Ayahs 39:1–9آیت نمبر 1 تا 9
ترجمہ : شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے یہ کتاب یعنی قرآن اپنے ملک میں غالب اپنی صنعت میں حکمت والے اللہ کی طرف سے نازل کی ہوئی ہے القرآن مبتداء اور منَ اللہ اس کی خبر ہے، اے محمد ﷺ ! یقیناً ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے (بالحق) انزَلنا، سے متعلق ہے، سو آپ شرک سے خالص اعتقاد کے ساتھ (یعنی) توحید کا اعتقاد رکھتے ہوئے اسی کی بندگی کرتے رہئے، یاد رکھو عبادت جو کہ خالص ہو اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے، اس کے علاوہ اس کا کوئی مستحق نہیں، اور جن لوگوں نے اس کے سوا بتوں کو اولیاء بنا رکھا ہے اور وہ مکہ کے کافر ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ ہم کو خڈا کا مقرب بنادیں قُربیٰ تقریباً معنی میں مصدر کے ہے جس دینی امر کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے اور مسلمانوں کے درمیان (عملی) فیصلہ فرما دے گا، کہ مومنوں کو جنت میں اور کافروں کو دوزخ میں داخل کرے گا، اس کی طرف ولد کی نسبت کرنے میں جھوٹے (اور) غیر اللہ کی عبادت کرکے ناشکرے کو اللہ راہ نہیں دکھاتا اگر اللہ تعالیٰ کا ارادہ اولاد ہی کا ہوتا، جیسا کہ (کفار) کہتے ہیں کہ اللہ کے اولاد ہے تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا چن لیتا (یعنی) اس کو اولاد بنا لیتا، ان کے علاوہ جن کے بارے میں (کفار) کہتے ہیں (یعنی یہ کہ) فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور عزیر اور مسیح علیہما السلام، اللہ کے بیٹے ہیں، وہ تو پاک ہے یعنی اولاد رکھنے سے وہ پاک ہے وہ ایسا اللہ ہے جو واحد ہے اپنی مخلوق پر زبردست ہے اس نے زمین و آسمان کو حکمت سے پیدا کیا (بالحَقِّ ) خلَقَ سے متعلق ہے وہ رات کو دن میں داخل کردیتا ہے جس سے دن بڑا ہوجاتا ہے اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے تو رات بڑی ہوجاتی ہے اس نے سورج اور چاند کو کام پر لگا رکھا ہے ہر ایک اپنے محور پر وقت مقرر (یعنی) قیامت کے دن تک چلتا رہے گا یقین مانو وہی اپنے امر پر غالب ہے اور اپنے دشمنوں سے انتقام لینے والا ہے اور اپنے اولیاء کو بخشنے والا ہے اس نے تم لوگوں کو تن واحد سے یعنی آدم سے پیدا کیا پھر اسی سے اس نے ھواء کو اس کا جوڑا بنایا اور تمہارے لئے چوپایوں میں (یعنی) اونٹ، گائے، بکری، بھیڑ، دنبے آٹھ جوڑے پیدا کئے، ہر ایک نر و مادہ کا جوڑا، جیسا کہ سورة انعام میں بیان کیا گیا ہے، وہ تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ میں ایک بناوٹ کے بعد دوسری بناوٹ پر بناتا ہے (یعنی اولاً ) نطفہ پھر علقہ پھر مضغہ تین تین تاریکیوں میں وہ پیٹ کی تاریکی اور رحم کی تاریکی اور جھلی کی تاریکی ہے یہ ہے اللہ تمہارا رب اسی کی سلطنت ہے اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں سو اس کی بندگی کو چھوڑ کر دوسروں کی بندگی کی طرف کہاں بہک رہے ہو، اگر تم کفر کرو گے یاد رکھو اللہ تمہارا محتاج نہیں اور وہ اپنے بندوں کے کفر کو پسند نہیں کرتا اگرچہ ان میں سے بعض سے اس (کفر) کا ارادہ کرے اور اگر تم اللہ کا شکر کرو گے کہ ایمان لے آؤ تو وہ اسے یعنی شکر کو تمہارے لئے پسند کرے گا (یرضَہُ ) میں ھاء کے سکون اور ضمہ کے ساتھ مع اشباع کے اور کوئی شخص کسی شخص کا بوجھ نہیں اٹھاتا پھر تم کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہوگا، سو وہ تمہارے سب اعمال بتادے گا جو تم کرتے تھے، وہ یقیناً دلوں تک کی باتوں سے واقف ہے اور انسان کافر کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ خوب رجوع ہو کر عاجزی کے ساتھ اپنے رب کو پکارتا ہے پھر جب اللہ تعالیٰ اس کو اپنے پاس سے نعمت یعنی انعام عطا فرما دیتا ہے تو اس سے پہلے جو دعاء کر رہا تھا اسے بالکل بھول جاتا ہے اور وہ اللہ ہے اور م۔ ا، مَن کی جگہ میں ہے اور خدا کے شریک بنانے لگتا ہے تاکہ اس کے راستہ یعنی دین اسلام سے بھٹک جائے (یا) بھٹکا دے (ی) کے فتحہ اور ضمہ کے ساتھ آپ فرما دیجئے کہ کفر کی بہار کچھ دن اور لوٹ لو، یعنی اپنی بقیہ زندگی (پھر آخر کار) تو دوزخیوں میں سے ہونے والا ہے بھلا جو شخص راتوں کے اوقات وظیفہ طاعت میں مشغول ہو کر رکوع اور سجدے یعنی نماز میں گزارتا ہو حال یہ ہے کہ وہ آخرت یعنی اس کے عذاب سے ڈر رہا ہو اور اپنے پروردگار کی رحمت، جنت کی امید بھی کر رہا ہو (أمنْ ) میں میم کی تخفیف کے ساتھ، اس شخص کے مانند ہوسکتا ہے کہ وہ کفر وغیرہ کے ذریعہ نافرمانی کرنے والا ہے اور ایک قراءت میں أم مَنْ ہے، اور أم بمعنی بَلْ اور ہمزہ ہے، آپ کہئے کہ (کہیں) علم والے اور بےعلم برابر ہوسکتے ہیں ؟ یعنی برابر نہیں ہوسکتے، جیسا کہ عالم اور جاہل برابر نہیں ہوسکتے یقیناً نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل مند ہوں۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
اس سورت کا نام سورة زمر ہے اُمَرْ ، زُمْرَۃٌ کی جمع ہے، اس کے معنی جماعت کے ہیں اس سورة کو سورة غُرَفْ بھی کہا جاتا ہے، یہ دونوں کلمے چونکہ اس سورت میں آئے ہیں اس لئے یہ اسم الکل باسم الجزء کے قبیل سے ہے، زُمر کا کلمہ وَسِیقَ الَّذِیْنَ کفروا اِلٰی جھنَّمَ زُمرًا اور وسیق الذین اتقوا ربھم الی الجنۃ زُمَرًا میں استعمال ہوا ہے، اور غُرَف کا کلمہ لَھُم غُرف مِن فَوقِھَا غُرفٌ میں استعمال ہوا ہے، یہ پوری سورت مکی ہے سوائے تین آیتوں کے یا عِبَادِیَ الذینَ اسرفُوا علیٰ انفُسِھِم سے تین آیتوں تک مدنی ہیں، اور بعض نے یہاں سے سات آیات تک مدنی کہا ہے۔
قولہ : تَنزِیلُ الکتاب، ھُوَ مبتداء محذوف کی خبر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے ای ھُوَ تنزیل الکتاب اور کہا گیا ہے کہ مبتداء ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے اور کائنٌ جار مجرور سے متعلق ہو کر مبتداء کی خبر مقدر ہے ای تنزیل کائنٌ مِن اللہِ اور فرّاء اور کسائی نے فعل مقدر کی وجہ سے منصوب بھی کہا ہے ای اتَّبِعُوا تَنذِیْلَ الکتاب یا اقرَءُ واتَنزِیْلَ الکتاب اور فرّاء نے اغراء کے طور پر بھی نصب جائز کہا ہے ای الزَمُوا تنزیل الکتاب۔ (فتح القدیر شوکانی)
قولہ : مُخلَصًا، اُعْبُد کی ضمیر سے حال ہے۔
قولہ : زُلفٰی یہ یقربونَ کا مصدر بغیر لفظہٖ ہے، اصل میں یزلفون زلفیٰ ہے، انبتکم من الارض نباتاً کے مانند مصدر بغیر لفظہٖ ہے۔
قولہ : یُکوِّرُ ، تکویرًا سے بمعنی اللَّفُّ ، واللَّیُ بمعنی لپیٹنا یقال کار العمامۃَ علیٰ رآسَہٖ وکورھا دستار کو سر پر لپیٹا۔
قولہ : وان ارادہٗ من بعضھم یعنی اللہ اپنے بندے کے کفر سے راضی نہیں ہے اگرچہ کفر کا وجود اللہ کے ارادہ ہی سے ہے، اس لئے کہ ارادہ اور مشیئت خداوندی کے بغیر کسی شئ کا وجود نہیں ہوسکتا، اور ارادہ کیلئے رضا لازم نہیں ہے جیسے ناخواستہ کسی کام کے کرنے میں ارادہ تو ہوتا ہے مگر رضا مندی نہیں ہوتی۔
قولہ : یرضَہ ہا ضمیر کا مرجع شکر ہے، اگر تم اللہ کا شکر کرو گے تو وہ تمہارے شکر سے خوش ہوگا یَرضَہْ اصل میں یرضاہُ تھا، شرط کی جزاء ہونے کی وجہ سے الف ساقط ہوگیا یرضَہْ میں تین قراءتیں ہیں، ضمہ مع الاشباع یعنی (کھینچ کر) اور ضمہ بغیر الإشباع، اور ہا کے سکون کے ساتھ۔
قولہ : ای الشکرَ اس اضافہ کا مقصد یَرَضَہْ کی ضمیر مفعولی کا مرجع متعین کرنا ہے اور یرضَہٗ کا فاعل اللہ ہے۔
قولہ : خَوَّلَہٗ تخویل (تفعیل) سے ماضی واحد مذکر غائب، اس کو عطا کیا، مالک بنایا، منہُ کی ضمیر حق تعالیٰ کی طرف راجع ہے۔
قولہ : تَرَکَ ، نَسِیَ کی تفسیر ترک سے کرکے اشارہ کردیا کہ یہاں نسیان کے لازم معنی مراد ہیں، ترک نسیان کیلئے لازم ہے، اور لازم معنی مراد لینے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ نسیان پر مؤاخذہ نہیں رُفِعَ عن امتی الخطاء والنسیان حدیث مشہور ہے۔
قولہ : ما کان یدعوا الیہ من قبلُ ، ما میں تین وجہ جائز ہیں (1) مَا موصولہ بمعنی الذی اور الذی سے مراد ضُرٌّ (تکلیف) ای نسی الضُّر الَّذِی کان یدعوا الیٰ کشفہٖ یعنی ہمارے اس پر انعام کرنے اور اس کی تکلیف کو دور کرنے کے بعد وہ اس تکلف کو بھول گیا، جس کے دور کرنے کی دعا کرتا تھا (2) ما بمعنی الذی، مراد باری تعالیٰ ، ای نسی الَّذِی کان یتضرعُ الیہِ یعنی تکلیف دور ہونے کے بعد اس ذات کو بھول گیا جس سے تکلف دور کرنے کی دعا کر رہا تھا، مگر یہ ان کے نزدیک درست ہے جو ما کا اطلاق ذوی العقول کیلئے جائز سمجھتے ہیں۔ (3) ما مصدریہ ہو ای نسی کونہٗ داعِیًا یعنی مصیبت کے دور ہونے کے بعد وہ یہ بھی بھول گیا کہ میں کسی وقت داعی تھا۔
قولہ : من قبل ای من قبل تخویل النعمۃ۔ قولہ : وھُوَ اللہُ مفسر علام نے اس عبارت سے اشارہ کردیا کہ اس کے نزدیک دوسری صورت پسندیدہ ہے۔
قولہ : قانتٌ، قُنُوتٌ سے اسم فاعل وظیفۂ طاعت کو ادا کرنے والا (اعراب القرآن) خشوع خضوع کرنے والا، اطاعت کرنے والا۔ (لغات القرآن) قولہ : اٰناءٌ یہ انیٰ کی جمع ہے بمعنی اوقات۔
قولہ : امَّن، اَمْ متصلہ بھی ہوسکتا ہے، اس کا مقابل محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے الکافرُ خیرٌ ام الذی ھو قانتٌ ہمزہ من موصولہ پر داخل ہے، میم کو میم میں ادغام کردیا گیا ہے، یا اَمْ منقطع ہے، اس کی تقدیر بَل اور ہمزہ کے ساتھ ہوگی ای بَلْ اَمَن ھو قانتٌ کغَیرہٖ ؟ اور تخفیف کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے، اس صورت میں ہمزہ استفہام انکاری ہوگا۔
قولہ : کمن ھُو عاصٍ بکفرہٖ وغیرہٖ سے شارح کا مقصد اَمْ من ھو قانتٌ کے معادل کو بیان کرنا ہے۔
تفسیر و تشریح
سورة زمر کے فضائل : امام نسائی (رح) نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ آپ ﷺ
جب روزہ رکھتے تو اس کثرت اور تسلسل کے ساتھ رکھتے کہ ہم یہ خیال کرتے کہ شاید اب آپ کبھی افطار نہ کریں گے، اور جب آپ افطار فرماتے تو اس قدر تسلسل کے ساتھ افطار فرماتے کہ ہم خیال کرتے کہ شاید اب آپ کبھی روزہ نہ رکھیں گے، اور آپ ﷺ روزانہ ہر شب کو سورة بنی اسرائیل اور سورة زمرتلاوت فرماتے، اور یہ امام ترمذی نے ان الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے کَانَ رسول اللہ ﷺ لایَنَامُ حتّٰی یقرأ الزُمر و بنی اسرائیل یعنی آپ ﷺ اس وقت تک نہ سوتے جب تک کہ سورة زمر اور سورة بنی اسرائیل تلاوت نہ فرما لیتے۔ (فتح القدیر شوکانی)
اعمال میں اخلاص کا مقام : فاعبد اللہ۔۔۔۔۔ الخالص یہاں دین کے معنی عبادت وطاعت کے ہیں جو تمام احکام دینیہ کو شامل ہیں، اس سے پہلے جملہ میں آنحضرت ﷺ کو خطاب کرکے حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کی عبادت وطاعت خالص اسی کے لئے کریں، جس میں شرک یار یاء و نمود کا شائبہ بھی نہ ہو، ابن مردویہ نے یزید الرقاشی سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے آپ ﷺ سے عرض کیا، یا رسول اللہ ہم اپنے اموال کو (راہ خدا میں) شہرت و ثنا کیلئے دیتے ہیں تو کیا ہمیں اس کا اجر ملے گا ؟ آپ نے فرمایا لاَ ! عرض کیا کہ ہم اگر اجر (ثواب) اور ذکر (نام آوری) کیلئے دیں تو کیا ہمیں اس کا اجر ملے گا ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا انَّ اللہ لا یقبل الاَّ ما اخلص لہٗ اللہ تعالیٰ اسی عمل کو قبول فرماتے ہیں جو خالص اسی کیلئے ہو پھر آپ نے مذکورہ آیت تلاوت فرمائی۔ (فتح القدیر شوکانی)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں بعض اوقات کوئی صدقہ خیرات کرتا ہوں یا کسی پر احسان کرتا ہوں، جس میں میری نیت رضا جوئی کی بھی ہوتی ہے اور یہ بھی کہ لوگ میری تعریف کریں گے، آپ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی ایسی چیز کو قبول نہیں فرماتے جس میں کسی غیر کو شریک کیا گیا ہو، پھر آپ نے آیت مذکورہ بطور استدلال کے تلاوت فرمائی الا للہ الدینُ الخالص (قرطبی)
اعمال کی مقبولیت کا دار و مدار اخلاص پر ہے نہ کہ تعداد پر : متعدد قرآنی آیات اس پر شاہد ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اعمال کا حساب گنتی سے نہیں بلکہ وزن سے ہوگا، حق تعالیٰ نے فرمایا ونَضَعُ الموازِیْنَ القِسطَ لِیَومِ القیامۃِ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں حساب گنتی اور شمار سے نہیں بلکہ وزن و مقدار سے ہوگا اور وزن، اعمال میں اخلاص سے پیدا ہوتا ہے، صحابہ کرام جو کہ مسلمانوں کی صفت اول ہیں، ان میں سے اکثر کے اعمال و ریاضیات کی تعداد گنتی اور شمار کے اعتبار سے کچھ زیادہ نظر نہ آئے گی، مگر اس کے باوجود ان کا ادنیٰ عمل باقی امت کے بڑے بڑے اعمال سے فائق ہونے کی وجہ ان کا کمال ایمان اور کمال اخلاص ہی تو ہے۔
والذین اتخذوا من دونہ اولیاءَ (الآیۃ) اہل مکہ اور تقریباً تمام اہل عرب کا عقیدہ تو یہی تھا کہ تمام کائنات کا مالک اور زمین و آسمان کا خلاق اور تمام کاموں میں متصرف صرف خدا ہی کی ذات ہے مگر اس کے باوجود انہوں نے کچھ دیوی دیوتاؤں اور فرشتوں کے بت تراش رکھے تھے، ان کی بندگی اور نذر و نیاز کرتے تھے، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب وہ خدا تعالیٰ ہی کو مالک کون و مکان اور خالق زمین و آسمان مانتے تھے تو پھر وہ ان بتوں کی بندگی کیوں کرتے تھے ؟ ان سے جب یہ سوال کیا جاتا تھا تو وہ یہی جواب دیتے تھے جو قرآن نے یہاں نقل کیا ہے، ما نعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفیٰ ہم ان بتوں کی بندگی محض اس لئے کرتے ہیں کہ ان کے ذریعہ ہمیں اللہ کا قرب حاصل ہوجائے، یا اللہ کے حضور ہماری سفارش کردیں، یہ حضرات اس بات کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں تھے کہ ہم شرک کر رہے ہیں یا ہمارا یہ عمل شرک ہے آج بھی جو حضرات قبر پرستی اور مزار پرستی میں مبتلا ہیں اور رات دن قبروں پر نذر و نیاز کے علاوہ سجدہ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے، اپنے ان اعمال کو شرک ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ہی فیصلہ فرمائے گا، اور اسی کے مطابق جزاء و سزا دے گا۔
لو اراد اللہ۔۔۔۔ ما یَشَاءُ (الآیۃ) یہ ان لوگوں پر رد ہے جو فرشتوں کو اللہ کی اولاد کہتے تھے، ان کے اس باطل اور محال خیال کو بطور فرض محال کے فرمایا اگر اس کو اولاد بنانا ہی تھا تو لڑکیوں ہی کو کیوں اولاد بنایا ؟ جیسا کہ مشرکین کا عقیدہ تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں، بلکہ وہ اپنی مخلوق میں سے جس کو پسند کرتا وہ اس کی اولاد ہوتی، نہ کہ وہ جن کو وہ باور کراتے ہیں، لیکن وہ تو والد وولد کے نقص ہی سے پاک ہے لم یلد ولم یولد اس کی خاص صفت ہے۔ (ابن کثیر تلخیصا وترمیما)
یُکورُ اللیل علی النھار ” تکویر “ کے معنی ایک شئ کو دوسری پر ڈال کر چھپا دینے کے ہیں، قرآن کریم نے دن اور رات کے انقلاب کو یہاں عام نظروں کے اعتبار سے لفظ تکویر سے تعبیر کیا ہے رات آتی ہے تو گویا دن کی روشنی پر ایک پردہ ڈال دیا گیا، اور جب دن آتا ہے تو رات کی تاریکی پردہ میں چلی جاتی ہے۔
چاند اور سورج متحرک ہیں : کل یجری لاجل مسمی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شمس و قمر، دونوں حرکت کرتے ہیں، فلکیات اور طبقات الارض کی مادی تحقیقات قرآن پاک یا کسی آسمانی کتاب کا موضوع بحث نہیں ہوتا، مگر اس معاملہ میں جتنی بات کہیں ضمناً آجاتی ہے اس پر یقین رکھنا فرض ہے، فلاسفہ کی قدیم و جدید تحقیقات تو موم کی ناک ہیں روز بدلتی رہتی ہیں، قرآنی حقائق غیر متبدل ہیں آیت مذکور سے یہ بات معلوم ہوئی کہ شمس و قمر دونوں حرکت میں ہیں، اس پر یقین رکھنا فرض ہے نہ اس میں شک کرنے کی گنجائش اور نہ تاویل کی ضرورت، اب رہا یہ معاملہ کہ ہمارے سامنے آفتاب کا طلوع و غروب زمین کی حرکت سے ہے یا خود ان سیاروں کی حرکت سے ہے قرآن نہ اس کا اثبات کرتا ہے اور نہ نفی، تجربہ سے جو کچھ معلوم ہوا اس کے ماننے میں حرج نہیں۔
خلقکُم۔۔۔۔ زوجھا (الآیۃ) ثم کے ذریعہ عطف، آدم و حواء (علیہم السلام) کے درمیان ترتیب تخلیق اور تاخیر کو بیان کرنے کے لئے ہے، معطوف علیہ مقدر ہے اور وہ نفس کی صفت ہے، تقدیر یہ ہے خلقکم من نفسٍ خلقھا واحدۃً ثُم جعل منھا زوجھا اور یہ بھی جائز ہے کہ واحدۃً کے معنی پر عطف ہو، ای من نفسٍ انفردت ثم جعل منھا زوجھا۔
سوال : حق تعالیٰ شانہ نے خلق کو جَعل سے کیوں تعبیر کیا ؟
جواب : حضرت حواء کو آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا فرمانا یہ قدرت خداوندی پر زیادہ دلالت کرنے والا ہے، اس لئے کہ یہ طریق تخلیق، اللہ سبحانہ تعالیٰ کی عادت مستمرہ کے خلاف ہے بخلاف تخلیق آدم اور اس کی نسل کے کہ یہ عادت مستمرہ کے موافق ہے اس لئے کہ اشیاء کو عدم سے وجود میں لانا رحم مادر کے واسطہ سے ہونا یہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی عام عادت ہے، بخلاف حواء کے کہ ان کو آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا کیا یہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی عادت مستمرہ نہیں ہے، اسی کی طرف اشارہ کرنے کیلئے خلق کے بجائے
جَعَلَ کا لفظ اختیار فرمایا۔
وانزل۔۔۔۔ ثمانیۃ ازواج اس کا عطف خلقکم پر ہے، یہاں تخلیق کو انزال سے تعبیر فرمایا ہے یا تو اس لئے کہ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تخلیق اولاً جنت میں ہوئی تھی، وہاں سے دنیا میں اتارا گیا اس صورت میں انزل حقیقی معنی میں ہوگا، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مجازاً انزل سے تعبیر کردیا ہو اس لئے کہ مویشی گھاس چارہ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے اور گھاس چارہ پانی سے پیدا ہوتا ہے اور پانی آسمان سے نازل ہوتا ہے تو گویا کہ مویشی آسمان سے نازل کردہ ہیں، اس میں نسبت سبب السبب کی طرف کردی گئی، جس طرح کہ شاعر نے مندرجہ ذیل شعر میں سبب کی طرف نسبت کی ہے : ؎
اذا نزل السماءُ بِاَرْضِ قوم رعیناہ وان کانوا غضابًا (فتح القدیر شوکانی)
شاعر نے نزل کی نسبت پانی کے بجائے پانی کے سبب یعنی بادل کی جانب کی ہے۔
وانزل لکم۔۔۔۔ ازواج یہ انہی چار قسم کے جانوروں کا بیان ہے جن کا ذکر سورة انعام کی آیت 143، 144 میں گزرا ہے اور وہ بھیڑ، بکری، اونٹ، گائے ہے جو نر و مادہ مل کر آٹھ ہوجاتے ہیں۔
ان تکفروا۔۔۔ عنکم مطلب یہ ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے کفر و ایمان سے مستثنیٰ ہے کسی کے ایمان سے نہ اس کا کوئی فائدہ اور نہ کفر سے کچھ نقصان، صحیح مسلم کی ایک حدیث قدسی میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا، اے میرے بندو ! اگر تمہارے اولین و آخرین اور تمہارے انسان اور جن سب کے سب انتہائی فسق و فجور میں مبتلا ہوجائیں تو میرے ملک و سلطنت میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں آتی۔ (ابن کثیر، معارف)
ولا یرضی لعبادہ الکفر، کفر اگرچہ انسا، اللہ کی مشیت ہی سے کرتا ہے، اس لئے کہ کوئی کام خدا کی مشیت اور ارادہ کے بغیر نہیں ہوسکتا، تاہم کفر کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتے، اس کی رضا حاصل کرنے کا طریقہ اور ذریعہ شکر ہی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی مشیت اور چیز ہے اور اس کی رضا اور چیز ہے۔
اہل سنت والجماعت کا عقیدہ : اہل سنت والجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ دنیا میں کوئی اچھا یا برا کام یا کفر و ایمان اللہ جل شانہ کی مشیت اور اس کے ارادہ کے بغیر وجود میں نہیں آسکتا، البتہ حق تعالیٰ کی رضا اور پسندیدگی صرف ایمان اور اچھے کاموں سے متعلق ہوتی ہے، شیخ الاسلام علامہ دینوری نے اپنی کتاب ” الاصول والضوابط “ میں تحریر فرمایا ہے :
مذھب اھل الحق الایمانُ بالقدرِ واثباتہٖ وانَّ جمیعَ الکائنات خیرھا وزشرُّھا بقضاء اللہ وقدرہ وھو مرید لَھَا کُلھا ویکرہ المعاصی مع أنہ تعالیٰ مُرید لھَا لحِکمۃٍ یعلمُھا جلَّ وعَلا۔ (روح المعانی، معارف)
” اہل حق کا مذہب تقدیر پر ایمان لانا ہے اور یہ کہ تمام کائنات اچھی ہو یا بری سب اللہ تعالیٰ کے حکم و تقدیر سے وجود میں آتی ہے، اور اللہ تعالیٰ اس کا تخلیق کا ارادہ بھی فرماتے ہیں، مگر وہ معاصی کو مکروہ اور ناپسند سمجھتا ہے اگرچہ اسکی تخلیق کا ارادہ کسی حکمت و مصلحت سے ہوتا ہے جس کو وہ خود ہی جانتا ہے “۔
أمن ھُو قانتٌ اٰناء اللیل لفظ اَمَّن دو لفظوں سے مرکب ہے اَمْ حرف استفہام اور من اسم موصول سے، اس جملہ سے پہلے کفار کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ دنیا کی چند روزہ زندگی میں اپنے کفر و فسق کے مزے اڑالو، آخر کار تم جہنم کے ایندھن ہو وگے، اس کے بعد اس جملہ میں مومن مطیع کا بیان ہے، جس کو اَمَّن کے لفظ سے شروع کیا ہے، علماء تفسیر نے فرمایا کہ اس سے پہلے ایک جملہ جو کہ اس جملہ کا معادل ہے محذوف ہے کہ کافر سے کہا جائے گا کہ تو اچھا ہے یا وہ مومن مطیع جس کا ذکر آگے آتا ہے
واذا مس۔۔۔۔ منیبًا (الآیۃ) جب اللہ تعالیٰ مصیبت زدہ انسان کی فریاد کو سن لیتے ہیں اور اس کی مصیبت کو دور کردیتے ہیں تو مصیبت دور ہونے کے بعد اس ذات کو کہ جس سے عاجزی اور انکساری کے ساتھ دعا کرتا تھا بھول جاتا ہے اور پھر اسی کفر و معصیت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ ایک تو یہ کافر و مشرک ہے جس کا حال یہ ہے جو ابھی اوپر مذکور ہوا، اور دوسرا وہ شخص ہے جو تنگی اور خوشحالی خوشی اور غمی میں رات کی گھڑیاں اللہ کے سامنے عاجزی اور فرمانبرداری کا اظہار کرتے ہوئے قومہ و قیام، رکوع و سجود میں گزارتا ہے، اور آخرت کا خوف بھی اس کے دل میں ہے، اور اپنے رب کی رحمت کا امیدوار بھی ہے، یعنی امید و بیم کی کیفیت سے سرشار ہے، جو اصل ایمان ہے، کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ نہیں اور یقیناً نہیں، خوف ورجاء کے بارے میں حضرت انس ؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک شخص کے پاس عیادت کے لئے گئے مریض حالت سکرات میں تھا، آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ تو خود کو کسی حالت میں پاتا ہے، اس نے عرض کیا میں اللہ سے امید رکھتا ہوں، اور اپنے گناہوں کی وجہ سے ڈرتا بھی ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا اس موقع پر جس بندے کے دل میں یہ دونوں باتیں ہوں تو اللہ اسے وہ چیز عطا فرماتا ہے جو وہ امید رکھتا ہے اور اس چیز سے بچا لیتا ہے جس سے وہ ڈرتا ہے۔ (ترمذی، ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب ذکر الموت)
Ayahs 39:10–21آیت نمبر 10 تا 21
ترجمہ : آپ کہہ دیجئے اے میرے ایمان والے بندو ! اپنے رب سے ڈرتے رہو یعنی اس کے عذاب سے (ڈرتے رہو) اس طریقہ سے کہ اس کی اطاعت کرو، جو لوگ اس دنیا میں طاعت کے ذریعہ نیکی کرتے ہیں ان کے لئے اچھا صلہ ہے اور وہ جنت ہے اور اللہ تعالیٰ کی زمین بہت کشادہ ہے، کفار کے درمیان سے اور منکرات کے مشاہدہ سے (بچنے کے لئے) کسی اور سرزمین کی طرف ہجرت کو جاؤ طاعات پر اور ان مصائب پر جن میں ان کو مبتلا کیا گیا ہے، صبر کرنے والوں ہی کو پورا (اور) بیشمار اجر ملتا ہے یعنی بغیر ناپے تولے (اجر ملتا ہے) آپ کہہ دیجئے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کروں کہ اسی کے لئے شرک سے دین کو خالص کروں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس قوم میں سے سب سے پہال فرمانبردار بن جاؤں (آپ) کہہ دیجئے کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ کرتا ہوں (آپ) کہہ دیجئے کہ میں تو اللہ ہی کی عبادت اس طرح کرتا ہوں کہ عبادت کو اسی کے لئے شرک سے خالص رکھتا ہوں تم اس کو چھوڑ کر جس کی چاہو بندگی کرو اس میں ان کیلئے تہدید (دھمکی) ہے، اور اس بات کا اعلان ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بندگی نہیں کرتے (اور) آپ ان سے یہ (بھی) کہہ دیجئے کہ حقیقی زیاں کا روہ ہیں جو اپنے آپ کو اور اپنے اہل کو قیامت کے دن نقصان میں ڈال دیں گے خود کو جہنم میں ہمیشہ کیلئے ڈال کر اور ان حوروں کو حاصل نہ کرکے جو ان کے لئے جنت میں تیار کی گئی ہیں، اگر وہ ایمان لاتے یاد رکھو، کھلا نقصان یہی ہے کہ ان کے لئے ان کے اوپر سے بھی آگ کے محیط شعلے ہوں گے اور ان کے نیچے سے بھی آگ کے محیط شعلے ہوں گے یہ وہی (عذاب) ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو یعنی مومنین کو ڈراتا ہے تاکہ اس سے ڈریں، اور اس وصف (ایمان) پر یا عِبَادِ فَاتَّقُونِ دلالت کر رہا ہے، اے میرے بندوں مجھ ہی سے ڈرو، اور جن لوگوں نے طاغوت یعنی بتوں کی بندگی سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف متوجہ رہے وہ جنت کی خوشخبری کے مستحق ہیں تو میرے ان بندوں کو خوشخبری سنا دیجئے جو بات کو کان لگا کر سنتے ہیں پھر اس میں سے اچھی بات کی اتباع کرتے ہیں اور اچھی بات وہ ہے جس میں فلاح ہے یہی ہیں وہ لوگ جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے یہی لوگ عقل مند ہیں، بھلا جس شخص پر عذاب کی بات محقق ہوچکی یعنی لاَمَلاَنَّ جھَنَّمَ (الآیۃ) تو کیا آپ ایسے شخص کو جو کہ دوزخ میں ہے چھڑا سکتے ہیں ؟ افَانتَ الخ جواب شرط ہے اور اس میں ضمیر کی جگہ اسم ظاہر رکھا گیا ہے اور ہمزہ انکار کے لئے ہے اور معنی (آیت) کے یہ ہیں کہ آپ اس کی ہدایت پر قادر نہیں ہیں کہ اس کو آگ سے چھڑا سکیں، ہاں جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے بایں طور کہ اس کی اطاعت کی ان کیلئے بالاخانے ہیں جن کے اوپر بھی بالا خانے ہیں جو بنے بنائے تیار ہیں، (اور) ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں یعنی فوقانی اور تحتانی بالا خانوں کے نیچے (نہریں جاری ہیں) یہ اللہ نے وعدہ کیا ہے (وَعْدَ اللہِ ) اپنے فعل مقدر کی وجہ سے منصوب ہے، اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا کیا آپ نے اس بات پر نظر نہیں کی ؟ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس کو زمین کے سوتوں میں یعنی چشموں کی جگہ داخل کردیتا ہے پھر اس کے ذریعہ مختلف قسم کی کھیتیاں اگائیں پھر وہ خشک ہوجاتی ہیں پھر (اے مخاطب) تو اس کو سبزی کے بعد مثلاً زرد دیکھتا ہے پھر وہ اس کو ریزہ ریزہ کردیتا ہے اس میں عقلمندوں کیلئے بڑی نصیحت ہے جو اس سے نصیحت حاصل کرتے ہیں اس کے خدا کی وحدانیت اور قدرت پر دلالت کرنے کی وجہ سے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : باَن تُطیعوہُ یہ تقویٰ کی تفسیر ہے۔ قولہ : للذین احسنوا فی ھٰذہ الدنیا جملہ ہو کر خبر مقدم ہے، اور حَسَنۃٌ مبتداء مؤخر ہے۔
قولہ : ارضُ اللہِ واسِعۃٌ مبتدا خبر ہیں۔
قولہ : فیہِ تَھْدِید لھُمْ ، اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ فاعبُدُوا امر تہدید یعنی دھمکی کے لئے ہے نہ کہ طلب فعل کیلئے۔
قولہ : لھُمْ من فوقِھِم ظُلَلٌ لھم خبر مقدم ہے من فوقھم حال ہے ظُلَلٌ مبتداء مؤخر ہے۔
قولہ : طباق ای قِطَعٌ کبار، بڑے بڑے ٹکڑے، آگ کے بڑے بڑے شعلوں پر ظُلَلٌ کا اطلاق تہکم کے طور پر ہے، ورنہ تو آگ کے شعلوں میں سایہ کا سوال ہی نہیں ہے ظُلَلٌ ظُلَّۃٌ کی جمع ہے بمعنی سائبان۔ قولہ : مِن تحتھم ظُلَلٌ۔
سوال : سائبان کا فوق ہونا تو سمجھ میں آتا ہے، مگر سائبان کا نیچے ہونا سمجھ میں نہیں آتا۔
جواب : اس کی صورت یہ ہوگی اگر بالائی طبقہ کے لئے فرش ہوگا تو اس سے نیچے والے طبقہ کیلئے سائبان ہوگا، جیسے کثیر المنزلہ
عمارت میں درمیانی چھت ایک فریق کیلئے فرش ہوتی ہے تو دوسرے فریق کیلئے چھت ہوتی ہے۔
قولہ : ذٰلک تَخویفٌ ای ذکر احوال اھل النار تخویف المؤمنین، ذٰلک کا مرجع ذکر احوال اھل النار ہے۔
قولہ : الاوثان طاغوت کی چند تفاسیر میں سے یہ ایک ہے، بعض نے طاغوت سے شیطان مراد لیا ہے، بعض نے ہر وہ معبود مراد لیا ہے جس کی اللہ کے علاوہ بندگی کی گئی ہو۔
قولہ : اقیم فیہ الظاھر مقام المضمر، یعنی مَن فی النَّارِ اسم ضمیر کی جگہ میں ہے اور ایسا زیادتی شناعت کو بیان کرنے کیلئے کیا گیا ہے تاکہ ان کا ہل نار میں سے ہونا واضح ہوجائے، ورنہ افَانْتَ تُنقِذُہٗ کافی تھا، افَانتَ میں ہمزہ انکار کیلئے ہے افانتَ ، فَمَن حَقَّ علیہِ کا جواب ہے، ہمزہ کا اعادہ کی تاکید کے لئے۔
قولہ : لَھُمْ غُرَفٌ من فوقھا عُرَف اہل جنت کے بارے میں یہ قول مقابلہ میں ہے اہل نار کیلئے اللہ تعالیٰ کے قول لَھُم من فوقھم ظُللٌ من النار ومن تحتھم ظُلَلٌ کے۔ قولہ : بفعلہ المقدر اس کی تقدیر ہے وَعَدَھُم اللہ وعداً ، وعداً کا فعل ناصب وَعَدَ فعل محذوف ہے۔
تفسیر و تشریح
وارض اللہ واسعۃٌ اس سے پہلے جملے میں اعمال صالحہ کا حکم ہے، اس میں کوئی یہ عذر کرسکتا تھا کہ میں شہر یا علاقہ یا ملک میں رہتا ہوں، وہاں کے حالات دینی اعمال اور اسلامی شعار کی ادائیگی کے لئے سازگار نہیں، جس کی وجہ سے میں اعمال صالحہ نہیں کرسکتا، اس کا جواب اس جملہ میں دیدیا گیا کہ اگر کسی خاص ملک و شہر یا علاقہ میں رہتے ہوئے احکام شرعیہ کی پابندی مشکل نظر آئے تو اسکو چھوڑ دو اللہ کی زمین بہت وسیع ہے، کسی ایسے ملک یا علاقہ میں جاکر رہو جو اطاعت احکام الٰہیہ کیلئے ساز گار ہو، اس میں ایسی جگہ سے ہجرت کرنے کی ترغیب ہے۔
انما یوفی الصّٰبرُون (الآیۃ) ایمان وتقویٰ اور ہجرت کی راہ میں مشکلات ناگزیر اور شہوات و لذت نفس کی قربانی بھی لابدی ہے، جس کے لئے ضرورت ہے، اس لئے صابرین کی فضیلت بھی بیان کردی گئی ہے، کہ ان کو ان کے صبر کے بدلے میں اس طرح پورا پورا اجر دیا جائے گا، کہ اسے حساب کے پیمانوں سے ناپنا ممکن نہیں ہوگا یعنی اس کا اجر غیر متناہی ہوگا، صبر کی یہ وہ عظیم فضیلت ہے جس کی ہر مسلمان کو کوشش کرنی چاہیے۔
حضرت قتادہ ؓ نے فرمایا کہ حضرت انس ؓ نے یہ حدیث سنائی کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے روز میزان عدل قائم کی جائے گی، اہل صدقہ آئیں گے تو ان کے صدقات کو تول کر اس کے حساب سے پورا پورا اجر دلایا جائے گا، اسی طرح نماز حج وغیرہ عبادتوں کو تول کر حساب سے ان کا اجر پورا دیدیا جائے گا، پھر جب بلاء اور مصیبتوں پر صبر کرنے والے آئیں گے تو کوئی کَیْل اور وزن نہیں ہوگا، بلکہ بغیر حساب و اندازے کے ان کی طرف اجر وثواب بہا دیا جائے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اِنّما یوفَی الصابرون اجرھم بغیر حساب حتی کہ وہ لوگ جن کی دنیوی زندگی عافیت میں گزری ہوگی تمنا کرنے لگیں گے کہ کاش ہمارے جسم دنیا میں تینچیوں کے ذریعہ کاٹے گئے ہوتے تو ہمیں بھی صبر کا ایسا ہی صلہ ملتا۔
حضرت امام مالک (رح) تعالیٰ علیہ نے اس آیت میں ” صابرین “ سے وہ لوگ مراد لئے ہیں جو دنیا کے مصائب اور آلام پر صبر کرنے والے ہیں، اور بعض حضرات نے فرمایا کہ صابرین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی سے اپنے نفس کو روکیں، مفسر قرطبی فرماتے ہیں کہ لفظ صابر جب بغیر کسی دوسرے لفظ کے بالا جاتا ہے تو اس سے مراد وہ ہوتا ہے جو اپنے نفس کو گناہوں سے باز رکھنے کی مشقت پر صبر کرے، اور مصیبت پر صبر کرنے والے کے لئے صابر علیٰ کذا بولا جاتا ہے یعنی فلاں مصیبت پر صبر کرنے والا، (واللہ اعلم بالصواب)
فسل کہ۔۔۔ یَنَابِیْعٌ، ینبُوعٌ کی جمع ہے، زمین سے ابلنے والے چشمے یعنی بارش کے ذریعہ پانی آسمان سے اترتا ہے پھر وہ زمین میں حذب ہوجاتا ہے، پھر چشموں کی شکل میں نکلتا ہے یاتالابوں اور نہروں اور پہاڑوں پر برف کی شکل میں جمع ہوجاتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ پانی کو محفوظ کرنے کا اس طرح نظام نہ کرتا تو انسان اس سے صرف بارش کے وقت یا اس کے متصل چند روز تک فائدہ اٹھا سکتا تھا، حالانکہ پانی پر انسانی زندگی کا دار و مدار ہے اور پانی ایسی ضرورت ہے کہ اس سے ایک دن بھی مستغنی نہیں رہ سکتا، اس لئے حق تعالیٰ نے اس نعمت کے صرف نازل کرنے پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ اس کے محفوظ کرنے کے عجیب عجیب سامان فرما دئیے، کچھ زمین کے گڑھوں، تالابوں، حوضوں میں محفوظ ہوجاتا ہے، اور بہت بڑا ذخیرہ برف کی شکل میں پہاڑوں پر لاد دیا جاتا ہے، جس سے اس کے سڑنے اور خراب ہونے کا بھی امکان نہیں رہتا پھر وہ برف آہستہ آہستہ پگھل کر پہاڑوں کی رکوں کے ذریعہ زمین میں اتر جاتا ہے، اور جا بجا ابلنے والے چشموں کی شکل میں ابلنے لگتا ہے، اور ندیوں کی شکل میں زمین پر بہنے لگتا ہے، اور زیر زمین ذخیرہ ہوجاتا ہے جس کو کنواں کھود کر اور دیگر طریقوں سے نکالا جاتا ہے۔ یعنی اس پانی سے جو ایک ہوتا ہے، انواع و اقسام کی چیزیں پیدا فرماتا ہے جس کا رنگ، ذائقہ، خوشبو ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے، یہ بھی خدا کی قدرت کی نشانیوں میں سے عظیم نشانی ہے پھر وہ کھتیاں شادابی اور تر و تازگی کے بعد سوکھ کر زرد ہوتی ہیں، اور شکست و ریخت کا شکار ہو کر ریزہ ریزہ ہوجاتی ہیں۔
انَّ فی ذلک لذکری۔۔ الالبابِ ۔ یعنی اہل دانش اس سے سمجھ لیتے ہیں کہ دنیا کی مثال بھی اسی طرح ہے وہ بھی بہت جلد زوال و فنا سے ہمکنار ہوجائے گی، اس کی رونق و بہجت، اس کی شادابی اور زینت اور اس کی لذتیں اور آسائشیں عارضی اور وقتی ہیں، جن سے انسان کو دل نہیں لگانا چاہیے، بلکہ اس موت کی تیاری میں شغول رہنا چاہیے جس کے بعد کی زندگی دائمی اور لافانی ہے۔
Ayahs 39:22–31آیت نمبر 22 تا 31
ترجمہ : بھلا جس شخص کا سینہ خدا نے اسلام کیلئے کھول دیا ہو جس کی وجہ سے وہ ہدایت پا گیا پس وہ اپنے پروردگار کی طرف سے روشنی پر ہو تو کیا وہ اس شخص کے مانند ہوسکتا ہے کہ جس کے قلب پر مہر لگا دی گئی ہو بربادی ہے ان لوگوں کے لئے جن کے دل خدا کی یاد سے یعنی قبول قرآن سے غافل ہو رہے ہیں حذف خبر پر ویلٌ دلالت کر رہا ہے، ویلٌ کلمۂ عذاب ہے، یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے وہ ایسی کتاب ہے یعنی قرآن جو آپس میں ملتی جلتی ہے، کتابًا احسنَ الحدیث سے بدل ہے یعنی بعض بعض سے مشابہ ہے الفاظ وغیرہ میں اس میں وعدہ وعید وغیرہ کو بار بار دہرایا گیا ہے، جس سے ان لوگوں کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں (کانپنے لگتے ہیں) جب اس کی وعید ذکر کی جاتی ہے، جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں آخر کار ان کے جسم اور سل اس کے وعدہ کے ذکر کے وقت نرم (مطمئن) ہوجاتے ہیں یہ کتاب اللہ کی ہدایت ہے اس کے ذریعہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور خدا جس کو گمراہ کرتا ہے اس کا کوئی ہادی نہیں بھلا وہ شخص جو قیامت کے دن اپنے چہرے کو بدترین عذاب کیلئے (سپر) ڈھال بنائے گا، یعنی شدید ترین عذاب کیلئے اس طریقہ پر کہ اس کے دونوں ہاتھ اس کی گردن میں باندھ کر آگ میں ڈال دیا جائے گا، اس شخص جیسا ہوسکتا ہے، جو نار جہنم سے جنت میں داخل ہونے کی وجہ سے محفوظ رہا ؟ ظالموں یعنی کفار مکہ سے کہا جائے گا، اپنے کئے کا (مزا) یعنی اس کی سزا چکھو عذاب آنے کے بارے میں ان سے پہلے والوں نے (بھی) رسولوں کو جھٹلایا سو ان پر عذاب ایسے طور پر آیا کہ ان کو خیال بھی نہ تھا یعنی ایسی جہت سے آیا کہ ان کے دل میں وہم و گمان بھی نہیں تھا سو اللہ نے ان کو دنیوی زندگی میں ذلت و رسوائی کا عذاب چکھا دیا وہ مسخ اور قتل وغیرہ ہے اور آخرت کا عذاب اور بھی بڑا ہے کاش یہ تکذیب کرنے والے اس کے عذاب کو سمجھ جاتے تو تکذیب نہ کرتے اور یقیناً ہم نے لوگوں کیلئے اس قرآن میں ہر قسم کی مثالیں بیان کردی ہیں تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں، حال یہ کہ قرآن عربی ہے یہ حال مؤکدہ ہے اس میں کسی قسم کی کجی التباس واختلاف نہیں تاکہ یہ لوگ کفر سے بچیں اللہ تعالیٰ نے مشرک اور موحد جی ایک مثال بیان فرمائی (وہ یہ کہ) ایک شخص (غلام) ہے رجلاً ، مثلاً سے بدل ہے جس میں بد اخلاق، جھگڑالو قسم کے چند لوگ شریک ہیں اور دوسرا وہ شخص (غلام) ہے جو خالص ایک ہی شخص کا (غلام) ہے (تو) کیا ان دونوں کی حالت یکساں ہے ؟ مثلاً تمیز ہے یعنی پوری جماعت کا غلام اور ایک شخص کا غلام برابر نہیں ہوسکتے، اس لئے کہ اول سے جب اس کا ہر مالک ایک ہی وقت میں خدمت طلب کرے گا، تو وہ (غلام) حیران رہ جائے گا، کہ ان میں سے کس کی خدمت کرے یہ مثال مشرک کی ہے، اور دوسری مثال موحد کی ہے اللہ وحدہ کیلئے سب تعریفیں ہیں بات یہ ہے کہ اہل مکہ میں سے اکثر لوگ اس عذاب کو جانتے ہی نہیں ہیں جس کی طرف وہ جا رہے ہیں (اسی عدم علم) کی وجہ سے شرک کر بیٹھتے ہیں یقیناً آپ کو بھی موت آئے گی اور وہ بھی مرنے والے ہیں (یہ آپ ﷺ کو خطاب ہے) لہٰذا (کسی کی) موت پر خوشی کی کوئی بات نہیں، یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب کہ (اہل مکہ) آپ ﷺ کی موت کا انتظار کرنے لگے، پھر تم یقیناً سب کے سب اے لوگو ! آپس میں حقوق کے بارے میں قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے جھگڑو گے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
ربط آیات : قولہ : افمن شرح اللہ صدرہٗ للإسلامِ یہ کلام مستانف ہے، ما قبل میں مذکور فی ذٰلک الذِکرٰی لاُولِی الاَلباب کیلئے بمنزلہ علت کے ہے یعنی ذکریٰ کو اولی الالباب کے ساتھ خاص کرنے کی علت کے قائم مقام ہے، مطلب یہ ہے کہ آسمان سے پانی برسنے کے بعد پانی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کا ملہ سے کیسے کیسے عجیب و غریط تغیرات ظاہر فرماتے ہیں، ان کو دیکھ کر عقلمندوں ہی کو اسلام کیلئے شرح صدر ہوتا ہے اور یہی شرح صدر عقلمندوں کیلئے قبول ذکر کا سبب ہوتا ہے (اعراب القرآن ترمیماً ) ہمزہ استفہام انکاری ہے اور فاء عاطفہ ہے معطوف مقدر ہے، ای أکُلُّ النَّاسِ سَواء، من موصولہ ہے اس کے بعد پورا جملہ صلہ ہے، موصول اپنے صلہ سے مل کر مبتداء اس کی خبر محذوف ہے، جیسا کہ مفسر علام نے ظاہر فرما دیا ہے کمَن طُبِعَ عَلیٰ قلبہٖ اور اس حذف خبر پر فَوَیلٌ للقَاسِیَۃ دلالت کر رہا ہے، اور بعض حضرات نے من کو شرطیہ بھی کہا ہے اور بعد والا جملہ اس کی جزاء ہے۔
قولہ : عَنْ ذکر قُبُولِ ال قرآن اس عبارت سے علامہ محلی کا مقصد دو باتوں کی طرف اشارہ کرنا ہے اول یہ کہ من بمعنی عن ہے، اور یہ کہ کلام میں مضاف محذوف ہے عن ذکر اللہ ای عن قبول ذکر اللہ اور یہ بھی صحیح ہے کہ مِنْ اپنے باب پر ہو اور تعلیل کیلئے ہو ای قَسَتْ قُلُوْبُھُمْ من اجل ذکر اللہ لفَسَاد قلوبھم وخسرانِھا۔
قولہ : مَثَانِی یہ مَثْنٰی کی جمع ہے مگر یہ مفرد کی بھی صفت واقع ہوسکتا ہے، جیسا کہ یہاں کتاب کی صفت واقع ہے، کتاب گو مفرد ہے مگر بہت سی تفاصیل کو جامع ہونے کی وجہ سے ایک مجموعہ کا نام ہے، لہٰذا اس کی صفت جمع لائی جاسکتی ہے، اس کی نظیر عرب کا یہ قول ہے الانسانُ عُرُوقٌ وعِظامٌ واعصابٌ۔ قولہ : وغیرھما کالقصص والاحکام۔
قولہ : تقشعرُّ منہ عند ذکر وعیدہٖ شارح نے اشارہ کردیا کہ من بمعنی عِنْدَ ہے تقشَعِرُّ ای ترتعدُ وتضطربُ (وبالفارسیۃ) لرزیدن، کانپنا، اس کا مصدر اقشعرار ہے (بالفارسیۃ) موئے برتن خاستین یقال اقشَعَرَّ الشعر ای قام وانتصب من فزعٍ او بردٍ خوف یا سردی کی وجہ سے رونگٹے کھڑے ہونا (لغات القرآن ترمیما وتلخیصاً ) زمخشری نے کہا ہے کہ یہ دراصل القَسَعُ ہے، خشک شدہ چمڑا، اس کو رباعی بنانے کیلئے اس کے آخر میں راء زائد کردی تاکہ زیادتی معنی پر دلالت کرے۔ (لغات القرآن)
قولہ : الیٰ ذکر اللہ ای عند ذکر وَعْدِہٖ اس میں اشارہ ہے کہ الیٰ بمعنی عند ہے۔
قولہ : ذٰلک ای الکتاب الموصوف بتلک الصفات المذکورۃ۔
قولہ : ھُدَی اللہ ای سببٌ فی الھُدٰی یا مبالغہ کے طور پر زیدٌ عدلٌ کے قبیل سے ہے یعنی یہ کتاب اس قدر سبب ہدایت ہے گویا کہ وہ خود ہی ہدایت ہے۔
قولہ : افَمَنْ یتَّقِی ویلقٰی بوجھہٖ سوءَ العذاب ایک نسخہ میں یَلْقٰی کے بجائے یَقِی ہے، مَنْ موصولہ اپنے صلہ سے مل کر جملہ ہو کر مبتداء اس کی خبر محذوف ہے، جس کو علامہ محلی نے کَمْن اَمِنَ منہُ کہہ کر ظاہر کردیا ہے، مطلب یہ ہے کہ جو شخص اپنے چہرے کو آگ کیلئے سپر (ڈھال) بنائے، کیا وہ اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے، جو آگ سے مامون و محفوظ ہو۔
قولہ : قِیلَ للظّٰلِمِیْنَ یقینی الوقوع ہونے کی وجہ سے ماضی سے تعبیر کیا ہے، اس کا عطف یتقی پر ہے، للظّٰلِمِینَ اسم ظاہر کو اسم ضمیر کی جگہ ان کی صفت ظلم کو بیان کرنے کیلئے لایا گیا ہے، ورنہ تو وقِیْلَ لَھُمْ کافی تھا۔
قولہ : ای کفار مکۃ کے بجائے مطلقاً کفار کہتے تو زیادہ مناسب ہوتا، اس لئے کہ یہ قول کفار مکہ کے ساتھ خاص نہیں ہے۔
قولہ : ای جزاءَہٗ اس میں اشارہ ہے مضاف محذوف ہے، ای ذوقوا جزاءَ ما کُنْتُمْ تَکْسِبُوْنَ ۔ قولہ : لَوْ کانوا یعلَمُونَ ، لَوْ شرطیہ ہے کانوا فعل ناقص اس کے اندر ضمیر وہ اسم، یَعلَمونَ جملہ ہو کر کَانَ کی خبر کان اسم و خبر سے مل کر شرط، جواب شرط محذوف جس کو مفسر نے ما کذبوا نکال کر ظاہر کردیا، اور عذَابَھَا مقدر مان کر اشارہ کردیا کہ یعلمونَ کا مفعول محذوف ہے۔
قولہ : وَلَقَدْ ضَرَبْنَا، لَقَدْ میں لام قسم محذوف کے جواب پر داخل ہے اور ضَرَبْنَا بمعنی بَیَّنَّاواَوْ ضَحْنَا ہے۔
قولہ : قرآنًا عربیًّا، ھٰذا القرآن کے لئے حال مؤکدہ ہے۔
قولہ : مُتَشَاکِسُوْنَ اسم فاعل جمع مذکر غائب، جھگڑالو شَکُسَ یشکُسُ (ک) شکاسۃً بدخلق ہونا، قال زمخشری (رح) التشاکُس والتَّشَاخُسْ ای الاختلاف۔
قولہ : ھل یستویان، مثلاً تمیزٌ، مثلاً تمیز ہے جو فاعل سے منقول ہے تقدیر عبارت یہ ہے ای لا یستوی مثلھما وصِفَتُھما۔
قولہ : میتٌ فرّا نے کہا ہے یاء کی تشدید کے ساتھ وہ شخص جو ابھی مرانہ ہو اور عنقریب مرنے والا ہو اور مَیْتٌ (ی) کی تخفیف کے ساتھ مردہ، بعض حضرات نے کہا ہے کہ دونوں کے معنی میں کوئی فرق نہیں ہے۔
تفسیر و تشریح
افمن شرح۔۔۔۔ للاسلام (الآیۃ) شرحٌ کے لغوی معنی کھولنے اور پھیلانے اور وسیع کرنے کے ہیں، شرح صدر کا مطلب ہے وسعت قلب یعنی قلب میں قبول حق کی استعداد و صلاحیت کا پیدا ہوجانا کیا وہ شخص کہ جس میں قبول حق اور کار خیر پر عمل کرنے کی استعداد و صلاحیت پیدا ہوگئی، اس جیسا ہوسکتا ہے جس کا دل اسلام کیلئے سخت اور سینہ تنگ ہو، اور گمراہی کی تاریکیوں میں بھٹک رہا ہو، شرح صدر کے بالمقال ضیق قلب ہے، جیسا کہ اسی آیت میں قاسیۃ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب یہ آیت افَمَن شرح اللہ صدرَہٗ تلاوت فرمائی تو ہم نے آپ سے دریافت کیا کہ شرح صدر کا کیا مطلب ہے ؟ تو آپ نے فرمایا جب نور ایمان انسان کے قلب میں داخل ہوتا ہے تو اس کا قلب وسیع ہوجاتا ہے، جس سے احکام الٰہیہ کا سمجھنا اور عمل کرنا اس کیلئے آسان ہوجاتا ہے ہم نے دریافت کیا، یا رسول اللہ اس (شرح صدر) کی علامت کیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : الإنابۃُ الیٰ دار الخلود والتجا فی عن دار الغرور والتأھبُ للموت قبل نزول الموت۔ (رواہ الحاکم، فی المستدرک والبیھقی فی شعب الایمان، مظھری) ” ہمیشہ رہنے والے گھر کی طرف راغب اور مائل ہونا اور دھوکے کے گھر یعنی دنیا کے (لذائذ اور زینت) سے دور رہنا اور موت کے آنے سے پہلے اس کی تیاری کرنا “۔
افمن شرح اللہ صدرہٗ (الآیۃ) اس آیت کو حرف استفہام سے شروع فرمایا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ کیا ایسا شخص جس کا دل اسلام کیلئے کھول دیا گیا ہو اور وہ اپنے رب کی طرف سے آئے ہوئے نور پر ہو (یعنی اس کی روشنی میں سب کام کرتا ہو) اور وہ آدمی جو تنگ دل اور سخت دل ہو کہیں برابر ہوسکتے ہیں ؟ اس کے بالمقابل سخت دل کا ذکر اگلی آیت میں ویل سے کیا گیا ہے فویلٌ للقٰسِیَۃِ قُلُوبُھُمْ ، قاسیۃٌ، قساوۃٌ سے مشتق ہے، جس کے معنی ہیں سخت دل ہونا، جس کو کسی پر رحم نہ آئے اور جو اللہ کے ذکر اور اس کے احکام سے کوئی اثر قبول نہ کرے۔ (معارف)
اللہ نزَّل۔۔۔۔ متشابِھًا (الآیۃ) اس سے پہلی آیت میں اللہ کے مقبول بندوں کی کیفیت میں بیان کیا گیا تھا کہ یستمعون القولَ فیتَّبِعُوْنَ احسنَہٗ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ پورا قرآن ہی احسن الحدیث ہے، لغت میں حدیث اس کلام یا قصہ کو کہتے ہیں جس کو بیان کیا جاتا ہے، قرآن کو احسن الحدیث کہنے کا حاصل یہ ہے کہ انسان کو کچھ کہتا بولتا ہے اس سب میں قرآن احسن الکلام ہے، یہ مطلب نہیں کہ قرآن کا کچھ حصہ احسن اور کچھ غیر احسن ہے، جیسا کہ یتبعوْنَ احسنَہٗ سے شبہ ہوتا ہے، آگے قرآن کی چند صفات ذکر فرمائی ہیں : (1) پہلی صفت متشابھًا ہے، متشابہ سے یہاں مراد متماثل ہے، یعنی مضامین قران ایک دوسرے سے مربوط و مماثل ہیں کہ ایک آیت کی تصدیق و تشریح دوسری آیت سے ہوجاتی ہے، اس کلام میں تضاد و تعارض کا نام نہیں ہے (2) دوسری صفت مثانی ہے جو مثنیٰ کی جمع ہے، جس کے معنی مکرر کے ہیں یعنی وعد، وعید بعض مضامین کو ذہن میں مستحضر کرنے کیلئے بار بار دہرایا جاتا ہے (3) تیسری صفت۔
تقشعر منہ۔۔۔۔ ربھم (الآیۃ) یعنی اللہ کی عظمت سے متأثر ہو کر ایسے خوف زدہ ہوتے ہیں کہ ان کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور ان کے جسم پر لرزہ طاری ہوجاتا ہے (4) چوتھی صفت ثُمَّ تلینُ جُلودھم (الآیۃ) یعنی تلاوت قرآن کا کبھی اثر نہ ہوتا ہے کہ رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور کبھی مغفرت اور رحمت خداوندی کی آیات سن کر یہ حال ہوتا ہے کہ بدن اور قلب سب اللہ کی یاد میں نرم ہوجاتے ہیں۔ (قرطبی، معارف)
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس بندے کے بدن پر اللہ کے خوف سے بال کھڑے ہوجائیں تو اللہ اس کے بدن کو آگ پر حرام کردیتے ہیں۔ (قرطبی)
جب اللہ کی رحمت اور اس کے لطف و کرم کی امید ان کے دلوں میں پیدا ہوتی ہے تو ان کے اندر سوز و گداز پیدا ہوجاتا ہے اور وہ اللہ کے ذکر میں مصروف ہوجاتے ہیں، حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ اس میں اولیاء اللہ کی صفت بیان کی گئی ہے کہ اللہ کے خوف سے ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں، اور ان کے دلوں کو اللہ کے ذکر سے اطمینان نصیب ہوتا ہے، یہ نہیں ہوتا کہ وہ مدہوش اور حواس باختہ ہوجائیں اور عقل و ہوش باقی نہ رہے کیونکہ یہ بدعتیوں کا طریقہ ہے، اور اس میں شیطان کا دخل ہوتا ہے۔ (ابن کثیر)
افمن یَّتَّقِی بوجھہٖ اس میں جہنم کی سخت ہولناکی کا بیان ہے، حضرت ابن عباس ؓ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ کافروں کو دست و پابستہ جہنم کی طرف لیجائے گے اور اس میں پھینک دیں گے، اور سب سے پہلے آگ اس کے چہرے کو مس کرے گی، انسان کی عادت دنیا میں یہ ہے کہ اگر کوئی تکلیف کی چیز چہرے کے سامنے آجائے تو اپنے ہاتھوں سے اسے دفع کرنے کی کوشش کرتا ہے، مگر خدا کی پناہ، جہنمیوں کو ہاتھوں سے مدافعت بھی نصیب نہ ہوگی، اس لئے کہ ان کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہوں گے، ان پر جو عذاب آئے گا وہ براہ راست چہروں پر پڑے گا، وہ اگر مدافعت بھی کرنا چاہیں گے تو چہروں ہی کو آگے کرنا ہوگا۔ (قرطبی، معارف)
ثم انکم۔۔۔۔ تختصمون حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہاں لفظ انکُمْ میں مومن اور کافر اور مسلمان، ظالم اور مظلوم سب داخل ہیں، یہ سب اپنے اپنے مقدمات اپنے رب کی عدالت میں پیش کریں گے، اور اللہ تعالیٰ ظالم سے مظلوم کا حق دلوائیں گے، اور حقوق کی ادائیگی کی صورت وہ ہوگی جو صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے آئی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کے ذمہ کسی کا حق ہے اس کو چاہیے کہ دنیا ہی میں اس کو معاف کرا کر فارغ ہوجائے، اس لئے کہ آخرت میں درہم و دینار تو ہوں گے نہیں، اگر ظالم کے پاس کچھ اعمال صالحہ ہوں گے، تو بمقدار ظلم یہ اعمال اس سے لیکر مظلوم کو دیدیئے جائیں گے، اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہیں ہوں گی تو مظلوم کے گناہ ظالم پر ڈال دئیے جائیں گے۔
اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک روز صحابہ کرام ؓ سے سوال فرمایا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ مفلس کون ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم تو مفلس اس کو سمجھتے ہیں جس کے پاس نہ کوئی نقد رقم ہو اور نہ ضروریات کا سامان ہو، آپ کے فرمایا : اصلی اور حقیقی مفلس میری امت میں وہ شخص ہے جو قیامت میں بہت سے نیک اعمال، نماز، روزہ، زکوٰۃ وغیرہ لے کر آئے گا، مگر اس کا حال یہ ہوگا کہ اس نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تمہت لگائی ہوگی، کسی کا مال ناجائز طور پر کھایا ہوگا یا کسی کو قتل کیا ہوگا، کسی کو مار پیٹ سے ستایا ہوگا، یہ سب مظلوم اللہ کے سامنے اپنے اپنے حقوق کا مطالبہ کریں گے اور اس ظالم کی نیکیاں مظلوموں میں تقسیم کردی جائیں گی، پھر جب اس کی نیکیاں ختم ہوجائیں گی اور حقوق باقی رہ جائیں گے تو مظلوموں کے گناہ اس پر ڈال دئیے جائیں گے اور اس کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
ظالم کے تمام نیک اعمال حقوق کے عوض دیدئیے جائیں گے مگر ایمان نہیں دیا جائے گا : تفسیر مظہری میں مذکور روایت نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ مظلوموں کے حقوق میں ظالموں کے نیک اعمال دینے کا جو ذکر آیا ہے اس کی مراد ایمان کے علاوہ دیگر اعمال ہیں، اس لئے کہ جتنے مظالم ہیں وہ سب عملی گناہ ہیں کفر نہیں ہیں، اور عملی گناہ کی سزا محدود ہوگی، بخلاف ایمان کے کہ وہ غیر محدود عمل ہے اس کی جزاء بھی غیر محدود یعنی ہمیشہ جنت میں رہنا ہے، اگرچہ وہ ابتداءً کچھ سزا بھگتنے کے بعد ہو۔