Explained with ayahs 17–33
قبطیوں کا انجام
ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کردو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو…
Read the full tafseer →سورة الدُّخَان 28
یعنی بنی اسرائیل کی خوبیاں اور کمزوریاں دونوں اللہ پر عیاں تھیں اس نے بےدیکھے بھالے اس کا انتخاب اندھا دھند نہیں کرلیا تھا۔ اس وقت دنیا میں جتنی قومیں موجود تھیں ان میں سے اس قوم کو جب اس نے اپنے پیغام کا حامل اور اپنی توحید کی دعوت کا علمبردار بنانے کے لیے چنا تو اس بنا پر چنا کہ اس کے علم میں وقت کی موجود قوموں میں سے یہی اس کے لیے موزوں تر تھی۔
Read the full tafseer →(آیت) وَلَــقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰي عِلْمٍ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ (اور ہم نے بنی اسرائیل کو اپنے علم کی رو سے دنیا جہان والوں پر فوقیت دی) اس سے بنی اسرائیل کا امت محمدیہ علی صاحبہا السلام پر فائق ہونا لازمی نہیں آتا۔ کیونکہ اس سے مراد اس زمانے کے دنیا جہان والے ہیں اور اس وقت بلاشبہ وہ تمام اقوام سے افضل تھے اور یہ ایسا ہی ہے جیسے حضرت مریم کے لئے ”نساء العالمین پر فضیلت کا قرآن کریم نے ذکر فرمایا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی خاص پہلو سے بنی اسرائیل کو تمام دنیا اور ہر زمانے کے لوگوں پر کوئی فضیلت حاصل ہو لیکن مجموعی حیثیت سے افضلیت امت محمدیہ ہی کو حاصل ہے (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ابن کثیر…
Read the full tafseer →ولقد اخترنھم علی علم علی العلمین (32)
جو قوم شریعت کی حامل ہوتی ہے وہی خلق کی رہنمائی کی اہل ہوتی ہے
یعنی فرعون اور اس کی قوم کو تو ہم نے غرق دریا کیا اور بنی اسرائیل کو جو ان کے قدموں کے نیچے پامال ہو رہے تھے، اہل عالم کی رہنمائی کے لئے انتخبا یا۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ جو قوم خدا کی شریعت کی حامل بنائی جاتی ہے فطری طور پر وہی اہل اور حقدار ہوتی ہے اس بات کی کہ وہ خلق کی رہنمائی کیر۔ اس کا یہ منصب مشروط ہوتا ہے اس شرط کے ساتھ کہ وہ اپنی منصبی ذمہ داری پوری دیانت کے ساتھ ادا کرے اگر وہ یہ ذمہ داری ادا نہ رے تو اللہ تعالیٰ اس سے یہ منصب چھین کر دوسروں ک کے حوالہ کردیتا ہے۔ ایک خاص دور میں بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
32۔ 1 اس جہان سے مراد بنی اسرائیل کے زمانے کا جہان ہے کل جہان نہیں ہے، کیونکہ قرآن میں امت محمدیہ کو کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ کے لقب سے ملقب کیا گیا ہے یعنی بنی اسرائیل اپنے زمانے میں دنیا جہان والوں پر فضیلت رکھتے تھے ان کی یہ فضیلت اس استحقاق کی وجہ سے تھی جس کا علم اللہ کو ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–33
9: اس سے مراد وہ انعامات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے بنو اسرائیل پر فرمائے، مثلاً من وسلوی نازل کرنا، پتھر سے چشمے نکال دینا وغیرہ، جن کا ذکر سورة بقرہ : 47 تا 58 میں فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
آیت نمبر 17 تا 33
اس وادی کے دروازے ہی پر یہ خوفناک اعلان لکھا ہوا ہے کہ یاد رکھو ، کسی قوم کی طرف رسول کا بھیجا جانا اس کی آزمائش ہوتی ہے۔ مکذبین کو یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ وقت بہت تھورا ہے ، اس میں تم تکذیب بھی کرسکتے ہو ، تکبر اور غرور بھی کرسکتے ہو۔ رسول کو ایذا بھی دے سکتے ہو ، تکبر اور غرور بھی کرسکتے ہو۔ رسول کو ایذا بھی دے سکتے ہو ، مومنین پر ظلم و ستم بھی ڈھا سکتے ہو لیکن آخر میں غرور کا سر نیچا ہوتا ہے اور تم جو رسول اللہ ﷺ کو طیش دلاتے ہو ، ان کا پیمانہ صبر لبریز کرتے ہو ، لیکن آپ ﷺ بدستور صبر کا پیکر بنے ہوئے ہیں اور تمہاری ہدایت ہی کے امیدوار ہیں ، اس کا انجام برا بھی ہو سکتا…
Read the full tafseer →1 یعنی اگرچہ بنی اسرائیل کی کمزوریاں بھی ہم کو معلوم تھیں۔ تاہم ان کو ہم نے اس زمانہ کے تمام لوگوں سے فضیلت دی۔ اور بعض فضائل جزئیہ تو وہ ہیں جو آج تک کسی قوم کو میسر نہیں ہوئے مثلاً اتنے بیشمار انبیاء کا ان میں اٹھایا جانا۔
Read the full tafseer →آیت 32 { وَلَقَدِ اخْتَرْنٰـہُمْ عَلٰی عِلْمٍ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ } ”اور ہم نے علم رکھنے کے باوجود اُن بنی اسرائیل کو اقوامِ عالم پر ترجیح دی تھی۔“
بنی اسرائیل کی تمام خرابیاں اور کوتاہیاں ہمارے علم میں تھیں۔ اس کے باوجود ہم نے دنیا کی تمام اقوام پر انہیں فضیلت دے کر برگزیدہ کیا تھا۔ بنی اسرائیل کی اس فضیلت کا ذکر قرآن حکیم میں بار بار آیا ہے۔ سورة البقرۃ میں یہ آیت دو مرتبہ 47 اور 122 آئی ہے : { یٰـبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وَاَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ 4 } ”اے بنی اسرائیل ! یاد کرو میرے اس انعام کو جو میں نے تم پر کیا اور یہ…
Read the full tafseer →24 یعنی یہ بات عرب جانتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں کئی قسم کی خامیاں موجود ہیں۔ تاہم دوسری قوموں کی نسبت پھر بھی بہتر ہیں۔ لہذا ہم نے اہل عالم کی دینی قیادت انہیں کے سپرد کردی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
20۔ بنی اسرائیل کی فضیلت و فوقیت کا بیان کئی بار آچکا ہے۔ اور اس کی توضیح سورة البقرۃ (پ 1) کے حاشیوں میں آچکی ہے۔ یہاں یہ بتایا ہے کہ یہ افضلیت واشرفیت یوں ہی اٹکل پچو بلاوجہ نہ تھی، خاص مصالح تکوینی کے ماتحت تھی۔ (آیت) ” بنی اسرآء یل۔ العذاب المھین۔ فرعون “۔ فرعون، بنی اسرائیل اور ان پر سختیاں، ان سب پر حاشیے سورة البقرۃ (پ 1) میں گزر چکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–42
آیت نمبر 30 تا 42
ترجمہ : اور بیشک ہم نے (ہی) بنی اسرائیل کو رسواکن سزا سے نجات دی یعنی لڑکوں کے قتل اور عورتوں کو خادمہ بنانے سے، جو فرعون کی طرف سے (ہو رہی) تھی، کہا گیا ہے کہ مِنْ فرعونَ ، عذاب سے تقدیر مضاف کے ساتھ بدل ہے ای من عذاب فرعون اور کہا گیا ہے کہ عزاب سے حال ہے فی الواقع وہ سرکش حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے تھا اور ہم نے بنی اسرائیل کو ہمارے ان کے حالات سے واقف ہونے کی وجہ سے ان کے زمانہ کے عقلاء پر فوقیت دی اور ہم نے ان کو ایسی نشانیاں دیں جن میں صریح انعام تھا یعنی کھلی نعمتیں تھیں، مثلاً دریا کو چیرنا اور من و سلوٰی وغیرہ یہ لوگ یعنی کفار مکہ تو یہی کہتے ہیں، نہیں ہے ایسی…
Read the full tafseer →ولقد اخترنھم علی علم علی العلمین۔ اور (اسکے علاوہ) ہم نے بنی اسرائیل کو اپنے علم کی رو سے (بعض امور میں) تمام دنیا جہان والوں پر فوقیت دی (ترجمہ از مولانا تھانوی)
Read the full tafseer →اور ہم نے بنی اسرائیل کو اپنے علم کی رو سے جو کہ ہم نے ان کو سکھایا تمام جہانوں پر فوقیت دی اور من وسلوی کتاب اور رسول اور فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر منتخب کیا۔
Read the full tafseer →(1) ولقد اخترنھم ”اخترنا“”ختاریختار اختیاراً“ (افتعال) سے جمع متکلم ماضی معلوم ہے۔ یہاں بھی ”لقد“ لانے کا مقصد یہی ہے کہ اتنی پسی ہوئی قوم کو یکایک تمام دنیا پر برتری کیسے مل سکتی ہے ؟ فرمایا قسم ہے کہ ہم نے انھیں تمام جہانوں پر چن لیا، پھر ہمارے چنے ہوؤں کو برتری کیوں حاصل نہ ہوگی،۔
(2) علی علم : یعنی ہم نے بلا وجہ ان کا انتخاب نہیں کیا، بلکہ ہمیں ان کی خوبیوں اور صلاحیتوں کا علم تھا اور ہم ان کی خامیوں اور کمزوریوں سے بھی واقف تھے۔ اس علم ہی کی بنا پر ہم نے ان کے زمانے کی تمام قوموں میں سے ان کا انتخاب کیا۔
(3) علی العلمین :”العلمین“ سے مراد ان کے زمانے کے جہان ہیں ، کل جہان نہیں، کیونکہ…
Read the full tafseer →ضمیر سے مراد بنی اسرائیل ہیں ہمیں ان کے بارے میں علم تھا کہ ان میں سے کثیر انبیاء ہوں گے ان کے زمانہ کے لوگوں پر اس کی دلیل پر آیت ہے (آل عمران 110) یہ قتادہ اور دوسرے علماء کا قول ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے تمام عالموں پر کیونکہ ان میں انبیاء بنائے۔ یہ ان کے لئے خاص ہے یہ غیر کے کے لئے نہیں، یہ قول، ابن عیسیٰ ، زمحشری اور دوسرے علماء نے کیا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان یہ بنی اسرائیل کے بعد کے لئے ہیں اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ پسندیدگی، اس بناء پر تھی کہ انہیں غرق ہونے سے چھٹکارا دلایا جائے اور فرعون کے بعد انہیں زمین کا مالک بنا دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–36
1:۔ الفریابی وابن جریر وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد اخترنہم علی علم علی العلمین “ (اور ہم نے اسرائیل اپنے علم کی رو سے تمام جہاں والو پر فوقیت دی) یعنی ہم نے ان کو فضیلت دی دوسرے لوگوں پر۔
2:۔ عبدبن حمید (رح) اور ابن جریر (رح) اور ابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے ان کو اس بھلائی سے چن لیا جو اللہ تعالیٰ نے ان کو تعلیم دی جہاں والوں پر (یعنی سارے جہاں والوں کو چھوڑ کر ان کو علم دیا) فرمایا علم جو ان میں تھے اور ہر زمانے کا عالم ہے (آیت ) ” واتینہم من الایت مافیہ بلٓؤا مبین “ یعنی (اور ہم نے ان کو نشانیاں دی جن میں صریح آزمائش تھی یعنی ان کو نجات…
Read the full tafseer →وَلَــقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ [ اور بیشک ہم نے چنا تھا ان کو ] عَلٰي عِلْمٍ [ ایک علم (کی بنیاد) پر ] عَلَي الْعٰلَمِيْنَ [ تمام جہاں والوں پر (سے ) ]
نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 32 ۔ میں علی علم کے الفاظ سے تاریخ کے اس فلسفہ کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اس دنیا میں قوموں کا عزل ونصب (معزول ہونا اور منصب پر فائض ہونا ) اتفاقی واقعات کے طور پر نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی کسوٹی پر جانچ کر جس قوم کو اہل پاتا ہے اس کو منتخب کرتا ہے اور جس کو نااہل پاتا ہے اس کو رد کردیتا ہے ۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ جو معزول ہوئے ہیں وہ دوسروں کو الزام دینے کے بجائے اپنی نالائقی پر سر پیٹیں اور جو اقتدار پر آئے وہ فخر و غرور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
پھر فرمایا ﴿فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِيْنَ (رح) 0029﴾ (سو ان پر آسمان اور زمین کو رونا نہ آیا اور وہ مہلت دئیے جانے والے نہ تھے) یعنی اللہ تعالیٰ نے مبغوض اور مغضوب علہیم ہونے کی وجہ سے ہلاک فرما دیا اور یہ لوگ نہ صرف اللہ تعالیٰ کے مبغوض تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو بھی ان سے بغض تھا گو تکوینی طور پر بامر الٰہی ان پر بارش ہوتی تھی اور زمین بھی ان کا رزق اگاتی تھی، لیکن اللہ تعالیٰ اور اس کے عظیم آسمان و زمین ان سے راضی نہ تھے لہٰذا ان کے بیک وقت غرق ہونے پر انہیں ذرا بھی ترس نہ آیا اور ان کی ہلاکت کی وجہ سے وہ ذرا بھی نہ روئے۔
مومن کی موت پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–39
نجات و کامیابی بنی اسرائیل مع بیان بعث بعد موت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ولقد نجینا بنی ٓ اسرآء یل ....... الی ...... اکثرھم لا یعلمون “۔
(ربط) گزشتہ آیات کا مضمون قوم مجرمین کے عبرت ناک انجام اور فرعون لعین کی ہلاکت اور تباہی کا تھا تو اب ان آیات میں اس کے بالمقابل یہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ حق تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کے ساتھیوں کو کس طرح نجات و کامیابی عطا فرمائی اور اسی کے ساتھ ان دلائل کو بھی ذکر کیا جارہا ہے، جو بعث بعد از موت کو ثابت کرنے والے ہیں، اور ان شبہات اور لغو اعتراضات کو بھی رد کیا گیا، جو منکرین کیا کرتے تھے، ارشاد فرمایا ! اور بیشک ہم نے نجات دی بنی اسرائیل کو ایک ذلت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
21:۔ ” ان ھؤلاء “ یہ اہل مکہ کی طرف التفات اور شکوی ہے۔ مشرکین مکہ کہتے ہیں کہ بس اس پہلی زندگی کے ختم ہوجانے سے قصہ تمام ہوجائیگا اور اس کے بعد پھر کوئی زندگی نہیں ہوگی اور ہمیں دوبارہ نہیں اٹھایا جائیگا۔ یعنی یہ جو پہلے آنے والی موت ہے اس کو تو ہم مانتے ہیں، لیکن اس کے بعد جو دوسری زندگی بتائی جاتی ہے اسے ہم نہیں مانتے۔ اب یہ اعتراض نہ رہا کہ کفار موت کو تو مانتے تھے اور انکار دوسری حیاتی کا کرتے تھے اس لیے ” انھی الا حیاتنا الاولی “ کہنا چاہئے تھا۔ ” فاتوا بابائنا الخ “ خطاب رسول اللہ ﷺ اور مومنین سے ہے یعنی اگر تم اس دعوے میں سچے ہو کہ انسان مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوں گے تو ہمارے باپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–41
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید ، رسالت اور معاد کا مسئلہ سمجھانے کے لئے سابقہ اقوام اور خاص طور پر قوم فرعون کا ذکر کیا۔ پھر اس کے انجام کو بھی بیان کیا جو اس کے غرور وتکبر کی وجہ سے ہوا۔ وہ لوگ خود تو بحر قلزم میں غرق ہوگئے اور اپنے پیچھے ساز و سامان ، باغات ، چشمے ، مملات اور دیگر عیش و عشرت کی اشیاء چھوڑ گئے جن کا وارث اللہ نے دوسرے لوگوں کو بنایا۔ اللہ نے یہ بھی عبرت کے طور پر فرمایا کہ ان ناہنجاروں کی ہلاکت پر ارض و سمانہ رونے یعنی انہوں نے کوئی افسوس نہ کیا۔ جب ان لوگوں پر گرفت آئی تو پھر انہیں سنبھلنے کی مہلت بھی نہ ملی۔ اس سے حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کی تسلی بھی مطلوب…
Read the full tafseer →وَلَــقَدِ اخْتَرْنٰہُمْ عَلٰي عِلْمٍ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ 32 ۚ
( قَدْ )
: حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–42
ترکیب : من فرعون بدل من العذاب علی حذف المضاف ای من عذابہ وقیل لاحاجۃ الی الحذف لان فرعون فی نفسہ کان عذابا مہینالافراطہ فی تعذیب بنی اسرائیل قرء ابن عباس ؓ من فرعون فیکون استفہاما انہ کان الخ جو ابہ مافیہ الخ مفعول ثان لاتینا۔
تفسیر : ولقد نجینا یہ بیان سابق کا تتمہ ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو سخت عذاب سے نجات دی جو فرعون سرکش کے ہاتھ سے ان پر ہوا کرتا تھا اور صرف مصیبت ہی دفع نہیں کی بلکہ ذلت کے بدلے ان کو عزت دی۔ یہ ہیں اخترناھم علی العالمین کے معنی اور مصیبت کے بدلہ بڑی نعمتیں دیں کہ جن میں ان کی آزمائش تھی اور وہ نعماء خدا کی نشانیاں تھیں جیسا کہ قلزم سے پاراتارنا ‘ من وسلویٰ ‘ پانی کا…
Read the full tafseer →وَلَقَدِاخْتَرْنٰـہُمْ عَلٰی عِلْمٍ عَلَی الْعٰـلَمِیْنَ ۔ (الدخان : 32)
(ہم نے ان کو دنیا والوں پر سب کچھ جانتے ہوئے ترجیح دی۔ )
بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر دوسرا احسان یہ کیا کہ فرعون اور اس کی قوم کو تو بحرقلزم میں غرق کردیا گیا لیکن بنی اسرائیل کو اس عظیم منصب کے لیے چن لیا گیا جس کی امامت کا شرف ان کے جدِامجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حاصل رہا۔ یعنی توحید کی امانت ان کے سپرد کی گئی۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جیسے عظیم رسول کو مبعوث فرما کر قومی شیرازہ بندگی اور تبلیغ و دعوت کے سارے امکانات ان پر کھول دیئے گئے اور یہ اتنا بڑا فیصلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کا اذیت ناک عذاب سے نجات پانا ہے۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں کا غرق ہونا۔
اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو سمندر میں غرقاب کیا کیونکہ وہ بڑا ہی عالی اور غالی انسان تھا۔ دنیا میں بڑے بڑے باغی اور سرکش انسان گزرے ہیں مگر کسی نے رب الاعلیٰ ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ فرعون ایساغالی اور متکبر انسان تھا کہ اس نے رب الاعلیٰ ہونے کا دعویٰ کیا اور لوگوں کو جبراً اپنے سامنے جھکا یا کرتا تھا۔ وہ بنی اسرائیل کو اذیت ناک سزائیں دیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ جنہیں بنی اسرائیل موسیٰ (علیہ السلام) کی بےمثال جدوجہد کے نتیجے میں نجات عطا فرمائی۔ جس کے بارے میں عذاب مھین کے الفاظ…
Read the full tafseer →آیت 32 : وَلَقَدِ اخْتَرْنٰہُمْ (اور ہم نے ان کو فوقیت دی) یعنی بنی اسرائیل کو عَلٰی عِلْمٍ (علم کی رو سے) ضمیر فاعلی سے حال ہے۔ ای عالمین بمکان الخیرۃ وبانہم احقاء ان یختاروا۔ چنائو کے مقام کو جانتے ہوئے اور اس لئے کہ وہ چنائو کے حقدار تھے۔ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ (جہان والوں پر) ان کے زمانہ کے جتنے لوگ تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
30، ولقد نجینا بنی اسرائیل من العذاب المھین، بیٹوں کے قتل کرنے اور عورتوں کو زندہ رکھنے اور مشقت والے کاموں سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–36
30۔ 36۔ اوپر فرعون کے ڈوب کر ہلاک ہونے کا ذکر تھا ان آیتوں میں اس کے نتیجہ کا ذکر فرما کر کہ فرعون اپنے جیتے جی بنی اسرائیل کو طرح طرح کی تکلیفیں جو دیتا تھا ان کے لڑکوں کو قتل کراتا تھا ان سے ذلت کے کام لیتا تھا اللہ تعالیٰ نے فرعون کو ہلاک کرکے بنی اسرائیل کی یہ سب تکلیفیں رفع کردیں پھر فرعون کا ذکر فرمایا کہ وہ حد سے بڑھ کر سرکشی کرنے لگا تھا اس لئے اس کو سزا دی گئی ‘ فرعون یوں تو دہریہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کا منکر تھا لیکن اس میں یہ بات دہریوں سے بڑھ کر تھی کہ وہ گمراہی کے سب سے اپنے آپکو خدا کہلاتا تھا۔ سورة الشعراء میں گزر چکا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
آیت 17
رسول مصطفیٰ محمد ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ گزشتہ زمانوں میں بھی جھٹلانے والے موجود تھے اور ان کا قصہ حضرت موسیٰ کے ساتھ ذکر فرمایا، نیز اس عذاب کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کیا تاکہ جھٹلانے والے اپنے اس رویے سے باز آجائیں فرمایا : (آیت) ” یعنی ہم نے اپنے رسول کریم حضرت موسیٰ بن عمران کو ان کی طرف مبعوث کر کے انہیں آزمایا جن میں بھلائی اور مکارم اخلاق بدرجہ اتم موجود تھے جو کسی اور میں موجود نہ تھے۔
(ان ادوآ الی عباد اللہ) یعنی حضرت موسیٰ نے فرعون اور اس کے سرداروں سے کہا ” اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کردو۔ “ اس سے حضرت موسیٰ کی مراد بنی اسرائیل…
Read the full tafseer →37 دین و شریعت کی دولت ذریعہ عزت و عظمت : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ ہم نے ان ۔ بنی اسرائیل ۔ کو چن لیا تھا علم کی بنا پر "۔ یعنی اپنے اس علم کی بنا پر کہ وہ اس شرف و منصب کے اہل و مستحق تھے۔ نیز اس بنا پر کہ وہ علم والے تھے۔ کیونکہ وہ اہل کتاب اور صاحب دین تھے اور اپنے دور میں کتاب اور شریعت کی روشنی انہی کے پاس تھی۔ اس طرح { علی علم } کے دو مفہوم نکلتے ہیں۔ اور دونوں ہی صحیح اور برمحل ہیں۔ اور حضرات مفسرین کرام نے دونوں کا ذکر کیا ہے۔ (جامع البیان، صفوۃ التفاسیر، محاسن التاویل اور المراغی وغیرہ) ۔ سو اپنی خدائی کا دعویٰ کرنے والے فرعون اور اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
قرآن سچ ہے اور اس کے علاہ سب غلط ہے
تشریح : ان تمام آیات میں اللہ کی ان تدابیر کا ذکر کیا گیا ہے جو اس نے کائنات کے لیے مرتب کر رکھی ہیں۔ مثلاً میجر جنرل غلام محمد ملک صاحب اس کی بڑے خوبصورت انداز میں یوں وضاحت کرتے ہیں : فلسفہ تاریخ جس طرح سیاسی واقعات کی تکرار اور حوادث کے بار بار اعادہ سے اصول اور نتائج تک پہنچ کر ایک عام تاریخی قانون بنا لیتا ہے اسی طرح انبیاء علیھم السلام کے سوانح اور تاریخیں بھی اپنے واقعات کے بار بار اعادہ سے خصائصِ نبوت کا اصول قانون ہمارے لیے مرتب کرتی ہے۔ پیغمبرانہ تاریخ کے انہی اصول و قوانین میں سے ایک یہ ہے کہ نبی جب اپنے کمال انسانیت کو پہنچ کر فیضان نبوت کے قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–42
آیات 30 تا 42۔
اسرار ومعارف۔
اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے اس عذاب سے جس میں فرعون نے انہیں مبتلا کررکھا تھا نجات دی ، کہ فرعون بہت ہی سرکش تھا اور تمام حدود عبور کرجانے والوں میں سے تھا ، نیز ہم نے انہیں اپنے علم کے مطابق اس دور کے تمام لوگوں پہ فضیلت بخشی اور ہم نے انہیں اپنی عظمت کی نشانیاں عطا کیں۔ مادی اور ظاہری بھی کہ فرعون سے نجات اور باطنی بھی علوم نبوت اور معجزات کا ظہور جو اللہ کی طرف سے انعام بھی تھیں اور آزمائش کا سبب بھی۔
یہ لوگ ان اقوام کے حالات سے سبق حاصل نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ صرف یہی دنیا کی زندگی ہے اور یہی ایک بات موت ہے ہمیں دوبارہ زندہ نہیں ہوناچاہیے ، اور دلیل یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
ف 4 ان کے زمانے میں “ کی شرط اس لئے ضروری ہے کہ معلق طور پر سب سے بہتر امت مسلمہ ہے (دیکھیے آل عمران) جان بوجھ کر “ کہنے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس فضیلت کے لائق ہیں۔ (جامع)
Read the full tafseer →(44:32) قد اخترنھم : قد بمعنی تحقیق اخترنا ماضی جمع متکلم اختیار (افتعال) مصدر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ تحقیق ہم نے پسند کیا ان کو۔ ہم نے ان کو برتری دی۔ (بعض امور میں)
علی علم : علم کی بناء پر۔ علم کی رو سے۔ یعنی ہم کو علم تھا کہ وہ اس کے مستحق ہیں۔ یا ہم جانتے تھے کہ بعض احوال میں وہ کج رو ہوجائیں گے دانستہ طور پر۔
علی العلمین : اہل عالم پر۔ مطلب یہ کہ۔ ان کے زمانہ کے لوگوں ہر۔ یا علی تعلیل کے لئے ہے۔ اور آیت کا مطلب یہ ہے ہم نے ان کو (بنی اسرائیل کو) ان کے علم کی وجہ سے لوگوں پر فضیلت دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 33 : فتنا ( ہم نے آزمایا) لا تعلوا (تم نہ چڑھو) اعتزلون ( تم مجھ سے دور ہٹ جائو) اسر (تو راتوں رات چل) رھوا ( ٹھہرا ہوا) جند ( لشکر) مابکت (نہ روئی ، نہ رویا) منظرین (مہلت دیئے گئے) اخترانا ( ہم نے پسند کیا)
تشریح : آیت نمبر 17 تا 33 : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حق و صداقت کی سر بلندی اور ہدایت و تبلیغ میں ساری زندگی جدوجہد فرمائی فرعون اور آل فرعون نے جس طرح ان کی نافرمانی کی اس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی مختلف سورتوں میں عبرت و نصیحت کے لئے مختصر یا تفصیل سے بیان کیا ہے۔ یہاں ایک مرتبہ پھر حضرت موسیٰ کی زندگی کے ایک اور پہلو کو بیان کرکے کفار قریش کو آگاہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–36
نافرمان قوموں کا انجام۔
(ف 1) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مع بنی اسرائیل دریا کے پار ہوئے تو حضرت موسیٰ نے چاہا کہ دریا کو اپنے عصا سے ماریں کہ پھر ویسا ہی ہوجائے جیسا تھا، تاکہ اس راستہ سے فرعون اور اس کے ساتھی دریا سے پار ہوکربنی اسرائیل کا پیچھا نہ کریں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم دیا کہ دریاکواسی طرح بیچ میں خشک رہنے دو تاکہ فرعون اور اس کا لشکر دریا کی خشک زمین پر پہنچ جاویں تو پانی کا پاٹ ملادیاجائے اور ان سب کو غرق کردیاجائے، اسی قصہ کو مختصر طور پر فرمایا کہ فرعون اور اس کے ساتھی اپنے باغ اور نہریں ، کھیتیاں، اچھے مکان اور راحت کا ہر طرح کا سامان مصر میں چھوڑ کر یہاں دریائے قلزم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–32
[8] یعنی یہ افضلیت اور اشرفیت یوں ہی اٹکل پچو بلاوجہ نہ تھی۔ یہ اس لئے تھی کہ اللہ کے علم میں اس وقت کی قوموں میں اس کے لئے موزوں ترین قوم بنی اسرائیل تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–32
دھوئیں کا عذاب
1: مکہ والوں نے جب حضور ﷺ کے پیغام توحید کو ٹھکرایا اور انتہائی تحقیر وتذلیل کے ساتھ آپ کا خیرمقدم کیا ۔ تو اس وقت آپ کی زبان الہام ترجمان سے یہ کلمات بےاختیار نکل گئے ۔ کہ اے اللہ ان لوگوں پر اس قحط کا عذاب نازل کر جو تونے یوسف کے زمانہ میں نازل کیا تھا ۔ بس ان الفاظ کا حضور ﷺ کے منہ سے نکلنا تھا ۔ کہ اجابت نے ہاتھوں ہاتھ لیا ۔ آسمان نے رحمت کے دراوزوں کو ان پر بند کرلیا ۔ زمین میں خشک ہوگئی ۔ اور قحط وجوع نے قریش کو آزمائش میں ڈال دیا ۔ اس قدر فاقے ہونے لگے ۔ کہ بھوک کے مارے ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے دھواں سا معلوم ہونے لگا ۔ زندگی کے لئے یہ لوگ مجبور ہوگئے ۔ کہ مردار…
Read the full tafseer →(32) اور بلا شبہ ہم نے جان بوجھ کر اور اپنے علم و حکمت کی رو سے بنی اسرائیل کو اقوام عالم پر فوقیت و فضیلت عطا فرمائی اخترنھم کے اصل معنی تو پسندیدہ فرمانا اور پسند کرنا ہے۔ مگر ہم نے فوقیت اور فضیلت کردیا ہے حضرت حق کی پسندیدگی اور پسند فرمانا دلیل ہے۔
فوقیت اور فضیلت کی اور یہ معنی وانی فضلتکم علی العالمین کے موافق اور مطابق ہیں اقوام عالم سے مراد اس زمانے کی اقوام ہیں جیسا کہ ہم سورة بقرہ میں عرض کرچکے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اگرچہ ان میں یعنی بنی اسرائیل میں برائیاں بھی معلوم ہوتی تھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
ف 5۔ یعنی وہ امور جامع تھے درمیان دونوں وصف کے، نعمت ہونا اور دلیل قدرت ہونا، پھر بعض ان میں حسی نعمت تھی اور بعض ان میں معنوی نعمتیں تھیں۔
Read the full tafseer →بنی اسرائیل کو جانتے ہوئے اس وقت قبطیوں کے مقابلہ میں منتخب کرلیا
23 ؎ جو قوم کسی قوم کے پنجہ استبداد میں رہ کر ایک مدت تک زندگی اور موت کی کشمکش میں وقت گزارتی ہے اور اس کی کئی نسلیں ظلم برداشت کرچکی ہوں اس میں اگر کوئی خوبی رہ جاتی ہے تو وہ صرف اور صرف یہی خوبی ہوسکتی ہے کہ کوئی اس کا بیچاری قوم کہہ کر نام لے لے فی الواقع خوبی نام کی کوئی چیز اس میں باقی نہیں رہتی۔ ہاں ! اس میں کچھ حرکت پیدا ہوجائے اور ظالموں کے سامنے صرف اٹھ کر کھڑی ہوجائے تو اللہ تعالیٰ کی مدد اس کو پہنچ جاتی ہے اور ظالموں کو ان کے ظلم کی سزا دینے کے لیے یقینا کوئی صورت نکل آتی ہے۔ یہی حال قوم بنی اسرائیل کا تھا ۔ زیر نظر…
Read the full tafseer →وَلَقَدِ اخْتَرْنَاهُمْ عَلَىٰ عِلْمٍ عَلَى الْعَالَمِينَ And We chose them, with knowledge above all the worlds. (44:32)," This does not imply that the Children of Israel are superior to the Ummah of Muhammad ﷺ ، because the verse means that the Children of Israel were given superiority over all the people of their time. This is just like the Qur'an has described the merit of Sayyidah Maryam (علیہا السلام) as being superior to the نِسَاءِ الْعَالَمِينَ "women of the worlds (3:42) which means that she was superior to the women of her time." It is also possible that the Children of Israel…
Read the full tafseer →28 That is, 'Allah was well aware both of the qualities and of the weaknesses of the children of Israel. He had not chosen them blindly. For when he chose them from among the contemporary nations to become the standard-bearers of His message and His Tauhid, they werc the most suitable people in His knowledge for the purpose."
Read the full tafseer →