Ayahs 40:51–60آیت نمبر 51 تا 60
ترجمہ : یقیناً ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیوی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور اس دن بھی کریں گے جس دن گواہی دینے والے گواہی دیں گے اَشْھاد، شاھِد کی جمع ہے، اور وہ ملائکہ ہیں جو رسولوں کے (پیغام) پہنچانے کی اور کافروں کے جھٹلانے کی گواہی دیں گے جس دن ظالموں کو ان کے (عذر) معذرت کچھ فائدہ نہ دیں گے، (یَنفَعُ ) تاء اور یاء کے ساتھ اگر وہ معذرت کریں گے اور ان کے لئے لعنت ہوگی یعنی رحمت سے دوری اور ان کے لئے آخرت برا گھر ہے یعنی دار آخرت کے عذاب کی شدت اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت نامہ یعنی تورات اور معجزات عطا فرمائے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب یعنی تورات کا وارث بنایا کہ وہ ہدایت یعنی رہنما اور عقلمندوں کے لئے نصیحت تھی سو اے محمد ! آپ صبر کیجئے بلاشبہ اپنے اولیاء کی مدد کا اللہ کا وعدہ سچا ہے اور آپ اور آپ کے متبعین ان اولیاء میں شامل ہیں آپ اپنی خطا کی معافی مانگتے رہئے تاکہ لوگ آپ کی پیروی کریں اور صبح و شام حمد کے ساتھ اپنے رب کی تسبیح کرتے رہئے عَشِیّ زوال کے بعد کا وقت ہے، مراد پنجوقتہ نمازیں ہیں، جو لوگ باوجود اپنے پاس کسی سند (دلیل) نہ ہونے کے اللہ کی آیات یعنی قرآن میں جھگڑے نکالتے ہیں ان کے دلوں میں بجز تکبر اور اس بات کی خواہش کے کہ آپ پر غالب آجائیں کچھ نہیں وہ اپنے اس مقصد کو کبھی حاصل نہیں کرسکتے سو آپ ان کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرتے رہئے، بلاشبہ وہ ان کی باتوں کو سننے والا اور ان کے احوال کا جاننے والا ہے (آئندہ آیت) منکرین بعث کے بارے میں نازل ہوئی ابتداءً آسمان و زمین کو پیدا کرنا انسان کو دوبارہ پیدا کرنے سے یقیناً بہت بڑا کام ہے اور دوبارہ پیدا کرنا اعادہ ہے لیکن اکثر لوگ یعنی کفار اس بات سے ناواقف ہیں تو کفار نابینا کے مثل ہیں اور جو اس بات سے واقف ہیں وہ بینا کے مانند ہیں، اور نابینا اور بینا برابر نہیں اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے حال یہ کہ وہ مخلص بھی ہیں، بدکاروں کے برابر نہیں ہوسکتے اور (وَلَا المسئُ ) میں لا زائدہ ہے، وہ بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہیں یاء اور تاء کے ساتھ یعنی ان کا نصیحت حاصل کرنا بہت کم ہے قیامت بالیقین اور بلاشبہ آنے والی ہے یہ اور بات ہے کہ اکثر لوگ اس پر ایمان نہیں رکھتے اور تمہارے رب نے فرمایا ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا، یعنی تم میری بندگی کرو میں تم کو اس کا اجردوں (یہ ترجمہ) آئندہ آیت کے قرینہ کی وجہ سے ہے یقین مانو جو لوگ میری عبادت سے خود سری کرتے ہیں وہ بہت جلدی ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے یاء کے فتحہ اور خاء کے ضمہ کے ساتھ اور اس کا عکس۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : یومَ یقوم الَا شھادُ اس کا عطف فی الحیٰوۃ الدنیا ہر ہے، یعنی ہم ان کی دنیوی زندگی میں مدد کریں گے اور گواہی کے دن بھی مدد کریں گے۔ قولہ : یوم لا ینفَعُ ، یومَ یَقُوْمُ الأشھادُ سے بدل ہے۔
قولہ : معذِرَتُھُم تنفَعُ کا فاعل ہے لَھُمْ خبر مقدم ہے، اور اَللَّعْنَۃُ مبتداء مؤخر ہے۔ قولہ : لَھُمْ سوء الدار کا عطف لَھُم اللعنۃ پر ہے۔
قولہ : لَوْاعْتَذَرُوْا اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک شبہ کا جواب ہے۔
شبہ : یَوْمَ لاَیَنْفَعُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَتُھُمْ لا مقتضیٰ یہ ہے کہ کفار یوم جزاء میں عذر معذرت کریں گے مگر ان کی یہ عذر و معذرت کچھ فائدہ نہیں دے گی، اور ایک آیت وَلَا یُؤْذَنُ لَھُمْ فَیَعْذِرُوْنَ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو عذرو معذرت کی اجازت ہی نہیں ہوگی، ان دونوں آیتوں میں تضاد معلوم ہوتا ہے۔
دفع : مفسر علام نے لَوْ اِعْتَذَرُوْا کا اضافہ کرکے اسی شبہ کو دفع کیا ہے، دفع کا خلاصہ یہ ہے، بالفرض اگر کفار اس روز عذر معذرت کریں گے بھی تو قبول نہ ہوگی، لہٰذا اب کوئی تعارض نہیں ہے۔
قولہ : ھَادِیًا اس سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ھُدًی مصدر بمعنی ھَادِیًا، الکتابَ سے حال ہے اور اسی طرح ذکرٰٰی یہ بھی تذکرۃً کے معنی میں ہو کر الکتاب سے حال ہے، مفسر علام نے اسی ترکیب کی طرف اشارہ کیا ہے، اور بعض حضرات نے ھدٰی اور ذِکرٰی کو اَوْرَثْنَا کا مفعول لِاَجَلِہٖ قرار دے کر محلاً منصوب کہا ہے، ای اَوْرَثْنَا الکتابَ لا جل الھدٰی والذِکرٰٰی۔
قولہ : لِیُسْتَنَّ بِکَ اس کلمہ کے اضافہ کا مقصد ایک شبہ کو دفع کرنا ہے۔
شبہ : وَاستَغْفِرْ لِذَنْبِکَ میں آپ ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ اپنے گناہوں کی معافی طلب کیجئے، جبکہ اہل سنت والجماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ نبی صغائر وکبائر سے قبل النبوۃ و بعد النبوۃ معصوم ہوتا ہے، تو پھر گناہوں سے معافی طلب کرنے کے حکم کا کیا مقصد ہے ؟
دفع : پہلا جواب : آپ ﷺ کو معصوم ہونے کے باوجود طلب مغفرت کا حکم دراصل امت کو تعلیم کے لئے ہے تاکہ نبی کی اقتداء میں امت بھی اپنے گناہوں سے توبہ و استغفار کرتی رہے۔
دوسرا جواب : کلام حذف مضاف کے ساتھ ہے، تقدیر عبارت یہ ہے استغفر لذَنْبِ اُمَّتِکَ آپ چونکہ امت کے شفیع ہیں اس لئے ذنبٌ کی نسبت آپ کی طرف کردی گئی ہے، ورنہ مراد امت کے ذنب ہیں۔
تیسرا جواب : ذنبٌ سے مراد خلاف اولیٰ ہے، حسناتُ الا برار سیئاتُ المقربین کے قاعدہ سے لہٰذا خلاف اولیٰ کو ذنب سے تعبیر کردیا گیا ہے۔
قولہ : قلیلاً مَا یَتَذَکَّرُوْنَ . قلِیْلاً مفعول مطلق محذوف کی صفت ہے مَازائدہ ہے تاکید قلت کیلئے، تقدیر عبارت یہ ہے یَتَذَکَّرُوْنَ تَذَکُّرًا قلیلاً ۔
قولہ : تَذَکرھُمْ قلیلٌ، قلیلٌ کے رفع کے ساتھ، تَذَکُّرُھُمْ مبتداء کی خبر ہونے کی وجہ سے مرفوع، اور بعض نسخوں میں قلیلاً نصب کے ساتھ ہے، نصب کی یہ صورت ہوسکتی ہے کہ قلیلاً کق حال قرار دیا جائے، اور تَذَکُّرھم کی خبر محذوف مانی جائے، تقدیر عبارت یہ ہوگی تَذَکُّرُھُمْ یَحْصُلُ حالَ کونِہٖ قَلیلاً ، قلیلٌ پر رفع اولیٰ ہے جیسا کہ مفسر (رح) تعالیٰ نے اختیار کیا ہے۔
قولہ : بالیاء والتاء، یَتَذَکَّرُوْنَ میں دونوں قراءتیں ہیں، نافع اور ابن کثیر وغیرہ نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے، ماقبل یعنی اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ کی موافقت کیلئے، اور باقیوں نے بطور التفات کے خطاب کیساتھ تَتَذکَّرُون پڑھا ہے، مقصد انکار وتوبیخ میں اضافہ کرنا ہے۔
قولہ : اُعْبُدُوْنِی، اُدْعُونِی کی دو تفسیریں ہیں ایک حقیقت اور دوسری مجاز، حقیقت کا مطلب ہے کہ اُدْعونی کو اپنے حقیقی یعنی دعاء کے معنی میں رکھا جائے، مجاز کا مطلب یہ ہے کہ دعاء بمعنی عبادت لیا جائے، عبادت چونکہ دعاء کو شامل ہوتی ہے اور دعاء عبادت کا جزء ہے، اور جز بول کر قرینہ کی وجہ سے مجازاً کل مراد لیا جاسکتا ہے، شارح (رح) تعالیٰ نے دوسری تفسیر کو پسند کیا ہے، اور دعاء بمعنی عبادت لیا ہے، اور قرینہ بعد والی آیت اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عن عبَادَتی (الآیۃ) ہے۔
تفسیر وتشریح
انا۔۔ رسلنا (الآیۃ) یعنی ہم رسولوں کے دشمنوں کو ذلیل اور ان رسولوں کو غالب کریں گے، بعض لوگوں کے دلوں میں یہ شبہ پیدا ہوسکتا ہے کہ بعض انبیاء (علیہم السلام) کو قتل کیا گیا، جیسے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اور زکریا (علیہ السلام) وغیرہ ہما، اور بعض ہجرت پر مجبور کیا گیا جیسے ابراہیم (علیہ السلام) اور ہمارے نبی ﷺ اور ساتھ میں صحابہ کرام ؓ کو بھی دشمنوں نے ہجرت پت مجبور کردیا، وعدۂ امداد ونصرت کے باوجود ایسا کیوں ہوا ؟
مذکورہ شبہ کے مختلف جوابات دیئے گئے ہیں :
پہلا جواب : مفسرین میں سے بعض حضرات نے یہ جواب دیا ہے کہ نصرت کا یہ وعدہ اکثر واغلب کے اعتبار سے ہے، اس لئے بعض حالات میں دشمنوں کا غالب آجانا اس کے منافی نہیں۔
دوسرا جواب : عارضی طور پر بعض دفعہ اللہ کی حکمت ومشئیت کے تحت کافروں کو غلبہ عطا کیا جاتا ہے، لیکن بالآخر اہل ایمان ہی غالب و سرخ رو ہوتے ہیں، جیسے حضرت یحییٰ و زکریا (علیہما السلام) کے قاتلین پر بعد میں اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو مسلط فرمادیا، جنہوں نے ان کے خون سے اپنی پیاس بجھائی، اور انہیں ذلیل و خوار کیا، جن یہودیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو سولی دنیا چاہا، اللہ نے ان یہودیوں پر رومیوں کو ایسا غلبہ دیا کہ انہوں نے یہودیوں کو خوب ذلت و خواری کا عذاب چکھایا، پیغمبر اسلام حضرت محمد رسول اللہ ﷺ یقیناً ہجرت پر مجبور ہوئے لیکن اس کے بعد غزوۂ بدر میں اور غزؤہ احزاب و خیبر و فتح مکہ کے ذریعہ آپ ﷺ کو اسلام کے دشمنوں پر عظیم الشان فتح نصیب فرمائی، دشمن ذلیل و خوار ہو کر گرفتار ہوئے۔
اَشْھَاد، شھید کی جمع ہے، جیسے اشراف، شریف کی جمع ہے، بمعنی گواہ، قیامت کے روز فرشتے اور انبیاء (علیہم السلام) گواہی دیں گے، یا فرشتے اس بات کی گواہی دیں گے اے الہٰ العالمین تیرے پیغمبروں نے تیرا پیغام اپنی اپنی امتوں کو پہنچا دیا تھا لیکن ان کی امتوں نے ان کی تکذیب کی، علاوہ ازیں نبی ﷺ اور آپ کی امت بھی گواہی دے گی، جیسا کہ ساسق میں گذر چکا ہے، اسی لئے قیامت کو ” یوم الاشہاد “ گواہیوں کا دن کہا گیا ہے۔
ھُدًی وذکرٰی دونوں مصدر ہیں محل میں حال کے واقع ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں اور معنی میں ھادٍ اور مذکِّر کے ہیں۔
اِنْ صدورھم یعنی یہ لوگ جو اللہ کی آیات میں بغیر کسی حجت و دلیل کے تکرار کرتے ہیں اس کی وجہ تکبر اور بڑائی کے سوا کچھ نہیں ہے، یہ اپنی بڑائی چاہتے ہیں اور بےوقوفی سے یہ سمجھتے ہیں کہ یہ لڑائی ہم کو اپنے مذہت پر قائم رہنے کی وجہ سے حاصل ہے، اس کو چھوڑ کر اگر ہم مسلمان ہوجائیں گے تو ہماری یہ ریاست اور یہ اقتدار ختم ہوجائے گا، قرآن کریم کہتا ہے مَا ھُمْ ببَالِغِیْہِ یعنی یہ لوگ اپنی مطلوبہ بڑائی بغیر اسلام لائے حاصل نہیں کرسکتے۔ (قرطبی)
وقال۔۔ لکم (الآیۃ) دعاء کے لفظی معنی پکارنے کے ہیں اور اس اکثر استعمال حاجت اور ضرورت کے لئے پکارنے میں ہوتا ہے، بعض اوقات مطلق ذکر اللہ کو بھی دعاء کہہ دیا جاتا ہے، یہ آیت امت محمدیہ کا خاص اعزاز ہے کہ ان کو دعاء مانگنے کا حکم دیا گیا، اور اس کی قبولیت کا وعدہ کیا گیا، اور دعاء نہ مانگنے والے کے لئے وعید وارد ہوئی ہے۔ حضرت قتادہ ؓ نے کعب احبار سے نقل کیا ہے پہلے زمانہ میں یہ خصوصیت انبیاء (علیہم السلام) کی تھی کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوتا تھا کہ آپ دعاء کریں میں قبول کروں گا، امت محمدیہ کی یہ خصوصیت ہے کہ یہ حکم پوری امت کیلئے عام کردیا گیا اور قبولیت کا وعدہ بھی کیا گیا۔ (ابن کثیر)
Ayahs 40:61–68آیت نمبر 61 تا 68
ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے رات بنادی تاکہ تم اس میں آرام حاصل کرو، اور ان کو دیکھنے والا (روشن) بنادیا، مُبْصِرًا کی اسناد نہار کی جانب مجازی ہے، اس لئے کہ اس میں دیکھا جاتا ہے بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر فضل و کرم والا ہے، لیکن اکثر لوگ شکر گذاری نہیں کرتے جس کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے یہی اللہ ہے تم سب کا رب ہر چیز کا خالق اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر تم ایمان سے دلیل کے باوجود کہاں الٹے چلے جارہے ہو ؟ اسی طرح یعنی ان لوگوں کے الٹے چلنے کے مانندوہ لوگ بھی الٹے چلا کرتے تھے جو اللہ کی آیتوں یعنی معجزات کا انکار کیا کرتے تھے، اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو قیام گاہ بنایا اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہاری صورتیں بنائیں اور بہت اچھی بنائیں، اور تم کو عمدہ عمدہ چیزیں کھانے کو دیں، یہی اللہ تمہارا پروردگار ہے بہت ہی برکتوں والا اللہ ہے، سارے جہانوں کا رب وہ زندہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں شرک سے دین کو خالص کرکے اسی کی بندگی کرو تمام خوبیاں اللہ ہی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے، آپ کہہ دیجئے ! مجھے ان کی عبادت سے روک دیا گیا ہے جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے (یعنی) بندگی کرتے ہو جبکہ میرے پاس رب کی نشانیاں (یعنی) توحید کے دلائل آچکے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمام جہانوں کے پروردگار کے تابع فرمان رہوں، وہ وہی ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا (یعنی) تمہارے ابا آدم کو مٹی سے پیدا کرکے پھر تم کو نطفہ منی سے پیدا کیا پھر تم کو دم بستہ سے پیدا کیا پھر تم کو بچہ کی صورت میں نکالتا ہے، طفلاً بمعنی اطفالاً ہے پھر تم کو باقی رکھتا ہے تاکہ تم اپنی پوری قوت کو پہنچ جاؤ (یعنی) تمہاری قوت مکمل ہوجائے، تیس سال سے لیکر چالیس سال تک پھر بوڑھے ہوجاؤ شین کے ضمہ اور کسرہ کے ساتھ اور تم میں سے بعض جوانی اور بڑھاپے کو پہنچنے سے پہلے ہی فوت ہوجاتے ہیں وہ تمہارے ساتھ ایسا اس لئے کرتا ہے تاکہ تم زندہ رہو اور ایک خاص محدود مدت تک پہنچ جاؤ اور تاکہ تم توحید کے دلائل کو سمجھو اور ایمان لے آؤ، وہی ہے جو چلاتا اور مارتا ہے پھر جب وہ کسی کام کے کرنے یعنی موجودہ کرنے کا ارادہ کرلیتا ہے تو اسے صرف یہ کہہ دیتا ہے کہ ہوجا، پس وہ ہوجاتی ہے، نون کے ضمہ کے ساتھ اور اَن کی تقدیر کی وجہ سے فتحہ کے ساتھ یعنی (وہ شئ) اس ارادہ کے بعد موجود ہوجاتی ہے، معنی میں قول مذکورہ کے ہے۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : اَللہ الَّذِی جَعَلَ لکمُ اللّیل لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ وَالنَّھَارَ مُبْصِرًا، اللہ مبتداء اَلَّذِیْ اسم موصول جَعَلَ فعل ماضی بمعنی خَلَقَ ، لکم متعلق
بجعل، اللَّیل مفعول بہ، لِتَسْکُنُوْا متعلق بجعل، فِیْہِ متعلق تَسْکُنُوْا سے، واؤ عاطفہ اَلنَّھَارَ ذوالحال مُبْصِرًا حال، حال ذوالحال سے ملکر معطوف اللیل پر معطوف معطوف علیہ سے ملکر مفعول بہ جَعَلَ کا، جَعَلَ جملہ ہو کر صلہ ہوا الّذِی کا، الذی جملہ ہو کر خبر ہوئی اللہ مبتداء کی۔
قولہ : وَالنھارَ مُبصِرًا، منْصِرًا کی النھار کی طرف مبالغہ کے لئے اسناد مجازی ہے یعنی دن کو اس قدر روشن نبایا گویا کہ وہ خود مُبصِر
ہوگیا، اسی وجہ سے تعلیل سے حال کی طرف عدول کیا ہے، یعنی مُبصِرًا کو علت کے بجائے حال بنایا ہے۔
قولہ : لَاَِ نَّہٗ یُبْصَرُ فیہِ سے اشارہ کردیا کہ اسناد مجازی کی وجہ علاقۂ ظرفیت ہے، اسناد مجازی کہتے ہیں، کسی ربط وتعلق کی وجہ سے غیر
ماھولہ کی نسبت کرنے کو جیسا کہ آیت میں کہا گیا ہے، ہم نے دن کو دیکھنے والا بنایا، حالانکہ دن دیکھنے والا نہیں ہوتا بلکہ دن دیکھنے کا زمانہ یا وقت ہے یعنی دن میں دیکھا جاتا ہے، اسی تعلق ظرفیت کی وجہ سے دیکھنے کی نسبت نہار کی طرف کردی ہے، یہ نھرٌ جارٍ کے قبیل سے ہے، نہر چونکہ ماء کے لئے ظرف ہے، اس لئے جریان کی نسبت نہر کی طرف کردی۔
قولہ : ذٰلکُمُ اللہُ ، ذٰلکم مبتداء اس کی چار خبریں ہیں، (1) اللہ (2) ربکم (3) خالق کل شیئ (4) لا الہٰ اِلَّا ھو۔
قولہ : الحمدللہ رب العالمین (الآیۃ) اس میں دو احتمال ہیں (1) بندوں کا کلام ہو (2) رب العالمین کا کلام ہو، اگر بندوں کا کلام ہوگا تو قائلین محذوف کا مقولہ ہو کر حال ہوگا اور اگر اللہ تعالیٰ کا کلام ہو تو کلام مستانف ہوگا اور اپنے بندوں کو طریقہ حمد سکھانے کیلئے ہوگا
قولہ : کذٰلک اول کاف حرف تشبیہ ذَا اسم اشارہ، ل علامت اشارہ بعید، آخری کاف حرف خطاب، کذٰلک سے مذکورہ سابق کی طرف اشارہ ہوتا ہے، بمعنی، ایسے ہی، اسی طرح۔
قولہ : یُوفکُ (ض، س) اَفْکًا اِفکًا أفوکًا پھرنا، اِفْکًا بہتان لگانا، یُوفک مضارع واحد مذکر غائب بمعنی ماضی مجہول۔
قولہ : اُفِکَ الَّذِیْنَ کانوا اُفِکَ فعل ماضی مجہول لاکر اشارہ کردیا کہ یُوْفَکُ مضارع مجہول کے معنی میں ہے۔
قولہ : بمعنی اَطْفَالاً اس میں اشارہ ہے کہ طفل اسم جنس جمع ہے یا یخرجکم کل واحد کی تاویل میں ہے ورنہ تو کَمْ ذوالحال جمع اور طفلاً حال مفرد میں مطابقت نہ ہوگی۔ قولہ : بخلقِ اَبِیْکُمْ آدم مِنہ اس عبارت سے ایک شبہ کا دفع مقصود ہے۔
شبہ : خَلَقَکُمْ مِنْ تُرابٍ سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی آدم کو مٹی سے پیدا کیا ہے، حالانکہ نبی آدم کی تخلیق نطفہ سے ہوتی ہے۔
دفع : مضاف محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے خَلَقَکُمْ ای خَلَقَ اَبِیْکُمْ آدمَ مِن تُرَابٍ شبہ دفع ہوگیا اور کلام کو بغیر حذف مضاف کے اپنی اصل پر بھی رکھ سکتے ہیں، اس لئے کہ انسان نطفہ سے اور نطفہ غذا سے غذا مٹی سے پیدا ہوتی ہے، لہٰذاگویا کہ انسان مٹی سے پیدا ہوتا ہے۔
قولہ : اُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ ، اُسْلِمَ یا تو اَلاِ سْلام بمعنی انقیاد سے ماخوذ ہے یا بمعنی خلوص سے ماخوذ ہے، ہر صورت میں مفعول محذوف ہے، پہلی صورت میں تقدیر یہ ہے اُسْلِمَ امری لَہٗ تعالیٰ اور دوسری صورت میں تقدیر یہ ہے خَلَصَ قلبی مِن عبادۃِ غیرہٖ تعالیٰ ۔
قولہ : یُبْقِیکُمْ ، یُبْقِیْکُمْ کو محذوف ماننے کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ لِتَبْلُغُوْا، یُبْقِیْکُمْ محذوف کے متعلق ہے اور لتبلغوا اس کی علت ہے۔
قولہ : لِتَبْلُغُوْا اَجَلاً مُسَمًّی لام تعلیل کے لئے ہے جو کہ علت مقدرہ پر معطوف ہے جس کو شارح نے لِتَعِیْشُوا کہہ کر ظاہر کردیا ہے۔
قولہ : فَعَلَ ذٰلک بِکُمْ اس عبارت کو مقدر ماننے کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ، لِتَبلُغُوْا کا عطف لیعیشُوا محذوف سابق میں مذکور افعال باری تعالیٰ کی علت ہے، اس طرح مذکورہ افعال باری تعالیٰ کی دو علتیں ہوں گی یعیشوا اور یبلغوا یعنی اللہ وہ ذات ہے
جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، اور تم کو بچہ بنا کر نکالا تاکہ تم زندہ رہو اور وقت مقرر کو پہنچو۔
قولہ : فَیَکُوْنُ رفع کی صورت میں مبتداء محذوف کی خبر ہوگی ای فَھُو یکُوْنُ اور نصب کی صورت میں اَنْ مقدر کی وجہ سے منصوب
ہوگا، ای فاَنْ یکُوْنَ ۔
قولہ : اِذَاقَضٰی اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُولُ لَہٗ کُنْ فیکُوْنُ کی تشریح مفسر علام نے اپنے۔ قول عَقْبَ الْاِرَادَۃِ التیھی معنی القول المذکور سے کی ہے، اس کا مقتضٰی یہ ہے کہ آیت کہ تحلیل اس طرح ہو، ای اِذَا اَزَادَ ایِجَادَ شیئٍ فَاِنَّمَا یُرِیْدُ اِیْجِادَہٗ اور اس تحلیل کے کوئی معنی نہیں، اس لئے کہ اس تحلیل کی صورت میں مطلب یہ ہوگا، جب اللہ تعالیٰ کسی شئ کے ایجاد کرنے کا ارادہ فرماتے ہیں تو وہ شئ موجود ہوجاتی ہے یعنی شئ سے ارادہ کا تعلق دو مرتبہ ہوتا ہے اور یہ درست نہیں ہے لہٰذا بہتر اور صحیح صورت یہ ہے کہ یقول کن فیکون کو سرعۃ ایجاد سے کنایہ مانا جائے، تو اس صورت میں تحلیل عبارت یہ ہوگی اِنْ اَرَادَ ایجادَ شَیْئٍ وُجِدَ سریْعًا غیر توقفٍ علیٰ شیئٍ مفسر علام نے ای یُوْجَدُ کہہ کر بتادیا کہ کُنْ فَیَکُوْنُ میں امر سے مراد حقیقۃً امر نہیں ہے، اس لئے کہ اگر حقیقۃ امر مراد ہو تو دو حال سے خالی نہیں، یا تو کُنْ کہنے کے وقت وہ شئ جس کی ایجاد کا ارادہ کیا ہے موجود ہوگی یا نہیں، اگر موجود ہے تو کُنْ کہنے کے کیا معنی ؟ اس لئے کہ یہ تحصیل حاصل ہے، اور اگر وہ شئ کُنْ کہنے کے وقت موجود نہیں ہے تو پھر معدوم کو خطاب لازم آتا ہے، جو ظاہر البطلان ہے اسلئے کہ معدوم شئ مخاطب نہیں ہوا کرتی، اسلئے اللہ تعالیٰ کے قول کن فیکونُ کو سرعۃِ ایجاد سے کنایہ مانا جائے، اب مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی شئ کے ایجاد کا ارادہ فرماتے ہیں تو وہ شئ ارادہ کے متعلق ہونکے بعد فوراً بلاتا خیر موجود ہوجاتی ہے (جمل، ترویح الا رواح)
تفسیر وتشریح
اللہ۔۔۔ اللیل (الآیۃ) مذکورہ آیات میں حق تعالیٰ کے انعامات اور قدرت کاملہ کے چند مظاہر پیش کرکے توحید کی دعوت دی گئی ہے، اللہ تعالیٰ نے رات تاریک بنائی تاکہ کاروبار زندگی معطل ہوجائیں، اور لوگ امن و سکون سے سو سکیں، قدرت نے تمام انسانی طبقہ میں بلکہ جانوروں کے لئے بھی فطری طور پر نیند کا ایک مقرر کردیا ہے، اور اس وقت کو تاریک بنا کر نیند کے لئے مناسب بنادیا ہے، اور دن کو روشن بنایا تاکہ معاشی تگ و دو میں تکلیف نہ ہو اگر ظلمت ہی ظلمت ہوتی تو لوگوں کے کام کاج معطل ہوجاتے، اور جب تم کو یہ معلوم ہوا کہ اللہ ہی ہر چیز کا خالق ومالک ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو پھر اس کی عبادت سے کیوں بدکتے اور بھاگتے ہو اور اس کی توحید سے کیوں منہ موڑتے اور اینٹھتے ہو۔
وصور۔۔۔ کم . ان کی شکل و صورت سب سے اعلیٰ اور ممتاز بنائی، متناسب اعضاء عطا فرمائے، سوچنے سمجھنے کے لئے عقل عطا فرمائی، اور سب کچھ کرنے والا اور دینے والا وہی ہے، دوسرا کوئی نہ اختیارات میں شریک اور نہ بنانے میں، تو عبادت کا مستحق بھی وہی ایک اللہ ہے، لہٰذا استمداد و استغاثہ بھی اسی سے کرو کہ وہی سب کی فریادیں اور التجائیں سننے والا ہے، دوسرا کوئی بھی مافوق الاسباب طریقہ سے کسی کی بات سننے والا نہیں، جب یہ بات ہے تو مشکل کشائی اور حاجت روائی دوسرا کون کرسکتا ہے ؟
لما۔۔۔ ربی (الآیۃ) یہ وہی عقلی اور نقلی دلائل ہیں جن سے اللہ کی توحید اور رب ہونے کا اثبات ہوتا ہے جو قرآن میں جابجا
ذکر کئے گئے ہیں، ” اسلام “ کے معنی ہیں اطاعت وانقیاد کے لئے جھک جانا، سراطاعت خم کردینا، آئندہ آیت میں پھر کچھ قدرت کاملہ اور توحید کے دلائل ذکر کئے گئے ہیں، مثلاً تمہارے باپ آدم کو مٹی سے بنایا، جو ان کی اولاد کے مٹی سے پیدا ہونے کو مستلزم ہے، پھر اس کے بعد نسل انسانی کے تسلسل اور اس کی بقاء و تحفظ کے لئے انسانی تخلیق کو نظفہ سے وابستہ کردیا، اب ہر انسان اس نطفے سے پیدا ہوتا ہے، جو صلب پدر سے رحم مادہ میں جاکر قرار پکڑتا ہے، سوائے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے کہ ان کی پیدائش معجزانہ طور پر بغیر باپ کے ہوئی، جیسا کہ قرآن کریم میں بیان کردہ تفصلات سے واضح ہوتا ہے اور امت کا اس پر اجماع ہے۔
Ayahs 40:69–78آیت نمبر 69 تا 78
ترجمہ : کیا آپ نے انہیں دیکھا جو اللہ کی آیتوں قرآن میں تکرار کرتے ہیں ؟ ایمان میں تکرار کرتے ہیں ؟ ایمان سے کہاں پھرے چلے جارہے ہیں ؟ جن لوگوں نے کتاب قرآن کو اور اس توحید اور بعث بعد الموت کو بھی جس کو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجا جھٹلایا اور وہ کفار مکہ ہیں، سو ان کو ان کی تکذیب کی سزا (کی حقیقت) ابھی ابھی معلوم ہوا چاہتی ہے جبکہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اِذَا ہے اور زنجیریں ہوں گی (والسلاسل) کا عطف الْاغْلال پر ہے، تو وہ زنجیریں گردنوں میں ہوں گی، یا السلاسِلُ مبتداء ہے اور اس کی خبر محذوف ہے، یعنی ان کے پیروں میں (زنجیریں ہوں گی) یا یُسْحَبُوْنَ اس کی خبر ہے، یعنی ان زنجیروں کے ذریعہ جہنم میں گھسیٹے جائیں گے، پھر وہ (جہنم) کی آگ میں جلائے جائیں گے پھر ان سے لاجواب کرنے کے لئے پوچھا جائے گا کہ جن بتوں کو تم اس کے ساتھ شریک کیا کرتے تھے جو اللہ کے سوا تھے وہ کہاں ہیں ؟ تو وہ جواب دیں گے وہ تو ہم سے غائب ہوگئے، ہم کو وہ کہیں نظر نہیں آتے بلکہ (سچ تو یہ ہے) کہ ہم اس کے قبل کسی کو بھی نہیں پوجتے تھے (یعنی) کفار ان (بتوں) کی عبادت کا انکار کردیں گے پھر ان بتوں کو لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم اور جن کی تم اللہ کے سوا بندگی کرتے تھے جہنم کا ایندھن ہو، اللہ تعالیٰ اسی طرح یعنی ان مکذبین کو گمراہ کرنے کے مانند کافروں کو گمراہ کرتا ہے اور ان سے یہ بھی کہا جائے گا یہ عذاب اس کا بدلہ ہے کہ تم دنیا میں ناحق پھولے نہ سماتے تھے شرک کرکے اور انکار بعث کرکے اور (بےجا) اتراتے پھرتے تھے یعنی حد سے زیادہ اظہار مسرت کرتے تھے (شیخی بگھارتے تھے) (اب آؤ) جہنم میں ہمیشہ رہنے کے لئے اس کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ، کیا ہی بری جگہ ہے تکبر کرنے والوں کی، پس آپ (چندے) صبر کریں اللہ کا وعدہ ان کے عذاب کا قطعاً سچا ہے ان سے ہم نے جو عذاب کے وعدے کر رکھے ہیں، ان میں سے کچھ آپ کو آپ کی حیات ہی میں دکھادیں اس میں ان شرطیہ مدغم ہے اور فعل کے شروع میں فعل کی تاکید کے لئے مازائدہ ہے اور آخر میں تاکید کے لئے نون ہے، اور جواب شرط محذوف ہے اور وہ فذَاکَ ہے یا ان کو عذاب دینے سے پہلے ہی آپ کو وفات دیدیں وہ ہماری ہی طرف لوٹائے جائیں گے تو ہم ان کو شدید ترین عذاب دیں گے، جواب مذجورہ (یعنی فَاِلَیْنَا یُرْجعونَ ) فقط معطوف (یعنی نَتَوَفَّیْنّکَ ) کا ہے یقیناً ہم آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے قصے تو ہم نے آپ سے بیان کردیئے اور ان میں سے بعض کے قصے تو ہم نے آپ کو سنائے ہی نہیں روایت کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آٹھ ہزار انبیاء مبعوث فرمائے ان میں سے چار ہزار بنی اسرائیل میں سے ہیں اور (بقیہ) چار ہزار انبیاء (بقیہ) تمام لوگوں میں لوگوں میں سے ہیں، ان میں سے کسی رسول کو یہ قدرت نہیں تھی کہ کوئی معجزہ اللہ کی اجازت کے بغیر لاسکے اس لئے کہ وہ تو (اس کے) مملوک بندے ہیں پھر جس وقت اللہ کا کفار پر نزول عذاب کا حکم آئے گا، تو رسولوں اور ان کو جھٹلانے والوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اس وقت اہل باطل خسارہ میں رہ جائیں گے یعنی قضا و خسران کا ظہور لوگوں کے سامنے اس وقت ہوگا، ورنہ تو وہ اس سے پہلے ہی ہر وقت خسارہ میں تھے۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : اَلَمْ تَرَ ہمزۂ استفہام تقریری تعجبی ہے۔ قولہ : اَلَّذِیْنَ کذّبوا، الَّذِیْنَ اول الذین سے بدل ہے۔
قولہ : فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ فاء استینافیہ ہے، سوف حرف استقبال یَعْلَمُوْنَ فعل مضارع مرفوع، جملہ مستانفہ تہدید کے لئے ہے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ الَّذِیْنَ اسم موصول صلہ سے مل کر مبتداء ہو اور فسوف یعلمون اس کی خبر۔ (لغات القرآن)
قولہ : اِذبمعنی اِذَا یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔
سوال : سوف حرف استقبال ہے اور اِذْ ماضی کیلئے ہے، دونوں کے مقتضٰی میں تعارض ہے، یہ ایسا ہی ہے کہ کوئی کہے سَوْفَ اصومُ اَمْسِ
جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ اِذْ ، اِذَا کے معنی میں ہے اِذَا کے بجائے اِذْ لانے میں مصلحت یہ ہے کہ امور مستقبلہ جب الفاظ سے تعبیر کردیتے ہیں جو ماضی پر دلالت کرتے ہیں۔
قولہ : فتکونُ فی الاعْنَاقِ اس عبارت کا مقصد یہ بتانا ہے کہ اگر السَّلاَسِلُ کا عطف اَغْلاَلُ پر ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ اَغْلالُ اور سلاسل دونوں گردونوں میں ہوں گے، اور اگر السلاسل کو مبتدا مانا جائے تو اس کی خبر محذوف ہوگی اور وہ فی اَرْجلھم ہے، ای تکون فی اَرْجُلھم اب مطلب یہ ہوگا کہ طوق گرنوں میں اور زنجیریں پیروں میں ہوں گی، اور خبرہ یُسْحَبُوْنَ کہہ کر، تیسری ترکیب کی طرف اشارہ کردیا، یعنی السلاسل مبتداء اور یُسْحَبُوْنَ جملہ ہو کر اس کی خبر، اور خبر جب جملہ ہوتی ہے تو عائد کا ہونا ضروری ہوتا ہے جو مبتداء کی طرف لوٹے بھا مقدر مان کر عائد کی طرف اشارہ کردیا۔
قولہ : یُسْحَبُوْنَ ، سحبٌ (ف) جمع مذکر غائب مجہول گھسیٹے جائیں گے۔
قولہ : یُسْجَرُوْنَ ، سَجَرٌ (ن) سے مضارع جمع مذکر غائب پٹائے جاؤ گے جھونکے جاؤ گے، یُسْجَرُوْنَ ، سجر التنور سے مشتق ہے اِذَا ملأ بالوقود
قولہ : ثُمَّ قیل لُھمْ ای یقال لھُمْ قیل ماضی کے ذریعہ تعبیر متحقق الوقوع ہونے کی وجہ سے ہے۔
قولہ : ثُمَّ اُحْضِرَتْ اس عبارت کا مقصد ایک اعتراض کا دفعیہ ہے۔
سوال : مفسر علام نے ضَلُّوْا عنَّا (الآیۃ) کی جو یہ تفسیر بیان کی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب مشرکین سے فرمائیں گے کہ وہ شرکاء کہاں ہیں
جن کو تم میرا شریک ٹھہرایا کرتے تھے ؟
جواب : تو مشرکین جواب دیں گے وہ تو ہم سے غائب ہوگئے اور ہم دنیا میں ان میں سے کسی کی بندگی نہیں کیا کرتے تھے، یہ تفسیر ایک دوسری آیت اِنَّکُمْ وَمَا تعبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ حَصَبُ جھَنَّم اَنْتُمْ لھا وَارِدُوْنَ کے خلاف ہے، اس لئے کہ اس آیت سے معلوم ہوتا کہ معبود ان باطلہ وہاں موجود ہوں گے نہ کہ غائب جیسا کہ سابقہ آیت سے معلوم ہوتا ہے ثُمَّ اُحْضِرَتْ کہہ کر جواب دیدیا کہ اولاً معبودان باطلہ غائب ہوجائیں گے اور عابدین ان کی عبادت کا انکار کریں گے، مگر بعد میں ان کو حاضر کیا جائے گا اور عابدین ان کی
عبادت کا اقرار بھی کریں گے۔
قولہ : تَمْرَحُوْنَ ، مَرَحٌ (ف) سے مرَحًا حد سے زیادہ خوشی کا اظہار کرنا، اترانا۔
قولہ : فیہِ خبر مقدم ہے اِنْ الشرطیۃ مبتداء مؤخر مدغمۃً ان شرطیہ سے حال ہے مُدغَمْ فیہِ یعنی مازائدہ کا ذکر نہیں کیا یعنی اِمّا نُرِیَنَّکَ میں فعل کے اول میں مازائدہ کے ذریعہ تعلیق فعل کی تاکید ہے اور نون ثقیلہ کے ذریعہ فعل کے آخر میں تاکید ہے۔
قولہ : فالجواب المذکور للمعطوف فقط، نَتَوَ فَّیَنَّکَ کا عطف اِمَّانُرِیَنَّکَ پر ہے، معطوف علیہ پر چونکہ حرف شرط اور مازائدہ داخل ہیں لہٰذا معطوف پر بھی داخل ہوں گے، معطوف علیہ اور معطوف دونوں کو جواب شرط کی ضرورت ہے، اور جواب شرط صرف ایک ہے اور وہ ہے فاِلَیْنَایُرجعونَ مذکور جواب معطوف یعنی نَتَوَفَّیَنَّکَ کو دیدیا، اب معطوف علیہ یعنی نُرِیَنَّکَ بلا جواب شرط کے باقی رہ گیا، اس کے لئے جواب شرط محذوف مان لیا، جس کو شارح (رح) تعالیٰ نے فَذَاکَ کہہ کر ظاہر کردیا، مطلب یہ ہوگا، کفار سے ہم نے عذاب کے جو وعدے کر رکھے ہیں ان میں سے کچھ اگر ہم آپ کو دینوی زندگی میں دکھا دیں تو یہ بھی ہوسکتا ہے اور اگر ہم آپ کو ان کو عذاب دینے سے پہلے وفات دیدیں تو سب کو ہمارے پاس لوٹ آنا ہی ہے تو وہاں ہم ان کو شدید عذاب دیں گے، پہلا خط کشیدہ جملہ اِمَّا نُرِینَّک شرط کا جواب ہے، اور دوسرا خط کشیدہ جملہ نَتَوَفَّیَنَّکَ شرط کا جواب ہے۔ اور بعض حضرات نے کہا کہ فَاِلَیْنَا یُرْجُعْونَ دونوں شرطوں کا جواب بھی ہوسکتا ہے، اس صورت میں تقدیر عبارت یہ ہوگی اِنْ نُعَذِّبْھُمْ فِی حَیَاتِکَ اَوْلَمْ نُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّمَا نُعذِّبُھُمْ فِی الآخرۃ اَشَدَّ العَذَاب فَاِنَّمَا نُعَذِبُھُمْ الخ دونوں شرطوں کا جواب ہے۔
قولہ : ھُنَالک یہ ظرف مکان ہے مگر یہاں ظرف زمان کے لئے استعمال ہوا ہے۔
تفسیر وتشریح
الم۔۔۔ اللہِ. یہ مشرکین کے انکار و تکذیب پر اظہار تعجب ہے کہ ظہور دلائل اور وضوح حق کے باوجود کسی طرح حق کو نہیں مانتے، ان کو جب پتہ چلے گا کہ جب فرشتے ان کے گلے میں طوق اور پیروں میں بیڑیاں جکڑ کر سر کے بل گھسیٹ کر جہنم میں جھونک دیں گے، اور کہیں گے وہ کہاں ہیں جن کو تم حضرت حق جلّ شانہ کے ساتھ شریک کیا کرتے تھے ؟ قالُوا ضَلُّوْا عَنَّا مشرکین جہنم میں داخل ہونے کے بعد جواب دیں گے پتہ نہیں ہمیں چھوڑ کر کہاں غائب ہوگئے نظر نہیں آرہے ؟ وہ اپنی مصیبت میں پھنسے ہوئے ہیں، ہماری مدد کیا کریں گے ؟ اس کے بعد ان کی عبادت ہی سے انکار کردیں گے، جیسے کہ سورة انعام میں فرمایا گیا واللہ ربِّنا مَا کنَّا مشرکین ” واللہ ہم مشرکین میں سے نہیں تھے “ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ بتوں کے وجود اور ان کی عبادت کا انکار نہیں ہے، بلکہ اس بات کا اعتراف ہے کہ ان کی عبادت باطل اور لاشئ محض تھی، اس لئے کہ روز محشر ان پر واضح ہوجائے گا کہ وہ ایسی چیزوں کی عبادت کرتے رہے کہ جو نہ سن سکتی تھیں اور نہ دیکھ سکتی تھی، اور جو نہ نقصان پہنچاسکتی تھیں اور نہ نفع، یہ حسبتہ شیئًا فلم
یکن کے قبیل سے ہے۔ ؎
بہت شور سنتے تھے پہلو میں جس کا جو چیرا تو ایک قطرۂ خوں نہ نکلا
اس کے دوسرے معنی جو شروع میں بیان ہوئے وہ واضح ہیں کہ وہ سرے سے شرک ہی کا انکار کردیں گے، صاوی نے کہا ہے کہ ابتداءً اس فائدے کی امید پر کہ شاید ہماری بات مانکرہم پر رحم کردیا جائے، اظہار براءت اور انکار کریں گے بل لم نکُنْ ندعوا مِن قبْلُ شیئًا . ضَلُّوْا عَنَّا سے اضراب ہے، اور مشرکین کا قول ضَلُّوا عَنَّا اقرار سے پہلے کا ہے، اور جب دیکھیں گے کہ انکار سے کوئی فائدہ نہیں تو اعتراف و اقرار کریں گے مگر ساتھ ہی یہ بھی کہیں گے کہ یہاں آکر پتہ چلا کہ انکی عبادت بےسود اور باطل محض تھی۔
ذالکم۔۔۔ تمرحون، تفرحون، فرحٌ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں خوش ہونا، اور اظہار مسرت کرنا، اور تَمْرحُونَ ، مرَحٌ سے مشتق ہے، جس کے معنی ہیں اترانا، اور مال و دولت پر فخر و غرور میں مبتلا ہو کر دوسروں کے حقوق میں تعدی کرنا اور ان کو حقیر سمجھنا، مرَحْ مطلقًا مذموم اور حرام ہے، اور فَرَحْ یعنی خوشی میں یہ تفصیل ہے کہ مال و دولت کے نشہ میں خدا کو بھول کر معاصی سے لذت حاصل کرنا اور ان پر خوش ہونا حرام ہے، اس آیت میں یہی فرح مراد ہے، جیسا کہ قارون کے قصہ میں لا تَفْرَحْ اِنَّ اللہ لا یحب الفرِحین اور فرح کی دوسری قسم یہ ہے کہ دنیا کی نعمتوں اور راحتوں کو اللہ کا انعام سمجھ کر ان پر خوش ہونا اور اظہار مسرت کرنا یہ جائز بلکہ مستحب ہے، اسی فرح کے متعلق قرآن کریم نے فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا فرمایا یعنی اس پر خوش ہونا چاہیے، آیت مذکورہ میں فرح کے ساتھ کوئی قید نہیں ہے، مرح مطلقًا مذموم اور سبب عذاب ہے، اور فرح کے ساتھ بغیر الحق کی قید لگا کر بتلا دیا کہ ناحق اور ناجائز لذتوں پر خوش ہونا اور اترانا حرام ہے اور حق اور جائز لذتوں اور نعمتوں پر بطور شکر کے خوش ہونا عبادت اور ثواب ہے۔
فاصبر۔۔ حقٌ. اس میں نبی ﷺ کو تسلی اور دشمنوں پر فتح کا وعدہ ہے یعنی آپ صبر کریں ہم کافروں سے ضرور انتقام لیں گے، یہ وعدہ جلدی ہی پورا ہوسکتا ہے یعنی دنیا ہی میں ہم ان کی گرفت کرلیں یا حسب منشاء الہٰی تاخیر بھی ہوسکتی ہے، یعنی روز قیامت ہم ان کو سزا دیں گے تاہم یہ بات یقینی ہے کہ یہ لوگ ہماری گرفت سے بچ کر نہیں جاسکتے۔
فاما۔۔۔ الذی (الآیۃ) یعنی آپ کی زندگی ہی میں ہم ان کو مبتلائے عذاب کردیں چناچہ ایسا ہی ہوا، اللہ نے کافروں سے انتقام لے کر مسلمانوں کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا، جنگ بدر میں ستر کافر مارے گئے 8 ھَ میں مکہ فتح ہوگیا، اور پھر نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ ہی میں پورا جزیرۂ عرب مسلمانوں کے زیرنگیں آگیا، اور اگر کسی مصلحت اور مشئیت الہٰی کے پیش نظر دنیا میں گرفت نہ کی جائے تو یہ کافر عذاب الہٰی سے بچ کر جائیں گے کہاں ؟ آخر کار میرے ہی پاس آئیں گے، جہاں ان کے لئے سخت عذاب ہے۔
ولقد۔۔۔ قبلک (الآیۃ) یہ نبی کریم ﷺ کو تسلی ہے کہ ہم نے آپ سے پہلے بہت سے انبیاء واضح دلائل اور معجزات دیکر
بھیجے، ان کی قوم نے نہ صرف یہ کہ ان سے مجادلہ کیا ان کو قسم قسم کی ذہنی اور جسمانی اذیتیں پہنچائیں، مگر انہوں نے ان کی اذیتوں پر صبر کیا، لہٰذا آپ بھی صبر کیجئے، ان انبیاء (علیہم السلام) میں سے بعض کے حالات و واقعات ہم نے آپ کو سنا بھی دیئے ہیں، اور بہت بڑی تعداد ان انبیاء (علیہم السلام) کی ہے کہ جن کے واقعات کئے گئے ہیں، ان میں سے بھی بعض کا صرف نام لیا گیا ہے قرآن کریم میں ان کے حالات کی تفصیل بیان کی گئی، شرح مقاصد میں ابوذر غفاری ؓ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ انبیاء (علیہم السلام) کی کتنی تعداد ہے ؟ آپ نے جواباً ادشاد فرمایا مأۃ الف واربعۃ وعشرون الفًا
ایک لاکھ چوبیس ہزار۔
شان نزول : ہر امت اپنے اپنے پیغمبروں سے معجزات کے مطالبات کرتی رہی ہے ہمیں فلاں معجزہ دکھاؤ، چناچہ نبی کریم ﷺ سے بھی قریش نے قسم قسم کے معجزات کا مطالبہ کیا، کبھی کہتے کہ چاند کے دو ٹکڑے کرکے دکھاؤ، تب ہم آپ کی نبوت پر ایمان لائیں گے اور کبھی کہتے کہ کوہ صفا کو سونے کا بنادوتا کہ ہم سب کی غربت دور ہو کر خوشحالی آجائے، وغیرہ وغیرہ، مطلوبہ معجزات کی تفصیل سورة بنی اسرائیل آیت 93، 90 میں موجود ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کسی پیغمبر کے اختیار میں یہ نہیں تھا کہ وہ اپنی قوم کے مطالبہ پر ان کو کوئی معجزہ صادر کرکے دکھادے، یہ صرف ہمارے اختیار میں ہے، بعض نبیوں کو تو ابتداء ہی سے معجزے دیدیئے گئے تھے، بعض قوموں کو ان کے مطالبہ پر معجزہ دکھلایا گیا، اور بعض کو مطالبہ کے باوجود نہیں دکھلایا گیا، ہماری مشیت کے مطابق اس کا فیصلہ ہوتا تھا، کسی نبی کے ہاتھ میں یہ اختیار نہیں تھا کہ وہ جب چاہتامعجزہ صادر کرکے دکھلا دیتا ۔
Ayahs 40:79–85آیت نمبر 79 تا 85
ترجمہ : اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لئے چوپائے (مویشی) پیدا کئے کہا گیا ہے کہ یہاں (انعام) سے خاص طور پر اونٹ مراد ہے اور ظاہر یہی ہے اور بقروغنم بھی معراد ہوسکتے ہیں تاکہ ان میں سے بعض پر تم سواری کرو اور بعض کو ان میں سے کھاتے ہو اور تمہارے لئے ان میں اور بھی بہت منافع ہیں (مثلاً ) دودھ، نسل، اونٹ کے بال، اور اون تاکہ تم ان پر سوار ہو کر اپنی دلی مراد کو حاصل کرو اور وہ (مختلف) شہروں تک بوجھ لاد کرلیجاتا ہے، اور ان سواریوں پر خشکی میں اور کشتیوں پر دریا میں چڑھے پھرتے ہو اور وہ تمہیں اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھاتا ہے، پس تم وحدانیت پت دلالت کرنے والی کون کون سی نشانیوں کا انکار کرتے رہو گے ؟ استفہام تو بخیی ہے، اور اَیٌّ مذکر کا استعمال بہ نسبت اَیَّۃٌ مؤنث کے زیادہ مشہور ہے، کیا ان لوگوں نے زمین میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ ان سے پہلوں کا انجام کیسا ہوا، حالانکہ وہ ان سے تعداد میں زیادہ اور قوت اور یادگاروں (مثلاً ) قلعوں میں بڑھے ہوئے تھے، ان کی کمائی ان کے کچھ کام نہ آئی پس جب کبھی ان کے پاس ان کے رسول کھلے معجزات لے کر آئے تو کافر بطور استہزاء اور منکرین کے ضحک کے طور پر اس علم سے خوش ہوئے جو رسولوں کے پاس تھا بالآخر جس عذاب کو مذاق میں اڑا رہے تھے، وہی عذاب ان پر پلٹ پڑا، چناچہ جب انہوں نے ہمارے عذاب کی شدت کو دیکھا تو کہنے لگے ہم اللہ واحد پر ایمان لائے، اور جن جن کو ہم شریک ٹھہرا رہے تھے، ان سب کا انکار کیا، لیکن ہمارے عذاب کو دیکھ لینے کے بعد ان کو ان کے ایمان بےنفع نہیں دیا، اللہ نے اپنا یہی معمول مقرر کر رکھا ہے (سُنَّتَ ) کا نصب مصدریت کی بناء پر ہے، اسی (مصدر) کے لفظ سے فعل مقدر کی وجہ سے جو امتوں میں اس کے بندوں میں برابر چلا آرہا ہے، یہ ظاہر ہوگیا، حال یہ کہ وہ اس سے پہلے ہمہ وقت خاسر تھے۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : اَلْاَنْعَام مویشی یہ نَعْمٌ کی جمع ہے، اس کے اصل معنی تو اونٹ کے ہیں، مگر بھیڑ، بکری، گائے بھینس پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے، بشرطیکہ ان میں اونٹ بھی ہو، اونٹ چونکہ عرب کے نزدیک بہت بڑی نعمت ہے، اس لئے اس کا نام نعم بمعنی نعمت
ہوا۔ (لغات القرآن) قولہ : دَرٌّ دودھ۔ قولہ : اَلٌوَبَرْ اونٹ اور خرگوش کے بال (ج) اَوْبَارٌ۔ قولہ : وَعلی الفُلکِ ۔
سوال : فِی الفُلْکِ کیوں نہیں کہا ؟ جیسا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں کہا ہے قُلْنَا احْمِلْ فِیْھَا مِنْ کُلّ زَوْجَیْنِ ۔
جواب : تاکہ عَلَیْھَا حَاجَۃً کا تقابل صحیح ہوجائے، اس کو صنعت ازدواج کہتے ہیں۔
قولہ : اَیَّ اٰیٰتِ اللہ . اَیَّ ، تُنْکِرُوْنَ کا مفعول مقدم ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ایٌّ کو مقدم کرنا واجب ہے، اس لئے کہ یہ صدارت کلام چاہتا ہے۔
قولہ : تذکیر أیٍّ اَشھَرُ مِن تانیثِہ اس اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : اَیَّۃُ آیٰتِ اللہ کیوں نہیں کہا، جبکہ مضاف الیہ اٰیٰتِ اللہِ کا مقتضٰی یہ تھا کہ اَیَّ کے بجائے اَیَّۃَ ہو۔
جواب : اسماء جامدہ میں مذکر ومؤنث میں تفریق غریب ہے جیسا کہ حمارٌ وحمارۃ میں تفریق غریب ہے دوسری وجہ یہ ہے کہ اَیٌّ کا استعمال بہ نسبت اَیَّۃٌ کے اکثر واشھر ہے زمخشری نے کہا ہے وقد جاءت علی اللغۃ المستفیضہ یعنی اَیُّ کا استعمال کثیر ہے۔
قولہ : اَفَلَمْ یَسیْرُوْاالخ یہاں سے تو بخیی مضمون شروع فرما رہے ہیں، فاء عاطفہ ہے ہمزہ محذوف پر داخل ہے، تقدیر عبارت یہ ہے کہ أعجزُوْا فَلَمْ یَسِیْرُوَا الخ۔
قولہ : کَیْفَ کَانَّ عاقِبَۃُ الَّذِینَ من قَبْلِھِمْ. کَیْفَ ، کانَ کی خبر مقدم اور عاقبۃُ اسم مؤخر ہے۔
قولہ : مَصَانِعُ زیر زمین ذخیرۂ آبی کے بڑے بڑے حوض، ڈیم، قلعے۔ (جمل)
قولہ : فَمَا اغنیٰ عَنْھُمْ مَا کَانوا یَکْسِبُوْنَ پہلا مانافیہ اور استفہام انکاری، دونوں ہوسکتا ہے، یعنی ان کی کمائی ان کے کچھ کام نہ آئی، استفہامیہ کی صورت میں ترجمہ یہ ہوگا، ان کی کمائی ان کے کیا کام آئی ؟ ماکانوا یکسبون کا ما مصدریہ اور موصولہ دونوں جائز ہے، پہلا فما اغنیٰ کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
قولہ : فَرِحُوا ای کفار بما عِنْدَھم ای الرُسُل من العلمِ علم سے وہ علم وحی مراد ہے جو انبیاء (علیہم السلام) کے پاس تھا اور اس علم پر کافروں کے خوش ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کافروں نے استہزاء اور تمسخر کے طور پر خوشی کا اظہار کیا، اور دلیل اس کی ان کا وحی سے اعراض کرنا اور قبول نہ کرنا ہے، مفسر علام نے بھی یہی معنی مراد لئے ہیں، اور یہی معنی اللہ تعالیٰ کے قول وَحَاقَ بِھِم مَا کَانُوْا بہٖ یَسْتَھْزِءُوْنَ کے مطابق ہیں، بعض مفسرین نے عِنْدَھُمْ کی ضمیر کو کفار کی طرف لوٹایا ہے، اور علم سے مراد بزعم خویش لاَ بَعْثَ وَلاَ حِسَابَ کا علم مراد ہے، یا علم سے مراد امور دنیا کا علم ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کے بارے میں فرمایا یَعْلِمُوْنَ ظاھِرًا مِنَ الحیٰوۃ الدنیاوھم عَنِ الْآخِرَۃِ ھُمْ غَافِلُوْنَ ۔
قولہ : سُنَّتَ اللہِ مصدر من لفظہٖ . سُنَّتَ فعل مقدر کی وجہ سے منصوب ہے، اور فعل مقدر مصدر کے ہم لفظ ہے ای سَنَّ اللہُ ذٰلک
سُنَّۃً ماضیۃً ما ضیۃً فی العباد۔
قولہ : ھُنَالِکَ ای عندرؤیتھم العذاب یہ اسم مکان ہے، زمان کے لئے مستعار لیا گیا ہے۔
قولہ : تَبَیَّنَ خُسر انُھُمْ یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔
سوال : خَسِرَ ھنالک سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار اور مشرکین اس وقت خائب و خاسر ہوئے اس سے پہلے خائب و خاسر نہیں تھے۔
جواب : جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار ہر وقت اور ہر زمانہ میں خائب و خاسر رہے مگر اس خسران وحر مان کا ظہور اب ہوا، خود ان کو اور دوسروں کو پتہ چل گیا کہ آخرت کا خسران و حرمان ہی حقیقی خسران و نقصان ہے۔
تفسیر وتشریح
اللہ۔۔ لکم (الآیۃ) اللہ تعالیٰ اپنی اَن گنت اور بیشمار نعمتوں میں میں سے بعض کا تذکرہ فرما رہے ہیں، چوپایوں سے مراد اونٹ گائے، بیل، بھیڑ، بکری ہیں، یہ سواری کے کام بھی آتے ہیں اور ان کا دودھ بھی پیا جاتا ہے، اور ان میں سے بعض سے بار برداری کا کام بھی لیا جاتا ہے، اس کے علاوہ بھی ان میں تمہارے لئے بہت سے منافع ہیں، مثلاً گوشت، پوست، اون، بال، ہڈی وغیرہ سے بہت سی مفید، کارآمد اور نفع بخش اشیاء تیار کی جاتی ہیں، نیز تم ان پر خشکی میں سوار ہو کر اور سامان تجارت لاد کر دور دراز کا سفر کرتے ہو اور اپنی دلی مراد حاصل کرتے ہو، اور دریائی سفر میں کشتیوں کو استعمال کرتے ہو، سفینہ اور اونٹ میں بڑی قریبی مناسبت ہے یہی وجہ ہے کہ اونٹ کو سفینۃ الصحراء کہا جاتا ہے۔
مسئلہ : ہر جانور سے فائدہ اٹھانا جائز ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ انعام عام ہے ہر چوپائے کو شامل ہے، اور جَعَلَ لکُمْ میں لام نفع کے لئے ہے، اس سے یہ معلوم ہوگیا کہ ہاتھی کی سواری جائز ہے، البتہ خنزیر چونکہ نص قطعی سے نجس العین ہے، لہٰذا اس سے کسی قسم کا انتفاع درست نہیں ہے۔
نکتہ : منافع چونکہ جمع منکور ہے، لہٰذا مفید اسغراق نہیں، اس سے معلوم ہوا کہ چوپایوں سے ہر قسم کا استفادہ درست نہیں اور مِنْھا تاکلون میں من تبعیضیہ کا بھی تقاضہ ہے، کہ بعض منافع کو خارج کیا جائے۔
مسئلہ : کتے کی قیمت مکروہ ہے (الیسر التفاسیر، تائب (رح) تعالیٰ ) اور اسکے پالنے میں تفصیل ہے جسکی تفصیل کا مقام کتب فقہ ہیں
وَیُرِیکُمْ اٰیٰتِہٖ اللہ تعالیٰ ان کو ایسی نشانیاں دکھاتا ہے جو اس کی قدرت اور وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں، اور یہ نشانیاں اتنی عام اور کثیر اور واضح ہیں کہ جن کا کوئی انکار کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔
بحث : علم کا اطلاق قرآن میں علوم آسمانی پر کیا گیا ہے، اور یہ کفار سے منتقی ہے، تو پھر فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَھُمْ من العلم کا کیا مطلب ؟
جواب : (1) یہاں علم سے علم مراد ہے یعنی تجارت و صنعت وغیرہ کا علم جس میں یہ لوگ فی الواقع ماہر تھے، اور قرآن کریم نے ان کے اس علم کا سورة روم میں اس طرح تذکرہ فرمایا ہے یَعْلَمُوْنَ ظَاھِرًا مِنَ الحیٰوۃِ الدنیا وَھُمْ عَنِ الآخرۃِ ھُمْ غٰفِلُوْنَ یعنی یہ لوگ دنیا کی ظاہری زندگی اور اس کے منافع حاصل کرنے کو تو خوب جانتے اور سمجھتے ہیں، مگر آخرت جہاں ہمیشہ رہنا ہے، اور جہاں کی
راحت وکلفت دائمی ہے، اس سے بالکل جاہل اور غافل ہیں۔
جواب : (2) یا بزعم خویش ان کے مزعومات، توہمات و شبہات اور باطل دعوے جن باتوں کو وہ علم سمجھتے تھے وہ علم مراد ہو
حالانکہ وہ علم نہیں بلکہ جہل مرکب ہے، جیسا کہ مجاہد سے مروی ہے کہ کفار کہا کرتے تھے کہ ہم جانتے ہیں کہ بعث و حساب کچھ ہونے والا نہیں ہے، وہ لوگ انکار بعث و حساب کو علم سمجھے ہوئے تھے، ان کے اس علم کو جو درحقیقت جہل ہے علم کہا گیا ہے۔
جواب : (3) یا ان کے باطل مزعومات کو استہزاء علم کہا گیا ہے۔ (ایسرالتفاسیر، تائب (رح) تعالیٰ )
فلما۔۔ باسنا (الآیۃ) یعنی اللہ تعالیٰ کا یہ دستور اور معمول ہے کہ آخرت کا عذاب دیکھنے کے بعد ایمان و توبہ قبول نہیں فرماتے، معائنۂ عذاب کے بعد ان پر بھی واضح ہوگیا کہ اب سوائے خسارے اور ہلاکت کے ہمارے مقدر میں کچھ نہیں، یہ مضمون قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان ہوا ہے، حدیث شریف میں وارد ہے یقبل اللہ توبۃ العبدِ مالم یغرغر (ابن کثیر) حالت نزع سے پہلے پہلے اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرماتے ہیں۔
٭تم بحمد اللہ ٭