41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 41:26–32

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ Open ayah 41:26 in the Quran reader

اور کافر کہنے لگے کہ اس قرآن کو سنا ہی نہ کرو اور (جب پڑھنے لگیں تو) شور مچا دیا کرو تاکہ تم غالب رہو

فَلَنُذِیْقَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:27 in the Quran reader

سو ہم بھی کافروں کو سخت عذاب کے مزے چکھائیں گے اور ان کے برے عملوں کی جو وہ کرتے تھے سزا دیں گے

ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعْدَآءِ اللّٰهِ النَّارُ١ۚ لَهُمْ فِیْهَا دَارُ الْخُلْدِ١ؕ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:28 in the Quran reader

یہ خدا کے دشمنوں کا بدلہ ہے (یعنی) دوزخ ان کے لئے اسی میں ہمیشہ کا گھر ہے یہ اس کی سزا ہے کہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 41:29 in the Quran reader

اور کافر کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار جنوں اور انسانوں میں سے جن لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا ان کو ہمیں دکھا کہ ہم ان کو اپنے پاؤں کے تلے (روند) ڈالیں تاکہ وہ نہایت ذلیل ہوں

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 41:30 in the Quran reader

جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار خدا ہے پھر وہ (اس پر) قائم رہے ان پر فرشتے اتریں گے (اور کہیں گے) کہ نہ خوف کرو اور نہ غمناک ہو اور بہشت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا خوشی مناؤ

نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ Open ayah 41:31 in the Quran reader

ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست تھے اور آخرت میں بھی (تمہارے رفیق ہیں) اور وہاں جس (نعمت) کو تمہارا جی چاہے گا تم (کو ملے گی) اور جو چیز طلب کرو گے تمہارے لئے (موجود ہوگی)

نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ۠ Open ayah 41:32 in the Quran reader

(یہ) بخشنے والے مہربان کی طرف سے مہمانی ہے

آیت نمبر 26 تا 32 ترجمہ : اور کافروں نے آپ کی قراءت کے وقت کہا اس قرآن کو سنو مت، اور شوروغل کرو، اور آپ ﷺ کی قراءت کے وقت شور مچاؤ کیا عجب کہ تم غالب آجاؤ ؟ اور پیغمبر (ہار کر) چپ ہوجائے، اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں فرمایا سو ہم ان کافروں کو یقیناً سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے، اور انہیں انکے بدترین اعمال کا بدلہ (ضرور) ضرور دیں گے، یعنی ان کے عمل کی بدترین جزاء (ضرور دیں گے) وہ یعنی عذاب شدید اور بدترین بدلہ، اللہ کے دشمنوں کی سزایہی دوزخ کی آگ ہے، دوسرے ہمزہ کی تحقیق اور اس کو واؤ سے بدل کر، النّار، الجزاء کا عطف بیان ہے، جو ذٰلک کا مخبربہ (خبر) ہے، جس میں ان کا ہمیشگی کا گھر ہے یعنی (دائمی) اقامت کا، اس سے منتقل ہونا نہیں ہے، ان کو یہ بدلہ ہماری آیتوں قرآن کے انکاری کی وجہ سے دیا جائے گا جزاءً اپنے فعل مقدر کا مصدر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور کافر لوگ جہنم میں کہیں گے اے ہمارے رب ہمیں جنوں (اور) انسانوں (کے وہ دونوں) فریق دکھا جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا یعنی ابلیس اور قابیل کو (ان) دونوں نے کفر اور قتل کا طریقہ جاری کیا (تاکہ) ہم انہیں آگ میں اپنے قدموں تلے روندیں (تاکہ) وہ جہنم میں سب سے نیچے ہمارے اعتبار سے شدید ترین عذاب میں ہوجائیں واقعی جن لوگوں نے کہا ہمارا پروردگار اللہ ہے، پھر توحید وغیرہ پر جو ان پر واجب تھا جمے رہے ان کے پاس موت کے وقت (یہ کہتے ہوئے) آتے ہیں کہ مابعد الموت سے اندیشہ نہ کرو اور جو اہل و عیال چھوڑ چلے ہو ان پر غم نہ کرو، اس لئے کہ اس معاملہ میں ہم تمہارے خلیفہ ہیں (بلکہ) اس جنت کی بشارت سب لو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا، تمہاری دینوی زندگی میں بھی ہم تمہارے رفیق تھے یعنی دنیا میں تمہاری حفاظت کی، اور آخرت میں بھی یعنی آخرت میں بھی تمہارے ساتھ ہوں گے کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ اور جس چیز کو تمہارا جی چاہے اور جو کچھ طلب کرو (سب کچھ) تمہارے لئے بطور مہمانی غفور رحیم یعنی اللہ کی طرف سے تیار ملے گا رزقاً ، جعل مقدر کی وجہ سے منصوب ہے۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : عند قراء ۃِ النبی ﷺ یہ قال کا ظرف ہے، ای عند قراءۃ النبی قال۔ قولہ : والْغَوْا، اِلْغَوْا، لَغْوٌ سے امر جمع مذکر حاضر (ن، س، ف) بیہودہ بکنا، بک بک کرنا۔ قولہ : اَلَّغَطُ شور کرنا، بیہودہ بکنا، یہ لغوٌ کے ہم معنی ہے۔ فائدہ : ای اَقبَحَ جزاء عَمَلِھِمْ اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک شبہ کو دفع کرنا ہے۔ شبہ : اللہ تعالیٰ کے قول لَنَجْزِ یَنَّھُمْ اَسْوَأَ الَّذِیْ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ اس سے بظاہر شبہ ہوتا ہے کہ کافر، ان کے نفس عمل کی قسم کی بدترین جزادیئے جائیں گے، مثلاً جن مشرکوں نے آپ ﷺ کے ساتھ استہزاء کیا ہوگا آخرت میں ان کے ساتھ بدترین قسم کا استہزاء کیا جائے گا، حالانکہ مقصد یہ نہیں ہے۔ دفع : کلام حذف مضاف کے ساتھ ہے، تقدیر عبارت یہ ہے لَنَجْزِیَنَّھُمْ اَقبَحَ جزاء عَمَلِھِمْ ۔ قولہ : العذاب الشدید الخ اس اضافہ کا مقصد ذٰلک کا مشارٌ الیہ متعین کرنا ہے اور مشارٌ الیہ فَلَنُذِیْقَنَّھُمْ اور وَلَنَجزِیَنَّھُمْ ہے، ذلک مبتداء ہے اور جزاءُ اعداءِ اللہ اس کی خبر ہے اور النَّار جزاء سے بدل یا عطف بیان ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ذٰلک الْاَمرُ مبتداء محذوف کی خبر ہو، جزاء اعداء اللہ النار سابقہ کا بیان ہوگا، اول اولیٰ ہے۔ سوال : النار کو جزاء سے بدل قرار دینا صحیح نہیں ہے، اس لئے کہ بدل کے صحیح ہونے کی علامت یہ ہے کہ بدل کو مبدل منہ کی جگہ رکھ دیا جائے تو معنی درست رہیں، مگر یہاں ایسا نہیں ہے، اس لئے کہ بدل کو مبدل منہ کی جگہ رکھنے کے بعد تقدیر عبارت یہ ہوگی ذٰلک النّارُ اَعداءُ اللہ اور یہ صحیح نہیں ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ مرجوع اعراب سے راجح اعراب کی طرف رجوع کیا جائے، النَّار کو ھِیَ مبتداء محذوف کی خبر قرار دیا جائے، یا اَلنَّارُ کو مبتداء قرار دیا جائے، اور اس کے مابعد یعنی وَلَھُمْ فِیْھَا دارُ الخلد کو اس کی خبر۔ نکتہ۔ سوال : لَھُمْ فیھا دار الخُلْد، فِیْھَا کی ضمیر، کا مرجع النَّار ہے، اور نار سے مراد جہنم ہے اور جہنم موصوف بصفۃ الخلد ہے، اب فیھا دارالخلد کا مطلب ہوا، دارالخلد کے اندر دار الخلد ہے، یہ ظرفیۃ الشیئ لنفسہٖ ہے جو کہ جائز نہیں ہے۔ جواب : کلام میں تجرید ہے، تجرید کہتے ہیں کسی امر ذی صفت سے اسی کے موافق مبالغہ کے طور پر دوسرے امرذی صفت کا انتزاع کرنا، جس طرح یہاں النار سے دار آخر کا انتزاع کرکے اس کا نام دارلخلد رکھ دیا، لہٰذا یہ درست ہے۔ قولہ : جزاءً فعل محذوف کے مصدر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، ای یُجْزُوْنَ جَزَاءً ۔ قولہ : بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ ۔ سوال : بِاٰیٰتِنَا میں باء کیسی ہے ؟ جواب : یا تو باء زائد ہے یا یَجْحَدُوْنَ ، یکفرونَ کے معنی کو متضمن ہے، اس صورت میں باء تعدٰیہ کے لئے ہوگی۔ قولہ : فی النار یہ قال کے فاعل الذین سے حال ہے ای کائنین فی النار۔ قولہ : اَرِنَا، اَرِ امر واحد مذکر حاضر، نا، ضمیر جمع متکلم اَرِنَا، مراد رویۃ بصریہ ہے، ہمزہ تعدیہ الی مفعول الثانی کے لئے ہے، ضمیر نا مفعول اول ہے، الَّذَیْنِ مفعول ثانی ہے اَرِنَا کی اصل اَرْئِیْنَا تھی ای صَیِّرْنَا رَائِینَ بِاَبْصَارِنَا، یاء حرف علت جو کہ لام کلمہ ہے، فعل کے حذف حرف علت پر مبنی ہونے کی وجہ سے حذف ہوگئی۔ دوسرا ہمزہ جو کہ عین کلمہ ہے اس کے کسرہ کو اس کے ماقبل جو کہ راء کو دیدی، جو کہ فاء کلمہ ہے، اب اس کا وزن اَرِنَا ہوگیا، موجود ہمزہ کلمہ کا نہیں ہے، بلکہ تعدیہ کے لئے ہے۔ خوف اور حزن میں فرق : قولہ : لا تخافوا ولا تحْزَنُوا آئندہ کی تکلیف کی وجہ سے انسان کو جو کیفیت لاحق ہوتی ہے اس کو ” خوف “ کہتے ہیں، اور گذشتہ زمانہ میں کسی نافع چیز کے فوت ہونے کی وجہ سے جو کیفیت لاحق ہوتی ہے اسے ” حزن “ کہتے ہیں۔ قولہ : اَنْ ای بِاَنْ اَنْ مصدریہ ہے باء مقدر ہے تخافوا بمعنی خوف ہے، ای تَتَنَزَّلُ علیھم الملائکۃ قائلین لَھُمْ لا خوْفَ علیکم وَلَا حُزْنَ ۔ قولہ : اَبْشِرُوْا، اِبْشَارٌ سے امر جمع مذکر حاضر، تم کو خوشخبری ہو۔ قولہ : نَحْنُ اَوْلِیَائُکُمْ اس میں دو احتمال ہیں، باری تعالیٰ کا کلام بھی ہوسکتا ہے اور ملائکہ کا بھی۔ قولہ : نُزُلاً ، تَدَّعُوْنَ کی ضمیر سے حال ہے، نُزل اس کھانے کو کہتے ہیں کو مہمان کے لئے بطور ضیافت تیار کیا جاتا ہے۔ تفسیر وتشریح وقال۔۔ کفروا (الآیۃ) یہ جملہ مستانفہ ہے، اس کا مقصد کفار کے حال کو بیان کرنا اور قراءۃ قرآن کے وقت ان کے مکابرہ اور مجادلہ کو ذکر کرنا ہے، کفار مکہ جب قرآن کے مقابلہ سے عاجز ہوگئے، اور اس کے خلاف ان کی ساری تدبیریں ناکام ہوگئیں تو انہوں نے یہ حرکت شروع کی، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ابو جہل نے لوگوں کو اس پر آمادہ کیا کہ جب محمد ﷺ قرآن پڑھا کریں تو تم ان کے سامنے خوب چیخ پکار اور شور وغل کیا کرو تاکہ لوگوں کو پتہ ہی نہ چلے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں بعض نے کہا سیٹیاں اور تالیاں بجایا کرو اور بیچ بیچ میں طرح طرح کی آوازیں نکالا کرو۔ (قرطبی، معارف) مسئلہ : قرآن کی تلاوت کے وقت خاموش رہ کر سننا واجب، ایمان کی علامت اور عبادت ہے، اور خاموش نہ رہنا کفار کی عادت ہے، آج کل ریڈیو پر تلاوت قرآن نے ایسی صورت اختیار کرلی ہے کہ ہر ہوٹل اور مجمع کے موقع پر ریڈیو کھولا جاتا ہے، جس میں تلاوت ہورہی ہوتی ہے، اور ہوٹل والے اپنے دھندوں میں لگے ہوئے ہوتے ہیں، اور کھانے پینے والے اپنے شغل میں، اس کی بظاہر صورت وہ بن جاتی ہے جو کفار کی علامت تھی۔ وقال۔۔۔ اضلنا (الآیۃ) اس کا مفہوم واضح ہے کہ گمراہ کرنے والے شیاطین ہی نہیں ہوتے انسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد بھی شیاطین کے زیر اثر لوگوں کو گمراہ کرنے میں مصروف رہتی ہے، تاہم بعض نے جن سے ابلیس اور انس سے قابیل مراد لیا ہے، قابیل نے انسانوں میں سب سے پہلے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کرکے ظلم اور کبیرہ گناہ کا ارتکاب کیا، اور حدیث کے مطابق قیامت تک ہونے والے ناجائز قتلوں کے گناہ کا ایک حصہ اس کو بھی ملتا رہے گا، ” قدموں تلے روندنے “ کا مطلب ان کو خوب ذلیل اور رسوا کرنا ہوگا، جہنمیوں کو اپنے لیڈروں پر جو غصہ ہوگا اس کی تشفی کے لئے وہ یہ کہیں گے ورنہ دونوں ہی مجرم ہیں۔ ان۔۔۔ اللہ . سابقہ آیات میں منکرین قرآن اور منکرین توحید سے خطاب اور ان کے حالات کا بیان تھا، یہاں سے مومنین کا ملین کے حالات اور دنیا وآخرت میں ان کے اعزاز واکرام کا بیان اور ان کے لئے خاص ہدایات ہیں۔ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا کا مطلب : ” استقامت “ کے مختلف بیان کئے گئے ہیں، اس آیت میں پہلے اللہ کی ربوبیت کا اقرار اور پھر اس پر استقامت کا ذکر ہے، یعنی جن لوگوں نے اس کی ربوبیت کا اقرار و یقین کرلیا، یہ تو اصل ایمان ہوا، پھر اس پر مستقیم رہے، یہ عمل صالح ہوا، اس طرح ایمان و عمل کے جامع ہوگئے، یہ تفسیر حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے منقول ہے اور تقریباً یہی مضمون حضرت عثمان ؓ سے منقول ہے، انہوں نے استقامت کی تفسیر اخلاص عمل سے فرمائی ہے، اور حضرت فاروق اعظم ؓ نے فرمایا : الاِ ستقَامَۃُ اَنْ تستَقِیم علیٰ الْامر والنھی ولا تروغ روغانِ الثعالب ” استقامت یہ ہے کہ تم اللہ کے تمام احکام واوامر تواہی پر سیدھے جمے رہو اس سے ادھر ادھر لومڑی کی طرح راہ فرارنہ نکالو “۔ علماء نے کہا ہے کہ استقامت اگرچہ نہایت مختصر لفظ ہے مگر تمام شرائع اسلامیہ کو جامع ہے، جس میں تمام احکام الہٰیہ پر عمل اور تمام محرمات ومکر وہات سے اجتناب دائمی طور پر شامل ہے۔
Ayahs 41:33–44

وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 41:33 in the Quran reader

اور اس شخص سے بات کا اچھا کون ہوسکتا ہے جو خدا کی طرف بلائے اور عمل نیک کرے اور کہے کہ میں مسلمان ہوں ؟

وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُ١ؕ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ Open ayah 41:34 in the Quran reader

اور بھلائی اور برائی برابر نہیں ہوسکتی تو (سخت کلامی کا) ایسے طریق سے جواب دو جو بہت اچھا ہو (ایسا کرنے سے تم دیکھو گے) کہ جس میں اور تم میں دشمنی تھی گویا وہ تمہارا گرم جوش دوست ہے

وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا١ۚ وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 41:35 in the Quran reader

اور یہ بات انہیں لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو برداشت کرنے والے ہیں اور ان ہی کو نصیب ہوتی ہے جو بڑے صاحب نصیب ہیں

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 41:36 in the Quran reader

اور اگر تمہیں شیطان کی جانب سے کوئی وسوسہ پیدا ہو تو خدا کی پناہ مانگ لیا کرو بیشک وہ سنتا (اور) جانتا ہے

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الَّیْلُ وَ النَّهَارُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ١ؕ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 41:37 in the Quran reader

اور رات اور دن اور سورج اور چاند اسکی نشانیوں میں سے ہیں تم لوگ نہ تو سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو بلکہ خدا ہی کو سجدہ کرو جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے اگر تم کو اس کی عبادت منظور ہے

فَاِنِ اسْتَكْبَرُوْا فَالَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ یُسَبِّحُوْنَ لَهٗ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ هُمْ لَا یَسْئَمُوْنَ۩ Open ayah 41:38 in the Quran reader

اگر یہ لوگ سرکشی کریں تو خدا کو بھی انکی پرواہ نہیں جو (فرشتے) تمہارے پروردگار کے پاس ہیں وہ رات دن اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور (کبھی) تھکتے ہی نہیں

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْۤ اَحْیَاهَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 41:39 in the Quran reader

اور (اے بندے یہ) اسی کی قدرت کے نمونے ہیں کہ تو زمین کو دبی ہوئی (یعنی خشک) دیکھتا ہے جب ہم اس پر پانی برسا دیتے ہیں تو شاداب ہوجاتی اور پھولنے لگتی ہے تو جس نے زمین کو زندہ کیا وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا١ؕ اَفَمَنْ یُّلْقٰى فِی النَّارِ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ یَّاْتِیْۤ اٰمِنًا یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ١ۙ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 41:40 in the Quran reader

جو لوگ ہماری آیتوں میں کج راہی کرتے ہیں وہ ہم سے پوشیدہ نہیں ہیں بھلا جو شخص دوزخ میں ڈالا جائے وہ بہتر ہے یا وہ جو قیامت کے دن امن وامان سے آئے (تو خیر) جو چاہو سو کرلو جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس کو دیکھ رہا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِیْزٌۙ Open ayah 41:41 in the Quran reader

جن لوگوں نے نصیحت کو نہ مانا جب وہ انکے پاس آئی اور یہ تو ایک عالی مرتبہ کتاب ہے

لَّا یَاْتِیْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهٖ١ؕ تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَكِیْمٍ حَمِیْدٍ Open ayah 41:42 in the Quran reader

اس پر جھوٹ کا دخل نہ آگے سے ہوسکتا ہے اور نہ پیچھے سے (اور) دانا (اور) خوبیوں والے (خدا) کی اتاری ہوئی ہے

مَا یُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِیْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّ ذُوْ عِقَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 41:43 in the Quran reader

تم سے وہی باتیں کہی جاتی ہیں جو تم سے پہلے اور پیغمبروں سے کہی گئی تھیں بیشک تمہارا پروردگار بخش دینے والا بھی ہے اور عذاب الیم دینے والا بھی ہے

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا لَوْ لَا فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ١ؕ ءَؔاَعْجَمِیٌّ وَّ عَرَبِیٌّ١ؕ قُلْ هُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ شِفَآءٌ١ؕ وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّ هُوَ عَلَیْهِمْ عَمًى١ؕ اُولٰٓئِكَ یُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 41:44 in the Quran reader

اور اگر ہم اس قرآن کو غیر زبان عرب میں (نازل) کرتے تو یہ لوگ کہتے کہ اسکی آیتیں (ہماری زبان میں) کیوں کھول کر بیان نہیں کی گئیں کیا (خوب کہ قرآن تو عجمی) اور (مخاطب) عربی کہہ دو کہ جو ایمان لاتے ہیں ان کے لئے (یہ) ہدایت اور شفا ہے اور جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں گرانی (یعنی بہراپن) ہے اور یہ ان کے حق میں (موجب) نابینائی ہے گرانی کے سبب ان کو (گویا) دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے

آیت نمبر 33 تا 44 ترجمہ : اور اس سے بہتر بات کس کی ہوسکتی ہے کہ جو توحید کے ذریعہ خدا کی طرف بلائے اور کہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں نہ سب نیکیاں (آپس میں) برابر ہوتی ہیں اور نہ سب برائیاں اپنے افراد کے اعتبار سے اس لئے کہ بعض بعض سے بڑھی ہوئی ہوتی ہیں، آپ برائی کو اچھے برتاؤ سے دفع کیجئے جیسے غصہ کو صبر (وضبط) سے اور جہل کو برد باری سے، اور بےادبی کو عفو (و درگذر سے) پھر وہی جس کے اور آپ کے درمیان عداوت ہے ایسا ہوجائے گا جیسا کہ جگری دوست جب آپ اس پر عمل کریں گے تو آپ کا دشمن اپنی محبت میں قریبی دوست بن جائے گا، الذی مبتداء اور کَاَنَّہٗ خبر، اور اِذَا معنی تشبیہ کے لئے ظرف ہے، اور یہ یعنی بہترین خصلت انہیں لوگوں کو ملتی ہے جو صبر کرنے والے ہوتے ہیں اور اس کو بڑے نصیب دار ہی حاصل کرسکتے ہیں اور اِمَّا میں ان شرطیہ کا مازائدہ میں ادغام ہے، اگر شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آنے لگے یعنی اگر کوئی آپ کو پھیرنے والا (بہترین) خصلت اور خیر وغیرہ سے پھیرے تو اللہ کی پناہ طلب کرو (فاستعذ باللہ) جواب شرط ہے جواب امر محذوف ہے، اور وہ یَدْفَعُہٗ عنکَ ہے، یقیناً وہ باتوں کا سننے والا اور (ہر) کام کا جاننے والا ہے اور رات اور دن سورج اور چاند (اسی کی قدرت کی) نشانیوں میں سے ہیں، تم سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو (بلکہ) سجدہ اس اللہ کو کرو جس نے مذکورہ چاروں نشانیوں کو پیدا فرمایا اگر تمہیں اسی کی بندگی کرنی ہے تو پھر بھی اگر یہ اللہ وحدہ کو سجدہ سے تکبر و غرور کریں تو وہ فرشتے جو تیرے رب کے پاس ہیں وہ رات دن تسبیح پڑھتے ہیں نماز پڑھتے ہیں اور وہ (کسی وقت بھی) اکتاتے نہیں ہیں اور اس کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے (بھی) ہے کہ تو زمین کو دبی دبائی بے (آب و) گیاہ دیکھتا ہے پھر جب ہم اس پر مینہ برساتے ہیں تو تروتازہ ہو کر لہلہانے لگتی ہے پھولنے لگتی ہے، اور ابھرنے لگتی ہے، جس نے اس کو زندہ کیا وہی یقیناً مُردوں کو بھی زندہ کرنے والا ہے، بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے سو ہم ان کو بدلہ دیں گے، (بھلا بتاؤ) جو آگ میں ڈالا جائے وہ اچھا ہے یا وہ جو امن وامان کے ساتھ قیامت کے دن آئے ؟ جو جی چاہے کرو، وہ تمہارے سب کرتوت دیکھ رہا ہے، یہ ان کو دھمکی ہے جن لوگوں نے اپنے پاس قرآن پہنچ جانے کے باوجود کفر کیا ہم ان کو بدلہ دیں گے یہ بڑی باوقعت (بےمثال) کتاب ہے، جس کے پاس باطل پھٹک بھی نہیں سکتا نہ اس کے آگے سے اور نہ اس کے پیچھے سے، نہ اس سے پہلے کوئی کتاب ہے جو اس کی تکذیب کرے اور نہ اس کے بعد یہ نازل کردہ ہے حکمتوں والے خوبیوں والے کی طرف سے یعنی اس اللہ کی طرف سے جو اپنے معاملہ میں قابل ستائش ہے، آپ سے تکذیب وغیرہ کی وہی باتیں کہی جاتی ہیں جو آپ سے پہلے رسولوں سے کہی گئی ہیں یقیناً آپ کا رب مومنین کے لئے معاف کرنے والا اور کافروں کے لئے دردناک عذاب والا ہے اور اگر ہم اس قرآن کو عجمی زبان کا بناتے تو کہتے اس کی آیتیں صاف صاف کیوں بیان نہیں کی گئیں ؟ تاکہ ہم اس کو سمجھتے یہ کیا کہ عجمی کتاب اور عربی رسول ؟ یہ ان کی جانب سے استفہام انکاری ہے ثانی ہمزہ کی تحقیق کے ساتھ اور اس کو الف سے بدل کر، اشباع یعنی الف داخل کرکے اور ترک ادخال الف کرکے آپ کہہ دیجئے کہ یہ تو ایمان والوں کے لئے گمراہی سے ہدایت اور جہل سے شفاء ہے اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں بہراپن ہے (یعنی) ثقل ہے جس کی وجہ سے وہ اس کو نہیں سنتے اور یہ ان پر اندھا پن ہے جس کی وجہ سے وہ اس کو نہیں سمجھتے یہ وہ لوگ ہیں جو (بہت) دور سے پکارے جارہے ہیں، یعنی یہ لوگ اس شخص کے مانند ہیں جس کو دور سے آواز دی جارہی ہو ، نہ وہ سنتا ہے اور نہ سمجھتا ہے کہ اس سے کیا کہا جارہا ہے ؟ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلاً (الآیۃ) مَنْ استفہام انکاری، مبتداء، مفسر علام نے لا احد کہہ کر اشارہ کردیا کہ مَنْ استفہامیہ انکاریہ ہے اَحْسَنُ خبر قولاً تمیز ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، عَمِلَ صالحًا جملہ حالیہ ہے۔ قولہ : فِی جُزْئِیَّاتِھِمَا لَاِنَّ بَعْضَھَا قَوْقَ بَعْض اس عبارت سے مفسر علام کا مقصد جُزْئِیَّات اور اجزاء میں فرق بیان کرنا ہے، اور فرق بیان کرنے کا مقصد وَلَا تَسْتَوِی الحَسَنَۃُ وَلَا السَّیِّئَۃُ میں یہ بتانا ہے کہ لَا ثانیہ تاسیس کے لئے ہے نہ کہ تاکید کے لئے، اور یہ امر مسلم ہے کہ تاسیس تاکید سے بہتر ہے، اس لئے کہ تاکید سے مضمون سابق کی تاکید ہوتی ہے جو کوئی جدید علم نہیں اور تاسیس سے نیا علم نیا فائدہ حاصل ہوتا ہے، اور نئی بات معلوم ہونا پرانی بات کی تاکید کے مقابلہ میں بہرحال افضل اور بہتر ہے۔ ” اجزاء “ اور ” جزئیات “ میں فرق : شئ کے اعضاء اور حصوں کو اجزاء کہا جاتا ہے اجزاء، جز کی جمع ہے، مثلاً خالد ایک شئ ہے یہ بہت سے اجزاء سے مرکب ہے، مثلاً اس کے ہاتھ ہیں، پیر ہیں، ناک ہے، کان ہیں، آنکھیں ہیں۔ غرضیکہ خالد اندرونی وبیرونی بہت سے اجزاء کا مرکب ہے، اجزاء سے مرکب ہو کر جو شئ تیار ہوتی ہے، وہ جزئی کہلاتی ہے، اور بہت سی جزئیات مل کر جو مجموعہ تیار ہوتا ہے، وہ نوع کہلاتی ہے، مثلاً بہت سے انسانی افراد کا مجموعہ نوع ہے، اسی پر قیاس کرتے ہوئے حسنۃ اور سیئۃ کو سمجھئے، حَسَنَۃٌ ایک نوع ہے اور سیئۃ دوسری نوع ہے اور ہر نوع کے تحت بہت سے افراد ہوتے ہیں، جن کو اس نوع کی جزئیات کہا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ حسَنۃ (یعنی) نیکی کے بہت سے افراد ہیں، جو آپس میں ایک دوسرے سے اعلیٰ و ادنیٰ ہیں، مثلاً ایمان، شکر، نماز، روزہ، صلہ رحمی، انسانی ہمدردی، سنت کی پابندی، مستحبات پر عمل، یہ سب حسنہ یعنی نیکی کے افراد ہیں، اور یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ مذکورہ نیکیوں میں بعض بعض سے فوق ہیں، مثلاً ایمان سب سے اعلیٰ ہے، اس کے بعد دیگر فرائض ہیں، پھر اس کے بعد واجبات کا درجہ ہے پھر اس کے بعد سنتیں اور مستحبات ہیں، اس کے بعد اولیٰ اور افضل کا نمبر ہے، حدیث شریف میں بھی اس تفاوت کی جانب اشارہ فرمایا گیا ہے عن ابی ہریرہ ؓ قال قال رسول اللہ ﷺ الایمانُ بضع وسبعون شعبۃً فَافضَلُھَا قول لا الٰہ اِلَّا اللہ واد نَا ھَا إما طۃُ الأ ذٰی عن الطریق والحیاء شعبۃٌ من الإیمان (مشکوٰۃ : ص 12) جس طرح حسنۃ (نیکی) کے بہت سے افراد اور جزئیات ہیں اسی طرح سیّئۃٌ (بدی) کے بھی بہت سے افراد ہیں ان میں بھی بعض سے اعلیٰ و ادنیٰ ہیں، مثلاً کفر، ترک فرائض، غصب، چوری، اکل مال یتیم، گالی گلوچ، بدظنی، بدنظری، راستہ میں گندگی ڈالنا، دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنا، اور دائیں ہاتھ سے ناک صاف کرنا، استنجاء کرتے وقت قبلہ کا استقبال و استدبار کرنا، کعبہ کی طرف تھوکنا یا پیر دراز کرنا ہے، یہ سب برائی کے افراد ہیں، مگر درجہ میں مساوی نہیں ہیں، بلکہ آپس میں ایک دوسرے سے اعلیٰ و ادنیٰ ہیں، یہ بات کوئی نہیں جانتا کہ شرک و کفر کے مقابلہ میں بوقت استنجاء استقبال واستد بار، یا قبلہ کی طرف تھوکنا، اور پیر دراز کرنا کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ آمدبرسرِمطلب : مذکورہ آیت لا تَسْتَوی الحَسَنَۃُ وَلَا السَّیّئَۃُ میں اگر حسَنۃ اور سیّئۃ میں عدم مساوات کو بیان کرنا مقصد ہو تو ثانی لا کو زائد محض تاکید کے لئے ماننا ہوگا، اس لئے کہ اب اصل عبارت اس طرح ہے لاَ تستَوِی الحسنۃ والسیِّئۃُ اسی عبارت سے حسنہ اور سیئہ میں عدم مساوات معلوم ہوگئی، اب اگر لا کا اضافہ کرتے ہیں تو اس سے علم عدم مساوات کی تاکید ہوگی جو پہلے ہی معلوم ہوچکی ہے نہ کہ نیا علم اور نیا فائدہ۔ اور اگر تستوی الحسنۃ ولا السیِّئۃُ کا مقصد حسنہ اور سیئہ کے درمیان فرق تو پہلے لا سے معلوم ہوگیا اور اب دوسرے لا سے حسنات وسیئات کی جزئیات میں فرق معلوم ہوگیا، اس صورت میں لا تاسیس کے لئے ہوگا نہ کہ تاکید کے لئے، اسی جدید فائدہ کو بیان کرنے کے لئے مفسر علام نے لا تستوی الحسنۃ ولا السیِّئۃ کی تفسیر میں فی جزئیَا تِھِما کا اضافہ فرمایا۔ قولہ : اِنَّنِیْ من المسلمین جمہور کے نزدیک اِنَّنِیْ دونوں کے ساتھ ہے اور ابن ابی عیلہ نے ایک نون کے ساتھ اِنِّی پڑھا ہے یعنی وہ فخر وابتہاج سے کہتا ہے کہ مسلمان ہوں۔ قولہ : کأنَّہٗ ولی حمیمٌ، حمیم گرم پانی، کہا جاتا ہے اِستَحَمَّ ای اغتَسَلَ بالحمیم گرم پانی سے غسل کیا، اب مطلقاً غسل کرنے کو استحمام کہنے لگے ہیں، خواہ گرم پانی سے ہو یا ٹھنڈے پانی سے، حمیم گرم جوش اور جگری دوست کو بھی کہتے ہیں۔ قولہ : فاستَعِذْ باللہِ یہ اِمَّایَنْزَغَنَّکَ شرط کا جواب ہے اور فَاسْتَعِذْ امر کا جواب محذوف ہے جسکو علامہ محلی نے یدفَعُہٗ کہہ کر ظاہر کردیا ہے قولہ : یَنْزَغَنَّکَ مضارع واحد مذکر غائب بانون تاکید ثقیلہ یہ نزغٌ سے ہے کہ ضمیر مفعول ہے تجھ کو وسوسہ آئے۔ قولہ : خَلَقَھُنَّ ای الاٰیاتِ الاربع۔ شبہ : خَلَقَھُنَّ کے بجائے خلَقَھمَا زیادہ ظاہر تھا، اسلئے کہ جنکے لئے سجدہ کا ذکر ہے وہ دوہی ہیں، یعنی شمس وقمر لہٰذا خَلَقَھُمَا ہونا چاہیے تھا دفع : شمس و قمر کو سجدہ جائز نہ ہونے اور ان کے اندر معبود بننے کی صلاحیت نہ ہونے کی علت ان کا مخلوق ہونا ہے، اس لئے کہ کوئی بھی مخلوق خواہ وہ کتنی ہی عظیم و مفید کیوں نہ ہو مستحق عبادت نہیں ہوسکتی خَلَقَھُنَّ میں جمع کی ضمیر لاکر بتادیا کہ شمس وقمر بھی لیل ونہار کے مانند مخلوق اور خلق کے زیر اثر ہیں۔ قولہ : وَمِنْ اٰیَاتِہٖ اللیل والنھار الخ منْ آیاتِہٖ خبر مقدم ہے اور اللیل والنھار وما عُطِفَ علیہ مبتداء مؤخر ہے۔ قولہ : وَمِنْ اٰیَاتِہٖ اَنَّکَ تَرَی الْاَرْضَ ، مِن آیاتِہٖ خبر مقدم ہے اَنَّ مع اپنے مدخول کے بتاویل مصدر ہو کر مبتدا مؤخر ہے۔ قولہ : تَھْدِیْدٌ لَھُمْ اس میں اشارہ ہے کہ اِعٌمَلُوْا مَاشئتُمْ میں امر، تخییر کے لئے نہیں ہے بلکہ تہدید (دھمکی) کے لئے ہے، اس کا قرینہ بما تعملون بصیر ہے۔ قولہ : تُجَازِیْھِمْ اس تقدیر کا مقصدیہ بتانا ہے کہ اِنَّ کی خبر محذوف ہے اَلَّذِیْنَ کفروا، اِنَّ کا اسم ہے۔ قولہ : مَنیعٌ، منیعٌ بروزن فعیلٌ بمعنی فاعلٌ ای ممتنعٌ عن قبول الابطال والتحریف۔ قولہ : أَأَعْجَمِیٌّ یہ مبتداء محذوف کی خبر ہے، جس کو مفسر (رح) تعالیٰ نے قرآن کہہ کر ظاہر کردیا ہے۔ قولہ : اَعْجَمِیٌّ میں یاء مبالغہ فی لاوصف کے لئے ہے جسے کہ اَحْمَریٌّ میں، کلام اعجمی اس کلام کو کہتے ہیں جو سمجھ میں نہ آئے، اَاَعْجَمِیٌّ میں پہلاہمزہ استفہام انکاری ہے دوسرے ہمزہ میں دو قراءتیں ہیں جن کی طرف علامہ محلی (رح) تعالیٰ نے بتحقیق الھمزۃ الثانیۃ وقَلْبھَا اَنفًا بالا شباع کہہ کر اشارہ کردیا ہے پہلی قراءت تو اوضح ہے کہ دونوں ہمزوں کو محقق پڑھا جائے، دوسری قراءت یہ ہے کہ دوسرے ہمزہ کو الف سے بدل دیں اور اشباع یعنی مدطویل لازم کے ساتھ پڑھیں، آعْجَمِیٌّ ودونِہٖ کا لفظ سبقت قلم ہے یا پھر دونہ کا تعلق قلب سے ہے ای دون قلب الفٍ اس صورت میں یہ دیگر قراءت کا بیان ہوگا، اس لئے کہ قلب کی صورت میں مد لازم ہے تو پھر بدون المد کیسے ہوسکتا ہے ؟ پانچ قراءتیں بالترتیب یہ ہیں : (1) تسہیل ہمزۂ ثانیہ مع ادخال الف بین الہمزتین (2) ابدال ہمزہ ثانیہ بالالف مع المدالطّویل (3) تسہیل ثانیہ بلا ادخال الف بین الہمزتین (4) بہمزۂ واحدۃ خبریۃ (اَعْجَمِیٌّ) (5) بہمزتین محققین بلا ادخال الف۔ تفسیر وتشریح ومن۔۔۔ المسلمین . یہ مومنین کا ملین کی صفات کا بیان ہے کہ مومنین کاملین صرف خود ہی اپنے ایمان و عمل پر قناعت نہیں کرتے، بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی اس کی دعوت دیتے ہیں، فرمایا اس سے اچھی بات کس کی ہوسکتی ہے، کہ جو لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف بلائے، اس سے معلوم ہوا کہ انسان کے کلام میں سب سے بہتر اور افضل وہ کلام ہے جس میں دوسروں کو دعوت حق دی گئی ہو، اس میں دعوت الی اللہ کی سب صورتیں شامل ہیں، زبان سے تحریر سے یا کسی اور عنوان سے، اذان دینے والا بھی اس میں داخل ہے، بشرطیکہ بلا اجرت صرف اللہ کے لئے اذان دیتا ہو، کیونکہ وہ دوسروں کو نماز کی طرف بلاتا ہے، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا کہ یہ آیت مؤذنوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، دعا الی اللہ کے بعد عَمِلَ صَالحًا آیا ہے، اس سے مراد ہے کہ اذان و اقامت کے درمیان دو رکعت پڑھ لے۔ ادفع۔۔۔ احسن (الآیۃ) اس آیت میں ایک بہت اہم اخلاقی ہدایت ہے کہ برائی کو اچھائی کے ساتھ ٹالو یعنی برائی کا بدلہ احسان کے ساتھ، زیادتی کا بدلہ عفو کے ساتھ، غضب کا صبر کے ساتھ، بےادبی اور بیہودگی کا جواب چشم پوشی اور درگذر کے ساتھ اور ناپسندیدہ باتوں کا جواب برداشت اور حلم کے ساتھ دیا جائے، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہارا دشمن دوست بن جائے گا، اور دور دور رہنے والا قریب آجائے گا، اور خون کا پیاسا تمہارا گرویدہ اور جاں نثار ہوجائے گا۔ وما۔۔۔ صبروا (الآیۃ) برائی کو بھلائی کیساتھ ٹالنے کی خوبی اگرچہ نہایت مفید اور بڑی ثمر آور ہے لیکن اس پر عمل وہی کرسکیں گے جو صابر ہونگے غصہ کو پی جانے والے اور ناپسندیدہ باتوں کو برداشت کرنے والے ہونگے بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ صدیق اکبر ؓ کو کسی نے گالی دی یا برا کہا تو آپ نے اسکے جواب میں فرمایا کہ اگر تم اپنے کلام میں سچے ہو کہ میں مجرم اور خطا وار ہوں تو اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمادے اور اگر تم نے جھوٹ بولا ہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں معاف فرمادے (قرطبی) وَمِنْ ۔۔۔ وَالقَمَرُ ۔ نکتہ : اس آیت میں ایک عقلی دلیل سے سجود لغیر اللہ کو دو طریقہ سے حرام اور باطل قرار دیا ہے (1) شمس وقمر ہماری قدرت کی نشانیوں میں سے ہیں اور آیت علامت اور نشانی ہوتی ہے نہ کہ مقصود (2) لیل اور نہار اللہ کی نشانیاں ہیں اور شمس و قمر لیل ونہار کی نشانی ہے تو جب بالا تفاق مسجود نہیں تو ان کی نشانی بدرجہ اولیٰ مسجود نہ ہوگی جبکہ یہ سب چیزیں اللہ کی مخلوق میں سے ہیں لہٰذا یہ سب مستحق سجود و عبادت نہیں ہوسکتیں، جب یہ مخلوق قابل سجود اور مستحق عبادت نہ ہوئی تو دوسری مخلوق بھی قابل سجود اور لائق عبادت نہ ہوئی، اس لئے کہ مرتبہ مخلوقیت میں سب مساوی ہیں۔ (خلاصۃ التفاسیر فتح محمد تائب) رات کو تاریک بنایا تاکہ لوگ اس میں آرام کرسکیں، دن کو روشن بنایا تاکہ کسب معاش میں سہولت ہو، رات اور دن کا پورے نظام اور یکسانیت کے ساتھ آنا جانا اسی طرح شمس وقمر کا اپنے اپنے وقت پر طلوع و غروب ہونا اور اپنے اپنے مدار پر منزلیں طے کرتے رہنا اور آپس میں تضادم سے محفوظ رہنا، یہ سب اس بات کی دلیلیں ہیں کہ یقیناً ان کا کوئی خالق ومالک ہے، اور وہ ایک اور صرف ایک ہے، اور کائنات میں صرف اسی کا تصرف اور حکم چلتا ہے، اگر تدبیر و امر کا اختیار رکھنے والے ایک سے زیادہ ہوتے تو یہ نظام کائنات ایسے مستحکم اور لگے بندھے طریقہ سے کبھی چل ہی نہیں سکتا تھا۔ خَلَقَھُنَّ میں جمع مؤنث کی ضمیر آئی ہے جبکہ محل کا تقاضا تھا کہ خَلَقَھُمَا ہو، اسلئے کہ اشارہ شمس وقمر کیطرف ہے اسکی ایک وجہ تو تحقیق و ترکیب کے زیر عنوان گذر چکی ہے، دوسری وجہ یہ ہے کہ یا تو خلقھنّ ، خَلَق ھَذہ الاربعۃ المذکورۃ کے مفہوم میں ہے، اسلئے کہ غیر عاقل کی جمع کا حکم واحد مؤنث ہی کا ہوتا ہے یا اس کا مرجع شمس وقمر ہیں مگر مافوق الواحد کو جمع شمار کرکے جمع کی ضمیر لائے ہیں۔ خَاشِعَۃً کا مطلب ہے خشک اور قحط زدہ یعنی مردہ، دبی ہوئی اور پست اور جب اس پر بارش ہوئی تو جنبش میں آئی اور پھولی، بلاشبہ جس نے مردہ زمین کو زندہ کردیا وہ مردہ انسانوں کو بھی زندہ کرے گا۔ وھم۔۔ یسئمون . اس پر تو امت کا اجماع ہے کہ اس سورت میں سجدۂ تلاوت واجب ہے البتہ مقام سجدہ میں اختلاف ہے، قاضی ابوبکر ابن العربی نے احکام القرآن میں لکھا ہے کہ حضرت علی اور ابن مسعود ؓ پہلی آیت کے ختم پر سجدہ کرتے تھے یعنی اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہ تعبدونَ اور اسی کا امام مالک ؓ اور امام شافعی (رح) تعالیٰ نے اختیار فرمایا ہے، امام ابوبکر جصاص نے فرمایا کہ حضرت ابن عباس ؓ دوسری آیت کے آخر یعنی لایسئمون پر سجدہ کرتے تھے، یہی مذہب تمام ائمہ حنفیہ کا ہے اور فرمایا کہ اختلاف کی بناء پر اختیاط اسی میں ہے کہ دوسری آیت کے آخر میں سجدہ کیا جائے، اس لئے کہ اگر آیت سے سجدہ واجب ہوا ہے تو وہ دوسری آیت کے بعد ادا ہوجائے گا، اور اگر دوسری آیت سے سجدہ واجب ہوا ہے تو پہلی آیت پر کیا ہوا سجدہ کافی نہ ہوگا۔ ان۔۔ اٰیتنا (الآیۃ) یعنی جو لوگ ہماری آیتوں کو ماننے کے بجائے اس سے اعراض و انحراف کرتے ہیں وہ ہم سے مخفی نہیں ہیں، ہم ان کو قیامت کے دن ضرور سزا دیں گے، الحاد کے معنی عن الحق کے ہیں، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا الحاد کلام کو غیر محل میں رکھنا ہے، حضرت قتادہ نے فرمایا الحاد کفر وعناد کا نام ہے، علماء کلام نے فرمایا ہے کہ یہ نصوص اپنے ظاہر پر محمول ہیں اور جب تک کوئی دلیل قطعی تاویل کی مقتضی نہ ہوتا ویل نہ کی جائے، اور جو معنی باطنیہ یعنی ملاحدہ نے گھڑ لئے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ آیات قرآنی اپنے ان ظاہری معانی پر نہیں ہیں جو لغت اور قواعد سے مفہوم ہوں بلکہ اس کے معانی مخفی ہیں جسے ہر شخص نہیں جانتا، ان کی غرض یہ ہے کہ ظاہر شریعت لاشئ ہے، یہ الحاد ہے، اسی الحاد میں وہ فرقے بھی شامل ہیں جو اپنے غلط عقائد و نظریات کے اثبات کے لئے آیات الہٰی میں تحریف معنوی اور دجل وتلبیس سے کام لیتے ہیں۔ لا۔۔ یدیہ (الآیۃ) یعنی قرآن ہر طرح محفوظ ہے باطل اس میں کمی زیادتی نہیں کرسکتا، باطل کے آگے اور پیچھے سے نہ آنے کا مطلب ہے، باطل اس کے آگے سے آکر اس میں کوئی کمی اور نہ پیچھے سے آکر اس میں اضافہ کرسکتا ہے، اور نہ کوئی تغیرو تحریف ہی کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے، کیونکہ یہ اس ذات کی طرف سے نازل کردہ ہے جو اپنے اقوال وافعال میں حکیم و محمود ہے۔ ایک مغالطہ کا ازالہ : کتب عقائد میں ایک ضابطہ بیان کیا گیا ہے کہ متاول کو کافر نہیں کہنا چاہیے یعنی جو شخص عقائد باطلہ اور کلمات کفریہ کو کسی تاویل سے اختیار کرے وہ کافر نہیں، اگر اس ضابطہ سے عام مراد لیا جائے تو لازم آئے گا کہ دنیا میں کوئی کافر نہ ہو اس لئے کہ ہر شخص تاویل کرکے ہی کلمہ کفر یا عقیدۂ کفریہ کو اختیار کرتا ہے، بت پرستوں کی تاویل تو خود قرآن میں مذکورہ ہے ما نعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفٰی یعنی ہم بتوں کی فی نفسہٖ بندگی نہیں کرتے بلکہ اس لئے کرتے ہیں کہ وہ سفارش کے ذریعہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں، اور درحقیقت اللہ کی ہی عبادت ہے مگر قرآن نے ان کی اس تاویل کے باوجود ان کو کافر کہا ہے، یہود و نصاریٰ کی تاویلیں تو بہت ہی مشہور ہیں، اس کے باوجود قرآن و سنت کی نصوص میں ان کو کافر کہا گیا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ متاول کو کافر نہ کہنے کا مفہوم عام نہیں ہے، اسی کی علماء نے تصریح کی ہے جو تاویل تکفیر سے مانع ہوتی ہے اس کی شرط یہ ہے کہ وہ ضروریات دین میں ان کے مفہوم قطعی کے خلاف نہ ہو ضروریات دین سے مراد وہ احکام ہیں جو اسلام اور مسلمانوں میں اتنے متواتر اور مشہور ہوں کہ مسلمانوں کے اَن پڑھ بھی ان سے واقف ہوں جیسے پنجوقتہ نماز، فرض نمازوں کی تعداد رکعات رمضان کے روزوں کی فرضیت، سود، شراب، خنزیر کی حرمت اگر کوئی شخص مذکورہ احکام سے متعلق آیات کی ایسی تاویل کرے کہ جس سے مسلمانوں کے نزدیک مشہور و معروف مفہوم الٹ جائے تو وہ باجماع امت کافر ہے کہ وہ درحقیقت رسول کی لائی ہوئی تعلیمات کا منکر ہے، اور ایمان کی تعریف جمہور کے نزدیک یہی ہے تصدیق النبی فیما علم مجیئہ بہ ضرورۃ اس لئے کفر کی تعریف اس کے بالمقابل ہوگی، جن چیزوں کا لانا رسول اللہ ﷺ سے ضروری اور قطعی طور پر ثابت ہو ان میں سے کسی کا انکار کرنا۔ (معارف ملخصًا)
Ayahs 41:45–54

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 41:45 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور یہ اس (قرآن) سے شک میں الجھ رہے ہیں

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ Open ayah 41:46 in the Quran reader

جو نیک کام کرے گا تو اپنے لئے اور جو برے کرے گا تو ان کا ضرر اسی کو ہوگا اور تمہارا پروردگار بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں

اِلَیْهِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ١ؕ وَ مَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَكْمَامِهَا وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ اَیْنَ شُرَكَآءِیْ١ۙ قَالُوْۤا اٰذَنّٰكَ١ۙ مَا مِنَّا مِنْ شَهِیْدٍۚ Open ayah 41:47 in the Quran reader

قیامت کے علم کا حوالہ اسی کی طرف دیا جاتا ہے (یعنی قیامت کا علم اسی کو ہے) اور نہ تو پھل گابھوں سے نکلتے ہیں اور نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے اور جس دن وہ ان کو پکارے گا (اور کہے گا) کہ میرے شریک کہاں ہیں تو وہ کہیں گے کہ ہم تجھ سے عرض کرتے ہیں کہ ہم میں سے کسی کو (ان کی) خبر ہی نہیں

وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ وَ ظَنُّوْا مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 41:48 in the Quran reader

اور جن کو پہلے وہ (خدا کے سوا) پکارا کرتے تھے (سب) ان سے غائب ہوجائیں گے اور وہ یقین کرلیں گے کہ ان کے لئے مخلصی نہیں

لَا یَسْئَمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَآءِ الْخَیْرِ١٘ وَ اِنْ مَّسَّهُ الشَّرُّ فَیَئُوْسٌ قَنُوْطٌ Open ayah 41:49 in the Quran reader

انسان بھلائی کی دعائیں کرتا کرتا تو تھکتا نہیں اور اگر تکلیف پہنچ جاتی ہے تو ناامید ہوجاتا ہے اور آس توڑ بیٹھتا ہے

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ هٰذَا لِیْ١ۙ وَ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّیْۤ اِنَّ لِیْ عِنْدَهٗ لَلْحُسْنٰى١ۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِمَا عَمِلُوْا١٘ وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 41:50 in the Quran reader

اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد ہم اس کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو کہتا ہے یہ تو میرا حق تھا اور میں نہیں خیال کرتا کہ قیامت برپا ہو اور اگر قیامت سچ بھی ہو تو میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا بھی جاؤں تو میرے لئے اس کے ہاں بھی خوشحالی ہے پس کافر جو عمل کیا کرتے ہیں وہ ہم ان کو ضرور جتائیں گے اور ان کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُوْ دُعَآءٍ عَرِیْضٍ Open ayah 41:51 in the Quran reader

اور جب ہم انسان پر کرم کرتے ہیں تو منہ موڑ لیتا ہے اور پہلو پھیر کر چل دیتا ہے اور جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو لمبی لمبی دعائیں کرنے لگتا ہے

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِهٖ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 41:52 in the Quran reader

کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر یہ (قرآن) خدا کی طرف سے ہو تو پھر تم اس سے انکار کرو تو اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو (حق) کی پرلے درجے کی مخالفت میں ہو

سَنُرِیْهِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 41:53 in the Quran reader

ہم عنقریب ان کو اطراف (عالم) میں بھی اور خود ان کی ذات میں بھی نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ (قرآن) حق ہے کیا تم کو یہ کافی نہیں کہ تمہارا پروردگار ہر چیز سے خبردار ہے ؟

اَلَاۤ اِنَّهُمْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآءِ رَبِّهِمْ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطٌ۠ Open ayah 41:54 in the Quran reader

دیکھو یہ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر ہونے سے شک میں ہیں سن رکھو کہ وہ ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے

آیت نمبر 45 تا 53 ترجمہ : یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ الصلاۃ ولسلام) کو کتاب تورات عطا کی تھی تو اس میں قرآن کے مانند تصدیق و تکذیب کرکے اختلاف کیا گیا، اور وہ بات نہ ہوتی جو تیرے رب کی جانب سے مخلوق کے حساب و جزاء کے قیامت تک تاخیر کے بارے میں پہلے سے مقرر ہوچکی ہے تو دنیا ہی میں ان کے درمیان کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا جس کے بارے میں وہ اختلاف کررہے ہیں، یہ تکذیب کرنے والے لوگ تو اس کے بارے میں سخت بےچین کرنے والے شک میں ہیں جو شخص نیک عمل کرے گا وہ اپنے لئے کرے گا، اور جو شخص بدی کرے گا تو اس کا وبال اس پر ہوگا یعنی اس کی برائی کا نقصان اس کی ذات پر پڑے گا، اور آپ کا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں یعنی ظالم نہیں، اللہ تعالیٰ کے قول اِنَّ اللہَ لاَ یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ کی رو سے قیامت کا علم اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے کہ کب ہوگی ؟ اس کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور جو جو پھل اپنے شگوفوں سے (یعنی) اپنے غلافوں سے نکلتے ہیں ایک قراءت میں ثمرات ہے، اَکمام، کِمٌّ کی جمع ہے، کاف کے کسرہ کے ساتھ اور جو مادہ حمل سے ہوتی ہے اور جو بچے وہ جنتی ہے سب کا علم اسے ہے اور جس دن اللہ ان (مشرکوں) کو بلا کر دریافت فرمائے گا کہ میرے شریک کہاں ہیں ؟ تو وہ جواب دیں گے اب ہم آپ سے عرض کرتے ہیں کہ ہم میں کوئی اس کا مدعی نہیں اس کا مدعی کہ تیرا کوئی شریک ہے اور جن بتوں کی یہ لوگ دنیا میں پرستش کیا کرتے تھے وہ سب ان سے غائب ہوجائیں گے (یہ صورت حال دیکھ کر) یہ لوگ سمجھ لیں گے کہ ان کے لئے بچاؤ کی کوئی صورت نہیں یعنی عذاب سے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں اور (حرف) نفی دونوں جگہ (1) مَا مِنَّا من شھید (2) مَالَھُمْ مِنْ مَّحِیْص میں عمل سے موقوف ہے اور کہا گیا ہے کہ جملہ منفیہ کو دو مفعولوں کے قائم مقام کردیا گیا ہے بھلائی مانگنے سے انسان تھکتا نہیں یعنی اپنے رب سے مال و صحت وغیرہ مانگتا ہی رہتا ہے اگر کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو رحمت سے مایوس اور ناامید ہوجاتا ہے اور جو اس کے بعد میں ہے وہ کافر کے بارے میں ہے اور قسم ہے اگر ہم اس کو کسی تکلیف شدت اور مصیبت کے بعد جو کہ اس کو پہنچ چکی تھی اپنی رحمت (یعنی) مالداری اور صحت کا مزا چکھا دیتے ہیں تو کہنے لگتا ہے کہ میں اس کا حقدار تھا ہی یعنی یہ میری تدبیر کی بدولت ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ قیامت قائم ہونے والی ہے اور قسم ہے اگر (بالفرض) مجھے میرے رب کے پاس لوٹایا بھی گیا تو میرے لئے اس کے پاس بھی بہتری ہی ہے یعنی جنت ہے ہم یقیناً ان کفار کو ان کے اعمال سے باخبر کردیں گے اور ان کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے (یعنی) شدید قسم کا، دونوں فعلوں میں لام قسمیہ ہے، اور جب ہم جنس انسان پر انعام کرتے ہیں تو شکر سے منہ پھیر لیتا ہے اور پہلو تہی کرلیتا ہے، یعنی تکبر کرتے ہوئے پہلو تہی دعائیں کرنے لگتا ہے آپ کہہ دیجئے بھلا بتلاؤ اگر یہ یعنی قرآن اللہ کے پاس سے ہوا جیسا کہ محمد ﷺ کہتے ہیں پھر تم اس کا انکار کرو تو ایسے شخص سے زیادہ کون غلطی پر ہوگا کہ جو مخالفت میں (حق سے) دور چلا جائے ؟ یعنی کوئی نہیں، یہ (یعنی مَنْ اَضَلُّ ) مِنْکُمْ کی جگہ واقع ہوا ہے ان کی حالت (ضلال) کو بتلانے کے لئے عنقریب ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاقِ عالم (یعنی) زمین و آسمان کے اطراف میں دکھائیں گے اور وہ (نشانیاں) نجوم، نباتات، اور اشجار ہیں اور خود ان کی ذات میں (دکھائیں گے) جو لطیف صنعت اور عجیب حکمت ہے، یہاں تک کہ خود ان پر واضح ہوجائے کہ یہ یعنی قرآن حق ہے بعث اور حساب اور عقاب کے ساتھ نازل کیا گیا ہے لہٰذا اس (قرآن) اور اس کے لانے والے کے انکار کی وجہ سے ان کو سزا دیجائے گی، کیا آپ کے رب کا ہر چیز سے آگاہ ہونا کافی نہیں ہے ؟ بِرَبِّکَ ، یکف کا فاعل ہے (اَنہ علیٰ کل شیئ شھید) رَبِّکَ سے بدل ہے، یعنی کیا ان کے لئے تیری صداقت کے بارے میں یہ کافی نہیں ہے کہ تیرے رب سے کوئی ادنیٰ شئ بھی پوشیدہ نہیں ہے (مگر) یاد رکھو اپنے رب کے ردبرو جانے کے بارے میں ان کے بعث کا منکر ہونے کی وجہ سے شک میں پڑے ہوئے ہیں، یاد رکھو اللہ تعالیٰ ہر شئ کو علم وقدرت کے اعتبار سے احاطہ میں لئے ہوئے ہے، سو ان کے کفر کی ان کو سزا دے گا۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : عَمِلَ ، عَمِلَ فعل مقدر مان کر اشارہ کردیا کہ فَلِنفسہٖ فعل محذوف کے متعلق ہے اور یہ بھی صحیح ہے کہ لنفسہٖ مبتداء محذوف کی خبر ہو، تقدیر عبارت یہ ہوگی فَالعملُ الصالح لنفسہٖ ۔ قولہ : بذی ظلمٍ یہ ایک شبہ کا دفع ہے۔ شبہ : اللہ تعالیٰ کے قول وَمَا رَبُّکَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ سے کثرت ظلم کی نفی تو ہوتی ہے مگر نفس ظلم کی نفی نہیں ہوتی۔ دفع : ظلام صیغہ نسبت ہے نہ کہ صیغہ، مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ظلم کے ساتھ منسوب نہیں ہے، جیسا کہ تمّارٌ و خبازٌ میں تمّار خرما فروش کو کہتے ہیں، نہ کہ زیادہ خرمافروش کو اور اسی طرح خبّاز روٹی پکانے والے کو کہتے ہیں نہ کہ بہت زیارہ روٹی پکانے والے کو مفسر (رح) تعالیٰ نے بذی ظلمٍ سے اس جواب کی طرف اشارہ کیا ہے۔ قولہ : لاَ یَعْلَمُ غیرُہٗ سے اس حصر کی طرف اشارہ کردیا جو اِلَیہِ یُرَدُّ کی تقدیم سے مستفاد ہے ورنہ تو یُرَدُّ اِلَیْہِ ہوتا۔ قولہ : مَا تخرُجُ مِن اکمامِھا، مِن فاعل پر زائدہ ہے ثَمَرَۃٌ میں دو قراءتیں ہیں اور دونوں سبعیہ ہیں، افراد باعتبار جنس کے اور جمع باعتبار انواع کے، اَکْمَام، کِمٌّ کی جمع ہے، کھجور وغیرہ کے غلاف کو کہتے ہیں۔ قولہ : والنفی فی الموضعین معلَّق عن العمل موضعین سے مراد اٰذَنّٰکَ ما مِنَّا مِن شھید اور وظَنُّوا ما لَھُمْ من محیص ہے، مذکورہ دونوں جگہوں پر نفی فعل کو لفظا عمل سے مانع ہے نہ کہ محلاً اور وہ دونوں فعل اٰذَنّٰکَ اور ظَنُّوا ہیں، اٰذَنّٰک بمعنی اَعْلمنَاک ہے، لہٰذا یہ افعال قلوب میں سے ہے اور ظَنُّوا بھی افعال قلوب میں سے ہے اور افعال قلوب میں تعلیق عمل کا مطلب ہوتا ہے لفظوں میں عمل کا باطل کردینا کہ معنی میں، اور یہ ابطال عمل اس وقت ہوتا ہے جب یہ افعال، استفہام، یا نفی یا لام ابتداء کے ماقبل واقع ہوں مفسر علام نے اٰذَنّٰکَ کی تفسیر اَعْلمنٰکَ سے کرکے اشارہ کردیا ہے کہ اٰذَنّٰکَ افعال قلوب میں سے ہے۔ قولہ : وقیل الخ مفسر علام یہاں سے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اگر مذکورہ افعال کو معلق عن العمل نہ مانا جائے تو دونوں جگہ جملہ منفیہ کو قائم مقام دو مفعولوں کے ماننا پڑے گا، ظَنُّوا کے مفعول اول اور مفعول ثانی کے قائم مقام اور اٰذَنّٰکَ کے مفعول ثانی اور ثالث کے قائم مقام ہوگا، اور پہلا مفعول اٰذَنّٰکَ کے اندر کاف ضمیر ہے۔ قولہ : محیص، حیصٌ سے ظرف مکان ہے، جائے پناہ، حاصَ یَحِیْصُ حَیْصًا ای الفرار والھرب۔ قولہ : مِنْ دُعاء الخیر دعاء الخیر میں اضافت، اضافت مصدر الی المفعول ہے جار مجرور یَسْأمُ کے متعلق ہیں۔ قولہ : ھٰذا لِی میں لام استحقاق کے لئے ہے، بعملی کہہ کر مفسر علام نے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ قولہ : فلَنُنَبِّئنَّ جمع متکلم مضارع بانون تاکید ثقیلہ (تفعیل) ہم ضرور آگاہ کردیں گے، ہم ضرور بتلادیں گے، دونوں فعلوں میں لام قسم کا ہے۔ قولہ : وَنَاءَ الف کو ہمزہ پر مقدم کرکے، ای نَاءَ بروزن قال اور دوسری قراءت میں ہمزہ کو الف پر مقدم کرکے ای نَاٰ بروزن رَمٰی۔ قولہ : نَأیٰ ماضی واحد مذکر غائب مادہ نَأیٌ (ف) دور ہوگیا، دو گردانی کی، پہلوتہی کی، چونکہ آیت میں متعدی بالباء ہے، اس لئے اس کا ترجمہ ہوگا، اس نے پہلو پھیرلیا، بعض قراءتوں میں نَاءَ بِجَابِبِہٖ آیا ہے اس کا مادہ نَوْءٌ ہے (ن) تکبر کے ساتھ پہلو پھیرلیا۔ قولہ : عِطفہ عِطفٌ پہلو، کنارہ (ج) اَعْطاف وعطافٌ وعُطُوفٌ یقال ثَنّٰی عَنِّی عِطْفْہٗ اس نے مجھ سے پہلو تہی کی۔ قولہ : لا احد یہ اشارہ ہے کہ مَنْ اَضَلُّ میں مَن استفہام انکاری ہے۔ قولہ : اَوْقَعَ ھٰذَا ای مِمَّنْ ھو فِی شِقَاقٍ بعید اعراض کرنے والوں کی حالت کو بیان کرنے کے لئے مِنْکُمْ کی جگہ واقع ہے، ورنہ تو مَنْ اَضَلُّ مِنکم کہنا کافی تھا، مگر چونکہ مِنْکُمْ سے ان کی حالت پر دلالت نہیں ہوتی اس لئے مِمَّنْ ھو فِی شِقَاقٍ بَعِیْدٍ لائے ہیں۔ شبہ : سنُرِیْھِمْ میں سین فعل کو زمانہ مستقبل کے ساتھ خاص کرتا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے زمانی مستقبل میں اللہ تعالیٰ اپنی آیات قدرت دکھائیں گے حالانکہ آیات قدرت قدرت فی الحال بھی موجود ہیں اور نظر آرہی ہیں۔ دفع : کلام میں مضاف محذوف ہے، ای سَنُزِیٌھِمْ عَوَاقِبَ آیَاتِنَا۔ قولہ : اَوَلَمْ یکفِ برلکَ ہمزہ محذوف پر داخل ہے، اور واؤ عاطفہ ہے تقدیر عبارت یہ ہے اَتَحْزَنُ عَلیٰ انکارِھِمْ ومعارضتِھم لَکَ ولم یکف بربک استفہام انکاری ہے باء فاعل پر زائد ہے مفعول محذوف ہے ای یکفیکَ ۔ تفسیر وتشریح ولقد۔۔ الکتاب (الآیۃ) یہ کلام مستانف ہے اسکا مقصد آپ ﷺ کو تسلی دینا ہے، ان آیات میں خبر دی گئی ہے کہ تکذیب وطعن وتشنیع یہ سابقہ امتوں سے چلی آرہی پرانی عادت ہے، ہر امت نے اپنے نبی کیساتھ یہی معاملہ کیا ہے، ان لوگوں نے بھی اپنے نبی پر اتاری جانے والی کتاب میں اختلاف کیا تھا اگر اہل مکہ آپ کیساتھ یہی معاملہ کررہے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، لہٰذا آپ اس سے غمزدہ نہ ہوں اور جس طرح ان نبیوں نے صبر و تحمل سے کام لیا آپ بھی صبروتحمل سے کام لیں فاخْتُلِفَ فیہِ میں ضمیر مجرور کتابٌ کی طرف راجع ہے، اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ موسیٰ کی طرف راجع ہے اول اولیٰ ہے۔ (فتح القدیر شو کانی) لو۔۔ سبقت (الآیۃ) یعنی اگر یہ طے نہ ہوچکی ہوتی کہ ان کو پورا عذاب آخرت میں دیا جائے گا، اور دنیا میں ان کو مہلت اور ڈھیل دی جائے گی جیسا کہ اللہ نے فرمایا لکن یؤخرھم الی اجل مسمًّی تو دنیا ہی میں قطعی فیصلہ ہوچکا ہوتا، اور یہ آپ پر نازل کردہ کتاب کے بارے میں شک و شبہ میں پڑے ہوئے ہیں، مہمل شکوک و شبہات ان کو چین سے نہیں بیٹھنے دیتے ہر وقت دل میں کھٹکتے رہتے ہیں، اور ان کا انکار و تکذیب عقل و بصیرت کی وجہ سے نہیں بلکہ محض شک وشبہ کی وجہ سے ہے جو ان کو بےچین کئے رہتا ہے۔ ربط : الیہ۔۔ الساعۃ . چونکہ نیکی وبدی کا پورا اور مکمل بدلہ قیامت کے دن ملے گا اور کفار سے جب یہ بات کہی جاتی تھی تو وہ کہتے تھے کہ قیامت کب آئے گی، اِلَیْہِ یُرَدُّ سے اسی سوال کے جواب کی طرف اشارہ فرمایا، جس کا مطلب ہے کہ قیامت کے وقوع کے صحیح وقت کا علم خدا کے سوا کسی کو نہیں ہے، چناچہ جب حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے آپ ﷺ سے قیامت کے واقع ہونے کے بارے میں دریافت فرمایا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا مَا المسئول عنھا بِاَعْلم من السائل قیامت کے بارے میں مجھے بھی اتنا ہی علم ہے جتنا سائل کو ہے، دوسرے مقامات پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا اِلیٰ رَبِّکَ مُنْتَھٰھَا (النازعات) لاَ یُجَلِّیْھَا لِوَقْتِھَا اِلَّا ھو (الاعراف) بڑے سے بڑا نبی اور بڑے سے بڑافرشتہ بھی قیامت کے وقت کی تعیین نہیں کرسکتا، اگر کوئی سائل وقوع قیامت کی تعیین کے بارے میں سوال کرے تو اللہ کے علم کا حوالہ دیتے ہوئے واللہ اعلم کہنا ہی مناسب ہے، اس لئے کہ حق تعالیٰ شانہ کا علم ہی ہر شئ کو محیط ہے کوئی کھجور اپنے گابھے اور کوئی دانہ اپنے خوشہ سے اور کوئی میوہ یا پھل اپنے غلاف سے باہر نہیں آتا جس کی خبر خدا کو نہ ہو، خلاصہ یہ کہ علم محیط خدا ہی کی شان ہے، اس کے حیطۂ علم سے کوئی شئ خارج نہیں، خدا کی اس صفت میں کسی نبی یا ولی فرشتے کو شریک کرنا شرک ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز مشرکین سے تہکم وتہدید کے طور پر فرمائے گا، کہاں ہیں وہ جن کو تم دنیا میں میرا شریک ٹھہرایا کرتے تھے ؟ ان کو بلالو تاکہ وہ تمہاری مدد کریں اور تمہارے اس آڑے وقت میں کام آئیں۔ قالو۔۔۔ شھیدٍ. مطلب یہ ہے کہ ہم آپ سے صاف عرض کرچکے کہ ہم میں کوئی اقبالی مجرم نہیں کہ جو اس جرم (شرک) کا اعتراف کرنے کو تیار ہو، گویا کہ اس وقت نہایت دیدہ دلیری سے جھوٹ بول کو واقعہ کا انکار کرنے لگیں گے، اور کہیں گے آج ہم میں سے کوئی شخص یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ تیرا کوئی شریک ہے اور بعض مفسرین نے شہید بمعنی شاہد لیکر یہ مطلب لیا ہے کہ اس وقت ہم میں سے کوئی ان شرکاء کو یہاں نہیں دیکھتا۔ (فوائد عثمانی) لا۔۔۔ الخیر . انسان سے بعض حضرات نے انسان کا فرمراد لیا اور بعض نے جنس انسان اور بعض حضرات نے انسان سے ولید بن مغیرہ مراد لیا ہے اور بعض نے ربیعہ کے دونوں بیٹے عتبہ اور شیبہ مراد لئے ہیں اور بعض نے امیہ بن خلف مراد لیا ہے، لیکن آیت کو غالب کے اعتبار سے عموم پر باقی رکھنا اولیٰ اور بہتر ہے، اور عبداللہ بن مسعود ؓ نے لاَ یَسْأم الإنسانُ من دعاء المال پڑھا ہے، مطلب یہ ہے کہ انسان دنیا کا مال واسباب، صحت وقوت، عزت و رفعت اور دیگر دینوی تعمتوں کے مانگنے سے نہیں تھکتا بلکہ مانگتا ہی رہتا ہے اور انسان سے مراد انسانوں کی غالب اکثریت ہے تاکہ اللہ کے نیک مخصوص بندے اس عموم سے خارج ہوجائیں، اور جب تکلیف پہنچتی ہے تو فوراً ہی مایوسی کا شکار ہوجاتا ہے جبکہ اللہ کے مخلص بندوں کا حال اس کے بر خلاف ہوتا ہے، وہ اول تو دنیا کے طالب نہیں ہوتے ان کے سامنے ہر وقت آخرت ہی ہوتی ہے دوسرے تکلیف پہنچنے پر بھی وہ اللہ کی رحمت اور اس کے فضل سے مایوس نہیں ہوتے، بلکہ آزمائشوں کو بھی وہ کفارۂ سیئات اور رفع درجات کا باعث سمجھتے ہیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ انسان کی فطرت بھی عجیب طرح کی واقع ہوئی ہے، جب دنیا کی ذرا سی بھلائی پہنچے اور کچھ عیش و آرام و تندرستی نصیب ہو تو مارے حرص کے چاہتا ہے کہ اور زیادہ مزے اڑائے، کسی حد پر پہنچ کر اس کا پیٹ پھرنا، اگر اس کا بس چلے تو ساری دنیا کی دولت سمیٹ کر اپنے گھر میں ڈال لے، اس کے برخلاف اگر ذراسی افتاد پڑنی شروع ہوئی اور اسباب ظاہری کا سلسلہ اپنے خلاف دیکھا تو پھر مایوس اور ناامید ہوتے بھی دیر نہیں لگتی، اور اگر اس مایوسی اور ناامیدی کے بعد اللہ نے تکلیف و مصیبت دور کرکے اپنی مہربانی سے پھر عیش و راحت کا سامان کردیا تو کہنے لگتا ہے، ھٰذَا لِی یعنی میں اس کامیابی کا مستحق تھا ہی اس لئے کہ میں نے فلاں تدبیر کی تھی اور میں نے یوں دانشمندی اور ہوشیاری سے کام کیا تھا، جس کا لازمی نتیجہ کامیابی ہی تھا، اب نہ خدا کی مہربانی یاد رہی اور نہ ہی اپنی مایوسی کی وہ کیفیت جو ابھی چند منٹ پہلے قلب پر طاری تھی، اب عیش و آرام کے نشہ میں ایسا مخمور ہوجاتا ہے کہ آئندہ بھی کسی مصیبت اور تکلیف کے پیش آنے کا خطرہ نہیں رہتا سمجھتا ہے، کہ میں ہمیشہ اسی حالت میں رہوں گا، اور اگر کبھی ان تاثرات کے دوران قیامت کا نام سن لیتا ہے تو کہتا ہے کہ میں تو نہیں سمجھتا کہ یہ چیز کبھی ہونے والی ہے، اور اگر بالفرض ایسی نوبت آہی گئی اور مجھے لوٹ کر اپنے رب کی طرف جانا ہی پڑا تب یقین ہے کہ وہاں بھی انجام بہتر ہوگا، اگر میں خدا کی نظر میں برا اور نالائق ہوتا تو مجھے دنیا میں یہ عیش و بہار کے مزے کیوں ملتے ؟ لہٰذا امید ہے کہ وہاں بھی میرے ساتھ یہی معاملہ ہوگا۔ فلننبئن۔۔ کفروا الخ یعنی خوش ہو لو کہ اس کفر و غرور کے باوجود وہاں بھی مزے لوٹوگے، وہاں پہنچ کر پتہ لگ جائے گا کہ منکروں کو کیسی سخت سزا بھگتنی پڑتی ہے۔ واذآ۔۔۔ اعراض (الآیۃ) یعنی اللہ کی تعمتوں سے متمتع ہونے کے وقت تو منعم کی حق شناسی اور شکر گذاری سے اعراض کرتا ہے، اور بےرخی کرتے ہوئے پہلو تہی کرتا ہے اور جب کوئی مصیبت اور تکلیف پیش آتی ہے تو اسی خدا کے سامنے ہاتھ پھیلا کر لمبی چوڑی دعائیں مانگنے لگتا ہے، شرم نہیں آتی کہ اب اسے کس منہ سے پکارتا ہے۔ قل۔۔۔ اللہ (الآیۃ) سابقہ آیات میں انسانی فطرت کا عجیب و غریب نقشہ کھنچ کر اس کی کمزوریوں اور بیماریوں پر نہایت موثر انداز میں توجہ دلائی تھی، اب تنبیہ فرماتے ہیں کہ یہ کتاب جو تمہاری کمزوریوں پر آگاہ کرنے والی اور انجام کیطرف توجہ دلانے والی ہے اگر خدا کے پاس سے آئی ہو (جیسا کہ واقع میں ایسا ہی ہے) پھر تم نے اس کو نہ مانا اور ایسی اعلیٰ اور بیش قیمت نصیحت سے فائدہ اٹھا کر اپنی عاقبت کی فکر نہ کی، بلکہ حق کی مخالفت میں دور ہوتے چلے گئے، تو کیا اس سے بڑھکر گمراہی اور خسارہ کچھ ہوسکتا ہے ؟ سنریھم۔۔۔ انفسھم . عنقریب ہم انہیں اپنی قدرت کی نشانیاں عالم اور اطراف عالم نیز خود انکی ذات میں بھی دکھائیں گے جن سے قرآن کی صداقت اور اسکا من جانب اللہ ہونا واضح ہوجائے گا، اَنَّہٗ میں ضمیر کا مرجع قرآن ہے، اور بعض نے اسکا مرجع اسلام یا رسول اللہ ﷺ کو قرار دیا ہے نتیجہ سب کا ایک ہی ہے آفاق، افق کی جمع ہے بمعنی کنارہ، مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی قدرت کی نشانیاں آفاق و اطراف عالم میں بھی دکھائیں گے اور خود انسان کی اپنی ذات میں بھی، چناچہ آفاق و اطراف میں قدرت کی بڑی بڑی بشانیاں ہیں مثلاً سورج، چاند، ستارے اور رات و دن، ہوا، بارش، گرج، چمک، بجلی کڑک، نباتات، جمادات، اشجار اور انہار وغیرہ اور آیات انفس سے خود انسان کا وجود مراد ہے جو کہ خود ایک عالم اصغر ہے اسکے اعضاء کی تشریح علم طب کا ایک نہایت دلچسپ موضوع ہے۔ ٭تم بحمداللہ ٭