Ayahs 43:36–45آیت نمبر 36 تا 45
ترجمہ : اور جو شخص رحمٰن کے ذکر یعنی قرآن سے اعراج کرے تو ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں سو وہ ہر وقت اس کے ساتھ رہتا ہے کہ اس سے جدا نہیں ہوتا اور بلاشبہ وہ شیاطین ان اعراض کرنے والوں کو ہدایت کے راستہ سے روکتے ہیں اور یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں جمع لانے میں مَنْ کے معنی کی رعایت ہے یہاں تک کہ جب وہ اعراض کرنے والا اپنے ساتھی کے ساتھ قیامت کے روز ہمارے پاس آئے گا تو اپنے ساتھی سے کہے گا، کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق ومغرب کی دوری ہوتی یعنی جس قدر مشرق ومغرب کے درمیان دوری ہے یا تنبیہ کے لئے ہے تو میرا بڑا برا ساتھ ہے، (اے) اعراض کرنے والو ! آج ہرگز تم کو تمہاری آرزو اور ندامت کچھ فائدہ نہ دے گی جبکہ تم ظالم ٹھہر چکے یعنی دنیا میں شرک کر کے تمہارا ظلم ظاہر ہوگیا اس لئے کہ تم اپنے ساتھیوں کے ساتھ عذاب میں شریک ہوؤ گے یہ تقدیر لام کے ساتھ عدم نفع کی علت ہے اور اِذ، الیوم سے بدل ہے کیا تو بےکو سنا سکتا ہے یا اندھے کو راہ دکھا سکتا ہے اور اس کو کہ جو کھلی گمراہی میں ہو یعنی وہ ایمان نہیں لائیں گے پس اگر ہم آپ کو یہاں (دنیا) سے وفات دے کر ان کو عذاب دینے سے پہلے لے بھی جائیں تو بھی ہم آخرت میں ان سے انتقام لینے والے ہیں یا جس عذاب کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے وہ آپ کو آپ کی زندگی میں دکھادیں، ہم اس پر بھی قادر ہیں، پس جب وحی (یعنی) قرآن کو آپ کی طرف بھیجا گیا ہے آپ اس کو مضبوطی سے تھامے رہیں، بلاشبہ آپ راہ راست پر ہیں اور یقیناً یہ آپ کے لئے اور آپ کی قوم کے لئے باعث شرف ہے اس کے ان کی زبان میں نازل ہونے کی وجہ سے، اور عنقریب تم لوگوں سے اس کا حق ادا کرنے کے بارے میں سوال کیا جائے گا اور ہمارے ان رسولوں سے پوچھو جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا، کیا ہم نے سوائے رحمٰن کے اور معبود مقرر کئے تھے ؟ کہا گیا ہے کہ یہ اپنے ظاہر پر ہے، بایں طور کہ تمام رسولوں کو لیلۃ الاسراء میں جمع کیا گیا، اور کہا گیا ہے کہ مراد دونوں اہل کتاب سے کوئی سی بھی امت ہے، اور دونوں قولوں میں سے کسی قول کے مطابق آپ نے سوال نہیں کیا، اس لئے کہ سوال کا حکم کرنے سے مراد مشرکین قریش سے اقرار کرانا ہے یہ کہ نہ تو اللہ کی طرف سے کوئی رسول آیا اور نہ کوئی کتاب جو غیر اللہ کی عبادت کا حکم لے کر آئی۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : یَعْشُ ، عشا یعشوا کَدَ عَا یدعُوا عَشِیًّا وعَشوا سے واحد مذکر غائب، اعراض کرنا، مَنْ یَعْشُ جو اعراض کرے گا (ن) عَشْوٌ اعراض کرنا، نظریں چرانا، وبالفارسیۃ چشم پوشیدن، وغافل شدن۔
قولہ : نُقَیِّضْ جواب شرط ہے یَعْشُ فعل شرط مجزوم بحذف الواؤحذف واؤ پر ضمہ دال ہے، اور مَنْ حرف شرط ہے۔
قولہ : نُقَیِّضْ (تفعیل) مضارع جمع متکلم ہم مقدر کردیتے ہیں، ہم سبب بنا دیتے ہیں۔ (لغات القرآن)
قولہ : اِنَّھُم، ھُم ضمیر کا مرجع شیطان ہے، شیطان چونکہ جنس ہے اس لئے ضمیر کو جمع لا یا گیا ہے اور جہاں ضمیر کو مفرد لائے وہاں لفظ شیطان کی رعایت کی گئی ہے۔
قولہ : وَیَحسَبُوْنَ اَنَّھُمْ مُھْتَدُوْنَ جملہ حالیہ ہے معنی مَنْ کی رعایت کی وجہ سے تینوں جگہ جمع کا صیغہ لا یا گیا ہے۔ (صاوی ملخصاً )
قولہ : بِقَرِیْنِہٖ ای مع قرینہٖ ۔
قولہ : یا للتنبیہ یا تنبیہ کے لئے بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ شارح نے اشارہ کیا ہے اور با ندائیہ بھی ہوسکتا ہے، مناویٰ محذوف ہوگا، ای یاقَرِین، لَیْتَ بَینِی وبَینِکَ الخ۔
قولہ : تَبَیَّنَ لکم ظلمکم اس عبارت کا مقصد ایک شبہ کو دفع کرنا ہے۔
شبہ : ظلم یعنی کفر وشرک دنیا میں واقع ہوا، اس لئے کہ اِذ ماضی کے لئے ظرف ہے، اور الیَوْم سے مراد قیامت کا دن ہے جو کہ اِذْ سے بدل ہے، لہٰذا ماضی حال سے کس طرح بدل واقع ہوسکتی ہے۔
جواب : تبیٗن سے مراد ظلم کا ظہور ہے اور یہ قیامت کے دن ہوگا۔
تفسیر وتشریح
مَنْ یَغْشُ ، عشَا یعْشُوا کے معنی ہیں آنکھوں کی بیماری یعنی رتوندا جس کو شب کو ری کہتے ہیں، یعنی جو اللہ کے ذکر سے اندھا ہوا، آنکھیں چرائیں، اعراض کیا، شیطان ایسے شخص کا ساتھ اور رفیق ہوجاتا ہے، جو ہر وقت اس کے ساتھ رہتا ہے، اور شیاطین ان کے حق کے راستہ میں حائل ہوجاتے ہیں اور انہیں برابر سمجھاتے رہتے ہیں، کہ تم حق پر ہو حتی کہ وہ واقعی طور پر اپنے بارے میں یہی گمان کرنے لگتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں، یا کافر شیطانوں کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہیں۔ (فتح القدیر ملخصاً )
فائدہ : آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ذکر اللہ سے شیطان مغلوب اور غفلت سے شیطان غالب ہوجاتا ہے، اور آخر کار جہل مرکب میں مبتلا ہو کر دائمی نقصان و حرمان کا مستحق ہوجاتا ہے، آخرت میں جب عذاب کا مشاہدہ کرے گا تو اپنی غلطی پر نادم ہو کر کہے گا، کاش میرے اور اس کے درمیان دنیا میں مشرق اور مغرب کی دوری ہوتی۔ (ارشاد ہوگا) یہ شیطان براہمنشین ہے اور اے غافلو ! آج تم کو ندامت وخجالت کوئی فائدہ نہیں دے گی، اس لئے کہ تم دنیا میں ظلم کرچکے بیشک تم دونوں عذاب الٰہی میں شریک اور دوزخ میں بھی قریب رہو گے۔
در منثور میں ہے کہ جب کافر قبر سے اٹھے گا تو شیطان ہاتھ میں ہاتھ دے کر دوزخ تک ہمراہ رہے گا اور مومن کے ساتھ فرشتہ جنت تک ہمراہ رہے گا، اور فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ ہر شخص کے ساتھ ایک جن اولاد شیاطین میں سے معین ہے (جسے ہمزاد کہتے ہیں) صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ کے ساتھ بھی ہے ؟ فرمایا : ہاں ! مگر اللہ نے میری مدد کی جس کی وجہ سے وہ ایمان لے آیا، اب وہ مجھے سوائے خیر کے کچھ نہیں بتاتا اور فرمایا کافروں کا شیطان خوردو خواب میں شریک رہتا ہے، اور شیطان زیادہ کھانے والے اور زیادہ سونے والے کو بہت دوست رکھتا ہے۔ (خلاصۃ التفاسیر)
اَفَاَتْتَ تسمِعُ (الآیۃ) یعنی جس کے لئے شقاوت ابدی لکھ دی گئی ہے، وہ وعظ و نصیحت کے اعتبار سے بہرا اور اندھا ہے وہ آپ کی دعوت وتبلیع سے راہ راست پر نہیں آسکتا، یہ استفہام انکاری ہے، جس طرح بہرا سننے اور اندھا دیکھنے سے محروم ہے، اسی طرح کھلی گمراہی میں مبتلا حق کی طرف آنے سے محروم ہے، درحقیقت یہ نبی ﷺ کو تسلی ہے تاکہ ایسے کے کفر سے آپ زیادہ تشویش محسوس نہ کریں۔
اَوْ نُرِ یَنَّکَ الّذِی وَعَدْنٰھُمْ (الآیۃ) یعنی عذاب کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے، عین ممکن ہے کہ وہ آپ کی حیات مبارک ہی میں مکہ میں رہتے ہوئے ان پر آجائے، اور اگر ہماری مشیت متقاضی ہوئی تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ ﷺ کے انتقال یا مکہ سے منتقل ہونے کے بعد ان پر وہ عذاب آئے ورنہ بصورت دیگر عذاب اخروی سے تو وہ بچ نہیں سکتے، مطلب یہ کہ ہمیں پوری قدرت حاصل ہے جو ہماری مصلحت کا مقتضیٰ ہوگا وہی ہوگا، چناچہ آپ کی حیات مبارک ہی میں بدر کی جنگ میں کافر عبرت ناک شکست اور ذلت سے دو چار ہوئے۔
وَاِنَّہٗ لذکرٌ لک ولقومِکَ تخصیص کا مطلب یہ نہیں کہ دوسروں کے لئے ذکر وشرف نہیں بلکہ اولین مخاطب چونکہ قریش تھے، اس لئے خصوصیت سے ان کا ذکر فرمایا، ورنہ تو قرآن پورے جہان کے لئے نصیحت وشرف ہے وَمَا ھُوَ اِلاَّ ذکرٌ للعٰلمینَ ۔ ( سورة قلم)
وَاسْئَلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ الخ آپ ﷺ تمام پیغمبروں سے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا ہے پوچھ لیجئے، یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انبیاء سابقین تو وفات پاچکے تھے، ان سے پوچھنے کا حکم کیسے دیا جا رہا ہے، اس کا جواب بعض مفسرین نے یہ دیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ معجزے کے طور پر انبیاء سابقین سے آپ کی ملاقات کرا دے تو اس وقت ان سے یہ بات دریافت کرلیجئے چناچہ شب معراج میں آپ کی ملاقات تمام انبیاء سے بیت المقدس میں ہوئی، قرطبی کی بعض راویات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے انبیاء (علیہم السلام) کی امامت فرمانے کے بعد یہی بات انبیاء (علیہم السلام) سے دریافت کی مگر ان روایات کی سند معلوم نہیں ہوسکی، چناچہ اکثر مفسرین نے آیت کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ خود انبیاء (علیہم السلام) سے پوچھنا مراد نہیں بلکہ ان پر نازل ہونے والے صحیفوں سے تحقیق کرنا اور ان کی امتوں کے علماء سے پوچھنا مراد ہے چناچہ انبیاء کے جو صحیفے اب موجود ہیں ان میں بہت سی تحریفات کے باوجود توحید کی تعلیم اور شرک سے بیزاری کی تعلیم آج تک شامل ہے، مثال کے طور پر موجودہ بائبل کی درج ذیل عبارتیں ملاحظہ فرمائیے۔
انبیاء کے صحیفوں میں توحید کی تعلیم : موجودہ توریت میں ہے :
“ تاکہ تو جانے کہ خداوندی ہی خدا ہے اور اس کے سوا کوئی ہے ہی نہیں ”۔ (استثناء 4: 35)
“ اور سن اے اسرائیل ! خداوند ہمارا خدا ایک ہی خدا ہے ”۔ (استثناء 4: 6)
اور حضرت اشعیاء (علیہ السلام) کے صحیفہ میں ہے :
“ میں ہی خداوند ہوں اور کوئی نہیں، میرے سوا کوئی خدا نہیں تاکہ مشرق سے مغرب تک لوگ جان لیں کہ میرے سوا کوئی دوسرا نہیں ”۔ (یسعیاہ 6، 5: 45)
اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کا یہ قول موجودہ انجیل میں موجود ہے :
“ اے اسرائیل، سن ! خداوند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے، اور تو خدا وند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی پیاری عقل اور اپنی ساری طاقت سے محبت رکھ ”۔ (مرقس 29: 12 ومتی 36: 22)
Ayahs 43:46–56آیت نمبر 46 تا 56
ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے امراء یعنی قبطیوں کے پاس بھیجا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے (جا کر) کہا کہ میں سارے جہانوں کے پروردگار کا رسول ہوں، پس جب وہ اپنی رسالت پر دلالت کرنے والی ہماری نشانیاں لے کر ان کے پاس پہنچے تو وہ بےساختہ ان پر ہنسنے لگے، اور ہم انہیں جو عذاب کی نشانیاں دکھاتے تھے مثلاً طوفان کی نشانی اور وہ پانی تھا جو ان کے گھروں میں داخل ہوگیا تھا اور وہ بیٹھے لوگوں کے حلق تک پہنچ گیا تھا، اور یہ سات دن رہا، اور ٹڈیوں کی نشانی تو وہ سابقہ دوسری نشانی سے بڑھی چڑھی ہوتی تھی، اور ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تاکہ وہ اپنے کفر سے باز آجائیں، جب انہوں نے عذاب کو دیکھا تو کہنے لگے اے عالم کامل اس لئے کہ سحر ان کے نزدیک عظیم علم تھا، تو ہمارے لئے اس کی دعاء کر جس کا اس نے تجھ سے وعدہ کر رکھا ہے یعنی عذاب کو دور کردینے کا اگر ہم ایمان لے آئیں یقین مانو، کہ ہم راہ پر لگ جائیں گے یعنی ایمان لے آئیں گے، پھر جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کی بدولت وہ عذاب ان سے ہٹا لیا تو انہوں نے اسی وقت اپنا قول وقرار توڑ دیا، اور اپنے کفر پر اصرار کرنے لگے اور فرعون نے اپنی قوم میں فخریہ طور پر مناوی کرائی اور کہا اے میری قوم کیا ملک مصر میرا نہیں ؟ اور یہ نہریں (یعنی) نہر نیل (کی شاخیں) میرے محلوں کے نیچے بہہ رہی ہیں تم میری عظمت کو دیکھتے ہو یا نہیں دیکھتے، اور بایں حالت میں اس موسیٰ سے جو کہ وہ ضعیف و حقیر ہے بہتر ہوں، اور صاف بول بھی نہیں سکتا، یعنی واضح کلام نہیں کرسکتا، اس لکنت کی وجہ سے جو اس چنگاری کی وجہ سے پیدا ہوگئی تھی جو (اس نے) اپنے بچپن میں منہ میں رکھ لی تھی، اچھا تو اس (کے ہاتھوں) میں سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے اگر یہ (دعوائے) نبوت میں سچا ہے، اَسَاوِر اسوِرۃ کی جمع ہے جیسا کہ اَغْرِبۃ اور اَسْوِرۃ، سوار کی جمع ہے، جیسا کہ ان کا طریقہ تھا کہ جس شخص کو وہ سردار بناتے تھے تو اس کو سونے کے کنگن اور سونے کا ہار پہناتے تھے، یا اس کے ساتھ فرشتے مسلسل آکر اس کی سچائی کی گواہی دیتے، اس نے اپنی قوم کو بیوقوف بنادیا اور انہوں نے اس کی وہ بات مان لی جو وہ ان سے چاہتا تھا، یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب، یقیناً یہ سارے ہی لوگ نافرمان تھے پھر جب انہوں نے ہمیں غصہ دلایا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور سب کو غرق کردیا، پس ہم نے ان کو داستان پار ینہ بنادیا اور نمونہ عبرت بعد والوں کے لئے کہ بعد والے ان کے حال کو بطور مثال کرتے تاکہ ان کے جیسے اعمال کے اقدام کی جرأت نہ کریں۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : فَقَالَ اِنِّی رسول رب العالمین قصہ میں اختصار ہے تفصیل سورة طٰہٰ اور سورة القصص میں ہے، آیت کے معنی یہ ہیں فقال انّی رسول رب العالمین لِتؤمِنَ بہٖ وتُرسلَ معِی بنی اسرائیل۔
قولہ : فَلمَّا جَاء ھم بآیٰتِنا فاء عاطفہ ہے، اس کا مقدر پر عطف ہے ای فَطَلَبُوْا مِنْہُ آیَۃ ً تَدُلُّ علیٰ صِدقہٖ ۔
قولہ : یَنْکُثونَ ، نکْثٌ (ن) جمع مذکر غائب توڑنے لگتے ہیں، توڑ دیتے ہیں۔
قولہ : سَلَفًا مفسر علام نے جمع سالِفٍ کہہ کر اشارہ کردیا کہ سَلَفاً مصدر نہیں ہے کہ تاویل کی ضرورت پیش آئے بلکہ سَلَفاً ، سالِفٌ کی جمع ہے، جیسا کہ خَدَ مٌ، خادِ م کی جمع ہے۔
تفسیری وتشریح
ولقد اَرْسلنا موسیٰ باٰیٰتنا (الآیۃ) قریش مکہ نے کہا تھا کہ اللہ کو اگر کسی کو رسول بنا کر بھیجا ہی تھا تو مکہ اور طائف کے کسی ایسے شخص کو بھیجتا کہ جو صاحب مال وجاہ ہوتا، فرعون نے بھی موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں یہی کہا تھا کہ میں موسیٰ سے بہتر ہوں اور یہ مجھ سے کمتر ہے یہ تو صاف بول بھی نہیں سکتا، مگر جس طرح فرعون کا یہ شبہ کچھ کام نہ آسکا، اور اپنی قوم سمیت غرق ہو کر رہا، اسی طرح کفار مکہ کا یہ اعتراض بھی انہیں دنیا وآخرت کے وبال سے نہ بچا سکے گا۔
فَاسْتَخَفَّ قومَہٗ اس کے دو ترجمے ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ فرعون نے اپنی قوم کو آسانی سے اپنا تابع بنا لیا، اور دوسرے یہ کہ اس نے اپنی قوم کو بیوقوف بنا لیا بیوقوف بنا لیا یا بیوقوف پایا (روح) فَلَمَّا آسَفُوْنَا یہ اَسَفٌ سے مشتق ہے، اس کے لغوی معنی ہیں : افسوس، اور چونکہ غصہ میں عام طور پر افسوس ہوتا ہے اسی مناسبت سے غصہ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، اس لئے کہ اس کا بامحاورہ ترجمہ اس طرح کیا جاتا ہے کہ “ جب انہوں نے ہمیں غصہ دلایا ” اور اللہ تعالیٰ چونکہ غصہ اور افسوس کی انفعالی کیفیات سے پاک ہے اس لئے اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے ایسے کام کئے کہ جس سے ہم نے انہیں سزا دینے کا پختہ ارادہ کرلیا۔ (روح المعانی)
Ayahs 43:57–67آیت نمبر 57 تا 67
ترجمہ : اور جب ابن مریم کی مثال بیان کی گئی (یعنی) جب اللہ تعالیٰ کا قول اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُونِ اللہِ حَصَبُ جَھَنّمَ نازل ہوئی تو مشرک کہنے لگے کہ ہم اس بات پر راضی ہیں کہ ہمارے معبود بھی عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ (جہنم میں) ہوں، اس لئے کہ اللہ کے علاوہ ان کی بھی بندگی کی گئی تو (اے محمد ﷺ تیری مشرک قوم اس مثال کو سن کر (مارے خوشی کے) چیخنے لگی اور انہوں نے کہا کہ ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) ، ہم اس بات پر راضی ہیں کہ ہمارے معبود (جہنم) میں عیسیٰ کے ساتھ ہوں تجھ پر ان کا یہ اعتراض کرنا محض باطل طریقہ پر جھگڑنے کی غرض سے ہے، ان کی اس بات سے واقف ہونے کی وجہ سے کہ ما غیر ذوی العقول کے لئے ہے، لہٰذا اس میں عیسیٰ (علیہ السلام) شامل نہیں ہیں بلکہ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو سخت جھگڑنے والے، عیسیٰ ( (علیہ السلام) بھی) صرف بندے ہی ہیں جن پر ہم نے نبوت کے ذریعہ احسان فرمایا اور ہم نے ان کو بغیر باپ پیدا ہونے کی وجہ سے بنی اسرائیل کے لئے نشان (قدرت) بنادیا یعنی مثال کے مانند ان کے عجیب طریقہ سے پیدا ہونے کی وجہ سے اسی سے اللہ تعالیٰ کی قدرت پر استدلال کیا جاتا ہے جس کا وہ ارادہ کرے اگر ہم چاہتے تم سے فرشتے پیدا کردیتے جو (تمہاری) جانشینی کرتے، اس طریقہ پر کہ ہم تو کو ہلاک کردیتے ہیں اور وہ یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کی علامت ہے اس کے نزول سے (قیامت) کا علم حاصل ہوگا، لہٰذا تم قیامت کے بارے میں شک نہ کرو نون رفع جازم کی وجہ سے اور واؤ ضمیر التقاء ساکنین کی وجہ سے حذف کردیا گیا تَمْتَرُنَّ (معنی میں) تَشُکُّنَّ کے ہے، اور ان سے کہہ دو کہ توحید کے بارے میں میری اتباع کرو یہی جس کا میں تم کو حکم دے رہا ہوں، سیدھی راہ ہے شیطان تمہیں اللہ کے دین سے روک نہ دے یقیناً وہ تمہارا صریح دشمن ہے (یعنی) کھلی عداوت والا ہے اور جب عیسیٰ معجزات اور احکام لے کر آئے تو فرمایا کہ میں تمہارے پاس نبوت اور انجیل کے احکام لے کر آیا ہوں تاکہ جن بعض چیزوں میں تم اختلاف کر رہے ہو ان کو واضح کر دوں، مثلاً تورات کے دینی احکام وغیرہ، چناچہ آپ نے ان کے لئے دین کے معاملہ کو واضح کردیا، پس تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو بلاشبہ میرا اور تمہارا رب اللہ ہی ہے پس تم سب اسی کی بندگی کرو، راہ راست یہی ہے پس جماعتوں نے آپس میں عیسیٰ علیہ الصلاٰۃ والسلام کے بارے میں اختلاف، آیا وہ خدا ہے یا خدا کا بیٹا ہے یا تین میں کا تیسرا ہے، سو ظالموں (یعنی) کافروں کے لئے خرابی ہے اس سبب سے جو لوگوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں کہا تکلیف والے دن کے عذاب سے وَیْلٌ کلمہ عذاب ہے، یہ کفار مکہ صرف قیامت کے منتظر ہیں کہ ان پر اچانک آپڑے (تاتِیَھُمْ ) السَّاعۃ سے بدل ہے اور انہیں اس کے آنے کی پہلے سے خبر بھی نہ ہو اس دن معصوف کی بنیاد پر دنیا میں دوستی رکھنے والے ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے۔ یومَئِذٍ کا تعلق بَعضُھُم لِبَعضٍ عدُو سے ہے مگر متقین آپس میں ایک دو سرے کے دشمن نہ ہوں گے یعنی جن کی دوستی اللہ کے لئے ہوگی، اس کی اطاعت پر تو وہ آپس میں دوست ہوں گے۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : ضُرِبَ ابنُ مَرْ یَمَ مَثَلاً ای شُبِّہَ ابنُ ، مرْیَمَ بالأصنامِ مفسر علام نے ضُرِب کی تفسیر جُعِلَ سے کر کے اشارہ کردیا کہ ضُرِبَ بمعنی جُعِلَ متعدی بدو مفعول ہے، پہلا مفعول ابن مریم ہے، جو کہ نائب فاعل ہے اور دوسرا مفعول مثلاً ہے اذا مفاجاتیہ ہے اور قومُکَ مبتداء مِنہُ یَصِدُّوْنَ کے متعلق ہے، اور یَصِدُّوْنَ جملہ ہو کر خبر ہے۔
قولہ : یَصِدُّونَ صاد کے کسرہ کے ساتھ، مضارع جمع مذکر غائب (ض) وہ چیختے چلاتے ہیں (لغات القرآن) خوشی سے شور مچاتے ہیں (اعراب القرآن) اور بعض حضرات نے یَصُدّونَ صاد کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے، اس وقت صُدُوْدٌ سے مشتق ہوگا، وہ اعراض کرتے ہیں۔
قولہ : اِلاَّ جَدَلاً ، ما ضَرَبُوا کا مفعول لہٗ ہے۔
قولہ : ھُوَ اللہُ یہ قول نصاریٰ میں سے فرقہ یعقوبیہ کا ہے اَوْ ابن اللہ یہ قول نصاریٰ میں سے فرقہ مرقوسیہ کا ہے، اَوْ ثَالِثُ ثَلاَ ثَۃ یہ قول نصاریٰ کے تیسرے فرقہ ملکانیہ کا ہے۔ (جمل)
قولہ : اَلْاَخِلاَّءُ یہ خلیل کی جمع ہے بمعنی دوست۔
قولہ : علی المعصیۃ اگر اخلاَّءُ کو معصیۃ کے ساتھ مقید کیا جائے جیسا کہ مفسر علام نے کیا ہے تو اِلاَّ المتقین مستثنیٰ منقطع ہوگا، اس لئے کہ متقیوں کی دوستی معصیۃ کی وجہ سے نہیں ہوتی، اس صورت میں مستثنیٰ ، مستثنیٰ منہ کی جنس سے نہیں ہوگا، اور بعض حضرات نے اخلاَّءُ سے مطلقاً دوست مراد لیا ہے، اس صورت میں متقین بھی مستثنیٰ منہ میں داخل ہوں گے، جس کی وجہ سے مستثنیٰ متصل کہلائے گا۔
قولہ : متعلق بقولہ بَعْضُھُمْ لِبعض عدُوٌّ یعنی یومَئِذٍ کا تعلق عُدُوُّ سے ہے اس لئے کہ یومَئِذٍ عَدُوٌّ کا ظرف مقدم ہے۔
سوال : عَدُوٌّ صیغہ صفت کا ہونے کی وجہ سے عامل ضعیف ہے، یہ اسی وقت عمل کرتا ہے جب اس کا معمول ترتیب سے یعنی اس کے بعد واقع ہو، حالانکہ یہاں یومَئِذٍ جو کہ عَدُوٌّ کا ظرف ہے، مقدم واقع ہے، لہٰذا عَدُوٌّ عامل ضعیف ہونے کی وجہ سے یومَئِذٍ میں عمل نہیں کرے گا۔
جواب : ظروف میں چونکہ توسع ہے لہٰذا اس میں تقدیم کے باوجود عامل ضعیف بھی عمل کرسکتا ہے۔
شبہ : ظرف کے مقدم ہونے کے علاوہ عامل اور معمول کے درمیان مبتداء ثانی یعنی بعضھم لبعض کا فصل بھی ہے۔
دفع : مبتداء کا فصل بھی عمل سے مانع نہیں ہے۔
تفسیر و تشریح
شان نزول : وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلاً اِذَا قَوْمُکَ مِنْہُ یَصِدُّوْنَ ان آیات کے شان نزول میں مفسرین نے تین روایتیں بیان فرمائی ہیں، ایک یہ کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ قریش کے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا یا معشر قریشٍ لا خیْرَ فی اَحدٍ یُعْبَدْ مِن دون اللہ اللہ یعنی اے قریش کے لوگو ! اللہ کے سوا جس کی عبادت کی جاتی ہے اس میں کوئی خیر نہیں، اس پر مشرکین نے کہا نصاریٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی عبادت کرتے ہیں، لیکن آپ خود تسلیم کرتے ہیں کہ وہ خدا کے نیک بندے اور نبی تھے، ان کے اس اعتراض کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (قرطبی)
دوسری روایت : دوسری روایت یہ ہے کہ جب قرآن کریم کی آیت اِنّکم وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِن دُوْن اللہِ حصبُ جھنَّمَ بلاشبہ اے مشرکو ! تم اور جن کی تم بندگی کرتے ہو وہ جہنم کا ایندھن بنیں گے، نازل ہوئی، تو اس پر عبد اللہ بن زِبَعْریٰ نے جو اس وقت کافر تھے، بعد میں ایمان لائے، یہ کہا کہ اس آیت کا تو میرے پاس بہترین جواب ہے، اور وہ یہ کہ نصاریٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی عبادت کرتے ہیں اور یہود عزیر (علیہ السلام) کی، کیا یہ دونوں بھی جہنم کا ایندھن بنیں گے، یہ بات سن کر قریش کے مشرکین بہت خوش ہوئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے ایک تو یہ آیت نازل فرمائی اِنّ الذین سبقت لھم منّا الحسنیٰ اولئکَ عنھا مبعدون اور دوسری سورة زخرف کی مذکورہ آیت۔ (ابن کثیر)
تیسری روایت : یہ کہ ایک مرتبہ مشرکین مکہ نے یہ بےہودہ خیال ظاہر کیا کہ محمد ﷺ خدائی کا دعویٰ کرنا چاہتے ہیں، ان کی مرضی یہ ہے کہ جس طرح نصاریٰ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی اور یہود حضرت عزیر (علیہ السلام) کی بندگی کرتے ہیں ہم بھی ان کی بندگی کریں، اس پر مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی، درحقیقت تینوں روایتوں میں کوئی تضاد نہیں، کفار نے تینوں ہی باتیں کہی ہوں گی، جن کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ایسی جامع آیت نازل فرمادی جس سے ان کے تینوں اعتراضوں کا جواب ہوگیا۔
غرضیکہ شرک کی مذمت اور جھوٹے معبودوں کی تردید و بےوقعتی کی وضاحت کے لئے جب مشرکین مکہ سے کہا جاتا کہ تمہارے ساتھ تمہارے معبود بھی جہنم میں جائیں گے تو اس سے مراد پتھر کی وہ مورتیاں ہوتی ہیں جن کی وہ عبادت کرتے تھے، نہ کہ وہ نیک لوگ جو کہ اپنی زندگیوں میں لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے رہے، مگر ان کی وفات کے بعد ان کے معتقدین نے انہیں بھی معبود سمجھنا شروع کردیا، ان کی بابت تو قرآن کریم ہی نے واضح کردیا کہ یہ جہنم سے دور رہیں گے، اِنَّ الذین سَبَقَتْ لھُم مِنّا الحُسنیٰ اولئکَ عَنْھَا مُبْعَدُوْنَ (الانبیاء) کیونکہ اس میں ان کا اپنا کوئی قصور نہیں تھا، اسی لئے قرآن نے ان کے لئے جو لفظ استعمال کیا ہے وہ لفظ ما ہے، جو غیر عاقل کے لئے استعمال ہوتا ہے اِنّکم وما تعبُدُونَ مِن دون اللہ حصب جھنمَ (الانبیاء) اس سے انبیاء (علیہم السلام) اور وہ صالحین نکل گئے جن کو لوگوں نے اپنے طور پر معبود بنائے رکھا ہوگا، یعنی یہ تو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی شکل بنائی ہوئی مورتیوں کو بھی دیگر مورتیوں کے ساتھ جہنم میں ڈال دے، لیکن یہ شخصیات تو بہرحال جہنم سے دور ہی رہیں گی، لیکن مشرکین نبی کریم ﷺ کی زبان مبارک سے حضرت مسیح (علیہ السلام) کا ذکر خیر سن کر یہ کٹ حجتی اور مجادلہ کرتے کہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) قابل مدح ہیں، حالانکہ عیسائیوں نے انہیں معبود بنایا ہوا ہے، تو پھر ہمارے معبود کیوں قابل مذمت ہیں، کیا وہ بھی قابل مدح نہیں، یا اگر ہمارے معبود جہنم میں جائیں گے تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عزیر (علیہ السلام) بھی پھر جہنم میں جائیں گے، یہ سن کر مشرکین مکہ کا خوشی کے مارے چلانا اور شور مچانا محض جدل اور کٹ حجتی تھا، جس کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ جھگڑنے والا جانتا ہے، کہ اس کے کوئی دلیل نہیں ہے محض اپنی بات کی پچ میں بحث و تکرار کرتا ہے۔
وجَعلْنٰہُ مَثَلاً لِبنی اسرائیل ایک تو اس اعتبار سے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر باپ کے پیدا فرمایا، دوسرے خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ایسے معجزے دئیے گئے کہ جن کے اعتبار سے وہ نبی اسرائیل کے لئے نشان قدرت تھے مثلاً احیاء موتیٰ ، اندھوں کو بینا کرنا، کوڑھیوں اور مریضوں کو تندرست کرنا وغیرہ۔
وَلَو نَشآء لَجَعلْنَا مِنْکُمْ مَلٰئِکۃ ً فی الْاَرضِ یَخلفونَ یہ نصاریٰ کے اس مغالطہ کا جواب ہے جس کی بناء پر انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو معبود قرار دیا تھا، انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بغیر باپ کے پیدا ہونے سے ان کی خدائی پر استدلال کیا تھا، باری تعالیٰ ان کی تردید میں فرماتے ہیں کہ یہ تو محض ہماری قدرت کا ایک مظاہرہ تھا، جس کی اب تک کوئی نظیر نہیں، اور وہ یہ کہ انسانوں سے فرشتے پیدا کردیں اور زمین پر تمہاری جگہ فرشتوں کو آباد کردیں، جو تمہاری ہی طرح ایک دوسرے کی جانشینی کریں، مطلب یہ کہ فرشتوں کا آسمان پر رہنا ایسا شرف نہیں ہے کہ ان کی عبادت کی جائے، یہ تو ہماری مشیت ہے کہ فرشتوں کو آسمانوں پر اور انسانوں کو زمین پر آباد کیا، ہم چاہیں تو فرشتوں کو زمین پر بھی آباد کرسکتے ہیں، لہٰذا مسیح (علیہ السلام) کا بغیر باپ کے پیدا ہونا، علامت معبودیت نہیں، بلکہ قیامت کے علم و علامت میں سے ہے لہٰذا تم وقوع قیامت میں تردد نہ کرو اور میری بات مانو۔
لیکن اکثر مفسرین نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا دوبارہ آسمان سے نازل ہونا قیامت کی علامت ہے، چناچہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا آخری زمانہ میں آسمان سے نزول فرمانا اور دجال کو قتل کرنا احادیث متواترہ سے ثابت ہے۔
فاختلف الاحزاب من بینھم (الآیۃ) یہاں احزاب سے مراد یہودونصاریٰ ہیں، یہودیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تنقیص کی اور انہیں نعوذ باللہ ولد الزنا قرار دیا، جبکہ عیسائیوں نے غلو سے کام لے کر انہیں معبود بنا لیا، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ احزاب سے عیسائیوں کے فرقے مراد ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں آپس میں شدید اختلاف رکھتے ہیں، کوئی فرقہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو “ ابن اللہ ” اور بعض “ اللہ ”، اور بعض “ ثالث ثلاثۃ ” کہتا ہے اور ایک فرقہ مسلمانوں کی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول تسلیم کرتا ہے۔
اَلاخِلاَّءُ یومَئِذٍ بعضھم لبعضٍ عدوٌّ کیونکہ کافروں کی دوستی کفروفسق کی بنیاد پر ہوتی ہے اور یہی کفر و فسق ان کے عذاب کا باعث ہوگا اور ایک دوسری کو قیامت کے دن مورد الزام ٹھہرائیں گے، اور ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے اس کے برعکس، اہل ایمان وتقویٰ کی باہمی محبت چونکہ دین اور رضائے الٰہی کی بنیاد پر ہوتی ہے، اور دین خیر وثواب کا باعث ہے اس سے ان کی دوستی میں کوئی خلل و انقطاع نہیں ہوگا، بلکہ آپس میں ایک دوسرے کے شفیع اور معین ہوں گے۔