40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 40:1–9

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِۙ Open ayah 40:2 in the Quran reader

اس کتاب کا اتارا جانا خدائے غالب و دانا کی طرف سے ہے

غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ١ۙ ذِی الطَّوْلِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 40:3 in the Quran reader

جو گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے اور سخت عذاب دینے والا اور صاحب کرم ہے اس کے سواء کوئی معبود نہیں اسی کی طرف پھر کر جانا ہے

مَا یُجَادِلُ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَلَا یَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِی الْبِلَادِ Open ayah 40:4 in the Quran reader

خدا کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر ہیں تو ان لوگوں کا شہروں میں چلنا پھرنا تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١۪ وَ هَمَّتْ كُلُّ اُمَّةٍۭ بِرَسُوْلِهِمْ لِیَاْخُذُوْهُ وَ جٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 40:5 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم اور ان کے بعد اور امتوں نے بھی (پیغمبروں کی) تکذیب کی اور ہر امت نے اپنے پیغمبر کے بارے میں یہی قصد کیا کہ اس کو پکڑ لیں اور بےہودہ (شبہات سے) جھگڑتے رہے کہ اس سے حق کو زائل کردیں تو میں نے ان کو پکڑ لیا (سو دیکھ لو) میرا عذاب کیسا ہوا ؟

وَ كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ النَّارِۘؔ Open ayah 40:6 in the Quran reader

اور اسی طرح کافروں کے بارے میں بھی تمہارے پروردگار کی بات پوری ہوچکی ہے کہ وہ اہل دوزخ ہیں

اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اتَّبَعُوْا سَبِیْلَكَ وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 40:7 in the Quran reader

جو لوگ عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اسکے گردا گرد (حلقہ باندھے ہوئے) ہیں (یعنی فرشتے) وہ اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور اس پر ایمان لاتے ہیں اور مومنوں کیلئے بخشش مانگتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے تو جن لوگوں نے توبہ کی اور تیرے راستے پر چلے ان کو بخش دے اور دوزخ سے بچا لے

رَبَّنَا وَ اَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدْتَّهُمْ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 40:8 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ان کو ہمیشہ رہنے کی بہشتوں میں داخل کر جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور جو انکے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور انکی اولاد میں سے نیک ہوں ان کو بھی بیشک تو غالب حکمت والا ہے

وَ قِهِمُ السَّیِّاٰتِ١ؕ وَ مَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 40:9 in the Quran reader

اور انکو عذابوں سے بچائے رکھ اور جس کو تو اس روز عذابوں سے بچا لے گا تو بیشک اس پر مہربانی فرمائی اور یہی بڑی کامیابی ہے

آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، حٰمٓ اللہ کی اس سے کیا مراد ہے ؟ اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ کتاب قرآن اس اللہ کی جانب سے نازل کردہ ہے جو اپنے ملک میں غالب ہے اور اپنی مخلوق سے واقف ہے تَنزِیلُ الکتابِ مبتداء ہے، مِنَ اللہِ خبر، مومنوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا ان کی توبہ کو قبول کرنے والا التوب مصدر ہے، کافروں پر سخت عذاب والا ہے شدیدٌ بمعنی مُشدِّدٌ ہے، بڑے وسیع انعام والا ہے، وہ ان صفات کے ساتھ ہمیشہ متصف ہے، لہٰذا ان صفات (ثلٰثہ) مشتقات کی اضافت تعریف کے لئے ہوگی، جیسا کہ آخری صفت (ذی الطول) میں (ہے) جس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کی طرف لوٹنا ہے، اللہ تعالیٰ کی آیتوں، قرآن میں وہی جھگڑتے ہیں جو اہل مکہ میں سے کافر ہیں، لہٰذا ان کا شہروں میں امن کے ساتھ طلب معاش کیلئے چلنا پھرنا (سفر کرنا) تجھ کو دھوکے میں نہ ڈال دے، اس لئے کہ ان کا انجام جہنم ہے، ان سے پہلے قوم نوح نے جھٹلایا، اور ان کے بعد دوسری جماعتوں نے، مثلاً عادو ثمود وغیرہ نے جھٹلایا، اور ہر امت نے اپنے رسول کو گرفتار کرلینے (قتل) کا ارادہ کیا، اور باطل کے ذریعہ کج بحثیاں کیں تاکہ اس بیہودہ طریقہ سے حق کو باطل کردیں، تو میں نے ان کو گرفتار عذاب کرلیا، تو میری گرفت ان کے حق میں کسی رہی ؟ یعنی وہ برمحل واقع ہوئی، اور اسی طرح آپ کے رب کا حکم کافروں کے بارے میں ثابت ہوگیا (اور وہ حکم) لأملانَّ جھنم ہے، کہ وہ دوزخی ہیں (أنَّھُم اصحٰب النار) کلمۃُ سے بدل ہے، عرش کے اٹھانے والے فرشتے، اور وہ فرشتے جو عرش کے گرد اگر د حلقہ بنائے ہوئے ہیں، حمد کے ساتھ ساتھ تسبیح بیان کرتے ہیں یعنی سبحان اللہ وبحمدہٖ کہتے ہیں (الذین یحملون العرش) مبتداء ہے (یُسبحُون) اس کی خبر ہے، اور اللہ تعالیٰ پر پوری بصیرت کے ساتھ ایمان رکھتے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی تصدیق کرتے ہیں اور ایمان والوں کیلئے استغفار کرتے ہوئے کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار تو نے ہر چیز کا اپنی رحمت اور علم سے احاطہ کر رکھا ہے، یعنی تیری رحمت اور تیرا علم ہر شئ کو حاوی ہے تو جن لوگوں نے شرک سے توبہ کی اور تیرے راستہ (یعنی) دین اسلام پر چلے ان کو معاف کر دے اور نار جہنم سے بچالے، اے ہمارے پروردگار تو ان کو ہمیشگی کی جنت میں داخل فرما، جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور ان کے باپ دادؤں کو اور ان کی بیویوں اور انکی اولاد میں سے جو نیک ہوں مَن صَلحَ کا عطف ھُم پر ہے جو وادخلھم میں ہے یا اس ھُم پر ہے جو وعدَتَّھُم میں ہے، بلاشبہ تو اپنی صنعت میں غالب باحکمت ہے اور تو ان کو برائیوں یعنی انکے عذاب سے محفوظ رکھ اور جسکو تو نے قیامت کے دن برائیوں (کے عذاب) سے بچا لیا، بیشک تو نے اس پر رحمت کردی اور یہی بڑی کامیابی ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : وقَابلِ التَوبِ ۔ سوال : غافر الذَّنبِ اور قابل التَّوب دونوں کا مفہوم ایک ہے تو پھر قابل التوب کو ذکر کرنے سے کیا فائدہ ہے جواب : وقابل التوب میں واؤ لا کر اشارہ کردیا کہ دونوں میں مغائرت ہے اس لئے کہ محوذ نوب بغیر تو بہ کے ممکن ہے اور بعض ذنوب میں قبول تو بہ ممکن ہے اور بعض میں نہیں، لہٰذا ان کے درمیان کوئی تلازم نہیں ہے، اسی مغائرت کی طرف اشارہ کرنے کے لئے واؤ کا اضافہ فرمایا، تاکہ واؤ مغائرت پر دلالت کرے۔ قولہ : مصدَرٌ لفظ مصدر کے اضافہ کا مقصد ان لوگوں پر رد کرنا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ توبٌ، توبۃٌ کی جمع ہے مفسر علام نے لفظ مصدر کا اضافہ کرکے بتادیا کہ توبٌ بھی مصدر ہے۔ قولہ : مُشدِدُہٗ ۔ سوال : شدید کی تفسیر مُشِدِّدٌ سے کرنے میں کیا مصلحت ہے ؟ جواب : شدید العقاب، اضافت الصفۃ المشبھۃ الی الفاعل کے قبیل سے ہے، جو کہ اضافت لفظیہ کہلاتی ہے، یہ بالاتفاق تعریف کا فائدہ نہیں دیتی اگرچہ اس سے استمرار دوام کا ارادہ کیا جائے، لہٰذا اس کو لفظ جلالہ یعنی (لفظ) اللہ کی صفت بنانا درست نہیں نہیں ہے اس لئے کہ لفظ اللہ اعرف المعارف ہے، علامہ محلی نے شدید کی تفسیر مشددٌ سے کرکے اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ شدید، مشددٌ اسم فاعل کے معنی میں ہے، اور اسم فاعل سے اگر استمرار و درام مراد ہو تو تعریف کا فائدہ دیتا ہے، لہٰذا شدید العقاب کا لفظ اللہ کی صفت واقع ہونا درست ہے، جیسا کہ اذینٌ بمعنی مؤذِّنٌ ہے۔ قولہ : الطَّولُ بمعنی فضل، یقال لفلانٍ طولٌ ای فضلٌ وزیادۃٌ طول کی نسبت جب اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اجر و انعام مراد ہوتا ہے، اسی لئے مفسر علام نے طول کی تفسیر الانعام الواسع سے کی ہے۔ قولہ : وھو موصوفٌ علی الدوام اس عبارت کا مقصد ایک اعتراض کو دفع کرنا ہے جس کی طرف سابق میں اشارہ کردیا گیا ہے۔ سوال : سوال کا ماحصل یہ ہے کہ اس جملہ میں لفظ اللہ کی چار صفات واقع ہوئی ہیں (1) غافر (2) قابل (3) شدید (4) ذی الطول، ان میں پہلی تین میں اضافت لفظیہ ہے جو تعریف کا فائدہ نہیں دیتی، لہٰذا ان تینوں صفات کا لفظ اللہ کی صفت واقع ہونا درست نہیں ہے۔ جواب : جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ اضافۃ لفظیہ اس وقت تعریف کا فائدہ نہیں دیتی جبکہ اس سے دوام و استمرار کا ارادہ نہ کیا جائے اور اگر دو ام و استمرار مراد ہو تو اضافہ لفظیہ تعریف کا فائدہ دیتی ہے، مفسر علام نے اس عبارت سے اشارہ کردیا کہ یہاں استمرار و دوام مراد ہے جو کہ مفید تعریف ہے لہٰذا ان تینوں کا لفظ اللہ کی صفت بننا درست ہے، جیسا کہ مالک یوم الدین میں درست ہے۔ دوسرا جواب : بعض حضرات نے یہ جواب بھی دیا کہ یہ تینوں مشتقات لفظ اللہ سے بدل ہیں اور بدل میں تعریف میں مطابقت ضروری نہیں ہے۔ قولہ : فلا یغررک فاجواب شرط پر واقع ہے، اور شرط محذوف ہے، تقدیر عبارت یہ ہے اِذَا علمتَ انَّھم کفار فلا یغروک امھالھم ما خوذون عن قریب۔ قولہ : لیدحضوا ادحاض سے جمع مذکر غائب منصوب بمعنی مصدر باطل کرنا، زائل کرنا (ف) دَحَضَ یَدحَضُ دحضًا، دحوضًا، مدحضًا پھسلنا، باطل ہونا۔ (لغات القرآن) قولہ : فکیف کان عقاب یہ دراصل عقابی تھا، مصحف امام کے رسم الخط کی اتباع میں ی کا حذف کردیا گیا، کیف اسم استفہام کان کی خبر مقدم ہونے کی وجہ سے محلا منصوب ہے اور عقاب، کان کا اسم مرفوع ہے، علامت رفع ما قبل (ی) متکلم محذوف پر ضمہ مقدرہ ہے قولہ : بدلٌ من الکلمۃ اگر لفظ کلمہ سے خاص انَّھم اصحابُ النار مراد ہے، تو یہ بدل الکل من الکل ہوگا، اور اگر کلمۃ سے لأملئنَّ جھنم مراد ہو جیسا کہ علامہ محلی نے مراد لیا ہے تو یہ بدل الاشتمال ہوگا، اسلئے کہ اس صورت میں کلمہ اصحاب النار کو بھی مشتمل ہوگا قولہ : فاغفر فافصیحہ ہے اغفر صیغہ امر ہے۔ قولہ : وقھم واؤ عاطفہ ہے اس کا عطف فاغفر پر ہے قھِم، قِ فعل امر حذف حرف علت پر مبنی ہے ھا مفعول بہ اول اور عذاب الجحیم مفعول ثانی ہے۔ قولہ : ای عذابھا اس عبارت سے اشارہ کردیا کہ السئت کا مضاف محذوف ہے۔ تفسیر و تشریح سورة مومن (غافر) کی خصوصیات اور فضائل : یہاں سے سورة احقاف تک سات سورتیں حٰمٓ سے شروع ہوتی ہیں، ان کو ” حوامیم “ کہا جاتا ہے، حضرت عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا کہ حوامیم دیباج قرآن ہیں، دیباج ریشمی کپڑے کو کہتے ہیں، مراد زینت ہے، اور مسعر بن کدام فرماتے ہیں کہ ان کو عرائس کہا جاتا ہے، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ہر چیز کا ایک مغز اور خلاصہ ہوتا ہے قرآن کا مغز اور خلاصہ حوامیم ہیں۔ (بحوالہ معارف) ہر بلا سے حفاظت کا نسخہ : مسند بزار میں اپنی سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شروع دن میں آیت الکرسی اور سورة مؤمن کی پہلی تین آیتیں حٰمٓ سے الیہ المصیرُ تک پڑھنے والا اس دن ہر برائی اور تکلیف سے محفوظ رہے گا، اس کو ترمذی (رح) تعالیٰ نے بھی روایت کیا ہے، اس میں ایک راوی متکلم فیہ ہے۔ (ابن کثیر، معارف) دشمن سے حفاظت : ابو داؤد و ترمذی میں صحیح سند کے ساتھ حضرت مہلت بن ابی صفرہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے ایسے شخص نے روایت کی جس نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ کسی جہاد کے موقع پر رات میں حفاظت کیلئے فرما رہے تھے کہ اگر تم پہ شب خون مارا جائے تو حٰمٓ لا ینصرون پڑھ لینا۔ (معارف ملخصاً ) ایک عجیب واقعہ : ابن کثیر (رح) نے ان آیات سے متعلق ایک عجیب واقعہ بیان کیا ہے، حضرت ثابت بنانی (رح) تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں حضرت مصعب بن زیبر (رح) تعالیٰ کے ساتھ کوفے کے ایک علاقہ میں تھا میں اس خیال سے کہ دو رکعت پڑھ لوں ایک باغ میں چلا گیا، میں نے نماز سے پہلے سورة حٰمٓ کی ابتدائی آیتیں الیہ المصیرُ تک پڑھیں، اچانک دیکھا کہ ایک شخص میرے پیچھے ایک سفید خچر پر سوار ہے، جس کے بدن پر یمنی کپڑے ہیں، اس شخص نے مجھ سے کہا کہ جب تم غافر الذنب کہو تو اس کے ساتھ یہ دعاء کرو، یا غافر الذنب اغفرلی ذنبی اور جب تم قابل التوب پڑھو تو یہ دعاء پڑھو، یا قابل التوبِ اقبل توبتی اور جب تم شدید العقاب پڑھو، تو یہ دعا کرو شدید العقاب لاتعاقبنی اور جب ذی الطول پڑھو تو یہ دعاء کرو یا ذا الطول طُل عَلَی بخیرٍ ۔ ثابت بنانی کہتے ہیں کہ اس سے یہ نصیحت سننے کے بعد جو ادھر دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا، میں اس کی تلاش میں باغ کے دروازے پر آیا، لوگوں سے معلوم کیا، کہ کیا ایک ایسا شخص یمنی لباس میں یہاں سے گزرا ہے ؟ سب نے کہا ہم نے کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا، ثابت بنانی کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ الیاس (علیہ السلام) تھے۔ (ابن کثیر، معارف) آیات کی تفسیر : حٰمٓ بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ اللہ کا نام ہے، مگر ائمہ متقدمین کے نزدیک یہ حروف مقطعات میں سے ہے، جن کی حقیقی مراد اللہ ہی کو معلوم ہے یا اللہ اور اس کے رسول کے درمیان ایک راز ہیں۔ غافر الذنب، قابل التوب، غافر الذنب کے معنی ہیں گناہ پر پردہ ڈالنے والا، اور قابل التوب کے معنی ہیں توبہ کا قبول کرنے والا، یہ دو لفظ الگ الگ لائے گئے ہیں، اگرچہ دونوں کا مفہوم بظاہر تقریباً ایک ہی معلوم ہوتا ہے مگر حقیقت میں دونوں کے مفہوم میں فرق ہے، غافر الذنب میں اس طرف اشارہ ہے، کہ اللہ تعالیٰ کو اس بات پر بھی قدرت ہے کہ کسی بندے کا گناہ بغیر توبہ کے بھی معاف کر دے، تو بہ کرنے والوں کو معافی دینا یہ دوسرا وصف ہے۔ (مظہری) جدال فی القرآن کی ممانعت کا صحیح مطلب : ما یجادل۔۔۔۔ کفروا اس آیت میں جدال فی القرآن کو کفر قرار دیا گیا ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انَّ جدالاً فی القرآن کفرٌ یعنی بعض جدال قرآن میں کفر ہیں۔ (رواہ البغوی والبیہقی فی الشعب) یہ جدال جس کو قرآن و حدیث میں کفر کہا گیا ہے اس سے مراد قرآنی آیات میں طعن کرنا اور فضول قسم کے شبہات نکال کر اس میں جھگڑنا، یا کسی آیت کے ایسے معنی بیان کرنا جو دوسری آیات قرآن اور نصوص سنت کے خلاف ہوں جو تحریف قرآن کے درجہ میں ہے ورنہ جس جدال (بحث و مباحثہ) کا مقصد ایضاح حق اور ابطال باطل اور منکرین و معترضین کے شبہات کا ازالہ ہو وہ مذموم نہیں ہے بلکہ محمود و مستحسن ہے۔ (بیضاوی، قرطبی، مظھری، ملخصاً ) فلا یغررک۔۔۔ البلاد، مشرکین قریش موسم سرما میں یمن کا اور موسم گرما میں ملک شام کا تجارتی سفر کرتے تھے اور حرم بیت اللہ کی خدمت کی وجہ سے ان کا سارے عرب میں احترام تھا اس لئے یہ لوگ اپنے سفروں میں محفوظ و مامون رہتے تھے، اور خوب تجارتی نفع کماتے تھے، اور اسی وجہ سے ان کی مالداری اور سرداری قائم تھی، ظہور اسلام کے ابتدائی دور میں بھی ان کی یہی صورت حال تھی، جس کی وجہ سے یہ حضرات اس بےجاپندار میں مبتلا تھے کہ اگر اللہ کے نزدیک ہم مجرم ہوتے جیسا کہ محمد ﷺ کہتے ہیں تو ہماری یہ نعمتیں سلب ہوجاتیں، اس سے بعض مسلمانوں کو بھی کچھ شبہات پیدا ہونے کا امکان تھا، اس لئے اس آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت و مصلحت سے ان کو چند روزہ مہلت دے رکھی ہے، اس سے آپ یا مسلمان کسی دھوکے میں نہ پڑیں، چند روزہ مہلت کے بعد ان پر عذاب آنے ہی والا ہے اور ان کی یہ ریاست و سرداری فنا ہونے والی ہے، جس کی ابتداء غزوۂ بدر سے ہوگئی اور فتح مکہ تک چھ سال کی قلیل مدت میں اس کا مکمل ظہور ہوگیا۔ الذین یحملون العرش اس آیت میں فرشتوں کی ایک مخصوص جماعت اور ان کے کام کا تذکرہ ہے، یہ ان فرشتوں کی جماعت ہے جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں، اور وہ جو عرش کے اردگرد ہیں، ان کا ایک کام یہ ہے کہ یہ اللہ کی تسبیح وتحمید کرتے ہیں اور اس کے سامنے عجزو تذلل کا اظہار کرتے ہیں، دوسرا کام یہ کہ اہل ایمان کیلئے دعاء مغفرت کرتے ہیں، اخرج ابو الشیخ عن وھب حملۃ العرش اربعۃ الخ ابو الشیخ نے وہب سے بیان کیا کہ حاملین عرش چار فرشتے ہیں قیامت کے دن ان کی تعداد آٹھ ہوجائے گی۔ (روح المعانی، ابن کثیر) حاملین عرش اور مقرب فرشتے مومنین کے لئے یہ دعاء بھی کرتے ہیں ومن صَلَحَ من آبائھم وازواجھم وذُرِّیّٰتھم یعنی ان کے آباؤ اجداد اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے جن میں مغفرت کی صلاحیت ہو یعنی جن کا خاتمہ ایمان پر ہوا ہو، ان کو بھی انہیں لوگوں کے ساتھ جنت میں داخل فرما، اس سے معلوم ہوا کہ ایمان تو شرط نجات ہے، اگر مذکورہ اہل جنت کے آباؤ اجداد کا خاتمہ ایمان پر ہوا ہو اگرچہ عمل میں اس درجہ کے نہ ہوں تو اللہ تعالیٰ ان متعلقین کو بھی محض اپنے فضل و کرم سے جنت میں انہیں کے ساتھ کردیں گے اور ان کو ایک درجہ میں کرنے کی یہ شکل ہوگی کہ ان میں سے جو ان جنتیوں سے نیچے درجہ میں ہوں گے ان کو ترقی دیکر اوپر کے درجہ میں پہنچا دیا جائے جائے گا نہ یہ کہ اوپر کے درجہ والوں کی تنزلی کرکے نیچے کے درجہ میں لاکر یکجا کیا جائیگا، اسی کو ایک دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے الحقنَا بھم ذُرِّیَّتھُم۔ حضرت سعید بن مسیب (رح) تعالیٰ نے فرمایا کہ مومن جب جنت میں جائے گا تو اپنے باپ بیٹے، بھائی وغیرہ کو پوچھے گا کہ وہ کہاں ہیں اس کو بتلایا جائے گا کہ انہوں نے تمہارے جیسا عمل نہیں کیا اس لئے وہ یہاں نہیں پہنچ سکے، یہ کہے گا کہ میں نے جو عمل کیا تھا وہ صرف اپنے لئے نہیں کیا تھا بلکہ اپنے اور ان کے لئے کیا تھا تو حکم ہوگا کہ ان کو بھی جنت میں داخل کردو۔ (ابن کثیر، معارف)
Ayahs 40:10–20

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِیْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ Open ayah 40:10 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا ان سے پکار کر کہہ دیا جائے گا کہ جب تم (دنیا میں) ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے اور مانتے نہیں تھے تو خدا اس سے کہیں بیزار ہوتا تھا جس قدر تم اپنے آپ سے بیزار ہو رہے ہو

قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ Open ayah 40:11 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہم کو دو دفعہ بےجان کیا اور دو دفعہ جان بخشی ہم کو اپنے گناہوں کا اقرار ہے تو کیا نکلنے کی کوئی سبیل ہے ؟

ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْ١ۚ وَ اِنْ یُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْا١ؕ فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِیِّ الْكَبِیْرِ Open ayah 40:12 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ جب تنہا خدا کو پکارا جاتا تھا تو تم انکار کردیتے تھے اور اگر اس کے ساتھ شریک مقرر کیا جاتا تھا تو تسلیم کرلیتے تھے تو حکم تو خدا ہی کا ہے جو (سب سے) اوپر اور (سب سے) بڑا ہے

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا١ؕ وَ مَا یَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 40:13 in the Quran reader

وہی تو ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تم پر آسمان سے رزق اتارتا ہے اور نصیحت تو وہی پکڑتا ہے جو (اس کی طرف) رجوع کرتا ہے

فَادْعُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 40:14 in the Quran reader

تو خدا کی عبادت کو خالص کر کے اسی کو پکارو اگرچہ کافر برا ہی مانیں

رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ١ۚ یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِۙ Open ayah 40:15 in the Quran reader

وہ مالک درجات عالی اور صاحب عرش ہے، اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے وحی بھیجتا ہے تاکہ ملاقات کے دن سے ڈراوے

یَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ١ۚ۬ لَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ شَیْءٌ١ؕ لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَ١ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 40:16 in the Quran reader

جس روز وہ نکل پڑیں گے ان کی کوئی چیز خدا سے مخفی نہ رہے گی، آج کس کی بادشاہت ہے ؟ خدا کی جو اکیلا اور غالب ہے

اَلْیَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ؕ لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 40:17 in the Quran reader

آج کے دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا، آج (کسی کے حق میں) بےانصافی نہیں ہوگی، بیشک خدا جلد حساب لینے والا ہے

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِیْنَ١ؕ۬ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُؕ Open ayah 40:18 in the Quran reader

اور ان کو قریب آنے والے دن سے ڈراؤ جب کہ دل غم سے بھر کر گلوں تک آرہے ہوں گے (اور) ظالموں کا کوئی دوست نہیں ہوگا اور نہ کوئی سفارشی جس کی بات قبول کی جائے

یَعْلَمُ خَآئِنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ Open ayah 40:19 in the Quran reader

وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے اور جو (باتیں) سینوں میں پوشیدہ ہیں (ان کو بھی)

وَ اللّٰهُ یَقْضِیْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَقْضُوْنَ بِشَیْءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۠ Open ayah 40:20 in the Quran reader

اور خدا سچائی کے ساتھ حکم فرماتا ہے اور جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کچھ بھی حکم نہیں دے سکتے، بیشک خدا سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے

آیت نمبر 10 تا 20 ترجمہ : کافروں سے فرشتوں کیجانب سے پکار کر کہہ دیا جائے گا اور وہ جہنم میں داخل ہوتے وقت خود اپنے اوپر غصہ ہوں گے کہ یقیناً اللہ تعالیٰ کی تمہارے اوپر غضبناکی کہیں زیادہ تھی تمہارے اپنے اوپر غصہ ہونے سے جس وقت کہ تم کو دنیا میں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا مگر تم نہیں مانتے تھے تو وہ لوگ کہیں گے اے ہمارے پروردگار تو نے ہم کو دو مرتبہ موت دی اور دو مرتبہ زندہ کیا اس لئے کہ وہ بےجان نطفے تھے بعد ازاں ان کو زندہ کیا گیا، پھر ان کو موت دی گئی پھر ان کو بعثت کے لئے زندہ کیا گیا سو ہم اپنے گناہوں (یعنی) انکار بالبعث کا اقرار کرتے ہیں تو کیا نار دوزخ سے نکلنے اور دنیا کی طرف واپس جانے کی کوئی صورت ہے تاکہ ہم اپنے پروردگار کی اطاعت کریں، ان کو جواب دیا جائے گا، نہیں، یہ یعنی وہ عذاب جس میں تم مبتلا ہو اس سبب سے ہے کہ دنیا میں جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا تھا تو تم اس کی توحید کا انکار کرتے تھے اور اگر اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جاتا تھا یعنی اس کا شریک ٹھہرایا جاتا تھا تو اس کو مان لیتے تھے (یعنی) شرک کرنے کی تصدیق کرتے تھے پس اب تم کو عذاب دینے کے بارے میں فیصلہ اس اللہ کا ہے جو اپنی مخلوق پر برتر اور عظیم ہے، وہی ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں یعنی اپنی توحید کے دلائل دکھلاتا ہے اور تمہارے لئے آسمان سے بارش کے ذریعہ روزی اتارتا ہے، نصیحت تو وہی حاصل کرتا ہے جو شرک سے رجوع کرتا ہے تم اللہ کو پکارتے رہو (یعنی) اس کی بندگی کرتے رہو دین کو اس کے لئے شرک سے خالص کرکے گو کافر تمہارے (دین کو) شرک سے خالص کرنے کو ناپسند کریں (تم اس کی پرواہ کرو) اس لئے کہ وہ یعنی اللہ پر رفتع الدرجات ہے عظیم الصفات ہے، اور جنت میں مومنین کے درجات کو بلند کرنے والا ہے، عرش کا مالک یعنی اس کا خالق ہے اور وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے کلام سے وحی نازل کرتا ہے، تاکہ وہ یعنی (صاحب وحی) قیامت کا دن ہے، اس میں زمین اور آسمان والوں اور عابد و معبود اور ظالم و مظلوم کے ملنے کی وجہ سے جس دن سب لوگ ظاہر ہوں گے یعنی اپنی قبروں سے نکلیں گے ان کی کوئی چیز اللہ سے پوشیدہ نہ رہے گی، اللہ تعالیٰ فرمائے گا آج کس کی بادشاہت ہے ؟ اور خود ہی جواب دے گا فقط اللہ ہی کی جو یکتا ہے اور اپنی مخلوق پر غالب ہے آج ہر شخص کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے گا آج (کسی قسم کا) ظلم نہیں اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب لینے والا ہے تمام مخلوق کا دنیا کے دنوں میں سے نصف دن کی مقدار میں حساب کردے گا، حدیث میں اسی طرح وارد ہونے کی وجہ سے اور ان کو قریب آنے والے دن (کی مصیبت) یعنی قیامت کے دن سے آگاہ کیجئے یہ اَزِفَ الرحیل بمعنی قَرُبَ سے ماخوذ ہے جبکہ دل خوف کی وجہ سے اچھل کر حلق تک پہنچ رہے ہوں گے (یعنی کلیجے منہ کو آرہے ہوں گے) گھٹ گھٹ رہے ہوں گے، غم میں ڈوبے ہوئے ہوں گے (کاظمین) قلوب سے حال ہے (کاظمین) میں یا اور نون کے ساتھ جمع لاکر صاحب قلوب کا سا معاملہ کیا گیا (یعنی قلوب سے اصحاب القلوب مراد ہیں) ظالمون کا نہ کوئی دوست ہوگا نہ کوئی سفارشی کہ جس کی بات مانی جائے وصف (یعنی یطاع) کا مفہوم مخالف مراد نہیں ہے اس لئے کہ سرے سے ان کا کوئی شفع ہی نہ ہوگا (نہ مطاع اور نہ غیر مطاع) ان کے قول فما لنا من شافعین کے بقول (ہمارا کوئی سفارشی نہیں) یا وصف (یطاع) کا مفہوم مضالف ہے، ان کے گمان کے مطابق کہ ان کے شفارشی ہیں، یعنی بالفرض اگر شفارش کریں تو ان کی سفارش قبول نہ کی جائے، وہ یعنی اللہ آنکھوں کی خیانت یعنی حرام چیزوں کی طرف دزدیدہ نگاہی کو اور دلوں کی پوشیدہ باتوں کو خوب جانتا ہے، اور اللہ ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرے گا، اس کے سوا جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں (بندگی کرتے ہیں) اور وہ بت ہیں (تِدْعونَ ) میں یا اور تا کے ساتھ، وہ کسی چیز کا بھی فیصلہ نہیں کرسکتے تو پھر وہ اللہ کے کس طرح شریک ہوسکتے ہیں، بلاشبہ اللہ ان کے اقوال کا خوب سننے والا اور ان کے افعال کا دیکھنے والا ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل وتفسیری فوائد قولہ : یُنادَونَ جمع مذکر حاضر مضارع مجہول مصدر مُنادَاۃٌ (مفاعلۃ) ان کو پکارا جائے گا۔ قولہ : یَمْقُتُوْنَ اَنْفُسَھُمْ ای یَبْغُضُوْنَ اَنْفسَھُمْ (ن) مَقْتًا کسی کو جرم کے ارتکاب کی وجہ سے ناپسند کرنا، دشمن سمجھنا۔ قولہ : تُدْعَوْنَ مضارع جمع مذکر مجہول (مصدر) دعاء۔ قولہ : اَمَتَّنَا تو نے ہم کو موت دی، مصدر اِمَاتَہٌ موت دینا، ماضی واحد مذکر حاضر ناضمیر جمع متکلم۔ قولہ : اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ ، اَحْیَیْتَنَا اثنَتَیْنِ دونوں جگہ اِثنَتَیْنِ مصدر محذوف کی صفت ہے، ای اَمَتَّنَا اما تتین اثنَتَینِ وأحْیَیْتَنَا اِحیَاءَ تَیْنِ دونوں جگہ مصدر کو حذف کرکے صفت کو ان کے قائم مقام کردیا گیا ہے، مفسر علام نے اماتتین اور اِحیَائتَینِ کا اضافہ کرکے اشارہ کردیا کہ یہ دونوں مصدر محذوف ہیں اور اثنتین صفت۔ قولہ : ذٰلکم بأنَّہٗ ، ذٰلکم اسم اشارہ مبتداء، مشارٌ الیہ، عذاب، بِأنّہٗ مبتداء کی خبر۔ قولہ : ای اللہ عظیم الصات اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رفیعٌ صفت مشبہ ہے اور مبتداء محذوف کی خبر ہے ای ھُوَ مُنَزَّہٌ فِی صِفَاتِہٖ عن کل نقصٍ ۔ قولہ : اَوْ رَافِعٌ، فعیل مبالغہ بمعنی فاعل ہے۔ قولہ : مِنْ اَمٌرِہٖ جار مجرور یُلقِیْ کے متعلق ہے مِنْ ابتداء غایت کے لئے ہے۔ قولہ : یُخَوِّفُ المُلقیٰ عَلَیْہِ النَّاسَ ، المُلقیٰ علَیہ، یخوِّفُ کا فاعل ہے النَّاسَ مفعول ہے، اور ملقیٰ علَیْہِ سے مراد، رسول یا نبی ہے۔ قولہ : تلاق ایک دوسرے سے ملاقات کرنا، باہم جمع ہونا، یہ اصل میں تَلَاقِی تھا، جو باب تفاعل کا مصدر ہے، آخر سے (ی) حرف علت حذف ہوگئی اس میں اثبات (ی) اور اسقاط (ی) دونوں جائز ہیں۔ قولہ : لِتَلاقی اھل السماء والارض الخ یہ قیامت کے دن کا یوم التلاق نام رکھنے کی علت کا بیان ہے۔ قولہ : یومَ ھم بارزون، یومَ لاتلاقِ سے بدل الکل ہے، یوم جملہ اسمیہ کی طرف مضاف ہے ھم مبتداء بارزونَ خبر اول لا یَخْفیٰ خبر ثانی لاَ یَخْفیٰ ، بارِزونَ کی ضمیر سے حال بھی ہوسکتا ہے، زمخشری نے حال کو راجح قرار دیا ہے۔ قولہ : لِمَنِ الملکُ الیومَ یہ روز قیامت واقع ہونے والے سوال و جواب کی حکایت ہے یعنی اللہ قیامت کے روز لمن الملک الیوم کہہ کر سوال فرمائیں گے اور خود ہی لِلّٰہِ الواحد القھار کہہ کر جواب دیں گے لِمَنْ خبر مقدم ہے، اور الملکُ مبتداء مؤخر ہے۔ قولہ : لِلّٰہِ مبتداء کی خبر ہے ای الْمُلْکُ لِلّٰہِ زمخشری نے کہا ہے، قیامت کے دن ایک منادی ندا دے گا، لِمَنِ المُلکُ الیومَ ؟ تو اہل محشر جواب دیں گے لِلّٰہِ الواحدِالقَھّارِ ۔ قولہ : الیومَ تُجٌزٰی، الیومَ تجزیٰ کا ظرف مقدم ہے اور کُلُّ نفسٍ. تُجزٰی کا نائب فاعل ہے۔ قولہ : الآزِفَۃُ یہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے، یہ اَزِفَ الرحیل سے مشتق ہے ای قَرُبَ ، قیامت چونکہ دن بدن قریب ہورہی ہے، اسی وجہ سے اس کو آزفَۃ کہا گیا ہے۔ قولہ : الحناجِر یہ حَنْجَرٌ کی جمع ہے بمعنی گلا (مختار میں ہے) الحَنْجَرَۃُ بالفتح و الحُنجُورُ بالضم الْحُلْقُوْمُ وبالفارسیۃ گلو۔ قولہ : کا ظمین یہ کاظِمٌ کی جمع مذکر عالم ہے، یہ القلوب سے حال ہے قاعدہ کے مطابق کا ظمَۃً ہونا چاہیے، اس لئے کہ قلوب غیر ذوی العقول ہیں، مگر کا ظمین جو کہ ذوی العقول کا معاملہ کیا گیا اسی مناسبت سے کا ظمۃً کے بجائے کا ظمین لائے ہیں، کظمٌ کے معنی ہیں نہایت غم و غصہ کی حالت میں دم بخود رہ جانا، ایسی صورت میں بولا جاتا ہے، خون کے گھونٹ پینا جس کو فارسی میں خشم فروخوردن کہتے ہیں۔ قولہ : یَعْلَمُ خَائِنَۃَ الْاَعْیُن یہ سابق میں مذکور ھوَالَّذِیْ یُرِیْکُمْ الخ میں ھُوَ مبتداء کی خبر ثانی ہے اَلَّذِی یرِیْکُمْ خبر اول ہے (دوسری ترکیب یہ ہوسکتی ہے) کہ یَعْلَمُ خائِنَۃَ الْا عْیُن، ھو، مبتداء محذوف کی چوتھی خبر ہے، (1) پہلی رفیع الدرجات (2) دوسری ذوالعرش (3) تیسری یُلقِی الروح (4) چوتھی یَعْلَمُ خَائِنَۃَ الْاَعْیُن۔ تفسیر وتشریح ان۔۔ ینادون . یہ کافروں کے دوزخ میں داخل ہونے کے بعد کی حالت کا بیان ہے، کفار و مشرکین جب دوزخ میں داخل ہونے کے بعد دنیا میں اپنے کفر و شرک اختیار کرنے پر حسرت و افسوس کا اظہار کریں گے اور ان کو خود اپنی ذات سے نفرت ہوگی، یہاں تک کہ مارے غصے کے اپنی انگلیاں کاٹ کاٹ کر کھاجائیں گے جیسا کہ درمنثور میں حضرت حسن سے روایت ہے، تو اس وقت کافروں سے کہا جائے گا تم کو اس وقت اپنے سے نفرت ہے اس سے بڑھ کر خدا کو تم سے نفرت تھی جبکہ تمکو ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا تم نہیں مانا کرتے تھے، اللہ کی اس ناراضگی ہی کا نتیجہ ہے کہ آج تم جہنم میں ہو۔ دو موت اور دو زندکیوں سے کیا مراد ہے ؟ جمہور مفسرین کی تفسیر کے مطابق دو موتوں میں سے پہلی موت تو وہ نطفہ ہے جو باپ کی پشت میں ہوتا ہے، یعنی اس کے وجود سے پہلے اس کے عدم کو موت سے تعبیر کیا گیا ہے، اور دوسری موت وہ ہے، جس سے انسان اپنی زندگی گذار کر ہمکنار ہوتا ہے، اور اس کے بعد قبر میں دفن ہوجاتا ہے، اور دوزندگیوں میں سے پہلی زندگی یہ دنیوی زندگی ہے جس کا آغاز ولادت سے اختتام وفات پر ہوتا ہے، اور دوسری زندگی وہ ہے جو روز قیامت قبروں سے اٹھنے کے بعد حاصل ہوگی، ان ہی دونوں موتوں اور زندگیوں کا تذکرہ سورة بقرہ کی آیت 28 میں بھی کیا گیا ہے وَکُنْتُمْ اَمْوَاتًا فاَحْیَاکُمْ ثُم یُمِیتُکُمْ ثمَّ یُحْیِیْکُمْ ۔ جہنم میں داخل ہونے کے بعد مشرکین اپنے شرک و کفر کے جرم کا اعتراف واقرار کریں گے جبکہ اعتراف کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، اور اظہار ندامت و پشیمانی کریں گے جبکہ پشیمانی کچھ کام نہ آئے گی۔ رفیع الدرجات ” درجات “ سے بعض حضرات نے صفات مراد لی ہیں یعنی رفیع الدرجات کا مطلب ہے رفیع الصفات یعنی اس کی صفات کمال سب سے زیادہ رفیع الشان ہیں، ابن کثیر نے اس کو اپنے ظاہر پر رکھ کر یہ معنی بیان کئے ہیں کہ اس سے مراد رفعت عرش عظیم کا بیان ہے کہ وہ تمام زمینوں اور آسمانوں پر حاوی ہے، اور بعض حضرات مفسرین نے رفیع الدرجات کو رافیع الدرجات کے معنی میں لیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ مومنین متقین کے درجات کو بلند فرمانے والے ہیں، جیسا کہ قرآن کی آیات اس پر شاہد ہیں نَرْفَعُ درَجاتٍ مَنْ نشاءُ مذکورہ دونوں معنی کی طرف مفسر (رح) تعالیٰ نے اپنی تفسیری عبارت سے اشارہ کردیا ہے۔ یُلْقِی الرُّوْحَ امرہٖ روح سے مراد وحی ہے، جس کو اپنے بندوں میں سے کسی کو منتخب کرکے اس پر نازل کرتا ہے، وحی کو روح سے اس لئے تعبیر فرمایا ہے کہ جب طرح روح میں انسانی زندگی کی بقاء و سلامتی کا راز مضمر ہے، اسی طرح وحی سے بھی ان انسانی قلوب میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے جو پہلے کفر وشرک کی وجہ سے مردہ تھے۔ یَوْمَ ھم بارزون (الآیۃ) قیامت کے دن تمام انسان اس کے سامنے میدان حشر میں جمع ہوں گے، اللہ تعالیٰ زمین کو اپنی مٹھی میں اور آسمان کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا، اور کہے گا میں بادشاہ ہوں، زمین کے بادشاہ کہاں ہیں ؟ (صحیح بخاری سورة زمر) ۔
Ayahs 40:21–27

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْا هُمْ اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 40:21 in the Quran reader

کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی تاکہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ اس نے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا، وہ ان سے زور اور زمین میں نشانات (بنانے) کے لحاظ سے کہیں بڑھ کر تھے تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا اور ان کو خدا (کے عذاب) سے کوئی بھی بچانے والا نہ تھا

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 40:22 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر کھلی دلیلیں لاتے تھے تو یہ کفر کرتے تھے، سو خدا نے ان کو پکڑلیا بیشک وہ صاحب قوت (اور) سخت عذاب دینے والا ہے

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 40:23 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں اور دلیل روشن دے کر بھیجا

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ قَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:24 in the Quran reader

(یعنی) فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف، تو انہوں نے کہا یہ تو جادوگر ہے جھوٹا

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْۤا اَبْنَآءَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَ اسْتَحْیُوْا نِسَآءَهُمْ١ؕ وَ مَا كَیْدُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 40:25 in the Quran reader

غرض جب وہ ان کے پاس ہماری طرف سے حق لے کر پہنچے تو کہنے لگے کہ جو لوگ اس کے ساتھ (خدا پر) ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دو اور کافروں کی تدبیریں بےٹھکانے ہوتی ہیں

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَ لْیَدْعُ رَبَّهٗ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَكُمْ اَوْ اَنْ یُّظْهِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ Open ayah 40:26 in the Quran reader

اور فرعون بولا کہ مجھے چھوڑو کہ موسیٰ کو قتل کر دوں اور وہ اپنے پروردگار کو بلا لے، مجھے ڈر ہے کہ وہ (کہیں) تمہارے دین کو (نہ) بدل دے یا ملک میں فساد (نہ پیدا) کردے

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ۠ Open ayah 40:27 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کہ میں ہر متکبر سے جو حساب کے (یعنی قیامت) پر ایمان نہیں لاتا اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ لے چکا ہوں

آیت نمبر 21 تا 27 ترجمہ : کیا یہ لوگ زمین پر چلتے پھرتے نہیں ؟ کہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا کیسا کچھ انجام ہوا وہ باعتبار قوت و طاقت کے اور باعتبار زمین میں اپنی یادگاروں کے، ان سے بہت بڑھے ہوئے تھے اور وہ یادگاریں پانی کے بڑے بڑے حوض اور محلات تھے، اور ایک قرآءت میں مِنْھُمْ کی بجائے مِنْکُمْ ہے، پس اللہ نے انہیں ان کے گناہوں پر پکڑ لیا (ہلاک کردیا) اور کوئی نہ ہوا جو انہیں اللہ کے عذاب سے بچالیتا، یہ اس وجہ سے کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر کھلے معجزے لیکر آتے تھے تو وہ انکار کردیتے تھے سو اللہ نے ان کو گرفت میں لے لیا، یقیناً وہ طاقتور اور سخت عذاب والا ہے اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی آیتوں اور واضح دلیلوں کے ساتھ فرعون، ہامان اور قارون کی طرف بھیجا تو انہوں نے کہا (یہ تو) جادوگر (اور) جھوٹا ہے، پس جب (موسیٰ (علیہ السلام) ) ہماری طرف سے حق لے کر آئے تو انہوں نے کہا کہ ان پر جو ایمان لانے والے ہیں ان کے لڑکوں کو قتل کردو اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رکھو اور کافروں کی تدبیر محض بےاثر رہی، اور فرعون نے کہا مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردوں، اس لئے کہ وہ اس کو موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل سے منع کرتے تھے اور اسے چاہیے کہ اپنے رب کو بلالے تاکہ وہ اس کو مجھ سے بچا سکے، مجھے تو اندیشہ ہے کہ کہیں تمہارا دین نہ بدل ڈالے یعنی تمہارے میری عبادت کرنے کو، کہ تم اسی کی اتباع کرنے لگو، اور ملک میں کوئی (بہت بڑا) فساد برپا نہ کردے (مثلاً ) قتل وغیرہ ایک قراءت میں (واؤ کے بجائے) اَوْ ہے، اور دوسری میں یُظْھِرُ کی بجائے یَظْھَرُ (ی اور ہا) کے فتحہ اور (دال) کے ضمہ کے ساتھ ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا حال یہ کہ موسیٰ اس بات کو یعنی اپنے قتل کی بات کو سن چکے تھے، میں اپنے اور تمہارے رب کی پناہ میں آتا ہوں ہر تکبر کرنے والے شخص (کی بڑائی) سے جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : فینظروا کَیْفَ کَانَ عاقِبۃُ الَّذینَ کانُوْا مِن قبْلِھِم کا نُوْاھُمْ اَشَدَّ مِنْھُمْ ، کیفَ ، کانَ کی خبر مقدم ہے، عاقِبَۃُ ، کانَ کا اسم جملہ ہو کر ینظر کا مفعول ہونے کی وجہ سے محلاً مفعول ہونے کی وجہ سے محلاً منصوب ہے کانوا ھُمْ اَشَدَّ مِنْھُمْ قوۃً وَّاٰثارًا فِی الارضِ ، کانُوْا فعل ناقص اس کے اندر ضمیر اس کا اسم اَسَدَّ خبر ھُمْ ضمیر فصل قُوَّۃً تمیز معطوف علیہ اٰثارًا معطوف۔ سوال : ضمیر فصل دو معرفوں کے درمیان واقع ہوتی ہے نہ کہ دونکروں یا ایک معرفہ اور ایک نکرہ کے درمیان، یہاں ھُمْ معرفہ اور اَشَدَّ نکرہ کے درمیان واقع ہے۔ جواب : نکرہ اگر مشابہ بالمعرفہ ہو تو ضمیر فصل کا نکرہ اور معرفہ کے درمیان میں واقع ہونا درست ہوتا ہے، یہاں اَشَدَّ جو کہ نکرہ ہے مشابہ بالمعرفہ ہے، اس لئے کہ اس پر الف لام کا داخل ہونا منع ہے، اس لئے کہ اسم تفصیل جب مقرون بمِن ہو تو اس پر الف لام داخل نہیں ہوا کرتا، اور یہ مشابہ بالمعرفہ ہونے کی علامت ہے، لہٰذا اب کوئی اعتراض نہیں۔ قولہ : مصَانِعُ یہ مضنع کی جمع ہے، مصنع متعدد معانی میں مستعمل ہے، بڑا حوص جس میں بارش کا پانی جمع ہو، نیز قلعے اور محلات کو بھی کہتے ہیں مفسر علام نے اٰثارًا کی تفسیر مصانع اور قصور سے کی ہے، قصور قصر کی جمع ہے محلات کو کہتے ہیں، مصانع سے قلعے اور بڑے تالاب یعنی ڈیم مراد ہوسکتے ہیں۔ قولہ : عذابہٖ اس سے حذف مضاف کی طرف اشارہ ہے مِن اللہ ای مِنْ عذاب اللہ۔ تفسیر وتشریح ربط آیات : گذشتہ آیات میں آخرت کے احوال اور ان کی ہولناکیوں کا بیان تھا، اب دنیا کے احوال سے انہیں ڈرایا جارہا ہے، کہ یہ لوگ ذرازمین میں چل پھر کر ان قوموں کا انجام دیکھیں جو ان سے پہلے اس جرم تکذیب میں ہلاک ہوچکی ہیں، جس کا ارتکاب یہ کررہے ہیں، درآنحالیکہ گذشتہ قومیں قوت و آثار میں ان سے کہیں بڑھ کر تھیں، لیکن جب ان پر اللہ کا قہر نازل ہوا تو ان کو کوئی نہ بچا سکا۔ اسی طرح تم پر بھی عذاب آسکتا ہے، اگر آگیا تو پھر تمہارا پشت پناہ نہ ہوگا۔ ذلک۔۔ تاتیھم (الآیہ) یہ ان کی ہلاکت کی علت کا بیان ہے، اور وہ ہے اللہ کی آیتوں کا انکار اور اس کے رسولوں کی تکذیب، اب سلسلۂ نبوت و رسالت تو بند ہے، تاہم آفاق وانفس میں بیشمار آیات الہٰی بکھری اور پھیلی ہوئی ہیں، علاوہ ازیں وعظ و تذکیر اور دعوت و تبلیغ کے ذریعہ علماء اور داعیان حق ان کی وضاحت اور نشاندہی کے لئے موجود ہیں، اس لئے آج بھی جو آیات الہٰی سے اعراض اور دین و شریعت سے غفلت کرے گا، اس کا انجام مکذبین اور متکبرین رسالت سے مختلف نہیں ہوگا۔ ولقد۔۔۔ یٰاتنا (الآیۃ) آیات سے مراد وہ نو نشانیاں بھی ہوسکتی ہیں جن کا تذکرہ متعدد بار آچکا ہے، یا ان میں سے دو بڑے معجزے عصا اور ید بیضاء مراد ہوسکتے ہیں، سلطانٌ مبینٌ سے مراد قوی دلیل اور حجت واضحہ ہیں، جس کا ان کے پاس کوئی جواب نہ ہو بجز ڈھٹائی اور بےشرمی کے۔ الیٰ ۔۔۔ قارون فرعون مصر میں قبطیوں کا بادشاہ تھا بڑا ظالم و جابر، اور رب اعلیٰ ہونے کا دعویٰ کرتا تھا، اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کو غلام بنارکھا تھا، اور ان پر قسم قسم کی سختیاں کرتا تھا، جسیا کہ قرآن میں متعدد مقامات پر اس کی تفصیل موجود ہے، ہامان فرعون کا وزیر ومشیر خاص تھا، اور قارون اپنے وقت کا مالدار ترین شخص تھا، ان سب نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کی اور انہیں جادوگر اور کذاب کہا۔ قالو۔۔۔ معہٗ (الآیۃ) فرعون لڑکوں کے قتل کا کام پہلے سے بھی کررہا تھا تاکہ وہ بچہ پیدا نہ ہو جو نجومیوں کی پیش گوئی کے مطابق اس کی بادشاہت کے خطرے کا باعث تھا، موسیٰ کی بعثت اور ان کے معجزات دیکھنے کے بعد دوبارہ بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرنے کا حکم دیا اس کا ایک مقصد موسیٰ (علیہ السلام) کی تذلیل و توہین بھی نیز یہ کہ بنی اسرائیل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے وجود کو اپنے لئے نحوست و مصیبت سمجھیں، جیسا کہ نبی اسرائیل نے ایک موقع پر کہا تھا اُوْذِیْنَا مِنْ قبل أن تَاتِیَنَا وَمِن بعد مَا جِئْتَنَا (اعراف) اے موسیٰ ! ( (علیہ السلام) ) تیرے آنے سے قبل بھی ہم اذیتوں سے دو چار تھے اور تیرے آنے کے بعد بھی ہمارا یہی حال ہے۔ قال قتادۃ : ھٰذا قتلٌ غیرَ الْاَوَّل قتل کا یہ دوسرا حکم اول حکم کے علاوہ ہے۔ (فتح القدیر شو کانی۔ ایسر التفاسیر، تائب، معارف) وقال۔۔۔ موسیٰ . فرعون نے کہا مجھے چھوڑ دو تاکہ موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردوں، فرعون نے یہ بات یا تو اس وجہ سے کہی کہ اہل دربار میں سے کچھ لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کو مصلحتِ ملکی کے خلاف سمجھا ہو، کہ عام چرچا ہوجائے گا، کہ ایک بےسروسامان شخص سے ڈر گئے، یا لوگوں کو یہ تاثر اور مغالطہ دینا تھا کہ اب تک موسیٰ کو صرف اس لئے قتل نہیں کیا کہ درباریوں کی رائے نہیں تھی ورنہ موسیٰ کو قتل سے کوئی چیز مانع نہیں ہے، حالانکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات دیکھنے کے بعد خود فرعون کا حوصلہ نہیں تھا، کہ ان کو قتل کردے، مبادا کسی آسمانی عذاب میں مبتلا ہوجائے، اس لئے کہ فرعون کو دل میں موسیٰ (علیہ السلام) کے سچا رسول ہونے کا یقین تھا، مگر لوگوں کو بیوقوف بنانے اور اپنی ریاست باقی رکھنے کے لئے ایسی حرکتیں کرتا تھا، اسرائیلی لڑکوں کو قتل کرانے کے دو مقصد تھے، اول یہ کہ بنی اسرائیل کی عددی قوت میں اضافہ نہ ہو، دوسرے یہ کہ اس کی عزت میں کمی نہ ہو، فرعون کو یہ دونوں مقصد حاصل نہیں ہوئے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم ہی کو غرق دریا کردیا، اور بنی اسرائیل کو بابرکت زمین کا مالک بنادیا۔ وقال۔۔۔ بربی (الآیۃ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے علم میں جب یہ بات آئی کہ فرعون مجھے قتل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے شر سے بچنے کے لئے دعاء مانگی، نبی کریم ﷺ کو جب کسی دشمن کا خطرہ ہوتا تھا تو یہ دعاء مانگا کرتے تھے اللّٰھُمَّ اِنَّا نَجْعَلُلَ فِی نحورِ ھم ونعوذُبک من شرورھم (مسند احمد) اے اللہ ہم تجھ کو ان کے مقابلہ میں کرتے ہیں اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ طلب کرتے ہیں۔