اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَیَقُوْلُوْنَ ۟ۙاِنَّ هٰٓؤُلَاۤءِ لَيَقُوۡلُوۡنَۙ
یہ لوگ یہ کہتے ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
Indeed, these [disbelievers] are saying,
— Saheeh International
Juz 25 · Ruku 2 of surah · Ruku 15 of juz
اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَیَقُوْلُوْنَ ۟ۙاِنَّ هٰٓؤُلَاۤءِ لَيَقُوۡلُوۡنَۙ
یہ لوگ یہ کہتے ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
Indeed, these [disbelievers] are saying,
— Saheeh International
Juz 25 · Ruku 2 of surah · Ruku 15 of juz
Read the whole surah · Surah Ad-Dukhaan
یہ لوگ کہتے ہیں
یہ لوگ یہ کہتے ہیں
یہ لوگ تو یہی کہتے ہیں
یہ لوگ صاف کہتے ہیں۔
بیشک یہ کہتے ہیں،
بیشک وہ لوگ کہتے ہیں،
بیشک یہ لوگ یقینا کہتے ہیں۔
یہ لوگ تو یہ کہتے ہیں
یہ لوگ بڑے جزم کے ساتھ کہتے ہیں
بلاشبہ (دور حاضر کے) یہ منکرین زور دے کر کہتے ہیں
یہ لوگ تو یہی کہتے ہیں
یہ لوگ تو یہی کہہ رہے ہیں
یہ لوگ یہ کہتے ہیں
Indeed these people say:
These people say,
These people say,
Verily, these people are saying:
Lo! these, forsooth, are saying:
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Indeed, these [disbelievers] are saying,
These people say,
Most surely these do say:
Verily these! they say:
As to these (Quraish), they say forsooth:
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 34–37
شہنشاہ تبع کی کہانی یہاں مشرکین کا انکار قیامت اور اس کی دلیل بیان فرما کر اللہ تعالیٰ اس کی تردید کرتا ہے ان کا خیال تھا کہ قیامت آنی نہیں مرنے کے بعد جینا نہیں۔ حشر اور نشر سب غلط ہے دلیل یہ پیش کرتے تھے کہ ہمارے باپ دادا مرگئے وہ کیوں دوبارہ جی کر نہیں آئے ؟ خیال کیجئے یہ کس قدر بودی اور بےہودہ دلیل ہے دوبارہ اٹھ کھڑا ہونا مرنے کے بعد جینا قیامت کو ہوگا نہ کہ دنیا میں پھر لوٹ کر آئیں گے۔ اس دن یہ ظالم جہنم کا ایندھن بنیں گے اس وقت یہ امت اگلی امتوں پر گواہی دے گی اور ان پر انکے نبی ﷺ گواہی دیں گے پھر اللہ تعالیٰ انہیں ڈرا رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے جو عذاب اسی جرم پر اگلی قوموں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
سورة الدُّخَان 30 یعنی پہلی دفعہ ہم مریں گے تو بس فنا ہوجائیں گے۔ اس کے بعد پھر کوئی زندگی نہیں ہے۔ " پہلی موت " اس کے الفاظ سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کے بعد کوئی دوسری موت بھی ہو۔ ہم جب یہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص کے ہاں پہلا بچہ پیدا ہوا تو اس قول کے صادق ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں ہوتا کہ اس کے بعد لازم دوسرا بچہ پیدا ہو، بلکہ صرف یہ کافی ہوتا ہے کہ اس سے پہلے کوئی بچہ نہ ہوا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
خلاصہ تفسیر یہ لوگ (قیامت کی وعیدیں سن کر قیامت کا انکار کرتے ہیں اور) کہتے ہیں کہ اخیر حالت بس یہی ہمارا دنیا کا مرنا ہے اور ہم دوبارہ زندہ نہ ہوں گے (مطلب یہ کہ اخیر حالت وہ اخروی زندگی نہیں بلکہ یہ دنیوی موت ہی اخیر حالت ہے جس کے عبد کچھ ہونا نہیں ہے) سو (اے مسلمانو !) اگر تم (آخرت کے دعوے میں) سچے ہو تو (انتظار کون کرے، ابھی) ہمارے باپ دادوں کو (زندہ کرا کے) لا موجود کرو (آگے ان کے کفریات پر تہدید ہے کہ ان کو ذرا سوچنا چاہئے کہ) یہ لوگ (قوت و شوکت میں) زیادہ بڑھے ہوئے ہیں یا تبع (بادشاہ یمن) کی قوم اور جو قومیں ان سے پہلے ہو گزر رہی ہیں (مثلاً عاد وثمود وغیرہ یعنی یہ قومیں زیادہ بڑھی ہوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
-4 آگے کا مضمون … آیات 57-34 آگے کی آیات میں قریش کی سرکشی کے اصل سبب پر روشنی ڈلی گئی ہے کہ یہ لوگ اس دنیا کی زندگی کے بعد کسی اور زندگی کا تصور نہیں رکھتے اس وجہ سے اپنے حاضر میں مگن اور مستقبل سے نچنت ہیں۔ ان کی اس غلط فہمی کے ازالہ کے لئے پہلے قانون جزاء و سزا کے عقلی و فطری دلائل بیان کئے گئے ہیں۔ اس کے بعد اہل کفر و اہل ایمان دونوں کے انجام کی تصویر کھینچی گئی ہے۔ آیات کی تلاوت فرمائے۔ 5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت ان ھولآء لیقولون ان ھی الا موتننا الاولی وما نحن بمنشرین (35-34) کفار کا زعم یعنی یہ لوگ بڑے عزم و جزم کے ساتھ دعویٰ کرتے ہیں کہ قیامت وغیرہ کا ڈراوا محض ایک ہوا ہے۔ بس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
34۔ 1 یہ اشارہ کفار مکہ کی طرف ہے۔ اس لئے کہ سلسلہ کلام ان ہی سے متعلق ہے۔ درمیان میں فرعون کا قصہ ان کی تنبیہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
10: تبع دراصل یمن کے بادشاہوں کا لقب تھا، قرآن کریم نے یہ متعین نہیں فرمایا کہ یہاں کونسا تبع مراد ہے، حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں فرمایا ہے کہ یہاں مراد وہ تبع ہے جس کا نام اسعد ابوکریب تھا، یہ آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری سے سات سو سال پہلے گزرا ہے، یہ خود دین موسوی پر تھا، جو اس وقت دین برحق تھا، ایمان لے آیا تھا ؛ لیکن اس کی قوم نے بعد میں بت پرستی اختیار کرلی، جس کے نتیجے میں ان پر عذاب آیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–42
آیت نمبر 34 تا 42 مشرکین عرب یہ کہتے تھے ، بس ہماری یہی موت ہے ، جس سے ہم دو چار ہوں گے۔ اس کے بعد نہ زندگی ہے اور نہ حشرونشر ہے اور اس کو وہ ” پہلی “ اس معنی میں کہتے تھے کہ حشر ونشر کا جو ڈر اوا ہمیں سنایا جارہا ہے اس سے یہ پہلی ہے۔ وہ یہ کہتے تھے کہ یہی موت ہے اور اس پر سب کچھ ختم ہونے والا ہے۔ کیونکہ ان کے آباء و اجداد بس ایک ہی بار مر گئے۔ اور ان میں سے کوئی بھی اس جہاں میں واپس نہیں آیا۔ نہ کبھی کوئی اٹھایا گیا اور ان کا مطالبہ ہی یہ ہوتا تھا کہ اگر نشو رحق ہے تو لاؤ ہمارے آباء کو۔ لیکن اس مسئلے پر وہ حشر و نشر کی حکمت پر غور نہ کرتے تھے اور یہ بھی محسوس نہ کرتے تھے کہ حشر اور نشر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
3 درمیان میں حضرت موسیٰ کی قوم کا ذکر استطرادًا آگیا تھا۔ یہاں سے پھر حضور ﷺ کی قوم کا تذکرہ ہوتا ہے۔ یعنی یہ کہتے ہیں کہ ہماری آخری حالت بس یہ ہی ہے کہ موت آجائے۔ موت کے بعد سب قصہ ختم۔ موجودہ زندگی کے سوا دوسری زندگی کوئی نہیں۔ کہاں کا حشر، اور کیسا حساب کتاب۔
Read the full tafseer →آیت 34 { اِنَّ ہٰٓؤُلَآئِ لَیَقُوْلُوْنَ } ”یہ لوگ تو یہی کہہ رہے ہیں۔“ ہٰٓؤُلَآئِ سے یہاں اہل مکہ مراد ہیں۔ چونکہ یہ مکی سورت ہے اس لیے بنی اسرائیل کا ذکر کرنے کے بعد اب مشرکین مکہ کے اقوال و عقائد پر تبصرہ ہونے جا رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
26 کفارکایہ اعتراض کہ مارے آباء کو زندہ کرکے دکھاؤ :۔ کفار کا یہ مطالبہ تین وجوہ کی بنا پر غلط ہے۔ ایک یہ کہ رسول کی ذمہ داری صرف اللہ کا پیغام پہنچا دینا ہے۔ خدائی اختیارات کا نہ وہ کبھی دعویٰ کرتا ہے اور نہ اس کے ہاتھ میں ہوتے ہیں کہ جب کوئی کافر ایسا مطالبہ کرے تو اس کا کوئی بڑا بزرگ اسے دوبارہ زندہ کرکے دکھا دے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ کسی نبی نے کبھی یہ نہیں کہا کہ تمہیں دوبارہ زندہ کرکے اسی دنیا میں بھیجا جائے گا بلکہ وہ جہاں ہی دوسرا ہوگا جس میں مردے زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ نبی یہ خبر دیتا ہے کہ تمہاری دوبارہ زندگی قیامت کے دن ہوگی تو کیا یہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ قیامت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
22۔ یہ کہنے والے عصر قدیم کے ” روشن خیال “ مادیین اور عرب کے فطرت پرست دہریین تھے، حشر ونشر وعالم آخرت کے قطعی منکر، یہ مسلمانوں کو چیلنج دیکر اور اپنی ” روشن خیالی “۔ کے پر فخر مظاہرہ کے ساتھ کہتے تھے کہ ہم مذہب ووذھب کے ڈھکوسلوں کے سرے سے قائل ہی نہیں۔ ہم تو صرف حواس ظاہری ومشاہدہ کو مانتے ہیں، تو اگر واقعی کسی مردہ کو زندہ کرکے دکھا دو تو بیشک ہم قائل ہوجائیں، مغیبات مجردات میں آج بھی مشاہدہ و تجربہ کا مطالبہ اس قدیم ذہنیت کی صدائے باز گشت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–42
آیت نمبر 30 تا 42 ترجمہ : اور بیشک ہم نے (ہی) بنی اسرائیل کو رسواکن سزا سے نجات دی یعنی لڑکوں کے قتل اور عورتوں کو خادمہ بنانے سے، جو فرعون کی طرف سے (ہو رہی) تھی، کہا گیا ہے کہ مِنْ فرعونَ ، عذاب سے تقدیر مضاف کے ساتھ بدل ہے ای من عذاب فرعون اور کہا گیا ہے کہ عزاب سے حال ہے فی الواقع وہ سرکش حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے تھا اور ہم نے بنی اسرائیل کو ہمارے ان کے حالات سے واقف ہونے کی وجہ سے ان کے زمانہ کے عقلاء پر فوقیت دی اور ہم نے ان کو ایسی نشانیاں دیں جن میں صریح انعام تھا یعنی کھلی نعمتیں تھیں، مثلاً دریا کو چیرنا اور من و سلوٰی وغیرہ یہ لوگ یعنی کفار مکہ تو یہی کہتے ہیں، نہیں ہے ایسی…
Read the full tafseer →ان ھولاء لیقولون۔ یہ لوگ بلاشبہ کہتے ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
(34۔ 35) مگر محمد آپ کی قوم یہی کہتی ہے کہ ہماری زندگی بس دنیوی زندگی ہے اور یہیں کا مرنا ہے اور ہم مرنے کے بعد پھر زندہ نہیں کیے جائیں گے اور محمد اگر تم اپنے دعوے بعثت میں سچے ہو۔
Read the full tafseer →ان ھولاء لیقولون : یہاں موسیٰ ؑ کا قصہ ختم ہوا جو جملہ معترضہ کے طور پر درمیان میں آگیا تھا اور دوبارہ سلسلہ کلام کفار قریش کے ساتھ جوڑ دیا یا، جوپ ہلے سے چلا آرہا تھا اور کفار سے فرمایا تھا :(لا الہ الا ھو یحی ویمیت ربکم و رب ابائکم الاولین بل ھم فی شک یلعبون) (الدخان :9, 8)”اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے، تمہارا رب ہے اور تمہارے پہلے باپ دادا کا رب ہے۔ بلکہ وہ ایک شک میں کھیل رہے ہیں۔“ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے زندگی بخشنے اور موت دینے کو قیامت کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ کفار شک میں ہی پڑے ہوئے ہیں۔ فرعون کی سرکشی اور غرقابی کے ذکر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
وائو ضمیر سے مراد قریش کے کفار ہیں یہ مبتدا اور خبر ہے، جس طرح یہ کلام ہے (اعراف 155) اور یہ کلام (انعام 29) ہمیں دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا : اللہ تعالیٰ نے مردوں کو اٹھایا تو وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ منشورون کا معنی مبعوثون ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کفار قریش میں سے۔ یہ بات کرنے والا ابو جہل تھا، اس نے کہا : اے محمد ﷺ اگر تو اپنے قول میں سچا ہے تو ہمارے آباء میں سے دو آدمی اٹھائو ! ان میں سے ایک قصی بن کلاب ہے کیونکہ وہ ایک سچا شخص تھا تاکہ ہم اس سے پوچھ سکیں کہ موت کے بعد کیا ہوا۔ یہ قول ابو جہل کی جانب سے کمزور ترین شبہ ہے، کیونکہ دوبارہ اٹھانا جزا کے لئے ہے احکام کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–36
1:۔ الفریابی وابن جریر وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد اخترنہم علی علم علی العلمین “ (اور ہم نے اسرائیل اپنے علم کی رو سے تمام جہاں والو پر فوقیت دی) یعنی ہم نے ان کو فضیلت دی دوسرے لوگوں پر۔ 2:۔ عبدبن حمید (رح) اور ابن جریر (رح) اور ابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے ان کو اس بھلائی سے چن لیا جو اللہ تعالیٰ نے ان کو تعلیم دی جہاں والوں پر (یعنی سارے جہاں والوں کو چھوڑ کر ان کو علم دیا) فرمایا علم جو ان میں تھے اور ہر زمانے کا عالم ہے (آیت ) ” واتینہم من الایت مافیہ بلٓؤا مبین “ یعنی (اور ہم نے ان کو نشانیاں دی جن میں صریح آزمائش تھی یعنی ان کو نجات…
Read the full tafseer →اِنَّ هٰٓؤُلَاۗءِ [ بیشک یہ لوگ ] لَيَقُوْلُوْنَ [ یقینا کہتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
پھر فرمایا ﴿فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِيْنَ (رح) 0029﴾ (سو ان پر آسمان اور زمین کو رونا نہ آیا اور وہ مہلت دئیے جانے والے نہ تھے) یعنی اللہ تعالیٰ نے مبغوض اور مغضوب علہیم ہونے کی وجہ سے ہلاک فرما دیا اور یہ لوگ نہ صرف اللہ تعالیٰ کے مبغوض تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو بھی ان سے بغض تھا گو تکوینی طور پر بامر الٰہی ان پر بارش ہوتی تھی اور زمین بھی ان کا رزق اگاتی تھی، لیکن اللہ تعالیٰ اور اس کے عظیم آسمان و زمین ان سے راضی نہ تھے لہٰذا ان کے بیک وقت غرق ہونے پر انہیں ذرا بھی ترس نہ آیا اور ان کی ہلاکت کی وجہ سے وہ ذرا بھی نہ روئے۔ مومن کی موت پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–39
نجات و کامیابی بنی اسرائیل مع بیان بعث بعد موت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ولقد نجینا بنی ٓ اسرآء یل ....... الی ...... اکثرھم لا یعلمون “۔ (ربط) گزشتہ آیات کا مضمون قوم مجرمین کے عبرت ناک انجام اور فرعون لعین کی ہلاکت اور تباہی کا تھا تو اب ان آیات میں اس کے بالمقابل یہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ حق تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کے ساتھیوں کو کس طرح نجات و کامیابی عطا فرمائی اور اسی کے ساتھ ان دلائل کو بھی ذکر کیا جارہا ہے، جو بعث بعد از موت کو ثابت کرنے والے ہیں، اور ان شبہات اور لغو اعتراضات کو بھی رد کیا گیا، جو منکرین کیا کرتے تھے، ارشاد فرمایا ! اور بیشک ہم نے نجات دی بنی اسرائیل کو ایک ذلت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
21:۔ ” ان ھؤلاء “ یہ اہل مکہ کی طرف التفات اور شکوی ہے۔ مشرکین مکہ کہتے ہیں کہ بس اس پہلی زندگی کے ختم ہوجانے سے قصہ تمام ہوجائیگا اور اس کے بعد پھر کوئی زندگی نہیں ہوگی اور ہمیں دوبارہ نہیں اٹھایا جائیگا۔ یعنی یہ جو پہلے آنے والی موت ہے اس کو تو ہم مانتے ہیں، لیکن اس کے بعد جو دوسری زندگی بتائی جاتی ہے اسے ہم نہیں مانتے۔ اب یہ اعتراض نہ رہا کہ کفار موت کو تو مانتے تھے اور انکار دوسری حیاتی کا کرتے تھے اس لیے ” انھی الا حیاتنا الاولی “ کہنا چاہئے تھا۔ ” فاتوا بابائنا الخ “ خطاب رسول اللہ ﷺ اور مومنین سے ہے یعنی اگر تم اس دعوے میں سچے ہو کہ انسان مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوں گے تو ہمارے باپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–41
ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید ، رسالت اور معاد کا مسئلہ سمجھانے کے لئے سابقہ اقوام اور خاص طور پر قوم فرعون کا ذکر کیا۔ پھر اس کے انجام کو بھی بیان کیا جو اس کے غرور وتکبر کی وجہ سے ہوا۔ وہ لوگ خود تو بحر قلزم میں غرق ہوگئے اور اپنے پیچھے ساز و سامان ، باغات ، چشمے ، مملات اور دیگر عیش و عشرت کی اشیاء چھوڑ گئے جن کا وارث اللہ نے دوسرے لوگوں کو بنایا۔ اللہ نے یہ بھی عبرت کے طور پر فرمایا کہ ان ناہنجاروں کی ہلاکت پر ارض و سمانہ رونے یعنی انہوں نے کوئی افسوس نہ کیا۔ جب ان لوگوں پر گرفت آئی تو پھر انہیں سنبھلنے کی مہلت بھی نہ ملی۔ اس سے حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کی تسلی بھی مطلوب…
Read the full tafseer →اِنَّ ہٰٓؤُلَاۗءِ لَيَقُوْلُوْنَ 34 ۙ «أَلَا»«إِلَّا»هؤلاء «أَلَا» للاستفتاح، و «إِلَّا» للاستثناء، وأُولَاءِ في قوله تعالی: ها أَنْتُمْ أُولاءِ تُحِبُّونَهُمْ [ آل عمران/ 119] وقوله : أولئك : اسم مبهم موضوع للإشارة إلى جمع المذکر والمؤنث، ولا واحد له من لفظه، وقد يقصر نحو قول الأعشی: هؤلا ثم هؤلا کلّا أع طيت نوالا محذوّة بمثال الا) الا یہ حرف استفتاح ہے ( یعنی کلام کے ابتداء میں تنبیہ کے لئے آتا ہے ) ( الا) الا یہ حرف استثناء ہے اولاء ( اولا) یہ اسم مبہم ہے جو جمع مذکر و مؤنث کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس کا مفرد من لفظہ نہیں آتا ( کبھی اس کے شروع ۔ میں ھا تنبیہ بھی آجاتا ہے ) قرآن میں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–42
ترکیب : من فرعون بدل من العذاب علی حذف المضاف ای من عذابہ وقیل لاحاجۃ الی الحذف لان فرعون فی نفسہ کان عذابا مہینالافراطہ فی تعذیب بنی اسرائیل قرء ابن عباس ؓ من فرعون فیکون استفہاما انہ کان الخ جو ابہ مافیہ الخ مفعول ثان لاتینا۔ تفسیر : ولقد نجینا یہ بیان سابق کا تتمہ ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو سخت عذاب سے نجات دی جو فرعون سرکش کے ہاتھ سے ان پر ہوا کرتا تھا اور صرف مصیبت ہی دفع نہیں کی بلکہ ذلت کے بدلے ان کو عزت دی۔ یہ ہیں اخترناھم علی العالمین کے معنی اور مصیبت کے بدلہ بڑی نعمتیں دیں کہ جن میں ان کی آزمائش تھی اور وہ نعماء خدا کی نشانیاں تھیں جیسا کہ قلزم سے پاراتارنا ‘ من وسلویٰ ‘ پانی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
اِنَّ ھٰٓؤُلَآئِ لَیَقُوْلُوْنَ ۔ اِنْ ھِیَ اِلاَّ مَوْتَتُنَا الْاُوْلٰی وَمَا نَحْنُ بِمُنْشَرِیْنَ ۔ (الدخان : 34، 35) (بےشک یہ لوگ کہتے ہیں۔ ہماری پہلی موت کے سوا اور کچھ نہیں اور ہم اس کے بعد زندہ نہیں کیے جائیں گے۔ ) قریش کا عقیدہ گزشتہ آیات میں جو کچھ فرمایا گیا ہے انھیں سن لینے یا پڑھ لینے کے بعد بجز اس آدمی کے جس نے اپنی محرومی کا فیصلہ کر رکھا ہو، کوئی دوسرا شخص ہدایت سے محروم نہیں رہ سکتا۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، اللہ تعالیٰ کے دین کی حقانیت اور وقوع قیامت پر ایسے عقلی اور واقعاتی دلائل دیئے گئے ہیں کہ جن کا جواب دینا آسان نہیں۔ لیکن قریش اور ان کے ہمنوائوں کا حال یہ ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
فہم القرآن ربط کلام : فرعون اور اس کے ساتھیوں کا انجام ذکر کرنے کے بعد اہل مکہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ تم بھی گھمنڈ میں آکر کہتے ہو کہ دنیا کی موت ہی ہمارا آخری انجام ہے کیا انہیں معلوم نہیں کہ قیامت کا انکار کرنے والوں کا کیا انجام ہوا جن میں قوم آل فرعون کے ساتھ تبع بھی شامل ہے۔ قرآن مجید نے منکرین قیامت کو سمجھانے کے لیے عقلی اور نقلی دلائل کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ قیامت ہر صورت قائم ہوگی۔ لیکن قیامت کا انکار کرنے والے بلادلیل اپنی بات اور ہٹ دھرمی پر قائم رہتے ہیں۔ یہی حالت اہل مکہ کی تھی۔ نبی ﷺ نے انہیں قرآن مجید کے دلائل کے ساتھ بار بار سمجھایا کہ قیامت ہر صورت برپا ہوکر رہے…
Read the full tafseer →آیت 34 : اِنَّ ہٰٓؤُلَآئِ (بیشک یہ لوگ) کفار قریشلَیَقُوْلُوْنَ (کہتے ہیں)
Read the full tafseer →33، وآتیناھم من الایات مافیہ بلاء مبین، قتادہ (رح) فرماتے ہیں واضح نعمت ہے سمندرکوپھاڑنے اور بادلوں کے سایہ کرنے اور من وسلوی اتارنے میں اور وہ نعمتیں جو ہم نے ان پر کیں ۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں کہ ان کی آز مائش کی نرمی اور سختی کے ساتھ اور پڑھا، ونبلوکم بالشروالخیرفتنۃ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–36
30۔ 36۔ اوپر فرعون کے ڈوب کر ہلاک ہونے کا ذکر تھا ان آیتوں میں اس کے نتیجہ کا ذکر فرما کر کہ فرعون اپنے جیتے جی بنی اسرائیل کو طرح طرح کی تکلیفیں جو دیتا تھا ان کے لڑکوں کو قتل کراتا تھا ان سے ذلت کے کام لیتا تھا اللہ تعالیٰ نے فرعون کو ہلاک کرکے بنی اسرائیل کی یہ سب تکلیفیں رفع کردیں پھر فرعون کا ذکر فرمایا کہ وہ حد سے بڑھ کر سرکشی کرنے لگا تھا اس لئے اس کو سزا دی گئی ‘ فرعون یوں تو دہریہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کا منکر تھا لیکن اس میں یہ بات دہریوں سے بڑھ کر تھی کہ وہ گمراہی کے سب سے اپنے آپکو خدا کہلاتا تھا۔ سورة الشعراء میں گزر چکا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
آیت 34 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے : (ان ھولآء) بیشک یہ جھٹلانے والے لوگ، مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور قیامت کو بہت بعید سمجھتے ہوئے کہتے ہیں : (آیت) ” یہ ہماری بس پہلی بار کی موت ہے اور ہم دوبارہ اٹھائے نہیں جائیں گے۔ “ یعنی یہ ہماری صرف دنیا ہی کی زندگی ہے، مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا نہ جنت اور جہنم کا کوئی وجود ہے۔ پھر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں گستاخی کرتے ہوئے اور اسے عاجز سمجھتے ہوئے کہا : (آیت) ” پس اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کر لاؤ۔ “ یہ عناد پسند جہلاء کا مطالبہ تھا جو بہت دور کی کوڑی لائے تھے۔ بلھا ! رسول کریم ﷺ کی صداقت اور ان جہلاء کے آباء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
40 منکرین کی طرف سے بعث بعد الموت کے انکار کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان لوگوں ۔ یعنی منکرین کا ۔ کہنا ہے کہ ہمیں دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا "۔ جیسا کہ تم لوگ کہتے ہو ۔ اے مسلمانو !۔ کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنا ہے۔ اور اپنے کئے کرائے کا حساب دینا اور اس کا بدلہ پانا ہے۔ بلکہ زندگی تو یہی دنیاوی زندگی ہے اور بس۔ سو جو اس میں عیش کر گیا وہ کر گیا۔ پھر اٹھنا وٹھنا کچھ نہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ قیامت وغیرہ کا ڈراوا تو محض ایک ہوّا ہے۔ موت تو بس یہی موت ہے جس سے اس دنیا میں سابقہ اور واسطہ پیش آتا ہے اور بس۔ اور یہی موت اول بھی ہے اور آخر بھی۔ اس کے بعد نہ کوئی موت ہے نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
قرآن سچ ہے اور اس کے علاہ سب غلط ہے تشریح : ان تمام آیات میں اللہ کی ان تدابیر کا ذکر کیا گیا ہے جو اس نے کائنات کے لیے مرتب کر رکھی ہیں۔ مثلاً میجر جنرل غلام محمد ملک صاحب اس کی بڑے خوبصورت انداز میں یوں وضاحت کرتے ہیں : فلسفہ تاریخ جس طرح سیاسی واقعات کی تکرار اور حوادث کے بار بار اعادہ سے اصول اور نتائج تک پہنچ کر ایک عام تاریخی قانون بنا لیتا ہے اسی طرح انبیاء علیھم السلام کے سوانح اور تاریخیں بھی اپنے واقعات کے بار بار اعادہ سے خصائصِ نبوت کا اصول قانون ہمارے لیے مرتب کرتی ہے۔ پیغمبرانہ تاریخ کے انہی اصول و قوانین میں سے ایک یہ ہے کہ نبی جب اپنے کمال انسانیت کو پہنچ کر فیضان نبوت کے قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–42
آیات 30 تا 42۔ اسرار ومعارف۔ اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے اس عذاب سے جس میں فرعون نے انہیں مبتلا کررکھا تھا نجات دی ، کہ فرعون بہت ہی سرکش تھا اور تمام حدود عبور کرجانے والوں میں سے تھا ، نیز ہم نے انہیں اپنے علم کے مطابق اس دور کے تمام لوگوں پہ فضیلت بخشی اور ہم نے انہیں اپنی عظمت کی نشانیاں عطا کیں۔ مادی اور ظاہری بھی کہ فرعون سے نجات اور باطنی بھی علوم نبوت اور معجزات کا ظہور جو اللہ کی طرف سے انعام بھی تھیں اور آزمائش کا سبب بھی۔ یہ لوگ ان اقوام کے حالات سے سبق حاصل نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ صرف یہی دنیا کی زندگی ہے اور یہی ایک بات موت ہے ہمیں دوبارہ زندہ نہیں ہوناچاہیے ، اور دلیل یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
ف 6 یعنی ایک دفعہ مرنے کے بعد پس فنا ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →(44:34) ان ھولائ : ان حرف مشبہ بفعل ہے بمعنی تحقیق ۔ بےشک۔ یقینا : ھولاء اسم اشارہ جمع مذکر مؤنث، یہ لوگ، مراد مشرکین مکہ ہیں۔ گفتگو ان کی ہو رہی تھی ۔ ان کو کفر سے باز آنے کی تلقین کے جا رہی تھی۔ بیچ میں فرعون اور اس کی قوم کا ذکر صیحۃ آگیا کہ وہ بھی دنیاوی جاہ و جلال اور دنیاوی نعمتوں میں مستغرق ہوکر بکمال تعصب وہٹ دھرمی قبول حو سے انکاری کرتے رہے۔ پھر ان کا کیا انجام ہوا۔ مشرکین مکہ کو اس انجام بد سے باخبر کرکے سبق سیکھنے کے لئے اس کا ذکر ہوا۔ اس ضمنی بحث کے بعد پھر ان سے خطاب ہے ان ھؤلاء لیقولون بیشک یہ لوگ (کفار مک) یہ کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–42
لغات القرآن آیت نمبر 34 تا 42 : منشرین (دوبارہ اٹھنے والے) میقات ( مقررہ وقت) لا یغنی (کام نہ آئے گا) مولی ( ساتھی ، دوست) تشریح : آیت نمبر 34 تا 42 : جس طرح نمرود ، فرعون ، قیصر و کسریٰ مختلف ملکوں کے بادشاہوں کے لقب تھے اسی طرح قبیلہ حمیر کے بادشاہ کا لقب تبع تھا۔ تبع نام کے بہت سے بادشاہ گزرے ہیں ، چونکہ حجاز سے قریب تر علاقے ملک یمن اور سباپر قوم تبع کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے دو ڈھائی سو سال پہلے اور نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی پیدائش سے تقریباً سات سو سال پہلے حکمرانی کا موقع ملا تھا اس لئے عرب میں قوم تبع کا کا فی چرچا تھا اور جزریۃ العرب کے لوگ تبع اور قوم تبع سے اچھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–36
نافرمان قوموں کا انجام۔ (ف 1) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مع بنی اسرائیل دریا کے پار ہوئے تو حضرت موسیٰ نے چاہا کہ دریا کو اپنے عصا سے ماریں کہ پھر ویسا ہی ہوجائے جیسا تھا، تاکہ اس راستہ سے فرعون اور اس کے ساتھی دریا سے پار ہوکربنی اسرائیل کا پیچھا نہ کریں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم دیا کہ دریاکواسی طرح بیچ میں خشک رہنے دو تاکہ فرعون اور اس کا لشکر دریا کی خشک زمین پر پہنچ جاویں تو پانی کا پاٹ ملادیاجائے اور ان سب کو غرق کردیاجائے، اسی قصہ کو مختصر طور پر فرمایا کہ فرعون اور اس کے ساتھی اپنے باغ اور نہریں ، کھیتیاں، اچھے مکان اور راحت کا ہر طرح کا سامان مصر میں چھوڑ کر یہاں دریائے قلزم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
[10] تُبَّع یمن کے بادشاہوں کا لقب تھا۔ یہ اپنے وقت کے بڑے عظیم الشان اور جلیل القدر فرمانروا تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
ایمان وکفر کی آویزش 1: ان آیات میں حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کا قصہ ہے ۔ کہ کیونکر ان کو فرعون ایسے ظالم ومستبد بادشاہ کے چنگل سے رہائی نصیب ہوئی ۔ اس کو پانی قوت پر ناز تھا ۔ اپنے عساکر اور فوجوں پر غرہ تھا ۔ اپنے قلعوں اور اونچے اونچے مجلوں پر فخر تھا ۔ یہ بات اس کے ذہن سے بہت دور تھی کہ غریب اور مفلس ومظلوم قوم کبھی اتنے عالی قدر بادشاہ کا مقابلہ کر پائے گی ۔ اور اس کی مخلصی کے سامان غیب سے مہیا ہوسکیں گے ۔ مگر اللہ کی طرف سے مقدر ہوچکا تھا ۔ کہ ایمان وکفر کا تصادم ہو ۔ افلاس اور تمول میں ٹھن جائے ۔ موسیٰ اور باجبروت وسطوت شخصیت میں معرکہ آرائی ہو ۔ اور فتح ہو ایمان کی ۔ کامیابی کا تاج…
Read the full tafseer →(34) یہ کفار قریش کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
ف 6۔ مطلب یہ کہ اخیر حالت وہ حیات اخرویہ نہیں بلکہ یہ موت دنیوی ہی اخیر حالت ہے۔
Read the full tafseer →یہ لوگ بڑے عزم وجزم کے ساتھ اٹھتے ہیں 43 ؎ (ھولا) یہ لوگ اس سے مراد نبی اعظم وآخر ﷺ کے مخاطبین اول ہیں اور یہ امر معلوم ہے کہ مخاطبین اول مکہ کے لوگ ، قریش اور دوسرے سارے خاندان ہیں جو نبی کریم ﷺ کے معاصرین تھے اور جن کو مخاطب کرکے آپ ﷺ نے دعوت نبوت و رسالت پیش کی تھی۔ وہ کہتے ہیں اور جو کچھ کہتے ہیں وہ آنے والی آیت نے واضح کردیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
وَآتَيْنَاهُم مِّنَ الْآيَاتِ مَا فِيهِ بَلَاءٌ مُّبِينٌ And We gave them the clear signs in which there was a manifest blessing. (44:33) " The word 'signs' refers to the miracles of the staff, the shining hand and others. The word 1 bala' has two senses: (1) blessing; and (2) trial. Here both senses are possible. (Qurtubi).
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
30 That is, "When we die the first time, we shall be annihilated: there will be no other lift after that".
Read the full tafseer →