41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 41:1–8

تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۚ Open ayah 41:2 in the Quran reader

(یہ کتاب خدائے) رحمن و رحیم (کی طرف) سے اتری ہے

كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَۙ Open ayah 41:3 in the Quran reader

(ایسی) کتاب جس کی آیتیں واضح (المعانی) ہیں (یعنی) قرآن عربی ان لوگوں کے لئے جو سمجھ رکھتے ہیں

بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۚ فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 41:4 in the Quran reader

جو بشارت بھی سناتا ہے اور خوف بھی دلاتا ہے لیکن ان میں سے اکثروں نے منہ پھیرلیا اور وہ سنتے ہی نہیں

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ وَ فِیْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَیْنِنَا وَ بَیْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 41:5 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ جس چیز کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اس سے ہمارے دل پردوں میں ہیں اور ہمارے کانوں میں بوجھ (یعنی بہرا پن ہے) اور ہمارے اور تمہارے درمیان پردہ ہے تو تم (اپنا) کام کرو ہم (اپنا) کام کرتے ہیں

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِیْمُوْۤا اِلَیْهِ وَ اسْتَغْفِرُوْهُ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 41:6 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں (بھی) آدمی ہوں جیسے تم (ہاں) مجھ پر یہ وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود خدائے واحد ہے تو سیدھے اسی کی طرف (متوجہ) رہو اور اسی سے مغفرت مانگو اور مشرکوں پر افسوس ہے

الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:7 in the Quran reader

جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کے بھی قائل نہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 41:8 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کے لئے (ایسا) ثواب ہے جو ختم ہی نہ ہو

آیت نمبر 1 تا 8 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ کلام رحمٰن و رحیم کی طرف سے اتارا ہوا ہے (تَنْزِیلٌ) مبتداء ہے، کتابٌ اس کی خبر، یعنی یہ ایسی کتاب ہے کہ جس کی آیتوں کو خوب کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے یعنی احکام وقصص و مواعظ کو خوب ممتاز و ممیّز کرکے بیان کیا گیا ہے (حال یہ کہ) قرآن عربی میں ہے قرآناً ، کتابٌ سے بسبب صفت کے حال ہے، لقومٍ ، فصلت سے متعلق ہے، اس قوم کے لئے جو مجھتی ہو اور وہ قوم عرب ہے، خوشخبری سنانے والا ہے (بشیراً ) قرآن کی صفت ہے، پھر بھی ان کی اکثریت نے منہ موڑ لیا، اور وہ قبول کرنے کے لئے سنتے ہی نہیں ہیں، اور انہوں نے نبی ﷺ سے کہا کہ تو جس کی طرف ہمیں بلارہا ہے ہمارے دل تو اس سے پردے میں ہیں اور ہمارے کانوں میں ڈاٹ (لگی ہوئی) ہے یعنی ہمارے کانوں میں گرانی ہے اور ہمارے اور تیرے ایک حجاب ہے یعنی دینی اختلاف ہے اچھا تو تو اپنے دین پر عمل کئے جا اور ہم اپنے دین پر عمل کررہے ہیں، آپ کہہ دیجئے ! کہ میں تو تم ہی جیسا انسان ہوں مجھ پر وحی نازل کی جاتی ہے کہ تم سب کا معبود ایک اللہ ہی ہے تو تم ایمان اور اطاعت اسی کی طرف متوجہ ہوجاؤ اور اس سے معافی چاہو اور مشرکوں کے لئے بڑی خرابی ہے، وَیْلٌ کلمہ عذاب ہے، وہ لوگ جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کے بھی منکر ہیں ھُمْ تاکید ہے بیشک جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں ان کے لئے نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : تَنْزِیْلٌ مصدر بمعنی اسم مفعول، مبتداء، کتابٌ خبر۔ شبہ : تنزیل نکرہ ہے اس کا مبتداء کیسے صحیح ہے ؟ دفع : من الرحمٰن الرحیم، تنزیل کی صفت ہے، جس کی وجہ سے تخصیص ہو کر مبتداء صحیح ہوگیا، تقدیر عبارت یہ ہوگی المنزَّلُ مِنَ الرحمٰن الرحیم کتابٌ۔ قولہ : فصِّلَتْ آیاتہ کتاب کی صفت ہے۔ قولہ : حال من کتاب بصفتہٖ یعنی قرآن کتاب سے حال ہے۔ شبہ : کتاب نکرہ یہ ذالحال واقع نہیں ہوسکتا، اس لئے ذوالحال کے لئے معرفہ ہونا ضروری ہے۔ دفع : فُصِّلتْ آیاتہٗ چونکہ کتاب کی صفت ہے، لہٰذا کتاب کا ذوالحال واقع ہونا درست ہے حال من الکتاب بصفتہٖ کا یہی مطلب ہے، بصفتہٖ میں باء سببیہ ہے۔ قولہ : لقوم متعلق بفصلت یہ بھی ایک شبہ کا جواب ہے۔ شبہ : قرآن کریم کی آیات تو سب کے لئے مفصل اور واضح ہیں پھر قوم عاقل کے ساتھ تخصیص کی گئی ؟ دفع : اگرچہ قرآنی آیات فی نفسہٖ سب کے لئے مفصلہ واضحہ ہیں، مگر چونکہ عقل وفہم والے ہی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اس لئے عقلمندوں اور دانشمندوں کی تخصیص کی گئی ہے۔ قولہ : بشیراً صفۃ قرآنٍ ، بشیرًا قرآن کی صفت ہے، اور یہ بھی درست ہے، کہ بشیرًا و نذیرًا دونوں کتاب سے حال یا نعت واقع ہوں، اور عرب کی تخصیص اس لئے ہے کہ عرب قرآن کو بلا واسطہ سمجھنے والے اور اولین محاطب ہیں بخلاف غیر عرب کے۔ قولہ : وقالوا اس کا عطف اعراضَ پر ہے۔ قولہ : ثِقلٌ یہ وَقْرٌ کے اصل کا بیان ہے، مراد اس سے گراں گوشی (بہراپن) ہے۔ قولہ : وھم بالاخرۃِ ھم کافرون اس کا عطف یٗؤ تُوْنَ پر ہے، اور الذین کے تحت داخل ہے ھم ضمیر فصل کو حصر کے لئے لایا گیا ہے قولہ : تاکید اس کا مطلب تو یہ ہے کہ ھم ثانی اول ھُم کی تاکید ہے، اور ترویح الارواح میں کہا ہے، کافرون مشرکین کی تاکید ہے، گویا کہ یہ اعتراض کا جواب ہے کہ جب ان کی صفت شرک کو بیان کرتے ہوئے مشرکین کہہ دیا، تو پھر ھم کافروں کی کیا ضرورت تھی جواب کا حاصل یہ ہے کہ کافروں، مشرکینَ کی تاکید ہے لہٰذا بےفائدہ نہیں ہے۔ قولہ : ممنون اسم مفعول مَنَّ سے واحد مذکر غائب ہے (ن) کم کیا ہوا، قطع کیا ہوا۔ تفسیر ویشریح یہ سات سورتیں ہیں جو حٰمٓ سے شروع ہوئی ہیں، جن کو اٰلِ حٰمٓ یا حَوَامیم کہا جاتا ہے، باہم امتیاز کے لئے اس کے ساتھ نام میں کچھ الفاظ بھی شامل کردیئے جاتے ہیں، مثلاً سورة مومن کے حٰمٓ المؤمن اور اس سورت کے حٰمٓ میں حٰمٓ سجدہ کہا جاتا ہے، اس سورت کا دوسرا نام فُصِّلَتْ بھی ہے۔ شان نزول : نزول قرآن کے بعد ابتداء اسلام میں کفار نے زور وقوت کے ساتھ اسلام کی تحریک کو دبانے اور آپ ﷺ اور آپ پر ایمان لانے والوں کی طرح طرح کی ایذائیں پہنچا کر خوف زدہ کرنے کی بہت کوشش کیں، لیکن اسلام ان کی خواہش کے علی الرغم بڑھتا اور قوت پکڑتا چلا گیا، پہلے عمر بن الخطاب جیسے قوی اور جری اسلام میں داخل ہوگئے، اس کے بعد حضرت حمزہ ؓ جو قریش کے مسلم سردار تھے مسلمان ہوگئے، تو اب مجبوراً قریش مکہ نے ڈرانے دھمکانے کی پالیسی چھوڑ کر ترغیب و لالچ کے ذریعہ تبلیغ اسلام کا راستہ روکنے کی تدبیریں سوچنا شروع کردیں، اسی سلسلہ کا ایک واقعہ حافظ ابن کثیر نے مسند نزار، ابو یعلیٰ اور بغوی کی روایتوں سے نقل کیا ہے، محمد بن اسحٰق نے بیان کیا کہ محمد بن کعب قرظی کہتے ہیں کہ مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ عتبہ بن ربیعہ جو قریش کا بڑا قریش کا بڑا سردار مانا جاتا تھا، ایک روز قریش کی جماعت کے ساتھ حرم کعبہ کے صحن میں بیٹھا ہوا تھا، دوسری طرف رسول اللہ ﷺ حرم کے ایک گوشہ میں تنہا بیٹھے ہوئے تھے، قریش سرداروں نے باہم مشورہ کیا کہ محمد ﷺ کے پیروکاروں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہی ہورہا ہے، ہمیں اس کے سدباب کے لئے ضرور کچھ کرنا چاہیے اگر آپ لوگوں کی رائے ہو تو محمد ﷺ سے گفتگو کروں، اور ان کے سامنے کچھ ترغیبی چیزیں پیش کروں، اگر ان میں سے وہ کسی چیز کو قبول کرلیں تو ہم وہ چیز انہیں دیدیں تاکہ وہ ہمارے دین و مذہب کے خلاف تبلیغ کرنا چھوڑ دیں، سب نے ایک زبان ہو کر کہا اے ابوالولید (یہ غلبہ کی کنیت ہے) آپ ضرور ایسا کریں، چناچہ عتبہ بن ربعیہ اٹھ کر آپ ﷺ کی حدمت میں گیا، اور آپ ﷺ پر عربوں میں انتشار اور افتراق پیدا کرنے کا الزام عائد کرنے کے بعد پیش کش کی کہ اس نئی دعوت سے آپ کا مقصد مال و دولت حاصل کرنا ہے وہ تو ہم جمع کئے دیتے ہیں، اور اگر آپ قیادت و سیادت چاہتے ہیں تو ہم آج ہی سے آپ کو اپنا لیڈر اور سردار تسلیم کئے لیتے ہیں، اور اگر آپ کسی حسین و جمیل لڑکی سے شادی کرنا چاہتے ہیں تو ایک نہیں ایسی دس لڑکیوں کا آپ کے لئے انتظام کئے دیتے ہیں، اور اگر آپ پر آسیب کا اثر ہے جس کی وجہ سے آپ ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں تو ہم اپنے خرچ سے آپ کا علاج کرادیتے ہیں، اور اگر آپ بادشاہت چاہتے ہیں تو ہم آپ کو اپنا بادشاہ تسلیم کرتے ہیں، عتبہ جو کہ نہایت فصیح اور قادر الکلام تھا طویل تقریر کرتا رہا اور آپ ﷺ خاموش سے سنتے رہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا : اے ابو الولید آپ اپنی بات پوری کرچکے ؟ آپ نے فرمایا اب میری سنئے، اس نے کہا ہاں بیشک میں سنوں گا، رسول اللہ ﷺ نے اپنی طرف سے کوئی جواب دینے کے بجائے اس سورت کی تلاوت شروع فرمادی، آپ برابر اس سورت کی تلاوت فرماتے رہے اور عتبہ بڑے غور سے سنتا رہا، جب آپ اس آیت پر پہنچے فاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُکُمْ صَاعِقَۃً مِّثل صاعِقَۃِ عادٍ وَّثمود تو عتبہ نے اپنا ہاتھ آپ کے دہن مبارک پر رکھ دیا اور اپنے نسب اور رشتہ کی قسم دے کر کہا ان پر رحم کیجئے، اگے کچھ نہ فرمایئے، اور ابن اسحٰق کی روایت میں ہے کہ عتبہ بڑے غور سے آپ کی تلاوت سنتا رہا اور جب آپ نے آیت سجدہ پر پہنچ کر سجدہ کیا اور فرمایا اے ابوالولید آپ نے سن لیا، اب آپ کو اختیار ہے جو چاہے کرو، عتبہ آپ کے پاس سے اٹھ کر اپنی مجلس کی طرف چلا تو یہ لوگ دور سے عتبہ کو دیکھ کر کہنے لگے، خدا کی قسم ابوالولید کا چہرہ بدلا ہوا ہے، اب اس لا چہرہ وہ نہیں جو یہاں سے جاتے وقت تھا، جب عتبہ اپنی مجلس میں پہنچا، تو لوگوں نے معلوم کیا، کہو ابوالولید ! کیا خبر لائے ؟ عتبہ (ابوالولید) نے کہا میری خبر یہ ہے : ” میں نے ایسا کلام سنا کہ خدا کی قسم اس سے پہلے کبھی ایسا کلام نہیں سنا تھا، خدا کی قسم نہ تو یہ جادوئی کلام ہے اور نہ شعر و شاعری، اور نہ کاہنوں کا کلام، اے میری قوم قریش ! تم میری بات مانو اور اس کو میرے حوالہ کردو، میری رائے یہ ہے کہ تم لوگ اس سے مقابلہ اور ایذاء سے باز آجاؤ، اور ان کو ان کے کام پر چھوڑ دو ، کیونکہ ان کے اس کلام کی ایک خاص شان ہونے والی ہے، تم ابھی انتظار کرو، باقی عرب لوگوں کا معاملہ دیکھو، اگر قریش کے علاوہ دیگر لوگوں نے ان کو شکست دیدی تو تمہارا مقصد تمہاری کوشش کے بغیر حاصل ہوگیا، اور اگر وہ عرب پر غالب آگئے تو ان کی حکومت تمہاری حکومت ہوگی، انکی عزت سے تمہاری عزت ہوگی اور اس وقت تم انکی کامیابی کے شریک ہوؤ گے “۔ جب قریشیوں نے ابوالولید کا مشورہ سنا تو کہنے لگے اے ابوالولید تم پر تو محمد ﷺ نے جادو کردیا، عتبہ نے جواب دیا میری رائے تو یہی ہے اگے تمہیں اختیار ہے جو چاہو کرو۔ وقالو۔۔ اکنۃ، اَکِنَّۃٍ کِنانٌ کی جمع ہے، پردہ، کنان دراصل تیردان (ترکش) کو کہتے ہیں، یعنی ہمارے دل اس بات سے پردوں میں ہیں کہ ہم تیری ایمان و توحید کی دعوت سمجھیں یہاں مشرکین نے تین باتیں کہی ہیں : (1) یہ کہ ہمارے قلوب پر آپ کے کلام سے پردہ پڑا ہوا ہے (2) یہ کہ ہمارے کان آپ کی باتوں سے بہرے ہیں (3) یہ کہ ہمارے اور آپ کے درمیان پردے حائل ہیں وَقْرًا، وقر کے اصل معنی بوجھ کے ہیں، یہاں ثقل سماعت مراد ہے جو حق کے سنتے میں مانع تھا، اور یہ کہ ہمارے اور آپ کے درمیان ایسا پردہ حائل ہے کہ آپ جو کہتے ہو وہ ہم سن نہیں سکتے، اور جو کرتے ہوا سے دیکھ نہیں سکتے، اس لئے آپ ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دو ، اور ہم آپکو آپکے حال پر چھوڑ دیں، آپ ہمارے دین پر عمل نہیں کرتے ہم آپکے دین پر عمل نہیں کرسکتے لَایوتونَ الزکوٰۃ یعنی یہ لوگ زکوٰۃ نہیں دیتے۔ سوال : یہ سورت مکی ہے، اور زکوٰۃ مدینہ میں فرض ہوئی ہے تو پھر فرضیت سے قبل عدم ادائیگی کا الزام کیسا ؟ جواب : ابن کثیر نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ نفس زکوٰۃ کی فرضیت تو ابتداء اسلام میں نماز کے ساتھ ہوئی تھی، جس کا ذکر سورة مزمل کی آیات میں ہے، مگر اس کے نصابوں کی تفصیلات اور وصولی کا انتظام مدینہ طیبہ میں قائم ہوا، اس لئے یہ کہنا درست نہیں کہ زکوٰۃ مکہ میں فرض نہیں ہوئی تھی۔ سوال : اس آیت میں مشرکین کی ترک زکوٰۃ پر مذمت کی گئی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا مشرکین و کفار فروع مثلاً نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ کے مکلّف ہیں ؟ فروغ تو ایمان کے بعد واجب ہوتے ہیں، اس آیت سے تو معلوم ہوتا ہے کہ کفار فروع کے بھی مکلف ہیں۔ جواب : بعض ائمہ فقہاء کے نزدیک کفار بھی مخاطب بالفروع ہیں، ان کے اعتبار سے تو یہ اعتراض سرے سے وارد ہی نہیں ہوتا، اور حضرت کفار کو مخاطب بالفروع نہیں مانتے وہ کہتے ہیں کہ اس میں ترک زکوٰۃ پر اصل مذمت نہیں بلکہ ان کا ترک زکوٰۃ چونکہ کفر کی بناء پر تھا اور ترک زکوٰۃ اس کی علامت تھی اصل قصور ایمان نہ لانا ہے (معارف) حسن اور قتادہ نے کہا ہے لا یقرُّونَ بوجوبھا یعنی زکوٰۃ ادا نہ کرنے سے مطلب زکوٰۃ کے وجوب کا اقرار نہ کرنا ہے، اور ضحاک و مقاتل نے کہا ہے لا یتصدقون ولا ینفقون فی الطاعۃ یعنی زکوٰۃ ادا نہ کرنے سے مستحقین اور عزیز و اقارب پر خرچ نہ کرنا مراد ہے، یعنی کفار کے عزیز و اقارب میں جو مسلمان ہوجاتے تھے ان کی مالی امداد نہیں کرتے تھے، جو کہ ایک اخلاقی نسبی فریضہ ہے، وقال الفراء کان المشرکون ینفقون النفقات ویسقون الحجیج ویطعمُونَھُمْ فَحَرَّمُوْا ذٰلک علیٰ مَنْ آمَنَ بحمدٍ ﷺ یعنی مشرکین صدیقہ کرتے تھے اور حاجیوں کے لئے کھانے پینے کا انتظام کرتے تھے، مگر جو مسلمان ہوجاتے تھے ان کو محروم رکھتے تھے، اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (فتح القدیر شو کانی) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ زکوٰۃ نہ دینے سے یہاں لَا الٰہَ اِلَّا اللہ کی گواہی نہ دینا ہے اسلئے کہ یہ کلمہ انسان کی ذات کی زکوٰۃ ہے مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے نفوس کا لا الٰہ الَّا اللہ کہہ کر شرک سے پاک صاف نہیں کرتے تھے۔ (حاشیہ جلالین)
Ayahs 41:9–18

قُلْ اَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 41:9 in the Quran reader

کہو کیا تم اس سے انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور (بتوں کو) اس کا مدمقابل بناتے ہو وہی تو سارے جہانوں کا مالک ہے

وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بٰرَكَ فِیْهَا وَ قَدَّرَ فِیْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِیْۤ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍ١ؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 41:10 in the Quran reader

اور اسی نے زمین میں اسکے اوپر پہاڑ بنائے اور زمین میں برکت رکھی اور اس میں سب سامان معیشت مقرر کیا (سب) چار دن میں (اور تمام) طلبگاروں کے لئے یکساں

ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَ هِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ Open ayah 41:11 in the Quran reader

پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے انہوں نے کہا کہ ہم خوشی سے آتے ہیں

فَقَضٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ اَوْحٰى فِیْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا١ؕ وَ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ١ۖۗ وَ حِفْظًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 41:12 in the Quran reader

پھر دو دن میں سات آسمان بنائے اور ہر آسمان میں اس کے (کام) کا حکم بھیجا اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں (یعنی ستاروں) سے مزین کیا اور (شیطانوں) سے محفوظ رکھا یہ زبردست (اور) خبردار کے (مقرر کئے ہوئے) اندازے ہیں

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَؕ Open ayah 41:13 in the Quran reader

پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو کہہ دو کہ میں تم کو ایسی چنگھاڑ (کے عذاب) سے آگاہ کرتا ہوں جیسے عاد اور ثمود پر چنگھاڑ (کا عذاب آیا تھا)

اِذْ جَآءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ قَالُوْا لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً فَاِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:14 in the Quran reader

جب ان کے پاس پیغمبر ان کے آگے اور پیچھے سے آئے کہ خدا کے سوا (کسی کی) عبادت نہ کرو کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو فرشتے اتار دیتا سو جو تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اسکو نہیں مانتے

فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ قَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً١ؕ اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَهُمْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:15 in the Quran reader

جو عاد تھے وہ ناحق ملک میں غرور کرنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم سے بڑھ کر قوت میں کون ہے ؟ کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ خدا جس نے ان کو پیدا کیا وہ ان سے قوت میں بہت بڑھ کر ہے اور وہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے رہے

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَ هُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 41:16 in the Quran reader

تو ہم نے بھی ان پر نحوست کے دنوں میں زور کی ہوا چلائی تاکہ انکو دنیا کی زندگی میں ذلت کے عذاب کا مزہ چکھا دیں اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی ذلیل کرنے والا ہے اور (اس روز) انکو مدد بھی نہ ملے گی

وَ اَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَیْنٰهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰى عَلَى الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَۚ Open ayah 41:17 in the Quran reader

اور جو ثمود تھے ان کو ہم نے سیدھا راستہ دکھا دیا تھا مگر انہوں نے ہدایت کے مقابلے میں اندھا رہنا پسند کیا تو انکے اعمال کی سزا میں کڑک نے ان کو آپکڑا اور وہ ذلت کا عذاب تھا

وَ نَجَّیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 41:18 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے رہے ان کو ہم نے بچا لیا

آیت نمبر 9 تا 18 ترجمہ : آپ کہہ دیجئے ! کہ کیا تم اس (اللہ) کا انکار کرتے ہو، اور اس کے شریک ٹھہراتے ہو جس نے زمین دو روز میں پیدا کردی یعنی اتوار اور پیر میں اَئِنَّکُمْ میں دوسرے ہمزہ کی تحقیق و تسہیل کے ساتھ اور دونوں صورتوں میں ان کے درمیان الف داخل کرکے تمام جہانوں کا مالک وہی ہے عالمین عالَم کی جمع اور وہ اللہ کے علاوہ ہے عالمین عالَمْ مختلف الانواع ہونے کی وجہ سے جمع اور ذوی العقول کو (غیر ذوی العقول پر) غلبہ دینے کی وجہ سے یاء ونون کے ساتھ لایا گیا ہے، اور اس نے زمین میں اس کے اوپر جمے رہنے والے پہاڑ رکھ دیئے یہ جملہ مستانفہ ہے، اس کا عطف الذی کے صلہ پر فصل بالاجنبی کی وجہ سے جائز نہیں ہے اور اس میں پانی اور کھیتی (دودھ دینے والے) جانوروں کے ذریعہ برکت دی اور اس میں (رہنے والے) انسانوں اور جانوروں کی روزی کی تجویز بھی سی (زمین) میں کردی (مکمل) چار دن میں یعنی جَعْلِ جبال و تقدیر اقوات کل چاردن میں اور جعل کے ساتھ جو مذکورہ ہے یعنی تقدیر اقوات (وہ) دو دن میں اور وہ سہ شنبہ اور چہار شنبہ ہیں (اس طرح جعل اور تقدیر مل کر چار دن پورے ہوئے) سواءً مصدریت کی وجہ سے منصوب ہے یعنی چار دن پورے، نہ زائد اور نہ کم، ارض ومافیھا کی تخلیق کے بارے میں (یہ حصر) معلوم کرنے والوں کے لئے پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں یعنی اٹھتی ہوئی بھاپ (سی) تھی (اللہ نے) اس سے یعنی آسمان اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں تعمیل کرو میری مراد کی جو تم سے ہے خوشی سے یا زبردستی محل میں حال کے ہیں یعنی حال یہ ہے کہ دونوں خوشی سے آؤ یا نا خوشی سے، دونوں نے کہا مع ان چیزوں کے جو ہم میں ہیں ہم خوشی سے حاضر ہیں اس میں مذکورہ ذوی العقول کو غلبہ دیا گیا ہے، یا ان دونوں کو خطاب کی وجہ سے ذوی العقول کے درجہ میں اتارلیا گیا ہے، پس دو دن میں سات آسمان بنادیئے، جمعرات اور جمعہ کے دن میں، جمہ کی آخری ساعت میں اس کی تخلیق سے فارغ ہوگیا، اور اسی دن آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا اور اسی وجہ سے یہاں مکمل دن نہیں فرمایا فَقَضٰھُنَّ کی ضمیر السَّمَاء کی طرف راجع ہے، اس لئے کہ سماء مایؤل کے اعتبار سے جمع ہے یعنی آسمان کو سات آسمان بنادیا، (اس تاویل کے بعد) جو یہاں ہے وہ ان آیات کے مطابق ہوگیا جن میں زمین و آسمان کی تخلیق کا بوجھ دن میں ذکر ہے ہر آسمان میں اس کے مناسب حکم بھیج دیا وہ حکم جس کا ان میں رہنے والوں کو حکم دیا گیا، وہ (حکم) طاعت اور عبادت ہے اور ہم نے آسمان دنیا کو تاروں سے زینت دی، اور حفاظت کی حِفظًا فعل مقدر کی وجہ سے منصوب ہے تقدیر عبارت یہ ہے، حَفِظْنَاھا حفظًا عن استراق الشیاطین السمع بالشھُبِ یعنی ہم نے شہاب کے ذریعہ آسمانوں کی شیاطین سے چوری سے باتیں سننے سے حفاظت کردی یہ منصوبہ بندی اپنے ملک میں غالب (اور) اپنی مخلوق سے باخبر کی ہے اگر اس بیان کے بعد بھی کفار مکہ ایمان سے دو گردانی کریں تو کہہ دیجئے کہ میں تمہیں اس کڑک (عذاب آسمانی) سے ذراتا ہوں کہ جو عادیوں اور ثمودیوں کی کڑک کے مانند ہوگا یعنی اس عذاب سے ڈرتا ہوں جو تم کو ہلاک کردے گا (اور) وہ اس عذاب کے مثل ہوگا جس نے ان کو ہلاک کردیا جبکہ ان کے پاس آگے سے بھی اور پیچھے سے بھی پیغمبر آئے یعنی یکے بعد دیگرے تو ان لوگوں نے انکار کیا جیسا کہ عنقریب آتا ہے، اور (عذاب سے) ہلاکت آپ ﷺ کے زمانہ میں ہوئی، نہ کہ آپ ﷺ کے بعد کہ تم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو تو انہوں نے جواب دیا اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو فرشتوں کو بھیجتا ہم تو بزعم شما تمہاری رسالت کے بالکل منکر ہیں سو عاد نے تو حق زمین میں سرکشی شروع کردی اور جب ان کو ڈرایا گیا تو کہنے لگے ہم سے زیادہ زور آور کون ہے ؟ یعنی کوئی نہیں، ان میں کا تنہا شخص پہاڑ سے ایک بڑی چٹان کو اکھاڑ کیتا تھا (اور) جہاں چاہتا اٹھا کر رکھ دیتا کیا وہ یہ نہیں جانتے کہ جس نے انہیں پیدا کیا ہے وہ ان سے (بہت زیادہ) زور آور ہے اور وہ (آخر تک) ہماری آیتوں یعنی معجزوں کا انکار ہی کرتے رہے، بالآخر ہم نے ان پر ایک تیز وتند سرد، سخت آواز بلا بارش والی آندھی منحوس دنوں میں بھیج دی، جاء کے کسرہ اور سکون کے ساتھ یعنی ان کے لئے نامبارک دنوں میں کہ انہیں دنیوی زندگی میں ذلت کے عذاب کا مزہ چکھائیں اور (یقین مانو) کہ آخرت کا عذاب اس سے بہت زیادہ رسوائی والا ہے اور ان کی عذاب سے بچا کر مدد نہیں کی جائے گی، رہے ثمود تو ہم ان کی بھی رہبری کی یعنی ہدایت کا راستہ ان کے لئے واضح کردیا، پھر بھی انہوں نے اندھے پن یعنی کفر کو ہدایت کے مقابلہ میں پسند کیا جس بناء پر انہیں ذلت کے عذاب کی کڑک نے ان کے کرتوتوں کے باعث پکڑ لیا اور ہم نے اس صاعقہ سے ایمان والوں اور اللہ سے ڈرنے والوں کو بچالیا۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : اَئِنَّکُمْ اس میں چار قراءتیں ہیں، مگر مفسرعلام کی عبارت سے صرف دو معلوم ہورہی ہیں، پہلا ہمزہ تو ہمیشہ محقق ہی ہوتا ہے البتہ دوسرے میں تحقیق و تسہیل دونوں جائز ہیں، دونوں صورتوں میں دونوں ہمزوں کے درمیان الف داخل کرکے، یہ دو قراءتیں ہوگئیں، حالانکہ ترک ادخال الف کی صورت میں دو قراءتیں اور ہیں اس طرح چار قراءتیں ہوتی ہیں، لہٰذا علام اگر وترکہٖ کا اضافہ فرمادیتے تو مذکورہ چاروں قراءتوں کی طرف اشارہ ہوجاتا، اصل عبارت یوں ہوتی چاہیے واِدخال الف وترکہٖ (ای ادخالَ ) بینھا وبین الاولیٰ بوَجْھَیْھَا۔ قولہ : أئِنَّکُمْ لَتَکْفُرُنَ ہمزہ استفہامیہ انکاریہ ہے اِنَّ اور لام تاکید کے لئے ہیں، ہمزہ صدارت کلام کے مطالبہ کی وجہ سے مقدم کردیا گیا ہے کُمْ اِنَّ کا اسم برائے تاکید ہے، تَکْفُرونَ جملہ ہو کر اَنَّ کی خبر ہے، اور تَجْعَلُوْنَ کا عطف تکفُرونَ پر ہے۔ قولہ : کَہٗ ، تَجْعَلُوْنَ کا مفعول ثانی ہونے کی وجہ سے محلاً منصوب ہے، اور اَندَادًا مفعول اول ہے ذٰلک مبتداء ہے اس کا مشارٌ الیہ الَّذِیْ ہے، اپنے صلہ کے ساتھ متصف ہونے کے اعتبار سے (مراد اللہ تعالیٰ ہے) ۔ قولہ : وَجَعَلَ فیھَا رَوَاسِیَ میں صحیح قول کے مطابق واؤ عاطفہ ہے، اور جَعَلَ کا عطف خَلَقَ پر ہے مگر ابوالبقاء وغیرہ نے واؤ کے عاطفہ ہونے سے انکار کیا ہے، اور واؤ کو استینافہ مانتے ہوئے کلام کو مستانف مانا ہے، انکار کیوجہ یہ بیان کی ہے کہ اگر جَعَلَ لا خلَقَ پر عطف کیا گیا تو اَلَّذِیْ موصول کے تحت داخل ہونے کی وجہ سے جزء صلہ ہوگا اور یہ جائز نہیں ہے اسلئے کہ وَیَجْعِلُوْنَ لَہُ الخ جملہ معترضہ ہے، اور صلہ کے تام ہونے سے پہلے درمیان صلہ میں فصل بالا جنبی جائز نہیں ہے، بعض حضرات نے جَعَلَ کا عطف خَلَقَ پر جائز کہا ہے، اور ابوالبقاء کے انکار کا یہ جواب دیا ہے کہ یہ دو عاطفہ جملوں کے درمیان آنے والے جملہ معترضہ کے مشابہ ہے، اور دو معطوف جملوں کے درمیان جملہ معترضہ کا وقوع کثیر ہے، لہٰذا صحیح بات یہ ہے کہ خَلَقَ پر جَعَلَ کے عطف پر کوئی اعتراض نہیں ہے (اعراب القرآن) قولہ : فِی یَوْمَیْنِ ای فی مقدار یومین اس لئے کہ یوم کا وجود طلوع و غروب شمس سے ہوتا ہے اور شمس کا اس وقت وجود نہیں تھا تو یوم کا وجود کیسے ہوسکتا تھا۔ قولہ : جمع لِاِِ خْتِلاَفِ اَنْوَاعِہٖ ۔ فائدہ : مذکورہ عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے سوال : عَالَم اسم جنس ہے جسکا اطلاق ماسوی اللہ پر ہوتا ہے، اور جمع کیلئے کم از کم تین افراد کا ہونا ضروری ہے، حلان کہ عَالَم ایک ہے۔ جواب : عالم کے چونکہ انواع مختلف ہیں، مثلاً عالم ملائکہ، عالم دنیا، عالم آخرت، عالم انس، عالم جن وغیرہ اختلاف انواع کا اعتبار کرتے ہوئے، العالمین کو جمع لایا گیا ہے۔ فائدہ : تَغلیباً لِلْعُقَلاءِ اس عبارت سے بھی ایک شبہ کا دفع مقصود ہے۔ شبہ : عالم ذوی العقول اور غیر ذوی العقول دونوں کا مجموعہ ہے اور عالم میں غالب اکثریت غیر ذوی العقول کی ہے، لہٰذا اس کی جمع یاء ونون کے ساتھ نہیں آنی چاہیے، اس لئے کہ یاء نون کے ساتھ ذوی العقول کی جمع آتی ہے۔ دفع : عالَم میں اگرچہ غیرذوی العقول کی تعداد ذوی العقول کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہے، مگر عقل ایک ایسا قیمتی جو ہر ہے جو تمام صفات پر غالب اور فائق ہے اس صفت کے مقابلہ میں تمام صفات ہیچ اور بےکار ہیں، اس لئے ذوی العقول کی قلت کے باوجود غیر ذوی العقول پر غلبہ دیکر یاء نون کے ساتھ جمع لائے ہیں۔ قولہ : وَجَعَلَ مستانفٌ ولا یجوزُ عطفہٗ اس کی تحقیق اوپرگذرچ کی ہے۔ قولہ : فی تمام اربعۃِ ایَّامِ دو دن سابق، جن میں تخلیق ارض کا ذکر ہے اور دون لاحق جن میں تقدیر اقوات (روزی) کا ذکر ہے، اس طرح دونوں کی مل کر مجموعی تعداد چار دن ہوئی، نہ کہ صرف تقدیر اقوات چار دن میں، اس لئے کہ آئندہ تخلیق سبع سمٰوات کا ذکر آرہا ہے اور اس کی تخلیق کی مدت بھی دو دن بتائی گئی ہے، اگر تقدیر اقوات کی مدت چار دن تسلیم کرلی جائے جیسا کہ بظاہر معلوم ہوتا ہے تو ایام تخلیق کی مجموعی تعداد آٹھ ہوجائے گی، حالانکہ دیگر آیات میں چھ یوم میں کل کائنات کی تخلیق کی صراحت ہے، مثلاً خَلَقَ السمَوات والارض فی ستۃ ایام۔ قولہ : سوَاءً منصوب علی المصدریۃ، سواءً فعل محذوف استَوَتْ کا مصدر بلفظہٖ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، اور جملہ ہو کر ایامٍ کی صفت ہے۔ قولہ : للسَّائِلین اس کا تعلق سواءً سے ہے ای مستویَۃً لِلسَّائِلین ای جواب السائلین فیھا سواء لا یتغیَّر بسائلٍ بزیادَۃٍ ولا نَقصٍ (صاوی) بعض حضرات نے للسائلین کا تعلق محذوف سے کیا ہے، تقدیر عبارت یہ ہے کہ ھٰذا الحصر للسائلین۔ (ترویح الارواح) قولہ : ثُمَّ اسْتَوٰی الی السماء۔ سوال : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان کی تخلیق زمین کی تخلیق کے بعد ہے اور اللہ تعالیٰ کے قول والارْضَ بَعْدَ ذٰلِکَ دَحٰھَا سے اس کا عکس معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی تخلیق سے آسمان کی تخلیق پہلے ہے۔ جواب : اللہ تعالیٰ کے قول والأرضَ بعدِذٰلک دَحٰھا سے مراد زمین کا پھیلانا ہے، یعنی زمین کے مادہ کی تخلیق تو آسمان کی تخلیق سے پہلے ہے مگر زمین کا پھیلانا بعد میں ہے، لہٰذا کوئی تعارض نہیں ہے۔ قولہ : مرادی . یعنی تاثیر فی السماء و تاثیر فی الارض جو کہ میری مراد ہے اس کی تعمیل کرو . قولہ : طَائِعِیْنَ فیہ تَغْلِیْب المذکر العاقل الخ . فائدہ : اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک شبہ کو دفع کرنا ہے۔ شبہ : ارض اور سماء لا یعقل ہونے کی وجہ سے واحد مؤنث کے حکم میں ہیں، لہٰذا طَائِعَتَیْنِ کہنا چاہیے تھا۔ دفع : ارض و سماء اگرچہ مؤنث ہیں مگر یہ دونوں ذوی العقول دونوں پر مشتمل ہیں، لہٰذا ذوی العقول کی فضیلت کی وجہ سے ذوی العقول کو غیر ذوی العقول پر غلبہ دیکر مذکر کی جمع لائی گئی ہے۔ قولہ : اونُزِّلَتَا میں مذکورہ اعتراض کا یہ دوسرا جواب ہے، اس جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ اِئْتِیَا کہہ کر جب زمین و آسمان کو مخاطب بنایا گیا، تو ان کو ذوی العقول کے درجہ میں اتار لیا گیا، اسی لئے اس کی جمع یاء نون کے ساتھ لائے، یہی مطلب ہے مفسر (رح) تعالیٰ کے قول اَوْنُزِّلَتَا لِخِطَابِھِنَا منزلَتَہٗ ۔ قولہ : لَاِنَّھَا فی معنی الجمع اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک شبہ کو دفع کرنا ہے۔ شبہ : فقضٰھُنَّ کی ضمیر، السماء کی طرف راجع ہے جو کہ واحد مؤنث کے حکم میں ہے، لہٰذا اس کا مقتضٰی یہ تھا کہ فقَضَاھَا کہتے۔ دفع : دفع کا خلاصہ یہ ہے کہ سماء قضا و تصییر کے بعد چونکہ سات ہونے والے ہیں لہٰذا مایؤل کے اعتبار سے جمع مان کر قضٰھُنَّ کو جمع مؤنث کا صیغہ لائے۔ قولہ : اَلْاٰئِلِۃُ اِلَیْہِ یہ آل یؤولُ سے اسم کا صیغہ ہے لوٹنے والی۔ قولہ : وَافَقَ ، وَافَقَ فعل ماضی مَا ھُنَا اس کا فاعل آیات وافَقَ کا مفعول۔ قولہ : اَمْرَھا اَلَّذِیْ اُمِرَبہ فیھا مِنَ الطاعۃِ والعِبَادَۃِ . اَمْرَھَا بترکیب اضافی موصوف اَلَّذِیْ موصول اَمِرَ فعل ماضی مجہول بِہٖ ، اُمِرَ سے متعلق مَنْ موصولہ فِیْھَا، موجودٌ کے متعلق ہو کر صلہ، موصول صلہ سے مل کر اُمِرَ کا نائب فاعل، فعل اپنے متعلق اور نائب فاعل سے مل کر مبیَّنْ مِنْ بیانیہ الطاعۃ العبادۃ معطوف معطوف عٰلیہ سے مل کر اَلَّذِی مبیَّن کا بیان، مُبَیَّنْ اپنے بیان سے مل کر اَمْرَھا کی صفت موصوف باصفت جملہ ہو کر اَوحٰی کا مفعول بہ۔ قولہ : شُھُبٌ شِھَابٌ کی جمع ہے، آگ کا شعلہ، روشن ستارہ۔ قولہ : أنْ ، اَنْ میں تین وجہ ہوسکتی ہیں (1) مخففہ عن المثقلہ اس صورت میں ضمیر شان اسم محذوف ہوگا، ای اَنَّہٗ لا تعبدوا (2) مصدریہ ناصب للمضارع، لا ناھِیَہ (3) مفسّرہ اس لئے کہ مجیئ الرُسُل قول کا احتمال رکھتا ہے اس لئے کہ ان مفسرہ کے لئے ضروری ہے کہ اس سے پہلے قول یا قول کے ہم معنی یا قول پر دلالت کرنے والا کوئی لفظ ہو، اگر مجیئ رسل کی دلالت قول پر نہ مانی جائے تو اَنْ تفسیر یہ ماننا صحیح نہ ہوگا۔ قولہ : وکانوا بایٰتِنَا اس کا عطف فَاسْتَکْبَرُوْا پر ہے۔ قولہ : صَرْ صَرًا، صِرٌّ پالا، ٹھِر، لودِ سموم، علامہ خازن بغدادی لکھتے ہیں، صرٌّ میں دو جہتیں ہیں (1) اکثر مفسرین اور اہل لغت کا قول یہ ہے کہ صرٌّ سخت ٹھنڈا کو کہتے ہیں، حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ وغیرہ نے یہی کہا ہے (2) گرم لو کو مہلک ہو، حضرت ابن عباس ؓ سے ایک روایت ایسی بھی ہے، اہل لغت میں ابن انباری کا بھی یہی قول ہے، قاضی بیضاوی نے کہا ہے اس کا اطلاق سرد ہوا کے لئے شائع ہے، جیسے صَرْ صَرْ یہ اصل میں مصدر ہے جو بطور صفت مستعمل ہے (لغات القرآن ملخصاً ) مفسر علام نے باردۃ شدید الصوت کہہ کر دونوں معنی کو جمع کردیا۔ قولہ : مشئوم یہ سعید کی ضد ہے منحوس، نامبارک۔ قولہ : ولَعذاب الآخرۃ، اَحْزٰ ی، اَخزیٰ دراصل معذب کی صفت ہے، عذاب کی طرف بطور مبالغہ اسناد مجازی ہے، اس لئے کہ عذاب رسوائی کا سبب ہے نہ کہ خود رسوائی، سبب بول کر مسبب مراد ہے۔ قولہ : بَیَّنَا لَھُمْ طریق الھُدٰی یہ جملہ فَھَدَیٌنَا ھُمْ کی تفسیر ہے اس کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ یہاں ہدایت سے مراد اراء تِ طریق ہے نہ کہ ایصال الی المطلوب۔ قولہ : منھا ای من الصاعقۃ التی نزلت بثمودَ ۔ تفسیر وتشریح قل۔۔۔ یومین . قرآن کریم میں متعدد مقامات پر ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمانوں کو چھ دن میں پیدا فرمایا، یہاں اس کی کچھ تفصیل اور ترتیب بیان فرمائی گئی ہے، فرمایا : زمین کو دو دن میں بنایا، دو دن سے یوم الاحد (اتوار) اور یوم الاثنین (پیر) مراد ہیں، سورة نازعات میں فرمایا گیا ہے، وَالْاَرْضَ بَعدَذٰلِکَ دَحٰھَا بظاہر اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کو آسمانوں کے بعد بنایا گیا ہے، جبکہ یہاں زمین کی تخلیق کا ذکر آسمانوں کی تخلیق سے پہلے کیا گیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کی وضاحت : حضرت ابن عباس ؓ نے وضاحت اس طرح فرمائی ہے کہ تخلیق اور چیز ہے دَحٰی جو اصل میں دَحْوٌ ہے، اس کے معنی ہیں بچھانا پھیلانا، اور چیز ہے، زمین کی تخلیق آسمان سے پہلے ہوئی ہے، جیسا کہ یہاں بھی بیان کیا گیا ہے، اور دَحْوٌ کا مطلب ہے زمین رہائش کے قابل بنانے کے لئے اس میں پانی کے ذخائر رکھے گئے، اسے پیداوارِ ضروریات کا مخزن بنایا گیا اَخْرَجَ مِنْھَا مَاءَھَا وَمَرْعٰھَا نیز اس میں اس نے پہاڑ، ٹیلے، جمادات نیز معدنیات رکھے، یہ عمل آسمان کی تخلیق کے بعد دوسرے مرحلہ میں دونوں میں کیا گیا، اس طریقہ سے زمین اور اس کے متعلقات کی تخلیق پورے چاردن میں مکمل ہوئی۔ (صحیح بخاری تفسیر سورة حٰمٓ السجدہ) پہاڑوں کو زمین ہی میں سے پیدا کرکے زمین میں پیوست کردیا تاکہ توازن قائم رہے اور بےترتیب حرکت نہ کرے اور رہائش کے قابل رہے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے زمین میں برکت رکھ دی اور زمین میں بسنے والی تمام مخلوق کے لئے اس کے حسب حال روزی مقدر فرمادی، پانی کی کثرت، انواع و اقسام کے رزق، معدنیات اور دیگر بہت سی مفید اور کار آمد اشیاء زمین میں ودیعت فرمادیں، اور رب العالمین کی اس تقدیر کا سلسلہ اتنا وسیع ہے کہ کوئی زبان اسے بیان نہیں کرسکتی، کوئی قلم اسے رقم نہیں کرسکتا، اور کوئی کیلکولیٹر اسے کیلولیٹ (شمار) نہیں کرسکتا، تخلیق ارض کے اولاً دو دن اور زمین کو پھیلانے اور قابل رہائش بنانے کے دو دن یہ سب مل کر چار دن ہوئے، سواءً کا مطلب ہے ٹھیک چاردن یعنی پوچھنے والوں کو بتلادو کہ تخلیق اور دَحْوٌ (پھیلانے) کا کام ٹھیک چاردن میں ہوا، یا اس کا مطلب یہ ہے کہ سائلین کے لئے یہ مکمل اور پورا جواب ہے۔ ثُمَّ اسْتَوٰی الَی السَّماءِ پھر آسمان کی (تخلیق) کی طرف متوجہ ہوا، آسمانوں کا مادہ دھوئیں اور بھاپ کی شکل میں تھا، حکم فرمایا تم دونوں میرے حکم کی تکمیل کے لئے مطیع و منقاد ہوجاؤ، برضا ورغبت یا طوعاً وکرہاً ، بہرحال امر الہٰی بجالانا ہے، دونوں نے عرض کیا ہم دونوں برضا ورغبت حاضر ہیں، پھر ان کو دو دن یعنی جمعرات وجمعہ میں سات آسمان بنادیا، اور ان کو چراغوں یعنی ستاروں سے مزین کردیا، جب آسمان جیسی مخلوق مطیع و فرمانبردار ہو تو انسان کی سرکشی کیسی ناز یبا حرکت ہے نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ نطق بشر کا خاصہ نہیں بلکہ حیوانات و نباتات اور جمادات میں بھی پایا جاتا ہے، البتہ نطق کی کیفیت اور نوعیت مختلف ہے، حیوانات میں تو ظاہر اور مشاہد ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کی بات سمجھتے ہیں، ہاں یہ فرق تو ہوسکتا ہے کہ انسان ہر امر میں مدرک اور ناطق ہو اور دیگر چیزیں خاص طور پر اپنے ہی سے متعلق امور میں مدرک ہوں۔ (خلاصہ التفاسیر، تائب) بعض مفسرین حضرات نے زمین و آسمان سے خطاب اور ان کی طرف سے جواب کو مجاز پر محمول کیا ہے، یعنی ہر کام کے کئے تیار پائے گئے، مگر ابن عطیہ اور دیگر محققین مفسرین نے فرمایا اس میں کوئی مجاز نہیں ہے، سب اپنی حقیقت پر ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمان و زمین میں شعور و ادراک پیدا فرمادیا تھا کہ جس کی وجہ سے خطاب کو سمجھیں اور جواب دینے کی صلاحیت پیدا ہوگئی تھی، ابن کثیر نے یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ زمین کی طرف سے یہ جواب اس حصہ نے دیا جس پر بعد میں بیت اللہ کی تعمیر ہوئی اور آسمان کی طرف سے اس حصہ نے جواب دیا تھا جس کے بالمقابل بیت العمور ہے۔ اذ۔۔۔ خلفھم رسولوں کے آگے پیچھے سے آنے کا مطلب یہ ہے کہ یکے بعد دیگرے متعدد اور مسلسل رسول آئے اگر ایک رسول رحصت ہوتا تھا تو دوسرا آتا تھا، اور اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے رسولوں نے ان کو ہر طرح سے ہر وقت اور ہرحال میں سمجھایا، ماضی کی مجرم قوموں کے عبرتناک واقعات بھی سنائے اور آئندہ کے حادثات اور ہولناک عذاب سے ڈرایا بھی، اور سب نے ایک ہی پیغام سنایا کہ ایک اللہ ہی کہ عبادت کرو مگر عاد وثمود نے ایک نہ سنی، الٹا یہ الزام رکھ دیا کہ تم تو ہماری طرح کے انسان ہو، اس لئے ہم تمہیں نبی نہیں مان سکتے، اللہ کو اگر نبی بھیجنا تھا تو فرشتوں کو بھیجتا نہ کہ انسان کو۔ جب ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو انذار و تنبیہ کے لئے عذاب سے ڈرایا تو سرکشی پر اتر آئے اور کہنے لگے ہم بڑے طاقتور اور زور آور اور بڑے قد آور ہیں، ہم عذاب کو روکنے کی صلاحیت اور طاقت رکھتے ہیں۔ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ رِیْحًا صَرْ صَرًا فی اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ ، صَرْصَرْ ، صُرَّۃٌ سے ہے اس کے معنی شدید آواز کے ہیں، یعنی نہایت تندوتیز ہوا جس میں آواز بھی ہو، بعض حضرات نے فرمایا یہ صَرٌّ سے مشتق ہے جسکے معنی برد یعنی شدید ٹھنڈک کے ہیں جسکو پالا بھی کہتے ہیں۔ فی۔۔ نحسات . ضحاک ؓ نے فرمایا کہ ان لوگوں پر الہ تعالیٰ نے تین سال تک بارش بالکل بند کردی اور تیز و تند خشک ہوائیں چلتی رہیں، اور آٹھ دن اور راتوں تک مسلسل ہوا کا شدید طوفان رہا بعض روایات میں ہے کہ یہ طوفان آخر شوال میں ایک بدھ سے شروع ہو کر دوسرے بدھ تک رہا اور جس کسی قوم پر عذاب آیا ہے وہ بدھ ہی کے دن آیا ہے (قرطبی، مظھری) کسی چیز میں نحوست کا مطلب : اصول اسلام اور احادیث سے ثابت ہے کہ دن و رات میں کوئی بھی منحوس نہیں، تو پھر قوم عاد پر طوفان باد کے ایام کو منحوس فرمانے کا کیا مطلب ہے ؟ جواب : اپنی ذات کے اعتبار سے کوئی شئ منحوس نہیں، قوم عاد پر طوفان باد کو منحوس کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایام ان کی بد اعمالیوں کے سبب سے ان کے حق میں منحوس ہوگئے تھے، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ ایام سب کے لئے نحس ہوں۔ (مظھری) نحِسَاتٍ کا ترجمہ بعض نے متواتر پے در پے بھی کیا ہے، اور بعض نے سخت اور بعض نے گرد و غبار والے اور بعض نے نحوست والے ترجمہ کیا ہے۔
Ayahs 41:19–25

وَ یَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 41:19 in the Quran reader

اور جس دن خدا کے دشمن دوزخ کی طرف چلائے جائیں گے تو ترتیب وار کر لئے جائیں گے

حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَیْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:20 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور آنکھیں اور چمڑے (یعنی دوسرے اعضاء) ان کے خلاف ان کے اعمال کی شہادت دیں گے

وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَیْنَا١ؕ قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَیْءٍ وَّ هُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 41:21 in the Quran reader

اور وہ اپنے چمڑوں (یعنی اعضاء) سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف شہادت کیوں دی ؟ وہ کہیں گے کہ جس خدا نے سب چیزوں کو نطق بخشا اسی نے ہم کو بھی گویائی دی اور اسی نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے

وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْهَدَ عَلَیْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ وَ لٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَعْلَمُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:22 in the Quran reader

اور تم اس (بات کے خوف) سے تو پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور چمڑے تمہارے خلاف شہادت دیں گے بلکہ تم یہ خیال کرتے تھے کہ خدا کو تمہارے بہت سے عملوں کی خبر ہی نہیں

وَ ذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 41:23 in the Quran reader

اور اسی خیال نے جو تم اپنے پروردگار کے بارے میں رکھتے تھے تم کو ہلاک کردیا اور تم خسارہ پانے والوں میں ہوگئے

فَاِنْ یَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ Open ayah 41:24 in the Quran reader

اب اگر یہ صبر کریں گے تو ان کا ٹھکانا دوزخ ہی ہے اور اگر یہ توبہ کریں گے تو انکی توبہ قبول نہیں کی جائے گی

وَ قَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۚ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 41:25 in the Quran reader

اور ہم نے (شیطانوں) کو ان کا ہم نشین مقرر کردیا تھا تو انہوں نے ان کے اگلے اور پچھلے اعمال ان کو عمدہ کر دکھائے تھے اور جنات اور انسانوں کی جماعتیں جو ان سے پہلے گزر چکیں ان پر بھی خدا (کے عذاب) کا وعدہ پورا ہوگیا بیشک یہ نقصان اٹھانے والے ہیں

آیت نمبر 19 تا 25 ترجمہ : اور وہ دن یاد کرو کہ جب اللہ کے دشمن جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے (یَحْشُرُ ) میں یاء اور نون مفتوح اور شین کے ضمہ کے ساتھ اور (اَعْدَاءَ ) کے (آخری) ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ یہاں تک کہ جب وہ جہنم کے قریب آجائیں گے ان کے خلاف ان کے کان اور ان کی کھالیں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے یہ (لوگ) اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی ؟ وہ جواب دیں گے ہمیں اللہ نے قوت گویائی عطا فرمائی جس نے ہر چیز کو جس کو چاہا بولنے کی طاقت بخشی اسی نے تمہیں اول مرتبہ پیدا کیا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤگے، کہا گیا ہے کہ وہ (یعنی وھو خلَقَکم اول مرّۃ الخ) کھالوں کا کلام ہے اور کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جیسا کہ آئندہ آنے والا کلام (یعنی وما کنتم تستترون الخ) (اللہ کا ہے) اور اللہ کے کلام کا یہ موقع ماقبل (یعنی اَنْطَقَنَا اللہ الخ) کو قریب (الی الفہم) کرنے کے لئے ہے، بایں طور کہ جو ذات تم کو ابتداءً پیدا کرنے اور موت کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے وہ تمہاری کھالوں اور اعضاء کو قوت گویائی عطا کرنے پر بھی قادر ہے، اور تم ارتکاب فواحش کے وقت اس وجہ سے پوشیدہ رکھنے کی ضرورت نہیں سمجھتے تھے اس لئے کہ تم اس بات پر یقین ہی نہیں رکھتے تھے کہ تم پر تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں تمہارے گواہی دیں گے، لیکن تم ارتکاب فواحش کو (لوگوں سے) چھپاتے وقت یہ سمجھتے رہے کہ تم جو کچھ بھی کررہے ہو ان میں سے بہت سے اعمال سے اللہ بیخبر ہے، تمہاری اسی بدگمانی نے جو تم نے اپنے رب سے کررکھی تھی تمہیں ہلاک کردیا (ذٰلکم) مبتداء ہے ظَنّکُمْ اس سے بدل ہے، بدل کی صفت اور (مبتداء کی) خبر اَرْدٰکُمْ ہے اَرْدٰکُمْ ای اَھْلَکَکُمْ اور بالآخر تم زیاں کاروں میں ہوگئے، اب اگر یہ عذاب پر صبر کریں تب بھی ان ٹھکانہ جہنم ہی ہے، اور اگر وہ خوشنودی حاصل کرنا چاہیں گے تو وہ خوشنودی حاصل کرنے والوں میں نہ ہوں گے (یعنی خوشنودی حاصل نہ کرسکیں گے) اور شیاطین میں سے ہم نے ان کے کچھ مصاحب مقرر کر رکھے تھے جنہوں نے ان کے اگلے پچھلے اعمال یعنی امور دنیا اور اتباع شہوات اور امر آخرت یعنی ان کا قول (عقیدہ) لاَ بَعْثَ وَلَا بَعْثَ وَلَا حِسَابَ کو ان کی نظر میں مستحسن بنا رکھا تھا، ان لوگوں کے حق میں اللہ کا قول (یعنی) وعدۂ عذاب اور وہ لَأمْلَئنّ جھنّم (لآیۃ) ہے پورا ہو کر رہا، حال یہ ہے جو ان سے پہلے جن وانس میں سے ہلاک ہوچکے ہیں بلاشبہ وہ بھی خسارے میں رہے۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : نَحْشُرُجمع متکلم، نون کے فتحہ اور شین کے ضمہ کے ساتھ، اس صورت میں اَعْدَاءَ کا آخری ہمزہ مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہوگا، دوسری قراءت جس کو مفسر علام نے مشہور ہونے کی وجہ سے ترک کردیا ہے وہ یُحْشَرُ یاء کے ضمہ اور شین کے فتحہ کے ساتھ مضارع واحد مذکر غائب مجہول، اس صورت میں اعداءُ کا آخری ہمزہ نائب فاعل ہونے کی وجہ سے مرفوع ہوگا۔ قولہ : الی النار ای الیٰ موقَف الحساب۔ قولہ : یُسَاقُوْنَ قاضی بیضاوی نے یُوْزَعُوْنَ کی تفسیر یُحْبَسُ اَوَّلُّھُمْ علیٰ آخِرِھم سے کی ہے مگر مقصد دونوں کا ایک ہی ہے۔ قولہ : یُوْزَعُوْنَ ، وَزْعٌ (ن) سے جمع مذکر غائب مضارع مجہول ان کو جمع کیا جائے گا، یعنی آگے والوں کو روک کو رکھا جائے گا تاکہ سب ایک ساتھ جمع ہو کر چلیں، اس سے کثرت کی طرف بھی اشارہ ہے۔ قولہ : یَسْتَعْتَبُوْا جمع مذکر غائب مضارع مجزوم، استعتاب (استفعال) سے صاحب کشاف کی تفسیر زیادہ واضح ہے، علامہ محلی نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے یعنی اگر وہ اللہ کے رضا مند ہونے کی طلب کریں گے یعنی اس جگہ استعتاب عُتْبیٰ سے بنا ہے نہ کہ اعتاب سے، اِعتاب سے، اس لئے کہ وہ لوگ اللہ کو رضا مند کرنے کی طلب کسی اور سے نہیں بلکہ خود اللہ ہی سے کریں گے۔ قولہ : قَیَّضْنَا ای ھَیَّأنا وقدّرنا ماضی جمع متکلم معروف، مصدر تَقْیِیْضُ (تفعیل) مادہ قَیْضٌ، قَیٌضٌ کے معنی ہیں انڈے کا چھلکا، انڈے کا چھلکا چونکہ انڈے سے متصل، چمٹا ہوا ہوتا ہے، اسی مناسبت سے تَقْیِیْض کے معنی ہوئے ساتھ لگا دینا، مسلط کردینا۔ قولہ : فِی اممٍ ، فی بمعنی مع بھی ہوسکتا ہے عَلَیْھِمْ کی ضمیر مجرور سے حال ہے ای کائنین مع جملۃ اممٍ ۔ قولہ : من اَنْ یَشْھَدَ عَلَیْکم یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یَشْھَدَ نزع خافض کی وجہ سے منصوب ہے، اور وہ خافض مِنْ ہے، اس لئے کہ تَسْتَتِرُوْنَ متعدی بنفسہ نہیں ہے۔ قولہ : عند اِسْتَتَارِکُمْ ای من الناس ای مع عَدَمِ استتار کم مِنْ اَعْضَاءِ کم اعضاء سے استتار کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ اس فعل ہی کو ترک کردیا جائے۔ قولہ : فَاِنْ یَصْبِرُوْا۔ سوال : جب مشرکین کے لئے خلود فی النار ہرحال میں دائمی اور لازمی ہے، خواہ صبر کریں یا نہ کریں تو پھر اِنْ یَصْبِرُوْا کے ساتھ مقید کرنے کی کیا وجہ ہے ؟ جواب : آیت میں حذف ہے، تقدیر عبارت یہ ہے کہ فَاِنْ یَصْبِرُوْا اَوْلاَ یَصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًی لَّھُمْ علم اور شہرت کی وجہ سے مقابل کو حذف کردیا گیا ہے، اس لئے کہ جب صبر کی صورت میں جہنم ٹھکانہ ہوگا تو عدم صبر کی صورت میں بطریق اولیٰ ہوگا۔ قولہ : وَقَیَّضْنَا لَھُمْ ای للقریش لہٰذا فی اممٍ کہنا درست ہوگیا۔ تفسیر وتشریح یوم۔۔ اللہ . یہاں اذکر فعل محذوف ہے، جیسا کہ شارح نے ظاہر کردیا ہے یعنی وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے کہ جب اللہ کے تمام دشمنوں کو جہنم کے فرشتے جمع کریں گے حَتّٰی اِذَا مَا جَاءُ وْھَا (الآیۃ) یعنی مشرکین جب شرک کرنے کا انکار کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے منہ پر مہر لگادیں گے۔ انسان کے اعضاء کی محشر میں گواہی : صحیح مسلم میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے آپ کو ہنسی آگئی، پھر آپ نے فرمایا تم لوگوں کو معلوم ہے کہ میں کس بات پر ہنس رہا ہوں ؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی جانتے ہیں، آپ نے فرمایا مجھے ہنسی اس کلام پر آگئی جو میدان حشر اور موقف حساب میں بندہ اپنے رب سے کرے گا، بندہ عرض کرے گا، اے میرے پروردگار ! کیا آپ نے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا بیشک دی ہے، اس پر بندہ کہے گا اگر یہ بات ہے تو میں اپنے حساب و کتاب کے معاملہ میں اور کسی کی گواہی پر مطمئن نہیں ہوں گا، بجز اس کے کہ میرے وجود ہی میں سے کوئی گواہ کھڑا ہو، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے، کَفیٰ بِنَفْسِکَ الیَوْمَ عَلَیْکَ حَسِیْبَا اچھا تو تم اپنا حساب خود ہی کرلو، اس کے بعد اس کے منہ پر مہر لگادی جائے گی، اور اعضاء وجوارح سے کہا جائے گا کہ تم اس کے اعمال بتلاؤ، ہر عضو بول اٹھے گا اور سچی گواہی پیش کردے گا، اس کے بعد اس کی زبان کھول دی جائے گی، تو یہ خود اپنے اعضاء پر نازاض ہو کر کہے گا، بُعْدًا لَکُنَّ وسُحْقًا فَعَنْکُنَّ اُنا ضِلُ تمہارا ناس ہو، میں نے دنیا میں جو کچھ کیا وہ تم کو آرام و راحت پہنچانے کے لئے تھا، اب تم ہی میرے خلاف گواہی دینے لگے۔ سوال : شَھِدَ عَلَیْھِمْ سَمْعُھُمْ وَاَبْصَارُھُمْ وَجُلُوْ دُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ اس آیت میں تین حواس کے گواہی دینے کا ذکر ہے، اس کی کیا وجہ ہے ؟ جبکہ بدن انسانی میں حواس ظاہرہ پانچ ہیں، (1) قوۃ سامعہ (2) قوۃ باصرہ (3) قوۃ ذائقہ (4) قوۃ شامہ (5) قوۃ لامسہ۔ جواب : باقی حواس یعنی قوۃ ذائقہ اور قوۃ شامہ کا ذکر اس لئے نہیں کیا کہ یہ دونوں قوۃ لامسہ میں داخل ہیں، اس لئے کہ چکھنا اس تک ممکن نہیں جب کہ شئ کو زبان پر نہ رکھا جائے اور زبان کی جلد سے لمس نہ کرے، اسی طرح سونگھنا، اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ وہ شئ ہوا میں تحلیل ہو کو ناک کی اس جلد سے مس نہ کرے، جس میں قدرت نے قوت شامہ رکھی ہے، اس طریقہ سے ” جلود “ کے لفظ میں تین حواس آجاتے ہیں۔ وما۔۔ تستترون (الآیۃ) اس کا مطلب یہ ہے کہ تم گناہ کا کام کرتے ہوئے لوگوں سے تو چھپنے کی کوشش کرتے تھے لیکن اس بات کا تمہیں کوئی خوف نہیں کہ تمہارے خلاف خود تمہارے اعضاء بھی گواہی دیں گے، کہ جن سے تم چھپنے کی ضرورت محسوس کرتے، اس کی وجہ سے ان کا بعث و نشور سے انکار اور اس پر عدم یقین تھا، اسی لئے تم اللہ کی حدود توڑنے اور اس کی نافرمانی کرنے میں بےباک اور جری تھے۔ ذلکم۔۔ الذی (الآیۃ) اور تمہارے اسی اعتقاد فاسد اور گمان نے کہ اللہ کو تمہارے عملوں کا علم نہیں ہوتا، تمہیں ہلاکت میں ڈال دیا، کیونکہ اسی عقیدے اور گمان فاسد کی وجہ سے تم ہر قسم کا گناہ کرنے میں دلیر اور بےخوف ہوگئے تھے۔ شان نزول : حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ خانہ کعبہ کے پاس دو قریشی اور ایک ثقفی یا دو ثقفی اور ایک قریشی جمع ہوئے، فربہ بدن قلیل الفہم، ان میں سے ایک نے کہا کیا تم سمجھتے ہو کہ ہماری باتیں اللہ سنتا ہے ؟ دوسرے نے کہا ہماری جہری باتیں سنتا ہے، سری باتیں نہیں سنتا، تیسرے نے کہا اگر وہ ہماری جہری باتیں سنتا ہے تو ہماری سری (پوشیدہ) باتیں بھی ضرور سنتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت نازل فرمائی۔ (صحیح بخاری تفسیر سورة حٰمٓ السجدہ) وقیضنا۔۔ قرناء . یہاں قُرَناء سے مراد شیاطین انس وجن ہیں، جو باطل پر اصراد کرنے والوں کے ساتھ لگ جاتے ہیں، جو ان کے سامنے کفر و معاصی کو خوبصورت کرکے پیش کرتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ گمراہی کی دلدل میں پھنسے رہتے ہیں حتی کہ انہیں موت آجاتی ہے، اور وہ خسارۂ ابدی کے مستحق قرار پاتے ہیں۔ نکتہ : اصحاب ملا ہی اور اسباب مناہی بھی ” قرین سوء “ میں شامل ہیں، نیز ایسے اشغال جو خیر سے خالی اور اللہ سے بےپرواہ کرنے والے ہوں یہ بھی قرین سوء میں داخل ہیں۔