Explained with ayahs 17–33
قبطیوں کا انجام
ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کردو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو…
Read the full tafseer →سورة الدُّخَان 27
اس میں ایک لطیف طنز ہے کفار قریش کے سرداروں پر۔ مطلب یہ ہے کہ حد بندگی سے تجاوز کرنے والوں میں تمہارا مرتبہ اور مقام ہی کیا ہے۔ بڑے اونچے درجے کا سرکش تو وہ تھا جو اس وقت دنیا کی سب سے بڑی سلطنت کے تحت خدائی کا روپ دھارے بیٹھا تھا۔ اسے جب خس و خاشاک کی طرح بہا دیا گیا تو تمہاری کیا ہستی ہے کہ قہر الٰہی کے آگے ٹھہر سکو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
زمین میں آسمان کا رونا۔ (آیت) فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاۗءُ وَالْاَرْضُ (پس ان پر آسمان و زمین کو رونا نہیں آیا) مطلب یہ ہے کہ انہوں نے زمین پر کوئی ایسا عمل صالح نہیں کیا تھا کہ ان کے مرجانے سے زمین روئے، اور نہ ان کا کوئی نیک عمل آسمان تک پہنچا تھا کہ ان پر آسمان روئے اور یہ بات متعدد روایات سے ثابت ہے کہ کسی نیک بندے کی موت پر آسمان و زمین روتے ہیں۔ حافظ ابویعلی نے حضرت انس کی روایت سے آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ آسمان میں ہر بندے کے لئے دو دروازے مقرر ہیں، ایک سے اس کا رزق نازل ہوتا ہے دوسرے سے اس کا عمل اور اس کی گفتگو اوپر پہنچتی ہے۔ چناچہ جب وہ بندہ مرتا ہے تو یہ دروازے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
ولقد نجینا بنی آسرائیل من العذاب المھین، من فرعون انہ کان عالیاً من المسرفین (31-30)
من فرعون بدل ہے العذاب المھین سے گویا اللہ نے خود رفعون کو ایک عذاب ذلت سے تعبیر فرمایا۔ فرعون تو حرت موسیٰ اور ان کی قوم کو ذلیل سمجھتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک خود فرعون نہ صرف ذلیل بلکہ ایک عذاب رسوائی تھا۔
انہ کان عالیاً من المسرفین یہ وجہ یان ہوئی ہے اس بات کی کہ کیوں اسے ایک رسوا کن عذاب سے تعبیر کیا گیا : فرمایا کہ اس وجہ سے کہ وہ نہایت سرکش اور اللہ کے مقرر کردہ حدود سے تجاوز کر جانے والوں میں سے تھا۔ جو لوگ اللہ کے آگے سرکشی کرتے ہیں وہ مظلوموں کے لئے عذاب اور عند اللہ ذلیل ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
32۔ 1 اس جہان سے مراد بنی اسرائیل کے زمانے کا جہان ہے کل جہان نہیں ہے، کیونکہ قرآن میں امت محمدیہ کو کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ کے لقب سے ملقب کیا گیا ہے یعنی بنی اسرائیل اپنے زمانے میں دنیا جہان والوں پر فضیلت رکھتے تھے ان کی یہ فضیلت اس استحقاق کی وجہ سے تھی جس کا علم اللہ کو ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–33
9: اس سے مراد وہ انعامات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے بنو اسرائیل پر فرمائے، مثلاً من وسلوی نازل کرنا، پتھر سے چشمے نکال دینا وغیرہ، جن کا ذکر سورة بقرہ : 47 تا 58 میں فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
آیت نمبر 17 تا 33
اس وادی کے دروازے ہی پر یہ خوفناک اعلان لکھا ہوا ہے کہ یاد رکھو ، کسی قوم کی طرف رسول کا بھیجا جانا اس کی آزمائش ہوتی ہے۔ مکذبین کو یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ وقت بہت تھورا ہے ، اس میں تم تکذیب بھی کرسکتے ہو ، تکبر اور غرور بھی کرسکتے ہو۔ رسول کو ایذا بھی دے سکتے ہو ، تکبر اور غرور بھی کرسکتے ہو۔ رسول کو ایذا بھی دے سکتے ہو ، مومنین پر ظلم و ستم بھی ڈھا سکتے ہو لیکن آخر میں غرور کا سر نیچا ہوتا ہے اور تم جو رسول اللہ ﷺ کو طیش دلاتے ہو ، ان کا پیمانہ صبر لبریز کرتے ہو ، لیکن آپ ﷺ بدستور صبر کا پیکر بنے ہوئے ہیں اور تمہاری ہدایت ہی کے امیدوار ہیں ، اس کا انجام برا بھی ہو سکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
12 بلکہ فرعون کا وجود ایک مجسم مصیبت تھا۔
13 یعنی بڑا متکبر اور سرکش تھا۔
Read the full tafseer →آیت 31 { مِنْ فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ کَانَ عَالِیًا مِّنَ الْمُسْرِفِیْنَ } ”یعنی فرعون سے ‘ یقینا وہ بڑا ہی سرکش ‘ حد سے نکل جانے والوں میں سے تھا۔“
ایک طرف تو وہ معصیت کے ارتکاب میں حد سے بڑھا ہوا تھا اور دوسری طرف اس کی سرشت میں سرکشی بھی بہت تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
22 یعنی فرعون کی ذات ہی بنی اسرائیل کے حق میں مجسم عذاب بنی ہوئی تھی جس کا ہر وقت کام یہ سوچنا ہوتا تھا کہ وہ بنی اسرائیل کو زیادہ سے زیادہ رسوا کن سزائیں کیسے دے سکتا ہے ؟
23 یعنی حد سے بڑھنے والے تو اور بھی بہت سے لوگ تھے۔ ایسے لوگوں میں بھی فرعون کا سر سب سے اونچا تھا۔ جس کی حکومت اپنے دور میں سب سے بڑی اور مستحکم تھی۔ جس کا خاندان اپنے آپ کو سورج بنسی خاندان سے منسوب کرتا تھا اور جو اپنی رعایا کا قانونی اور سیاسی خدا بنا ہوا تھا اور ایسی خدائی کا دھڑلے سے دعویٰ بھی رکھتا تھا۔ اس نے جب اللہ کے رسول کو جھٹلایا اور اس کی مخالفت پر اتر آیا تو اے کفار مکہ ! تم نے اس کا حشر دیکھ لیا اور تم تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
20۔ بنی اسرائیل کی فضیلت و فوقیت کا بیان کئی بار آچکا ہے۔ اور اس کی توضیح سورة البقرۃ (پ 1) کے حاشیوں میں آچکی ہے۔ یہاں یہ بتایا ہے کہ یہ افضلیت واشرفیت یوں ہی اٹکل پچو بلاوجہ نہ تھی، خاص مصالح تکوینی کے ماتحت تھی۔ (آیت) ” بنی اسرآء یل۔ العذاب المھین۔ فرعون “۔ فرعون، بنی اسرائیل اور ان پر سختیاں، ان سب پر حاشیے سورة البقرۃ (پ 1) میں گزر چکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–42
آیت نمبر 30 تا 42
ترجمہ : اور بیشک ہم نے (ہی) بنی اسرائیل کو رسواکن سزا سے نجات دی یعنی لڑکوں کے قتل اور عورتوں کو خادمہ بنانے سے، جو فرعون کی طرف سے (ہو رہی) تھی، کہا گیا ہے کہ مِنْ فرعونَ ، عذاب سے تقدیر مضاف کے ساتھ بدل ہے ای من عذاب فرعون اور کہا گیا ہے کہ عزاب سے حال ہے فی الواقع وہ سرکش حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے تھا اور ہم نے بنی اسرائیل کو ہمارے ان کے حالات سے واقف ہونے کی وجہ سے ان کے زمانہ کے عقلاء پر فوقیت دی اور ہم نے ان کو ایسی نشانیاں دیں جن میں صریح انعام تھا یعنی کھلی نعمتیں تھیں، مثلاً دریا کو چیرنا اور من و سلوٰی وغیرہ یہ لوگ یعنی کفار مکہ تو یہی کہتے ہیں، نہیں ہے ایسی…
Read the full tafseer →من فرعون انہ کان عالیا من المسرفین یعنی فرعون (کے ظلم و ستم) واقعی وہ بڑا سرکش اور حد (عبدیت) سے نکل جانے والوں میں سے تھا۔
الْعَذَابِ الْمُھِیْنَ ذلیل کرنے والا عذاب۔ اس سے مراد ہے لڑکوں کو قتل کردینا ‘ لڑکیوں کو باقی رکھنا ‘ مردوں کو غلام بنانا اور ان سے سخت محنت و مشقت کے کام لینا۔
کَانَ عَالِیًا مغرور ‘ متکبر تھا ‘ یا اونچے طبقہ والا تھا۔
الْمُسْرِفِیْنَ سرکشی اور شرارت میں حد سے بڑھا ہوا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
(30۔ 31) اور ہم نے بنی اسرائیل کو سخت عذاب یعنی فرعون اور اس کی قوم سے نجات، کیونکہ وہ ان کے لڑکوں کو قتل کرتا تھا اور ان کی عورتوں کو غلام بنایا کرتا تھا۔ حقیقتا فرعون بڑا سخت دشمن اور سرکش اور شرک میں حد سے نکل جانے والوں میں سے تھا۔
Read the full tafseer →(1) من فرعون : وہ عذاب کیا تھاڈ وہ فرعون تھا، اس کی ذات ہی بنی اسرائیل کے لئے مجسمہ عذاب تھی۔
(2) انہ کان عالیاً من المسرفین : اس کی سرکشی اور زیادتی کے لئے دیکھیے سورة قصص کی آیت (4) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →سے بدل ہے کے متعلق نہیں ہوگا کیونکہ اس کی صفت نہیں لگائی گئی ہے وہ وصف کے بعد فعل کا ساعمل نہیں کرتا ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ہم نے انہیں عذاب اور فرعون سے نجات دی۔
وہ مشرکوں میں سے جابر تھا۔ یہ مدح میں زیادتی نہیں بلکہ اسراف میں زیادتی ہے۔
جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (قصص 4) ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس بلندی سے مراد اللہ تعالیٰ کی عبادت سے بلندی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
فرعونیوں کی بےکسی میں ہلاکت :
1:۔ الترمذی وابن ابی الدنیا فی ذکر الموت وابویعلی ابن ابی حاتم وابن مردویہ (رح) وابو نعیم فی الحلیہ والخطیب نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر بندے کے لئے آسمان دو دروازے ہیں ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کا عمل اوپر جاتا ہے اور دوسرا دروازہ جس سے اس کا رزق اترتا ہے جب وہ مرجاتا ہے تو دونوں دروازے اسے نہیں پاتے اور اس پر روتے ہیں اور یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت ) ” فما بکت علیہم السمآء والارض “ (کہ ان پر آسمان و زمین نہیں روئی) اور (یہ بات بھی) بتائی گئی کہ وہ لوگ زمین پر نیک عمل نہیں کرتے تھے جو ان پر روتا آسمان کی طرف کوئی پاکیزہ کلمہ اوپر نہیں چڑھتا…
Read the full tafseer →مِنْ فِرْعَوْنَ ۭ [ جو فرعون (کی طرف ) سے تھا ] اِنَّهٗ كَانَ عَالِيًا [ بیشک وہ ایک سرکشی کرنے والا تھا ] مِّنَ الْمُسْرِفِيْنَ [ حد سے گزرنے والوں میں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
پھر فرمایا ﴿فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِيْنَ (رح) 0029﴾ (سو ان پر آسمان اور زمین کو رونا نہ آیا اور وہ مہلت دئیے جانے والے نہ تھے) یعنی اللہ تعالیٰ نے مبغوض اور مغضوب علہیم ہونے کی وجہ سے ہلاک فرما دیا اور یہ لوگ نہ صرف اللہ تعالیٰ کے مبغوض تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو بھی ان سے بغض تھا گو تکوینی طور پر بامر الٰہی ان پر بارش ہوتی تھی اور زمین بھی ان کا رزق اگاتی تھی، لیکن اللہ تعالیٰ اور اس کے عظیم آسمان و زمین ان سے راضی نہ تھے لہٰذا ان کے بیک وقت غرق ہونے پر انہیں ذرا بھی ترس نہ آیا اور ان کی ہلاکت کی وجہ سے وہ ذرا بھی نہ روئے۔
مومن کی موت پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–39
نجات و کامیابی بنی اسرائیل مع بیان بعث بعد موت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ولقد نجینا بنی ٓ اسرآء یل ....... الی ...... اکثرھم لا یعلمون “۔
(ربط) گزشتہ آیات کا مضمون قوم مجرمین کے عبرت ناک انجام اور فرعون لعین کی ہلاکت اور تباہی کا تھا تو اب ان آیات میں اس کے بالمقابل یہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ حق تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کے ساتھیوں کو کس طرح نجات و کامیابی عطا فرمائی اور اسی کے ساتھ ان دلائل کو بھی ذکر کیا جارہا ہے، جو بعث بعد از موت کو ثابت کرنے والے ہیں، اور ان شبہات اور لغو اعتراضات کو بھی رد کیا گیا، جو منکرین کیا کرتے تھے، ارشاد فرمایا ! اور بیشک ہم نے نجات دی بنی اسرائیل کو ایک ذلت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
21:۔ ” ان ھؤلاء “ یہ اہل مکہ کی طرف التفات اور شکوی ہے۔ مشرکین مکہ کہتے ہیں کہ بس اس پہلی زندگی کے ختم ہوجانے سے قصہ تمام ہوجائیگا اور اس کے بعد پھر کوئی زندگی نہیں ہوگی اور ہمیں دوبارہ نہیں اٹھایا جائیگا۔ یعنی یہ جو پہلے آنے والی موت ہے اس کو تو ہم مانتے ہیں، لیکن اس کے بعد جو دوسری زندگی بتائی جاتی ہے اسے ہم نہیں مانتے۔ اب یہ اعتراض نہ رہا کہ کفار موت کو تو مانتے تھے اور انکار دوسری حیاتی کا کرتے تھے اس لیے ” انھی الا حیاتنا الاولی “ کہنا چاہئے تھا۔ ” فاتوا بابائنا الخ “ خطاب رسول اللہ ﷺ اور مومنین سے ہے یعنی اگر تم اس دعوے میں سچے ہو کہ انسان مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوں گے تو ہمارے باپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–41
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید ، رسالت اور معاد کا مسئلہ سمجھانے کے لئے سابقہ اقوام اور خاص طور پر قوم فرعون کا ذکر کیا۔ پھر اس کے انجام کو بھی بیان کیا جو اس کے غرور وتکبر کی وجہ سے ہوا۔ وہ لوگ خود تو بحر قلزم میں غرق ہوگئے اور اپنے پیچھے ساز و سامان ، باغات ، چشمے ، مملات اور دیگر عیش و عشرت کی اشیاء چھوڑ گئے جن کا وارث اللہ نے دوسرے لوگوں کو بنایا۔ اللہ نے یہ بھی عبرت کے طور پر فرمایا کہ ان ناہنجاروں کی ہلاکت پر ارض و سمانہ رونے یعنی انہوں نے کوئی افسوس نہ کیا۔ جب ان لوگوں پر گرفت آئی تو پھر انہیں سنبھلنے کی مہلت بھی نہ ملی۔ اس سے حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کی تسلی بھی مطلوب…
Read the full tafseer →مِنْ فِرْعَوْنَ 0 ۭ اِنَّہٗ كَانَ عَالِيًا مِّنَ الْمُسْرِفِيْنَ 31
فِرْعَوْنُ
: اسم أعجميّ ، وقد اعتبر عرامته، فقیل : تَفَرْعَنَ فلان : إذا تعاطی فعل فرعون، كما يقال : أبلس وتبلّس، ومنه قيل للطّغاة : الفَرَاعِنَةُ والأبالسة .
فرعون
یہ علم عجمی ہے اور اس سے سرکش کے معنی لے کر کہا جاتا ہے تفرعن فلان کہ فلاں فرعون بنا ہوا ہے جس طرح کہ ابلیس سے ابلس وتبلس وغیرہ مشتقات استعمال ہوتے ہیں اور ایس سے سرکشوں کو فراعنۃ ( جمع فرعون کی اور ابا لسۃ ( جمع ابلیس کی ) کہا جاتا ہے ۔
علا
العُلْوُ : ضدّ السُّفْل، والعُلْوِيُّ والسُّفْليُّ المنسوب إليهما، والعُلُوُّ : الارتفاعُ ، وقد عَلَا يَعْلُو عُلُوّاً وهو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–42
ترکیب : من فرعون بدل من العذاب علی حذف المضاف ای من عذابہ وقیل لاحاجۃ الی الحذف لان فرعون فی نفسہ کان عذابا مہینالافراطہ فی تعذیب بنی اسرائیل قرء ابن عباس ؓ من فرعون فیکون استفہاما انہ کان الخ جو ابہ مافیہ الخ مفعول ثان لاتینا۔
تفسیر : ولقد نجینا یہ بیان سابق کا تتمہ ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو سخت عذاب سے نجات دی جو فرعون سرکش کے ہاتھ سے ان پر ہوا کرتا تھا اور صرف مصیبت ہی دفع نہیں کی بلکہ ذلت کے بدلے ان کو عزت دی۔ یہ ہیں اخترناھم علی العالمین کے معنی اور مصیبت کے بدلہ بڑی نعمتیں دیں کہ جن میں ان کی آزمائش تھی اور وہ نعماء خدا کی نشانیاں تھیں جیسا کہ قلزم سے پاراتارنا ‘ من وسلویٰ ‘ پانی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
وَلَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُھِیْنِ ۔ مِنْ فِرْعَوْنَ ط اِنَّـہٗ کَانَ عَالِیًا مِّنَ الْمُسْرِفِیْنَ ۔ (الدخان : 30، 31)
(ہم نے بنی اسرائیل کو ذلیل کرنے والے عذاب سے نجات دی۔ یعنی فرعون سے، بیشک وہ حد سے گزر جانے والوں میں بڑا ہی سرکش تھا۔ )
سرکش حکمران عذاب مھین ہے
بنی اسرائیل انبیائے کرام کی اولاد تھے لیکن ایمان و عمل میں کوتاہیوں اور مقاصدِزندگی سے بےتعلقی کے باعث حالات کی ستم ظریفی کا نشانہ بن چکے تھے۔ فرعون اور آل فرعون کی حکومت میں مسلسل انھیں پرمشقت زندگی گزارنے پر مجبور کیا گیا۔ چونکہ حکمران خاندان نے حکومت ان سے لی تھی اس لیے ان کی شعوری کوشش تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کا اذیت ناک عذاب سے نجات پانا ہے۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں کا غرق ہونا۔
اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو سمندر میں غرقاب کیا کیونکہ وہ بڑا ہی عالی اور غالی انسان تھا۔ دنیا میں بڑے بڑے باغی اور سرکش انسان گزرے ہیں مگر کسی نے رب الاعلیٰ ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ فرعون ایساغالی اور متکبر انسان تھا کہ اس نے رب الاعلیٰ ہونے کا دعویٰ کیا اور لوگوں کو جبراً اپنے سامنے جھکا یا کرتا تھا۔ وہ بنی اسرائیل کو اذیت ناک سزائیں دیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ جنہیں بنی اسرائیل موسیٰ (علیہ السلام) کی بےمثال جدوجہد کے نتیجے میں نجات عطا فرمائی۔ جس کے بارے میں عذاب مھین کے الفاظ…
Read the full tafseer →آیت 31 : مِنْ فِرْعَوْنَ (فرعون سے) : یہ العذاب المہین سے بدل ہے۔ جار کو دو بار لوٹایا گیا۔ گویا فرعون بذات خود ایک ذلت والا عذاب تھا۔ کیونکہ وہ ان کو سزا دینے میں حد سے نکلا ہوا تھا۔ اور توہین کی انتہاء کو پہنچا تھا۔ نمبر 2۔ مبتداء محذوف کی خبر ہے۔ ای ذلک من فرعون۔ اِنَّہٗ کَانَ عَالِیًا مِّنَ الْمُسْرِفِیْنَ (واقعی وہ سرکش اور حد سے نکل جانے والوں میں سے تھا) عالیا : متکبر کو کہتے ہیں۔ : کان کی اول خبر عالیا اور من المسرفین دوسری خبر ہے۔ ای کان متکبرًا مسرفًا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
30، ولقد نجینا بنی اسرائیل من العذاب المھین، بیٹوں کے قتل کرنے اور عورتوں کو زندہ رکھنے اور مشقت والے کاموں سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–36
30۔ 36۔ اوپر فرعون کے ڈوب کر ہلاک ہونے کا ذکر تھا ان آیتوں میں اس کے نتیجہ کا ذکر فرما کر کہ فرعون اپنے جیتے جی بنی اسرائیل کو طرح طرح کی تکلیفیں جو دیتا تھا ان کے لڑکوں کو قتل کراتا تھا ان سے ذلت کے کام لیتا تھا اللہ تعالیٰ نے فرعون کو ہلاک کرکے بنی اسرائیل کی یہ سب تکلیفیں رفع کردیں پھر فرعون کا ذکر فرمایا کہ وہ حد سے بڑھ کر سرکشی کرنے لگا تھا اس لئے اس کو سزا دی گئی ‘ فرعون یوں تو دہریہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کا منکر تھا لیکن اس میں یہ بات دہریوں سے بڑھ کر تھی کہ وہ گمراہی کے سب سے اپنے آپکو خدا کہلاتا تھا۔ سورة الشعراء میں گزر چکا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
آیت 17
رسول مصطفیٰ محمد ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ گزشتہ زمانوں میں بھی جھٹلانے والے موجود تھے اور ان کا قصہ حضرت موسیٰ کے ساتھ ذکر فرمایا، نیز اس عذاب کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کیا تاکہ جھٹلانے والے اپنے اس رویے سے باز آجائیں فرمایا : (آیت) ” یعنی ہم نے اپنے رسول کریم حضرت موسیٰ بن عمران کو ان کی طرف مبعوث کر کے انہیں آزمایا جن میں بھلائی اور مکارم اخلاق بدرجہ اتم موجود تھے جو کسی اور میں موجود نہ تھے۔
(ان ادوآ الی عباد اللہ) یعنی حضرت موسیٰ نے فرعون اور اس کے سرداروں سے کہا ” اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کردو۔ “ اس سے حضرت موسیٰ کی مراد بنی اسرائیل…
Read the full tafseer →35 فرعون بذات خود عذاب مہین تھا : فرعون یہاں پر جیسا کہ ابھی اوپر گزرا { اَلْعَذَاب الْمُہِیْن } سے بدل واقع ہوا ہے۔ یعنی فرعون کا وجود بجائے خود وہ رسوا کن عذاب تھا جس میں یہ لوگ مبتلا تھے۔ یعنی اس عذاب مہین کی توضیح و تفسیر فرعون کے نام سے کی گئی ہے۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ فرعون کی شخصیت کس قدر خبیث اور کتنی ملعون و پلید شخصیت تھی۔ کیونکہ اس بدبخت نے نہ صرف یہ کہ اپنے خالق ومالک کی عبادت و بندگی سے منہ موڑ لیا تھا بلکہ خود اپنی جھوٹی خدائی کا اعلان کردیا تھا۔ اور { اَنَا رَبُّکُمُ الاَعْلٰی } کا نعرہ لگا دیا تھا۔ سو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی توحید و وحدانیت کا اقرار و یقین اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
قرآن سچ ہے اور اس کے علاہ سب غلط ہے
تشریح : ان تمام آیات میں اللہ کی ان تدابیر کا ذکر کیا گیا ہے جو اس نے کائنات کے لیے مرتب کر رکھی ہیں۔ مثلاً میجر جنرل غلام محمد ملک صاحب اس کی بڑے خوبصورت انداز میں یوں وضاحت کرتے ہیں : فلسفہ تاریخ جس طرح سیاسی واقعات کی تکرار اور حوادث کے بار بار اعادہ سے اصول اور نتائج تک پہنچ کر ایک عام تاریخی قانون بنا لیتا ہے اسی طرح انبیاء علیھم السلام کے سوانح اور تاریخیں بھی اپنے واقعات کے بار بار اعادہ سے خصائصِ نبوت کا اصول قانون ہمارے لیے مرتب کرتی ہے۔ پیغمبرانہ تاریخ کے انہی اصول و قوانین میں سے ایک یہ ہے کہ نبی جب اپنے کمال انسانیت کو پہنچ کر فیضان نبوت کے قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–42
آیات 30 تا 42۔
اسرار ومعارف۔
اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے اس عذاب سے جس میں فرعون نے انہیں مبتلا کررکھا تھا نجات دی ، کہ فرعون بہت ہی سرکش تھا اور تمام حدود عبور کرجانے والوں میں سے تھا ، نیز ہم نے انہیں اپنے علم کے مطابق اس دور کے تمام لوگوں پہ فضیلت بخشی اور ہم نے انہیں اپنی عظمت کی نشانیاں عطا کیں۔ مادی اور ظاہری بھی کہ فرعون سے نجات اور باطنی بھی علوم نبوت اور معجزات کا ظہور جو اللہ کی طرف سے انعام بھی تھیں اور آزمائش کا سبب بھی۔
یہ لوگ ان اقوام کے حالات سے سبق حاصل نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ صرف یہی دنیا کی زندگی ہے اور یہی ایک بات موت ہے ہمیں دوبارہ زندہ نہیں ہوناچاہیے ، اور دلیل یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
ف 4 ان کے زمانے میں “ کی شرط اس لئے ضروری ہے کہ معلق طور پر سب سے بہتر امت مسلمہ ہے (دیکھیے آل عمران) جان بوجھ کر “ کہنے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس فضیلت کے لائق ہیں۔ (جامع)
Read the full tafseer →(44:31) من فرعون : العذاب سے بدل ہے بحذف مضاف ان من عذاب فرعون۔
عالیا۔ سرکش ، متکبر۔ جبر کرنے والا۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ منصوب بوجہ خبرکان علو باب نصر مصدر۔ علو مادہ۔
من المسرفین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ اسراف (افعال) مصدر ۔ حد اعتدال سے آگے بڑھنے والے۔ بیہودہ صرف کرنے والے۔ حد حلال سے حرام کی طرف بڑھنے والے۔ شر اور فساد میں آگے بڑھنے والے۔ یہ یا تو کان کی خبرثانی ہے ای کان متکبرا مغرقا فی الاسراف۔ یا ۔ عالیا میں ضمیر مستتر سے حال ہے۔ ای کان متکبرا فی حال اغراقہ فی الاسراف۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 33 : فتنا ( ہم نے آزمایا) لا تعلوا (تم نہ چڑھو) اعتزلون ( تم مجھ سے دور ہٹ جائو) اسر (تو راتوں رات چل) رھوا ( ٹھہرا ہوا) جند ( لشکر) مابکت (نہ روئی ، نہ رویا) منظرین (مہلت دیئے گئے) اخترانا ( ہم نے پسند کیا)
تشریح : آیت نمبر 17 تا 33 : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حق و صداقت کی سر بلندی اور ہدایت و تبلیغ میں ساری زندگی جدوجہد فرمائی فرعون اور آل فرعون نے جس طرح ان کی نافرمانی کی اس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی مختلف سورتوں میں عبرت و نصیحت کے لئے مختصر یا تفصیل سے بیان کیا ہے۔ یہاں ایک مرتبہ پھر حضرت موسیٰ کی زندگی کے ایک اور پہلو کو بیان کرکے کفار قریش کو آگاہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–36
نافرمان قوموں کا انجام۔
(ف 1) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مع بنی اسرائیل دریا کے پار ہوئے تو حضرت موسیٰ نے چاہا کہ دریا کو اپنے عصا سے ماریں کہ پھر ویسا ہی ہوجائے جیسا تھا، تاکہ اس راستہ سے فرعون اور اس کے ساتھی دریا سے پار ہوکربنی اسرائیل کا پیچھا نہ کریں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم دیا کہ دریاکواسی طرح بیچ میں خشک رہنے دو تاکہ فرعون اور اس کا لشکر دریا کی خشک زمین پر پہنچ جاویں تو پانی کا پاٹ ملادیاجائے اور ان سب کو غرق کردیاجائے، اسی قصہ کو مختصر طور پر فرمایا کہ فرعون اور اس کے ساتھی اپنے باغ اور نہریں ، کھیتیاں، اچھے مکان اور راحت کا ہر طرح کا سامان مصر میں چھوڑ کر یہاں دریائے قلزم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–32
[8] یعنی یہ افضلیت اور اشرفیت یوں ہی اٹکل پچو بلاوجہ نہ تھی۔ یہ اس لئے تھی کہ اللہ کے علم میں اس وقت کی قوموں میں اس کے لئے موزوں ترین قوم بنی اسرائیل تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–32
دھوئیں کا عذاب
1: مکہ والوں نے جب حضور ﷺ کے پیغام توحید کو ٹھکرایا اور انتہائی تحقیر وتذلیل کے ساتھ آپ کا خیرمقدم کیا ۔ تو اس وقت آپ کی زبان الہام ترجمان سے یہ کلمات بےاختیار نکل گئے ۔ کہ اے اللہ ان لوگوں پر اس قحط کا عذاب نازل کر جو تونے یوسف کے زمانہ میں نازل کیا تھا ۔ بس ان الفاظ کا حضور ﷺ کے منہ سے نکلنا تھا ۔ کہ اجابت نے ہاتھوں ہاتھ لیا ۔ آسمان نے رحمت کے دراوزوں کو ان پر بند کرلیا ۔ زمین میں خشک ہوگئی ۔ اور قحط وجوع نے قریش کو آزمائش میں ڈال دیا ۔ اس قدر فاقے ہونے لگے ۔ کہ بھوک کے مارے ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے دھواں سا معلوم ہونے لگا ۔ زندگی کے لئے یہ لوگ مجبور ہوگئے ۔ کہ مردار…
Read the full tafseer →(31) جو فرعون کی جانب سے ہوتا تھا وہ فرعون واقعی بڑا سرکش اور حد سے بڑھ جانے والوں میں سے تھا۔ یعنی متکبر بھی تھا اور ظلم بھی کرتا تھا اور حد عبودیت سے نکل جانے والوں میں سے تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
ف 5۔ یعنی وہ امور جامع تھے درمیان دونوں وصف کے، نعمت ہونا اور دلیل قدرت ہونا، پھر بعض ان میں حسی نعمت تھی اور بعض ان میں معنوی نعمتیں تھیں۔
Read the full tafseer →ال عذاب المھین کیا تھا ؟ وہ فرعون تھا جو زیادتی کرنے میں حد سے تجاوز کرگیا تھا
13 ؎ جس طرح نیک اور فرمانبردار بندوں کے مدارج ہوتے ہیں و فاسق اور فاجر لوگوں کے بھی مدارج ہوتے ہیں اور زیر نظر آیت میں بتایا گیا ہے کہ فرعون بہت اونچے درجے کے تجاوز کرنے والوں میں سے تھا لیکن موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور جو بات اس کے سامنے بیان کی وہ پورے زور دار الفاظ میں صاف اور سیدھی کہی اور اس کو مخاطب کرکے براہ راست کہی اس کے مقابلہ میں کی دوسرے کو مخاطب کرکے کچھ نہیں کہا اور یہی وہ بات تھی جو فرعون کو بہت ناگوار گزرتی تھی اور وہ کہتا تھا کہ موسیٰ ایک پاگل آدمی ہے۔ نہ بات کرنے کی خبر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
Weeping of the Sky and the Earth
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ "So, neither the sky and earth wept over them... (44:29) ". This means they did not perform any righteous deeds on earth which would weep for them when they died, nor did any of their righteous deeds ascend through the gates of heaven, so that the sky would weep on their death. There are several ahadith which confirm that when a righteous person dies, the heaven and earth weep. Hafiz Abu Ya` la reports on the authority of Sayyidna Anas ؓ that the Prophet of Allah ﷺ said: "For every person there are two gates in…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
26 That is, Pharaoh by himself was an abasing torment for them and aII other torments wen indeed offshoots of the same great torment .
27 There is a subtle satire in it on the chiefs of the disbelieving Quraish. It means to say this: "You do not enjoy any place of distinction among the transgressors against AIlah. Pharaoh indeed was a rebel of the highest order who was ruling on the throne of the largest kingdom of the time as a god. When he was swept away like straw, how can you prevent the Divine wrath?"
Read the full tafseer →