کے مؤمنوں کو۔ ، علی علم، ان کے بارے میں ، علی العالمین، ان کے زمانہ کے جہان والوں پر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–36
30۔ 36۔ اوپر فرعون کے ڈوب کر ہلاک ہونے کا ذکر تھا ان آیتوں میں اس کے نتیجہ کا ذکر فرما کر کہ فرعون اپنے جیتے جی بنی اسرائیل کو طرح طرح کی تکلیفیں جو دیتا تھا ان کے لڑکوں کو قتل کراتا تھا ان سے ذلت کے کام لیتا تھا اللہ تعالیٰ نے فرعون کو ہلاک کرکے بنی اسرائیل کی یہ سب تکلیفیں رفع کردیں پھر فرعون کا ذکر فرمایا کہ وہ حد سے بڑھ کر سرکشی کرنے لگا تھا اس لئے اس کو سزا دی گئی ‘ فرعون یوں تو دہریہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کا منکر تھا لیکن اس میں یہ بات دہریوں سے بڑھ کر تھی کہ وہ گمراہی کے سب سے اپنے آپکو خدا کہلاتا تھا۔ سورة الشعراء میں گزر چکا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
آیت 17
رسول مصطفیٰ محمد ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ گزشتہ زمانوں میں بھی جھٹلانے والے موجود تھے اور ان کا قصہ حضرت موسیٰ کے ساتھ ذکر فرمایا، نیز اس عذاب کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کیا تاکہ جھٹلانے والے اپنے اس رویے سے باز آجائیں فرمایا : (آیت) ” یعنی ہم نے اپنے رسول کریم حضرت موسیٰ بن عمران کو ان کی طرف مبعوث کر کے انہیں آزمایا جن میں بھلائی اور مکارم اخلاق بدرجہ اتم موجود تھے جو کسی اور میں موجود نہ تھے۔
(ان ادوآ الی عباد اللہ) یعنی حضرت موسیٰ نے فرعون اور اس کے سرداروں سے کہا ” اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کردو۔ “ اس سے حضرت موسیٰ کی مراد بنی اسرائیل…
Read the full tafseer →39 بنی اسرائیل کا امتحان نعمتوں کے ذریعے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے انکو طرح طرح کی ایسی نشانیوں سے نوازا جن میں کھلی آزمائش کا سامان تھا "۔ مثلا یہ کہ ان کو فرعون کی غلامی سے نجات دی۔ ان کے لئے چلتے سمندر کو پھاڑ کر راستے بنا دئیے۔ بادلوں سے ان کے لئے سائے کا انتظام کیا اور ان پر من وسلویٰ کی نعمتیں اتاریں وغیرہ وغیرہ۔ سو یہ سب کچھ ان کے سوا اور کسی قوم کو نصیب نہیں ہوا۔ اور یہ چیزیں جہاں ایک طرف نعمتیں تھیں وہاں دوسری طرف ان کے لئے ابتلا و آزمائش کا سامان بھی تھیں کہ وہ ان کا حق کیا اور کس طرح ادا کرتے ہیں ؟ اسی لئے لفظ " بلاء " استعمال فرمایا گیا ہے۔ جس کے معنیٰ نعمت کے بھی آتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
قرآن سچ ہے اور اس کے علاہ سب غلط ہے
تشریح : ان تمام آیات میں اللہ کی ان تدابیر کا ذکر کیا گیا ہے جو اس نے کائنات کے لیے مرتب کر رکھی ہیں۔ مثلاً میجر جنرل غلام محمد ملک صاحب اس کی بڑے خوبصورت انداز میں یوں وضاحت کرتے ہیں : فلسفہ تاریخ جس طرح سیاسی واقعات کی تکرار اور حوادث کے بار بار اعادہ سے اصول اور نتائج تک پہنچ کر ایک عام تاریخی قانون بنا لیتا ہے اسی طرح انبیاء علیھم السلام کے سوانح اور تاریخیں بھی اپنے واقعات کے بار بار اعادہ سے خصائصِ نبوت کا اصول قانون ہمارے لیے مرتب کرتی ہے۔ پیغمبرانہ تاریخ کے انہی اصول و قوانین میں سے ایک یہ ہے کہ نبی جب اپنے کمال انسانیت کو پہنچ کر فیضان نبوت کے قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–42
آیات 30 تا 42۔
اسرار ومعارف۔
اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے اس عذاب سے جس میں فرعون نے انہیں مبتلا کررکھا تھا نجات دی ، کہ فرعون بہت ہی سرکش تھا اور تمام حدود عبور کرجانے والوں میں سے تھا ، نیز ہم نے انہیں اپنے علم کے مطابق اس دور کے تمام لوگوں پہ فضیلت بخشی اور ہم نے انہیں اپنی عظمت کی نشانیاں عطا کیں۔ مادی اور ظاہری بھی کہ فرعون سے نجات اور باطنی بھی علوم نبوت اور معجزات کا ظہور جو اللہ کی طرف سے انعام بھی تھیں اور آزمائش کا سبب بھی۔
یہ لوگ ان اقوام کے حالات سے سبق حاصل نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ صرف یہی دنیا کی زندگی ہے اور یہی ایک بات موت ہے ہمیں دوبارہ زندہ نہیں ہوناچاہیے ، اور دلیل یہ…
Read the full tafseer →ف 5 یا ” کھلی ہوئی آزمائش تھی
Read the full tafseer →(44:33) اتینھم : اتینا۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ہم نے ان کو دیا۔ ہم نے ان کو بخشا۔ ایتاء (افعال) مصدر۔
الایت۔ نشانیاں ۔ ایۃ کی جمع۔ یہ لفظ مادہ ای ی سے تای (تفعل) مصدر سے مشتق ہے جس کے معنی کسی چیز پر ٹھہرنے اور تثبت حاصل کرنے کے ہیں۔ اور ایۃ کا لفظ بلند عمارت پر بھی بولا جاتا ہے۔ جیسے فرمایا۔ اتبنون بکل ریع ایۃ تعبثون (26:128) کہ تم پر فضا مقام پر بےکار نشان تعمیر کرتے ہو۔ اور قرآن کے ہر اس حصہ کو جو کسی حکم پر دال ہو ایۃ کہا جاتا ہے۔ عام اس سے کہ وہ سورة ہو یا اس کی ایک فصل یا کئی فصلیں۔
اور ہر اس کلام کو جو لفظی اعتبار سے دوسرے سے الگ ہو ایۃ ۔ کہہ دیا جاتا ہے اسی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 33 : فتنا ( ہم نے آزمایا) لا تعلوا (تم نہ چڑھو) اعتزلون ( تم مجھ سے دور ہٹ جائو) اسر (تو راتوں رات چل) رھوا ( ٹھہرا ہوا) جند ( لشکر) مابکت (نہ روئی ، نہ رویا) منظرین (مہلت دیئے گئے) اخترانا ( ہم نے پسند کیا)
تشریح : آیت نمبر 17 تا 33 : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حق و صداقت کی سر بلندی اور ہدایت و تبلیغ میں ساری زندگی جدوجہد فرمائی فرعون اور آل فرعون نے جس طرح ان کی نافرمانی کی اس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی مختلف سورتوں میں عبرت و نصیحت کے لئے مختصر یا تفصیل سے بیان کیا ہے۔ یہاں ایک مرتبہ پھر حضرت موسیٰ کی زندگی کے ایک اور پہلو کو بیان کرکے کفار قریش کو آگاہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–36
نافرمان قوموں کا انجام۔
(ف 1) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مع بنی اسرائیل دریا کے پار ہوئے تو حضرت موسیٰ نے چاہا کہ دریا کو اپنے عصا سے ماریں کہ پھر ویسا ہی ہوجائے جیسا تھا، تاکہ اس راستہ سے فرعون اور اس کے ساتھی دریا سے پار ہوکربنی اسرائیل کا پیچھا نہ کریں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم دیا کہ دریاکواسی طرح بیچ میں خشک رہنے دو تاکہ فرعون اور اس کا لشکر دریا کی خشک زمین پر پہنچ جاویں تو پانی کا پاٹ ملادیاجائے اور ان سب کو غرق کردیاجائے، اسی قصہ کو مختصر طور پر فرمایا کہ فرعون اور اس کے ساتھی اپنے باغ اور نہریں ، کھیتیاں، اچھے مکان اور راحت کا ہر طرح کا سامان مصر میں چھوڑ کر یہاں دریائے قلزم…
Read the full tafseer →[9] اصل میں لفظ '' بلاء '' استعمال ہوا ہے جس کے اصل معنی آزمائش کے ہیں لیکن یہاں انعام مراد ہے۔ یہ اشارہ ہے ان انعامات کی طرف جن کا ذکر سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
ایمان وکفر کی آویزش
1: ان آیات میں حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کا قصہ ہے ۔ کہ کیونکر ان کو فرعون ایسے ظالم ومستبد بادشاہ کے چنگل سے رہائی نصیب ہوئی ۔ اس کو پانی قوت پر ناز تھا ۔ اپنے عساکر اور فوجوں پر غرہ تھا ۔ اپنے قلعوں اور اونچے اونچے مجلوں پر فخر تھا ۔ یہ بات اس کے ذہن سے بہت دور تھی کہ غریب اور مفلس ومظلوم قوم کبھی اتنے عالی قدر بادشاہ کا مقابلہ کر پائے گی ۔ اور اس کی مخلصی کے سامان غیب سے مہیا ہوسکیں گے ۔ مگر اللہ کی طرف سے مقدر ہوچکا تھا ۔ کہ ایمان وکفر کا تصادم ہو ۔ افلاس اور تمول میں ٹھن جائے ۔ موسیٰ اور باجبروت وسطوت شخصیت میں معرکہ آرائی ہو ۔ اور فتح ہو ایمان کی ۔ کامیابی کا تاج…
Read the full tafseer →(33) اور ہم نے ان بنی اسرائیل کو ایسی نشانیاں عطا فرمائیں جن میں کھلا ہوا انعام یا کھلا ہوا امتحان تھا یعنی بنی اسرائیل کو بڑی بڑی نشانیاں دیں۔ مثلاً فرعون کے مظالم سے نجات اور اسی قسم کی نشانیاں جو حضرت موسیٰ کے ہاتھ سے وقتاً فوقتاً ظاہر ہوتی رہیں جو معجزات بھی تھے اور دلائل توحید بھی۔ یہ نشانیاں انعامات اور اللہ تعالیٰ کی مدد تھیں اور ہوسکتا ہے بنی اسرائیل کا امتحان بھی مقصود ہو کہ ان انعامات پر شکر بجا لاتے ہیں یا کفران نعمت کرتے ہیں۔ اس لئے بلوء کے دونوں معنی کئے گئے ہیں انعامات اور امتحانات ہم نے سورة بقرہ میں مفصل بحث کی ہے وہاں ملاحظہ کرلیا جائے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
ف 5۔ یعنی وہ امور جامع تھے درمیان دونوں وصف کے، نعمت ہونا اور دلیل قدرت ہونا، پھر بعض ان میں حسی نعمت تھی اور بعض ان میں معنوی نعمتیں تھیں۔
Read the full tafseer →بنی اسرائیل کی آزمائش انعامات الٰہی کے ذریعہ سے کی جانے لگی
33 ؎ اس سے قبل بھی بنی اسرائیل آزمائش میں مبتلا تھے لیکن وہ آزمائش مصیبت کی آزمائش تھی اور اب جو آزمائش ان کی شروع ہوئی یہ انعامات الٰہی کی آزمائش تھی اور اس سلسلہ میں سنت الٰہی یہ ہے کہ جب تک کوئی قوم مصیبت کی آزمائش میں ہوتی ہے اس کے فرائض منصبی میں یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی مصیبت کو مصیبت سمجھے اور اس کو ہٹانے اور دور کرنے کے لیے ہاتھ پائوں ہلائے تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتا ہے اور اس کو مصیبت کی آزمائش سے نکالتا ہے لیکن جب تک کوئی قوم اپنی قومی مصیبت کو مصیبت ہی نہ سمجھے اور نہ اس کو دور کرنے کے لیے ہاتھ پائوں ہلائے وہ اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
وَآتَيْنَاهُم مِّنَ الْآيَاتِ مَا فِيهِ بَلَاءٌ مُّبِينٌ And We gave them the clear signs in which there was a manifest blessing. (44:33) " The word 'signs' refers to the miracles of the staff, the shining hand and others. The word 1 bala' has two senses: (1) blessing; and (2) trial. Here both senses are possible. (Qurtubi).
Read the full tafseer →29 For explanation, sec Al-Baqarah :49-74, An-Nisa: 153-160, AlMa'idah: 20-26, Al-A'raf: 138-171, Ta-Ha: 80-97 and the corresponding E.N.'s
Read the full tafseer →