Ayahs 43:1–7آیت 1
یہ قرآن عظیم کی قرآن عظیم پر قسم ہے، اللہ تعالیٰ نے کتاب مبین کی علی الاطلاق قسم کھائی اور متعلق کو ذکر نہیں فرمایا تاکہ یہ اس حقیت پر دلالت کرے کہ یہ دین، دنیا اور آخرت کی ہر اس چیز کو بیان کر کے واضح کرتی ہے جس کی بندوں کو حاجت ہے۔ (انا جعلنہ قرء ناً عریباً ) ” بیشک ہم نے اس کو قرآن عربی بنایا ہے۔ “ یہ وہ چیز ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے سب سے فصیح، سب سے واضح اور سب سے زیادہ زور بیان والی زبان میں نازل فرمایا اور یہ اس کا بیان ہے اور اس میں پنہاں حکمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (لعلمکم تعقلون) ” شاید کہ تم اس کے الفاظ و معانی کو انکے آسان اور اذہان کے قریب ہونے کی بنا پر سمجھ سکو۔
(وانہ) یعنی یہ کتاب (لدینا) ”(لوح محفوظ میں) ہمارے پاس ہے۔ “ یعنی ملا اعلیٰ میں بلند ترین اور افضل ترین مرتبے میں ہے (لعلی حکیم) یعنی وہ بہت زیادہ قدر و شرف اور بلند مقام کی حامل ہے۔ یہ کتاب جن اوامرونواہی اور اخبار پر مشتمل ہے، ان میں حکمت رکھی گئی ہے۔ اس میں کوئی حکم ایسا نہیں جو حکمت، عدل اور میزان کے خلاف ہو۔
پھر اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس کی حکمت اور اس کا فضل تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اپنے بندوں کو مہمل اور آزادانہ چھوڑے، ان کی طرف رسول بھیجے اور ان پر کتاب نازل کرے، خواہ وہ حد سے گزرنے والے ظالم ہی کیوں نہ ہوں، اس لئے فرمایا : (افنضرب عنکم الذکر صفحاً ) یعنی کیا ہم تم لوگوں سے تمہارے اعراض اور عدم اطاعت کی بنا پر منہ موڑ کر تمہاری طرف نصیحت نازل کرنا چھوڑ دیں ؟ نہیں بلکہ ہم تم پر کتاب نازل کریں گے جس میں تمہارے لئے ہر چیز واضح کریں گے۔ اگر تم ایمان لائے اور راہ راست پر چلے تو یہ تمہیں عطا کی گئی توفیق ہے ورنہ تم پر حجت قائم ہوجائے گی اور تمہارا معاملہ تمہارے سامنے واضح ہوجائے گا۔
Ayah 43:8آیت 8
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ مخلوق میں ہماری سنت یہ ہے کہ ہم انہیں مہمل اور بیکار نہیں چھوڑتے، پس کتنے ہی (ارسلنا من نبی فی الاولین) ” نبی ہم نے پہلے لوگوں میں بھیجے۔ “ جو انہیں اللہ واحد کی عبادت کا حکم دیتے تھے جس کا کوئی شریک نہیں۔ تمام قوموں میں تکذیب ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔ (وما یاتیھم من نبی الا کانوا بہ یستھزء ون) ان کے پاس جو بھی نبی آیا وہ اس کی دعوت کا انکار اور حق کے مقابلے میں تکبر کا اظہار کرتے ہوئے اس کا تمسخر اڑاتے تھے۔ (فاھلکنا اشد) ” پس ہم نے انہیں ہلاک کیا جو سخت تھے۔ “ ان لوگوں سے (بطشا) ” قوت میں۔ “ یعنی زمین کے اندر قوت، افعال اور آثار کے لحاظ سے (ومصی مثل الاولین) یعنی ان لوگوں کی امثال وخبار گزر چکی ہیں اور ان میں سے بہت سی مثالیں ہم تمہارے سامنے بیان کرچکے ہیں جن میں سامان عبرت اور تکذیب پر زجر و توبیخ ہے۔
Ayahs 43:9–14آیت 9
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے بارے میں فرماتا ہے : (ولئن سالتھم من خلق المسوت والارض لیقولن) ”(اگر) آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ تو یقیناً وہ کہیں گے۔ “ ان کو اللہ وحدہ لاشریک نے پیدا کیا جو غلاب ہے جس کے غلبہ کے سامنے اولین و آخرین تمام مخلوقات اپنے ظاہر و باطن کے ساتھ سرنگوں ہے۔ جب وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں تو وہ اللہ کا بیٹا، اس کی بیوی اور اس کے شریک کیسے ٹھہراتے ہیں ؟ اور ان ہستیوں کو اس کا شریک کیوں کر قرار دیتے ہیں جو پیدا کرسکتی ہیں نہ رزق عطا کرسکتی ہیں اور نہ زندگی اور موت ان کے اختیار میں ہے ؟
پھر اللہ تعالیٰ نے ان دلائل کا بھی ذکر کیا جو اس کی کامل نعمت و اقتدار پر دلالت کرتے ہیں، زمین کی اشیاء کو دلیل بنایا جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کیں، اس زمین کو بندوں کے لئے ٹھکانا بنایا جہاں وہ ہر اس چیز پر متمکن ہیں جو وہ چاہتے ہیں۔ (وجعل لکم فیھا سبلاً ) ” اور اس میں تمہارے لئے راستے بنا دیے۔ “ یعنی ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے پہاڑی سلسلوں کے درمیان گزر گاہیں بنئایں جہاں سے گزر کر تم ان پہاڑوں کے پاس واقع ممالک کو جاتے ہو (لعلکم تھتدون) تاکہ تم ان راستوں پر سفر کے دوران راؤ پاؤ اور گم نہ ہوجاؤ اور تاکہ تم اس سے عبرت اور نصیحت حاصل کرو۔
(والذین نزل من السمآء مآء بقدر ) ” اور وہ ذات جس نے آسمان سے پانی اتارا اندازے کے ساتھ۔ “ وہ اس پانی میں کمی بیشی نہیں کرتا، نیز پانی ضرورت کے مطابق ہوتا ہے، یہ پانی کمی نہیں ہوتا کہ فائدہ مفقود ہوجائے اور نہ اتنا زیادہ ہوتا ہے جس سے انسانوں اور زمین کو نقصان پہنچے بلکہ اللہ تعالیٰ اس پانی کے ذریعے سے اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے اور اس کے ذریعے سے زمین کو سختی سے بچاتا ہے، اس لئے فرمایا : (فانشرنا بہ بلدۃ فیتاً ) یعنی ہم نے زمین کو اس کے بنجر ہوجانے کے بعد زندہ کیا۔ (کذلک تخرجون) یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے پانی کے ذریعے سے بنجر اور مردہ زمین کو زندہ کیا اسی طرح جب تم اپنے برزخ کے مرحلے کو پورا کرلو گے، تو وہ تمہیں زندہ کرے گا اور تمہارے اعمال کی جزا دے گا۔
والذی خلق الازواج کلھا) ” اور وہ ذات جس نے تمام چیزوں کے جوڑے پیدا کئے۔ “ یعنی وہ تمام اصناف جو زمین سے اگتی ہیں، خود ان کی ذات میں سے اور ان تمام اشیاء میں سے جن کا انہیں علم نہیں، مثلاً : رات دن، گرمی سردی اور مذکر مؤنث وغیرہ میں سے۔ (وجعل لکم من الفلک) ” اور تمہارے لئے کشتیاں بنائیں۔ “ یعنی تمام بادبانی اور دخانی کشتیاں جن پر تم سوار ہوتے ہو (والانعام ماترکبون، لتستوا علی ظھورہ) ” اور چوپائے بھی جن پر تم سوار ہوتے ہوتا کہ تم ان کی پیٹھ پر چڑھ بیٹھو۔ “ اور یہ آیت کشتیوں کی پشت اور مویشیوں کیپیٹھ کو شالم ہے، یعنی ات کہ تم ان سواریوں کی پیٹھ پر استقرار پکڑو۔ (ثم تذکروا نعمۃ ربکم اذا استویتم علیہ) پھر جب تم ان پر ٹھیک طرح سے بیٹھ جاؤ اس نعمت کا اعتراف کرتے ہوئے اس ہستی کا ذکر کرو جس نے ان کو تمہارے لئے مسخر کیا ہے۔ بنا بریں فرمایا : (آیت) ” وتقولوا سبحن الذین سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین) اور کہو، اگر اللہ تعالیٰ نے ان کشتیوں اور مویشیوں کو ہمارے لئے مسخر نہ کیا ہوتا تو ہم ان کو مسخر کرنے کی طاقت اور قدرت نہیں رکھتے تھے یہ محض اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے ان سواریوں کو ہمارے لئے مسخر کیا اور ان کے اسباب مہیا کئے۔ اس سے یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ وہ رب جو مذکورہ اوصاف سے متصف ہے جس نے بندوں پر ان نعمتوں کا فیضان کیا ہے وہی اس چیز کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے، اس کی نماز پڑھی جائے اور اس کے حضور سجدہ ریز ہوا جائے۔
Ayahs 43:15–25آیت 15
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے قول کی قباحت بیان کرتا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دے رکھا ہے، حالانکہ وہ اکیلا اور بےنیاز ہے جس کی کوئی بیوی ہے نہ بیٹا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے اور یہ متعدد وجوہ سے باطل ہے۔
(1) اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق اس کے بندے ہیں اور بندگی اولاد ہونے کے منافی ہے۔
(2) بیٹا اپنے والد کا جز ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات سے علیحدہ ہے وہ اپنی صفات کمال اور لعوت جلال میں تمام مخلوق سے الگ ہے جبکہ بیٹا والد کا جز ہوتا ہے، سا لئے اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہونا محال ہے۔
(3) کفار سمجھتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، حالانکہ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ بیٹیاں کمزور ترین صنف ہے اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تو بیٹیاں ہوں اور ان کو وہ بیٹے عطا کرے اور ان کے ذریعے سے ان کو فضیلت عطا کرے۔ اس صورت میں تو مخلوق کا اللہ تعالیٰ سے افضل ہونا لازم آتا ہے اور اللہ اس سے بالا و بلند تر ہے۔
(4) وہ صنف جس کو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا ہے، یعنی بیٹیاں تو یہ کمزور ترین اور خود ان کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ صنف ہے حتی کہ ان کی کراہت کا یہ حال ہے۔ (اذا بشر احدھم بما ضرب للرحمٰن مثلاً ظل وجھہ مسوداً ) ” ان میں سے جب کسی کو بیٹی کی دلادت کی، جسے وہ رحمان کی طرف منسوب کرتا ہے، خوشخبری سنائی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑج اتا ہے۔ “ یعنی سخت ناپسندیدگی اور ناراضی کے باعث اس کے چہرے پر سیاہی چھا جاتی ہے۔ ایسی چیز کو اللہ تعالیٰ کے لئے کیوں کر مقرر کرتے ہیں جسے وہ خود ناپسند کرتے ہیں ؟
(5) عورت اپنے وصف، اپنی منطق اور اپنے بیان کے اعتبار سے ناقص ہے بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (او من ینشواء فی الحلیۃ) ” کیا وہ جو زیور میں پرورش پائے۔ “ یعنی اپنے حسن و جمال میں کمی کی وجہ سے آرائش کرتی ہے اور ایک امر خارج سے خوبصورتی پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے (وھو فی الخصام) اور بحث اور جھگڑے کے وقت جو اس چیز کا موجب ہوتا ہے کہ وہ اپنی بات کو واضح کرسکے۔ (غیر مبین) تو وہ اپنی بات کو واضح اور اپنے مافی الضمیر کو کھول کر بیان نہیں کرسکتی تو یہ مشرکین اسے اللہ تعالیٰ کی طرف کیونکر منسوب کرتے ہیں ؟
(6) انہوں نے فرشتوں کو جو رحمٰن کے بندے ہیں، عورتیں قرار دے دیا۔ پس اس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کے بارے میں جسارت کی، انہوں نے ان کو بندگی اور اطاعت کے متر بے سے اٹھا کر اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی بعض صفات میں مشارکت کے متر بےپر فائز کردیا۔ پھر ان کو مذکر کے مرتبے سے نیچے مؤنث کے مرتبے پر لے آئے، پس پاک ہے وہ ذات ہے جس نے ان لوگوں کے تناقض کو ظاہر کردیا جنہوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا اور اس کے رسولوں کے ساتھ عناد رکھا۔
(7) اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کے ذریعے سے ان کے دعوے کا رد کیا کہ وہ اس وقت موجود نہیں تھے جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو تخلیق فرمایا، پس وہ کسی ایسے معاملے میں کیسے بات کرتے ہیں جس کے بارے میں سب کو معلوم ہے کہ اس ضمن میں ان کے پاس کوئی علم نہیں۔ ان سے اس شہادت کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا، اس شہادت کو ان پر لازم کردیا جائے گا اور اس پر ان کو سزا دی جائے گی۔
(وقالوا لوشآء الرحمٰن ماعبدنھم) ” اور کہتے ہیں اگر رحمان چاہتا تو ہم ان کی عبادت نہ کرتے۔ “ فرشتوں کی عبادت کرنے کے لئے انہوں نے اللہ تعالیٰ کی مشیت کو دلیل بنایا۔ مشرکین ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ کی مشیت کو دلیل بناتے چلے آئے ہیں۔ یہ عقلی اور شرعی طور پر فی نفسہ باطل دلیل ہے۔ کوئی عقلمند شخص تقدیر کی دلیل کو قبول نہیں کرسکتا۔ اگر وہ کسی حالت میں اس راہ پر گامزن ہوتا ہے تو اس پر ثابت قدم نہیں رہ سکتا۔ رہا شرعی طور پر مشیت الٰہی کو دلیل بنانا تو اللہ تعالیٰ نے مشیت کی دلیل کو باطل ٹھہرا دیا ہے۔ مشرکین اور رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے سوا کسی نے مشیت الٰہی کو دلیل نہیں بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر حجت قائم کردی ہے۔ اب بندوں کے لئے کوئی حجت باقی نہیں رہی۔
بنا بریں فرمایا : (مالھم بذلک من علم ان ھم الایخرصون) ” ان کو اس کا کچھ علم نہیں وہ محض انکل پچو سے کام لیتے ہیں۔ “ جس کی کوئی دلیل نہیں ہے اور وہ شب کو اونٹنی کی مانند ٹیڑھی چال چلتے ہیں۔ (ام اتیتنھم کتباً من قبلہ فھم بہ مستمسکون) ” کیا ہم نے ان کو اس سے پہلے کوئی کتاب دی ہے کہ یہ اس سے سند پکڑتے ہیں ؟ “ یعنی جو ان کے افعال کی صحت اور اقوال کی صداقت کے بارے میں خبر دیتی ہو مگر معاملہ ایسا نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور آپ کے سوا اور کوئی ڈرانے والا ان کے پاس نہیں آیا۔ جب عقل و نقل سے دونوں امور کی نفی ثابت ہوگئی، تب وہاں باطل کے سوا کچھ باقی نہیں رہا۔
ہاں، ایک شبہ بای ہے جو کمزور ترین شبہ ہے اور وہ ہے اپنے گھراہ آباء و اجداد کی تقلید جس کی وجہ سے یہ کافر اللہ کے رسولوں کی دعوت ٹھکراتے رہے ہیں۔ اس لئے فرمایا : (بل قالوآ انا وجدنا ابآء نا علی امۃ) ” بلکہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راستے پر پایا ہے۔ “ یعنی ایک دین اور ملت پر (وانا علی اثرھم مھتدون) ” اور ہم انہی کے قدم بقدم چل رہے ہیں۔ “ اس لیے ہم اس چیز کی پیروی نہیں کریں گے جو محمد ﷺ لے کر آئے ہیں۔ (آیت) ” اور اسی طرح ہم نے تم سے پہلے کسی بستی میں کوئی ہدایت دینے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے کہا۔ “ یعنی بستی کے وہ لوگ جو نعمتوں سے نوازے گئے تھے اور وہ اشراف جن کو دنیا نے سرکش اور مال و دولت نے مغرور بنادیا تھا اور وہ حق کے مقابلے میں تکبر کا رویہ رکھے ہوئے تھے : (انا وجدنا آبآء نا علی امۃ وانا علی اثرھم مقتدون) ” ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم کی اقتدار کر رہے ہیں۔ “ پس ان لوگوں کا یہ رویہ کوئی نئی چیز ہے نہ یہ پہلے لوگ ہی ہیں جنہوں نے یہ بات کہی ہو۔ ان گمراہ مشرکین کا اپنے آباء و اجداد کی تقلید کو دلیل بنانے کا مقصد حق اور ہدیات کی اتباع نہیں بلکہ یہ تو محض تعصب ہے جس کا مقصد اپنے باطل موقف کی تائید نصرت ہے۔ بنا بریں ہر رسول نے، ایسے لوگوں سے جنہوں نے اس باطل شبہ کی بنا پر اس کی مخالفت کی، کہا ہے : (آیت) ” اگرچہ میں تمہارے پاس ایسا دین لاؤں کہ جس راستے پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے وہ اس سے کہیں سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔ “ یعنی کیا تم ہدایت کی خاطر میری پیروی کرو گے ؟ (قالوآ انا بما ارسلتم بہ کفرون) ” انہوں نے کہا : جو (دین) تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم تو اس کا انکار کرتے ہیں۔ “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا ارادہ حق اور ہدایت کی اتباع نہ تھا۔ ان کا مقصد تو صرف باطل اور خواہشات نفس کی پیروی تھا۔ (فانتقمنا منھم) پس اس باطل شبے کی بنیاد پر ان کے حق کی تکذیب کرنے اور اس کو ٹھکرانے کا ہم نے ان سے انتقام لیا۔ (فانظر کیف کان عاقبۃ المکذبین) ” تو دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا ؟ “ پس ان لوگوں کو اپنی تکذیب پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہوجائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
Ayahs 43:26–32آیت 26
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے خلیل حضرت ابراہیم کی ملت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جن سے یہ مشرکین اور اہل کتاب اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں، ان میں سے ہر ایک اس زعمز باطل میں مبتلا ہے کہ وہ حضرت ابراہیم کے طریقے پر چل رہا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے دین کے بارے میں جو ان کی ذریت کو وراثت میں ملا ہے خبر دی ہے، لہٰذا فرمایا : (وا قال ابراہیم لابیہ وقومہ) ” اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا۔ “ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کچھ دوسرے معبود بنا لئے تھے، وہ ان کی عبادت کرتے تھے اور ان کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ (اننی برآء مما تعبدون) ” جن چیزوں کی تم عبادت کرتے ہو، بلاشبہ میں ان سے بیزار ہوں۔ “ یعنی میں اس خود ساختہ معبود سے جس کی تم عبادت کرتے ہو، سخت نفرت کرتا ہوں اور اس کی عبادت کرنے والوں سے عداوت رکھتا ہوں اور ان سے دور رہتا ہوں۔
(الا الذی فطرنی) ” ہاں جس نے مجھے پیدا کیا “ پس میں اسی کو اپنا سرپرست بناتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ حق کے علم و عمل کے راستے میں میری راہنمائی فرمائے گا اور جس طرح اس نے مجھے پیدا کیا اور ان امور کے ذریعے سے میری تدبیر کی جو میری بدن اور میری دنیا کے لئے درست ہیں اسی طرح (سیھدین) وہ ان امور میں بھی میری راہنمائی فرمائے گا جو میرے دین اور میری آخرت کے لئے درست ہیں۔ (وجعلھا) ” اور اس کو کیا۔ “ یعنی اس خصلت حمیدہ کو جو تمام خصائل کی اساس ہے اور وہ ہے، صرف اللہ تعالیٰ کے لئے اپنی عبادت کو خلاص کرنا اور غیر اللہ کی عبادت سے برأت اور بیزاری کا اظہار کرنا (کلمۃ باقیۃ فی عقبہ) ” بای رہنے والی بات اس کے پیچھے آنے والوں میں۔ “ یعنی آپ کی ذریت میں (لعلھم) تاکہ وہ اس کی طرف (یرجعون) ” رجوع کریں۔ “ کیونکہ اس کلمے کا آپ کی طرف منسوب ہونا شہرت رکھتا ہے، نیز سا بنا پر کہ آپ نے اپنی اولاد کو اس کلمہ اخلاص کی وصیت کی اور آپ کی اولاد میں سے بعض جیسے اسحاق اور یعقوب نے بعض دوسرے نسبی بیٹوں کو اسی کلمہ اخلاص کی وصیت کی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ”(البقرۃ :133-130/2) اور ملت ابراہیم سے کون روگردانی کرسکتا ہے۔ سوائے اس کے جس نے اپنے آپ کو بےوقوفی میں مبتلا کر رکھا ہو۔ بیشک ہم نے ابراہیم کو دنیا میں چن لیا اور آخرت میں بھی وہ صالح لوگوں سے ہوں گے۔ جب اس کے رب نے اس سے فرمایا : فرمانبردار بن جاؤ تو اس نے (فوراً ) کہا میں جہانوں کے رب کا فرمانبردار ہوں۔ ابراہیم اور یعقوب نے اپنے بیٹوں کو اسی کی وصیت کی کہ اے میرے بیٹو ! اللہ نے تمہارے لئے یہی دین پسند کیا ہے، لہٰذا تم مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔ کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوب پر موت کا وقت آیا ؟ تو (اس وقت) انہوں نے اپنے بیٹوں سے پوچھا : میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے ؟ انہوں نے جواب دیا، ہم اس ایک الہ کی بندگی کریں گے جو آپ کا اور آپ کے آباؤ اجداد ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق کا الہ ہے اور ہم اسی کی فرمانبردا رہیں گے۔ “ یہ کلمہ اخلاص حضرت ابراہیم کی اولاد میں ہمیشہ موجود رہا ہے، یہاں تک کہ خوشحالی اور سرکشی ان پر غالب آگئی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (بل متعث ھولآء وابآء ھم) میں نے ان کو اور انکے آباؤ و اجداد کو مختلف انواع کی شہوات سے متمتع ہونے دیا یہاں تک کہ یہی شہوات ان کا مطمح نظر اور انکا مقصد بن گئیں، ان کے دلوں میں ان شہوات کی محبت پھلتی پھولتی رہی حتی کہ ان کی صفات اور بنیادی عقائد بن گئیں۔ (حتی جآء ھم الحق) ” حتی کہ ان کے پاس حق پہنچ گیا۔ “ جس میں کوئی شک ہے نہ شبہ (و رسول مبین) اور صاف صاف سنانے والا رسول۔ “ یعنی آپ کی رسالت واضح تھی آپ کے اخلاق و معجزات سے آپ کی رسالت پر واضح اور نمایاں دلائل قائم ہوئے جو آپ لے کر مبعوث ہوئے اور انبیاء ومرسلین نے آپ کی تصدیق کی اور خود آپ کی دعوت سے بھی آپ کی رسالت پر دلائل قائم ہوتے ہیں۔
(ولما جآء ھم الحق) ” اور جب انکے پاس حق پہنچ گیا۔ “ جو اس شخص پر جس میں ادنیٰ سادین اور عقل ہے واجب ٹھہراتا ہے کہ وہ اس کو قبول کرے اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کرے۔ (قالوا ھذا سحر وانا بہ کفرون) ” انہوں نے کہ کا یہ جادو ہے اور ہم اس کو نہیں مانتے۔ “ اور یہ سب سے بڑا عناد اور سب سے بڑی مخالفت ہے۔ پھر انہوں نے مجرد افکار اور روگردانی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے حق کو جھٹلایا۔ پس وہ اس وقت تک راضی نہ ہوئے جب تک کہ انہوں نے اس میں جرح و قدح نہ کی اور اسے جادو قرار نہ دے دیا جس یبدترین لوگ اور سب سے بڑے افترا پرداز ہی پیش کرتے ہیں اور جس چیز نے ان کو اس رویے پر ابھارا وہ ہے ان کی سرکشی اور اللہ تعالیٰ کا ان کو اور ان کے آباؤ کو سامان زیسنت سے نوازتا ہے۔
(وقالوا) یعنی انہوں نے اپنی عقل فاسد کے مطابق اللہ تعالیٰ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا : (لولا نزل ھذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم) ” یہ قرآن ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر نازل کیوں نہ کیا گیا ؟ “ جو مکہ اور طائف کے لوگوں کے ہاں معظم اور معزز ہوتا اور وہ شخص ہوتا جو ان کے ہاں سردار شمار ہوتا ہے، مثلاً : ولید بن مغیرہ وغیرہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا : (اھم یقسمون رحمت ربک) یعنی کیا وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانچی ہیں اور انکے ہاتھ میں اس کی رحمت کی تدبیر ہے کہ جس کو چاہیں نبوت اور رسالت عطا کردیں اور جس کو چاہیں اس سے محروم کردیں ؟ (نحن فسمنا بینھم معیشتھم فی الحیوۃ الدنیا ورفعنا بعضھم فوق بعض درجت) ” ہم نے ان میں سے ان کی معیشت کو دنیا کی زندگی میں تقسیم کیا اور ایک کے دوسرے پر درجے بلند کئے “ یعنی اس دنیاوی زندگی میں (و) ” اور “ حال یہ ہے کہ (رحمت ربک خیر مما یجمعون) ” آپ کے رب کی رحمت اس (دنیا) سے بہتر ہے جو یہ اکٹھی کر رہے ہیں۔ “
جب بندوں کی معیشت اور ان ان کا دنیاوی رزق اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، وہی اسے اپنے بندوں کے درمیان تقسیم کرتا ہے، اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق جس کو چاہتا ہے اس کے رزق کو کشادہ کردیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اس کے رزق کو تنگ کردیتا ہے تو اس کی رحمت دینی جس میں سب سے اعلیٰ و فضل چیز نبوت اور رسالت ہے، اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہو۔ پس اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت سے کسے سرفراز فرمائے۔
پس معلوم ہوا کہ کفار کا اعتراض لغو اور ساقط ہے۔ تمام دینی اور دنیاوی معاملات کی تدبیر اکیلے اللہ تعالیٰ ہی کے سدت قدرت میں ہے۔ یہ ان کے اعتراض کی غلطی پر توجہ دلانا ہے جو ان کے اختیار میں نہیں، یہ تو محض ان کا ظلم اور حق کو ٹھکرانا ہے۔ رہا ان کا یہ کہنا (آیت) ” اگر وہ لوگوں کے حقائق اور انساین صفات کی معرفت رکھتے جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے ہاں انسان کی بلند قدر و منزلت اور عظمت کا انداز ہی کا جاتا ہے تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ حضرت محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ﷺ لوگوں میں عظیم ترین قدر و منزلت کے حامل، فخر میں سب سے اعلیٰ ، عقل میں سب سے کامل، علم میں سب سے بڑھ کر، رائے اور عزم و حزم میں جلیل ترین، اخلاق میں بہترین، آپ کی رحمت کا دامن وسیع ترین، سب سے زیادہ شفقت رکھنے والے، سب سے زیادہ ہدایت یافتہ اور سب سے زیادہ متقی ہیں۔ آپ دائرہ کمال کے مرکز اور انسانی اوصاف کی انتہائی بلندیوں پر فائز ہیں، آگاہ رہو ! کہ علی الاطلاق آپ ہی مرد کائنات ہیں۔
اس بات کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں، پس یہ مشرکین آپ پر کسی شخص کو کیوں کر فضیلت دے رہے ہیں جس میں ذرہ بھر یہ کمالات نہیں ؟ اور اس کے جرم و حمقات کی انتہا یہ ہے کہ اس نے صنم، پتھر اور درخت کو اپنا معبود بنا لیا ہے، سا کی عبادت کرتا ہے، مصائب و حاجات میں اس کو پکارتا اور اس کا قرب حاصل کرتا ہے جو اس کو کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے نہ نفع، وہ کچھ عطا کرسکتا ہے نہ کسی چیز سے محروم کرسکتا ہے وہ سرا سر اپنے مالک (عابد) پر بوجھ ہے اور کسی ایسے شخص کا محتاج ہے جو اس کے مصالح کی دیکھ بھال کرے۔ کیا یہ بیوقوفوں اور پاگلوں کا فعل نہیں ؟ ایسے شخص کو کیوں کر عظیم قرار دیا جاسکتا ہے ؟ یا خاتم المرسلین اور بنی آدم کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر کیوں کر فضیلت دی جاتی ہے ؟ لیکن وہ لوگ جنہوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ہوا ہے سمجھتے ہی نہیں۔
اس آیت کریمہ میں بندوں کی ایک دوسرے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ فضیلت میں پنہاں اس کی حکمت کی طرف اشارہ ہے (لیتخذبعضھم بعضا سخرباً ) ” تاکہ ایک دوسرے سے خدمت لے۔ “ یعنی تاکہ وہ کاموں اور صنعت و حرفت میں ایک دوسرے سے خدمت لیں، اگر مال کے لحاظ سے تمام لوگ برابر ہوتے تو وہ ایک دوسرے کے محتاج نہ رہتے اور اس طرح ان کے بہت سے مصالح اور منافع معطل ہو کر رہ جاتے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ دینی نعمت دنیاوی نعمت سے بہتر ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت میں فرمایا (آیت) ” کہہ دیجیے کہ یہ اللہ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہے، اسی پر ان کو خوش ہونا چاہیے یہ ان چیزوں سے بہتر ہے جن کو یہ جمع کرتے ہیں۔ “
Ayahs 43:33–35آیت 33
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس کے نزدیک دنیا کی کوئی حیثیت نہیں، اگر اپنے بندوں پر اس کا لطف و کرم اور اس کی رحمت نہ ہوتی جس کے سامنے ہر چیز ہیچ ہے تو ان لوگوں پر جنہوں نے کفر کیا، دنیا کو بہت زیادہ کشادہ کردیتا اور بنا دیتا (لبیوتھم سقفا من فضۃ ومعارج) ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی اور سیڑھیاں بھی چاندی کی (علیھا یظھرون) جس کے ذریعے سے وہ اپنی چھتوں پر چڑھتے ہیں۔ (ولبیوتھم ابواباً و سررا علیھا یتکؤن) اور ان کے گھروں کے دروازے اور تخت، جن پر وہ تکیہ لگا کر بیٹھتے ہیں، سب چاندی کے ہوتے اور اللہ تعالیٰ ان کے لئے بنا دیتا (زخرفاً ) سونا “ یعنی مختلف انواع کی خوبصورتی کے ذریعے سے ان کی دنیا کو آراستہ کردیتا اور انہیں وہ سب کچھ عطا کردیتا جو وہ چاہتے۔ مگر بندوں پر اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمت نے ایسا کرنے سے روک دیا کہ کہیں وہ دنیا کی محبت کے باعث کفر اور کثرت معاصی میں ایک دوسرے پر سبقت نہ کرنے لگیں۔
اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے مصالح کی خاطر، ان کو عام طور پر یا خاص طور پر بعض دنیاوی امور سے محروم رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا مچھر کے ایک پر کے برابر بھی وزن نہیں رکھتی۔ مذکورہ بالا تمام چیزیں دنیاوی زندگی کی متاع ہیں جو تکدر کی حامل اور فانی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک آخرت ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتنبا کے ذریعے سے تقویٰ اختیار کرتے ہیں کیونکہ آخرت کی نعمتیں ہر لحاظ سے کامل ہیں۔ جنت میں ہر وہ چیز مہیا ہوگی جسے نفس چاہتے ہیں، آنکھیں لذت حاصل کرتی ہیں اور وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ دونوں گھروں کے درمیان کتنا بڑا فرق ہے !
Ayahs 43:36–39آیت 36
جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روگردانی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے سخت سزا کی خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے : (ومن یعش) یعنی جو منہ موڑتا ہے (عن ذکر الرحمٰن) ” رحمان کے ذکر سے “ جو قرآن عظیم ہے جو سب سے بڑی رحمت ہے جس کے ذریعے سے اللہ رحمان نے اپنے بندوں پر رحم کیا ہے جو کوئی اس کو قبول کرے وہ بہترین عطیے کو قبول کرتا ہے اور وہ سب سے بڑے مطلوب و مقصود کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور جو کوئی اس رحمت سے روگردانی کرتے ہوئے اسے ٹھکرا دے، وہ، خائب و خاسر ہوتا ہے، اس کے بعد وہ ہمیشہ کعے لئے سعادت سے محورم ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ایک سرکش شیطان مسلط کردیتا ہے جو اس کے ساتھ رہتا ہے، وہ اس کے ساتھ جھوٹے وعدے کرتا ہے، اسے امیدیں دلاتا ہے اور اسے گناہوں پر ابھارتا ہے۔
(وانھم لیصدونھم عن السبیل) یعنی وہ انہیں صراط مستقیم اور دین قویم سے روکتے ہیں (و یحسبون انھم مھتدون) شیطان کے باطل کو مزین کرنے، اسے خوبصورت بنا کر پیش کرنے اور اپنے اعراض کے باعث وہ اپنے آپ کو ہدیات یافتہ سمجھتے ہیں۔ پس دونوں برائیاں اکٹھی ہوگئیں۔
اگر یہ کہا جائے کہ آی اس شخص کے لئے کوئی عذر ہے جو اپنے آپ کو ہدایت یافتہ سمجھتا ہے، حالانکہ وہ ہدایت یافتہ نہیں ہے ؟ تو اس کا جواب ہے کہ اس شخص اور اس قسم کے دیگر لوگوں کے لئے کوئی عذر نہیں جن کی جہالت کا مصدر اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روگردانی ہے، باوجودیکہ وہ ہدایت حاصل کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ انہوں نے قدرت رکھنے کے باوجود ہدایت سے منہ موڑا اور باطل کی طرف راغب ہوئے، اس لئے یہ گناہ ان کا گناہ اور یہ جرم ان کا جرم ہے۔
اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روگردانی کرنے والے کا، اپنے ساتھی کی معیت میں یہ حالتو دنیا کے اندر ہے اور وہ گمراہی، بدراہی اور حقائق کو بدلنے کا جرم ہے۔ رہا اس کا وہ حال جب وہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوگا تو وہ بدترین حال ہوگا، ندامت، حسرت اور حزن و غم کا حال ہوگا جو اس کی مصیبت کی تلافی کرسکے گا نہ اس کے ساتھی سے نجات دلا سکے گا، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” حتی کہ جب وہ ہمارے پاس آئے گا تو کہے گا : اے کاش ! مجھ میں اور تجھ میں مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا، پس تو برا ساتھی ہے۔ “ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” اور اس روز جب ظالم اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا اور حسرت سے کہے گا : کاش ! میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری ہلاکت ! کاش ! میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا، ذکر (یعنی قرآن) کے آجانے کے بعد، اس نے مجھے گمراہ کر ڈالا اور شیطان تو انسان کو چھوڑ کر الگ ہوجاتا ہے۔ “
(آیت) ” قیامت کے روز تمہارا اپنے ساتھیوں اور دوستوں کے ساتھ عذاب میں اشتراک تمہارے کسی کام نہ آئے گا، چونکہ تم ظلم میں ایک دوسرے کے ساتھی تھے اس لئے اس عذاب میں بھی ایک دوسرے کے ساتھی ہو۔ مصیبت میں تسلی بھی تمہارے کوئی کام نہ آئے گی۔ کیونکہ جب دنیا میں صمیبت واقع ہوتی ہے اور مصیبت زدگان اس میں مشترک ہوجاتے ہیں اور ساتھی بن جاتے ہیں تو ان کی مصیبت قدرے ہلکی ہوجاتی ہے اور وہ ایک دوسرے کو تسلی دیتے ہیں۔ آخرت کی مصیبت میں تو ہر قسم کی عقوبت جمع ہوگی، اس میں ادنیٰ سی راحت بھی نہ ہوگی۔ یہاں تک کہ یہ دنیاوی راحت بھی نہ ہوگی اے ہمارے رب ! ہم تجھ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں تو ہمیں اپنی رحمت سے راحت عطا کرنا۔