Ad-Dukhaan 44:24

Ad-Dukhaan · from ayah 24

44:24

وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا ؕ— اِنَّهُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ ۟وَاتۡرُكِ الۡبَحۡرَ رَهۡوًا‌ؕ اِنَّهُمۡ جُنۡدٌ مُّغۡرَقُوۡنَ

اور دریا سے (کہ) خشک (ہو رہا ہوگا) پار ہو جاؤ (تمہارے بعد) ان کا تمام لشکر ڈبو دیا جائے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And leave the sea in stillness. Indeed, they are an army to be drowned."

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Ad-Dukhaan

All translations of 44:24

سمندر کو اُس کے حال پر کھلا چھوڑ دے یہ سارا لشکر غرق ہونے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور دریا سے (کہ) خشک (ہو رہا ہوگا) پار ہو جاؤ (تمہارے بعد) ان کا تمام لشکر ڈبو دیا جائے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

تو دریا کو ساکن چھوڑ کر چلا جا، بلاشبہ یہ لشکر غرق کردیا جائے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تم سمندر کو ٹھہرا ہوا چھوڑ دینا یقینا یہ لشکر ڈبویا جائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور دریا کو یونہی جگہ جگہ سے چھوڑ دے بیشک وہ لشکر ڈبو دیا جائے گا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (خود گزر جانے کے بعد) دریا کو ساکن اور کھلا چھوڑ دینا، بیشک وہ ایسا لشکر ہے جسے ڈبو دیا جائے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور سمندر کو اپنے حال پر ٹھہرا ہو اچھوڑ دے، بیشک وہ ایسا لشکر ہیں جو غرق کیے جانے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور سمندر کو کھڑے کا کھڑا چھوڑ کر پار نکل جاؤ۔ (تمہارے بعد) ان کا تمام لشکر ڈبو دیا جائے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور دریا کو ساکن چھوڑ دو ، یہ ڈوبنے والی فوج بنیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (اسی طرح) چھوڑ دینا سمندر کو تھما ہوا کیونکہ (دشمن کے) اس سارے لشکر نے (وہیں) غرق ہونا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

تمہارا تعاقب ہوگا اور تم اس دریاکو سکون کی حالت میں چھوڑنا ان لوگوں کا لشکر غرق ہو کر رہے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور چھوڑ دینا سمندر کو ساکن یہ ایک لشکر ہیں جو غرق کیے جائیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور دریا خشک ہور رہا ہوگا تو اس سے پار ہوجاؤ تمہارے بعد ان کا تمام لشکر ڈبو دیا جائے گا

— محترمہ رفعت اعجاز

And leave the sea behind you as calm as ever. Surely they are an army that is doomed to be drowned.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and leave the sea in the state of stillness; they are an army that is sure to be drowned.

— Muhammad Taqi Usmani

and leave the sea in the state of stillness; they are an army that is sure to be drowned.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And leave the sea as it is (quiet and divided). Verily, they are a host to be drowned."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And leave the sea behind at rest, for lo! they are a drowned host.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And leave the sea in stillness. Indeed, they are an army to be drowned."

— Saheeh International

Cross the sea by cutting a path through it. Pharaoh's army will be drowned.

— Muhammad Sarwar

And leave the sea intervening; surely they are a host that shall be drowned.

— Muhammad Habib Shakir

And leave thou the sea divided: verily they are a host to be drowned.

— Abdul Majid Daryabadi

"And leave the sea as a furrow (divided): for they are a host (destined) to be drowned."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 44:24

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–33

قبطیوں کا انجام ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کردو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الدُّخَان 23 یہ حکم اس وقت دیا گیا جب حضرت موسیٰ ؑ اپنے قافلہ کو لے کر سمندر پار کرچکے تھے اور چاہتے تھے کہ سمندر پر عصا مار کر اسے پھر ویسا ہی کردیں جیسا وہ پھٹنے سے پہلے تھا، تاکہ فرعون اور اس کا لشکر اس راستے سے گذر کر نہ آجائے جو معجزہ سے بنا تھا۔ اس وقت فرمایا گیا کہ ایسا نہ کرو۔ اس کو اسی طرح پھٹا کا پھٹا رہنے دو تاکہ فرعون اپنے لشکر سمیت اس راستے میں اتر آئے، پھر سمندر کو چھوڑ دیا جائے گا اور یہ پوری فوج غرق کردی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–27

(آیت) وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا (اور دریا کو سکون کی حالت میں چھوڑ دینا) ”رھو“ کے معنی ہیں ”ساکن ‘ دراصل حضرت موسیٰ ؑ اور آپ کے رفقاء کے پار ہوجانے کے بعد ان کی خواہش طبعی طور پر یہ ہونی چاہئے تھی کہ دریا دوبارہ اپنی اصلی حالت پر آجائے تاکہ فرعون کا لشکر پار نہ ہو سکے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں تنبیہ فرما دی کہ خود پار ہونے کے بعد سمندر کو اس کی ہئیت پر ساکن ہی چھوڑ دینا اور دوبارہ پانی کے جاری ہونے کی فکر مت کرنا، تاکہ فرعون خشک راستہ بنا ہوا دیکھ کر دریا کے بیچوں بیچ پہنچ جائے، اس وقت ہم دریا کو جاری کردیں گے اور یہ لشکر ڈوب جائے گا۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

واترک البحر رھواً ط انھم جند مغرقون (24) حضرت موسیٰ ؑ کو ہدایت رھو کے معنی ساکن کے ہیں یعنی تم اس ہوا کے رکنے سے پہلے پہلے وریا سے نکل جائو جس ہوا کے ذریعہ سے پانی کو قدرت ہٹائے اور تمہارے لئے راستہ صاف کرے گی۔ تمہارے نکلتے ہی دریا پر سکون ہوجائے گا اور ہٹا ہوا پانی پھر اپنی جگہ گھیر لے گا۔ اس دوران میں مصرف تمہارے ت عاقب میں دریا کے بیچ میں ہوں گے اور پانی ان پر اس طرح چھا جائے گا کہ وہ پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

24۔ 1 رَھْوًا بمعنی ساکن یا خشک۔ مطلب یہ ہے کہ تیرے لاٹھی مارنے سے دریا معجزانہ طور پر ساکن یا خشک ہوجائے گا اور اس میں راستہ بن جائے گا، تم دریا پار کرنے کے بعد اسے اسی حالت میں چھوڑ دینا تاکہ فرعون اور اس کا لشکر بھی دریا کو پار کرنے کی غرض سے اس میں داخل ہوجائے اور ہم اسے وہیں غرق کردیں۔ چناچہ ایسا ہی ہوا جیسا کہ پہلے تفصیل گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 22–24

8: مطلب یہ ہے کہ جب تمہارے راستے میں سمندر آجائے گا تو تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سمندر کو ٹھہرا کر راستہ بنادیں گے۔ جب تم اس سے پار ہوجاؤ تو اس بات کی فکر نہ کرنا کہ سمندر میں جو راستہ بنا ہوا ہے۔ وہ فرعون کے لشکر کے بھی کام آئے گا، اور وہ سمندر پار کر کے ہمارا تعاقب جاری رکھیں گے، بلکہ سمندر کو ویسا ہی ٹھہرا ہوا چھوڑ دینا۔ اللہ تعالیٰ خود ان کو ڈبونے کے لیے سمندر کو پھر پہلی حالت میں واپس کردیں گے۔ اس واقعے کی تفصیل سورة یونس : 90 تا 92 اور سورة شعراء : 56 تا 67 میں گذر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 17–33

آیت نمبر 17 تا 33 اس وادی کے دروازے ہی پر یہ خوفناک اعلان لکھا ہوا ہے کہ یاد رکھو ، کسی قوم کی طرف رسول کا بھیجا جانا اس کی آزمائش ہوتی ہے۔ مکذبین کو یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ وقت بہت تھورا ہے ، اس میں تم تکذیب بھی کرسکتے ہو ، تکبر اور غرور بھی کرسکتے ہو۔ رسول کو ایذا بھی دے سکتے ہو ، تکبر اور غرور بھی کرسکتے ہو۔ رسول کو ایذا بھی دے سکتے ہو ، مومنین پر ظلم و ستم بھی ڈھا سکتے ہو لیکن آخر میں غرور کا سر نیچا ہوتا ہے اور تم جو رسول اللہ ﷺ کو طیش دلاتے ہو ، ان کا پیمانہ صبر لبریز کرتے ہو ، لیکن آپ ﷺ بدستور صبر کا پیکر بنے ہوئے ہیں اور تمہاری ہدایت ہی کے امیدوار ہیں ، اس کا انجام برا بھی ہو سکتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی اس کی فکر مت کرو کہ دریا میں خدا کی قدرت سے جو راستہ بن گیا وہ باقی نہ رہے۔ اس کو اسی حالت میں چھوڑ دے۔ یہ راستہ دیکھ کر تو فرعون کے لشکر اس میں گھسنے کی ہمت کریں گے۔ چناچہ وہ سب خشک راستہ دیکھ کر اندر گھسے، اس کے بعد خدا کے حکم سے سمندر کا پانی چاروں طرف سے آکر مل گیا۔ سارا لشکر اس طرح غرقاب ہوا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 24 { وَاتْرُکِ الْبَحْرَ رَہْوًا } ”اور چھوڑ دینا سمندر کو ساکن !“ ہم سمندر کو پھاڑ کر تمہارے لیے راستہ بنا دیں گے ‘ اس راستے سے گزر جانے کے بعد اسے اسی طرح ساکن چھوڑ دینا۔ { اِنَّہُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ } ”یہ ایک لشکر ہیں جو غرق کیے جائیں گے۔“ فرعون کا لشکر تمہارا تعاقب کرے گا اور اسی راستے سے گزرنے کی کوشش کرے گا ‘ لیکن ہم اس کو غرق کردیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

19 سمندرکو کھڑے کا کھڑا چھوڑنے کی ہدایت اور فرعون کی غرقابی :۔ اس مقام پر جستہ جستہ واقعات کی طرف اشارے ہی کئے گئے ہیں۔ جب سیدناموسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی سمندر سے پار اتر چکے تو انہوں نے دیکھا کہ فرعون اور اس کا عظیم لشکر ان کے تعاقب میں سمندر کے دوسرے ساحل پر پہنچ گئے ہیں۔ اس وقت سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو خیال آیا کہ سمندر کے پانی پر پھر اپنا عصا ماریں تاکہ سمندر کا پانی پھر سے رواں ہوجائے۔ اور فرعون اور اس کا لشکر سمندر کے دوسرے ساحل پر ہی کھڑے کے کھڑے رہ جائیں اور سمندر میں بنے ہوئے خشک راستے سے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کا تعاقب نہ کرسکیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 23–24

17۔ یعنی آپ (علیہ السلام) کے لئے تو سمندر میں راستہ کردیا جائے گا اور سمندر کا کچھ حصہ آپ (علیہ السلام) کیلئے خشک کردیا جائے گا، آپ (علیہ السلام) اسے اسی سکون کے حال میں چھوڑ کر چلے جائیے گا۔ اور اسی فکر واندیشہ میں نہ پڑئیے گا کہ فرعون بھی تو اسی راستہ سے آجائے گا۔ چناچہ آپ (علیہ السلام) اس ارشاد باری کی تعمیل میں بنی اسرائیل کو لے کر راتی راتا ہی نکل گئے اور صبح کو آپ (علیہ السلام) کا تعاقب بھی ہوا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–29

آیت نمبر 1 تا 29 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اللہ کی کیا مراد ہے ؟ وہی بہتر جانتا ہے قسم ہے واضح کتاب قرآن کی جو حلال کو حرام سے ممتاز کرنے والی ہے، یقیناً ہم نے اس کو بابرکت رات میں نازل کیا ہے اور وہ شب قدر یا شب نصف شعبان ہے، اسی رات میں قرآن کو ساتویں آسمان پر موجود لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا، بیشک ہم اس کے ذریعہ ڈرانے والے ہیں، اسی رات یعنی شب قدر یا شب نصف شعبان میں ہر محکم کام کا مثلاً روزی، موت وغیرہ جو اس سال اسی جیسی (آئندہ) رات تک ہونے والے ہوتے ہیں فیصلہ کیا جاتا ہے، ہمارے پاس سے حکم صادر ہو کر ہم ہی ہیں رسول بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واترک البحر رھوا انھم جند مغرقون اور تم اس دریا کو سکون کی حالت میں چھوڑ دینا۔ ان کا سارا لشکر ڈبو دیا جائے گا۔ مُجْرِمُوْنَ یعنی مشرک ہیں۔ درپردہ یہ بددعا ہے جس کی علت اور وجہ بھی بیان کردی گئی ہے (یعنی یہ لوگ چونکہ مشرک ہیں ‘ اسلئے بددعا کے لائق ہیں) ۔ فَاَسْرِ یعنی اللہ نے حضرت موسیٰ کی درخواست قبول کرلی اور فرمایا : جب یہ بات ہے تو میرے مؤمن بندوں یعنی بنی اسرائیل کو یہاں سے راتوں رات نکال کرلے جاؤ۔ اِنَّکُمْ مُّتَّبَعُوْنَ یعنی فرعون اور اس کی قوم کو جب تمہارے نکل جانے کی اطلاع ملے گی تو وہ تم لوگوں کا تعاقب کریں گے۔ وَاتْرُکِ الْبَحْرِ رَھْوًا یعنی جب تم اور تمہارے ساتھی دریا پار کرلیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور تم اس دریا کو چوڑا رستہ بنا ہوا اسی حالت پر چھوڑ دینا کیونکہ فرعون اور اس کا لشکر اس دریا میں ڈبو دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

واترک البحر رھواً …:”رھاء یرھو، رھواً“ (ن)”البحر“ سمندر کا ساکن ہونا۔”رھا الرجل رھوا“ جب آدمی دونوں ٹانگیں کھول لے اور انھیں الگ الگ کرلے۔ یہاں اس قصے کا وہ حصہ حذف کردیا ہے۔ جس میں ذکر ہے کہ بنی اسرائیل سمندر پر پہنچے تو پیچھے سے فرعون بھی پہنچ گیا، بنی اسرائیل سخت خوف زدہ ہوگئے کہ اب دوبارہ پکڑے جائیں گے، تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو وحی کہ اپنی لاٹھی سمندر پر مار۔ انہوں نے ایسا کیا تو سمندر پھٹ گیا اور پانی کا ہر حصہ اپنی جگہ ایک بڑے پہاڑ کی شکل میں کھڑا ہوگیا۔ موسیٰ ؑ اور بنی اسرائیل خیریت سے گزر گئے تو موسیٰ ؑ کو حکم ہوا :(واثرک البحر رھواً)”اور سمندمر کو اپنے حال پر ٹھہرا ہوا چھوڑ دے۔“…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : رھوا کا معنی راستہ ہے، یہ قول کعب اور حضرت حسن بصری کا بھی ہے حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس کا معنی ہے راستہ، ضحاک اور ربیع نے کہا : اس کا معنی ہے آسمان ہے : عکرمہ نے کہا : اس کا معنی خشک ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (طٰہ 77) ایک قول یہ کیا گیا ہے جدا جدا۔ مجاہد نے کہا : کھلا، ان سے یہ قول بھی مروی ہے خشک ان سے یہ قول بھی مروی ہے ساکن لغت میں یہی معروف ہے یہ قتادہ اور ہر وی کا قول ہے دوسروں نے کہا : کھلا، ابن عرفہ نے کہا : یہ دونوں ایک معنی کے طرف لوٹتے ہیں اگرچہ ان کے الفاظ مختلف ہیں کیونکہ جس اس کا چلنا ساکن ہوجاتا ہے تو وہ کھل جاتا ہے۔ اسی طرح سمندر اس کا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 17–28

1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے فرمایا کہ (آیت ) ” ولقد فتنا “ سے مراد ہے کہ ہم نے ان کو آزمایا۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد فتنا “ یعنی ہم نے اس کو آزمائش میں مبتلا کردیا (آیت ) ” قبلھم قوم فرعون وجاء ھم رسول کریم “ (ان سے پہلے فرعون کی قوم کو اور ان کے پاس ایک معزز پیغمبر آیا تھا فرمایا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) تھے (آیت) ” ان ادوا الی عباد اللہ “ (اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کردو) یعنی بنی اسرائیل کو بھیج دو ۔ (آیت ) ” وان لا تعلوا علی اللہ “ اور تم خدا سے سرکشی مت کرو) یعنی اللہ تعالیٰ پر بڑائی کا اظہار نہ کرو (آیت ) ”…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاتْرُكِ الْبَحْرَ [ اور آپ چھوڑ دیں سمندر کو ] رَهْوًا ۭ [ ساکن ہونے کی حالت میں ] اِنَّهُمْ [ بیشک وہ لوگ ] جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ [ غرق کیے جانے والے لشکر ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 17–24

قوم فرعون کے پاس اللہ تعالیٰ کا رسول آنا، اور نافرمانی کی وجہ سے ان لوگوں کا غرق ہونا، بنی اسرائیل کا فرعون سے نجات پانا اور انعامات ربانیہ سے نوازا جانا ان آیات میں فرعون کی نافرمانی کا اور بطور سزا لشکروں سمیت سمندر میں ڈوب جانے کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ ہم نے ان سے یعنی قریش مکہ سے پہلے قوم فرعون کو آزمایا ان کے پاس رسول کریم یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تشریف لائے۔ جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مکرم و معظم تھے انہوں نے فرعون سے اور اس کی جماعت سے کہا کہ بنی اسرائیل کو تم دکھ تکلیف دیتے ہو انہیں مصیبت میں مبتلا کر رکھا ہے ان اللہ کے بندوں کو تم میرے حوالے کردو اور میرے ساتھ بھیج دو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–29

بیان عظمت کتاب اللہ وبرکات زمانہ نزول قرآن مع دعوت ایمان وبدنصیبی محرومین واشقیاء از سعادت خداوندی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” حم والکتب المبین ...... الی ....... انا منتقمون “۔ (ربط) گزشتہ سورتک مضمون توحید و رسالت کا اثبات تھا اور اس سے اختلاف واعراض کرنے والے مجرمین کی بدنصیبی کا ذکر کرتے ہوئے ان کے افسوس ناک عبرت ناک انجام کا بیان تھا اور اسی موضوع پر سورت کا مضمون ختم فرما دیا گیا تھا کہ اگر ان واقعات کو سن کر بھی قریش کے لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کو سوچ لینا چاہئے کہ ایسا ہی عبرت ناک انجام ان کا بھی ہوگا، ساتھ ہی آپ ﷺ کو تسلی دینا بھی مقصود تھا کہ قریش مکہ کی مخالفت ودشمنی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 23–24

17:۔ ” واترک البحر رھوا “۔ رھوا ساکنا (بحر، روح، قرطبی) ۔ اس سے پہلے اندماج ہے ینی القضہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر دریا کے کنارے پہنچا تو اللہ کے حکم سے اس پر اپنی لاٹھی ماری جس سے اس میں بارہ خشک راستے بن گئے، جب وہ ان راستوں سے گذر کر پار ہوگئے اس وقت فرعون بھی لاؤ لشکر کے ساتھ دریا پر پہنچ گیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ارادہ کیا تاکہ وہ دریا پر دوبارہ لاٹھی ماریں تاکہ وہ جاری ہوجائے اور فرعون آگے نہ بڑھ سکے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ دریا کو ابھی ساکن ہی رہنے دو ، کیونکہ ہم فرعون کے لشکر کو انہی راستوں میں گھیر کر غرق کرنا چاہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–29

ربطہ آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے نزول قرآن کے زمانے کے مشرکین بالخصوص مشرکین مذکر انداز کیا ، ان کی نافرمانی کا حال بیان کیا اور پھر ان پر آن والی گرفت کا ذکر کیا۔ اللہ نے ان پر دھوئیں کی شکل میں قحط مسلط کیا۔ انہوں نے عہد کیا کہ یہ مصیبت دور ہوجائے تو وہ ایمان لے آئیں۔ مگر جب انہیں قحط سے نجات مل گئی تو وہ پہلے سے بھی زیادہ کفر و شرک میں منہمک ہوگئے۔ اللہ نے بھی فرما دیا کہ ہم تھوڑی مدت کے لئے ان سے تکلیف کو ہٹائیں گے لیکن نافرمانی کی صورت میں بڑی گرفت میں لے لیں گے۔ چناچہ اللہ نے بدر کے مقام پر بہت سے سرکردہ مشرکین کو ہلاک کیا ، بعض قیدی بنے اور بعض شکست کھا کر بھاگ گئے۔ قوم فرعون کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَہْوًا۝ 0 ۭ اِنَّہُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ۝ 24 ترك تَرْكُ الشیء : رفضه قصدا واختیارا، أو قهرا واضطرارا، فمن الأول : وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] ، وقوله : وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً [ الدخان/ 24] ، ومن الثاني : كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ [ الدخان/ 25] ( ت ر ک) ترک الشیئء کے معنی کسی چیز کو چھوڑ دینا کے ہیں خواہ وہ چھوڑنا ارادہ اختیار سے ہو اور خواہ مجبورا چناچہ ارادۃ اور اختیار کے ساتھ چھوڑنے کے متعلق فرمایا : ۔ وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] اس روز ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ ور وئے زمین پر پھل کر ( ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–28

ترکیب : ان ادوا قیل ان مفسرۃ لان مجئی الرسول متضمن لمعنی القول وقیل مخفقذمن الثقیلۃ عباد اللہ اما مفعول بہ لا دوا ای ارسلوھم معی اوانہ مناوی والتقدیر ادوا الی یا عباد اللہ ماھو واجب علیکم من الایمان والاعمال الصالحۃ۔ تفسیر : کفار مکہ کو ان کی سرکشی پر ایک آنے والی بلا سے ڈرایا گیا تھا اب اس جگہ فرعونیوں کا قصہ سنایا جاتا ہے کہ وہ باوجودیکہ تم سے زیادہ مالدار ‘ طاقت ور تھے ان کو رسول نے سمجھایا مگر نہ مانا اور سرکشی سے باز نہ آئے۔ بنی اسرائیل کے پیچھے دوڑے آئے کہ پکڑلاویں اور غلامی میں رکھیں آخر اس کے فضل سے بنی اسرائیل بحرِقلزم سے خشک پار اتر گئے اور فرعونی غرق ہوگئے تمام باغ و مکان و آرایش…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 23–24

فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلاً اِنَّـکُمْ مُّتَّبَعُوْنَ ۔ وَاتْرُکِ الْبَحْرَ رَھْوًا ط اِنَّھُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ ۔ (الدخان : 23، 24) (اللہ کی طرف سے حکم آیا) کہ میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جاؤ، بیشک تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔ اور چھوڑ دو دریا کو تھما ہوا، بیشک وہ سارا لشکر غرق کردیا جائے گا۔ ) فریاد کی قبولیت اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا فوراً قبول ہوئی۔ چناچہ آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ رات ہی رات میں میرے بندوں کو لے کر روانہ ہوجائیں۔ دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون آپ کے معجزات سے مرعوب ہو کر آپ کو بنی اسرائیل کو ساتھ لے جانے کی اجازت دے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 23–29

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے قوم فرعون کے بارے میں موسیٰ (علیہ السلام) کی بدعا قبول فرمائی اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ہجرت کرنے کا حکم دیا۔ یاد رہے کہ ہجرت معمولی کام نہیں کہ پیغمبر کا دل اکتائے اور وہ اپنی قوم کو چھوڑ کر کہیں اور چلاجائے۔ یہ مشکل ترین کام ہے جسے انتہائی مشکل ترین حالات میں کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس پیغمبر کو بھی ہجرت کی اجازت دی گئی اس کے حالات اتنے پرکٹھن تھے کہ پیغمبر کا مزید وہاں رہنا سود مند نہیں تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغمبروں کو ہجرت کرنے کی اجازت دی جاتی تھی۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 24 : وَاتْرُکِ الْبَحْرَ رَہْوًا (اور تم سمندر کو سکون کی حالت میں چھوڑ دینا) رہوًا ساکن۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے سمندر عبور کر کے بعد میں سمندر پر لاٹھی مارنا چاہی تاکہ وہ راستہ فرعونیوں پر بند ہوجائے۔ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا۔ کہ سمندر کو اس کی اسی حالت میں برقرار رہنے دیں۔ راستے خشک ٗ پانی ان کے کناروں پر دیواروں کی شکل میں موجود رہے۔ اس کو لاٹھی نہ ماریں اور اس میں کوئی چیز نہ بدلیں تاکہ قبطی لوگ اس میں داخل ہوجائیں جب وہ اس میں پورے طور پر پہنچ جائیں گے۔ تو اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے ان پر بند کردیں گے۔ ایک قول : الرہو۔ وسیع میدان۔ یعنی اس کو کھلا ہوا رہنے دیں۔ اِنَّہُمْ جُنْدٌ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

23، فاسربعبادی لیلا، یعنی بنی اسرائیل کو۔ ، انکم متبعون، تمہارے پیچھے فرعون اور اس کی قوم آئے گی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 24–29

24۔ 29۔ اوپر گزر چکا ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر قلزم دریا کے کنارہ پر پہنچے تو دریا میں راستہ پیدا ہوجانے کے لئے حضرت موسیٰ کو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا تھا کہ دریا میں اپنا عصا ماریں اب اس آیت کی تفسیر حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس نے یہ فرمائی 3 ؎ ہے کہ دریا سے پار ہوجانے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے چاہا تھا کہ اس قصد سے دریا میں پھر عصا ماریں کہ پہلی دفعہ دریا میں عصا مارنے سے دریا میں جو راستہ پیدا ہوگیا ہے وہ راستہ دوسری دفعہ عصا کے مارنے سے جاتا رہے تاکہ اس راستہ سے فرعون اور اس کے ساتھی دریا سے پار ہو کر بنی اسرائیل کا پیچھا نہ کریں اللہ تعالیٰ نے حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–33

آیت 17 رسول مصطفیٰ محمد ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ گزشتہ زمانوں میں بھی جھٹلانے والے موجود تھے اور ان کا قصہ حضرت موسیٰ کے ساتھ ذکر فرمایا، نیز اس عذاب کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کیا تاکہ جھٹلانے والے اپنے اس رویے سے باز آجائیں فرمایا : (آیت) ” یعنی ہم نے اپنے رسول کریم حضرت موسیٰ بن عمران کو ان کی طرف مبعوث کر کے انہیں آزمایا جن میں بھلائی اور مکارم اخلاق بدرجہ اتم موجود تھے جو کسی اور میں موجود نہ تھے۔ (ان ادوآ الی عباد اللہ) یعنی حضرت موسیٰ نے فرعون اور اس کے سرداروں سے کہا ” اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کردو۔ “ اس سے حضرت موسیٰ کی مراد بنی اسرائیل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 24–28

31 فرعونیوں کی دولت دوسروں کی میراث : سو اس عظیم الشان درس عبرت و بصیرت پر تنبیہ کرتے ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے ان چیزوں کا وارث بنادیا دوسروں کو "۔ یعنی فرعونیوں کے خاتمہ وزوال کے بعد ہم دوسری قوموں کو یکے بعد دیگرے اس ملک کا وارث بناتے چلے گئے۔ چناچہ کچھ عرصہ آشوریوں اور بابلیوں نے اس پر قبضہ جمایا۔ پھر حبشی قابض ہوگئے۔ ان کے بعد اہل فارس اور پھر یونانی اور رومی بھی۔ پھر ان کے بعد عرب، طولونی، اخشدی، فاطمی، ممالیک اور ترک بھی اپنی اپنی حکومتیں کر گئے۔ اور آخر میں فرانسیسی اور انگریزی سامراج نے اس پر پنجے گاڑے۔ اور بالآخر اب اس پر اہل وطن یعنی عرب مسلمانوں کی حکومت ہے۔ اور۔ { اَنَا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–37

قرآن سچ ہے اور اس کے علاہ سب غلط ہے تشریح : ان تمام آیات میں اللہ کی ان تدابیر کا ذکر کیا گیا ہے جو اس نے کائنات کے لیے مرتب کر رکھی ہیں۔ مثلاً میجر جنرل غلام محمد ملک صاحب اس کی بڑے خوبصورت انداز میں یوں وضاحت کرتے ہیں : فلسفہ تاریخ جس طرح سیاسی واقعات کی تکرار اور حوادث کے بار بار اعادہ سے اصول اور نتائج تک پہنچ کر ایک عام تاریخی قانون بنا لیتا ہے اسی طرح انبیاء علیھم السلام کے سوانح اور تاریخیں بھی اپنے واقعات کے بار بار اعادہ سے خصائصِ نبوت کا اصول قانون ہمارے لیے مرتب کرتی ہے۔ پیغمبرانہ تاریخ کے انہی اصول و قوانین میں سے ایک یہ ہے کہ نبی جب اپنے کمال انسانیت کو پہنچ کر فیضان نبوت کے قبول…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–29

آیات 1 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ حم۔ اس کتاب واضح کی قسم ہے یعنی یہ دلائل سے حق کو واضح کردینے والی کتاب اس پر گواہ ہے جسے ہم نے ایک بہت بابرکت شب کو لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل فرمایا کہ اس کے نزول سے مراد مخلوق کو صحیح راہ عمل دکھانا اور اعمال بد کے بد انجام سے بروقت خبر دینا ہے کہ وہ اپنی راہ متعین کرسکیں لیلہ مبارکہ : لیلہ مبارکہ سے مراد مفسرین کرام سے لیلۃ القدر ہے کہ قرآن کریم کی دوسری آیات سے اس کی تعیین ہوجاتی ہے نیز نزول قران رمضان المبارک ہی میں ہوا اور جو بات نصف شعبان کی شب کے بارے مشہور ہے ، اس کی سندیں ضعیف ہیں اس لیے اکثر علماء نے اسے قبول نہیں کیا ، اور بعض نے اس کی فضیلت اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 22–24

ف 5 حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے سمندر عبور کرنے کے بعد چاہا کہ سمندر پر عصا ماردیں تاکہ وہ مل جائے اور فرعون کا لشکر اس میں داخل نہ ہو سکے۔ حکم ہوا کہ ایسا نہ کرو بلکہ سمندر کو اپنے موجودہ حال چھوڑ کر آگے بڑھ جائو تاکہ فرعون کا لشکر اس میں داخل ہوجائے۔ 6 چناچہ ایسا ہی ہوا۔ فرعون نے جب سمندرکو پھٹاپایا تو لشکر سمیت اس میں داخل ہوگیا اور سب غرق ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(44:24) واترک البحر رھوا واؤ عاطفہ۔ اترک فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ترک (باب نصر) مصدر ۔ تو چھوڑ۔ البحر دریا۔ دریائے قلزم مراد ہے جسے حضرت موسیٰ اور اس کی قوم نے پار کیا تھا۔ رھوا یہ رھایرھوا (باب نصر) سے مصدر ہے جس کے معنی دریا کے تھمنے کے آتے ہیں۔ یعنی پار ہو کر دریا کو اسی ہیئت میں ساکن رہنے دیجئے۔ دریا پھٹ کر کھلے کشادہ رستے بن گئے تھے اور راستوں کے دونوں طرف دریا کے آرپار پانی پہاڑ کی طرح تھم کر کھڑا ہوگیا تھا۔ خدا کا حکم ہوا کہ اسے اسی طرح راستوں میں بٹا ہوا اور ساکن رہنے دیجئے اپنے عصا سے یا کسی اور طریقے سے یہ پاٹ پر کرنے کی کوشش نہ کرنا۔ اس ڈر سے کہ مبادا فرعون اور اس کی قوم تمہیں آنہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 17–33

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 33 : فتنا ( ہم نے آزمایا) لا تعلوا (تم نہ چڑھو) اعتزلون ( تم مجھ سے دور ہٹ جائو) اسر (تو راتوں رات چل) رھوا ( ٹھہرا ہوا) جند ( لشکر) مابکت (نہ روئی ، نہ رویا) منظرین (مہلت دیئے گئے) اخترانا ( ہم نے پسند کیا) تشریح : آیت نمبر 17 تا 33 : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حق و صداقت کی سر بلندی اور ہدایت و تبلیغ میں ساری زندگی جدوجہد فرمائی فرعون اور آل فرعون نے جس طرح ان کی نافرمانی کی اس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی مختلف سورتوں میں عبرت و نصیحت کے لئے مختصر یا تفصیل سے بیان کیا ہے۔ یہاں ایک مرتبہ پھر حضرت موسیٰ کی زندگی کے ایک اور پہلو کو بیان کرکے کفار قریش کو آگاہ کیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 24–36

نافرمان قوموں کا انجام۔ (ف 1) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مع بنی اسرائیل دریا کے پار ہوئے تو حضرت موسیٰ نے چاہا کہ دریا کو اپنے عصا سے ماریں کہ پھر ویسا ہی ہوجائے جیسا تھا، تاکہ اس راستہ سے فرعون اور اس کے ساتھی دریا سے پار ہوکربنی اسرائیل کا پیچھا نہ کریں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم دیا کہ دریاکواسی طرح بیچ میں خشک رہنے دو تاکہ فرعون اور اس کا لشکر دریا کی خشک زمین پر پہنچ جاویں تو پانی کا پاٹ ملادیاجائے اور ان سب کو غرق کردیاجائے، اسی قصہ کو مختصر طور پر فرمایا کہ فرعون اور اس کے ساتھی اپنے باغ اور نہریں ، کھیتیاں، اچھے مکان اور راحت کا ہر طرح کا سامان مصر میں چھوڑ کر یہاں دریائے قلزم…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 19–32

[8] یعنی یہ افضلیت اور اشرفیت یوں ہی اٹکل پچو بلاوجہ نہ تھی۔ یہ اس لئے تھی کہ اللہ کے علم میں اس وقت کی قوموں میں اس کے لئے موزوں ترین قوم بنی اسرائیل تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 11–32

دھوئیں کا عذاب 1: مکہ والوں نے جب حضور ﷺ کے پیغام توحید کو ٹھکرایا اور انتہائی تحقیر وتذلیل کے ساتھ آپ کا خیرمقدم کیا ۔ تو اس وقت آپ کی زبان الہام ترجمان سے یہ کلمات بےاختیار نکل گئے ۔ کہ اے اللہ ان لوگوں پر اس قحط کا عذاب نازل کر جو تونے یوسف کے زمانہ میں نازل کیا تھا ۔ بس ان الفاظ کا حضور ﷺ کے منہ سے نکلنا تھا ۔ کہ اجابت نے ہاتھوں ہاتھ لیا ۔ آسمان نے رحمت کے دراوزوں کو ان پر بند کرلیا ۔ زمین میں خشک ہوگئی ۔ اور قحط وجوع نے قریش کو آزمائش میں ڈال دیا ۔ اس قدر فاقے ہونے لگے ۔ کہ بھوک کے مارے ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے دھواں سا معلوم ہونے لگا ۔ زندگی کے لئے یہ لوگ مجبور ہوگئے ۔ کہ مردار…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(24) اور دریا کو سکون اور ٹھہری ہوئی حالت پر چھوڑ جا کیونکہ ان فرعونیوں کا پورا لشکر غرق ہونے والا اور ڈوبنے والا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ موسیٰ تو راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر نکل جا۔ تمہارا تعاقب ہوگا تم کو دریا ساکن ملے گا اور راستے بنے ہوئے ملیں گے تم گزر جانا اور دریاکو اپنی حالت پر چھوڑ جانا یعنی کوئی تشویش اور فکر نہ کرنا کیونکہ فرعونیوں کے تمام لشکر کا ڈبویا جاتا مقصود ہے آگے مختصر سی تفصیل ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آپ دریا کو تھما ہوا چھوڑیں گے اور مخالف لشکر کو ہم اس جگہ غرق کرنے والے ہیں 42 ؎ (رھوا) کا اصل مادہ رھو ہے ” رھا البحر یرھورھوا “ سکن فھوراہ ورھو “۔ رھا الثئی رھوا کے معنی ہیں وہ چیز حالت سکون میں ہوئی اور ساکن کیا ہے ؟ سب جانیت ہیں کہ یہ وہ حالت ہے جب حرکت نہ کرے اور دریا کا ساکن ہونا واضح ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو عین اس وقت گزر جانے کا حکم دیا گیا جب دریا پایاب تھا اور پانی زور سے نہیں چل رہا تھا اور بنی اسرائیل کے پارہوتے ہیں پیچھے سے جو پانی قدرت الٰہی بھیجنے والی تھی اس کو عین اس وقت اس جگہ پہنچنا تھا جب فرعون اور اس کا لشکر دریا میں اتر تا اور اللہ تعالیٰ کی یہی وہ خفیہ تدابیر ہوتی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 24–27

وَاتْرُ‌كِ الْبَحْرَ‌ رَ‌هْوًا "And leave the sea in the state of stillness; (44:24) " The word rahwan means 'to be still/calm/motionless'. When Prophet Musa (علیہ السلام) and his companions crossed the sea, Musa ill naturally desired for the sea to go back to its original state. So he wanted to strike it with his staff so that it would form a barrier between them and Fir'aun to prevent him from reaching them. But Allah commanded him to leave it as it was, quiet and divided, and gave him the glad tidings that they were a host to be drowned, and he should not fear either being overtaken by…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

23 This command was given when the Prophet Moses had crossed the sea along with his caravan and wanted that he should restore the sea to its former state by smiting it with the staff so that Pharaoh and his hosts should not pursue them on the dry path created by the miracle. At that times it was said: "Leave the sea divided as it is, so that Pharaoh and his armies should descend into it; then the sea will be restored and they will be drowned all together."

Read the full tafseer →