Ad-Dukhaan 44:20

Ad-Dukhaan · from ayah 20

44:20

وَاِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَرَبِّكُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ ۟ؗوَاِنِّىۡ عُذۡتُ بِرَبِّىۡ وَرَبِّكُمۡ اَنۡ تَرۡجُمُوۡنِ

اور اس (بات) سے کہ تم مجھے سنگسار کرو اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And indeed, I have sought refuge in my Lord and your Lord, lest you stone me.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Ad-Dukhaan

All translations of 44:20

اور میں اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لے چکا ہوں اِس سے کہ تم مجھ پر حملہ آور ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اس (بات) سے کہ تم مجھے سنگسار کرو اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور میں اپنے اور تمہارے رب کی پناه میں آتا ہوں اس سے کہ تم مجھے سنگسار کردو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور میں اس بات سے اپنے پروردگار اور تمہارے پروردگار کی پناہ لیتا ہوں کہ تم مجھے سنگسار کرو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور میں پناہ لیتا ہوں اپنے رب اور تمہارے رب کی اس سے کہ تم مجھے سنگسار کرو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک میں نے اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لے لی ہے اس سے کہ تم مجھے سنگ سار کرو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بیشک میں اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ پکڑتا ہوں، اس سے کہ تم مجھے سنگسار کردو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور میں نے اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ لے لی کہ تم مجھے سنگسار کرسکو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور میں نے اپنے اور تمہارے خداوند کی پناہ مانگی اس بات سے کہ تم مجھے سنگسار کرو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بیشک میں نے پناہ لے رکھی ہے اس کی جو کہ رب ہے میرا بھی اور تمہارا بھی اس بات سے کہ تم مجھے سنگسار کرو

— مولانا اسحاق مدنی

اور میں پناہ چاہتا ہوں اپنے پروردگار اور تمہارے پروردگار کی اس سے کہ تم مجھے سنگسار کرو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور میں نے پناہ پکڑ لی ہے اپنے اور تمہارے رب کی اس بات سے کہ تم مجھے سنگسار کرو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اس بات سے کہ تم مجھے سنگسار کر دو میں اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لے چکا ہوں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

I have taken refuge with my Lord and your Lord lest you should attack me with stones.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And I have sought refuge with my Lord and your Lord, lest you stone me to death.

— Muhammad Taqi Usmani

And I have sought refuge with my Lord and your Lord, lest you stone me to death.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And truly, I seek refuge with my Lord and your Lord, lest you should stone me."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And lo! I have sought refuge in my Lord and your Lord lest ye stone me to death.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And indeed, I have sought refuge in my Lord and your Lord, lest you stone me.

— Saheeh International

I seek protection from my Lord and your Lord from your decision of stoning me.

— Muhammad Sarwar

And surely I take refuge with my Lord and your Lord that you should stone me to death:

— Muhammad Habib Shakir

And verily I have sought refuge in my Lord and your Lord lest ye stone me.

— Abdul Majid Daryabadi

"For me, I have sought safety with my Lord and your Lord, against your injuring me.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 44:20

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–33

قبطیوں کا انجام ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کردو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 20–21

سورة الدُّخَان 19 یہ اس زمانے کی بات ہے جب حضرت موسیٰ کی پیش کردہ ساری نشانیوں کے مقابلے میں فرعون اپنی ہٹ پر اڑا ہوا تھا مگر یہ دیکھ کر کہ ان نشانیوں سے مصر کے عوام اور خواص روز بروز متاثر ہوتے چلے جا رہے ہیں، اس کے ہوش اڑے جا رہے تھے۔ اس زمانے میں پہلے تو اس نے بھرے دربار میں وہ تقریر کی جو سورة زخرف، آیات 51۔ 53 میں گزر چکی ہے (ملاحظہ ہو حواشی سورة زخرف 45 تا 49) پھر زمین پاؤں تلے سے نکلتی دیکھ کر آخر کار وہ اللہ کے رسول کو قتل کردینے پر آمادہ ہوگیا۔ اس وقت آنجناب نے وہ بات کہی جو سورة مومن، آیت 27 میں گزر چکی ہے کہ اِنّی عذت بربّی ورَبکُم مِن کُل مُتکبرٍ لّا یؤمن بیوم الحساب۔ " میں نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 20–23

معارف و مسائل (آیت) وَاِنِّىْ عُذْتُ بِرَبِّيْ وَرَبِّكُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ (میں اپنے پروردگار اور تمہارے پروردگار کی پناہ لیتا ہوں اس سے کہ تم مجھے رجم کرو) رجم کے معنی سنگسار کرنے یعنی پتھر مار مار کردینے کے بھی آتے ہیں اور کسی کو گالی دینے اور برا بھلا کہنے کے بھی۔ یہاں دونوں معنی مراد ہو سکتے ہیں لیکن راجح یہ ہے کہ یہاں سنگسار کرنے کے معنی مراد ہیں کیونکہ فرعون کی قوم حضرت موسیٰ ؑ کو قتل وغیرہ کی دھمکیاں دے رہی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وانی عذت بربی و ربکم ان ترجمون (20) ایک بلیغ دعوت اور موثر تنبیہ یہ بات حضرت موسیٰ ؑ نے اس وقت فرمائی ہے جب ان کے مطالبہ کے تمام قبطیوں میں ایک ہلچل برپا کردی۔ اس وقت ان کو قتل کی دھمکی بھی دی گئی اور یہ اندیشہ بھی پیدا ہوگیا کہ کہیں یہ سرپھری قوم بوکھلا کر آپ کو سنگسار ہی نہ کرے۔ اس وقت آپ کے لوگوں کو خطاب کر کے فرمایا ہے اگر تم لوگ مجھے سنگسار کرنے کی نیت رکھتے ہو تو میں اپنے کو اس رب کی پناہ میں دیتا ہوں جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ وربکم (اور تمہارا بھی رب ہے) کے الفاظ میں ایک مئوثر اپیل بھی ہے، نہایت بلیغ دعوت بھی ہے اور نہایت پروقار تبیہ بھی اور ساتھ ہی اس میں یہ طنز بھی مخفی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

20۔ 1 اس دعوت و تبلیغ کے جواب میں فرعون نے موسیٰ ؑ کو قتل کی دھمکی دی، جس پر انہوں نے اپنے رب سے پناہ طلب کی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 19–20

6: فرعون نے حضرت موسیٰ ؑ کو ان کی دعوت کے جواب میں قتل کی دھمکیاں دی تھیں۔ یہ ان کا جواب ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 17–33

آیت نمبر 17 تا 33 اس وادی کے دروازے ہی پر یہ خوفناک اعلان لکھا ہوا ہے کہ یاد رکھو ، کسی قوم کی طرف رسول کا بھیجا جانا اس کی آزمائش ہوتی ہے۔ مکذبین کو یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ وقت بہت تھورا ہے ، اس میں تم تکذیب بھی کرسکتے ہو ، تکبر اور غرور بھی کرسکتے ہو۔ رسول کو ایذا بھی دے سکتے ہو ، تکبر اور غرور بھی کرسکتے ہو۔ رسول کو ایذا بھی دے سکتے ہو ، مومنین پر ظلم و ستم بھی ڈھا سکتے ہو لیکن آخر میں غرور کا سر نیچا ہوتا ہے اور تم جو رسول اللہ ﷺ کو طیش دلاتے ہو ، ان کا پیمانہ صبر لبریز کرتے ہو ، لیکن آپ ﷺ بدستور صبر کا پیکر بنے ہوئے ہیں اور تمہاری ہدایت ہی کے امیدوار ہیں ، اس کا انجام برا بھی ہو سکتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یہ ان کی دھمکیوں کا جواب دیا۔ یعنی میں تمہارے ظلم و ایذاء سے خدا کی پناہ حاصل کرچکا ہوں وہ میری حمایت پر ہے اور اسی کی حفاظت پر مجھے بھروسہ ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 20 { وَاِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَرَبِّکُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ } ”اور میں نے پناہ پکڑ لی ہے اپنے اور تمہارے رب کی اس بات سے کہ تم مجھے سنگسار کرو۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

15 فرعون کا سیدنا موسیٰ کو قتل کرنے کا ارادہ :۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب اندر ہی اندر سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت پھیل رہی تھی۔ بنی اسرائیل کے علاوہ قوم فرعون کے بھی بہت سے آدمی درپردہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لاچکے تھے اور فرعون کو اپنی سلطنت کے چھن جانے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا اور اس نے اپنے درباریوں سے اور قوم کے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے چھوڑو میں موسیٰ کو قتل کئے دیتا ہوں ورنہ وہ تمہارا دین بھی تباہ کر دے گا اور ملک میں سخت بدامنی پھیلا دے گا اس کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں اپنے پروردگار کی پناہ میں آچکا ہوں۔ لہذا تم میرا بال بھی بیکا نہ کرسکو گے۔ مجھے رجم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 17–20

14۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اہل فرعون کے پاس آنے اور حق تعالیٰ کا پیام پہنچانے کا ذکر ایک نئے عنوان سے ہے۔ قبلھم۔ ضمیر ھم معاصر مشرکین مکہ کی جانب ہے۔ اے قبل ھؤلآء المشرکین (مدارک) (آیت) ’ ’ رسول کریم “۔ کھلی ہوئی مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ہے۔ (آیت) ” ان ادوا “۔ ان۔ یہاں تفسیر ہے۔ (آیت) ” ان .... اللہ “۔ عباد اللہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں، کہ انہیں میرے سپرد کردو۔ میں انہیں لے کر مسلک توحید پر چلانے کیلئے اپنے پرانے وطن شام کی طرف چلا جاؤں گا۔ (آیت) ” سلطن مبین “۔ اس کے تحت میں دلائل وخوارق سب آگئے۔ (آیت) ” انی ..... ترجمون “۔ صاف اشارہ اس طرف ہے کہ فرعونیوں یا مصریوں نے آپ ﷺ پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–29

آیت نمبر 1 تا 29 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اللہ کی کیا مراد ہے ؟ وہی بہتر جانتا ہے قسم ہے واضح کتاب قرآن کی جو حلال کو حرام سے ممتاز کرنے والی ہے، یقیناً ہم نے اس کو بابرکت رات میں نازل کیا ہے اور وہ شب قدر یا شب نصف شعبان ہے، اسی رات میں قرآن کو ساتویں آسمان پر موجود لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا، بیشک ہم اس کے ذریعہ ڈرانے والے ہیں، اسی رات یعنی شب قدر یا شب نصف شعبان میں ہر محکم کام کا مثلاً روزی، موت وغیرہ جو اس سال اسی جیسی (آئندہ) رات تک ہونے والے ہوتے ہیں فیصلہ کیا جاتا ہے، ہمارے پاس سے حکم صادر ہو کر ہم ہی ہیں رسول بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وانی عذت بربی وربکم ان ترجمون۔ اور میں اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لیتا ہوں ‘ اس امر سے کہ تم مجھے قتل کرسکو

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 20–21

(20۔ 21) اور میں اپنے پروردگار کی اور تمہارے پروردگار کی پناہ حاصل کرتا ہوں اس سے کہ تم لوگ مجھے قتل کرو اور اگر تم میری رسالت کی تصدیق نہیں کرتے تو مجھ سے علیحدہ رہو۔ لالی ولا علی

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وانی عذت بربی و ربکم ان ترجمون، یہ اس وقت کی بات ہے جب موسیٰ کی دعوت اندر ہی اندر دور تک پھیل گئی، حتیٰ کہ فرعون کی قوم کے کئی آدمی بھی پوشیدہ طور پر ان پر ایمان لے آئے، اس وقت فرعون نے موسیٰ ؑ کو قتل کرنے کا ارادہ کرلیا ہے۔ جب موسیٰ ؑ کو معلوم ہوا کہ فرعونیوں کا ارادہ انھیں سنگسار کر کے بدترین طریقے سیق تل کرنے کا ہے، تو اس وقت موسیٰ ؑ نے کہا کہ میں اس بات سے اپنے اور تمہارے رب کی پناہ پکڑتا ہوں کہ تم مجھے سنگسار کرو، کیونکہ وہ میرا ہی نہیں تمہارا بھی مالک ہے، تم اس سے زبردست ہو کر مجھے رجم نہیں کرسکتے۔ سورة مومن (27, 26) میں فرعون کے قتل کے اعلان اور موسیٰ علیہ کی دعا اور اللہ کی پناہ میں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

گویا انہوں نے آپ کو قتل کی دھمکی دی تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہی قتادہ نے کہا : تم پتھروں سے رجم کرو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : تم مجھے گالیاں دو تو تم کہو جادو گر جھوٹا ہے۔ نافع، ابن کثیر، ابن عامر، عاصم اور یعقوب نے عذت کی ذال کو ظاہر کر کے پڑھا ہے جبکہ باقی قراء نے ادغام کیا ہے۔ ادغام تخفیف کو طلب کرنے کے لئے ہے اور اظہار اصل قاعدہ کے مطابق ہے پھر یہ قول کیا گیا ہے کہ زمانہ گزشتہ میں میں نے تجھ سے پناہ چاہی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا اور فرمایا : ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ انی اعوز کے معنی میں ہے جس طرح تو کہتا ہے : یعنی میں قسم کھاتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 17–28

1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے فرمایا کہ (آیت ) ” ولقد فتنا “ سے مراد ہے کہ ہم نے ان کو آزمایا۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد فتنا “ یعنی ہم نے اس کو آزمائش میں مبتلا کردیا (آیت ) ” قبلھم قوم فرعون وجاء ھم رسول کریم “ (ان سے پہلے فرعون کی قوم کو اور ان کے پاس ایک معزز پیغمبر آیا تھا فرمایا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) تھے (آیت) ” ان ادوا الی عباد اللہ “ (اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کردو) یعنی بنی اسرائیل کو بھیج دو ۔ (آیت ) ” وان لا تعلوا علی اللہ “ اور تم خدا سے سرکشی مت کرو) یعنی اللہ تعالیٰ پر بڑائی کا اظہار نہ کرو (آیت ) ”…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِنِّىْ عُذْتُ [ اور بیشک میں پناہ میں آتاہوں ] بِرَبِّيْ وَرَبِّكُمْ [ میرے رب اور تمہارے رب کی ] اَنْ تَرْجُمُوْنِ [ کہ تم لوگ سنگسار کرو مجھ کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 17–24

قوم فرعون کے پاس اللہ تعالیٰ کا رسول آنا، اور نافرمانی کی وجہ سے ان لوگوں کا غرق ہونا، بنی اسرائیل کا فرعون سے نجات پانا اور انعامات ربانیہ سے نوازا جانا ان آیات میں فرعون کی نافرمانی کا اور بطور سزا لشکروں سمیت سمندر میں ڈوب جانے کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ ہم نے ان سے یعنی قریش مکہ سے پہلے قوم فرعون کو آزمایا ان کے پاس رسول کریم یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تشریف لائے۔ جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مکرم و معظم تھے انہوں نے فرعون سے اور اس کی جماعت سے کہا کہ بنی اسرائیل کو تم دکھ تکلیف دیتے ہو انہیں مصیبت میں مبتلا کر رکھا ہے ان اللہ کے بندوں کو تم میرے حوالے کردو اور میرے ساتھ بھیج دو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–29

بیان عظمت کتاب اللہ وبرکات زمانہ نزول قرآن مع دعوت ایمان وبدنصیبی محرومین واشقیاء از سعادت خداوندی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” حم والکتب المبین ...... الی ....... انا منتقمون “۔ (ربط) گزشتہ سورتک مضمون توحید و رسالت کا اثبات تھا اور اس سے اختلاف واعراض کرنے والے مجرمین کی بدنصیبی کا ذکر کرتے ہوئے ان کے افسوس ناک عبرت ناک انجام کا بیان تھا اور اسی موضوع پر سورت کا مضمون ختم فرما دیا گیا تھا کہ اگر ان واقعات کو سن کر بھی قریش کے لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کو سوچ لینا چاہئے کہ ایسا ہی عبرت ناک انجام ان کا بھی ہوگا، ساتھ ہی آپ ﷺ کو تسلی دینا بھی مقصود تھا کہ قریش مکہ کی مخالفت ودشمنی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 18–20

15:۔ ” وانی عذت “ اس سے پہلے ادماج ہے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا سرکشی نہ کرو تو انہوں نے ان کو قتل کرنے کی دھمکی دی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا۔ میں اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لیتا ہوں کہ تم مجھے سنگسار کرسکو۔ مطلب یہ ہے کہ میں اپنے رب کی حفاظت میں ہوں۔ تم مجھے کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکتے۔ لما قال ان لا تعلوا علی اللہ، توعدوہ بالقتل، فقال ذلک (روح) وان لم تؤمنوا الخ اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے ہو تو مجھ سے الگ ہوجاؤ اور میرے ساتھ کوئی سر و کار نہ رکھو اور میری ایذاء رسانی سے باز آجاؤ یہانتک کہ اللہ تعالیٰ خود ہی حق و باطل کا فیصلہ فرما دے۔ کیا ایک ناصح مہربان کی یہی جزا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–29

ربطہ آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے نزول قرآن کے زمانے کے مشرکین بالخصوص مشرکین مذکر انداز کیا ، ان کی نافرمانی کا حال بیان کیا اور پھر ان پر آن والی گرفت کا ذکر کیا۔ اللہ نے ان پر دھوئیں کی شکل میں قحط مسلط کیا۔ انہوں نے عہد کیا کہ یہ مصیبت دور ہوجائے تو وہ ایمان لے آئیں۔ مگر جب انہیں قحط سے نجات مل گئی تو وہ پہلے سے بھی زیادہ کفر و شرک میں منہمک ہوگئے۔ اللہ نے بھی فرما دیا کہ ہم تھوڑی مدت کے لئے ان سے تکلیف کو ہٹائیں گے لیکن نافرمانی کی صورت میں بڑی گرفت میں لے لیں گے۔ چناچہ اللہ نے بدر کے مقام پر بہت سے سرکردہ مشرکین کو ہلاک کیا ، بعض قیدی بنے اور بعض شکست کھا کر بھاگ گئے۔ قوم فرعون کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنِّىْ عُذْتُ بِرَبِّيْ وَرَبِّكُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ۝ 20 ۡ عوذ العَوْذُ : الالتجاء إلى الغیر والتّعلّق به . يقال : عَاذَ فلان بفلان، ومنه قوله تعالی: أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجاهِلِينَ [ البقرة/ 67] ( ع و ذ) العوذ ) ن ) کے معنی ہیں کسی کی پناہ لینا اور اس سے چمٹے رہنا ۔ محاورہ ہے : ۔ عاذ فلان بفلان فلاں نے اس کی پناہ لی اس سے ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجاهِلِينَ [ البقرة/ 67] کہ میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں کہ نادان بنوں ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : (…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–28

ترکیب : ان ادوا قیل ان مفسرۃ لان مجئی الرسول متضمن لمعنی القول وقیل مخفقذمن الثقیلۃ عباد اللہ اما مفعول بہ لا دوا ای ارسلوھم معی اوانہ مناوی والتقدیر ادوا الی یا عباد اللہ ماھو واجب علیکم من الایمان والاعمال الصالحۃ۔ تفسیر : کفار مکہ کو ان کی سرکشی پر ایک آنے والی بلا سے ڈرایا گیا تھا اب اس جگہ فرعونیوں کا قصہ سنایا جاتا ہے کہ وہ باوجودیکہ تم سے زیادہ مالدار ‘ طاقت ور تھے ان کو رسول نے سمجھایا مگر نہ مانا اور سرکشی سے باز نہ آئے۔ بنی اسرائیل کے پیچھے دوڑے آئے کہ پکڑلاویں اور غلامی میں رکھیں آخر اس کے فضل سے بنی اسرائیل بحرِقلزم سے خشک پار اتر گئے اور فرعونی غرق ہوگئے تمام باغ و مکان و آرایش…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 20–21

وَاِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَرَبِّـکُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ ۔ وَاِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنَ ۔ (الدخان : 20، 21) (اور میں اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لے چکا ہوں اس بات سے کہ تم مجھے سنگسار کرو۔ اور اگر تم میری بات نہیں مانتے تو پھر مجھ سے الگ رہو۔ ) فرعون کی دھمکی کا جواب سورة المؤمن میں ہم یہ بات پڑھ چکے ہیں کہ فرعون اور سلطنت کے دیگر عمائدین حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت و تبلیغ کے اثرات کو دیکھتے ہوئے روز بروز پریشان ہوتے جارہے تھے اور زمین ان کے پائوں سے نکلتی دکھائی دے رہی تھی۔ آپ کے اثرات کو روکنے کا فوری طریقہ یہ تھا کہ آپ کو ختم کردیا جاتا۔ لیکن فرعون بعض مصالح کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 17–22

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح مکہ والوں کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں عذاب میں مبتلا کیا اسی طرح ہی قوم فرعون کو مختلف قسم کے عذابوں میں مبتلا کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہم نے تمہاری طرف ایسا رسول بھیجا ہے جس طرح قوم فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا۔ لیکن فرعون نے اسے ماننے سے انکار کردیا تھا جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اسے بڑے عذاب میں مبتلا کیا۔ (المزمل : 15، 16) ارشاد فرمایا کہ ہم نے اس سے پہلے ایک معزز رسول کے ذریعے قوم فرعون کو آزمایا۔ اس کے رسول نے فرعون کو یہ بات کہی تھی کہ اللہ کے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو میرے حوالے کر دو ۔ میں تمہارے لیے امین اور ذمہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قتل کی دھمکی پر استعاذئہ ربّ : آیت 20 : وَاِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَرَبِّکُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ (میں اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ میں آتا ہوں کہ تم لوگ مجھے پتھروں سے قتل کرو) قراءت : عُذت کو عت ادغام کے ساتھ ابوعمرو ‘ حمزہ اور علی نے پڑھا۔ ترجمون کا معنی مجھے رجم سے قتل کرو۔ اس کا مطلب یہ ہے۔ کہ انہوں نے اپنے رب کی پناہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے پکڑی ان کے تمام فریبوں سے۔ اس میں پیغمبر ان کی رجم وقتل کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

19، وان لاتعلواعلی اللہ، یعنی اس کی فرمانبرداری چھوڑکر اس پر جبرنہ کرو۔ ، انی آتیکم بسلطان مبین، واضح دلیل میری بات کے سچا ہونے پر۔ پس جب انہوں نے یہ بات کی تو آپ (علیہ السلام) کو قتل کی دھمکیاں دینے لگے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–23

17۔ 23۔ اوپر ذکر تھا کہ قریش پر قحط کی آفت آئی تو انہوں نے اپنے بتوں کو چھوڑ کر خالص اللہ سے رفع قحط کی التجا کی اور جب اللہ نے اس بلا کو دفع کردیا تو وہ لوگ پھر وہی شرک کرنے لگے۔ قریش کی یہ حالت فرعون کی قوم کی حالت سے ملتی ہوئی تھی اس واسطے ان آیتوں میں فرعون اور اس کی قوم کا ذکر فرمایا۔ سورة یوسف میں گزر چکا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے مصر کے قیام کے زمانہ میں بنی اسرائیل اپنے اصلی وطن ملک شام کو چھوڑ کر مصر میں آ کر آباد ہوئے اب یوسف (علیہ السلام) کی وفات کے بعد فرعون بنی اسرائیل کو بڑی ذلت سے رکھتا تھا اس واسطے موسیٰ (علیہ السلام) کے نبی ہو کر مصر میں آنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے موسیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–33

آیت 17 رسول مصطفیٰ محمد ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ گزشتہ زمانوں میں بھی جھٹلانے والے موجود تھے اور ان کا قصہ حضرت موسیٰ کے ساتھ ذکر فرمایا، نیز اس عذاب کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کیا تاکہ جھٹلانے والے اپنے اس رویے سے باز آجائیں فرمایا : (آیت) ” یعنی ہم نے اپنے رسول کریم حضرت موسیٰ بن عمران کو ان کی طرف مبعوث کر کے انہیں آزمایا جن میں بھلائی اور مکارم اخلاق بدرجہ اتم موجود تھے جو کسی اور میں موجود نہ تھے۔ (ان ادوآ الی عباد اللہ) یعنی حضرت موسیٰ نے فرعون اور اس کے سرداروں سے کہا ” اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کردو۔ “ اس سے حضرت موسیٰ کی مراد بنی اسرائیل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 19–20

25 حضرات انبیاء و رسل بھی رب ہی کی پناہ کے محتاج ہوتے ہیں : سو حضرت موسیٰ نے ان لوگوں سے کہا کہ " بیشک میں نے اپنے آپ کو اس ذات کی پناہ میں دے دیا جو کہ رب ہے میرا بھی اور وہ رب ہے تمہارا بھی "۔ اس بات سے کہ تم لوگ مجھے سنگسار کردو۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ جیسے اولو العزم رسول بھی حاجت روا و مشکل کشا تو کجا خود اپنی حاجت روائی کے لئے بھی اسی ذات اقدس و اعلیٰ کی پناہ کے محتاج اور سوالی تھے جو کہ سب کی خالق ومالک ذات ہے۔ تو پھر اور کسی انسان کو حاجت روائی و مشکل کشائی کا کوئی منصب کس طرح اور کیونکر مل سکتا ہے ؟ سو حاجت اور مشکل کشا سب کا اللہ وحدہ لا شریک ہی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–37

قرآن سچ ہے اور اس کے علاہ سب غلط ہے تشریح : ان تمام آیات میں اللہ کی ان تدابیر کا ذکر کیا گیا ہے جو اس نے کائنات کے لیے مرتب کر رکھی ہیں۔ مثلاً میجر جنرل غلام محمد ملک صاحب اس کی بڑے خوبصورت انداز میں یوں وضاحت کرتے ہیں : فلسفہ تاریخ جس طرح سیاسی واقعات کی تکرار اور حوادث کے بار بار اعادہ سے اصول اور نتائج تک پہنچ کر ایک عام تاریخی قانون بنا لیتا ہے اسی طرح انبیاء علیھم السلام کے سوانح اور تاریخیں بھی اپنے واقعات کے بار بار اعادہ سے خصائصِ نبوت کا اصول قانون ہمارے لیے مرتب کرتی ہے۔ پیغمبرانہ تاریخ کے انہی اصول و قوانین میں سے ایک یہ ہے کہ نبی جب اپنے کمال انسانیت کو پہنچ کر فیضان نبوت کے قبول…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–29

آیات 1 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ حم۔ اس کتاب واضح کی قسم ہے یعنی یہ دلائل سے حق کو واضح کردینے والی کتاب اس پر گواہ ہے جسے ہم نے ایک بہت بابرکت شب کو لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل فرمایا کہ اس کے نزول سے مراد مخلوق کو صحیح راہ عمل دکھانا اور اعمال بد کے بد انجام سے بروقت خبر دینا ہے کہ وہ اپنی راہ متعین کرسکیں لیلہ مبارکہ : لیلہ مبارکہ سے مراد مفسرین کرام سے لیلۃ القدر ہے کہ قرآن کریم کی دوسری آیات سے اس کی تعیین ہوجاتی ہے نیز نزول قران رمضان المبارک ہی میں ہوا اور جو بات نصف شعبان کی شب کے بارے مشہور ہے ، اس کی سندیں ضعیف ہیں اس لیے اکثر علماء نے اسے قبول نہیں کیا ، اور بعض نے اس کی فضیلت اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 12–20

ف 3 یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آچکا ہوں جو میرا ہی نہیں تمہارا بھی مالک ہے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں۔ شاید وہ ڈراتے ہونگے اس سے ( موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(44:20) عذت۔ ماضی واحد متکلم عذت اصل میں عوذت تھا۔ عوذ باب نصر مصدر سے َ واؤ متحرک ماقبل مفتوح واؤ کو الف سے بدلا گیا۔ الف اجتماع ساکنین کی وجہ سے گرگیا ، پھر واؤ کی رعایت سے عین کو ضمہ دیا۔ میں نے پناہ لی۔ میں نے پناہ پکڑی میں نے پناہ مانگی۔ وربکم ای وبربکم (میں نے پناہ لے لی) اپنے رب کی اور تمہارے رب کی۔ ان ترجمون : ان مصدریہ۔ ترجمون اصل میں ترجموننی تھا۔ ترجمون مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ رجم (باب نصر) مصدر۔ سنگسار کرنا۔ نون وقایہ اور ی ضمیر واحد متکلم۔ محذوف ہے۔ کہ تم مجھے سنگسار کر، ترجمون سے مراد پتھر مارنا بھی ہے اور بدکلامی کرنا بھی۔ رجم باب نصرپتھر برسانا۔ الرجام پتھر کو کہتے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 17–33

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 33 : فتنا ( ہم نے آزمایا) لا تعلوا (تم نہ چڑھو) اعتزلون ( تم مجھ سے دور ہٹ جائو) اسر (تو راتوں رات چل) رھوا ( ٹھہرا ہوا) جند ( لشکر) مابکت (نہ روئی ، نہ رویا) منظرین (مہلت دیئے گئے) اخترانا ( ہم نے پسند کیا) تشریح : آیت نمبر 17 تا 33 : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حق و صداقت کی سر بلندی اور ہدایت و تبلیغ میں ساری زندگی جدوجہد فرمائی فرعون اور آل فرعون نے جس طرح ان کی نافرمانی کی اس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی مختلف سورتوں میں عبرت و نصیحت کے لئے مختصر یا تفصیل سے بیان کیا ہے۔ یہاں ایک مرتبہ پھر حضرت موسیٰ کی زندگی کے ایک اور پہلو کو بیان کرکے کفار قریش کو آگاہ کیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 17–23

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جیسے یہ قریش کافر ہیں یوں ہی ہم نے ان سے پہلے فرعون اور اس کی قوم کو فتنہ میں ڈالا تھا یعنی ان کو عذاب دیا اور آزمائش میں ڈالا، اور ان کے پاس خدا کے برگزیدہ کرامت والے رسول آئے، یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، اور آکر موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کی قوم سے درخواست کی کہ بنی اسرائیل کو مت ستاؤ، اور ان کو میرے حوالے کردو، اسی درخواست کی تائید میں حضرت موسیٰ نے یہ بھی کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے امانت دار رسول ہوں، جس طرح مجھ کو اللہ کا حکم ہوتا ہے وہی میں تم لوگوں کو پہنچادیتا ہوں اپنی طرف سے اس میں کچھ خیانت نہیں کرتا، اور یہ بھی کہا کہ اللہ تعالیٰ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 19–32

[8] یعنی یہ افضلیت اور اشرفیت یوں ہی اٹکل پچو بلاوجہ نہ تھی۔ یہ اس لئے تھی کہ اللہ کے علم میں اس وقت کی قوموں میں اس کے لئے موزوں ترین قوم بنی اسرائیل تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 11–32

دھوئیں کا عذاب 1: مکہ والوں نے جب حضور ﷺ کے پیغام توحید کو ٹھکرایا اور انتہائی تحقیر وتذلیل کے ساتھ آپ کا خیرمقدم کیا ۔ تو اس وقت آپ کی زبان الہام ترجمان سے یہ کلمات بےاختیار نکل گئے ۔ کہ اے اللہ ان لوگوں پر اس قحط کا عذاب نازل کر جو تونے یوسف کے زمانہ میں نازل کیا تھا ۔ بس ان الفاظ کا حضور ﷺ کے منہ سے نکلنا تھا ۔ کہ اجابت نے ہاتھوں ہاتھ لیا ۔ آسمان نے رحمت کے دراوزوں کو ان پر بند کرلیا ۔ زمین میں خشک ہوگئی ۔ اور قحط وجوع نے قریش کو آزمائش میں ڈال دیا ۔ اس قدر فاقے ہونے لگے ۔ کہ بھوک کے مارے ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے دھواں سا معلوم ہونے لگا ۔ زندگی کے لئے یہ لوگ مجبور ہوگئے ۔ کہ مردار…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(20) اور میں اپنے پروردگار اور تمہارے پروردگار کی اس بات سے پناہ پکڑتا ہوں کہ تم مجھ کو سنگسار کرو۔ تمہارا اور میرا پروردگار یعنی جو حقیقتاً ایک ہی ہے یہ اس لئے فرمایا کہ وہ موسیٰ کے رب کو اپنا رب نہیں سمجھتے تھے بلکہ فرعون کو رب کہا کرتے تھے۔ رحم اور سنگساری کا مطلب یہ ہے کہ تم مجھ کو قتل کرو اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتا ہوں کہ تم کو مجھ پر قابو حاصل ہوسکے اور پتھروں سے مار کر یا کسی اور طریقے سے قتل کردو جیسا کہ سورة مومن کے تیسرے رکوع میں گزر چکا ہے۔ ذرونی اقتل موسیٰ ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شاید وہ ڈراتے ہوں گے اس سے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ میں اپنے اور تمہارے رب کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم مجھے رجم کرسکو 02 ؎ موسیٰ (علیہ السلام) کے دلائل سن کر اور خصوصاً اپنے مناظرین کی شکست کھاجانے کے بعد فرعون اور اس کی قوم بھپر پڑی کیونکہ طاقت ور جب بھی اپنی ہار سمجھ رہا ہو تو وہ طاقت کا مظاہرہ کرکے اپنی ہار اور شکست کو فتح میں بدلنے کی کوشش کرتا ہے اور اس طرح دانت پیستا اور رنگ بدلتا ہے اور ساتھ ہی ایک گرجدار آواز میں دھمکی سنادیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہی کچھ فرعون نے بھی کیا ہکوگا جب موسیٰ علیہ اسلام نے اس کی بڑھک سنی تو فرمایا کہ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی کہ تم لوگ مجھ کو رجم کرسکو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 20–23

Commentary وَإِنِّي عُذْتُ بِرَ‌بِّي وَرَ‌بِّكُمْ أَن تَرْ‌جُمُونِ "And I have sought refuge with my Lord and your Lord, lest you stone me to death. (44:20) " The word rajm means 'to stone to death'. Another meaning of the word is 'to revile or to make a verbal assault or to heap up insults'. Both senses are possible here, but it seems more likely that the word is used here in the sense of stoning to death, because Fir'aun's people must have been threatening Prophet Musa (علیہ السلام) with death.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 20–21

19 This was said at the time when, as against alI the Signs presented by the Prophet Moses, Pharaoh was still showing stubbornness, but was feeling upset and confounded at the realization that all classes of the Egyptian society were rapidly being influenced by those Signs. In that period first of all he made the speech before his full packed court as mentioned in vv. 51-53 of Surah Zukhruf above (see E,N.'s 45 to 49). Then, when he felt the ground slipping from under his feet, he made up his mind to kill Allah's Messenger. At that time the Prophet said the words as mentioned in Surah…

Read the full tafseer →