Ad-Dukhaan 44:21

Ad-Dukhaan · from ayah 21

44:21

وَاِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنِ ۟وَاِنۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا لِىۡ فَاعۡتَزِلُوۡنِ

اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ ہو جاؤ

— Fateh Muhammad Jalandhari

But if you do not believe me, then leave me alone."

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Ad-Dukhaan

All translations of 44:21

اگر تم میری بات نہیں مانتے تو مجھ پر ہاتھ ڈالنے سے باز رہو"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ ہو جاؤ

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں ﻻتے تو مجھ سے الگ ہی رہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ ہوجاؤ

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اگر میرا یقین نہ لاؤ تو مجھ سے کنارے ہوجاؤ

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے کنارہ کش ہو جاؤ،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اگر تم میری بات نہیں مانتے تو مجھ سے الگ رہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اگر تم میری بات پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ ہوجاؤ

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اگر تم میری تصدیق نہیں کرتے تو میری راہ چھوڑو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ ہوجاؤ

— مولانا اسحاق مدنی

اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ ہی رہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اگر تم لوگ میری بات نہیں مانتے ہو تو مجھ سے دوررہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اگر مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے علیحدہ ہوجاؤ

— محترمہ رفعت اعجاز

But if you do not believe what I say, leave me alone (and desist from laying hands on me).”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And if you do not believe in me, then keep away from me.

— Muhammad Taqi Usmani

And if you do not believe in me, then keep away from me.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"But if you believe me not, then keep away from me and leave me alone."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And if ye put no faith in me, then let me go.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But if you do not believe me, then leave me alone."

— Saheeh International

If you do not want to believe, leave me alone".

— Muhammad Sarwar

And if you do not believe in me, then leave me alone.

— Muhammad Habib Shakir

And if ye will not believe in me, then let me alone.

— Abdul Majid Daryabadi

"If ye believe me not, at least keep yourselves away from me."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 44:21

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–33

قبطیوں کا انجام ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کردو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 20–21

سورة الدُّخَان 19 یہ اس زمانے کی بات ہے جب حضرت موسیٰ کی پیش کردہ ساری نشانیوں کے مقابلے میں فرعون اپنی ہٹ پر اڑا ہوا تھا مگر یہ دیکھ کر کہ ان نشانیوں سے مصر کے عوام اور خواص روز بروز متاثر ہوتے چلے جا رہے ہیں، اس کے ہوش اڑے جا رہے تھے۔ اس زمانے میں پہلے تو اس نے بھرے دربار میں وہ تقریر کی جو سورة زخرف، آیات 51۔ 53 میں گزر چکی ہے (ملاحظہ ہو حواشی سورة زخرف 45 تا 49) پھر زمین پاؤں تلے سے نکلتی دیکھ کر آخر کار وہ اللہ کے رسول کو قتل کردینے پر آمادہ ہوگیا۔ اس وقت آنجناب نے وہ بات کہی جو سورة مومن، آیت 27 میں گزر چکی ہے کہ اِنّی عذت بربّی ورَبکُم مِن کُل مُتکبرٍ لّا یؤمن بیوم الحساب۔ " میں نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 20–23

معارف و مسائل (آیت) وَاِنِّىْ عُذْتُ بِرَبِّيْ وَرَبِّكُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ (میں اپنے پروردگار اور تمہارے پروردگار کی پناہ لیتا ہوں اس سے کہ تم مجھے رجم کرو) رجم کے معنی سنگسار کرنے یعنی پتھر مار مار کردینے کے بھی آتے ہیں اور کسی کو گالی دینے اور برا بھلا کہنے کے بھی۔ یہاں دونوں معنی مراد ہو سکتے ہیں لیکن راجح یہ ہے کہ یہاں سنگسار کرنے کے معنی مراد ہیں کیونکہ فرعون کی قوم حضرت موسیٰ ؑ کو قتل وغیرہ کی دھمکیاں دے رہی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وان لم تومنوا لی فاعتزلون (21) یعنی اگر تم لوگ یہ باور کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہو کہ میں خدا کا سیر ہوں تو کم از کم مجھے قتل یا سنگسار کرنے کے مجرم نہ بنو بلکہ میری راہ چھوڑو۔ میں بنی اسرائیل کو لے کر جہاں جانا چاہتا ہوں چلا جائوں۔ بہتر تو یہ تھا کہ تم میری بات ابور کرتے اور مجھ پر ایمان لاتے۔ یہ چیز تمہاری دنیا اور آخرت دونوں کی سعادت کی ضامن ہوتی۔ اگر یہ منظور نہیں ہے تو کم از کمیری راہ میں مزاحم ہونے کی کوشش نہ کرو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

21۔ 1 یعنی اگر مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو نہ لاؤ، لیکن مجھے قتل کرنے کی اذیت پہنچانے کی کوشش نہ کرو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

7: یعنی اگر میری دعوت پر ایمان نہ لاؤ تو کم سے کم مجھے چھوڑ دو کہ میں حق کا پیغام ان لوگوں کو پیش کروں جو ماننے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور مجھے تکلیف پہنچانے اور میرے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے سے باز رہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 17–33

آیت نمبر 17 تا 33 اس وادی کے دروازے ہی پر یہ خوفناک اعلان لکھا ہوا ہے کہ یاد رکھو ، کسی قوم کی طرف رسول کا بھیجا جانا اس کی آزمائش ہوتی ہے۔ مکذبین کو یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ وقت بہت تھورا ہے ، اس میں تم تکذیب بھی کرسکتے ہو ، تکبر اور غرور بھی کرسکتے ہو۔ رسول کو ایذا بھی دے سکتے ہو ، تکبر اور غرور بھی کرسکتے ہو۔ رسول کو ایذا بھی دے سکتے ہو ، مومنین پر ظلم و ستم بھی ڈھا سکتے ہو لیکن آخر میں غرور کا سر نیچا ہوتا ہے اور تم جو رسول اللہ ﷺ کو طیش دلاتے ہو ، ان کا پیمانہ صبر لبریز کرتے ہو ، لیکن آپ ﷺ بدستور صبر کا پیکر بنے ہوئے ہیں اور تمہاری ہدایت ہی کے امیدوار ہیں ، اس کا انجام برا بھی ہو سکتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی اگر میری بات نہیں مانتے تو کم ازکم مجھے ایذاء دے کر اپنے جرم کو سنگین مت کرو۔ " مرا بخیر تو امید نیست بدمرساں " اور حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی اپنی قوم کو لے جاؤں تم راہ نہ روکو۔ "

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 21 { وَاِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنِ } ”اور اگر تم لوگ میری بات نہیں مانتے ہو تو مجھ سے دوررہو !“ تمہاری سازشوں کے خلاف چونکہ میں نے اپنے رب کی پناہ حاصل کرلی ہے اس لیے اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو بھی میرے خلاف کوئی عملی اقدام کرنے سے باز رہنا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

16 یعنی اگر تم میری دعوت قبول نہیں کرتے تو مجھے میرے حال پر چھوڑ دو اور مجھے ایذا نہ پہنچاؤ۔ ورنہ تم کبھی اللہ کی گرفت سے بچ نہ سکو گے۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو نہ لاؤ۔ مگر میری راہ نہ روکو اور بنی اسرائیل کو میرے ہمراہ جانے دو ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

15۔ یعنی کم از کم اتنا ہی کرو اور میری ایذاء کے درپے ہو کر اپنے جرم کو اور شدید تر تو نہ بناؤ۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں ایسے شخص سے قطع تعلق پر دلالت ہے جس کی اصلاح کہ امید نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–29

آیت نمبر 1 تا 29 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اللہ کی کیا مراد ہے ؟ وہی بہتر جانتا ہے قسم ہے واضح کتاب قرآن کی جو حلال کو حرام سے ممتاز کرنے والی ہے، یقیناً ہم نے اس کو بابرکت رات میں نازل کیا ہے اور وہ شب قدر یا شب نصف شعبان ہے، اسی رات میں قرآن کو ساتویں آسمان پر موجود لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا، بیشک ہم اس کے ذریعہ ڈرانے والے ہیں، اسی رات یعنی شب قدر یا شب نصف شعبان میں ہر محکم کام کا مثلاً روزی، موت وغیرہ جو اس سال اسی جیسی (آئندہ) رات تک ہونے والے ہوتے ہیں فیصلہ کیا جاتا ہے، ہمارے پاس سے حکم صادر ہو کر ہم ہی ہیں رسول بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وان لم تؤمنوا لی فاعترلون اور اگر تم میری بات کا یقین نہیں کرتے تو مجھ سے تعلق نہ رکھو۔ وَاَنْ لاَّ تَعْلُوْا یعنی مجھے حقیر سمجھ کر میری اطاعت ترک نہ کرو۔ (حضرت موسیٰ کو حقیر سمجھنا اور ان سے اپنے کو برتر جاننا حقیقت میں اللہ کے مقابلے میں غرور تھا ‘ اسلئے اللہ سے اونچا اٹھنے سے مراد ہے حضرت موسیٰ کو حقیر سمجھنا اور آپ کی اطاعت نہ کرنا ‘ مترجم) ۔ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنِ کھلی ہوئی دلیل ‘ جو صداقت پر دلالت کر رہی ہے۔ اداء کے ساتھ امانت اور سلطان کے ساتھ تعلّی کی ایک خاص مناسبت ہے ‘ اسی لئے اَدّوا کے بعد رسولٌ اَمِیْنٌ اور لاَ تَعْلُوْا کے ساتھ بِسُلْطَانٍ مُّبِیْنِ فرمایا۔ حضرت موسیٰ نے جب فرعون…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 20–21

(20۔ 21) اور میں اپنے پروردگار کی اور تمہارے پروردگار کی پناہ حاصل کرتا ہوں اس سے کہ تم لوگ مجھے قتل کرو اور اگر تم میری رسالت کی تصدیق نہیں کرتے تو مجھ سے علیحدہ رہو۔ لالی ولا علی

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وان لم تومنوا لی فاعترلون : یعنی اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھے میرے حال پر چھوڑ دو ، مجھے ایذا نہ پہنچاؤ اور بنی اسرائیل کو میرے ہمراہ جانے سے نہ روکو۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اگر تم میری تصدیق نہ کرو اور میری دلیل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائو میں لام احنبیہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے معنی ہے یہاں لام باء کے معنی میں ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (عنکبوت 26) یہاں بھی لام باء کے معنی میں ہے۔ مجھے چھوڑ دو نہ میری طرف داری کرو اور نہ میرے خلاف کسی کی مدد کرو، یہ مقاتل کا قول ہے : ایک قول یہ کیا گیا ہے تم مجھ سے الگ تھلگ ہو جائو میں تم سے الگ تھلگ ہوجاتا ہوں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان فیصلہ فرما دے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ میرا راستہ چھوڑ دو اور مجھ سے اپنی اذیت کو روک دو ۔ (5) معنی قریب قریب ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 17–28

1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے فرمایا کہ (آیت ) ” ولقد فتنا “ سے مراد ہے کہ ہم نے ان کو آزمایا۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد فتنا “ یعنی ہم نے اس کو آزمائش میں مبتلا کردیا (آیت ) ” قبلھم قوم فرعون وجاء ھم رسول کریم “ (ان سے پہلے فرعون کی قوم کو اور ان کے پاس ایک معزز پیغمبر آیا تھا فرمایا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) تھے (آیت) ” ان ادوا الی عباد اللہ “ (اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کردو) یعنی بنی اسرائیل کو بھیج دو ۔ (آیت ) ” وان لا تعلوا علی اللہ “ اور تم خدا سے سرکشی مت کرو) یعنی اللہ تعالیٰ پر بڑائی کا اظہار نہ کرو (آیت ) ”…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِيْ [ اور اگر تم لوگ بات نہیں مانتے میری ] فَاعْتَزِلُوْنِ [ تو کنارہ کش ہوجاؤ مجھ سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 17–24

قوم فرعون کے پاس اللہ تعالیٰ کا رسول آنا، اور نافرمانی کی وجہ سے ان لوگوں کا غرق ہونا، بنی اسرائیل کا فرعون سے نجات پانا اور انعامات ربانیہ سے نوازا جانا ان آیات میں فرعون کی نافرمانی کا اور بطور سزا لشکروں سمیت سمندر میں ڈوب جانے کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ ہم نے ان سے یعنی قریش مکہ سے پہلے قوم فرعون کو آزمایا ان کے پاس رسول کریم یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تشریف لائے۔ جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مکرم و معظم تھے انہوں نے فرعون سے اور اس کی جماعت سے کہا کہ بنی اسرائیل کو تم دکھ تکلیف دیتے ہو انہیں مصیبت میں مبتلا کر رکھا ہے ان اللہ کے بندوں کو تم میرے حوالے کردو اور میرے ساتھ بھیج دو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–29

بیان عظمت کتاب اللہ وبرکات زمانہ نزول قرآن مع دعوت ایمان وبدنصیبی محرومین واشقیاء از سعادت خداوندی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” حم والکتب المبین ...... الی ....... انا منتقمون “۔ (ربط) گزشتہ سورتک مضمون توحید و رسالت کا اثبات تھا اور اس سے اختلاف واعراض کرنے والے مجرمین کی بدنصیبی کا ذکر کرتے ہوئے ان کے افسوس ناک عبرت ناک انجام کا بیان تھا اور اسی موضوع پر سورت کا مضمون ختم فرما دیا گیا تھا کہ اگر ان واقعات کو سن کر بھی قریش کے لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کو سوچ لینا چاہئے کہ ایسا ہی عبرت ناک انجام ان کا بھی ہوگا، ساتھ ہی آپ ﷺ کو تسلی دینا بھی مقصود تھا کہ قریش مکہ کی مخالفت ودشمنی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 21–22

16: فدعا ربہ۔ جب فرعون اور اس کی قوم تکذیب پر مصر ہوگئی اور عناد و سرکشی سے باز نہ آئی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ سے ان کی شکایت کی یہ لوگ سخت مجرم ہیں اور اپنے جرم شرک سے باز آنے والے نہیں ہیں اس لیے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔ مجرمون مشرکون (جلالین) ان ھؤلاء قوم مجرمون تناھی امرھم فی الکفر وانت اعلم بہم فافعل بھم مایستحقونہ (روح ج 25 ص 122) ۔ ” فاسر بعبادی الخ “ اس سے پہلے حذف ہے یہ قاعدہ ہے جب گذشتہ زمانے کے امر کی حکایت کی جائے تو اس سے پہلے قلنا یا کوئی اور مناسب فعل محذوف ہوتا ہے۔ ای فاجبنا دعاءہ واوحینا الیہ ان اسر بعبادی (قرطبی ج 16 ص 136) ۔ ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے حکم…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–29

ربطہ آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے نزول قرآن کے زمانے کے مشرکین بالخصوص مشرکین مذکر انداز کیا ، ان کی نافرمانی کا حال بیان کیا اور پھر ان پر آن والی گرفت کا ذکر کیا۔ اللہ نے ان پر دھوئیں کی شکل میں قحط مسلط کیا۔ انہوں نے عہد کیا کہ یہ مصیبت دور ہوجائے تو وہ ایمان لے آئیں۔ مگر جب انہیں قحط سے نجات مل گئی تو وہ پہلے سے بھی زیادہ کفر و شرک میں منہمک ہوگئے۔ اللہ نے بھی فرما دیا کہ ہم تھوڑی مدت کے لئے ان سے تکلیف کو ہٹائیں گے لیکن نافرمانی کی صورت میں بڑی گرفت میں لے لیں گے۔ چناچہ اللہ نے بدر کے مقام پر بہت سے سرکردہ مشرکین کو ہلاک کیا ، بعض قیدی بنے اور بعض شکست کھا کر بھاگ گئے۔ قوم فرعون کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِيْ فَاعْتَزِلُوْنِ۝ 21 أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–28

ترکیب : ان ادوا قیل ان مفسرۃ لان مجئی الرسول متضمن لمعنی القول وقیل مخفقذمن الثقیلۃ عباد اللہ اما مفعول بہ لا دوا ای ارسلوھم معی اوانہ مناوی والتقدیر ادوا الی یا عباد اللہ ماھو واجب علیکم من الایمان والاعمال الصالحۃ۔ تفسیر : کفار مکہ کو ان کی سرکشی پر ایک آنے والی بلا سے ڈرایا گیا تھا اب اس جگہ فرعونیوں کا قصہ سنایا جاتا ہے کہ وہ باوجودیکہ تم سے زیادہ مالدار ‘ طاقت ور تھے ان کو رسول نے سمجھایا مگر نہ مانا اور سرکشی سے باز نہ آئے۔ بنی اسرائیل کے پیچھے دوڑے آئے کہ پکڑلاویں اور غلامی میں رکھیں آخر اس کے فضل سے بنی اسرائیل بحرِقلزم سے خشک پار اتر گئے اور فرعونی غرق ہوگئے تمام باغ و مکان و آرایش…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 20–21

وَاِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَرَبِّـکُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ ۔ وَاِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنَ ۔ (الدخان : 20، 21) (اور میں اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لے چکا ہوں اس بات سے کہ تم مجھے سنگسار کرو۔ اور اگر تم میری بات نہیں مانتے تو پھر مجھ سے الگ رہو۔ ) فرعون کی دھمکی کا جواب سورة المؤمن میں ہم یہ بات پڑھ چکے ہیں کہ فرعون اور سلطنت کے دیگر عمائدین حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت و تبلیغ کے اثرات کو دیکھتے ہوئے روز بروز پریشان ہوتے جارہے تھے اور زمین ان کے پائوں سے نکلتی دکھائی دے رہی تھی۔ آپ کے اثرات کو روکنے کا فوری طریقہ یہ تھا کہ آپ کو ختم کردیا جاتا۔ لیکن فرعون بعض مصالح کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 17–22

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح مکہ والوں کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں عذاب میں مبتلا کیا اسی طرح ہی قوم فرعون کو مختلف قسم کے عذابوں میں مبتلا کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہم نے تمہاری طرف ایسا رسول بھیجا ہے جس طرح قوم فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا۔ لیکن فرعون نے اسے ماننے سے انکار کردیا تھا جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اسے بڑے عذاب میں مبتلا کیا۔ (المزمل : 15، 16) ارشاد فرمایا کہ ہم نے اس سے پہلے ایک معزز رسول کے ذریعے قوم فرعون کو آزمایا۔ اس کے رسول نے فرعون کو یہ بات کہی تھی کہ اللہ کے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو میرے حوالے کر دو ۔ میں تمہارے لیے امین اور ذمہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 21 : وَاِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْالِیْ فَاعْتَزِلُوْنِ (اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو تم مجھ سے الگ رہو) اگر تم میرے اوپر ایمان نہیں لاتے تو میرے اور ایمان نہ لانے والوں کے درمیان پھر کوئی دوستی نہیں۔ پس تم مجھ سے دور ہوجائو یا تم مجھے میرے حال پر چھوڑ دو نہ میری موافقت کرو اور نہ مخالفت اور اپنے شرو ایذاء سے میرا سامنا مت کرو۔ پس ایسے شخص کا سنگ سار کرنا نہیں جو تمہیں فلاح و بھلائی کی طرف بلاتا ہو۔ قراءت : فاعتزلونی۔ دونوں حالتوں میں یعقوب نے پڑھا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

20، پس موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا، وانی عذت بربی وربکم ان ترجمون، یہ کہ تم مجھے قتل کرو اور ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ مجھے برابھلاکہو اور تم کہو کہ وہ جادوگ رہے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ تم مجھے پتھرمارو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–23

17۔ 23۔ اوپر ذکر تھا کہ قریش پر قحط کی آفت آئی تو انہوں نے اپنے بتوں کو چھوڑ کر خالص اللہ سے رفع قحط کی التجا کی اور جب اللہ نے اس بلا کو دفع کردیا تو وہ لوگ پھر وہی شرک کرنے لگے۔ قریش کی یہ حالت فرعون کی قوم کی حالت سے ملتی ہوئی تھی اس واسطے ان آیتوں میں فرعون اور اس کی قوم کا ذکر فرمایا۔ سورة یوسف میں گزر چکا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے مصر کے قیام کے زمانہ میں بنی اسرائیل اپنے اصلی وطن ملک شام کو چھوڑ کر مصر میں آ کر آباد ہوئے اب یوسف (علیہ السلام) کی وفات کے بعد فرعون بنی اسرائیل کو بڑی ذلت سے رکھتا تھا اس واسطے موسیٰ (علیہ السلام) کے نبی ہو کر مصر میں آنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے موسیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–33

آیت 17 رسول مصطفیٰ محمد ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ گزشتہ زمانوں میں بھی جھٹلانے والے موجود تھے اور ان کا قصہ حضرت موسیٰ کے ساتھ ذکر فرمایا، نیز اس عذاب کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کیا تاکہ جھٹلانے والے اپنے اس رویے سے باز آجائیں فرمایا : (آیت) ” یعنی ہم نے اپنے رسول کریم حضرت موسیٰ بن عمران کو ان کی طرف مبعوث کر کے انہیں آزمایا جن میں بھلائی اور مکارم اخلاق بدرجہ اتم موجود تھے جو کسی اور میں موجود نہ تھے۔ (ان ادوآ الی عباد اللہ) یعنی حضرت موسیٰ نے فرعون اور اس کے سرداروں سے کہا ” اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کردو۔ “ اس سے حضرت موسیٰ کی مراد بنی اسرائیل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

26 حضرت موسیٰ کی طرف سے مخالفین کے دلوں پر ایک دستک : سو آپ نے ان کے ضمیروں کو جھنجوڑتے ہوئے ان سے فرمایا کہ " اگر تم لوگ مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ ہوجاؤ "۔ یعنی اگر بھلائی نہیں کرسکتے تو تم کم از کم برائی تو نہ کرو ۔ مرا از تو خیر امید نیست بدمرساں ۔ یعنی چاہئیے تو یہ تھا کہ تم لوگ میری بات باور کرکے مجھ پر ایمان لاتے اور اس طرح دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ ور و سرفراز ہوتے۔ لیکن تم لوگوں کو اگر یہ بات منظور نہیں تو کم از کم تم میری راہ میں مزاحم ہونے کی کوشش نہ کرو۔ اور اس طرح اللہ کے عذاب کو دعوت نہ دو ۔ کہ میں خداوند قدوس کا سفیر اور اسکا نمائندہ و رسول ہوں۔ اور کسی بھی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–37

قرآن سچ ہے اور اس کے علاہ سب غلط ہے تشریح : ان تمام آیات میں اللہ کی ان تدابیر کا ذکر کیا گیا ہے جو اس نے کائنات کے لیے مرتب کر رکھی ہیں۔ مثلاً میجر جنرل غلام محمد ملک صاحب اس کی بڑے خوبصورت انداز میں یوں وضاحت کرتے ہیں : فلسفہ تاریخ جس طرح سیاسی واقعات کی تکرار اور حوادث کے بار بار اعادہ سے اصول اور نتائج تک پہنچ کر ایک عام تاریخی قانون بنا لیتا ہے اسی طرح انبیاء علیھم السلام کے سوانح اور تاریخیں بھی اپنے واقعات کے بار بار اعادہ سے خصائصِ نبوت کا اصول قانون ہمارے لیے مرتب کرتی ہے۔ پیغمبرانہ تاریخ کے انہی اصول و قوانین میں سے ایک یہ ہے کہ نبی جب اپنے کمال انسانیت کو پہنچ کر فیضان نبوت کے قبول…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–29

آیات 1 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ حم۔ اس کتاب واضح کی قسم ہے یعنی یہ دلائل سے حق کو واضح کردینے والی کتاب اس پر گواہ ہے جسے ہم نے ایک بہت بابرکت شب کو لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل فرمایا کہ اس کے نزول سے مراد مخلوق کو صحیح راہ عمل دکھانا اور اعمال بد کے بد انجام سے بروقت خبر دینا ہے کہ وہ اپنی راہ متعین کرسکیں لیلہ مبارکہ : لیلہ مبارکہ سے مراد مفسرین کرام سے لیلۃ القدر ہے کہ قرآن کریم کی دوسری آیات سے اس کی تعیین ہوجاتی ہے نیز نزول قران رمضان المبارک ہی میں ہوا اور جو بات نصف شعبان کی شب کے بارے مشہور ہے ، اس کی سندیں ضعیف ہیں اس لیے اکثر علماء نے اسے قبول نہیں کیا ، اور بعض نے اس کی فضیلت اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یعنی مجھ پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش نہ کرو ورنہ تبا ہوجائو گے کیونکہ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آچکا ہوں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(44:21) ان لم تؤمنوا الی : ان شرطیہ۔ لم یؤمنوا مضارع نفی جحد بلم صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے ہو۔ جملہ شرط فاعتزلون۔ جملہ جواب شرطجواب شرط کے لئے۔ اعتزلوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ اعتزال (افتعال) مصدر نون وقایہ ی ضمیر واحد متکلم محذوف تم مجھ سے الگ ہوجاؤ۔ یعنی اگر تمہارا مجھ پر ایمان نہیں ہے تو تم دور ہٹ جاؤ۔ میرا راہ نہ روکو۔ تاکہ میں اپنی قوم کو لے جاؤں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 17–33

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 33 : فتنا ( ہم نے آزمایا) لا تعلوا (تم نہ چڑھو) اعتزلون ( تم مجھ سے دور ہٹ جائو) اسر (تو راتوں رات چل) رھوا ( ٹھہرا ہوا) جند ( لشکر) مابکت (نہ روئی ، نہ رویا) منظرین (مہلت دیئے گئے) اخترانا ( ہم نے پسند کیا) تشریح : آیت نمبر 17 تا 33 : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حق و صداقت کی سر بلندی اور ہدایت و تبلیغ میں ساری زندگی جدوجہد فرمائی فرعون اور آل فرعون نے جس طرح ان کی نافرمانی کی اس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی مختلف سورتوں میں عبرت و نصیحت کے لئے مختصر یا تفصیل سے بیان کیا ہے۔ یہاں ایک مرتبہ پھر حضرت موسیٰ کی زندگی کے ایک اور پہلو کو بیان کرکے کفار قریش کو آگاہ کیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 17–23

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جیسے یہ قریش کافر ہیں یوں ہی ہم نے ان سے پہلے فرعون اور اس کی قوم کو فتنہ میں ڈالا تھا یعنی ان کو عذاب دیا اور آزمائش میں ڈالا، اور ان کے پاس خدا کے برگزیدہ کرامت والے رسول آئے، یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، اور آکر موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کی قوم سے درخواست کی کہ بنی اسرائیل کو مت ستاؤ، اور ان کو میرے حوالے کردو، اسی درخواست کی تائید میں حضرت موسیٰ نے یہ بھی کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے امانت دار رسول ہوں، جس طرح مجھ کو اللہ کا حکم ہوتا ہے وہی میں تم لوگوں کو پہنچادیتا ہوں اپنی طرف سے اس میں کچھ خیانت نہیں کرتا، اور یہ بھی کہا کہ اللہ تعالیٰ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 19–32

[8] یعنی یہ افضلیت اور اشرفیت یوں ہی اٹکل پچو بلاوجہ نہ تھی۔ یہ اس لئے تھی کہ اللہ کے علم میں اس وقت کی قوموں میں اس کے لئے موزوں ترین قوم بنی اسرائیل تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 11–32

دھوئیں کا عذاب 1: مکہ والوں نے جب حضور ﷺ کے پیغام توحید کو ٹھکرایا اور انتہائی تحقیر وتذلیل کے ساتھ آپ کا خیرمقدم کیا ۔ تو اس وقت آپ کی زبان الہام ترجمان سے یہ کلمات بےاختیار نکل گئے ۔ کہ اے اللہ ان لوگوں پر اس قحط کا عذاب نازل کر جو تونے یوسف کے زمانہ میں نازل کیا تھا ۔ بس ان الفاظ کا حضور ﷺ کے منہ سے نکلنا تھا ۔ کہ اجابت نے ہاتھوں ہاتھ لیا ۔ آسمان نے رحمت کے دراوزوں کو ان پر بند کرلیا ۔ زمین میں خشک ہوگئی ۔ اور قحط وجوع نے قریش کو آزمائش میں ڈال دیا ۔ اس قدر فاقے ہونے لگے ۔ کہ بھوک کے مارے ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے دھواں سا معلوم ہونے لگا ۔ زندگی کے لئے یہ لوگ مجبور ہوگئے ۔ کہ مردار…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(21) اور اگر تم میرا یقین نہیں کرتے تم مجھ سے الگ ہی ہوجائو۔ یعنی مجھے ایذانہ پہنچائو اور میرا راستہ نہ روکو اور میرے کام میں دخل نہ دو ۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اپنی قوم کو لے جائوں تم راہ نہ روکو۔ باوجود اس کہنے کہ فرعون کی قوم اپنی حرکات ناشائستہ سے باز نہ آئی تب حضرت موسیٰ نے جناب باری میں عرض کیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ ہوجائو 12 ؎ جیسا کہ اوپر ہم نے ذکر کیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی طاقت ودھم کی کا جواب اس سے بھی زیادہ طاقت وقوت سے دیا اور اس کی تصدیق زیر نظر آیت نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں کردی کہ اگر تم میری تعلیمات کو صحیح اور درست تسلیم نہیں کرتے تو میں بھی تمہاری ربوبیت اور الوہیت کا اقرار نہیں کرتا اور تم نے جو یہ کہا ہے کہ ” اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود مانا تو تجھے ان لوگوں میں شامل کردوں گا جو قید میں پڑے ہیں۔ (62 : 92) یا یہ کہ ” ان لوگوں میں شامل کردوں گا جن کو ہم نے رجم کیا ہے “ میں نے اچھی طرح سن لیا ہے اور تب ہی تم پر واضح کیا ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 20–23

Commentary وَإِنِّي عُذْتُ بِرَ‌بِّي وَرَ‌بِّكُمْ أَن تَرْ‌جُمُونِ "And I have sought refuge with my Lord and your Lord, lest you stone me to death. (44:20) " The word rajm means 'to stone to death'. Another meaning of the word is 'to revile or to make a verbal assault or to heap up insults'. Both senses are possible here, but it seems more likely that the word is used here in the sense of stoning to death, because Fir'aun's people must have been threatening Prophet Musa (علیہ السلام) with death.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 20–21

19 This was said at the time when, as against alI the Signs presented by the Prophet Moses, Pharaoh was still showing stubbornness, but was feeling upset and confounded at the realization that all classes of the Egyptian society were rapidly being influenced by those Signs. In that period first of all he made the speech before his full packed court as mentioned in vv. 51-53 of Surah Zukhruf above (see E,N.'s 45 to 49). Then, when he felt the ground slipping from under his feet, he made up his mind to kill Allah's Messenger. At that time the Prophet said the words as mentioned in Surah…

Read the full tafseer →