Ad-Dukhaan 44:23

Ad-Dukhaan · from ayah 23

44:23

فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلًا اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ ۟ۙفَاَسۡرِ بِعِبَادِىۡ لَيۡلًا اِنَّكُمۡ مُّتَّبَعُوۡنَۙ

(خدا نے فرمایا کہ) میرے بندوں کو راتوں رات لے کر چلے جاؤ اور (فرعونی) ضرور تمہارا تعاقب کریں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Allah said], "Then set out with My servants by night. Indeed, you are to be pursued.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Ad-Dukhaan

All translations of 44:23

(جواب دیا گیا) اچھا تو راتوں رات میرے بندوں کو لے کر چل پڑ تم لوگوں کا پیچھا کیا جائے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(خدا نے فرمایا کہ) میرے بندوں کو راتوں رات لے کر چلے جاؤ اور (فرعونی) ضرور تمہارا تعاقب کریں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

(ہم نے کہہ دیا) کہ راتوں رات تو میرے بندوں کو لے کر نکل، یقیناً تمہارا پیچھا کیا جائے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ) اچھا تم میرے بندوں کو لے کر راتوں رات روانہ ہوجاؤ۔ تمہارا پیچھا ضرور کیا جائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہم نے حکم فرمایا کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے نکل ضرور تمہارا پیچھا کیا جائے گا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(ارشاد ہوا:) پھر تم میرے بندوں کو راتوں رات لے کر چلے جاؤ بیشک تمہارا تعاقب کیا جائے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس میرے بندوں کو رات کے کسی حصے میں لے جا، بیشک تم پیچھا کیے جانے والے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اللہ نے حکم دیا کہ) اور میرے بندوں کو رات کے وقت لے کر نکل جاؤ۔ یقینا تمہارا تعاقب کیا جائے گا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

حکم ہوا کہ میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جائو، آگاہ رہو کہ تمہارا پیچھا کیا جائے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(جواب ملا کہ) اچھا تو پھر تم راتوں رات نکل جاؤ (یہاں سے) میرے بندوں کو اپنے ساتھ لے کر تمہارا پیچھا بہرحال کیا جائے گا

— مولانا اسحاق مدنی

تو اب میرے بندوں کو بھی تم رات ہی میں لے کر چلے جاؤ

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پس میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جائو آگاہ رہو کہ تمہارا پیچھا کیا جائے گا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ نے فرمایا کہ میرے بندوں کو لے کر راتوں رات چلے جاؤ اور فرعونی ضرور تمہارا پیچھا کریں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

(He was told): “Set out with My servants by night for you will certainly be pursued.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(So, Allah answered his prayer saying,) :Now, take away my servants at night. You will certainly be chased,

— Muhammad Taqi Usmani

(So, Allah answered his prayer saying,) :Now, take away my servants at night. You will certainly be chased,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(Allah said): "Depart you with My servants by night. Surely, you will be pursued."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then (his Lord commanded): Take away My slaves by night. Lo! ye will be followed,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Allah said], "Then set out with My servants by night. Indeed, you are to be pursued.

— Saheeh International

We told him, "Leave the city with My servants during the night. You will be pursued.

— Muhammad Sarwar

So go forth with My servants by night; surely you will be pursued:

— Muhammad Habib Shakir

So depart thou with My bondmen by night; verily ye shall be pursued.

— Abdul Majid Daryabadi

(The reply came:) "March forth with My Servants by night: for ye are sure to be pursued.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 44:23

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–33

قبطیوں کا انجام ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کردو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الدُّخَان 21 یعنی ان سب لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں ان میں بنی اسرائیل بھی تھے اور مصر کے وہ قبطی باشندے بھی جو حضرت یوسف ؑ کے زمانے سے حضرت موسیٰ ؑ کی آمد تک مسلمانوں میں شامل ہوچکے تھے، اور وہ لوگ بھی جنہوں نے حضرت موسیٰ ؑ کی نشانیاں دیکھ کر اور آپ کی دعوت و تبلیغ سے متاثر ہو کر اہل مصر میں سے اسلام قبول کیا تھا۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ تفہیم القرآن جلد دوم، یوسف، حاشیہ 68) سورة الدُّخَان 22 یہ ابتدائی حکم ہے جو حضرت موسیٰ ؑ کو ہجرت کے لیے دیا گیا تھا (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم، طہ، حاشیہ 53، الشعراء، حواشی 39 تا 47)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 20–23

معارف و مسائل (آیت) وَاِنِّىْ عُذْتُ بِرَبِّيْ وَرَبِّكُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ (میں اپنے پروردگار اور تمہارے پروردگار کی پناہ لیتا ہوں اس سے کہ تم مجھے رجم کرو) رجم کے معنی سنگسار کرنے یعنی پتھر مار مار کردینے کے بھی آتے ہیں اور کسی کو گالی دینے اور برا بھلا کہنے کے بھی۔ یہاں دونوں معنی مراد ہو سکتے ہیں لیکن راجح یہ ہے کہ یہاں سنگسار کرنے کے معنی مراد ہیں کیونکہ فرعون کی قوم حضرت موسیٰ ؑ کو قتل وغیرہ کی دھمکیاں دے رہی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فاسربعبادی لیلاً انکم متعبون (23) فریاد کی فوراً شنوائی ہوئی یہ فریاد بالکل برقوت تھی اس وجہ سے فوراً شنوائی ہوئی۔ قبولیت کی مب اورت ظاہر کرنے کے لئے یہا کوئی ایسا لفظ لانا بھی ضروری نہیں سمجھا گیا جس سے یہ ظاہر ہو کہ دعا کے جواب میں حضرت موسیٰ ؑ کو یہ ہدایت ہوئی۔ حکم ہوا کہ میرے بندوں کو لے کر یہاں سے راتوں رات نکل جائو اور ساتھ ہی یہ نبیہ بھی فرما دی گئی کہ فرعونیوں کی طرف سے تمہارا تعاقب ہوگا۔ اس انتباہ کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ فرعون نے اگرچہ ان آفتوں سے تنگ آ کر جو حضرت موسیٰ ؑ کی دعائوں کے نتیجہ میں مصر پر نازل ہوئیں، حضرت موسیٰ ؑ کو چند دن کے لئے جانے کی اجازت دے دی لیکن جب حضرت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

23۔ 1 چناچہ اللہ نے دعا قبول فرمائی اور انہیں حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو راتوں رات لے کر یہاں سے نکل جاؤ اور دیکھو ! گھبرانا نہیں، تمہارا پیچھا بھی ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 22–24

8: مطلب یہ ہے کہ جب تمہارے راستے میں سمندر آجائے گا تو تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سمندر کو ٹھہرا کر راستہ بنادیں گے۔ جب تم اس سے پار ہوجاؤ تو اس بات کی فکر نہ کرنا کہ سمندر میں جو راستہ بنا ہوا ہے۔ وہ فرعون کے لشکر کے بھی کام آئے گا، اور وہ سمندر پار کر کے ہمارا تعاقب جاری رکھیں گے، بلکہ سمندر کو ویسا ہی ٹھہرا ہوا چھوڑ دینا۔ اللہ تعالیٰ خود ان کو ڈبونے کے لیے سمندر کو پھر پہلی حالت میں واپس کردیں گے۔ اس واقعے کی تفصیل سورة یونس : 90 تا 92 اور سورة شعراء : 56 تا 67 میں گذر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 17–33

آیت نمبر 17 تا 33 اس وادی کے دروازے ہی پر یہ خوفناک اعلان لکھا ہوا ہے کہ یاد رکھو ، کسی قوم کی طرف رسول کا بھیجا جانا اس کی آزمائش ہوتی ہے۔ مکذبین کو یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ وقت بہت تھورا ہے ، اس میں تم تکذیب بھی کرسکتے ہو ، تکبر اور غرور بھی کرسکتے ہو۔ رسول کو ایذا بھی دے سکتے ہو ، تکبر اور غرور بھی کرسکتے ہو۔ رسول کو ایذا بھی دے سکتے ہو ، مومنین پر ظلم و ستم بھی ڈھا سکتے ہو لیکن آخر میں غرور کا سر نیچا ہوتا ہے اور تم جو رسول اللہ ﷺ کو طیش دلاتے ہو ، ان کا پیمانہ صبر لبریز کرتے ہو ، لیکن آپ ﷺ بدستور صبر کا پیکر بنے ہوئے ہیں اور تمہاری ہدایت ہی کے امیدوار ہیں ، اس کا انجام برا بھی ہو سکتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 22–23

8 یعنی آخر مجبور ہو کر اللہ سے فریاد کی کہ یہ لوگ اپنے جرائم سے باز آنے والے نہیں اب آپ میرے اور ان کے درمیان فیصلہ کردیجیے وہاں کیا دیر تھی۔ حضرت موسیٰ کو حکم ہوا کہ فرعونیوں کو اطلاع کیے بدون بنی اسرائیل کو لے کر راتوں رات مصر سے چلے جاؤ۔ کیونکہ دن ہونے پر جب انہیں اطلاع ہوگی اس وقت تمہارا پیچھا کریں گے۔ لیکن یاد رہے راستہ میں سمندر پڑے گا۔ اس پر عصا مارنے سے پانی ادھر ادھر ہٹ جائے گا اور درمیان میں خشکی و صاف راستہ نکل آئے گا۔ اسی راستہ سے اپنی قوم کو لے کر گزر جاؤ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 23{ فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلًا اِنَّکُمْ مُّتَّبَعُوْنَ } ”پس میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جائو ‘ آگاہ رہو کہ تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

18 سیدنا موسیٰ کو ہجرت کا حکم اور تعاقب کی خبر :۔ بنی اسرائیل تو سب کے سب ہی آپ پر ایمان لاچکے تھے۔ گو ان میں سے اکثر اپنے ایمان کو فرعون کی ایذارسانی کے خوف سے ظاہر نہیں کر رہے تھے۔ ان کے علاوہ کچھ لوگ قوم فرعون کے بھی آپ پر ایمان لاچکے تھے۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ ان سب ایمانداروں کو ساتھ لے کر خفیہ طریقے سے مصر سے ہجرت کر جائیں۔ یہ لوگ ایک لاکھ سے زائد نفوس تھے۔ چناچہ آپ نے خفیہ طریقہ سے سب کو ہجرت کا پیغام پہنچایا اور وقت اور جگہ بھی مقرر کردی گئی جہاں وہ سب اکٹھے ہو کر ہجرت کے لیے روانہ ہوں گے۔ ساتھ ہی سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ اطلاع بھی دے دی گئی کہ فرعون اور آل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 23–24

17۔ یعنی آپ (علیہ السلام) کے لئے تو سمندر میں راستہ کردیا جائے گا اور سمندر کا کچھ حصہ آپ (علیہ السلام) کیلئے خشک کردیا جائے گا، آپ (علیہ السلام) اسے اسی سکون کے حال میں چھوڑ کر چلے جائیے گا۔ اور اسی فکر واندیشہ میں نہ پڑئیے گا کہ فرعون بھی تو اسی راستہ سے آجائے گا۔ چناچہ آپ (علیہ السلام) اس ارشاد باری کی تعمیل میں بنی اسرائیل کو لے کر راتی راتا ہی نکل گئے اور صبح کو آپ (علیہ السلام) کا تعاقب بھی ہوا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–29

آیت نمبر 1 تا 29 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اللہ کی کیا مراد ہے ؟ وہی بہتر جانتا ہے قسم ہے واضح کتاب قرآن کی جو حلال کو حرام سے ممتاز کرنے والی ہے، یقیناً ہم نے اس کو بابرکت رات میں نازل کیا ہے اور وہ شب قدر یا شب نصف شعبان ہے، اسی رات میں قرآن کو ساتویں آسمان پر موجود لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا، بیشک ہم اس کے ذریعہ ڈرانے والے ہیں، اسی رات یعنی شب قدر یا شب نصف شعبان میں ہر محکم کام کا مثلاً روزی، موت وغیرہ جو اس سال اسی جیسی (آئندہ) رات تک ہونے والے ہوتے ہیں فیصلہ کیا جاتا ہے، ہمارے پاس سے حکم صادر ہو کر ہم ہی ہیں رسول بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاسر بعبادی لیلا انکم متبعون۔ تو (ا اللہ نے فرمایا :) میرے بندوں کو رات ہی رات میں تم لے کر چلے جاؤ ‘ تمہارا پیچھا یہ لوگ ضرور کریں گے ‘

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 22–23

(22۔ 23) مگر جب انہوں نے اپنی ہلاکت خود ہی مول لے لی تب موسیٰ نے دعا کی کہ پروردگار یہ تو مشرکین ہیں پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم کیا کہ تم بنی اسرائیل کو رات ہی رات میں لے کر چلے جاؤ کیونکہ تم لوگوں کا دریا پر تعاقب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) فاسر بعبادی لیلاً …: موسیٰ ؑ کی دعا قبول ہوئی اور حکم ہوا کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے کر نکل جاؤ، تاکہ فرعون کو فوری خبر نہ ہو سکے اور یاد رکھو ! تمہارا تعاقب کیا جائے گا، اس لئے تمہیں ہجرت کا یہ سفر پوری احتیاط کے ساتھ ہوشیار رہ کر کرنا ہوگا۔ (2) ”بعبادی“ (میرے بندوں) سے مراد بنی اسرائیل ہیں اور ان کے ساتھ قبطیوں کے وہ لوگ بھی جو ایمان لا چکے تھے۔ اس واقعہ کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة شعراء (52 تا 68) ، یونس (88 تا 92) اور سورة طہ (77)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس میں دو مسئلے ہیں۔ مسئلہ نمبر 1: ہم نے اس کی دعا کو قبول کیا اور ہم نے اس کی طرف وحی کی کہ میرے بندوں کو رات کے وقت لے چلو یعنی بنی اسرائیل میں سے جو ایمان لائے ہیں صبح سے پہلے۔ اہل حجاز نے فاسر ہمزہ وصلی کے ساتھ پڑھا ہے ابن کثیر نے بھی اسی طرح پڑھا ہے یہ سری سے مشتق ہے باقی قراء نے اسے فاسر ہمزہ قطعی کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ سری سے مشتق ہے یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ سورة بقرہ، اعراف، طہ، شعرا اور یونس میں یہ بحث گزر چکی ہے کہ فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا پیچھا کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے فرعون کو غرق کردیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نجات عطا فرمائی اس لئے دوبارہ اس کے ذکر کرنے کی ضرورت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 17–28

1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے فرمایا کہ (آیت ) ” ولقد فتنا “ سے مراد ہے کہ ہم نے ان کو آزمایا۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد فتنا “ یعنی ہم نے اس کو آزمائش میں مبتلا کردیا (آیت ) ” قبلھم قوم فرعون وجاء ھم رسول کریم “ (ان سے پہلے فرعون کی قوم کو اور ان کے پاس ایک معزز پیغمبر آیا تھا فرمایا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) تھے (آیت) ” ان ادوا الی عباد اللہ “ (اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کردو) یعنی بنی اسرائیل کو بھیج دو ۔ (آیت ) ” وان لا تعلوا علی اللہ “ اور تم خدا سے سرکشی مت کرو) یعنی اللہ تعالیٰ پر بڑائی کا اظہار نہ کرو (آیت ) ”…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاَسْرِ [ تو آپ لے کر نکلیں ] بِعِبَادِيْ [ میرے بندوں کو ] لَيْلًا [ رات کے وقت ] اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ [ بیشک تم لوگ پیچھا کیے جانے والے ہو ] نوٹ۔ 2: آیت ۔ 23 ۔ میں بعبادی کے لفظ کا مطلب ہے وہ تمام بندے جو ایمان لائے ہیں ۔ ان میں بنی اسرائیل بھی تھے اور مصر کے وہ قبطی باشندے بھی جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی آمد تک مسلمانوں میں شامل ہوچکے تھے اور وہ لوگ بھی جنھوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نشانیاں دیکھ کر اور آپ کی دعوت و تبلیغ سے متاثر ہو کر اہل مصر میں سے ایمان قبول کیا تھا ۔ (تفہیم القرآن )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 17–24

قوم فرعون کے پاس اللہ تعالیٰ کا رسول آنا، اور نافرمانی کی وجہ سے ان لوگوں کا غرق ہونا، بنی اسرائیل کا فرعون سے نجات پانا اور انعامات ربانیہ سے نوازا جانا ان آیات میں فرعون کی نافرمانی کا اور بطور سزا لشکروں سمیت سمندر میں ڈوب جانے کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ ہم نے ان سے یعنی قریش مکہ سے پہلے قوم فرعون کو آزمایا ان کے پاس رسول کریم یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تشریف لائے۔ جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مکرم و معظم تھے انہوں نے فرعون سے اور اس کی جماعت سے کہا کہ بنی اسرائیل کو تم دکھ تکلیف دیتے ہو انہیں مصیبت میں مبتلا کر رکھا ہے ان اللہ کے بندوں کو تم میرے حوالے کردو اور میرے ساتھ بھیج دو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–29

بیان عظمت کتاب اللہ وبرکات زمانہ نزول قرآن مع دعوت ایمان وبدنصیبی محرومین واشقیاء از سعادت خداوندی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” حم والکتب المبین ...... الی ....... انا منتقمون “۔ (ربط) گزشتہ سورتک مضمون توحید و رسالت کا اثبات تھا اور اس سے اختلاف واعراض کرنے والے مجرمین کی بدنصیبی کا ذکر کرتے ہوئے ان کے افسوس ناک عبرت ناک انجام کا بیان تھا اور اسی موضوع پر سورت کا مضمون ختم فرما دیا گیا تھا کہ اگر ان واقعات کو سن کر بھی قریش کے لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کو سوچ لینا چاہئے کہ ایسا ہی عبرت ناک انجام ان کا بھی ہوگا، ساتھ ہی آپ ﷺ کو تسلی دینا بھی مقصود تھا کہ قریش مکہ کی مخالفت ودشمنی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 23–24

17:۔ ” واترک البحر رھوا “۔ رھوا ساکنا (بحر، روح، قرطبی) ۔ اس سے پہلے اندماج ہے ینی القضہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر دریا کے کنارے پہنچا تو اللہ کے حکم سے اس پر اپنی لاٹھی ماری جس سے اس میں بارہ خشک راستے بن گئے، جب وہ ان راستوں سے گذر کر پار ہوگئے اس وقت فرعون بھی لاؤ لشکر کے ساتھ دریا پر پہنچ گیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ارادہ کیا تاکہ وہ دریا پر دوبارہ لاٹھی ماریں تاکہ وہ جاری ہوجائے اور فرعون آگے نہ بڑھ سکے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ دریا کو ابھی ساکن ہی رہنے دو ، کیونکہ ہم فرعون کے لشکر کو انہی راستوں میں گھیر کر غرق کرنا چاہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–29

ربطہ آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے نزول قرآن کے زمانے کے مشرکین بالخصوص مشرکین مذکر انداز کیا ، ان کی نافرمانی کا حال بیان کیا اور پھر ان پر آن والی گرفت کا ذکر کیا۔ اللہ نے ان پر دھوئیں کی شکل میں قحط مسلط کیا۔ انہوں نے عہد کیا کہ یہ مصیبت دور ہوجائے تو وہ ایمان لے آئیں۔ مگر جب انہیں قحط سے نجات مل گئی تو وہ پہلے سے بھی زیادہ کفر و شرک میں منہمک ہوگئے۔ اللہ نے بھی فرما دیا کہ ہم تھوڑی مدت کے لئے ان سے تکلیف کو ہٹائیں گے لیکن نافرمانی کی صورت میں بڑی گرفت میں لے لیں گے۔ چناچہ اللہ نے بدر کے مقام پر بہت سے سرکردہ مشرکین کو ہلاک کیا ، بعض قیدی بنے اور بعض شکست کھا کر بھاگ گئے۔ قوم فرعون کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاَسْرِ بِعِبَادِيْ لَيْلًا اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ۝ 23 ۙ سری السُّرَى: سير اللّيل، يقال : سَرَى وأَسْرَى. قال تعالی: فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ [هود/ 81] ، وقال تعالی: سُبْحانَ الَّذِي أَسْرى بِعَبْدِهِ لَيْلًا [ الإسراء/ 1] 232- بسرو حمیر أبوال البغال به «1» فأسری نحو أجبل وأتهم، وقوله تعالی: سُبْحانَ الَّذِي أَسْرى بِعَبْدِهِ [ الإسراء/ 1] ، أي : ذهب به في سراة من الأرض، وسَرَاةُ كلّ شيء : أعلاه، ومنه : سَرَاةُ النهار، أي : ارتفاعه، وقوله تعالی: قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا[ مریم/ 24] أي : نهرا يسري «2» ، وقیل : بل ذلک من السّرو، أي : الرّفعة . يقال، رجل سَرْوٌ. قال : وأشار بذلک إلى…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–28

ترکیب : ان ادوا قیل ان مفسرۃ لان مجئی الرسول متضمن لمعنی القول وقیل مخفقذمن الثقیلۃ عباد اللہ اما مفعول بہ لا دوا ای ارسلوھم معی اوانہ مناوی والتقدیر ادوا الی یا عباد اللہ ماھو واجب علیکم من الایمان والاعمال الصالحۃ۔ تفسیر : کفار مکہ کو ان کی سرکشی پر ایک آنے والی بلا سے ڈرایا گیا تھا اب اس جگہ فرعونیوں کا قصہ سنایا جاتا ہے کہ وہ باوجودیکہ تم سے زیادہ مالدار ‘ طاقت ور تھے ان کو رسول نے سمجھایا مگر نہ مانا اور سرکشی سے باز نہ آئے۔ بنی اسرائیل کے پیچھے دوڑے آئے کہ پکڑلاویں اور غلامی میں رکھیں آخر اس کے فضل سے بنی اسرائیل بحرِقلزم سے خشک پار اتر گئے اور فرعونی غرق ہوگئے تمام باغ و مکان و آرایش…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 23–24

فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلاً اِنَّـکُمْ مُّتَّبَعُوْنَ ۔ وَاتْرُکِ الْبَحْرَ رَھْوًا ط اِنَّھُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ ۔ (الدخان : 23، 24) (اللہ کی طرف سے حکم آیا) کہ میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جاؤ، بیشک تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔ اور چھوڑ دو دریا کو تھما ہوا، بیشک وہ سارا لشکر غرق کردیا جائے گا۔ ) فریاد کی قبولیت اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا فوراً قبول ہوئی۔ چناچہ آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ رات ہی رات میں میرے بندوں کو لے کر روانہ ہوجائیں۔ دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون آپ کے معجزات سے مرعوب ہو کر آپ کو بنی اسرائیل کو ساتھ لے جانے کی اجازت دے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 23–29

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے قوم فرعون کے بارے میں موسیٰ (علیہ السلام) کی بدعا قبول فرمائی اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ہجرت کرنے کا حکم دیا۔ یاد رہے کہ ہجرت معمولی کام نہیں کہ پیغمبر کا دل اکتائے اور وہ اپنی قوم کو چھوڑ کر کہیں اور چلاجائے۔ یہ مشکل ترین کام ہے جسے انتہائی مشکل ترین حالات میں کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس پیغمبر کو بھی ہجرت کی اجازت دی گئی اس کے حالات اتنے پرکٹھن تھے کہ پیغمبر کا مزید وہاں رہنا سود مند نہیں تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغمبروں کو ہجرت کرنے کی اجازت دی جاتی تھی۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بنی اسرائیل کا خروج اور فرعون کا تعاقب : آیت 23 : فَاَسْرِ (تم راتوں رات میرے بندوں کو لے جائو) یہ اسری سے ہے۔ قراءت : فاسر۔ وصل کی صورت میں حجازی نے پڑھا۔ اور سری سے لیا ہے۔ اور فائ کے بعد قول مضمر ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے۔ فقال اسر۔ بِعِبَادِیْ (اے میرے بندو ! ) مراد بنی اسرائیل ہیں۔ لَیْلًا اِنَّکُمْ مُّتَّبَعُوْنَ (رات کو بیشک تمہارا تعاقب ہوگا) یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ تدبیر کی کہ تم آگے اور فرعون اور اس کا لشکر تمہارے تعاقب میں نکلیں۔ پھر آگے جانے والوں کو اللہ تعالیٰ بچا لے اور پیچھا کرنے والوں کو ہلاک کر دے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

22، فدعاربہ ان ھئولاء قوم مجرمون، مشرک ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے دعاقبول کی اور موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ رات کے وقت قوم کو لے جائیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–23

17۔ 23۔ اوپر ذکر تھا کہ قریش پر قحط کی آفت آئی تو انہوں نے اپنے بتوں کو چھوڑ کر خالص اللہ سے رفع قحط کی التجا کی اور جب اللہ نے اس بلا کو دفع کردیا تو وہ لوگ پھر وہی شرک کرنے لگے۔ قریش کی یہ حالت فرعون کی قوم کی حالت سے ملتی ہوئی تھی اس واسطے ان آیتوں میں فرعون اور اس کی قوم کا ذکر فرمایا۔ سورة یوسف میں گزر چکا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے مصر کے قیام کے زمانہ میں بنی اسرائیل اپنے اصلی وطن ملک شام کو چھوڑ کر مصر میں آ کر آباد ہوئے اب یوسف (علیہ السلام) کی وفات کے بعد فرعون بنی اسرائیل کو بڑی ذلت سے رکھتا تھا اس واسطے موسیٰ (علیہ السلام) کے نبی ہو کر مصر میں آنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے موسیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–33

آیت 17 رسول مصطفیٰ محمد ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ گزشتہ زمانوں میں بھی جھٹلانے والے موجود تھے اور ان کا قصہ حضرت موسیٰ کے ساتھ ذکر فرمایا، نیز اس عذاب کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کیا تاکہ جھٹلانے والے اپنے اس رویے سے باز آجائیں فرمایا : (آیت) ” یعنی ہم نے اپنے رسول کریم حضرت موسیٰ بن عمران کو ان کی طرف مبعوث کر کے انہیں آزمایا جن میں بھلائی اور مکارم اخلاق بدرجہ اتم موجود تھے جو کسی اور میں موجود نہ تھے۔ (ان ادوآ الی عباد اللہ) یعنی حضرت موسیٰ نے فرعون اور اس کے سرداروں سے کہا ” اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کردو۔ “ اس سے حضرت موسیٰ کی مراد بنی اسرائیل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

29 حضرت موسیٰ کی فریاد رسی اور آپ کو حکم رحیل : سو حضرت موسیٰ کی فریاد کی فوری شنوائی ہوئی اور حق تعالیٰ کی طرف سے آپ کو حکم ہوا کہ راتوں رات میرے بندوں کو لیکر نکل جاؤ۔ یقینا تمہارا پیچھا کیا جائے گا فرعون اور اس کی قوم کی طرف سے۔ تمہیں پکڑنے کی غرض سے۔ اور اس طرح رات کے اندھیرے میں نکل جانے کے سبب تم ان کی گرفت و پکڑ سے بچ نکلو گے۔ چناچہ حضرت موسیٰ نے ایسے ہی کیا۔ آپ (علیہ السلام) راتوں رات چپکے سے اپنی قوم کو لے کر وہاں سے نکل پڑے۔ اور اس سے نہ صرف یہ کہ آپ (علیہ السلام) فرعون کی گرفت وپکڑ سے بچ گئے بلکہ قدرت کی طرف سے دی گئی یہی ہدایت حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کے لئے نجات کا ذریعہ بن…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–37

قرآن سچ ہے اور اس کے علاہ سب غلط ہے تشریح : ان تمام آیات میں اللہ کی ان تدابیر کا ذکر کیا گیا ہے جو اس نے کائنات کے لیے مرتب کر رکھی ہیں۔ مثلاً میجر جنرل غلام محمد ملک صاحب اس کی بڑے خوبصورت انداز میں یوں وضاحت کرتے ہیں : فلسفہ تاریخ جس طرح سیاسی واقعات کی تکرار اور حوادث کے بار بار اعادہ سے اصول اور نتائج تک پہنچ کر ایک عام تاریخی قانون بنا لیتا ہے اسی طرح انبیاء علیھم السلام کے سوانح اور تاریخیں بھی اپنے واقعات کے بار بار اعادہ سے خصائصِ نبوت کا اصول قانون ہمارے لیے مرتب کرتی ہے۔ پیغمبرانہ تاریخ کے انہی اصول و قوانین میں سے ایک یہ ہے کہ نبی جب اپنے کمال انسانیت کو پہنچ کر فیضان نبوت کے قبول…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–29

آیات 1 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ حم۔ اس کتاب واضح کی قسم ہے یعنی یہ دلائل سے حق کو واضح کردینے والی کتاب اس پر گواہ ہے جسے ہم نے ایک بہت بابرکت شب کو لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل فرمایا کہ اس کے نزول سے مراد مخلوق کو صحیح راہ عمل دکھانا اور اعمال بد کے بد انجام سے بروقت خبر دینا ہے کہ وہ اپنی راہ متعین کرسکیں لیلہ مبارکہ : لیلہ مبارکہ سے مراد مفسرین کرام سے لیلۃ القدر ہے کہ قرآن کریم کی دوسری آیات سے اس کی تعیین ہوجاتی ہے نیز نزول قران رمضان المبارک ہی میں ہوا اور جو بات نصف شعبان کی شب کے بارے مشہور ہے ، اس کی سندیں ضعیف ہیں اس لیے اکثر علماء نے اسے قبول نہیں کیا ، اور بعض نے اس کی فضیلت اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 22–24

ف 5 حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے سمندر عبور کرنے کے بعد چاہا کہ سمندر پر عصا ماردیں تاکہ وہ مل جائے اور فرعون کا لشکر اس میں داخل نہ ہو سکے۔ حکم ہوا کہ ایسا نہ کرو بلکہ سمندر کو اپنے موجودہ حال چھوڑ کر آگے بڑھ جائو تاکہ فرعون کا لشکر اس میں داخل ہوجائے۔ 6 چناچہ ایسا ہی ہوا۔ فرعون نے جب سمندرکو پھٹاپایا تو لشکر سمیت اس میں داخل ہوگیا اور سب غرق ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(44:23) فاسر بعبادی لیلا : ای فقال اللّٰہ ان کان الامر کذلک فاسر بعبادی لیلا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر یہ بات ہے تو میرے بندوں کو لے کر راتوں رات چل نکلو۔ اس میں ان کان الامر کذلک جملہ شرط محذوف ہے۔ فاسر میںجواب شرط ہے۔ اور اسر فعل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ اسراء (افعال) مصدر سے جس کے معنی رات کو سفر کرنے کے ہیں ب کے تعدیہ کے ساتھ بمعنی کسی کو لے کر رات کے وقت چلنا۔ یا کسی کو رات کے وقت لیجانا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ سبحن الذی اسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی (17:1) بعبادی ب تعدیہ کے لئے ہے۔ عبادی مضاف مضاف الیہ۔ میرے بندے۔ لیلا رات کو۔ مفعول فیہ۔ پاک ہے وہ ذات جو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 17–33

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 33 : فتنا ( ہم نے آزمایا) لا تعلوا (تم نہ چڑھو) اعتزلون ( تم مجھ سے دور ہٹ جائو) اسر (تو راتوں رات چل) رھوا ( ٹھہرا ہوا) جند ( لشکر) مابکت (نہ روئی ، نہ رویا) منظرین (مہلت دیئے گئے) اخترانا ( ہم نے پسند کیا) تشریح : آیت نمبر 17 تا 33 : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حق و صداقت کی سر بلندی اور ہدایت و تبلیغ میں ساری زندگی جدوجہد فرمائی فرعون اور آل فرعون نے جس طرح ان کی نافرمانی کی اس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی مختلف سورتوں میں عبرت و نصیحت کے لئے مختصر یا تفصیل سے بیان کیا ہے۔ یہاں ایک مرتبہ پھر حضرت موسیٰ کی زندگی کے ایک اور پہلو کو بیان کرکے کفار قریش کو آگاہ کیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 17–23

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جیسے یہ قریش کافر ہیں یوں ہی ہم نے ان سے پہلے فرعون اور اس کی قوم کو فتنہ میں ڈالا تھا یعنی ان کو عذاب دیا اور آزمائش میں ڈالا، اور ان کے پاس خدا کے برگزیدہ کرامت والے رسول آئے، یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، اور آکر موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کی قوم سے درخواست کی کہ بنی اسرائیل کو مت ستاؤ، اور ان کو میرے حوالے کردو، اسی درخواست کی تائید میں حضرت موسیٰ نے یہ بھی کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے امانت دار رسول ہوں، جس طرح مجھ کو اللہ کا حکم ہوتا ہے وہی میں تم لوگوں کو پہنچادیتا ہوں اپنی طرف سے اس میں کچھ خیانت نہیں کرتا، اور یہ بھی کہا کہ اللہ تعالیٰ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 19–32

[8] یعنی یہ افضلیت اور اشرفیت یوں ہی اٹکل پچو بلاوجہ نہ تھی۔ یہ اس لئے تھی کہ اللہ کے علم میں اس وقت کی قوموں میں اس کے لئے موزوں ترین قوم بنی اسرائیل تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 11–32

دھوئیں کا عذاب 1: مکہ والوں نے جب حضور ﷺ کے پیغام توحید کو ٹھکرایا اور انتہائی تحقیر وتذلیل کے ساتھ آپ کا خیرمقدم کیا ۔ تو اس وقت آپ کی زبان الہام ترجمان سے یہ کلمات بےاختیار نکل گئے ۔ کہ اے اللہ ان لوگوں پر اس قحط کا عذاب نازل کر جو تونے یوسف کے زمانہ میں نازل کیا تھا ۔ بس ان الفاظ کا حضور ﷺ کے منہ سے نکلنا تھا ۔ کہ اجابت نے ہاتھوں ہاتھ لیا ۔ آسمان نے رحمت کے دراوزوں کو ان پر بند کرلیا ۔ زمین میں خشک ہوگئی ۔ اور قحط وجوع نے قریش کو آزمائش میں ڈال دیا ۔ اس قدر فاقے ہونے لگے ۔ کہ بھوک کے مارے ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے دھواں سا معلوم ہونے لگا ۔ زندگی کے لئے یہ لوگ مجبور ہوگئے ۔ کہ مردار…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(23) اس پر ارشاد ہوا موسیٰ میرے بندوں کو راتوں رات لے کر نکل جا بلا شبہ تمہارا تعاقب اور تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اے موسیٰ میرے بندوں کو لے کر رات کے وقت یہاں سے نکل جائو 32 ؎ موسیٰ علیہ اسلام کو مصرچھوڑ دینے کا حکم مل گیا کہ اگر فرعون اجازت نہیں دیتا اور بنی اسرائیل کو آپ کے ساتھ بھیجنے کے لیے وہ تیار نہیں ہے تو ہم آپ کو حکم دیتے ہیں کہ اب فرعون کی اجازت کی کوئی ضرورت نہیں آج ہی رات میرے بندوں کو اپنے ساتھ لے کر مصر سے ہجرت کرجائو۔ یاد رہے کہ ہجرت کرکے کہاں جانا ہے اور کیسے رہنا ہے ، کس راستے سے جانا ہے یہ سب باتیں پہلے ہی نبی ورسول کے ساتھ طے ہوتی تھیں اس لیے طے شدہ بات جانے والے اور لے جانے والے کو معلوم ہے اس میں ذہن نہ الجھے پھر ہجرت کرنے سے قبل حکم دینے کے ساتھ ہی یہ بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 20–23

Commentary وَإِنِّي عُذْتُ بِرَ‌بِّي وَرَ‌بِّكُمْ أَن تَرْ‌جُمُونِ "And I have sought refuge with my Lord and your Lord, lest you stone me to death. (44:20) " The word rajm means 'to stone to death'. Another meaning of the word is 'to revile or to make a verbal assault or to heap up insults'. Both senses are possible here, but it seems more likely that the word is used here in the sense of stoning to death, because Fir'aun's people must have been threatening Prophet Musa (علیہ السلام) with death.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

21 "With my servants": with aII those people who have believed, including both the Israelites and the Egyptian Copts who had become Muslims since the time of the Prophet Joseph till that of the Prophet Moses, and those also who had been influenced by the Signs shown by Moses and His preaching and accepted Islam from among the Egyptians. (For explanation, see Surah Yusuf: E.N. 68). 22 This was the initial command given to the prophet Moses for the migration. (For explanation, see Ta-Hit: 77, Ash-Shu'ara': 52-68 arid the corresponding E.N.'s).

Read the full tafseer →