Az-Zukhruf 43:82

Az-Zukhruf · from ayah 82

43:82

سُبْحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ۟سُبۡحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ رَبِّ الۡعَرۡشِ عَمَّا يَصِفُوۡنَ

یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں آسمانوں اور زمین کا مالک (اور) عرش کا مالک اس سے پاک ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Exalted is the Lord of the heavens and the earth, Lord of the Throne, above what they describe.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 7 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zukhruf

All translations of 43:82

پاک ہے آسمانوں اور زمین کا فرماں روا عرش کا مالک، اُن ساری باتوں سے جو یہ لوگ اُس کی طرف منسوب کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں آسمانوں اور زمین کا مالک (اور) عرش کا مالک اس سے پاک ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

آسمانوں اور زمین اور عرش کا رب جو کچھ یہ بیان کرتے ہیں اس سے (بہت) پاک ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ جو آسمانوں اور زمین کا بھی مالک ہے، عرش کا بھی مالک، وہ ان ساری باتوں سے پاک ہے جو یہ بنایا کرتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پاکی ہے آسمانوں اور زمین کے رب کو، عرش کے رب کو ان باتوں سے جو یہ بناتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

آسمانوں اور زمین کا پروردگار، عرش کا مالک پاک ہے اُن باتوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پاک ہے آسمانوں اور زمین کا رب، جو عرش کا رب ہے، اس سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ پاک ہے آسمانوں اور زمین کا مالک، عرش کا مالک ان سب باتوں سے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

آسمانوں اور زمین کا خداوند، عرش کا مالک، ان باتوں سے پاک ہے جو یہ بیان کرتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پاک ہے فرماں روا آسمانوں اور زمین کا جو کہ مالک ہے عرش کا ان تمام باتوں سے جو یہ لوگ بناتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

پاک ہے آسمانوں کا اور زمین کا پروردگار عرش کا پروردگار ان چیزوں سے جو یہ لوگ بیان کررہے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پاک ہے آسمانوں اور زمین کا رب عرش کا مالک ان تمام چیزوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں آسمانوں اور زمین کا مالک، عرش کا مالک اس سے پاک ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Exalted be the Lord of the heavens and the earth, the Lord of the Throne, above what they attribute to Him.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Pure is the Lord of the heavens and the earth, the Lord of the Throne, from what they attribute (to Him).

— Muhammad Taqi Usmani

Pure is the Lord of the heavens and the earth, the Lord of the Throne, from what they attribute (to Him).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Glorified is the Lord of the heavens and the earth, the Lord of the Throne! Exalted be He from all that they ascribe (to Him).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Glorified be the Lord of the heavens and the earth, the Lord of the Throne, from that which they ascribe (unto Him)!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Exalted is the Lord of the heavens and the earth, Lord of the Throne, above what they describe.

— Saheeh International

The Lord of the heavens and the earth and the Throne is too glorious to be described in the way they describe Him.

— Muhammad Sarwar

Glory to the Lord of the heavens and the earth, the Lord of power, from what they describe.

— Muhammad Habib Shakir

Hallowed be the Lord of the heavens and the earth, the Lord of the Throne, from that which they ascribe!

— Abdul Majid Daryabadi

Glory to the Lord of the heavens and the earth, the Lord of the Throne (of Authority)! (He is free) from the things they attribute (to him)!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 43:82

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 81–89

جہالت و خباثت کی انتہاء اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ہے اے نبی آپ اعلان کر دیجئے کہ اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کی اولاد ہو تو مجھے سر جھکانے میں کیا تامل ہے ؟ نہ میں اس کے فرمان سے سرتابی کروں نہ اس کے حکم کو ٹالوں اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے میں اسے مانتا اور اس کا اقرار کرتا لیکن اللہ کی ذات ایسی نہیں جس کا کوئی ہمسر اور جس کا کوئی کفو ہو یاد رہے کہ بطور شرط کے جو کلام وارد کیا جائے اس کا وقوع ضروری نہیں بلکہ امکان بھی ضروری نہیں۔ جیسے فرمان باری ہے آیت (لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۙ سُبْحٰنَهٗ ۭ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ) 39۔ الزمر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 82–84

سورة الزُّخْرُف 65 یعنی آسمان اور زمین کے خدا الگ الگ نہیں ہیں، بلکہ ساری کائنات کا ایک ہی خدا ہے۔ اسی کی حکمت اس پورے نظام کائنات میں کار فرما ہے، اور وہی تمام حقائق کا علم رکھتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 81–87

معارف و مسائل (آیت) قُلْ اِنْ كَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌ ڰ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ (اگر خدائے رحمن کی کوئی اولاد ہوتی تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرتا) اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ معاذ اللہ خدا کی اولاد ہونے کا کسی بھی درجہ میں کوئی امکان ہے، بلکہ مقصد دراصل یہ بتانا ہے کہ میں تمہارے عقائد کا انکار کسی عناد یا ہٹ دھرمی سے نہیں کر رہا ہوں بلکہ دلائل کی وجہ سے کر رہا ہوں، اگر صحیح دلائل سے خدا کی اولاد کا وجود ثابت ہوجاتا تو میں اسے ضرور مان لیتا، لیکن عقل ونقل کی ہر دلیل اس کی تردید کرتی ہے، اس لئے ماننے کا کوئی سوال نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اہل باطل کے ساتھ مباحثہ کے وقت اپنی حق پسندی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 81–82

قل ان کان للرحمن ولد فانا اول العبدین سبحن رب السموت والارض رب العرش عما یصفون (82-81) ابتدائے سورة کے مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فیصلہ کن بات یہ آخر میں، ابتدائے سورة کی اس بحث کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے جو فرشتوں کی الوہیت کے ابطال میں گزر چکی ہے، ایک فیصلہ کن بات کا اعلان فرمایا کہ ان لوگوں کو بتا دو کہ اگر یہ بات ثابت ہوجائے کہ خدا کوئی اولاد بھی رکھتا ہے تو تم سے پہلے اس کی عبادت کے لئے میں خود تیار ہوں لیکن آسمانوں اور زمین اور عرش کا مالک ان باتوں سے پاک ہے جو یہ اس کی طرف بغیر کسی دلیل کے منسوب کر رہے ہیں وہی تنہا ان تمام چیزوں کا خالق اور وہی اکیلا اس ساری کائنات کا مالک اور اس کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 82–83

83۔ 1 یعنی اگر یہ ہدایت کا راستہ نہیں اپناتے تو اب انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیں اور دنیا کے کھیل کود میں لگا رہنے دیں۔ 83۔ 2 ان کی آنکھیں اس دن کھلیں گی جب ان کے اس رویے کا انجام ان کے سامنے آئے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 82–86

22: یعنی جن بتوں وغیرہ کو مشرکین نے اس اعتقاد سے خدائی میں اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہماری سفارش کریں گے تو درحقیقت ان کو سفارش کرنے کا کوئی اختیار ہی نہیں ہے۔ البتہ جو لوگ کسی کے بارے میں سچی گواہی دیں، اور پورے علم کے ساتھ دیں کہ وہ واقعی مومن تھا تو اس کی گواہی بیشک قبول کی جائے گی اور اس آیت کی ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ ”جن لوگوں نے حق کی گواہی دی ہو“ سے مراد وہ ہیں جنہوں نے ایمان قبول کر کے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور حضور اقدس ﷺ کے سچا پیغمبر ہونے کی گواہی دی ہو، ایسے لوگوں کی سفارش اللہ تعالیٰ کی اجازت سے قبول کی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 81–83

آیت نمبر 81 تا 83 یہ لوگ فرشتوں کی عبادت اس تصور پر کرتے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اگر اللہ کی اولاد ہوتی تو اس کے ساتھ جان پہچان اور اس کی بندگی کا حق دار سب سے پہلے نبی ہوتا۔ کیونکہ انسانوں میں سے خدا کے قریب نبی اور رسول ہی ہوتے ہیں۔ اور پھر اللہ کی بندگی اور اطاعت میں بھی وہ سب سے آگے ہوتے ہیں اور اگر کوئی اولاد ہوتی تو اس کی عزت بھی سب سے پہلے نبی کرتے۔ لہٰذا ان لوگوں کا یہ تصور اور زعم ہی محض افسانہ ہے۔ اس پر کوئی دلیل نہیں ہے ۔ اور اس قسم کی صفات کی اللہ کی طرف نسبت کرنا اس کے شایان شان نہیں ہے ، وہ پاک ہے۔ سبحن رب السموت والارض رب العرش عما یصفون (43 : 82) “ پاک ہے آسمان اور زمین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی جن باتوں کی نسبت یہ لوگ اس کی طرف کرتے ہیں۔ مثلاً اولاد وغیرہ، اس سے خدا تعالیٰ کی ذات برتر اور منزہ ہے۔ اس کی ذات میں یہ امکان ہی نہیں کہ معاذ اللہ کسی کا باپ یا بیٹا بنے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 82{ سُبْحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ } ”پاک ہے آسمانوں اور زمین کا رب ‘ عرش کا مالک ‘ ان تمام چیزوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 82–84

77 مشرکوں کے کچھ خدا آسمان میں اور کچھ زمین میں :۔ مشرکوں نے کچھ خدا تو آسمان میں بنا رکھے ہیں۔ جیسے فرشتے، شمس و قمر اور کئی دوسرے سیارے اور کچھ زمین میں جیسے بت، آستانے، شجر و حجر اور بزرگوں کے مزارات۔ پھر وہ سمجھتے بھی نہیں اور اپنی بات پر اکڑ گئے ہیں۔ اور فضول قسم کی کج بحثیوں پر اتر آئے ہیں۔ لہذا انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیجئے۔ قیامت کے دن ان کو خود بخود معلوم ہوجائے گا کہ معبود برحق صرف ایک ہی ذات ہوسکتی ہے۔ اور پوری کائنات کا وہی خالق ومالک ہے۔ صرف اسی کی حکومت ہے اس کا تصرف اور اختیار کارفرما ہے۔ باقی سب چیزیں اس کی مخلوق اور مملوک ہیں جو دوسروں کے نفع و نقصان تو کجا اپنی ذات کے لیے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

64۔ جو بات فرض محال کے طور پر ابھی پیش ہوئی تھی اب اس کی تردید ہورہی ہے، کہ ” مگر نہیں، توبہ، توبہ ایسا کہاں ؟ ایسا ہونا ممکن ہی کیوں کر ہے ؟ اس کی صفات میں جس قدر بھی شرک یہ ظالم مشرکین کررہے ہیں وہ ان سب سے ارفع ومنزہ ہے۔ اس کی ناقابل پیمائش عظمت کا اندازہ اسی سے ہوسکتا ہے کہ وہ خالق ومالک زمین کا بھی ہے، آسمانوں کا بھی، اور عرش کا بھی اس کی شریک معبودیت ان عظیم ترین، ہسیتوں میں سے کوئی بھی نہیں۔ وہ یکتا وقدوس ہر شریک اور ہر شرکت سے بالاتر ہے۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 68–89

آیت نمبر 68 تا 89 ترجمہ : ان سے کہا جائے گا اے میرے بندو ! آج تم پر کوئی خوف نہیں اور نہ تم غم زدہ ہوگے، جو ہماری آیتوں قرآن پر ایمان لائے (الذین آمنوا) عبادی کی صفت ہے اور تھے بھی وہ فرمانبردار تم اور تمہاری بیویاں خوشی خوشی اور اکرام کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ (أنتم) مبتداء ہے (تُحْبَرُوْنَ ) اس کی خبر ہے ان کے پاس سونے کی رکابیاں اور گلاس لائے جائیں گے اکواب، کو بٌ کی جمع ہے، اس برتن کو کہتے ہیں جس میں ٹونٹی نہ ہو (مثلاً کٹورا اور گلاس) تاکہ پینے والا جدھر سے چاہے پیے، اور وہاں وہ چیزیں ملیں گی جن کو ان کا دل چاہے گا اور جن کو دیکھ کر آنکھیں لذت اندوز ہوں گی اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

سبحن رب السموت والارض العرش عما یصفون آسمانوں کا اور زمین کا مالک جو عرش کا بھی مالک ہے ‘ ان باتوں سے پاک ہے جو یہ (مشرک) لوگ بیان کرتے ہیں۔ یعنی یہ بڑے اجسام اپنے طول بقاء کی وجہ سے جب ان کیفیات و لوازم سے خالی ہیں جو دوسرے (سریع التغیر چھوٹے) اجسام کی خصوصیات ہیں تو وہ اللہ جو ان سب کا خالق و موجد ہے ‘ کس طرح ان آلائفوں سے پاک نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 81–82

(81۔ 82) اور آپ نضر بن حارث اور علقمہ سے کہیے کہ اللہ کے کوئی اولاد نہیں کیونکہ سب سے پہلے تو میں ہی اس کے وحدہ لاشریک ہونے کا اقرار کرنے والا ہوں وہ ان کے ان جھوٹے دعو وں سے پاک ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

سبحن رب المسوت والارض رب العرش عما یصفون : یعنی اولاد ہونا کمزوری، محتاجی اور عجز کی دلیل ہے۔ (دیکھیے بنی اسرائیل : 111) جب کہ اللہ تعالیٰ عجز اور احتیاج سے پاک ہے۔ وہ آسمانوں کا زمین کا اور عرش کا مالک اور پروردگار اولاد سے اور ان تمام کمزوریوں اور عیبوں سے پاک ہے جو مشرک لوگ اس کے لئے بیان کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 81–82

اس کے معنی میں اختلاف کیا گیا ہے حضرت ابن عباس، حضرت حسن بصری اور سدی نے کہا : یہ معنی ہے، رحمن کا کوئی بیٹا نہیں۔ یہاں ان، ماء کے معنی میں ہے اس اعتبار سے کلام مکمل ہوگی پھر تو نئے سرے سے کلام شروع کرے گا میں اہل مکہ میں سے پہلا موحد ہوں کیونکہ اس کا کوئی بیٹا نہیں۔ العبدین پر وقف تام ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے معنی ہے : اے محمد ﷺ ! کہہ دو اگر اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہوتا تو میں ان میں سے سب سے پہلا ہوتا جو اس کی عبادت کرتا لیکن یہ امر محال ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو یہ اسی طرح ہے جس طرح تو اسے کہتے ہے جس سے تو مناظرہ کرتا ہے جو کچھ تو نے کہا ہے اگر یہ دلیل سے ثابت ہوگیا تو میں وہ پہلا شخص ہوں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 81–85

1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل ان کان للرحمن ولدا “ (آپ کہہ دیجئے کہ اگر رحمن کی کوئی اولاد ہوتی) یعنی رحمن کی اولاد نہیں (آیت ) ” فانا اول العبدین “ (تو سب سے پہلے اس کی عبادت کرنے والا میں ہوتا) یعنی گواہی دینے والا۔ اللہ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے : 12:۔ طستی (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ کے اس قول (آیت ) ” فانا اول العبدین “ کے بارے میں بتائیے ؟ فرمایا میں سب سے برأت کا اظہار کرتا ہوں اس بات سے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہو۔ پھر پوچھا جائے گا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

سُبْحٰنَ [ پاکیزگی ہے ] رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [ زمین و آسمانوں کے پروردگار کی ] رَبِّ الْعَرْشِ [ جو عرش کا مالک ہے ] عَمَّا [ اس سے جو ] يَصِفُوْنَ [یہ لوگ بتاتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 82–83

پھر فرمایا کہ ان لوگوں کو آپ چھوڑ دیں یہ اپنی بیہودہ باتوں میں لگے رہیں اور دنیا میں کھیلتے رہیں دنیا میں ساری لہو و لعب ہے جیسا کہ سورة الحدید میں فرمایا ﴿اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ ﴾ ان لوگوں کا باطل میں لگا رہنا اور کھیل میں مشغول رہنا یہاں تک آگے بڑھتا رہے گا کہ یہ لوگ اس دن سے ملاقات کریں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے بعض حضرات نے موت کا دن اور بعض حضرات نے یوم بدر اور بعض حضرات نے یوم القیامۃ مراد لیا ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ آسمانوں میں بھی معبود ہے اور زمین میں بھی معبود ہے یعنی معبود حقیقی وہی ہے اور مستحق عبادت بھی وہی ہے جو لوگ اس کے علاوہ کسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–89

تنبیہ بر مخالفت از حق وبیان انعام واکرام مطیعین وذلت وناکامی مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فاختلف الاحزاب من بینھم ...... الی ...... فسوف یعلمون “۔ (ربط) آیات سابقہ میں مشرکین مکہ کے ایک لغو اور مہمل اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی دعوت توحید کا ذکر تھا اور یہ کہ ان کی زندگی کو اللہ نے اپنی قدرت کی ایک عظیم نشانی بنایا تھا، جب تک زمین پر رہے اللہ کی نشانیاں دکھاتے ہوئے اپنی قوم کو توحید ہی کی دعوت دی، اور جب قیامت کے قریب آسمان سے نزول فرمائیں گے تب بھی وہ یہی دعوت توحید دیتے ہوں گے، ان کی تعلیم وہدایت میں نہ کوئی ابہام تھا اور نہ اس سے اختلاف کی کوئی گنجائش…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 81–82

46:۔ ” قل ان کان “ یہ ابتدائے سورت میں ” وجعلوا لہ من عبادہ جزءا “ سے متعلق ہے۔ قرآن مجید کا یہ قاعدہ ہے کہ کبھی ابتدائے سورت کے مضمون کو آخر سورت میں بھی بانداز دیگر ذکر کیا جاتا ہے۔ تاکہ سورت کی ابتدا اور انتہا میں اتحاد و مناسبت ہوجائے۔ دلائل واضحہ اور براہین قاطعہ سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی ولد اور نائب نہیں، لیکن اگر بالفرض مشرکین مکہ کے قول کے مطابق اللہ کے لیے ولد اور نائب ثابت ہوجائے تو میں سب سے پہلے اسے مانوں گا اور اس کی تعظیم بجا لاؤں گا۔ اور اس کے مطابق اللہ کی عبادت کروں گا یہ تمثیل نفی ولد میں بطور مبالغہ ذکر کی گئی ہے۔ معنی الایۃ ان کان للرحمن ولد و صح وثبت…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 77–83

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ملنے والی بعض نعمتوں کا ذکر فرمایا۔ پھر محرموں کے متعلق فرمایا کہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اور ان سے عذاب میں تحخفیف نہیں کی جائے گی۔ گنہگار مایوس ہوجائیں گے کہ اب اس عذاب سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کے ساتھ ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی بلکہ انہوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا تو اس انجام کو پہنچے ہم نے تو ان کے لئے ہدایت کے تمام سامان مہیا کردیئے تھے مگر خود انہوں نے توحید کا انکار اور معاد پر یقین نہ لا کر اپنی عاقبت کو خربا کرلیا اس طرح اللہ نے ان لوگوں کی تھوڑی سی کیفیت بیان کردی۔ داروغہ جہنم سے درخواست اب آج…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

سُبْحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُوْنَ۝ 82 سبحان و ( سُبْحَانَ ) أصله مصدر نحو : غفران، قال فَسُبْحانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ [ الروم/ 17] ، وسُبْحانَكَ لا عِلْمَ لَنا [ البقرة/ 32] ، وقول الشاعرسبحان من علقمة الفاخر «1» قيل : تقدیره سبحان علقمة علی طریق التّهكّم، فزاد فيه ( من) ردّا إلى أصله «2» ، وقیل : أراد سبحان اللہ من أجل علقمة، فحذف المضاف إليه . والسُّبُّوحُ القدّوس من أسماء اللہ تعالیٰ «3» ، ولیس في کلامهم فعّول سواهما «4» ، وقد يفتحان، نحو : كلّوب وسمّور، والسُّبْحَةُ : التّسبیح، وقد يقال للخرزات التي بها يسبّح : سبحة . ( س ب ح ) السبح ۔ سبحان یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 79–89

تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ جہنم کا فرشتہ ان کے جواب میں کہے گا انکم ماکثون ولقد جئناکم بالحق ولکن اکثر کم للحق کارھون اب یہاں ان کی کراہتِ حق کو بیان فرماتا ہے کہ حق کے قبول کرنے کا تو کیا ذکر بلکہ وہ اس کے رد کرنے میں سینکڑوں مکرو تدابیر کیا کرتے تھے مگر کیا کرسکتے تھے کیونکہ ام ابرموا امرا کیا وہ قضاء و قدر میں مداخلت کر کے کوئی بات اس کے برعکس قائم کرسکتے تھے۔ نہیں بلکہ فانامبرمون مدبر امور ہم ہیں اور اس پر لطف یہ ہے کہ جانتے تھے خدا کو ہماری ان تدابیر و مکرو زور کی خبر نہیں حالانکہ ہمارے رسول یعنی فرشتے ان کے پاس ان کی باتیں لکھ رہے تھے۔ انسان جو کچھ کرتا ہے اس کا چھاپا عالم غیب میں لگ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 81–82

قُلْ اِنْ کَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ صلے ق فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ ۔ سُبْحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ۔ (الزخرف : 81، 82) ( اے پیغمبر ! کہہ دیجیے، اگر رحمن کی کوئی اولاد ہوتی تو سب سے پہلے عبادت کرنے والا میں ہوتا۔ پاک ہے آسمانوں اور زمین کا فرماں روا، عرش کا مالک ان باتوں سے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں۔ ) توحید پر ایک منفرد اسلوب توحید پر مسلسل اصرار اور اپنی دعوت کی اسے بنیاد قرار دینے کی وجہ سے مخالفین نے یہ پر اپیگنڈا شروع کر رکھا تھا کہ محمد ﷺ کا ہمارے بتوں کی مخالفت کرنا اور اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں یکتا ہونے پر اصرار کرنا یہ درحقیقت ان کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 81–84

فہم القرآن ربط کلام : نبی ﷺ کے ساتھ مکہ والوں کا بنیادی اختلاف ” اللہ “ کی توحید پر تھا۔ ان کا عقیدہ تھا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے کچھ ہستیوں کو اپنی خدائی میں شریک کر رکھا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو بیٹیاں بنا کر انہیں اپنی خدائی میں شریک کرلیا ہے۔ قرآن مجید نے کئی بار اس بات کی نفی کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نہ تو کسی کو اپنی خدائی میں شریک کیا ہے اور نہ ہی کسی کو اپنی اولاد بنایا ہے۔ اس موقع پر اس بات کا صرف یہ جواب دیا ہے کہ اے نبی ﷺ ! ان سے ارشاد فرمائیں کہ اگر الرّحمن کی اولاد ہوتی تو سب سے پہلے میں اس کی عبادت کرتا یعنی اسے تسلیم کرتا۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس کی اولاد ہے اور نہ میں اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 82: سُبْحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ (آسمان اور زمین کا مالک جو کہ عرش کا بھی مالک ہے۔ ان باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں) یعنی وہ آسمانوں اور زمین اور عرش کا رب ہے۔ وہ نہ جسم ہے۔ کیونکہ اگر وہ جسم ہوتا تو اس کے بنانے پر قدرت نہ ہوتی۔ اور جب جسم نہیں تو اس کی اولاد نہیں کیونکہ پیدا ئش و تولد یہ جسم کی صفات میں سے ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

81، قل ان کان للرحمن ولدفانا اول العابدین، یعنی اگر تمہارے گمان کے مطابق رحمن کی اولادہوتی تو میں پہلا شخص ہوتا جو اس کی عبادت کرتا کہ وہ تنہا ہے نہ اس کا کوئی شریک ہے اور نہ کوئی اولاد۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں، ان کان، یعنی رحمن کی اولاد نہیں ہے کہ میں اس کی پہلے عبادت کروں اور وہ اس کے گواہ ہوں۔ انہوں نے، ان، کو حجد (انکار) کے معنی میں کردیا اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے کہ اگر رحمن کی اولاد ہوتی تو میں پہلاشخص ہوتا جو اس کی عبادت کرتا لیکن اس کی کوئی اولاد نہیں ہے اور کہا گیا ہے کہ عابدین، انفینا، کے معنی میں ہے یعنی جو تم نے کہا ہے اس کا پہلا انکار کرنے والا اور کہا گیا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 81–84

81۔ 84۔ علاوہ ان فرشتوں کے جو ہر آدمی کے ساتھ ہر طرح کی آفت سے حفاظت کرنے کے لئے مقرر ہیں جن کا ذکر سورة رعد میں گزر چکا ہے۔ یہ دو فرشتے نیکی اور بدی لکھنے کی غرض سے ہر شخص کے ساتھ تعینات ہیں۔ صحیحین 1 ؎ کی اور حدیث کی کتابوں میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے جو ایک حدیث مشہور ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا آدمی کے دل میں جو وسوسہ آتا ہے جب تک اس وسوسہ کے موافق آدمی کوئی بات منہ سے نہ نکالے یا ہاتھ پیر سے کوئی کام نہ کرے تو وسوسہ معاف ہے اس صحیح حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سوا دل کے وسوسہ کے اور جو کچھ زبان سے نکلے یا ہاتھ پیروں سے کیا جائے وہ سب لکھا جاتا ہے بعض مفسروں نے حضرت عبد اللہ بن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 81–83

آیت 81 اے رسول مکرم ! ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دے رکھا ہے، حالانکہ وہ اکیلا اور بےنیاز ہے جس نے کوئی بیوی بنائی نہ بیٹا اور نہ اس کا کوئی ہم سر ہی ہے (آیت) ” کہہ دیجیے : اگر رحمٰن کے اولاد ہوتی تو میں سب سے پہلے عبادت کرنے والا ہوتا۔ “ اس بیٹے کی کیونکہ بیٹا اپنے باپ کا جزو ہوتا ہے میں تمام مخلوق میں ان تمام اوامر پر عمل کرنے میں سب سے آگے ہوں جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں مگر (تم دیکھ رہے ہو کہ) میں اس کا انکار کرنے والا پہلا شخص ہوں اور اس کی نفی کرنے میں سب سے زیادہ سخت ہوں، پس اس سے اس مشرکانہ قول کا بطلان ثابت ہوگیا۔ جو لوگ انبیائے کرام کے احوال کو جانتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 61–85

قول باری ہے (وانہ لعلم للساعۃ اور وہ تو ایک ذریعہ ہیں قیامت کے یقین کا) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے آیت کی تفسیر میں بیان کیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول قیامت کے علم کا ذریعہ ہے ۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن قیامت کے علم کا ذریعہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

107 اللہ شرک کے ہر شائبہ سے پاک ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پاک ہے اللہ ایسی تمام باتوں سے جو یہ لوگ اس کے بارے میں بناتے ہیں "۔ کہ ایسی تمام باتیں اور اس طرح کی جملہ صفات جسم اور ممکن کی ہیں۔ جبکہ وہ وحدہ لاشریک جسم اور جسمانیات کے ہر شائبے سے پاک اور واجب الوجود ہے ۔ جل جلالہ وعز برھانہ ۔ وہی تنہا آسمانوں اور زمین کی اس ساری کائنات کا خالق ومالک ہے۔ اور وہی اس میں بلاشرکت غیرے حاکم و متصرف ہے۔ اور وہی رب ہے عرش عظیم کا۔ اس کی نہ کوئی اولاد ہے نہ ہوسکتی ہے۔ وہ ایسے تمام تصورات سے پاک ہے۔ اور جن لوگوں نے اس کے بارے میں اس طرح کے تصورات قائم کیے ہیں وہ ہولناک گمراہی کے کھڈے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 68–89

فیصلے کا دن اور نیکو کاروں کے لیے خوشخبری اور گنہگاروں کے لیے سزا کی خبر تشریح : شروع کی آیات میں رب العزت بڑے پیار اور شفقت سے اپنے بندوں کو بتا رہے ہیں کہ یہ دنیا تمہارے لیے امتحان گاہ ہے میرا مقصد تو لوگوں کو سزا دینا ہرگز نہیں لیکن قرآن کے مطابق جو زندگی نہیں گزاریں گے ان کو سزا ضرور ملے گی مگر نیکی پر چلتے ہوئے جو لوگ نیک، اچھی، پاکیزہ اور صاف ستھری زندگیاں گزاریں گے ان کو مرنے کے بعد انتہائی سکون کی زندگی ملے گی بلکہ ایسی بہترین زندگی کہ جس کا تصور تم آیات 68 سے 73 تک کے مضمون سے بخوبی کرسکتے ہو۔ یہ تمام باتیں ایسی ویسی نہیں بلکہ یہ اس الہ العٰلمین کی کہی ہوئی ہیں جو اپنی تمام صفات میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 68–89

آیات 68 تا 89۔ اسرار ومعارف۔ اور جو ایک دوسرے کی نیکیوں کی اور نیکی کی طرف دعوت کی شہادت دیں گے انہیں اللہ کریم کی طرف سے بھی ارشاد ہوگا کہ اے میرے بندو آج کے دن تم ہر خوف سے آزاد ہو نہ کفار کا اندیشہ اور نہ عذاب کی فکر اور تمہیں کچھ کھونے کا غم کہ کافر کو تو دنیا کے کھونے کا رنج ہوگامگر مومن اس سے کہیں زیادہ اور حقیقی نعمتیں حاصل کرے گا کہ یہ وہ لوگ تھے جو ایمان لائے اللہ کی اطاعت کی اور اس کے احکام کو تسلیم کیا۔ آج کے روز جنت میں داخل ہوجاؤ تم اور تمہارے گھر والے یعنی جو دن کفار ک لیے انتہائی سخت ہوگاوہی مومنین کے لیے کامیابی کا دن ہوگا اور وہ جنت میں بہت عزت سے داخل ہوں گے جہاں ان کے لیے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(43:82) سبحن۔ علامہ جلال الدین سیوطی (رح) اپنی کتاب الاتقان فی علوم القرآن حصہ اول نوع چالیسویں میں رقمطراز ہیں : سبحن یہ مصدر ہے بہ معنی تسبیح۔ اس کو نصب اور کسی ایسے اسم مفرد کی طرف مضاف ہونا لازم ہے جو ظاہر ہو جیسے سبحان اللّٰہ (12:108) اور سبحان الذی اسری (17:1) یا مضمر ہو جیسے سبحانہ ان یکون لہ ولد (4:171) اور سبحنک لاعلم لنا۔ (2:32) اور یہ ایسا مفعول مطلق ہے کہ اس کا فعل حذف کیا گیا ہے اور اس کو اس کی جگہ قائم مقام کردیا گیا ہے (یعنی اس کا فعل کبھی استعمال نہیں کیا گیا) رب السموت مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ اپنے مضاف سبحان کا ۔ والارض ای ورب الارض : رب العرش۔ دونوں جملوں کا عطف رب…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 79–89

لغات القرآن آیت نمبر 79 تا 89 : ابرمو (انہوں نے ٹھان لی ، طے کرلی) یخرضوا (وہ گھستے ہیں) یلعبوا ( وہ کھیلتے ہیں) اصفح (در گزر کرلے ، منہ پھیر لے) سلام ( سلامتی ہو) ۔ تشریح : آیت نمبر 79 تا 89 : کفار مکہ اس بات سے بہت ڈرے ہوئے تھے کہ حضرت محمد ﷺ کی مقناطیسی شخصیت اور کلام الٰہی سے عرب کے نوجوان بڑی تیزی سے متاثر ہوتے چلے جا رہے ہیں ۔ جو بھی ان کی زبان سے کلام سنتا ہے تو وہ فوراً ہی اسلام کی سچائی کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے۔ کفار قریش نے نہایت خاموشی سے مکہ کے اہم لوگوں کو ایک جگہ جمع کر کے ان سے خفیہ مشورے کرنا شروع کردیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم اسی طرح ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 81–84

شرک کرنے والوں کابیان۔ (ف 1) شان نزول : نضر بن حارث نے کہا تھا کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اے محبوب ﷺ ان مشرکوں سے کہہ دو کہ اگر بفرض محال خدا کے اولاد ہوتی، تو سب سے پہلے میں اس اولاد کو پوجتا، کیونکہ میں دنیا میں سب سے زیادہ خدا کی عبادت کرنے والا ہوں، اور جس کو جس قدر علاقہ خدا کے ساتھ ہوگا، اسی نسبت سے اسکی اولاد کے ساتھ ہونا چاہیے پھر جب میں باوجود اول العابدین ہونے کے کسی ہستی کو اس کی اولاد نہیں مانتا، اور سو اللہ کے کسی عبادت نہیں کرتا، اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک کرنے کی وحی مجھ کو نہیں آئی تو اس سے معلوم ہوگیا کہ اللہ کا کوئی شریک اور اولاد…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 80–86

[37] یعنی قیامت کے دن سفارش کا اختیار تو کسی کو بھی نہ ہوگا البتہ اللہ تعالیٰ جن کو اجازت دے گا وہ حق بات کی گواہی دیں گے اور وہ گواہی اسی بات کی ہوگی جس کے بارے میں جانتے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 81–85

ف 1: ان لوگوں سے خطاب ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ کی جلالت قدر سے آگاہ نہیں ہیں ۔ اور اس کے لئے اولاد کو ثابت کرتے ہیں ۔ فرمایا : یہ بالکل غلط عقیدہ ہے ۔ آپ ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ اگر اللہ کے کوئی بیٹا ہوتا ۔ تو ہمیں انکار کرنے سے کیا ملتا ۔ آپ لوگ دیکھتے ۔ کہ ہم سب سے پہلے اس کی پوجا اور پرستش کرتے ۔ کیونکہ ہمیں جب اس سے محبت ہے ۔ تو ان لوگوں سے بھی قدرتاً محبت ہوتی ۔ اور جو اس کے عزیز اور رشتہ دار ہوتے ۔ مگر واقعہ یہ ہے ۔ کہ اس کی ذات ہر نوع کے شرک سے پاک اور بلند ہے ۔ اس کا کوئی رشتہ دار نہیں ۔ وہ مجرد اور بسیط حقیقت ہے ۔ آسمان کی بلندیوں سے لے کر زمین کی پستیوں تک ہر چیز اس کے تابع اور مسخر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(82) یہ مشرک اس کی شان میں جو باتیں بناتے ہیں وہ ان سے پاک ہے اور وہ پروردگار ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور وہ عرش بریں کا مالک ہے۔ یعنی وہ ذات جو آسمانوں کی اور زمین کی مالک اور عرش بریں کی مالک ہے وہ ان عیوب سے پاک ہے اور جو سب کا مالک اور تمام عیوب سے پاک ہے و ہ جسم سے بھی پاک ہے اور جو جسم سے پاک ہو اس کے لئے اولادکا ثابت کرنا کس قدر گستاخی اور جرات وبے با کی کی بات ہے اور جب ان کے عناد اور ان کے جمود کی یہ حالت ہے تو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 82–83

ف 4۔ رہنے دینے کا مطلب یہ نہیں کہ تبلیغ نہ کیجئے، بلکہ یہ مطلب ہے کہ ان کی مخالفت کی طرف التفات نہ کیجئے، اور ان کے ایمان نہ لانے سے مخزون نہ ہوجایئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ پاک ہے ان باتوں سے جو یہ لوگ اس کے ذمہ لگاتے ہیں 82 ؎ اللہ تعالیٰ اس پوری کائنات کا پیدا کرنے والا اور اس کا مکمل نظام چلانے والا ہے اور یہ سب اسی حکیم کل کی حکمت کی کرشمہ سازیاں ہیں کہ لوگ اس خالق کائنات کے بایر میں کیا کچھ بیان کرتے اور خرافات کہتے رہتے ہیں لیکن وہ کسی کو بھی اس کے کہتے ہی پکڑ نہیں لیتا بلکہ اپنے قانون امہال کے تحت اس کو ایک مدت تک مہلت دیتا رہتا ہے اور جب تک اس کی پکڑ کا متعین وقت آ نہیں جاتا وہ مسلسل ڈھیل دئیے جاتا ہے۔ لاریب اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور اس فرش سے عرش تک اسی کی حکومت اور شہنشاہی ہے اور ہر ایک انسان کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 82–88

وَقِيلِهِ يَا رَ‌بِّ إِنَّ هَـٰؤُلَاءِ قَوْمٌ لَّا يُؤْمِنُونَ (And [ Allah has the knowledge ] of His prophet's saying, "0 my Lord, these are a people who do not believe." 43:88) The point made by this sentence is that there are very serious reasons for Allah's wrath descending upon these infidels. On the one hand, there are their severe crimes themselves, and on the other when the Messenger ﷺ ، who has been sent as a "blessing for the world" and "interceder for the sinners", himself complains against them and says that these people do not believe, despite repeated good counsels given to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 82–84

65 That is, "The gods of the heavens and the earth are not separate, but there is only One God of the entire universe. It is His wisdom that is working in the whole system of the universe and only He has the knowledge of all realities."

Read the full tafseer →