42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 42:1–9

كَذٰلِكَ یُوْحِیْۤ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۙ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 42:3 in the Quran reader

خدائے غالب و دانا اسی طرح تمہاری طرف مضامین اور (براہین) بھیجتا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں کی طرف وحی بھیجتا رہا ہے

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 42:4 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور وہ عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے

تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 42:5 in the Quran reader

قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہتے اور جو لوگ زمین میں ہیں ان کے لئے معافی مانگتے رہتے ہیں سن رکھو کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ اللّٰهُ حَفِیْظٌ عَلَیْهِمْ١ۖ٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 42:6 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اس کے سوا کارساز بنا رکھے ہیں وہ خدا کو یاد ہیں اور تم ان پر داروغہ نہیں ہو

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا وَ تُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ Open ayah 42:7 in the Quran reader

اور اسی طرح تمہارے پاس قرآن عربی بھیجا ہے تاکہ تم بڑے گاؤں (یعنی مکے) کے رہنے والوں کو اور جو لوگ اس کے اردگرد رہتے ہیں ان کو سیدھا راستہ دکھاؤ اور انہیں قیامت کے دن کا بھی جس میں کچھ شک نہیں ہے خوف دلاؤ اس روز ایک فریق بہشت میں ہوگا اور ایک فریق دوزخ میں

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:8 in the Quran reader

اور اگر خدا چاہتا تو ان کو ایک ہی جماعت کردیتا لیکن وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور ظالموں کا نہ کوئی یار ہے نہ مددگار

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۚ فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِیُّ وَ هُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰى١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:9 in the Quran reader

کیا انہوں نے اس کے سوا کارساز بنائے ہیں ؟ کارساز تو خدا ہی ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰم۔ عسق اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے اسی طرح یعنی اس وحی بھیجنے کے مانند اللہ تعالیٰ جو زبردست ہے اپنے ملک میں حکمت والا ہے، اپنی صنعت میں تیری طرف اور تجھ سے اگلوں کی طرف وحی بھیجتا رہا ہے، اللہ ایحاء کا فاعل ہے، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے ملکیت کے اعتبار سے، تخلیق کے اعتبار سے، اور مملوکیت کے اعتبار سے، اور وہ اپنی مخلوق پر برتر اور عظیم الشان ہے، قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں (تکاد) تاء اور یاء کے ساتھ ہے (یَنْفَطِرنَ ) نون کے ساتھ ہے، اور ایک قراءت میں (نون کے بجائے) تاء مع تشدید طاء ہے (ای تَتَفَطَّرْنَ ) یعنی ہر اوپر والا آسمان جس کے نیچے آسمان ہے اللہ کی عظمت کی وجہ سے پھٹ پڑے، اور تمام فرشتے اپنے رب کی پاکی حمد کے ساتھ بیان کر رہے ہیں، (یعنی) تسبیح وتحمید، دونوں کو ملا کر (سبحان اللہ والحمد للہ) کہہ رہے ہیں اور زمین میں جو مومنین ہیں ان کے لئے استغفار کر رہے ہیں، خوب یاد رکھو اللہ تعالیٰ ہی اپنے اولیاء کو معاف کرنے والا ان پر رحم کرنے والا ہے اور جن لوگوں نے اس کے سوا بتوں کو کارساز بنا لیا ہے اللہ تعالیٰ ان پر نگران ہے یقیناً ان کو سزا دے گا اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں، کہ ان سے مطلوب کو حاصل کریں، آپ کے ذمہ تو صرف پہنچا دینا ہے اور اس وحی کرنے کے مانند ہم نے آپ کی طرف عربی قرآن کی وحی کی ہے تاکہ آپ مکہ والوں اور اس کے آس پاس والوں کو آگاہ کریں، یعنی اہل مکہ اور (دیگر) تمام لوگوں کو اور آپ لوگوں کو جمع ہونے کے یعنی قیامت کے دن سے ڈرائیں، جس میں تمام مخلوق جمع کی جائے گی، جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے ان میں سے ایک فریق جنت میں ہوگا اور ایک فریق دوزخ میں اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان سب کو ایک امت یعنی ایک دین پر اور وہ اسلام ہے بنا دیتا لیکن وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے، اور ظالموں کافروں کا حامی اور مددگار کوئی نہیں، کہ ان سے عذاب کو دفع کرسکے، کیا ان لوگوں نے اللہ کے سوا بتوں کو کارساز بنا لیا ہے اَمْ منقطعہ بمعنی بل ہے، جو کہ انتقال کے لئے ہے اور ہمزہ انکار کے لئے ہے، یعنی جن کو کارساز بنایا ہے وہ کارساز نہیں ہیں (حقیقتاً تو) اللہ تعالیٰ ہی ولی ہے یعنی مومنین کا مددگار ہے اور فاء محض عطف کے لئے ہے، وہی مردوں کو زندہ کرے گا، اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : حٰم، عسق بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ سورة شورٰی ہی کے دوسرے دو نام ہیں، اسی لئے ان کو الگ الگ دو آیتیں شمار کیا ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ دونوں مل کر ایک نام ہے مگر دیگر حوامیم کی موافقت ومماثلت کے لئے الگ الگ لکھا گیا ہے۔ قولہ : مثل ذٰلک الایحاء ای مثل ما فی ھٰذہ السورۃ من المعانی اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کذٰلک کا کاف مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے محل میں نصب کے ہے ای یوحی ایحاءً مثلَ ذٰلک الایحاء۔ یعنی اس سورت کے ایحاء کے مانند آپ کی طرف فی الوقت وحی بھیجتا ہے، اور آپ سے اگلوں کی طرف اسی طرح وحی بھیج چکا ہے۔ سوال : انبیاء سابقین کی طرف وحی بھیجنے کے لئے اوحٰی ماضی کا صیغہ استعمال ہونا چاہیے نہ کہ یوحی مضارع کا۔ جواب : مضارع کا صیغہ حکایت حال ماضیہ کے طور پر استمرار وحی پر دلالت کرنے کے لئے استعمال ہوا ہے، اور مضارع بمعنی ماضی ہے جیسا کہ مفسر (رح) تعالیٰ نے اَوْحٰی محذوف مان کر اشارہ کردیا ہے۔ قولہ : فریق منھم، فریق ٌ مبتداء اور فی الجنۃ اس کی خبر ہے۔ سوال : فریق نکرہ ہے اس کا مبتداء بننا کیسے درست ہے ؟ جواب : مفسر علام نے مِنْھم محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ فریق موصوف ہے اور اس کی صفت محذوف ہے، تقدیر یہ ہے فریق کائنٌ منھم فی الجنۃ لہٰذا اب اس کا مبتداء بننا صحیح ہوگیا، یہی ترکیب فریقٌ فی السعیر میں ہے۔ تفسیر وتشریح کَذٰلِکَ یُوحِیْ اِلَیْکَ (الآیۃ) یعنی جس طرح یہ قرآن تیری طرف نازل کیا گیا ہے اسی طرح تجھ سے پہلے بھی انبیاء پر صحیفے اور کتابیں نازل کی گئیں، وحی اللہ کا وہ کلام ہے جو فرشتے کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کے پاس بھیجتا رہا ہے، ایک صحابی نے آپ ﷺ سے وحی کی کیفیت معلوم کی تو آپ نے فرمایا : کبھی تو یہ میرے پاس گھنٹی کی آواز کے مثل آتی ہے اور یہ صورت مجھ پر سب سے گراں ہوتی ہے، جب یہ آواز ختم ہوتی ہے تو مجھے وہ وحی یاد ہوچکی ہوتی ہے، اور کبھی فرشتہ انسانی شکل میں آتا ہے، اور مجھ سے کلام کرتا ہے اور وہ جو کہتا ہے میں اسے یاد کرلیتا ہوں، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں میں نے سخت سردی میں مشاہدہ کیا کہ جب وحی کی کیفیت ختم ہوئی تو آپ پسینے میں شرابور ہوتے اور آپ کی پیشانی سے قطرے ٹپک رہے ہوتی۔ (صحیح بخاری باب بدء الوحی) وَمَا اَتَتْ عَلَیْھِمْ بِوَکِیْلٍ یعنی آپ اس بات کے مکلّف نہیں ہیں کہ ان کو ہدایت کے راستہ پر لگا دیں، یہ کام ہمارا ہے آپ کا کام صرف پہنچا دیتا ہے۔ جس طرح ہم نے ہر رسول پر اس کی اور اس کی قوم کی زبان میں وحی نازل کی، اسی طرح ہم نے آپ پر عربی زبان میں قرآن نازل کیا ہے، اس لئے کہ آپ کی قوم کی زبان عربی ہی ہے۔ “ ام القریٰ ” مکہ کا نام ہے، اسے بستیوں کی ماں، اس لئے کہتے ہیں کہ یہ عرب کی قدیم ترین بستی ہے گویا کہ یہ تمام بستیوں کی ماں ہے، اور مراد اہل مکہ ہیں اور مَنْ حولَھَا میں اس کے چاروں طرف کے علاقے شرقاً غرباً شمالاً جنوباً شامل ہیں۔ فَا للہ ھو الولی (الآیۃ) جب یہ بات ہے کہ اللہ ہی محی اور ممیت ہے اور ہر شئ پر قادر ہے تو پھر وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اسی کو ولی اور کارساز مانا جائے، نہ کہ ان کو جن کے پاس کوئی اختیار ہی نہیں ہے، اور جو نہ سننے کی اور نہ جواب دینے کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ نفع نقصان پہنچانے کی صلاحیت۔
Ayahs 42:10–19

وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۖۗ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 42:10 in the Quran reader

اور تم جس بات میں اختلاف کرتے ہو اس کا فیصلہ خدا کی طرف سے ہو (گا) یہی خدا میرا پروردگار ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں

فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ مِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا١ۚ یَذْرَؤُكُمْ فِیْهِ١ؕ لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 42:11 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (وہی ہے) اسی نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کے جوڑے بنائے اور چوپایوں کے بھی جوڑے بنائے (اور) اسی طریق پر تم کو پھیلاتا رہتا ہے اس جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ دیکھتا اور سنتا ہے

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 42:12 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں وہ جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے بیشک وہ ہر چیز سے واقف ہے

شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰۤى اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِ١ؕ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِیْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَیْهِ١ؕ اَللّٰهُ یَجْتَبِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 42:13 in the Quran reader

اس نے تمہارے لئے دین کا وہی راستہ مقرر کیا جس (کے اختیار کرنے) کا نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی (اے محمد ﷺ ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی ہے اور جس کا ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا تھا وہ یہ کہ دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا جس چیز کی طرف تم مشرکوں کو بلاتے ہو وہ ان کو دشوار گزرتی ہے اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی بارگاہ کا برگذیدہ کرلیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرے اسے اپنی طرف راستہ دکھا دیتا ہے

وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 42:14 in the Quran reader

اور یہ لوگ جو الگ الگ ہوئے ہیں تو علم (حق) آچکنے کے بعد آپس کی ضد سے (ہوئے ہیں) اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک وقت مقرر تک کے لئے بات نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور جو لوگ ان کے بعد (خدا کی) کتاب کے وارث ہوئے وہ (اس کی طرف سے) شبہ کی الجھن میں (پھنسے ہوئے) ہیں

فَلِذٰلِكَ فَادْعُ١ۚ وَ اسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ١ۚ وَ قُلْ اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ١ۚ وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ؕ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ؕ لَا حُجَّةَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُؕ Open ayah 42:15 in the Quran reader

تو (اے محمد ﷺ اسی (دین کی) طرف (لوگوں کو) بلاتے رہنا اور جیسا تم کو حکم ہوا ہے (اسی پر) قائم رہنا اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اور کہہ دو کہ جو کتاب خدا نے نازل فرمائی ہے میں اس پر ایمان رکھتا ہوں اور مجھے حکم ہوا ہے کہ تم میں انصاف کروں خدا ہی ہمارا اور تمہارا پروردگار ہے ہم کو ہمارے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال کا ہم میں اور تم میں کچھ بحث و تکرار نہیں خدا ہم (سب) کو اکٹھا کرے گا اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:16 in the Quran reader

اور جو لوگ (خدا کے بارے میں) بعد اس کے کہ اسے (مومنوں نے) مان لیا ہے جھگڑتے ہیں ان کے پروردگار کے نزدیک ان کا جھگڑا لغو ہے اور ان پر (خدا کا) غضب اور ان کے لئے سخت عذاب ہے

اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ Open ayah 42:17 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے سچائی کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور (عدل و انصاف) کی ترازو اور تم کو کیا معلوم شاید قیامت قریب ہی آپہنچی ہو

یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَا١ۚ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا١ۙ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 42:18 in the Quran reader

جو لوگ اس پر ایمان نہیں رکھتے وہ اس کے لئے جلدی کر رہے ہیں اور جو مومن ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ برحق ہے دیکھو جو لوگ قیامت میں جھگڑتے ہیں وہ پرلے درجے کی گمراہی میں ہیں

اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ۠ Open ayah 42:19 in the Quran reader

خدا اپنے بندوں پر مہربان ہے وہ جس کو چاہتا ہے رزق دیتا ہے اور وہ زور والا (اور) زبردست ہے

آیت نمبر 10 تا 19 ترجمہ : اور جس چیز (یعنی) دین وغیرہ میں کفار کے ساتھ تمہارا اختلاف ہوا، اس کا فیصلہ قیامت کے دن اللہ ہی لوٹے گا، وہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گا، آپ ان سے کہئے یہی اللہ میرا رب ہے، جس پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے، اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں، وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، اس نے تمہارے لئے تمہاری جنس کے جوڑے بنا دئیے ہیں، بایں طور کہ اس نے (حضرت) حواء کو آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا فرمایا اور چوپایوں کے نرو مادہ کے جوڑے بنائے (یَذْرَءُکُم ْ ) ذال معجمہ کے ساتھ (یعنی ذال کے ساتھ ہے نہ کہ دال کے ساتھ) اور یَذرَءُکُمْ بمعنی یَخْلُقُکُمْ ہے یعنی مذکورہ طریقہ سے تم کو پیدا کرتا ہے، (اور) اس طریقہ توالد کے سبب سے تمہاری کثرت کرتا ہے اور (کُمْ ) ضمیر، انسانوں اور حیوانات کی طرف تغلیباً راجع ہے، اس کے مثل کوئی شئ نہیں، کاف زائدہ ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی مثل نہیں وہ ہر بات کا سننے والا ہر فعل کا دیکھنے والا ہے، آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے قبضہ تصرف میں ہیں) وہ جس کی چاہے امتحاناً روزی کشادہ کر دے اور جس کی چاہے بطور آزمائش تنگ کر دے یقیناً وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے اللہ نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کیا ہے، جس کے قائم کرنے کا اس نے نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا، اور وہ ( نوح) انبیاء شریعت میں سے اول نبی ہیں اور جو (دین) ہم نے بذریعہ وحی آپ کی طرف بھیجا ہے اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو دیا تھا کہ اس دین کو قائم رکھنا، اور اس میں اختلاف نہ کرنا یہی ہے وہ مشروع کہ جس کا تاکیدی حکم دیا گیا اور جس کی محمد ﷺ کی طرف وحی کی گئی، اور وہ توحید ہے اور جس چیز کی طرف آپ انہیں بلا رہے ہیں وہ توحید ہے وہ تو (ان) مشرکوں پر گراں گذرتی ہے اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے توحید کے لئے منتخب کرلیتا ہے اور جو شخص اس کی اطاعت کی طرف رجوع کرتا ہے اللہ اس کی اپنی طرف رہنمائی کرتا ہے اور اہل ادیان نے دین میں اسی وقت اختلاف کیا، بایں طور کہ بعج نے توحید اختیار کی اور بعض نے کفر کیا، کہ جب ان کے پاس توحید کا علم آگیا اور وہ بھی کافروں کی باہمی ضد بحث سے اور اگر آپ کے پروردگار کی طرف سے ایک وقت مقرر (یعنی قیامت) تک کے لئے تاخیر عذاب کا فیصلہ نہ ہوچکا ہوتا تو یقیناً دنیا ہی میں کافروں کو عذاب دے کر ان کے اختلاف کا فیصلہ ہوچکا ہوتا، اور جن لوگوں کو ان کے بعد کتاب دی گئی، اور وہ یہود و نصاریٰ ہیں وہ بھی آپ ﷺ کے بارے میں الجھن ڈالنے والے شک میں پڑے ہوئے ہیں، پس اے محمد ﷺ ! آپ لوگوں کو اسی توحید کی طرف بلاتے رہئے اور جو کچھ آپ سے کہا گیا ہے آپ خود بھی اس پر قائم رہئے اور اس کو ترک کرنے میں ان کی خواہشوں کی اتباع نہ کیجئے، اور کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی کتابیں نازل فرمائی ہیں میرا ان پر ایمان ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تم میں انصاف کرتا رہوں ہمارا اور تم سب کا پروردگار اللہ ہی ہے، ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ہیں، لہٰذا ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق صلہ ملے گا ہمارے تمہارے درمیان کوئی نزاع نہیں یہ حکم جہاد کا حکم نازل ہونے سے قبل کا ہے اللہ تعالیٰ فیصلہ کرنے کے لئے قیامت کے دن ہم سب کو جمع کرے گا، اور اسی کی طرف لوٹنا ہے اور جو لوگ اللہ کے دین کے بارے میں اس کے نبی سے حجت بازی کرتے ہیں بعد اس کے کہ اس کو اس کے معجزات کے ظاہر ہونے کی وجہ سے مان لیا گیا ہے اور وہ یہود ہیں اور ان کی حجت بازی ان کے رب کے نزدیک باطل ہے اور ان پر غضب ہے اور ان کے لئے سخت عذاب ہے، اللہ تعالیٰ نے حق کے ساتھ کتاب قرآن نازل فرمائی ہے (بالحق) انزل کے متعلق ہے اور میزان (انصاف) نازل فرمائی ہے اور آپ کو کیا خبر شاید قیامت یعنی اس کی آمد قریب ہی ہو اور لَعَلَّ فعل کو عمل سے روکنے والا ہے یا اس کا مابعد قائم مقام دو مفعولوں کے ہے اس کی جلدی، ان کو پڑی ہے جو اس کو نہیں مانتے، سوال کرتے ہیں کہ (قیامت) کب آئے گی ؟ یہ یقین کرتے ہوئے کہ وہ آنے ولی نہیں ہے اور جو اس کی (آمد) کا یقین رکھتے ہیں وہ اس سے ڈر رہے ہیں انہیں اس کے حق ہونے کا پورا علم ہے، یاد رکھو جو لوگ قیامت کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں وہ دور کی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر خواہ نیک ہوں یا بد بڑا ہی لطف کرنے والا ہے، اس طریقہ سے کہ ان کی معصیت کی وجہ سے ان کو بھوکا نہیں مارتا، ان سب میں سے جس کو چاہتا جتنی چاہتا روزی دیتا ہے، اور وہ اپنی مراد پر بڑی طاقت اور اپنے امر پر بڑے غلبہ والا ہے۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : ذٰلِکُمُ اللہ ربی (الآیۃ) ڈٰلِکُمْ مبتداء ای ذٰلِکُمْ الحاکم العظیم الشان، اللہُ ، ذٰلِکُمْ مبتدا کی گیارہ خبریں ہیں، (1) اللہُ (2) رَبِّی (4) وَاِلَیْہِ اُنِیْبُ (5) فَاطِرُ السمٰوٰتِ والارض (6) جَعَلَ لکم (7) لیس کمثلہٖ شییء (8) وھو السمیع البصیر (9) لہٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ الخ (10) یَبْسُطُ الرِّزق الخ (11) شَرَعَ لکم الخ۔ ( جمل) قولہ : یَذْرَءُکُمْ ، ذَرْءٌ سے مضارع واحد مذکر غائب، وہ تم کو پیدا کر رہا ہے، پھیلا رہا ہے، زیادہ کر رہا ہے (ف) ۔ قولہ : فیہِ ضمیر مجرور کا مرجع، جعل مذکور ہے، ای فی ذٰلک الخلق علیٰ ھذہ الصفۃ یعنی اس طریقہ تخلیق (یعنی توالد وتناسل) سے وہ تمہیں ابتداء سے پیدا کرتا چلا آرہا ہے، یا فیہِ کی ضمیر کا مرجع رحم مادر ہے، یا فی بمعنی باء ہے یعنی تمہارا جوڑا بنانے کے سبب سے تمہیں پیدا کرتا، پھیلاتا ہے، کیونکہ یہ زوجیت ہی نسل کی افزائش کا سبب ہے۔ (فتح القدیر، وابن کثیر ملخصاً ) قولہ : یَذ ْرَئُکُمْ میں کُمْ ضمیر کا مرجع انسان ہیں جانوروں کو تغلیباً کم ضمیر میں شامل کرلیا گیا ہے ورنہ تو یَذ ْرَءُھَا ہونا چاہیے۔ قولہ : الکاف زائدۃ اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک اعتراض کا جواب ہے۔ اعتراض : ظاہر آیت سے یہ شبہ ہوتا ہے کہ خدا کا مثل ہے اس لئے کہ آیت کا ترجمہ یہ ہے، اس کے مثل کا کوئی مثل نہیں یعنی مثل تو ہے مگر اس مثل کا مثل نہیں ہے، حالانکہ اس کا مثل ہی نہیں ہے۔ جواب : کمِثْلِہٖ میں کاف زائدہ محض تاکید کے لئے ہے اور تقدیر عبارت یہ ہے کہ لَیْسَ مِثْلَہٗ شییء۔ قولہ : مَقالید یہ مقلادٌ یا مقلیدٌ یا اقلیدٌ کی جمع ہے بمعنی کنجی۔ قولہ : شَرَعَ لکم مِن الدین مَا وَصّٰی بہ نوحاً ، شرعَ بمعنی سَنَّ ای جَعَلَ لکُمْ طریقاً واضحاً وبالفارسیۃ راہ روشن کرو شمارا از دین۔ قولہ : شَرَعَ لَکُمْ من الدین یہ اس اجمال کی تفصیل ہے جس کا ذکر کذٰلک یُوْحِی اِلَیْکَ والی الذین مِن قبلِکَ میں اجمالاً اور لکُمْ سے خطاب امت محمدیہ ﷺ کو ہے۔ قولہ : من التوحید۔ سوال : مفسر علام نے ما تَدْعوھُمْ اِلَیہِ کی تفسیر من التوحید سے کی ہے حالانکہ اس میں تمام اصول و فروع داخل ہیں۔ جواب : توحید چونکہ عماد الدین اور اصل الاصول ہے جو کہ تمام اصول و فروع کو شامل ہے، اسی وجہ سے اس پر اکتفاء کیا ہے۔ قولہ : یَجْتَبِی یہ اجتباء سے ماخوذ ہے اس کے معنی منتخب کرنے اور چننے کے ہیں، اسی مناسبت سے توفیق دینے کے معنی میں بھی مستعمل ہے۔ قولہ : بَغْیًا، تفرقوا فعل مثبت کا مفعول لہ ہے جو کہ استثناء سے مفہوم ہے۔ قولہ : لفی شکٍّ منہ مُریبٌ یعنی بےچین کرنے والا شک، الجھن میں ڈالنے والا شک۔ قولہ : رِبْیَۃ ٗ یعنی حیر، اضطراب۔ قولہ : وَالذین یُحَاجُّوْنَ مبتداء اول ہے اور حُجَّتُھم مبتداء ثانی ہے اور دَاحِضَۃ ٌ مبتداء ثانی کی خبر ہے مبتداء ثانی اپنی خبر سے مل کر مبتداء اول کی خبر ہے۔ قولہ : ای اتیانُھا یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : قریبٌ کو مذکر کیوں لایا گیا ؟ حالانکہ وہ ساعۃ مؤنث کی صفت ہے لہٰذا قریبۃ ٌ ہونا چاہیے۔ جواب : کلام حذف مضاف کے ساتھ ہے ای مجییء الساعۃ لہٰذا قریب سے مراد مجییءٌ ہے۔ قولہ : وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّ السَّاعۃ قریبٌ واؤ عاطفہ ہے ما استفہامیہ مبتداء محلاً مرفوع ہے اور یدریک جملہ ہو کر اس کی خبر ہے۔ قولہ : وَلَعَلَّ معلِّق ٌ للفعل عن العمل اَو ما بعدہ سدَّ مَسَدّ المفعولین “ تعلیق ” لفظاً ابطال عمل کو کہتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسا حرف درمیان میں ہوتا ہے کہ جو صدارت کلام چاہتا ہے، یہاں وہ حرف لَعَلَّ ہے، یُدریکَ کا مفعول اول کَ ہے یا فعل کا مابعد قائم مقام دو مفعولوں کے ہے۔ تفسیر وتشریح وَمَا اَخْتَلَفْتُمْ فیہِ اس اختلاف سے مراد دین کا اختلاف ہے، جس طرح یہودیت، عیسائیت وغیرہ کے میں آپس میں اختلافات ہیں، ہر مذہب کا پیرو دعویٰ کرتا ہے کہ اس کا دین حق ہے، ظاہر ہے کہ تمام ادیان بیک وقت حق نہیں ہوسکتے، سچا دین تو صرف ایک ہی ہوسکتا ہے، اِن الحُکم اِلاَّ للہ دنیا میں سچا دین اور حق راستہ پہچاننے کے لئے اللہ تعالیٰ کا قرآن موجود ہے، لیکن دنیا میں لوگ قرآن مجید کو اپنا حکم اور ثالث ماننے کے لئے تیار نہیں، بالآخر قیامت کا دن ہی رہ جاتا ہے، جس میں اللہ تعالیٰ ان اختلافات کا فیصلہ فرمائے گا، اور سچوں کو جنت میں اور دوسروں کو جہنم میں داخل کرے گا۔ دوسری اکثر آیات میں اطاعت کے حکم میں رسول کو اور بعض آیات میں اولوالامر کو شامل کیا گیا ہے وہ اس کے معارض نہیں، اس لئے کہ رسول اور اولوالامر جو فیصلہ کرتے ہیں وہ ایک حیثیت سے اللہ ہی کا حکم ہوتا ہے، اگر یہ فیصلہ کتاب وسنت کی نصوص کے ذریعہ ہے تو اس کا حکم الہٰی ہونا ظاہر ہے اور اگر اپنے اجتہاد سے ہے تو چونکہ اجتہاد کا مدار بھی نصوص قرآن وسنت پر ہوتا ہے اس لئے وہ ایک حیثیت سے اللہ ہی کا حکم ہے مجتہدین کے اجتہاد بھی اسی میں داخل ہیں، اسی لئے علماء نے فرمایا کہ عام آدمی جو قرآن وسنت کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ان کے حق میں مفتی کا فتویٰ ہی حکم شرعی کہلاتا ہے۔ جَعَلَ لَکُمْ مِنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجاً یعنی اللہ کا بڑا کرم اور احسان ہے کہ اس نے تمہاری جنس سے ہی تمہارے جوڑے بنائے، ورنہ اگر تمہاری بیویاں انسانوں کے بجائے کسی اور مخلوق کی ہوتیں تو تمہیں یہ سکون حاصل نہ ہوتا، جو اپنی ہم جنس اور ہم شکل بیوی سے حاصل ہوتا ہے اور یہی سلسلہ چوپایوں میں بھی رکھا ہے، اس مذکورہ طریقہ سے اس نے انسانوں اور جانوروں میں افزائش نسل کا سلسلہ جاری فرما دیا ہے، وہ اپنے ذات وصفات میں اپنی نظیر آپ ہے نہ اس کا کوئی ہمسر ہے اور نہ مثل، وہ واحد اور بےنیاز ہے۔ شَرَعَ لکم مِنَ الدین یہاں دین سے مراد وہ عقائد و احکام ہیں جو تمام آسمانی کتابوں میں موجود تھے، مثلاً اللہ پر ایمان توحید، اطاعت رسول، تمام انبیاء کا یہی دین تھا جس کی دعوت وہ اپنی اپنی امتوں کو دیتے رہے، اگرچہ ہر نبی کی شریعت و قانون میں بعض جزوی اختلافات ہوتے تھے، جیسا کہ فرمایا لِکلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً ومِنھا جاً (المائدہ) لیکن مذکورہ اصول سب کے درمیان مشترک تھے، اسی بات کی طرف نبی کریم ﷺ نے اس طرح فرمایا ہم انبیاء کی جماعت علاتی بھائی ہیں ہمارا دین ایک ہے (بخاری شریف) اور یہ ایک دین وہی توحید اور اطاعت رسول ہے ان کا تعلق ان فروعی مسائل سے نہیں ہے، جن میں دلائل باہم مختلف اور متعارض ہوتے ہیں، یا جن میں کبھی فہم کا تباین اور تفاوت ہوتا ہے کیونکہ ان میں اجتہاد یا اختلاف کی گنجائش ہوتی ہے، اسی لئے یہ احکام مختلف ہوتے ہیں اور ہوسکتے ہیں، تاہم توحید و رسالت فروعی نہیں اصولی ہیں جن پر کفر و ایمان کا دارومدار ہے، سب سے پہلے حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں، اصول و عقائد میں تمام انبیاء (علیہم السلام) ان کے ساتھ شریک ہیں مگر چونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمانہ میں شرک وکفر انسانوں میں نہیں تھا، کفرو شرک کا معاملہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں شروع ہوا تھا، اس لحاظ سے حضرت نوح (علیہ السلام) پہلے پیغمبر ہیں جن کو اس طرح کے معاملات پیش آئے جو بعد کے انبیاء کو پیش آنے والے تھے، اسی لئے یہاں پر حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر سب سے پہلے کیا گیا ہے۔
Ayahs 42:20–29

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ Open ayah 42:20 in the Quran reader

جو شخص آخرت کی کھیتی کا طالب ہو اس کے لیے ہم اس کی کھیتی میں افزائش کریں گے اور جو دنیا کی کھیتی کا خواستگار ہو اس کو ہم اس میں سے دے دیں گے اور اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہ ہوگا

اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:21 in the Quran reader

کیا ان کے وہ شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کا خدا نے حکم نہیں دیا اور اگر فیصلے (کے دن) کا وعدہ نہ ہوتا تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور جو ظالم ہیں ان کے لئے درد دینے والا عذاب ہے

تَرَى الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَ هُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ١ۚ لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُ Open ayah 42:22 in the Quran reader

تم دیکھو گے کہ ظالم اپنے اعمال (کے وبال) سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ ان پر پڑ کر رہے گا اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ بہشت کے باغوں میں ہوں گے وہ جو کچھ چاہیں گے ان کے کے پروردگار کے پاس (موجود) ہوگا یہی بڑا فضل ہے

ذٰلِكَ الَّذِیْ یُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰى١ؕ وَ مَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِیْهَا حُسْنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 42:23 in the Quran reader

یہی وہ (انعام ہے) جس کی خدا اپنے ان بندوں کو جو ایمان لاتے اور عمل نیک کرتے ہیں بشارت دیتا ہے کہہ دو کہ میں اس کا تم سے صلہ نہیں مانگتا مگر (تم کو) قرابت کی محبت (تو چاہیے) اور جو کوئی نیکی کرے گا ہم اس کے لئے اس میں ثواب بڑھائیں گے بیشک خدا بخشنے والا قدردان ہے

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ۚ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ١ؕ وَ یَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 42:24 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے خدا پر جھوٹ باندھ لیا ہے ؟ اگر خدا چاہے تو (اے محمد ﷺ تمہارے دل پر مہر لگا دے اور خدا جھوٹ کو نابود کردیتا ہے اور اپنی باتوں سے حق کو ثابت کرتا ہے بیشک وہ سینے تک کی باتوں سے واقف ہے

وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 42:25 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور (ان کے) قصور معاف فرماتا ہے اور جو تم کرتے ہو (سب) جانتا ہے

وَ یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:26 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کیے ان کی (دعا) قبول فرماتا اور ان کو اپنے فضل سے بڑھاتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے

وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 42:27 in the Quran reader

اور اگر خدا اپنے بندوں کے لئے رزق میں فراخی کردیتا تو زمین میں فساد کرنے لگتے لیکن وہ جس قدر چاہتا ہے اندازے کے ساتھ نازل کرتا ہے بیشک وہ اپنے بندوں کو جانتا اور دیکھتا ہے

وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ١ؕ وَ هُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 42:28 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو لوگوں کے ناامید ہوجانے کے بعد مینہ برساتا اور اپنی رحمت (یعنی بارش) کی برکت کو پھیلا دیتا ہے اور وہ کارساز اور سزاوار تعریف ہے

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَثَّ فِیْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا یَشَآءُ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:29 in the Quran reader

اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور ان جانوروں کا جو اس نے ان میں پھیلا رکھے ہیں اور وہ جب چاہے ان کے جمع کرلینے پر قادر ہے

آیت نمبر 20 تا 29 ترجمہ : جس کا مقصد اپنے عمل سے آخرت کی کھیتی ہو، یعنی آخرت کی کمائی ہو اور وہ ثواب ہے تو ہم اس کی کھیتی میں (یعنی) نیکیوں میں دس گنے تک (بلکہ) اور اس سے بھی زیادہ اضافہ کر کے ترقی دیں گے اور جو دنیا کی کھیتی کی طلب رکھتا ہو تو ہم اسے اس میں سے بلا اضافے کے بقدر نصیب عطا کریں گے، ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں بلکہ مکہ کے ان کافروں نے کچھ شرکاء تجویز کر رکھے ہیں اور وہ شیاطین ہیں کہ ان شرکاء نے ان کافروں کے لئے دین فاسد تجویز کر رکھا ہے، جس کی خدا نے اجازت نہیں دی (اور وہ دین فاسد) شرک اور انکار بعث ہے اور اگر فیصلے کے دن کا وعدہ نہ ہوچکا ہوتا یعنی پہلے سے فیصلہ نہ ہوچکا ہوتا کہ بدلہ قیامت کے دن میں دیا جائے گا تو ان کے اور مومنین کے درمیان دنیا ہی میں ان کو عذاب دے کر (ابھی) فیصلہ کردیا جاتا، اور ظالموں کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے آپ ظالموں کو دیکھیں گے کہ قیامت کے دن دنیا میں برے اعمال کرنے کی وجہ سے ڈر رہے ہوں گے، یہ کہ ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے اور وہ یعنی ان کے اعمال کا وبال قیامت کے دن ان پر لامحالہ واقع ہونے والا ہے اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے وہ جنت کے باغات میں ہوں گے (وہ باغات) دوسروں کی نسبت سے زیادہ پاکیزہ ہوں گے، وہ جو خواہش کریں گے اپنے پاس موجود پائیں گے یہی ہے بڑا فضل یہی ہے وہ جس کی بشارت اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو دے رہا ہے، جنہوں نے نیک عمل کئے بشارۃ (میں) مخفف اور مثقل (دونوں قراءتیں ہیں) (آپ) کہہ دیجئے کہ میں اس تبلیغ رسالت پر تم سے کوئی صلہ نہیں چاہتا مگر رشتہ داری کی محبت (چاہتا ہوں) یہ مستثنیٰ منقطع ہے (یعنی) لیکن میں چاہتا ہوں کہ تم میری قرابت (رشتہ داری) کا حق ادا کرو جو تمہاری بھی قرابت (رشتہ داری) ہے اس لئے کہ آپ ﷺ کی قریش کے ہر خاندان میں قرابت تھی اور جو شخص کوئی نیکی کرے گا ہم اس کے لئے اس نیکی میں اضافہ کر کے اور نیکی بڑھا دیں گے بیشک اللہ تعالیٰ گناہوں کے بہت بخشنے والے اور قلیل (نیکیوں) کے (بھی) بہت قدر دان ہیں کہ اس کو بڑھا دیتے ہیں بلکہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ (پیغمبر نے) اللہ پر قرآن کی اللہ کی طرف نسبت کر کے جھوٹا بہتان باندھا ہے پس اگر اللہ چاہے تو آپ کے قلب کو ان کی ایذاء رسانی پر صبر کے ساتھ اس قول وغیرہ کے ذریعہ مضبو کر دے اور ( اللہ) نے ( ایسا) کردیا، اور اللہ تعالیٰ ان کی باطل باتوں کو مٹاتا ہے اور اپنے نبی پر نازل کردہ اپنی بات کے ذریعہ حق ثابت کرتا ہے، بلاشہ وہ دل کی باتوں کو جانتا ہے وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ کو قبول فرماتا ہے اور ان برائیوں کو جن سے توبہ کرلی ہے معاف فرماتا ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو (سب) جانتا ہے (تفعلون) یاء اور تاء کے ساتھ ایمان والوں کی اور نیکو کاروں کی سنتا ہے جو وہ سوال کرتے ہیں اور اپنے فضل سے انہیں اور بڑھا کردیتا ہے اور کافروں کے لئے شدید عذاب ہے اگر اللہ تعالیٰ اپنے سب بندوں کی روزی فراخ کردیتا تو وہ سب زمین میں فساد برپا کردیتے لیکن وہ اندازے کے ساتھ جو کچھ چاہتا ہے رزق نازل کرتا ہے (ینذّل) تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے لہٰذا وہ اپنے بعض بندوں کے لئے روزی کشادہ کردیتا ہے نہ کہ بعض کے لئے، اور فراخی (رزق) سے سرکشی پیدا ہوتی ہے وہ اپنے بندوں سے پورا باخبر اور خوب دیکھنے والا ہے، اور وہ ایسی ذات ہے کہ لوگوں کے بارش سے ناامید ہوجانے کے بعد بارش برساتا ہے اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے (یعنی) اپنی بارش کو پھیلا دیتا ہے، اور وہ مومنین کے لئے محسن (کارساز) ہے اور بندوں کے نزدیک قابل حمد ہے اور اس کی (قدرت) کی نشانیوں میں سے زمین و آسمان کو پیدا کرنا ہے اور ان جانوروں کا پیدا کرنا ہے جو زمین و آسمانوں میں پھیلے ہوئے ہیں اور دابہ اس کو کہتے ہیں جو زمین پر چلتا ہو (مثلاً ) انسان وغیرہ اور وہ جب چاہے ان کو حشر کے لئے جمع کرنے پر قادر ہے (جمعھم) کی ضمیر میں ذوی العقول کو غیر ذوی العقول پر غلبہ دیا گیا ہے، اگر غیر ذوی العقول کا غلبہ ہوتا تو علیٰ جَمْعِھا کہا جاتا۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : مَنْ کانَ یُرِیدُ بعملہ حَرْثَ الْاٰخِرَۃِ یہ کلام مستانف ہے دنیا وآخرت کے لئے عمل کرنے والوں کے عمل میں یہ فرق کو بیان کرنے کے لئے لایا گیا ہے، یعنی جو شخص خالص آخرت کے لئے عمل کرے گا تو اس کے عمل میں اضعافا مضاعفۃ اضافہ کردیا جائے گا، اور جس کا عمل محض دنیا کے لئے ہوگا تو اس کو بھی دنیا سے کچھ حصہ جو اس کے نصیب میں ہے دے دیا جائے گا، مگر ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ قولہ : مَنْ اسم شرط محلاً مرفوع مبتداء ہے، اور نَزِدْ لَہٗ جواب شرط ہے۔ قولہ : ھو الثواب آخرت کے لئے عمل کو حرث ( کھیتی) کے ساتھ تشبیہ دی ہے، عمل مشبہ اور حرث مشبہ بہ ہے پھر مشبہ کو حذف کردیا اور مشبہ بہ کو باقی رکھا، یہ استعارہ تصریحیہ ہے، حرث کے اصل معنی القاءُ البذر فی الارض ہیں، مجازاً پیدا وار کو بھی حرث کہہ دیتے ہیں، استعارہ کے طور پر ثواب یعنی نتیجہ اعمال پر بھی اطلاق کو دیا جاتا ہے۔ قولہ : الحسنۃ یہ تضعیف کا مفعول بہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ قولہ : اَمْ لھم شرکاء مفسر (رح) تعالیٰ نے اَمْ کو بَلْ کے معنی میں لیا ہے جو کہ شرع لکم من الدین الخ سے انتقال کے لئے ہے اور دیگر مفسرین نے بَلْ اور ہمزہ کے ساتھ مقدر مانا ہے، جو کہ توبیخ کے لئے ہے اور قرطبی نے اَمْ لَھُمْ شرکاء کو معنی میں اَلَھُمْ شرکاء کے لیا ہے، اَمْ میں میم صلہ ہے، اور ہمزہ تقریع کے لئے ہے۔ قولہ : شرعوا کی اسناد شیاطین کی جانب اسناد مجازی ہے، شیاطین چونکہ کفار کی گمراہی کا سبب ہیں، لہٰذا یہ مسبب کی اسناد سبب کی جانب ہے۔ قولہ : ان یُجَازوا اس میں اشارہ ہے کہ کلام میں مضاف محذوف ہے ای یخافون من جزاء ما کسبوا۔ قولہ : یبشر اللہ من البشارۃ مخففاً ومثقلاً مادہ بشارۃ ہے، مخفف ہونے کی صورت میں ابشار (باب افعال) سے۔۔۔۔ مشدد ہونے کی صورت میں (باب تفعیل) سے ہے۔ قولہ : المَوَدَّۃُ مصدر منصوب (س) دوستی، محبت، دوست رکھنا۔ قولہ : القُربیٰ ، زُلفیٰ اور بشریٰ کے وزن پر اسم مصدر رشتہ داری قرابت (ن) مصدر قرابۃً ۔ قولہ : اِلاَّ الموَّۃَ فی القربیٰ اس میں دو قول ہیں (1) استثناء منقطع ہو اس لئے کہ مستثنیٰ منہ اجرًا ہے اور المَوَدَّۃَمستثناء ہے، اور مستثنیٰ مستثنیٰ منہ کی جنس سے نہیں ہے ای لا اسئلکم اجرًا قط (2) مستثنیٰ متصل ہو، ای لا اسئلُکم علَیْہ اجرًا اِلاَّ ھٰذا، وھو اَن تودُّوا اھل قرابتی الذین ہم قرابتکم اور۔ فی القربیٰ جار مجرور محذوف سے متعلق ہو کر حال ہے ای ثابتۃ ً فی القربیٰ ۔ قولہ : یَقْتَرِفُ اصلہ القَرْفُ ، ای الکَسَبُ کہا جاتا ہے فلان یَقْرِفُ لِعَبَالِہٖ کسَباً (بابہ ضرب) اس آیت کے مصداق کی تعیین میں شدید اختلاف ہے، ان میں زیادہ بہتر وہ ہے کہ جس کو مجاہد اور قتادہ نے ذکر کیا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے انکم قومی وَاَحَقُّ مَنْ اجَا بَنِی وَاَطَاعَنِی فاِذْ قَدْ اَبُیْتُمْ ذٰلک فَاحفظوا حقّ القربیٰ وصِلُوا رحمی ولا تؤ ذونِیْ یعنی تم میری قوم ہو اور جن لوگوں نے میری دعوت پر لبیک کہا ہے اور میری اطاعت قبول کی ہے ان سے تم زیادہ حقدار ہو، اب جبکہ تم نے اس کا انکار کردیا تو (کم از کم) میری قرابت کا خیال رکھو اور میرے ساتھ صلہ رحمی کا معاملہ کرو اور مجھے اذیت نہ پہنچاؤ۔ (لغات القرآن) قولہ : یُجیبُھم مفسر علام نے یَسْتجیبُ کی تفسیر یجیبُ سے کر کے اشارہ کردیا کہ سین تاکید کے لئے زائدہ ہے، جیس استعظَمَ بمعنی تَعَظَمَ ۔ تفسیر وتشریح مَنْ کان یُریدُ حرْثَ الْاٰخِرۃِ نزِد لہٗ فی حرثہ “ حرث ” کے معنی تخم ریزی کے ہیں، یہاں بہ طریق استعارہ اعمال کے ثمرات و فوائد مراد ہیں، مطلب یہ ہے کہ جو شخص دنیا میں اپنے اعمال اور محنت کے ذریعہ آخرت کے اجرو ثواب کا طالب ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی آخرت کی کھیتی میں اضافہ فرمائے گا، ایک ایک نیکی کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ تک عطا فرمائے گا۔ فائدہ : سوال یہ ہے کہ حرث دنیا کیا ہے ؟ اگر یہی مال و عیال دنیا ہے تو نہ اس سے چارہ اور نہ بچاؤ، اور نہ بچنے کا حکم، مگر ایسا نہیں ہے، شیخ سعدی (رح) تعالیٰ فرماتے ہیں : چیست دنیا از خدا غافل شدن نے قماش ونقرہ و فرزند وزن معلوم ہوا، ایسا قول وفعل اور آرزو و تمنا کہ جس میں کسی درجہ میں بھی خیر اور رضائے الٰہی ملحوظ نہ ہو حرث دنیا ہے اگرچہ ہجرت و جہاد و نماز جیسا مبارک عمل ہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ حدیث شریف میں فرمایا، جس کی ہجرت کسی عورت سے نکاح یا دوسرے کسی کام کے لئے ہو وہ ہجرت اسی کے لئے ہے، اس کے برخلاف آپ نے یہ فرمایا کہ زن و فرزند کا نفقہ اور وظیفہ زوجیت میں اجروثواب ہے، اگر عمل صالح خلوص نیت کے ساتھ ہو تو بلاشک وشبہ بہت بڑا عمل ہے۔ اسلام میں کوئی عمل ایسا نہیں کہ جس میں رضاء الٰہی بالقصد یا بالتبع نہ پائی جائے حتی کہ جو خواب تہجد یا فجر کی نماز کے لئے بیداری کی نیت سے ہو اور جو غذا ادائے فرائض و احکام پر قوت حاصل کرنے کے لئے ہو اور جو لباس ستر پوشی یا اداء شکر کے لئے حتی کہ بیوی کے منہ میں لقمہ محبت اور نیک نیتی سے رکھے اس میں بھی اجرو ثواب ہے، اور مذکورہ تمام اعمال اعمالِ دنیا نہیں بلکہ دین ہیں، ان چیزوں پر وعید صرف اسی صورت میں ہے کہ جس سے سوائے دنیا اور آخرت سے غفلت کے کچھ مقصود نہ ہو۔ (خلاصۃ التفاسیر ملخصاً وترمیماً ) وَمَنْ کَانَ یُرِیْدُ حرثَ الدُّنْیَا نُؤ ْ تِہٖ منھا وَمَا لَہٗ فِی الْا ٰخرۃِ مِنْ نصیب یعنی طالب دنیا کو دنیا تو ملتی ہے لیکن اتنی نہیں جتنی وہ چاہتا ہے بلکہ اتنی ملتی ہے جتنی اللہ تعالیٰ کی مشیت اور تقدیر کے مطابق ہوتی ہے، شرک و معاصی جس میں یہ مبتلا ہوگئے ہیں، اللہ نے اس کا حکم نہیں دیا ہے، خود ان کے بنائے ہوئے شریکوں نے انسانوں کو شرک و معصیت کی راہ پر لگا دیا ہے۔ مشرکین قیامت کے روز اپنے اعمال کے عذاب اور ان کی پاداش سے خوف زدہ اور پریشان ہوں گے، حالانکہ ڈرنا بےسود اور بےفائدہ ہوگا، کیونکہ اپنے کئے کی سزا تو بہرحال بھگتنی ہوگی۔ قُلْ لا اسئلُکم عَلَیْہِ اجرًا الا المَوَدَّۃ فی القربیٰ (الآیۃ) قبائل قریش اور نبی ﷺ کے درمیان رشتہ داری کا تعلق تھا، آیت کا مطلب بالکل واضح ہے کہ میں وعظ و نصیحت اور دعوت و تبلیغ پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا، البتہ ایک چیز کا سوال ضرور ہے کہ میرے اور تمہارے درمیان جو رشتہ داری کا تعلق ہے اس کا لحاظ کرو، تم میری دعوت کو نہیں مانتے تو نہ مانو، تمہاری مرضی، لیکن مجھے نقصان اور اذیت پہنچانے سے باز رہو، تم میرے دست وبازو نہیں بن سکتے تو نہ بنو، مگر میرے راستہ کا روڑا تو نہ بنو، حضرت ابن عباس ؓ نے اس آیت کے معنی یہ کئے ہیں کہ میرے اور تمہارے درمیان جو قرابت (رشتہ داری) ہے اس کو قائم رکھو۔ (صحیح بخاری تفسیر سورة شوریٰ ) اِلاَّ المودَّۃ فی القربیٰ ای الامودتکم اِیَّایَ لقرابتی منکم یعنی میں تبلیغ رسالت پر تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا مگر قرابت کے سبب سے میری محبت، فی بمعنی سبب ہے، جیسا کہ انَّ امراۃ دخلت النار فی ھرۃ ایک عورت ایک بلی وجہ سے دوزخ میں داخل ہوگئی ہے۔ (روح المعانی) آپ ﷺ کی آل کی محبت و توقیر جزء ایمان ہے : نبی کریم ﷺ کی آل یقیناً حسب ونسب کے اعتبار سے دنیا کی اشرف ترین آل ہے، اس سے محبت اس کی تعظیم و توقیر جزء ایمان ہے، اس لئے کہ آنحضرت ﷺ نے بھی ان کی تعظیم و تکریم کی تاکید فرمائی ہے، لیکن اس کا کوئی تعلق اس موضوع سے نہیں ہے، جیسا کہ شیعہ حضرات کھینچا تانی کر کے اس آیت کو آل محمد ﷺ کی محبت کے ساتھ جوڑتے ہیں، اور پھر آل کو بھی انہوں نے محدود کردیا ہے، حضرت علی ؓ و حضرت فاطمہ ؓ اور حسنین ؓ تک، نیز محبت کا مفہوم بھی ان کے نزدیک یہ ہے کہ ان کو معصوم اور الٰہی اختیارات سے متصف مانا جائے، علاوہ ازیں کفار مکہ سے اپنے گھرانے کی محبت کا سوال بطور اجرتِ تبلیغ نہایت عجیب بات ہے نیز یہ طلب اجرت آپ ﷺ کی شان سے نہایت فروتربات ہے اس لئے کہ ایسے امر پر طلب اجرت کہ جو واجب ہو علماء اور عوام سے بھی بعید ہے تو سید الخواص وختم الرسل سے کیونکر جائز ہوگا۔ پھر یہ آیت اور سورت مکی ہے جبکہ حضرت علی ؓ اور حضرت فاطمہ ؓ کے درمیان ابھی عقد نکاح بھی نہیں ہوا تھا، یعنی ابھی وہ گھرانہ معرض وجود ہی میں نہیں آیا تھا، جس کی خود ساختہ محبت کا اثبات اسی آیت سے کیا جاتا ہے، اور حضرت حسن و حسین ؓ کا تو دنیا میں بھی اس وقت وجود نہیں ہوا تھا اس لئے کہ حضرت فاطمہ ؓ کا نکاح 2 ھ میں ہوا تھا، اس کے بعد 3، 4 ھ میں ان حضرات کی ولادت ہوئی ہے، تو پھر ان حضرات کو مذکورہ آیت کا مصداق قرار دینا کہاں تک صحیح ہے ؟ آیۃ مودۃ سے اہل تشیع کا خلافت بلا فصل پر غلط استدلال : قُلْ لاَ اَسئلکم عَلَیہِ اجرًا الاَّ الموَّۃَ فِی القربیٰ آپ فرما دیجئے کہ میں تم سے کچھ نہیں چاہتا بجز رشتہ داری کے محبت کے، شیعہ حضرات کا دعویٰ ہے کہ علی ؓ فاطمہ ؓ اور حسنین ؓ سے محبت رکھنا اجر رسالت ہے جو کہ امت پر واجب ہے، اس لئے بقول اہل تشیع اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک کے واسطے سے اعلان فرما دیا، کہ اے محمد آپ ﷺ اعلان فرما دیجئے کہ میں تعلیم و تبلیغ پر تم سے کوئی اجر وصلہ نہیں چاہتا بجز اس کے کہ میرے قرابت داروں سے محبت کرو، اور قرابت دار وہی مذکورہ “ چار اشخاص ” ہیں لہٰذا قرآن کی رو سے ان حضرات کی محبت واجب ہے اور جن کی محبت واجب ہوتی ہے وہی واجب الاطاعت ہوتے ہیں اور امامت عامہ کا یہی مفہوم ہے، لہٰذا حضرت علی ؓ کا خلیفہ بلا فصل ہونا ثابت ہوگیا، اپنے اس دعوے کی تائید میں ابن مطہر حلی نے مسند احمد کی طرف نسبت کر کے حضرت ابن عباس ؓ سے ایک روایت نقل کی ہے۔ عن ابن عباس قال لَمّا نزلت ھٰذہ الا ٰ یۃ قالوا یا رسول اللہ من قَرَابتُکَ اَلَّتی وَجَبَت عَلیْنَا مَوَدَّتُھُم ؟ قال علی وفاطمۃ، وابناھما اس روایت کو ابن مطہر نے ثعلبی کے واسطے سے مسند احمد اور صحیحین کی طرف منسوب کیا ہے اس روایت سے ابن مطہر حلی نے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ مذکورہ چہارتن کی محبت واجب ہے، ان کے علاوہ اور کسی کی محبت واجب نہیں، لہٰذا علی ؓ سب سے افضل ہیں، اور جو سب سے افضل ہو وہی امامت عامہ کا مستحق ہے، لہٰذا علی ؓ ہی امامت بلا فصل کے مستحق ہیں۔ جواب : شیعہ حضرات نے اس آیت کی بنیاد پر بہت سے خام قلعے تعمیر کئے ہیں اور آیت کو اپنے مفید مقصد بناتے کی کوشش کی ہے، ابن مطہر نے بھی مذکورہ آیت کو اپنے دعوے کے ثبوت میں پیش کیا ہے، اور تائید میں مسند احمد کی ابن عباس سے ایک روایت صحیحین کی طرف منسوب کر کے پیش کی ہے، ابن مطہر حلی نے مذکورہ روایت کو مسند احمد اور صحیحین کی نسبت کر کے علمی بددیانتی اور آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی ہے، علامہ ابن تیمیہ (رح) تعالیٰ منہاج السنۃ ص 25، ج 4، پر تحریر فرماتے ہیں کہ ابن مطہر کا مذکورہ حدیث کی مسند امام احمد کی طرف نسبت کرنا فریب اور بہتان ہے، اسی طرح صحیحین کی طرف نسبت بھی مغالطہ اور سفید جھوٹ ہے، بلکہ صحیحین اور مسند میں تو اس کی ضد موجود ہے، بلکہ حقیقت صرف اتنی ہے کہ امام احمد نے خلفاء اربعہ کی فضیلت میں ایک کتاب تصنیف کی ہے جس میں رطب دیا بس ہر قسم کی روایات نقل کی ہیں، اس کے بعد امام احمد بن حنبل کے صاحبزادے عبد اللہ نے اس میں کچھ احادیث کا اضافہ کیا ہے، اور ابوبکر قطیفی نے بھی اس میں بہت واہی اور موضوع روایات کا اضافہ کیا ہے، ابن مطہر حلی نے ناواقفیت کی بناء پر ان روایات کو بھی مسند احمد کی طرف منسوب کردیا، مذکورہ روایت علماء حدیث کے نزدیک بالکل موضوع اور ناقابل اعتبار ہے، اس کی داخلی شہادت یہ ہے کہ مذکورہ آیت سورة شوریٰ کی ہے، اور سورة شوریٰ مکی ہے، اور حضرت علی ؓ کا نکاح غزوہ بدر کے بعد یعنی 2 ھ میں ہوا ہے، اس کے ایک سال بعد 3 ھ میں حضرت حسن ؓ کی ولادت ہوئی اور اس کے ایک سال بعد 4 ھ میں حضرت حسین ؓ کی ولادت ہوئی تھی، اور آیت کی تفسیر میں حلی صاحب فرما رہے ہیں کہ جب آپ سے مودّت قربیٰ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ علی ؓ فاطمہ ؓ اور حسنین کی محبت مراد ہے، مطلب اس کا یہ ہوا کہ حسنین ابھی پیدا نہیں ہوئے حتی کہ حضرت علی ؓ اور حضرت فاطمہ ؓ ابھی رشتہ ازدواج میں منسلک بھی نہیں ہوئے، اور آیت کی تفسیر میں حسنین کی محبت کا ذکر فرما دیا، حدیث کے موضوع ہونے کے لئے یہی داخلی شہادت کافی ہے۔ روایت کے موضوع ہونے پر دوسری شہادت : مذکورہ آیت کی تفسیر میں صحیحین میں حضرت ابن عباس ؓ ہی سے روایت مروی ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ سے کسی نے آیت مؤدت کا مطلب دریافت کیا، حضرت سعید بن جبیر موجود تھے، بول پڑے کہ آنحضرت ﷺ کے قرابتداروں سے محبت مراد ہے، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا، اے سعید تم نے بولنے میں جلدی کی اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ قریش کا کوئی ضمنی قبیلہ ایسا نہیں تھا کہ جس سے آنحضرت ﷺ کی قرابت کا رشتہ نہ ہو، تو آپ نے فرمایا کہ میں تم سے تعلیم و تبلیغ پر کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا، لیکن اتنا چاہتا ہوں کہ آپس کی قرابتداری کا لحاظ رکھو اور مجھے ایذاء نہ پہنچاؤ۔ آیت مودۃ کا صحیح مطلب : جمہور سے آیت کی جو تفسیر منقول ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں تم اس کا اعتراف کرو اور اپنی صلاح و فلاح کے لئے میری اطاعت کرو، اگر تم میری رسالت ونبوت کو تسلیم نہیں کرتے تو نہ سہی مگر تم پر میرا ایک انسانی اور خاندانی حق بھی ہے جس کا تم انکار نہیں کرسکے کہ تمہارے اکثر خاندانوں اور قبائل میں میری قرابتداری ہے، تو میں تمہاری اس خدمت کا جو میں تمہاری تعلیم و تبلیغ اور اصلاح اعمال واحوال کے لئے کرتا ہوں تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا، صرف اتنا چاہتا ہوں کہ رشتہ داری کے حقوق کا خیال کرو، بات کا ماننا نہ ماننا تمہارے اختیار میں ہے، مگر کم از کم عداوت و دشمنی سے تو نسبت اور قرابت کا تعلق مانع ہونا چاہیے۔ دعوائے رسالت پر کفار کا اعتراض : جب آنحضرت ﷺ نے دعوائے نبوت پیش کیا، اور دعوت و تبلیغ کا کام شروع کیا تو کفار نے کہنا شروع کردیا کہ یہ اپنی خاندانی سیادت و قیادت قائم کرنے کے لئے ایک ڈھونگ ہے، محمد ﷺ اس طریقہ سے پورے عرب پر اپنی خاندانی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں، اگر بقول شیعہ حضرت آیت مودت کی اس تفسیر کو درست مان لیا جائے کہ اجر رسالت کے طور پر آپ ﷺ کے اہل بیت کی محبت واجب ہے اور محبت کا مطلب ہے ان کی قیادت و خلافت کا تسلیم کرنا تو پھر مشرکین مکہ کی اس بات کا درست ہونا لازم آتا ہے جو وہ کہا کرتے تھے کہ محمد ﷺ کا مقصد دعوائے نبوت سے خاندانی قیادت وسیادت قائم کرنا ہے۔ اور اگر بالفرض مودت سے قرابتداروں کی محبت اس طرح کی محبت اجر رسالت کے طور پر مراد لی جائے جیسی کہ شیعہ حضرات مراد لیتے ہیں، تو آیت مودت دیگر بہت سی آیتوں کے منافی ٹھہرے گی، مثلاً فرمایا گیا (1) مَا اَسئَلُکُمْ مِنْ اجرٍ فھو لکم ان اجری اِلاّ علی اللہ میں جو کچھ تم سے معاوضہ طلب کروں وہ تم ہی کو مبارک ہو، میری اجرت تو اللہ پر ہے (2) اَمْ تَسْئلُھم اجرًا فھم مِن مغرمٍ مثقلون کیا آپ ان سے مزدوری طلب کرتے ہیں کہ جس کے تاوان سے وہ دبے جاتے ہیں، ان کے علاوہ اور بہت سی آیتیں ہیں، جن میں آنحضرت ﷺ کو معاوضہ طلب کرنے سے منع کیا گیا ہے اور آپ سے اس کا اعلان بھی کرا دیا گیا، فرمایا گیا : قُلْ لاَ اَسئلُکُمْ علیہ اجرًا اِن ھو الاّ ذکریٰ للعالمین اے نبی کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس کی کچھ اجرت نہیں چاہتا یہ تو سارے جہان کے لئے نصیحت ہے، ادھر تو آپ تبلیغ رسالت پر کوئی معاوضہ نہ لینے کا اعلان فرما رہے ہیں، جیسا کہ دیگر انبیاء (علیہم السلام) نے بھی اعلان فرمایا اور ادھر بقول شیعہ حضرات آیت مودت میں معاوضہ لینے کا مطالبہ فرما رہے ہیں اس میں کھلا تضاد ہے، حالانکہ اتباع انبیاء کی ایک بڑی وجہ، قرآن اس بات کو قرار دے رہا ہے کہ وہ مخلوق سے اجرت طلب نہیں کرتے، اِتّبِعُوا من لا یَسْئلکم اجرًا وھم مھتدون۔ ( سورة یٰس) اہل تشیع کے اختیار کردہ معنی عربیت کے لحاظ سے بھی غلط ہیں : آیت میں الا المودۃ فی القربیٰ فرمایا گیا ہے الا المودۃ للقربیٰ نہیں فرمایا گیا یا لذوی القربیٰ نہیں فرمایا گیا، اگر شیعہ حضرات کے اختیار کردہ معنی مراد ہوتے تو آیت کو اس طرح ہونا چاہیے تھا قل لا اَسْئلُکُم ْ علیہ اجرًا اِلا المودۃ لذوی القربیٰ جیسا کہ سورة انفال میں کہا گیا ہے واعلموا انما غنمتم من شییء فانَّ اللہ خمسہ وللرسول ولذی القربیٰ اور سورة روم میں فرمایا گیا ہے فاتِ ذَا القربیٰ حقَّہٗ اور سورة بقرۂبقرہ میں فرمایا گیا ہے وآتی المالَ علیٰ حبہ ذوی القربیٰ ۔ اہل بیت رسول ﷺ کی تعظیم و محبت : حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم و محبت کا تمام دنیا سے زائد ہونا جزء ایمان بلکہ مدار ایمان ہے اور اس کے لئے لازم ہے کہ جس کو جس قدر نسبت قریبہ آنحضرت ﷺ سے ہے اس کی تعظیم و محبت بھی اسی پیمانہ پر درجہ بدرجہ واجب اور لازم ہے، مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ ازواج مطہرات اور دیگر صحابہ کرام کہ جن کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ متعدد قسم کی قرابتی نسبتیں حاصل ہیں ان کو فراموش کردیا جائے۔ خلاصہ یہ کہ اگرچہ آنحضرت ﷺ نے اپنی خدمت کے صلہ میں قوم اور امت سے اپنی اولاد کی محبت و عظمت کے لئے شیعہ حضرات کے طریقہ پر کوئی درخواست نہیں کی، اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اپنی جگہ آل رسول کی محبت و عظمت کوئی اہمیت نہیں رکھتی، ایسا خیال کوئی بدبخت گمراہ ہی کرسکتا ہے، خلاصہ یہ کہ اہل بیت وآل رسول ﷺ کی محبت کا مسئلہ امت میں کبھی زیر اختلاف نہیں رہا، بالا جماع درجہ بدرجہ ان کی عظمت واجب ہے اور لازم ہے، اختلافات وہاں پیدا ہوتے ہیں جہاں دوسروں کی عظمتوں پر حملہ کیا جاتا ہے۔ اَمْ یقولون افتریٰ علی اللہ (الآیۃ) مطلب یہ ہے کہ اگر اس الزام افتراء میں کوئی صداقت ہوتی تو ہم آپ کے دل پر مہر لگا دیتے جس سے وہ قرآن ہی محو ہوجاتا جس کے گھڑنے کا انتساب آپ کی طرف کیا جاتا ہے، مطلب یہ کہ ہم آپ کو سخت ترین سزا دیتے۔ وھو الذی یقبل التوبۃ عن عبادہٖ (الآیۃ) توبہ کا مطلب ہے، معصیت پر ندامت کا اظہار اور آئندہ اس کو نہ کرنے کا عزم، محض زبان سے توبہ توبہ کرلینا اور اس کا گناہ اور معصیت کے کام کو نہ چھوڑنا، اور توبہ کا اظہار کئے جانا توبہ نہیں ہے، یہ تو استہزاء اور مذاق ہے، تاہم خالص اور سچی توبہ کو اللہ تعالیٰ یقیناً قبول فرماتا ہے۔ وَ یَسْتَجِیْبُ الذین آمنوا وعملوا الصّٰلحٰتِ (الآیۃ) اللہ تعالیٰ دعائیں سنتا ہے اور لوگوں کی آرزؤں اور تمناؤں کو پورا فرماتا ہے بشرطیکہ دعاء کے آداب و شرائط کا بھی پورا اہتمام کیا جائے، حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی دعاء سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی سواری مع کھانے پینے کے سامان کے صحراء بیابان میں گم ہوجائے اور وہ ناامید ہو کر کسی درخت کے نیچے لیٹ کر موت کا انتظار کرنے لگے، پھر اچانک اس کی سواری مع سازوسامان کے اس کے پاس آجائے، اور فرط مسرت میں اس کے منہ سے نکل جائے، اے اللہ تو میرا بندہ اور میں تیرا رب یعنی شدت فرط مسرت میں وہ غلطی کر جائے۔ (صحیح مسلم کتاب التوبہ) وَلَوْ بَسَطَ اللہُ الرزق لِعِبَادِہ (الآیۃ) یعنی اگر اللہ تعالیٰ ہر شخص کو حاجت اور ضرورت سے زیادہ یکساں طور پر وسائل رزق عطا فرما دیتا تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ کوئی کسی کی ماتحتی قبول نہ کرتا، ہر شخص شروفساد اور بغی وعدوان میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرتا، جس سے پوری زمین میں فساد برپا ہوجاتا۔