Explained with ayahs 17–33
قبطیوں کا انجام
ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کردو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو…
Read the full tafseer →سورة الدُّخَان 20
یہ حضرت موسیٰ کی آخری رپورٹ ہے جو انہوں نے اپنے رب کے سامنے پیش کی۔ " یہ لوگ مجرم ہیں " یعنی ان کا مجرم ہونا اب قطعی طور پر ثابت ہوچکا ہے۔ کوئی گنجائش ان کے ساتھ رعایت برتنے اور ان کو اصلاح حال کا مزید موقع دینے کی باقی نہیں رہی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ حضور آخری فیصلہ فرمائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
معارف و مسائل
(آیت) وَاِنِّىْ عُذْتُ بِرَبِّيْ وَرَبِّكُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ (میں اپنے پروردگار اور تمہارے پروردگار کی پناہ لیتا ہوں اس سے کہ تم مجھے رجم کرو) رجم کے معنی سنگسار کرنے یعنی پتھر مار مار کردینے کے بھی آتے ہیں اور کسی کو گالی دینے اور برا بھلا کہنے کے بھی۔ یہاں دونوں معنی مراد ہو سکتے ہیں لیکن راجح یہ ہے کہ یہاں سنگسار کرنے کے معنی مراد ہیں کیونکہ فرعون کی قوم حضرت موسیٰ ؑ کو قتل وغیرہ کی دھمکیاں دے رہی ہوگی۔
Read the full tafseer →فدعا ربہ ان ھولاء قوم مجرمون (22)
حضرت موسیٰ کی فریاد اپنے رب سے
قبطیوں پر حضرت موسیٰ ؑ کی اس اپیل پر اور تنبیہ کا کوئی اثر نہیں ہوا بلکہ وہ بدستور اپنی سازشوں اور سرگرمیوں میں لگے رہے۔ بالآخر حضرت موسیٰ ؑ اپنے رب سے فریاد کی، اے رب یہ لوگ سننے اور ماننے والے نہیں ہیں بلکہ یہ پکے مجرم ہیں، تو ہی ہے جو ان کے چنگل سے رہائی دلوا سکتا ہے۔
Read the full tafseer →22۔ 1 یعنی جب انہوں دیکھا کہ دعوت کا اثر قبول کرنے کی بجائے، اس کا کفر وعناد بڑھ گیا تو اللہ کی بارگاہ میں دعا کے لئے ہاتھ پھیلا دیئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
8: مطلب یہ ہے کہ جب تمہارے راستے میں سمندر آجائے گا تو تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سمندر کو ٹھہرا کر راستہ بنادیں گے۔ جب تم اس سے پار ہوجاؤ تو اس بات کی فکر نہ کرنا کہ سمندر میں جو راستہ بنا ہوا ہے۔ وہ فرعون کے لشکر کے بھی کام آئے گا، اور وہ سمندر پار کر کے ہمارا تعاقب جاری رکھیں گے، بلکہ سمندر کو ویسا ہی ٹھہرا ہوا چھوڑ دینا۔ اللہ تعالیٰ خود ان کو ڈبونے کے لیے سمندر کو پھر پہلی حالت میں واپس کردیں گے۔ اس واقعے کی تفصیل سورة یونس : 90 تا 92 اور سورة شعراء : 56 تا 67 میں گذر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
آیت نمبر 17 تا 33
اس وادی کے دروازے ہی پر یہ خوفناک اعلان لکھا ہوا ہے کہ یاد رکھو ، کسی قوم کی طرف رسول کا بھیجا جانا اس کی آزمائش ہوتی ہے۔ مکذبین کو یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ وقت بہت تھورا ہے ، اس میں تم تکذیب بھی کرسکتے ہو ، تکبر اور غرور بھی کرسکتے ہو۔ رسول کو ایذا بھی دے سکتے ہو ، تکبر اور غرور بھی کرسکتے ہو۔ رسول کو ایذا بھی دے سکتے ہو ، مومنین پر ظلم و ستم بھی ڈھا سکتے ہو لیکن آخر میں غرور کا سر نیچا ہوتا ہے اور تم جو رسول اللہ ﷺ کو طیش دلاتے ہو ، ان کا پیمانہ صبر لبریز کرتے ہو ، لیکن آپ ﷺ بدستور صبر کا پیکر بنے ہوئے ہیں اور تمہاری ہدایت ہی کے امیدوار ہیں ، اس کا انجام برا بھی ہو سکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
8 یعنی آخر مجبور ہو کر اللہ سے فریاد کی کہ یہ لوگ اپنے جرائم سے باز آنے والے نہیں اب آپ میرے اور ان کے درمیان فیصلہ کردیجیے وہاں کیا دیر تھی۔ حضرت موسیٰ کو حکم ہوا کہ فرعونیوں کو اطلاع کیے بدون بنی اسرائیل کو لے کر راتوں رات مصر سے چلے جاؤ۔ کیونکہ دن ہونے پر جب انہیں اطلاع ہوگی اس وقت تمہارا پیچھا کریں گے۔ لیکن یاد رہے راستہ میں سمندر پڑے گا۔ اس پر عصا مارنے سے پانی ادھر ادھر ہٹ جائے گا اور درمیان میں خشکی و صاف راستہ نکل آئے گا۔ اسی راستہ سے اپنی قوم کو لے کر گزر جاؤ۔
Read the full tafseer →آیت 22 { فَدَعَا رَبَّہٗٓ اَنَّ ہٰٓؤُلَآئِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ } ”پھر اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ مجرم قوم ہے۔“
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اس دعا کے بعد اللہ تعالیٰ نے حکم دیاـ:
Read the full tafseer →17 سیدناموسیٰ کی اپنے اللہ سے فریاد :۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ فریاد ویسی ہی فریاد ہے جو انبیائے کرام اپنی قوم کو سمجھانے اور ان کی طرف سے پوری طرح مایوس ہوجانے کے بعد کیا کرتے ہیں۔ گویا اس فریاد کا زمانہ ٹھیک وہی زمانہ ہے۔ جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو بنی اسرائیل اور ایمانداروں کے ہمراہ ہجرت کرنے کا حکم ملا تھا۔
Read the full tafseer →16۔ (معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایمان نہ لائیں گے اور وقت ان کی گرفت ہی کا آپہنچا ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
آیت نمبر 1 تا 29
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اللہ کی کیا مراد ہے ؟ وہی بہتر جانتا ہے قسم ہے واضح کتاب قرآن کی جو حلال کو حرام سے ممتاز کرنے والی ہے، یقیناً ہم نے اس کو بابرکت رات میں نازل کیا ہے اور وہ شب قدر یا شب نصف شعبان ہے، اسی رات میں قرآن کو ساتویں آسمان پر موجود لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا، بیشک ہم اس کے ذریعہ ڈرانے والے ہیں، اسی رات یعنی شب قدر یا شب نصف شعبان میں ہر محکم کام کا مثلاً روزی، موت وغیرہ جو اس سال اسی جیسی (آئندہ) رات تک ہونے والے ہوتے ہیں فیصلہ کیا جاتا ہے، ہمارے پاس سے حکم صادر ہو کر ہم ہی ہیں رسول بنا کر…
Read the full tafseer →فدعا ربہ ان ھولا قوم مجرمون۔ تب موسیٰ نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ بڑے سخت مجرم لوگ ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
(22۔ 23) مگر جب انہوں نے اپنی ہلاکت خود ہی مول لے لی تب موسیٰ نے دعا کی کہ پروردگار یہ تو مشرکین ہیں پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم کیا کہ تم بنی اسرائیل کو رات ہی رات میں لے کر چلے جاؤ کیونکہ تم لوگوں کا دریا پر تعاقب ہوگا۔
Read the full tafseer →فدعا ربہ ان ھولآ قوم مجرمون، یہاں ایک لمبا قصہ حذف کردیا گیا ہے جو کئی سال تک موسیٰ ؑ کی دعوت، ہر طرح کی آزمائشوں کے باوجود فرعون کی سرکشی، بنی اسرائیل پر بےپناہ مظالم اور ان کے بےمثال صبر پر مشتمل ہے۔ ”فدعا ربہ“ کے ساتھ اس قصے کا انجام بیان کیا گیا ہے کہ جب انہوں نے تمام معجزے دیکھنے، ہر بار ایمان لانے کا عہد کرنے اور اسے توڑ دینے کے بعد صاف لفظوں میں کہہ دیا :(مھما تاتنا بہ من ایۃ لتسحرنا بھا، فما نحن لک بمومنین) (الاعراف :132)”تو ہمارے پاس جو نشانی بھی لے آئے، تاکہ ہم پر اس کے ساتھ جادو کرے تو ہم تیری بات ہرگز ماننے والے نہیں۔“ تو ان کے ایمان لانے سے پوری طرح مایوس ہونے کے بعد نوح ؑ کی طرح…
Read the full tafseer →اس میں حذف ہے تقدیر کلام یوں ہے یہاں ان کا ہمزہ مفتوح ہے کیونکہ اصل میں بان تھا۔ وہ مشرک قوم ہیں انہوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کرنے اور ایمان لانے سے انکار کردیا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے فرمایا کہ (آیت ) ” ولقد فتنا “ سے مراد ہے کہ ہم نے ان کو آزمایا۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد فتنا “ یعنی ہم نے اس کو آزمائش میں مبتلا کردیا (آیت ) ” قبلھم قوم فرعون وجاء ھم رسول کریم “ (ان سے پہلے فرعون کی قوم کو اور ان کے پاس ایک معزز پیغمبر آیا تھا فرمایا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) تھے (آیت) ” ان ادوا الی عباد اللہ “ (اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کردو) یعنی بنی اسرائیل کو بھیج دو ۔ (آیت ) ” وان لا تعلوا علی اللہ “ اور تم خدا سے سرکشی مت کرو) یعنی اللہ تعالیٰ پر بڑائی کا اظہار نہ کرو (آیت ) ”…
Read the full tafseer →فَدَعَا رَبَّهٗٓ [ پھر انہوں نے دعا (فریاد) کی اپنے رب سے ] اَنَّ هٰٓؤُلَاۗءِ [ کہ یہ لوگ ] قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ [ جرم کرنے والے لوگ ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
قوم فرعون کے پاس اللہ تعالیٰ کا رسول آنا، اور نافرمانی کی وجہ سے ان لوگوں کا غرق ہونا، بنی اسرائیل کا فرعون سے نجات پانا اور انعامات ربانیہ سے نوازا جانا
ان آیات میں فرعون کی نافرمانی کا اور بطور سزا لشکروں سمیت سمندر میں ڈوب جانے کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ ہم نے ان سے یعنی قریش مکہ سے پہلے قوم فرعون کو آزمایا ان کے پاس رسول کریم یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تشریف لائے۔ جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مکرم و معظم تھے انہوں نے فرعون سے اور اس کی جماعت سے کہا کہ بنی اسرائیل کو تم دکھ تکلیف دیتے ہو انہیں مصیبت میں مبتلا کر رکھا ہے ان اللہ کے بندوں کو تم میرے حوالے کردو اور میرے ساتھ بھیج دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
بیان عظمت کتاب اللہ وبرکات زمانہ نزول قرآن مع دعوت ایمان وبدنصیبی محرومین واشقیاء از سعادت خداوندی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” حم والکتب المبین ...... الی ....... انا منتقمون “۔
(ربط) گزشتہ سورتک مضمون توحید و رسالت کا اثبات تھا اور اس سے اختلاف واعراض کرنے والے مجرمین کی بدنصیبی کا ذکر کرتے ہوئے ان کے افسوس ناک عبرت ناک انجام کا بیان تھا اور اسی موضوع پر سورت کا مضمون ختم فرما دیا گیا تھا کہ اگر ان واقعات کو سن کر بھی قریش کے لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کو سوچ لینا چاہئے کہ ایسا ہی عبرت ناک انجام ان کا بھی ہوگا، ساتھ ہی آپ ﷺ کو تسلی دینا بھی مقصود تھا کہ قریش مکہ کی مخالفت ودشمنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
16: فدعا ربہ۔ جب فرعون اور اس کی قوم تکذیب پر مصر ہوگئی اور عناد و سرکشی سے باز نہ آئی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ سے ان کی شکایت کی یہ لوگ سخت مجرم ہیں اور اپنے جرم شرک سے باز آنے والے نہیں ہیں اس لیے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔ مجرمون مشرکون (جلالین) ان ھؤلاء قوم مجرمون تناھی امرھم فی الکفر وانت اعلم بہم فافعل بھم مایستحقونہ (روح ج 25 ص 122) ۔ ” فاسر بعبادی الخ “ اس سے پہلے حذف ہے یہ قاعدہ ہے جب گذشتہ زمانے کے امر کی حکایت کی جائے تو اس سے پہلے قلنا یا کوئی اور مناسب فعل محذوف ہوتا ہے۔ ای فاجبنا دعاءہ واوحینا الیہ ان اسر بعبادی (قرطبی ج 16 ص 136) ۔ ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–29
ربطہ آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے نزول قرآن کے زمانے کے مشرکین بالخصوص مشرکین مذکر انداز کیا ، ان کی نافرمانی کا حال بیان کیا اور پھر ان پر آن والی گرفت کا ذکر کیا۔ اللہ نے ان پر دھوئیں کی شکل میں قحط مسلط کیا۔ انہوں نے عہد کیا کہ یہ مصیبت دور ہوجائے تو وہ ایمان لے آئیں۔ مگر جب انہیں قحط سے نجات مل گئی تو وہ پہلے سے بھی زیادہ کفر و شرک میں منہمک ہوگئے۔ اللہ نے بھی فرما دیا کہ ہم تھوڑی مدت کے لئے ان سے تکلیف کو ہٹائیں گے لیکن نافرمانی کی صورت میں بڑی گرفت میں لے لیں گے۔ چناچہ اللہ نے بدر کے مقام پر بہت سے سرکردہ مشرکین کو ہلاک کیا ، بعض قیدی بنے اور بعض شکست کھا کر بھاگ گئے۔
قوم فرعون کی…
Read the full tafseer →فَدَعَا رَبَّہٗٓ اَنَّ ہٰٓؤُلَاۗءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ 22
دعا
الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ،
( د ع و ) الدعاء ( ن )
کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
ترکیب : ان ادوا قیل ان مفسرۃ لان مجئی الرسول متضمن لمعنی القول وقیل مخفقذمن الثقیلۃ عباد اللہ اما مفعول بہ لا دوا ای ارسلوھم معی اوانہ مناوی والتقدیر ادوا الی یا عباد اللہ ماھو واجب علیکم من الایمان والاعمال الصالحۃ۔
تفسیر : کفار مکہ کو ان کی سرکشی پر ایک آنے والی بلا سے ڈرایا گیا تھا اب اس جگہ فرعونیوں کا قصہ سنایا جاتا ہے کہ وہ باوجودیکہ تم سے زیادہ مالدار ‘ طاقت ور تھے ان کو رسول نے سمجھایا مگر نہ مانا اور سرکشی سے باز نہ آئے۔ بنی اسرائیل کے پیچھے دوڑے آئے کہ پکڑلاویں اور غلامی میں رکھیں آخر اس کے فضل سے بنی اسرائیل بحرِقلزم سے خشک پار اتر گئے اور فرعونی غرق ہوگئے تمام باغ و مکان و آرایش…
Read the full tafseer →فَدَعَا رَبَّـہٗٓ اَنَّ ھٰٓؤُلَآئِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ ۔ (الدخان : 22)
(پس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا کہ یہ لوگ مجرم ہیں۔ )
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اپنے رب سے فریاد
آپ کی چونکہ حالات پر گہری نظر تھی، آپ نے محسوس کیا کہ ان کی تنبیہ کا فرعون پر کوئی اثر نہیں ہوا بلکہ وہ طاقت کے زور سے آپ کو ختم کردینے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی سنت رہی ہے کہ جب وہ مخالفین کی طرف سے آخری اقدام کا خطرہ محسوس کرتے ہیں تو پھر وہ مخالفین کے خاتمہ کے لیے دعا مانگا کرتے ہیں۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی خطرے کو بےلگام ہوتے ہوئے دیکھ کر اپنے رب کو پکارا کہ الٰہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح مکہ والوں کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں عذاب میں مبتلا کیا اسی طرح ہی قوم فرعون کو مختلف قسم کے عذابوں میں مبتلا کیا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہم نے تمہاری طرف ایسا رسول بھیجا ہے جس طرح قوم فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا۔ لیکن فرعون نے اسے ماننے سے انکار کردیا تھا جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اسے بڑے عذاب میں مبتلا کیا۔ (المزمل : 15، 16)
ارشاد فرمایا کہ ہم نے اس سے پہلے ایک معزز رسول کے ذریعے قوم فرعون کو آزمایا۔ اس کے رسول نے فرعون کو یہ بات کہی تھی کہ اللہ کے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو میرے حوالے کر دو ۔ میں تمہارے لیے امین اور ذمہ…
Read the full tafseer →آیت 22 : فَدَعَا رَبَّہٗ (تب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا کی) اپنی قوم کی شکایت کرتے ہوئے۔ اَنَّ ہٰٓؤُلَآئِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ (بیشک یہ سخت مجرم لوگ ہیں) ان یہ اصل میں بان ہے۔ یعنی انہوں نے اپنے رب سے اس طرح دعا کی ہؤلاء قوم مجرمون۔
ایک قول یہ ہے :
ان کی دعا اس طرح تھی۔ اللہم عجل لہم مایستحقونہ باجرامہم۔
ایک اور قول ہے :
دعا کا مصداق یہ قول ہے۔ ربنا لا تجعلنا فتنۃ للقوم الظالمین۔ ] یونس۔ 85[
قراءت : اِن ہؤلاء کسرہ سے بھی پڑھا گیا ہے۔ اس صورت میں قول ظاہر ہوگا۔ تقدیر عبارت اس طرح ہوگی فدعا ربہ فقال ان ہؤلاء۔
Read the full tafseer →21، وان لم تؤمنوالی فاعتزلون، پس تم مجھے چھوڑدونہ میرے ساتھ ہو اور نہ میرے خلاف اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ پس تم ہاتھ اور زبان کے ساتھ مجھے تکلیف دینے سے جدا ہوجاؤ۔ پس وہ ایمان نہ لائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
17۔ 23۔ اوپر ذکر تھا کہ قریش پر قحط کی آفت آئی تو انہوں نے اپنے بتوں کو چھوڑ کر خالص اللہ سے رفع قحط کی التجا کی اور جب اللہ نے اس بلا کو دفع کردیا تو وہ لوگ پھر وہی شرک کرنے لگے۔ قریش کی یہ حالت فرعون کی قوم کی حالت سے ملتی ہوئی تھی اس واسطے ان آیتوں میں فرعون اور اس کی قوم کا ذکر فرمایا۔ سورة یوسف میں گزر چکا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے مصر کے قیام کے زمانہ میں بنی اسرائیل اپنے اصلی وطن ملک شام کو چھوڑ کر مصر میں آ کر آباد ہوئے اب یوسف (علیہ السلام) کی وفات کے بعد فرعون بنی اسرائیل کو بڑی ذلت سے رکھتا تھا اس واسطے موسیٰ (علیہ السلام) کے نبی ہو کر مصر میں آنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے موسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
آیت 17
رسول مصطفیٰ محمد ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ گزشتہ زمانوں میں بھی جھٹلانے والے موجود تھے اور ان کا قصہ حضرت موسیٰ کے ساتھ ذکر فرمایا، نیز اس عذاب کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کیا تاکہ جھٹلانے والے اپنے اس رویے سے باز آجائیں فرمایا : (آیت) ” یعنی ہم نے اپنے رسول کریم حضرت موسیٰ بن عمران کو ان کی طرف مبعوث کر کے انہیں آزمایا جن میں بھلائی اور مکارم اخلاق بدرجہ اتم موجود تھے جو کسی اور میں موجود نہ تھے۔
(ان ادوآ الی عباد اللہ) یعنی حضرت موسیٰ نے فرعون اور اس کے سرداروں سے کہا ” اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کردو۔ “ اس سے حضرت موسیٰ کی مراد بنی اسرائیل…
Read the full tafseer →27 مجرم قوم کے مقابلے میں حضرت موسیٰ کا اپنے رب کو پکارنے کا ذکر : سو آخرکار اس مجرم قوم کے مقابلے میں حضرت موسیٰ نے بڑے درد بھرے انداز میں اپنے رب کو پکارا کہ یہ مجرم لوگ سننے ماننے والے نہیں۔ پس اب تو ہی ان کو سنبھال۔ سو حضرات انبیاء و رسل بھی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے اللہ پاک ہی کو بلاتے پکارتے تھے کہ حاجت روا و مشکل کشا سب کا یہاں تک کہ انبیاء و رسل اور اولو العزم رسولوں کا حاجت روا و مشکل کشا بھی وہی وحدہ لاشریک ہے۔ مگر افسوس کہ دور حاضر کے کلمہ گو مشرک کو یہ بات سمجھنے کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔ اور اس نے اپنے طور پر طرح طرح کے حاجت روا و مشکل کشا گھڑ رکھے ہیں۔ اور وہ نہ صرف یہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
قرآن سچ ہے اور اس کے علاہ سب غلط ہے
تشریح : ان تمام آیات میں اللہ کی ان تدابیر کا ذکر کیا گیا ہے جو اس نے کائنات کے لیے مرتب کر رکھی ہیں۔ مثلاً میجر جنرل غلام محمد ملک صاحب اس کی بڑے خوبصورت انداز میں یوں وضاحت کرتے ہیں : فلسفہ تاریخ جس طرح سیاسی واقعات کی تکرار اور حوادث کے بار بار اعادہ سے اصول اور نتائج تک پہنچ کر ایک عام تاریخی قانون بنا لیتا ہے اسی طرح انبیاء علیھم السلام کے سوانح اور تاریخیں بھی اپنے واقعات کے بار بار اعادہ سے خصائصِ نبوت کا اصول قانون ہمارے لیے مرتب کرتی ہے۔ پیغمبرانہ تاریخ کے انہی اصول و قوانین میں سے ایک یہ ہے کہ نبی جب اپنے کمال انسانیت کو پہنچ کر فیضان نبوت کے قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
آیات 1 تا 29۔
اسرار ومعارف۔
حم۔ اس کتاب واضح کی قسم ہے یعنی یہ دلائل سے حق کو واضح کردینے والی کتاب اس پر گواہ ہے جسے ہم نے ایک بہت بابرکت شب کو لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل فرمایا کہ اس کے نزول سے مراد مخلوق کو صحیح راہ عمل دکھانا اور اعمال بد کے بد انجام سے بروقت خبر دینا ہے کہ وہ اپنی راہ متعین کرسکیں
لیلہ مبارکہ :
لیلہ مبارکہ سے مراد مفسرین کرام سے لیلۃ القدر ہے کہ قرآن کریم کی دوسری آیات سے اس کی تعیین ہوجاتی ہے نیز نزول قران رمضان المبارک ہی میں ہوا اور جو بات نصف شعبان کی شب کے بارے مشہور ہے ، اس کی سندیں ضعیف ہیں اس لیے اکثر علماء نے اسے قبول نہیں کیا ، اور بعض نے اس کی فضیلت اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
ف 5 حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے سمندر عبور کرنے کے بعد چاہا کہ سمندر پر عصا ماردیں تاکہ وہ مل جائے اور فرعون کا لشکر اس میں داخل نہ ہو سکے۔ حکم ہوا کہ ایسا نہ کرو بلکہ سمندر کو اپنے موجودہ حال چھوڑ کر آگے بڑھ جائو تاکہ فرعون کا لشکر اس میں داخل ہوجائے۔
6 چناچہ ایسا ہی ہوا۔ فرعون نے جب سمندرکو پھٹاپایا تو لشکر سمیت اس میں داخل ہوگیا اور سب غرق ہوگئے۔
Read the full tafseer →(44:22) ان حرف مشبہ بالفعل ۔ خبر کی تاکید اور تحقیق مزید کے لئے آتا ہے اپنے اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے۔ ھولائ۔ اسم ان۔ قوم مجرمون موصوف و صفت مل کر خبر۔ تحقیق یہ مجرم لوگ ہیں۔
مجرمون : اسم فاعل جمع مذکر۔ مجرم واحد۔ اجرام (افعال) مصدر سے۔ گنہگار۔ مجرم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 33 : فتنا ( ہم نے آزمایا) لا تعلوا (تم نہ چڑھو) اعتزلون ( تم مجھ سے دور ہٹ جائو) اسر (تو راتوں رات چل) رھوا ( ٹھہرا ہوا) جند ( لشکر) مابکت (نہ روئی ، نہ رویا) منظرین (مہلت دیئے گئے) اخترانا ( ہم نے پسند کیا)
تشریح : آیت نمبر 17 تا 33 : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حق و صداقت کی سر بلندی اور ہدایت و تبلیغ میں ساری زندگی جدوجہد فرمائی فرعون اور آل فرعون نے جس طرح ان کی نافرمانی کی اس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی مختلف سورتوں میں عبرت و نصیحت کے لئے مختصر یا تفصیل سے بیان کیا ہے۔ یہاں ایک مرتبہ پھر حضرت موسیٰ کی زندگی کے ایک اور پہلو کو بیان کرکے کفار قریش کو آگاہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جیسے یہ قریش کافر ہیں یوں ہی ہم نے ان سے پہلے فرعون اور اس کی قوم کو فتنہ میں ڈالا تھا یعنی ان کو عذاب دیا اور آزمائش میں ڈالا، اور ان کے پاس خدا کے برگزیدہ کرامت والے رسول آئے، یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، اور آکر موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کی قوم سے درخواست کی کہ بنی اسرائیل کو مت ستاؤ، اور ان کو میرے حوالے کردو، اسی درخواست کی تائید میں حضرت موسیٰ نے یہ بھی کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے امانت دار رسول ہوں، جس طرح مجھ کو اللہ کا حکم ہوتا ہے وہی میں تم لوگوں کو پہنچادیتا ہوں اپنی طرف سے اس میں کچھ خیانت نہیں کرتا، اور یہ بھی کہا کہ اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–32
[8] یعنی یہ افضلیت اور اشرفیت یوں ہی اٹکل پچو بلاوجہ نہ تھی۔ یہ اس لئے تھی کہ اللہ کے علم میں اس وقت کی قوموں میں اس کے لئے موزوں ترین قوم بنی اسرائیل تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–32
دھوئیں کا عذاب
1: مکہ والوں نے جب حضور ﷺ کے پیغام توحید کو ٹھکرایا اور انتہائی تحقیر وتذلیل کے ساتھ آپ کا خیرمقدم کیا ۔ تو اس وقت آپ کی زبان الہام ترجمان سے یہ کلمات بےاختیار نکل گئے ۔ کہ اے اللہ ان لوگوں پر اس قحط کا عذاب نازل کر جو تونے یوسف کے زمانہ میں نازل کیا تھا ۔ بس ان الفاظ کا حضور ﷺ کے منہ سے نکلنا تھا ۔ کہ اجابت نے ہاتھوں ہاتھ لیا ۔ آسمان نے رحمت کے دراوزوں کو ان پر بند کرلیا ۔ زمین میں خشک ہوگئی ۔ اور قحط وجوع نے قریش کو آزمائش میں ڈال دیا ۔ اس قدر فاقے ہونے لگے ۔ کہ بھوک کے مارے ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے دھواں سا معلوم ہونے لگا ۔ زندگی کے لئے یہ لوگ مجبور ہوگئے ۔ کہ مردار…
Read the full tafseer →(22) آخر کار موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا کہ یہ لوگ بڑے ہی گنہگار ہیں۔ یعنی اب ان کا فیصلہ فرمادیجئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
ف 2۔ مراد بنی اسرائیل ہیں۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا کہ یہ لوگ تو اب مجرم ہونے کو ہیں
22 ؎ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے سوال کا جواب بلاشبہ نہایت عزم وجزم کے ساتھ دیا لیکن دل میں کھٹکا تو موجود تھا کہ نہ معلوم فرعون اپنی طاقت وقوت کے نشہ میں کوئی سخت قدم اٹھا ہی نہ دے اس لیے جب فرعون سے علیحدگی ہوئی تو فوراً اپنے رب کریم کی طرف رجوع ہوئے اور عرض کی کہ اے میرے پروردگار ! یہ لوگ تو مجرم ہیں ہی اور ظاہر ہے کہ مجرم کا کام ہی کیا ہے کہ وہ جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو شاید یہ لوگ اپنی حکومت کے نشہ میں اپنی کہی ہوئی بات پر عمل کرنے کی کوئی اسکیم کریں۔ اب حالات اس جگہ پہنچ گئے تھے جہاں پہنچ کر انبیاء کرام اور رسل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
Commentary
وَإِنِّي عُذْتُ بِرَبِّي وَرَبِّكُمْ أَن تَرْجُمُونِ "And I have sought refuge with my Lord and your Lord, lest you stone me to death. (44:20) " The word rajm means 'to stone to death'. Another meaning of the word is 'to revile or to make a verbal assault or to heap up insults'. Both senses are possible here, but it seems more likely that the word is used here in the sense of stoning to death, because Fir'aun's people must have been threatening Prophet Musa (علیہ السلام) with death.
Read the full tafseer →20 This is the final report that the Prophet Moses presented before his Lord, saying: "These are criminals." That is, their being the criminals has been confirmed finally and absolutely. They have exhausted every chance of concession and respite for reformation. It is time that the final fatal decision be passed against them.
Read the full tafseer →