Ayahs 43:1–15آیت نمبر 1 تا 15
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے قسم ہے اس کتاب کی جو ہدایت کے راستہ کو اور ضروری (قوانین) شریعت کو واضح کرنے والی ہے، اور ہم نے اس کتاب کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم اے مکہ والو ! اس کے معانی کو سمجھ لو اور وہ اصل کتاب یعنی لوح محفوظ میں موجود ہے ہمارے نزدیک سابقہ کتابوں کے مقابلہ میں عالی مرتبت بڑی حکمت والی (کتاب) ہے، لَدَیْنَا (فی ام الکتاب) سے بدل ہے (لَدَیْنَا) معنی میں عندنا کے ہے (صاوی) کیا ہم اس نصیحت نامہ (یعنی) قرآن کو تم سے روک لیں کہ تم کو نہ حکم کیا جائے اور نہ منع کیا جائے اس بناء پر کہ تم حد سے تجاوز کرنے والے لوگ ہو اور ہم نے اگلے لوگوں میں بھی کتنے ہی نبی بھیجے، ان کے پاس کوئی نبی ایسا نہیں آیا کہ اس کا انہوں نے مذاق نہ اڑایا ہو جیسا کہ تیری قوم نے تیر امذاق اڑایا، یہ آپ ﷺ کی تسلی ہے پس ہم نے ان سے یعنی تیری قوم سے زیادہ زور آوروں کو ہلاک کر ڈالا اور آیات میں اگلوں کی مثالیں گذر چکی ہیں (یعنی) ہلاکت میں ان کی کیفیت (گذر چکی ہے) تیری قوم کا انجام بھی ایسا ہی ہوگا اور اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ تو وہ یقیناً یہی جواب دیں گے، کہ ان کو غالب ودانا (اللہ) نے پیدا کیا (لَیَقُولُنَّ ) میں نون رفع متعد نونوں کے جمع ہونے کی وجہ سے حذف کردیا گیا، اور واو ضمیر التقاء ساکنین کی وجہ سے حذف ہوگیا، اور ذوا لعزۃ والعلم (یعنی) العزیز العلیم پر مشرکین کا کلام (جواب) پورا ہوگیا (اس کلام پر) اللہ تعالیٰ نے الّذی جَعَلَ لکم (سے) وَاِنَّا اِلیٰ رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ تک زیادہ فرمایا، جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا، جیسا کہ بچہ کے لئے گہوارہ اور اس میں تمہارے لئے راستے بنائے تاکہ تم اپنے سفر میں اپنے مقاصد تک رسائی حاصل کرو اور اسی نے ایک اندازہ کے مطابق پانی نازل فرمایا یعنی تمہاری ضرورت کے مطابق اور اس کو طوفان کی شکل میں نازل نہیں کیا پس ہم نے اس کے ذریعہ مردہ شہر (خشک زمین) کو زندہ کردیا، اسی طرح یعنی اس احیاء کے مانند تم کو قبروں سے زندہ کر کے نکالا جائے گا، جس پر ہر چیز کے جوڑے بنائے اور تمہارے لئے کشتیاں بنائیں، اور جانوروں مثلاً اونٹ پیدا کئے جن پر تم سوار ہوتے ہو (ضمیر) عائد کو اختصار اً حذف کردیا گیا اور وہ عائد اول (یعنی مِنَ الْفُلْکِ میں) مجرور ہے، یعنی ترکبون فیہِ اور ثانی یعنی والانعام میں منصوب ہے (یعنی ترکبونَہٗ ) تاکہ تم ان کی پیٹھوں پر جم کر سواری کرسکو (ظھورہٖ ) میں ہٖ ضمیر کو مذکر (مفرد) لائے اور ظُھُور کو جمع مَا کے لفظ اور معنی کی رعایت کرتے ہوئے پھر تم اپنے رب کی نعمت کو یاد کرو جب تم اس پر ٹھیک ٹھاک بیٹھ جاؤ اور کہو پاک ذات ہے اس کی جس نے اسے ہمارے بس میں کردیا حالانکہ ہمارے اندرا سے قابو میں کرنے کی طاقت نہ تھی اور یقیناً ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں، اور انہوں نے اللہ کے بعض بندوں کو اس کا جز ٹھہرادیا، جبکہ انہوں نے کہا ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں، اس لئے کہ ولد، والد کا جزء ہوتا ہے، حالانکہ فرشتے اللہ کے بندے ہیں یقیناً اس بات کا قائل انسان کھلم کھلا کفر کرنے والا ہے۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
سُورۃُ الزُخرُفِ : زخْرُف ملمع، زرین، آراستہ، زینت، زخرف کا استعمال جب قول کے ساتھ ہوتا ہے، تو جھوٹ، فریب وغیرہ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، ارشاد ہے زُخْرُفَ القَوْلِ غُرُوْرًا ملمع کی ہوئی فریب کی باتیں۔ (لغات القرآن ملخصاً )
قولہ : والکتابِ المبین واو قسمیہ جارہ ہے، الکتابُ المبینُ موصوف باصفت مجرور ہے، جار یا مجرور متعلق اقسِمُ فعل محذوف کے، فعل اپنے فاعل و متعلق سے مل کر قسم اور اِنَّا جَعَلْنَاہُ جواب قسم۔
قولہ : اَوْ جَدْنَا الکِتَابَ مفسر علام نے جَعَلْنَاہ کی تفسیر اَوْ جَدْنَا الکتابَ سے کر کے ایک اعتراض کا جواب دیا ہے۔
اعتراض : جَعَلَ قرآن کے مجعول ہونے پر دلالت کرتا ہے اور مجعول مخلوق ہوتا ہے، لہٰذا اس سے قرآن کا مخلوق ہونا لازم آتا ہے، جو کہ عقیدہ اور نظریہ ہے معتزلہ کا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَجَعَلَ الظلمات والنورَ اللہ تعالیٰ نے نورو ظلمت کو پیدا فرمایا، حالانکہ یہ اہل سنت والجماعت کے عقیدہ کے خلاف ہے، اہل سنت والجماعت کے نزدیک کلام نفسی صفت خداوندی ہونے کی وجہ سے غیر مخلوق وقدیم ہے۔
جواب : جواب کا ماحصل یہ ہے کہ جَعَلَ خلق کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ قرآن کریم میں بھی دیگر معانی کے لئے استعمال ہوا ہے، مثلاً بَعَثَ کے معنی میں استعمال ہوا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول وَجَعَلْنَا مَعَہٗ اَخاہُ ھارونَ وزیرًا اور جَعَلَ بمعنی قَالَ بھی مستعمل ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول وَجَعَلُوا لَہٗ مِن عبَادِہٖ جُزْءًا یعنی مشرکوں نے اس کے بندوں میں سے بعض کو اس کا جزء کہا، یا جز ہونے کا عقیدہ رکھا، اور جَعَل بمعنی صَیَّرَ بھی مستعمل ہے، کقولہٖ تعالیٰ وَجَعَلْنَا عَلیٰ قُلوبِھِمْ اَکِنَّۃ ً ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دئیے، جَعَلْنَاہُ کی تفسیر صَیَّرْنَاہ کے بجائے اَوْ جَدْنَاہ سے کر کے اشارہ کردیا کہ جَعَلَ متعدی بیک مفعول ہے، اور وہ جعلناہ کی مفعولی ضمیر ہے، جس کا مرجع کتاب ہے، اور کتاباً عربیاً موصوف صفت سے مل کر جَعَلْنَاہ کی مفعولی ضمیر سے حال ہے، بعض مفسرین نے جَعَلَ کو صَیَّرَ کے معنی میں لے کر ہٗ ضمیر کو مفعول بہ اول اور قرآناً عربیاً کو موصوف صفت سے مل کر مفعول بہ ثانی قرار دیا ہے۔
البتہ زمخشری نے جَعَلَ بمعنی خَلَقَ جائز قرار دیا ہے، اور یہ قرآن کے مخلوق ہونے کے معتزلہ کے عقیدہ کے مطابق ہے۔ (اعراب القرآن) مسئلہ کی مزید وضاحت انشاء اللہ تفسیر و توضیح کے زیر عنوان تحریر کی جائے گی۔
قولہ : وَاِنَّہٗ فی اُمّ الکتابِ اس کا عطف جواب قسم پر ہے، اس طرح یہ دوسرا جواب قسم ہے، علامہ محلی نے مُثْبتٌ محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ فی اُمِّ الکتاب جار مجرور سے مل کر اِنّ کی خبر ہے، اور لَدَیْنَا فی ام الکتاب سے بدل ہے اور معنی میں عندنا کے ہے، اور لَعَلِیٌّ حکِیمٌ اِنّ کی خبر ثانی ہے، اور اُمُّ الکتاب بمعنی اصل کتاب، یعنی لوح محفوظ ہے۔
قولہ : اَفَنَضْرِبُ ہمزہ محذوف پر داخل ہے اور فاء عاطفہ ہے، تقدیر عبارت یہ ہے اَنُھْلِکُمْ فَنَضْرِبُ الخ استفہام انکاری ہے، جس کی طرف مفسر علام نے کلام کے آخر میں، لا محذوف مان کر اشارہ کردیا ہے یعنی قرآن سے تمہارے اعراض کرنے کی وجہ سے قرآن کے نزول کے سلسلہ کو موقوف نہیں کریں گے، بلکہ نزول کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے قرآن کا نزول مکمل کریں گے، تاکہ تمہارے اوپر حجت تام ہوجائے۔
قولہ : نُمْسِکُ مفسر علام نے نضرب کی تفسیر یُمسِکَ سے کر کے اشارہ کردیا کہ صَفْحاً ، نَضْربُ کا مفعول مطلق ہے۔ اور صفْحاً ، اِمْسَاکاً کے معنی میں ہیں ای یُمْسِکُ اِمْسَاکاً ۔
قولہ : اِنْ کُنْتُمْ قوماً مسرفین نافع (رح) تعالیٰ نے اِنْ کو شرطیہ قرار دے کر ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔
سوال : اِنْ شرطیہ غیر محقق پر داخل ہوتا ہے، حالانکہ مشرکین کا شرک محقق تھا، تو یہاں اِنْ شرطیہ کیسے درست ہوگا ؟
جواب : اِنْ شرطیہ کبھی امر محقق پر بھی داخل ہوجاتا ہے، مخاطب کو یہ تاثر دینے کے لئے کہ متکلم کو وقوع شرط کا یقین نہیں ہے بلکہ وہ وقوع شرط کے بارے میں تردد اور شک میں ہے، یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ اس قسم کے فعل کا صدور صاحب عقل وفہم سے مستبعد ہے۔
اور باقی قراء نے أن کُنْتُمْ ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، اور لام تعلیلیہ کو مقدر مانا ہے، تقدیر عبارت یہ ہے اَیْ لِأنْ کُنْتُمْ قوماً مسرفین یعنی کیا ہم اس وجہ سے کہ تم سے حد سے تجاوز کرنے والی قوم ہو قرآن کے نزول کو روک لیں گے، یعنی ہم ایسا نہیں کریں گے۔
قولہ : کَمْ اَرْسَلْنَا، کَمْ خبریہ اَرْسَلنا کا مفعول مقدم ہے۔
قولہ : اَتاھُمْ یاتِیْھِمْ کی تفسیر اتٰاھم سے کر کے اشارہ کردیا کہ مضارع بمعنی ماضی ہے، صورت عجیبہ کے استحضار پر دلالت کرنے کے لئے ماضی کو مضارع سے تعبیر کردیا ہے۔
قولہ : اَشَدَّ مِنْھُمْ یہ موصوف محذوف کی صفت ہے اور موصوف اَھْلکنا کا مفعول ہے اور بطئًا تمیز ہے، تقدیر عبارت یہ ہے اھلنا قوماً اَشَدَّ مِنْ قومِکَ من جھۃِ البطشِ ۔
قولہ : ولَئِنْ سَاَلْتَھُمْ میں واو عافہ اور قسمیہ ہے اور اِنْ شرطیہ ہے لَیَقُولُنَّ جواب قسم ہے اور جواب شرط محذوف ہے، جواب قسم جواب شرط پر دلالت کررہا ہے، قسم اور شرط جب جمع ہوجائیں تو اول کا جواب مذکور ہوتا ہے، اسی معروف قاعدہ کی بناء پر یہاں جواب قسم مذکور اور جواب شرط محذوف ہے، جواب شرط کے محذوف ہونے کا دوسرا قرینہ یہاں یہ بھی ہے کہ مفسر علام نے لَیَقُولُنَّ میں نون رفع کے حذف کی علت اجتماع نونات کو قرار دیا ہے، اگر لیَقُولُنَّ جواب شرط ہوتا تو مفسر علام حذفتِ النون للجازم فرماتے۔
قولہ : زاد تعالیٰ اَلَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْا َرْضَ (الآیۃ) مفسر علام کے زاد تعالیٰ کے اضافہ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ مشرکین کا کلام العزیز العلیم پر ختم ہوگیا، اَلَّذِیْ جَعَلَ لکُمْ سے باری تعالیٰ کا کلام شروع ہوا ہے، اس لئے کہ اگر یہ کلام بھی مشرکوں کا ہوتا تو وہ جَعَلَ لَنَا الْا َرْضَ مَھْدًا الخ کہتے۔
قولہ : اَلاصناف اس لفظ کے اضافہ کا مقصد اَلْا زْواج کے معنی کی تعیین ہے، اس لئے کہ ازواج یہاں اپنے مشہور معنی (جوڑا) میں مستعمل نہیں ہے بلکہ مطلقا اقسام و انواع کے معنی میں ہے۔
قولہ : فَاَنْشَرْنَا اس میں التفات عن الغیبت الی التکلم ہے۔
قولہ : حُذِفَ العائد الخ مَا تَرْکَبُوْنَ ، ما موصول ترکبون جملہ ہو کر صلہ، قاعدہ یہ ہے کہ جب صلہ جملہ ہو تو اس میں ایک ضمیر ضروری ہوتی ہے، جو موصول کی طرف راجع ہوتی ہے، یہاں اس کو اختصار ًا حذف کردیا گیا ہے ماترکبون کا تعلق چونکہ فُلک اور انعام دونوں سے ہے، اس لئے کہ جب مَا تَرْکَبُوْنَ کا تعلق اَلفُکلک سے ہوگا تو عائد فِیْہ محذوف ہوگا، اس لئے رکبت فی الفلک بولتے ہیں نہ کہ رکبت الفُلک بولتے ہیں نہ کہ رکبت الفُلْکَ اور جب اس کا تعلق انعام سے ہوگا تو عائد منصوب ہوگا، اس لئے رکبتُ الابل مستعمل ہے نہ کہ رکبت علی الابل۔
قولہ : ذُکِّرَ الضمیر مفسر علام ظھورہٖ کے بارے میں بتانا چاہتے ہیں، کہ طٰھورہٖ میں ہٖ ضمیر مذکر اور ظہور جمع لائے ہیں، ظھورٌ ظھرٌ کی جمع ہے بمعنی پشت، انعام کی پشت مراد ہے، اور ہٖ ضمیر سے بھی انعام ہی مراد ہیں، دونوں میں مطابقت نہیں ہے جبکہ مراد دونوں سے ایک ہی ہے، اس کا جواب مفسر علام نے یہ دیا ہے کہ یہ فرق لفظ ما کے اور معنی کے فرق کی وجہ سے ہے، لفظ مَا جو کہ لفظاً مفرد ہے، ضمیر کو مفرد مذکر لایا گیا اور معناً چونکہ جمع ہے اس لئے ظہور کو جمع لایا گیا۔
تنبیہ : مفسر علام اگر ذُکِّرَ الضمیر کے بجائے اُفْرِدَ الضمیر فرماتے تو زیادہ بہتر ہوتا، اس لئے کہ جمع کے مقابلہ میں مفرد آتا ہے نہ کہ مذکر، اگر دونوں میں ما کے معنی کی رعایت ہوتی تو علیٰ ظھورھا ہوتا، اور اگر دونوں جگہ لفظ کی رعایت ہوتی تو ظھرہٖ ہوتا۔
قولہ : مُقْرِنِینَ ای مُطِیْقِیْنَ ماخوذ مِنْ اَقْرَنَ السّیء اذا اَطَا قَہٗ ۔
تفسیر وتشریح
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم حٰمٓ والکتاب المبین انا جعلنٰہُ قرآناً عربِیاً ۔ حٰمٓ حروف مقطعات میں سے ہے، واجب الاعتقاد مابہ المراد، اور سکوت عن التاویل ہے، یہی طریقہ احوط اور افضل ہے، ام الکتاب سے اصل کتاب جو کہ لوح محفوظ ہے مراد ہے، یعنی کتاب ظاہر البیان ہے کہ ہم نے اس کو عربی کا قرآن بنایا تاکہ تم آسانی سے سمجھ لو، بیشک وہ لوح محفوظ میں ہمارے پاس ہے، مراتب و مقاصد ومعانی میں اعلی ہے، حکمتوں سے پُر ہے، وہ بنفسہٖ بھی افضل ہے اور دیگر آسمانی کتابوں پر بھی اس کی فضیلت مسلم ہے۔
قرآن مخلوق ہے یا غیر مخلوق : اہل سنت والجماعت کے نزدیک قرآن قدیم غیر مخلوق ہے، معتزلہ حادث مخلوق مانتے ہیں، اور جعلناہ قرآناً عربیاً سے قرآن کے مخلوق ہونے پر استدلال کرتے ہیں۔
بحث : اب جبکہ قرآن کے مخلوق وغیر مخلوق ہونے کا ذکر آہی گیا تو مسئلہ کی تنقیح و توضیح نیز معتزلہ کی تاریخ کا قدرے تفصیلی ذکر فائدے سے خالی نہ ہوگا، معتزلہ نے انا جَعَلْنَاہ قرآناً عربیاً سے قرآن کو مجعول و مخلوق ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا لفظ جعلنا قرآن کے مجعول ہونے پر دلالت کرتا ہے، اور مجعول مخلوق ہوتا ہے اور ہر مخلوق حادث ہوتا ہے، لہٰذا ثابت ہوگیا کہ قرآن مخلوق وحادث ہے۔
جواب : جَعَلَ کو خَلَقَ کے ساتھ خاص کرنا اور اس کے دوسرے معانی سے صرف نظر کرنا زبردستی اور دھاندلی کی بات ہے جبکہ خود قرآن میں دیگر متعدد معانی، مثلاً بَعَثَ ، قَال، صَیَّرَ کے معنی میں استعمال ہوا ہے، جس کی تفصیل مع امثلہ تحقیق و ترکیب کے زیر عنوان گذر چکی ہے۔
قرآن کے مخلوق ہونے پر معتزلہ کا طریق استدلال : (1) لفظ جَعَلَ سے استدلال کرتے ہیں کہ قرآن مجعول ہے اور جو مجعول ہوتا ہے وہ مخلوق و مصنوع ہوتا ہے۔
(2) کتاب کی صفت قرآن لائی گئی ہے، جس کے معنی ہیں بعض کا بعض کے ساتھ مقرون ومتصل ہونا یہ بھی مخلوق ومصنوع کی صفت ہے۔
(3) قرآن کو عربیاً کی صفت کے ساتھ متصف کیا ہے، اور عربی کو عربی اس لئے کہتے ہیں کہ عرب نے اپنی اصطلاح میں الفاظ کی وضع کے ساتھ خاص کیا ہے، یہ بھی قرآن کے مخلوق ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ (جمل)
دراصل بات یہ ہے کہ قرآن کی دو نسبتیں ہیں، اول معنوی اور دوسری تعبیری، جس کو متکلمین کی اصطلاح میں کلام نفسی اور کلام لفظی سے تعبیر کرتے ہیں، نسبت معنوی یا کلام نفسی یہ باری تعالیٰ کی صفت قدیم غیر حادث ہے، عوارض و حوادث سے پاک، صوت، حروف، لغت وغیرہ سے منزہ ہے، البتہ تعبیری نسبت جس کو کلام لفظی بھی کہتے ہیں، یعنی وہ نسبت و تعبیر جو ہمارے سمجھانے اور ادراک کے لئے ہے، اس میں صوت، حروف و کلمات ونقوش سب شامل ہیں، یہ ہداہۃً حادث ہیں، آیت مذکورہ میں اسی کلام نفسی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
امام رازی (رح) تعالیٰ کی طرف سے معتزلہ کو جواب : خلق قرآن کے قائلین نے قرآن کے مخلوق ہونے پر جو مذکورہ آیت سے تین طریقہ سے استدلال کیا ہے یہ استدلال کلام لفظی پر صادق آتا ہے نہ کہ کلام نفسی پر اور کلام لفظی کے مخلوق وحادث ہونے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے، اختلاف کلام نفسی کے بارے میں ہے، جو کہ باری تعالیٰ کی صفت قدیم ہے۔
صاحب روح المعانی علامہ آلوسی کی تحقیق : علامہ فرماتے ہیں اِنّا جعلناہُ جواب قسم ہے اور جَعَلَ بمعنی صَیَّرَ متعدی بدو مفعول ہے نہ کہ بمعنی خَلَقَ متعدی بیک مفعول آگے چل کر علامہ فرماتے ہیں کہ میں یہ اس لئے نہیں کہہ رہا ہوں کہ یہ تعظیم قرآن کے خلاف ہے بلکہ بات یہ ہے کہ ذوق مقام اس کا اباء کرتا ہے اس لئے کہ اِنَّا جَعَلْنَاہ کو اِنّ کے ذریعہ تاکید کے ساتھ لایا گیا ہے، حالانکہ ما قبل میں کہیں خلق قرآن کا ذکر نہیں ہے اور نہ ماسبق میں منکرین خلق قرآن کا ذکر ہے کہ ان کی تردید کے لئے کلام کو مؤکد لایا گیا ہو، بلکہ مذکورہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کو واضح اور فصیح عربی میں نازل کیا گیا ہے، جو کہ عرب کے اسلوب اور طرز پر وارد ہوا ہے تاکہ عرب کے لئے اس کا سمجھنا دشوار نہ ہو اور آسانی سے قرآن کے معجزہ ہونے کا ادراک کرسکیں، اسی مفہوم کی تائید اللہ تعالیٰ کے قول لعلکم تعلقون سے ہوتی ہے، گویا کہ لعلکم تعقلون قرآن کو عربی میں نازل کرنے کی علت ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ اور خلق قرآن : ابن مردویہ نے طاؤس سے روایت کیا ہے، حضرت موت سے ایک شخص حضرت ابن عباس ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا، عرض کیا، اے ابن عباس ؓ ! آپ مجھے بتائیں کہ قرآن اللہ کے کلام میں سے ایک کلام ہے یا مخلوق خدا میں سے ایک مخلوق ہے، آپ ؓ نے فرمایا : کلام من کلام اللہ تعالیٰ ، اور کیا تو نے نہیں سنا اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا وَاِنْ أحَدٌ مِنَ المُشرِکِیْنَ استجارکَ فَاَجِرْہ حتی یَسْمَع کلامَ اللہ حضرموتی شخص نے کہا : کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کے قول انا جَعلناہُ قرآناً عربیاً میں غور نہیں کیا ؟ حضرت ابن عباس ؓ نے جواب دیا کَتَبَہُ اللہ تعالیٰ فی اللوح المحفوظ بالعربیۃ یعنی جَعلناَ کا مطلب ہے لوح محفوظ میں عربی میں لکھنا۔ (روح المعانی)
معتزلہ کی تاریخ ولادت کا پس منظر : قرقہ معتزلہ کا بانی واصل بن عطاء ہے، جس کی پیدائش 80 ھ اور وفات 131 ھ میں ہے، جلیل القدر مشہور تابعی حضرت حسن بصری (رح) تعالیٰ کے شاگردوں میں سے ہے، جن کی پیدائش 21 ھ اور وفات 110 ھ میں ہے۔
معتزلہ کی وجہ تسمیہ : حسن بصری (رح) تعالیٰ کی مجلس میں ایک شخص نے سوال کیا کہ ہمارے زمانہ میں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مرتکب کبیرہ مومن نہیں، اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ایمان کے ہوتے ہوئے کسی بھی گناہ سے کچھ نہیں بگڑتا، اب آپ بتائیے کہ ہم کس کی بات کو حق سمجھیں تو حسن بصری (رح) تعالیٰ سوچنے لگے، اتنے میں واصل بن عطا جو حسن بصری کے درس میں شریک ہوا کرتا تھا، بول پڑا کہ مرتکب کبیرہ نہ مومن ہے اور نہ کافر، اس طرح گویا کہ اس نے ایمان وکفر کے درمیان واسطہ ثابت کیا ہے، جس پر حسن بصری (رح) تعالیٰ نے فرمایا اعتزلَ عناّ یہ ہماری جماعت سے خارج ہوگیا، اسی روز سے واصل بن عطا اور اس کے متبعین کی جماعت کو معتزلہ کہا جانے لگا، اگرچہ یہ لوگ اپنی جماعت کو اصحاب العدل والتوحید کہتے ہیں۔ (بیان الفوائد ملخصاً ) عباسی خلیفہ ہارون رشید کے زمانہ میں خلق قرآن کے مسئلہ نے شدت اختیار نہیں کی تھی نہ کوئی خاص قسم کا نزاع تھا، البتہ جب 137 ھ میں مامون تخت خلافت پر متمکن ہوا تو اس مسئلہ میں شدت آگئی، اس لئے کہ مامون نہ صرف یہ کہ خود خلق قرآن کا قائل تھا بلکہ اعتزال اور فرقہ معتزلہ کا زبردست حامی بھی تھا، اس طرح معتزلہ کو حکومت وقت کی سرپرستی حاصل ہوگئی، مامون نے محدثین کو جو معتزلہ کے مخالف تھے خلق قرآن کے مسئلہ میں طاقت کے بل بوتے پر معتزلہ کا ہم نوا بنانے کی ٹھان لی، اور بعض محدثین کو خلق قرآن کا قائل نہ ہونے کی وجہ سے قتل کرا دیا، مامون کے بعد معتصم باللہ اور واثق باللہ نے بھی مامون کی وصیت کے مطابق اعتزال کا مسلک اختیار کیا، اور محدثین بالخصوص امام احمد بن حنبل (رح) تعالیٰ کو قرآن کو مخلوق نہ ماننے کی وجہ سے ظلم وستم کا نشانہ بنایا گیا، ایک روز معتصم نے امام احمد بن حنبل کو اپنے دربار میں بلایا اور ایک مجلس مناظرہ منعقد کی، جس میں عبد الرحمٰن بن اسحٰق، قاضی احمد بن داؤد وغیرہ تھے، تین روز تک ان حضرات کا مناظرہ ہوتا رہا، چوتھے روز بھی جب کوئی فیصلہ نہ ہوسکا تو معتصم باللہ نے امام بن حنبل کو کوڑے مارنے کا حکم دیا، مگر امام احمد بن حنبل اپنی رائے سے ٹس سے مس نہ ہوئے، حتی کہ آپ کو ڑوں کی ضرب سے بےہوش ہوگئے، اس کے بعد بھی امام صاحب کو تلوار کی نوک سے کچوکے دئیے گئے، اور ایک ٹاٹ میں لپیٹ کر آپ کو پیروں سے روندا گیا، اڑتیس کوڑوں کو ضرب لگانے کے بعد آپ کو ان کے گھر لائے، امام صاحب کو اٹھائیس ماہ جیل میں رکھا گیا۔ (اعراب القرآن) متوکل چونکہ اعتزال سے متنفر اور امام احمد بن حنبل کا معتقد تھا اس نے معتزلہ کا اثرورسوخ ختم کر کے حکومت سے بےدخل کردیا، جس سے ان کا زور ٹوٹ گیا۔
وَاِنَّہٗ فی ام الکتاب لَدَینَا لعلیٌّ حکیم اس آیت میں قرآن کریم کی اس عظمت وشرف کا بیان ہے جو ملاء اعلیٰ میں اسے حاصل ہے، تاکہ اہل زمین بھی اس کے شرف و عظمت کو ملحوظ رکھتے ہوئے، اس کو قرار واقعی اہمیت دیں اور سے ہدایت کا وہ مقصد حاصل کریں جس کے لئے اسے دنیا میں اتارا گیا ہے۔
اَفَنَضْرِبُ عَنْکُمُ الذِّکْرَ الخ اس آیت کے مختلف معنی کئے گئے ہیں مثلاً تم چونکہ گناہوں میں بہت منہمک اور ان پر مصر ہو اس لئے کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ ہم تمہیں وعظ و نصیحت کرنا چھوڑ دیں گے ؟ یا تمہارے کفر اور اسراف پر ہم تمہیں کچھ نہ کہیں گے اور تم سے درگذر کریں گے۔
وجَعَلوا لہ من عبادہ جُذءًا ولد کو جزء سے تعبیر کر کے مشرکین کے اس دعوائے باطل کی تردید کی طرف اشارہ کردیا، کہ اللہ کے اگر کوئی اولاد ہو تو وہ اس کی جزء ہوگی، اس لئے کہ بیٹا باپ کا جزء ہوتا ہے، اور یہ عقلی قاعدہ ہے کہ ہر کل وجود میں اپنے جزء کا محتاج ہوتا ہے تو اس سے لازم آئے گا کہ اللہ تعالیٰ بھی اپنی اولاد کا محتاج ہے، اور یہ شان خداوندی کے خلاف ہے۔
Ayahs 43:16–25آیت نمبر 16 تا 25
ترجمہ : کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں تو خود رکھ لیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا (یہ بات) تمہارے سابق قول سے لازم آرہی ہے، (اَمْ ) میں ہمزہ انکار کے لئے ہے، اور قول مقدر ہے ای اتَقُولُوْنَ ، وَاَصْفَاکُمْ بِالبَنِیْنَ کا عطف اِتَّخَذَ پر ہونے کی وجہ سے منجملہ منکر (و مذموم) ہے (حالانکہ) ان میں سے کسی کو جب اس چیز (بیٹی) کی خبر دی جائے جس کی تشبیہ اس نے (اللہ) رحمٰن کے لئے بیان کی ہے بیٹیوں کی اس کی طرف نسبت کر کے اس کا شبیہ قرار دیا، اس لئے کہ ولد والد کے مشابہ ہوتا ہے، معنی یہ کہ جب اس کے (گھر) پیدا ہونے والی بیٹی کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ غمزدہ کے مانند متغیر ہو کر سیاہ ہوجاتا ہے، حال یہ کہ وہ غم سے بھرا ہوا ہوتا ہے تو پھر وہ بیٹیوں کی نسبت اللہ کی طرف کیوں کرتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ تو اس سے برتر ہے (اَوَ ) میں ہمزہ انکار کے لئے اور واو (عاطفہ) عطف جملہ کے لئے ہے یعنی کیا یہ لوگ ان کو کہ جن کی پرورش زیورات زینت میں ہو اور جھگڑے کے وقت اپنی بات واضح نہ کرسکیں، اللہ کے لئے ثابت کرتے ہیں یعنی بوجہ عورت ذات ہونے کے حجت میں کمزور ہونے کی وجہ سے (اپنے مدعا کو) ظاہر نہیں کرسکتی، اور انہوں نے فرشتوں کو جو رحمان کے بندے ہیں عورتیں قرار دے لیا کیا ان کی پیدائش کے موقع پر یہ موجود تھے ؟ ان کی یہ گواہی کہ وہ عورتیں ہیں لکھ لی جائے گی اور اس بارے میں ان سے آخرت میں باز پرس ہوگی اور اس شہادت پر سزا مرتب ہوگی اور کہتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم ان کی یعنی ملائکہ کی عبادت نہ کرتے سو ہمارا فرشتوں کی بندگی کرنا اس کی مشیئت سے ہے اور وہ اس سے راضی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس کی یعنی ان کی عبادت سے (اللہ کی) رضا مندی کے بارے میں مقولہ کی کچھ خبر نہیں یہ تو محض اٹکل سے باتیں کرتے ہیں (یعنی) دروغ گوئی کرتے ہیں، اس دروغ گوئی کی وجہ سے ان کی سزا مرتب کی جائے گی کیا ہم نے انہیں اس سے یعنی قرآن سے پہلے کوئی (اور) کتاب دی جو غیر اللہ کی عبادت کے (جواز) کے بارے میں ہو جس کو وہ مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں یعنی ایسا نہیں ہوا بلکہ یہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک مذہب پر پایا اور ہم تو بلاشبہ ان کے نقش قدم پر چل رہے، ان ہی کی بدولت ہدایت یافتہ ہیں حالانکہ وہ غیر اللہ کی بندگی کرتے تھے، اسی طرح آپ سے پہلے بھی ہم نے جس بستی میں کوئی ڈرانے والا بھیجا وہاں کے آسودہ حال لوگوں نے آپ کی قوم کے مانند جواب دیا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم تو ان ہی کے نقش قدم کی پیروی کرنے والے ہیں (اے نبی آپ) ان سے دریافت کیجئے کیا تم اپنی قوم کی اس بات کی پیروی کرو گے اگرچہ میں تمہارے پاس اس سے بہت بہتر طریقہ لے کر آیا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم اس کے منکر ہیں جسے تم کو اور تم سے پہلے والوں کو دے کر بھیجا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو ڈرانے کے لئے کہا ہم نے ان سے یعنی آپ سے پہلے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں سے انتقام لیا، دیکھ لے جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا ؟
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : اَللاّزمُ مِن قولِکُمْ السّابِق قول سابق سے مراد مشرکین مکہ کا قول الملائکۃ بنات اللہ ہے یعنی ملائکہ کو جب اللہ کی بیٹیاں قرار دے دیا تو اس سے یہ بات خود بخود لازم آگئی کہ بیٹے ان قائلین کے لئے مخصوص ہیں، لہٰذا مشرکین مکہ کا قول وَاَصفاکم بالبنین کا بھی جو کہ ان کے قول سابق کے لئے لازم ہے، منکرومذموم ہونا ثابت ہوگیا۔
قولہ : بما ضَرَبَ ، ما موصولہ سے بنات مراد ہیں، اور ضَرَبَ بمعنی جَعَلَ ہے جیسا کہ شارح نے جَعَلَ مقدر مان کر اشارہ کردیا ہے جَعَل کا مفعول اول ہٗ ضمیر محذوف ہے جو کہ موصول کا عائد بھی ہے ای ضَرَبَہٗ اور مثلاً مفعول ثانی ہے، معنی میں شبھاً کے ہے، تقدیر عبارت یہ ہے ای جَعَلَ البنات لہٗ شِبْھاً یعنی بنات کی اللہ کی طرف نسبت کر کے بنات کو اللہ کے مشابہ قرار دے دیا، اس لئے کہ اولاد والد کے مشابہ ہوا کرتی ہے۔
قولہ : اَوَ میں ہمزہ انکار کے لئے ہے اور واؤ عطف جملہ علی الجملہ کے لئے ہے بجملۃ میں با بمعنی لام ہے بجملہ عطف سے متعلق ہے اور معطوف محذوف ہے اور وہ یَجْعَلُوْنَ ہے اور معطوف علیہ بھی محذوف ہے اور وہ یَجْتَزِؤُنَ ہے، تقدیر عبارت یہ ہے أیَجْتَرِؤُن ویَجْعَلُوْنَ لِلّٰہِ مَنْ یُنْشَّاُ فِی الحِلیَۃِ ۔
قولہ : یُنَشَّؤُا واحد مذکر غائب فعل مضارع مجہول، مصدر تَنْشِئَۃ پرورش پانا (تفعیل) وہ پرورش پاتا ہے، یہ ترجمہ مَنْ کے لفظ کا اعتبار کرنے کی صورت میں ہے اور معنی کے اعتبار کی صورت میں وہ پرورش پاتی ہیں ترجمہ ہوگا۔
قولہ : غَیْرُ مُبین، مُظْھِرُ الحجۃ، مُبین کی تفسیر مُظْھِرٌ سے کر کے اشارہ کردیا کہ مبین یہاں اَبَان متعدی سے ہے۔
قولہ : وَجَعلُوا الملائِکَۃَ یہاں جَعَل بمعنی قال اور حَکَمَ ہے، کہا جاتا ہے جَعَلْتُ زیدًا اَعْلَمَ الناس زید کے بارے میں میں نے اَعْلَم الناس ہونے کا حکم لگایا۔
قولہ : لَو شاء الرّحمٰنُ ، شاءَ کا مفعول محذوف ہے ای لَو شاء الرحمٰن عدم عبادَۃِ الملائکۃ مَا عَبَدْناھُمْ ۔
قولہ : اِنّا ما شُونَ علیٰ آثارھم، ما شون مقدر مان کر اشارہ کردیا کہ علیٰ آثارھم، ما شُونَ محذوف کے متعلق ہو کر اِنّا کی خبر ہے۔
قولہ : کذٰلک ای الأمر کما ذُکِرَ یعنی عورتیں عام طور پر حجت میں عاجز اور کمزور ہوتی ہیں مَا اَرْسَلْنَا جملہ مستانفہ ہے أتَتَّبِعُوْنَ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہمزہ فعل محذوف پر داخل ہے اور واؤ حالیہ ہے ای أتقتدون باآبائِکم ولَو جئتُکُمْ باَھدیٰ الخ ای بدین الأھدیٰ وَاَصْوَب مِمّا وَجَدْتُمْ الخ اسم تفصیل کا استعمال اِرْخاء عنان اور مخاطب کی بات بڑی کرنے کے طور پر ہے ورنہ ان کے دین اور طریقہ میں سرے سے ہدایت ہی نہیں ہے۔
تفسیر وتشریح
اَمِ اتَّخَذَوْا مِمَّایَخْلُقُ اس آیت میں مشرکین کی جہالت اور سفاہت کا بیان ہے کہ انہوں نے اللہ کے لئے اولاد ٹھہرائی اور وہ بھی وہ کہ جس کو وہ خود اپنے لئے ناپسند کرتے ہیں یعنی لڑکیاں۔
اَوَ مَنْ یُّنَشّؤ ُ ا فِی الحِلْیَۃِ ینشَّؤ ُ ا نَشْوٌ سے ہے بمعنی تربیت ونشوونما، یہاں عورتوں کی دو صفات کا تذکرہ بطور خاص کیا ہے، اول یہ کہ ان کی نشوونما، زیب وزینت وزیورات میں ہوتی ہے یعنی شعور بیدار ہوتے ہی ان کی توجہ حسن افزا اور جمال افروز چیزوں کی طرف ہوتی ہے، مطلب یہ کہ جن کی حالت یہ ہے کہ وہ تو اپنے ذاتی معاملات کے درست کرنے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتیں، دوسرے اگر کسی سے بحث و تکرار ہوجائے تو وہ اپنی بات بھی صحیح طریقہ سے (فطری حجاب کی وجہ سے) واضح نہیں کرسکتیں، نہ فریق مخالف کے دلائل کا توڑ کرسکتی ہیں، عورت کی یہ وہ دو فطری کمزوریاں ہیں جن کی بناء پر مرد عورت پر ایک گونہ فضیلت رکھتے ہیں۔
وَقَالُوْا لوْ شَاءَ الرحمٰن ما عَبَدْنٰھُمْ الخ مشرکین مکہ کی ایک بڑی دلیل بتوں کی بندگی پر یہ تھی کہ خدا کی مشیت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوسکتا اگر خدا کی مشیت نہ ہوتی ہم بت پرستی نہ کرتے، یہ بات صحیح ہے کہ مشیت ایزدی کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا مگر مشرکین “ مشیت ” اور “ رضا ” کے فرق سے ناواقف ہیں، اس لئے وہ مشیت سے رضاء پر استدلال کرتے ہیں جو سراسر غلط ہے، ہر کام یقیناً اس کی مشیت ہی سے ہوتا ہے، لیکن راضی وہ انہی کاموں سے ہوتا ہے جن کا اس نے حکم دیا ہے، ظلم و زیادتی، چوری وبدکاری، انسان اللہ کی مشیت اور اس کے ارادہ ہی سے کرتا ہے، اگر خدا چاہے تو انسان کو ان کاموں پر قدرت ہی نہ دے، لیکن یہ جبر کی صورت ہوگی، اس نے انسان کو ارادہ اور اختیار کی آزادی دی ہے تاکہ اسے آزمایا جائے، اسی لئے اس نے دونوں قسموں کے کاموں کی وضاحت کردی، جن سے وہ راضی ہوتا ہے ان کی بھی اور جن سے وہ ناراض ہوتا ہے ان کی بھی، انسان دونوں قسموں کے کاموں میں جس کام کو کرے گا اللہ اس کا ہاتھ نہیں پکڑے گا، ورنہ تو یہ عطا کردہ اختیار سلب کرنے کے مترادف ہوگا، البتہ اس کی سزا اگر چاہے گا تو آخرت میں ضرور دے گا۔
اَمْ اٰتَیْنَاھُمْ کِتَابًا اور یہ بات بھی نہیں ہے کہ قرآن کریم سے پہلے ہم نے ان کو کوئی کتاب دی ہو جس میں ان کو بتوں کی بندگی کی اجازت دی گئی ہو، جس کی وجہ سے یہ بتوں کی بندگی کرتے ہوں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تقلید آباء کے علاوہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، یعنی وہ اپنے آباء کی اندھی تقلید میں اس قدر پختہ تھے کہ پیغمبر کی وضاحت و صراحت بھی انہیں اس سے نہیں روک سکی۔
Ayahs 43:26–35آیت نمبر 26 تا 35
ترجمہ : اور اس وقت کا تذکرہ کرو کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو بجز اس ذات کے کہ جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے اپنے دین کی ہدایت بھی دے گا اور اس کو یعنی کلمہ توحید کو جو کہ اس کے قول اِنَّنِی تا سَیَھْدِیْنِ سے مفہوم ہے، اپنی اولاد میں باقی رہنے والی بات کر گئے چناچہ ہمیشہ ان میں توحید پرست رہیں گے تاکہ اہل مکہ اپنے موجودہ دین کو چھوڑ کر اپنا ابّا، ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کی طرف آجائیں بلکہ میں نے ان مشرکوں کو اور ان کے آباء کو سامان راحت دیا، اور ان کی سزا میں جلدی نہیں کی، یہاں تک کہ ان کے پاس حق یعنی قرآن اور احکام شرعیہ کو ظاہر کرنے والا رسول اور وہ محمد ﷺ ہیں آگئے اور ان کے پاس حق قرآن پہنچتے ہی بول پڑے کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کے منکر ہیں اور کہنے لگے یہ قرآن ان دونوں بستیوں میں سے کسی بستی کے کسی بڑے شخص یعنی مکہ میں ولید بن مغیرہ اور طائف میں عروہ بن مسعود ثقفی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا ؟ کیا آپ کے رب کی رحمت نبوت کو یہ تقسیم کرتے ہیں ؟ (حالانکہ) ان کی دنیوی زندگی کی روزی (خود) ہم نے ان کے درمیان تقسیم کی، تو ہم نے ان میں سے بعض کو غنی اور بعض کو فقیر کردیا، اور ہم نے بعض کو بعض پر مالداری میں درجہ بدرجہ فوقیت دی تاکہ ان کا بعض یعنی مالدار بعض یعنی غریب سے اجرت پر کام لیتا رہے، اور سخریا میں یاء نسبتی ہے، اور ایک قراءت میں سین کے کسرہ کے ساتھ ہے، اور تیرے رب کی رحمت یعنی جنت اس سے بدر جہا بہتر ہے جسے یہ دنیا میں سمیٹے پھرتے ہیں، اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تمام لوگ ایک ہی طریقہ (یعنی) کفر پر ہوجائیں گے تو رحمٰن کے ساتھ کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتوں کو اور زینوں کو بھی جن کے ذریعہ یہ چھتوں پر چڑھا کرتے چاندی کی بنا دیتے لِبُیُوتِھِم، مَنْ سے بدل ہے اور سُقْفاً سین کے فتحہ اور قاف کے سکون اور دونوں کے ضمہ کے ساتھ ہے اور ان کے گھروں کے دروازے چاندی کے اور ان کے تخت بھی چاندی کے کردیتے سُرُرٌ سریرٌ کی جمع ہے جن پر وہ ٹیک لگایا کرتے اور سونے کے بھی مطلب یہ کہ مذکورہ چیزیں کافر کو دینے میں، مومن کے بارے میں کفر کا اندیشہ نہ ہوتا تو یہ سب کچھ ہم ان کو دے دیتے اور یہ ہمارے نزدیک دنیا کی کوئی قدر نہ ہونے کی وجہ سے اور کافر کا آخرت کی نعمتوں میں کوئی حصہ نہ ہونے کی وجہ سے ہوتا اور یہ سب کچھ دنیا کا معمولی سا فائدہ ہے جس سے دنیا میں انتفاع کیا جاسکتا ہے پھر زائل ہوجائے گا، اِنْ ثقلیہ سے مخففہ ہے اور لَمَّا تخفیف اور تشدید کے ساتھ اِلاَّ کے معنی میں ہے، لہٰذا اِنْ نافیہ ہے اور آخرت جنت تو تیرے رب کے نزدیک متقیوں ہی کے لئے ہے۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : بَرَاءٌ مصدر بیزار ہونا، نفرت کرنا، مفسر علام نے بَرِیٌ سے تفسیر کر کے اشارہ کردیا بَرَاءٌ، بَرِیٌ صیغہ صفت بروزن فعیل ہے، اظہار بیزاری کرنے والا، مصدر جب صفت واقع ہو تو واحد، تثنیہ، جمع، مذکر، مؤنث سب برابر ہوتے ہیں۔
قولہ : اِلاَّ الَّذِی فطرَنی اس میں تین صورتیں ہوسکتی ہیں (1) مستثنیٰ منقطع ای لکن الذی فطرنی یہ اس صورت میں ہوگا کہ وہ صرف بتوں ہی کی بندگی کرتے ہوں۔ (2) مستثنیٰ متصل اس صورت میں جبکہ خدا کے ساتھ بتوں کو شریک کرتے ہوں۔ (3) اِلاّ صفتی بمعنی غَیْرَ ہو، یہ زمخشری کا قول ہے۔
قولہ : جَعَلَھَا ای کلمۃ التوحید المفھوم الخ۔
سوال : ای کلمۃ التوحید الخ کے اضافہ کا مقصد کہ جَعَلَھَا کی ضمیر کا مرجع کیا ہے ؟ اگر کلمۃ ہے تو یہ ماقبل میں مذکور نہیں ہے۔
جواب : کلمۃ ما قبل میں اگرچہ صراحۃً مذکور نہیں ہے مگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قول اِنّنِیْ براءٌ مِمّا تعبدونَ سے مفہوم ہے۔
قولہ : بَل ھٰؤلاءِ المشرکین، بَلْ اضراب انتقالی ان کی عدم اتباع پر توبیخ و تقریع کے لئے ہے، ھٰؤلاء اسم اشارہ کا مشارٌ الیہ وہ مشرکین ہیں جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں موجود تھے۔
قولہ : حتّٰی جاءھم الحق یہ محذوف کی غایت ہے، تقدیر عبارت یہ ہے بَلْ مَتَّعْتُ ھٰؤلاء فَاشتغلوا بذٰلک التمتع حتّٰی جاءھم الخ۔
قولہ : مَعَارج، مَعْرَج میم کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ، کی جمع ہے، سیڑھیوں کو معارج کہنے کہ وجہ یہ ہے کہ سیڑھیوں پر لنگڑے کے مانند چڑھتے ہیں اور لنگڑے کو اعرج کہتے ہیں۔
قولہ : سُرُرًا یہ فعل محذوف کا مفعول ہے جیسا کہ مفسر (رح) تعالیٰ نے جعلنا محذوف مان کر اشارہ کردیا، اس کا عطف جَعَلْنَا لِمَنْ یکفُرُ پر ہے۔
قولہ : زُخُرُفًا یہ جَعَلْنَا فعل مقدر کی وجہ سے منصوب ہے ای جَعَلْنَا لھُمْ مع ذٰلک زُخْرُفًا یا نزع خافض کی وجہ منصوب ہے، تقدیر عبارت یہ تھی ای ابوابًا وسُرُرًًا من فضۃٍ ومن ذھبٍ ، مِن کے حذف ہونے کی وجہ سے زخرفاً منصوب ہوگیا۔
قولہ : وَاِنْ کُلُّ ذٰلک، اِنْ نافیہ ہے، اور کُلُّ ذٰلک مبتداء اور لَمَّابالتشدید بمعنی اِلاَّ اور مَتَاع الحیوٰۃ ِالدنیا اس کی خبر لمَّا کو تخفیف کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے، اس وقت اِنْ مخففہ عن الثقیلہ مہملہ ہوگا اور لام ان مخففہ اور نافیہ کے درمیان فارقہ ہوگا اور ما زائدہ ہوگا۔
قولہ : والآخرۃ واو حالیہ ہے، آخرۃ مبتداء ہے عِندَ رَبِّکَ للمتقین محذوف کے متعلق ہو کر مبتداء کی خبر ہے۔
تفسیر وتشریح
ربط : وَاِذ قَالَ اِبراھیْمُ الخ گذشہ آیات کے آخر میں باری تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا تھا کہ مشرکین عرب کے پاس اپنے شرک پر سوائے اپنے باپ دادوں کی رسوم کے کوئی عقلی یا نقلی دلیل نہیں ہے اور یہ بات بالکل ظاہر اور واضح ہے کہ عقلی اور نقلی دلائل کی موجودگی میں محض آباء و اجداد کی تقلید پر اصرار کرنا حق و انصاف سے کس قدر بعید ہے، اب ان آیات میں اس بات کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اگر اپنے آباء و اجداد ہی کے راستہ پر چلنا چاہتے ہو تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے راستہ پر کیوں نہیں چلتے جو تمہارے اشرف ترین جدا علیٰ ہیں، اور جن کے ساتھ نسبی وابستگی کو تم خود اپنے لئے سرمایہ صد افتخار سمجھتے ہو، وہ نہ صرف توحید کے قائل تھے بلکہ اپنی اولاد کو بھی اس کی وصیت کر گئے، بلکہ ان کا طرز عمل تو یہ بتاتا ہے کہ واضح عقلی اور نقلی دلائل کی موجودگی میں محض باپ دادوں کی تقلید کرنا جائز نہیں ہے، جس وقت وہ مبعوث ہوئے تو ان کی پوری قوم اپنے آباؤ اجداد کی اتباع میں شرک میں مبتلا تھی، لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے آباؤ اجداد کی اندھی تقلید کے بجائے دلائل واضحہ کا اتباع کرتے ہوئے اپنی قوم سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا اِنَّنِی بَرَاءٌ مِمَّا تعبدونَ جن چیزوں کی تم بندگی کرتے ہو میں ان سے بیزار ہوں۔ (معارف)
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اپنی قوم کی بداعمالیوں اور بد اعتقادیوں سے اظہار براءت سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اگر کوئی شخص بد عمل یا بد عقیدہ لوگوں یا جماعت کے درمیان رہتا ہو اور خاموش رہنے کی صورت میں یہ اندیشہ ہو کہ اس کو بھی اس گروہ یا جماعت کا ہم خیال سمجھا جائے گا تو محض اپنے عقیدے اور عمل ہی کا درست کرلینا ہی کافی نہیں بلکہ اس گروہ کے عقائد و اعمال مشرکین سے علیحدہ وممتاز کرلیا بلکہ زبان سے بھی اظہار براءت کا اعلان فرمایا۔
وَجَعَلَھَا کلمۃً باقیۃً یعنی اس کلمہ توحید کی وصیت اور تاکید اپنی اولاد کو بھی کر گئے، جیسے فرمایا وَوَصّٰی بِھا ابراھیمُ بنیہِ ویعقوبُ (البقرۃ) بعض مفسرین نے جَعَلَ کا فاعل اللہ کو قرار دیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کلمہ توحید کو ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد ان کی اولاد میں باقی رکھا اور وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرتے رہے۔
اس سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ اپنی ذات کے علاوہ اپنی اولاد کو دین صحیح پر کار بند اور عمل پیرا کرنے کی فکر بھی انسان کے فرائض میں شامل ہے، انبیاء (علیہم السلام) میں سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے علاوہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بارے میں بھی قرآن کریم نے بتایا ہے کہ ان حضرات نے وفات کے وقت اپنے بیٹوں کو دین صحیح پر قائم رہنے کی وصیت کی تھی، لہٰذا جس صورت سے ممکن ہو اولاد کے اعمال واخلاق کی اصلاح میں اپنی پوری کوشش صرف کردینا ضروری بھی ہے، اور انبیاء کی سنت بھی۔
وَ قَالُوا لَو لا نُزِّلَ ھٰذا القرآن علیٰ رجلٍمن القریتین عظیم ان آیات میں باری تعالیٰ نے مشرکین عرب کے ایک اعتراض کا جواب دیا ہے جو وہ آنحضرت ﷺ کی رسالت پر کیا کرتے تھے، شروع میں تو مشرکین مکہ یہ باور کرنے ہی کو تیار نہیں تھے کہ اللہ کا کوئی رسول انسان ہوسکتا ہے، چناچہ ان کا یہ اعتراج قرآن کریم نے جا بجا نقل کیا ہے کہ ہم ﷺ کو کس طرح رسول مان لیں جبکہ وہ عام انسانوں کی طرح کھاتے پیتے اور بازاروں میں چلتے پھرتے ہیں لیکن جب متعدد آیات قرآنی کے ذریعہ یہ ثابت کردیا گیا کہ دنیا میں جس قدر بھی انبیاء ورسل آئے وہ انسان ہی تھے اور محمد ﷺ کی طرح کھاتے پیتے بھی تھے، جب یہ کھانا پینا اور انسان ہونا سابقہ انبیاء کی نبوت کے لئے باعث نقص وننگ نہیں تو پھر محمد ﷺ کی نبوت کے لئے کیسے نقص یا باعث اعتراض ہوسکتا ہے، تو مشرکین عرب نے پینترا بدل کر یہ اعتراض کیا کہ اگر کسی انسان ہی کو نبوت سونپنی تھی تو حضور ﷺ تو مالی اعتبار سے کوئی بڑے صاحب حیثیت نہیں ہیں، لہٰذا یہ منصب آپ ﷺ کے بجائے مکہ اور طائف کے کسی بڑے دولت مند اور صاحب جاہ ومنصب انسان کو کیوں نہیں دیا گیا ؟ روایات میں ہے کہ اس سلسلہ میں انہوں نے مکہ مکرمہ سے ولید بن مغیرہ اور عتبہ بن ربیعہ اور طائف سے عروہ بن مسعود ثقفی، حبیب بن عمر ثقفی یا کنانہ بن عبد یا لیل کے نام پیش کئے۔ (روح المعانی)
أھُم یقسِمُوْنَ رحمتَ ربِّکَ “ رحمت ”، نعمت کے معنی میں ہے اور یہاں سب سے بڑی نعمت، نبوت مراد ہے، استفہام انکار کے لئے ہے، یعنی یہ کام ان کا نہیں ہے کہ رب کی نعمتوں بالخصوص نعمت نبوت کو یہ اپنی مرضی سے تقسیم کریں بلکہ یہ صرف رب کا کام ہے کیونکہ وہی ہر بات کا علم اور ہر شخص کے حالات سے پوری واقفیت رکھتا ہے وہی بہتر سمجھتا ہے کہ انسانوں میں سے نبوت کا تاج کس کے سر پر رکھا جائے ؟
وَرَفَعْنَا بَعْضَھُمْ فَوْقَ بعض یعنی مال و دولت، جاوہ منصب، عقل وفہم میں ہم نے یہ فرق اور تفاوت اس لئے رکھا ہے تاکہ زیادہ مال والا کم مال والے سے، بڑے منصب والا چھوٹے منصب والے سے اور عقل وفہم سے وافر حصہ پانے والا اپنے سے کم تر عقل و شعور رکھنے والے سے کام لے سکے، اللہ تعالیٰ کی اس حکمت بالغہ سے کائنات کا نظام بحسن و خوبی چل رہا ہے، ورنہ اگر سب لوگ ہر چیز میں برابر و یکساں ہوتے تو کوئی کسی کا کام کرنے کے لئے تیار نہ ہوتا، جس سے دنیا کا نظام درہم برہم ہوجاتا۔
لَوْ لاَ ان یکون الناسُ اُمَّۃ ً واحدۃً الخ اس آیت میں چار امر مذکور ہیں (1) مومنین کی رعایت کہ مبادا کافروں کی دولت کو دیکھ کر پھسل جائیں، اور دولت کو رضاء الٰہی سمجھنے لگیں (2) آخرت میں فوز و فلاح مومنین کے لئے خاص ہے (3) یہ کہ دنیا ذلیل ہے اور زیادہ تر کفار سے تعلق رکھتی ہے، مومن کی شان سے بعید ہے کہ ایسی حقیر وفانی چیز پر نظر وفخر کرے، جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہوا ہے کہ اگر دنیا کی قدر اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو کافر کو پانی کا ایک قطرہ بھی نہ ملتا (4) سونے اور چاندی کی حرمت کی طرف اشارہ ہے اس لئے کہ جو چیز کفار کے لئے سزاوار ہو مومن کے لئے سزا وار نہ ہونا چاہیے، پھر یہ بھی اشارہ ہے کہ سونے چاندی کا مطلقاً استعمال منع نہیں اور یہ لَو لا سے سمجھا جاتا ہے اس لئے کہ لَو لاَ کے ذریعہ نفی، ثبوت پر دلالت کرتی ہے، لہٰذا جہاں جہاں شارع سے منع ثابت ہے ممنوع ہے، جیسے اکثار مال، اور استعمال ظروف طلاء ونقرہ منع ہے، اور مردوں کے لئے لباس وزیور، فرمایا آپ ﷺ نے لا تشربوا فی آنیۃ الذھب والفضۃ لا تأکلوا فی اصحافھا فاِنَّھا لھم فی الدنیا، لَنَا فی الآخرۃ واِنما خوّ لھُم اللہ تعالیٰ فی الدنیا لحقارتھا (ترمذی) “ نہ کھاؤ پیو سونے چاندی کے برتنوں میں یہ کفار کے لئے دنیا میں ہیں اور ہمارے لئے آخرت میں اور اللہ نے دنیا انہیں اس لئے عطا کی کہ وہ حقیر ہے ”۔
سوال : سونا چاندی کیوں ممنوع اور حقیر ہے حالانکہ دنیا میں معاش ومعیشت کا نظام اس کے ساتھ قائم ہے، نیز دینی و دنیوی حاجات کا وسیلہ ہے اور آخرت میں موعود اور بہشت میں موجود۔
جواب : ممانعت باعتبار اثر کے ہے اس لئے موجب تکبر و تفاخر اور باعث کمال محویت وتغافل، جس کی وجہ سے خلوص حب الٰہی کو مانع ہے، اور عورتوں کے لئے جواز یا تو بطور احسان ہے یا جنت کی نعمتوں کے نمونہ کے طور پر ہے۔ (خلاصۃ التفاسیر)