43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsسراج البیان

Ayah 43:1
Ayahs 43:2–4

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 43:2 in the Quran reader

واضح کتاب (ف 1) کی قسم

اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 43:3 in the Quran reader

ہم نے اسے عربی قرآن بنایا ۔ تاکہ تم (اہل عرب) سمجھو

وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌؕ Open ayah 43:4 in the Quran reader

اور بیشک وہ ہمارے پاس اصل کتاب میں بلند مرتبہ حکمت بھرا ہے

حل لغات :۔ ام الکلب ۔ لوح محفوظ مسرفین ۔ حد سے تجاوز کرجانیوالے ۔ آیت 2 ۔ 3 1: کتاب مبین کی قسم کھانا اور اس کے بعد یہ کہنا کہ ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا ہے ۔ اس کے معنے یہ ہیں ۔ کہ عربی زبان میں وضوح مطلب کی استعداد دنیا کی تمام زبانوں سے زیادہ ہے ۔ یعنی قرآن کو عربی زبان میں خدا نے نازل کرکے تمام دنیا پر احسان عظیم فرمایا ہے ۔ اس وقت بھی جتنی زبانیں موجود ہیں ۔ ان میں چند ہی زبانیں ایسی ہیں ۔ جو دینیات کے اظہار کے لئے بوقت کارگر ہوسکتی ہیں ۔ ان میں دو بنیادی نقص ہیں ۔ ایک تو یہ کہ وہ بوجہ قدامت کے زندہ نہیں ہیں ۔ اور ان کے اسالیب بیان کہنہ اور بوسیدہ ہونے کی وجہ سے ناقابل فہم ہوگئے ہیں ۔ وہ سر سے یہ کہ اسلام کو جس واضح اور سادہ انداز بیان کی ضرورت تھی ۔ جو توحید و رسالت ایسے مسائل کو پراثر طریق سے جامعیت کے ساتھ پیش کرسکے ۔ اس کا ان زبانوں میں ملنا محال ہے ۔ عبرانی اور کلدانی زبانیں بہت پرانی ہیں ۔ ان کا ادب غیر مکمل ہے ۔ سنسکرت میں زندگی نہیں ۔ ایک ایک لفظ کے کئی کئی معنے ہیں ۔ اور بالخصوص بیان توحید کے لئے ۔ تو قطعاً غیر کافی ہے ۔ سب سے بڑی دقت تو یہ ہے ۔ کہ اس زبان میں خدا کے متعلق زندہ اور مجرد تمثیل کو پیش کرنا بدرجہ غایت مشکل ہے ۔ حقیقت یہ ہے ۔ کہ عربوں میں اسلامی حقائق کی تخم ریزی کے لئے جس قدر عمدہ زمین مہیا تھی اس کا دوسری جگہ پانا قطعاً ممکن نہیں تھا ۔ اس لئے مصلحت الٰہی کا تقاضا یہی تھا ۔ کہ کلام کے لئے ایک زندہ موثر جامع اور واضح انداز بیان رکھنے والی زبان کو منتخب کیا جائے اور ایک ایسی قوم میں اس کی تبلیغ کیا جائے ۔ جو صحیح معنوں میں اس پیغام کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو ۔ اس لئے ارشاد فرمایا ہے ۔ کہ ہم نے کتاب مبین کو عربی میں اس لئے نازل فرمایا ہے ۔ تاکہ لوگ اس کے پیش کردہ معارف سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرسکو ۔ اور اچھی طرح سمجھ سکو ۔ یہ اللہ کے ہاں نہایت بلند پایہ اور پر از حکمت کتاب ہے ۔
Ayahs 43:5–8

اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ Open ayah 43:5 in the Quran reader

تو کیا ہم اس بنا پر کہ تم لوگ حد سے باہر (ف 2) نکلے ہوئے ہو منہ موڑ کر تم سے اس کا ذکر ہٹالیں گے ؟

وَ كَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:6 in the Quran reader

اور ہم نے پہلوں میں بہت نبی بھیجے تھے

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 43:7 in the Quran reader

اور جو نبی ان کے پاس آتا ۔ اس سے ٹھٹھا ہی کرتے تھے

فَاَهْلَكْنَاۤ اَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَّ مَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:8 in the Quran reader

سو ہم نے ان (قریش) سے زیادہ زور والوں کو ہلاک کیا اور اگلوں کی کہاوت گزرچکی ہے

آیت 4 ۔ 7: حل لغات :۔ بطشا ۔ سخت گرفت ۔ پکڑ ۔ 2: یعنی بعض اس وجہ سے کہ تم لوگ حداعتدال سے آگے بڑھ چکے ہو ہم تم سے تعرض کرنا چھوڑ دیں ۔ عذاب نہ بھیجیں اور تم کو ہلاک نہ کریں یاد رکھو ۔ تم سے پہلے بھی قوموں میں انبیاء آئے ہیں ۔ اور ان کو بھی سمجھنے اور سوچنے کی پوری پوری مہلت دی گئی ہے ۔ پھر جب انہوں نے ان کو استہزا بنایا ۔ تو اللہ کی گرفت نے ان کو آلیا ؟ تم بھی یہی چاہتے ہو ؟ سو سن رکھو ۔ کہ یہ بات بھی دور نہیں ہے ۔
Ayahs 43:9–12

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 43:9 in the Quran reader

اور البتہ اگر ان سے پوچھے کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ تو ضرور کہیں گے ۔ کہ ان کو غالب دانا نے پیدا کیا ہے

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ Open ayah 43:10 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا اور اس میں تمہارے لئے راہیں بنائیں تاکہ تم راہ پاؤ

وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ١ۚ فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ۚ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ Open ayah 43:11 in the Quran reader

اور جس نے آسمان سے اندازہ سے پانی اتارا پھر ہم نے اس سے مردہ شہر کو ابھارا ۔ اسی طرح تم نکالے جاؤ گے

وَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَۙ Open ayah 43:12 in the Quran reader

اور جس نے کل چیزوں کے جوڑے بنائے اور تمہارے لئے کشتیاں اور چوپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو

آیت 8 ۔ 11 یعنی یہ لوگ جہاں تک ان کی فطرت صالحہ کا تعلق ہے خدا کی توحید کے مقر اور معترف ہیں جب ان سے پوچھا جاتا ہے ۔ کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے ۔ تو صاف کہہ دیتے ہیں ۔ کہ خدائے عزیز وعلیم نے جس نے زمین کو فرش کی طرح پاؤں تلے بچھا رکھا ہے اور اس میں مختلف راہیں پیدا کی ہیں ۔ جس نے آسمان سے انداز کے ساتھ پانی اتارا ہے ۔ اور مردہ زمینوں کو اس سے زندگی بخشی ہے ؟ فرمایا ۔ اگر یہ حقیقت درست ہے ۔ تو پھر تمہیں حشر ونشر میں کیا شبہ ہے ؟ کیا وہ اسی طرح تمہیں دوبارہ زندہ کردینے پر قادر نہیں ؟
Ayahs 43:13–17

لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْهِ وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ Open ayah 43:13 in the Quran reader

تاکہ تم ان کی پشت پر چڑھ بیٹھو ، پھر جب ان پر بیٹھ چکو ، تو اپنے رب کی نعمت (ف 1) یاد کرو اور کہو کہ وہ پاک ہے ۔ جس نے اسے ہمارے قابو میں کیا اور (حالانکہ) ہم اس پر قابو پانے والے نہ تھے

وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ Open ayah 43:14 in the Quran reader

اور ہم اپنے رب کی طرف ضرور لوٹیں گے

وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِیْنٌؕ۠ Open ayah 43:15 in the Quran reader

اور انہوں نے اللہ کے لئے اس کے بندوں میں سے اولاد قرار دی ہے بیشک آدمی بڑا ہی صریح ناشکرا ہے

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰىكُمْ بِالْبَنِیْنَ Open ayah 43:16 in the Quran reader

کیا اس نے مخلوقات میں سے آپ بیٹیاں رکھ لیں ۔ اور تمہیں بٹیوں کے لئے چن لیا ؟

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 43:17 in the Quran reader

اور جب ان میں کسی کو ایک چیز کی بشارت دی جاتی ہے جو رحمن کے لئے کہاوت ٹھہراتا ہے تو اس کا منہ سیاہ ہوجاتا ہے اور دل میں گھٹ کر رہ جاتا ہے

ایک چھوٹا سا مگر عظیم القدر سبق 1: اسلام میں ایک خصوصیت یہ ہے کہ اپنے ماننے والوں میں ایسی روح پھونکتا ہے ۔ کہ وہ کسی وقت بھی اللہ تعالیٰ کو فراموش نہ کریں ۔ ہر منزل اور ہر مقام میں اللہ کو یاد کریں ۔ اس کا نام لیں ۔ اور اس کے ذکر سے زبان کو حلاوت بخشیں ۔ چناچہ فرمایا ۔ کہ جب تم کشتیوں میں سوار ہو یا گھوڑے پر بیٹھو ۔ تو اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو ۔ اور زبان سے ان کلمات کا اظہار کرو ۔ سبحان الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقربین وانا ربنا منقلبون ۔ یعنی وہ خدا شرک کی آلودگی سے پاک ہے ۔ جس نے ان سرکش قوموں کو ہمارے مسخر کردیا ہے ۔ حالانکہ ہم ان کو اپنے قابو میں نہیں کرسکتے تھے ۔ اور بالآخر ہم سب لوگوں کو اس کے حضور میں جانا ہے ۔ یہ چھوٹا ساسبق کتنا عظیم الشان سبق ہے ۔ اس سے ایک طرف تو انسان میں احسان منت پیدا ہوتا ہے ۔ کہ ہمارا خدا ہمارے لئے کس درجہ شفیق ہے ۔ اس نے ہمارے آرام اور ہماری سہولتوں کے لئے طرح طرح کی سواریاں بنائی ہیں ۔ اور دوسری طرف تفاخر و غرور کا جذبہ مٹ جاتا ہے ۔ جب کہ وہ عین مسرت کے وقت یہ کہتا ہے کہ بالآخر ہمیں اس کے پاس جانا ہے اس لئے ضروری ہے ۔ کہ تیاری کریں ۔ اور اپنے میں وہ قابلیت پیدا کریں ۔ جو ہم کو اس کے سامنے پیش ہونے کے لائق بنادے ۔
Ayah 43:18

اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ هُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ Open ayah 43:18 in the Quran reader

کیا جو شخص (ف 1) کہ زبور میں پالا جائے اور وہ جھگڑے میں بات نہ کہہ سکے (یعنی لڑکی) ؟

اللہ کی بٹیاں نہیں ہیں 1: مکہ والوں میں کچھ لوگ ایسے تھے ۔ جو حمق وجہالت کی وجہ سے فرشتوں کو کہتے تھے ۔ کہ اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔ ان آیات میں اس مسلک کی تردید فرمائی ہے ۔ ارشاد ہے : کہ یہ اللہ کی کس درجہ ناشکر گزاری ہے ۔ اور یہ کس درجہ غلط اتہام ہے ۔ کیا تم لوگ بچیوں کے انتساب سے خوش ہوتے ہو ۔ تمہاری حالت تو یہ ہے ۔ کہ اگر تم یہ سن لو ۔ کہ تمہارے ہاں لڑکی توالد ہوئی ہے تو تمہارا چہرہ مارے غصہ کے سیاہ پڑجاتا ہے اور تم اس وقت اپنے جذبات غیظ وغضب کو چھپا نہیں سکتے ہو ۔ پھر جب تمہارے نزدیک ان کا انتساب عمدہ اور قابل تعریف نہیں ہے ۔ تو پھر میری جانب ان کو منسوب کرنے کے کیا معنی ہیں ؟ کیا میں ان کمزور اور ناتوان عورتوں کو اپنی بیٹیاں بناؤں گا ۔ جو بناؤ سنگار کی خواہش میں پلتی اور جوان ہوتی ہیں ۔ اور جن میں یہ استعداد بھی نہیں ہوتی کہ کھل کر بات چیت بھی کرسکیں ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ اگر میرے اولاد ہوتی تو تمہارے معتقدات کے مطابق اولاد ذکور ہونا چاہیے تھی ۔ کیونکہ عورتوں کو تم قدرومنزلت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے ہو ۔ ان آیتوں سے غرض یہ نہیں ۔ اور ان کا احتساب باپ کے لئے وجہ رسوائی ہے ۔ بلکہ ان کے طرز عمل کے تضاد کی طرف اشارہ مقصود ہے ۔ اور یہ بتایا ہے کہ یہ کیا تماشا ہے ۔ کہ ایک طرف تو تم ان کو ذلیل سمجھتے ہو ۔ اور دوسری جانب ان کی پوجا کرتے ہو ۔ اور ان کو خدا کی جانب منسوب کرتے ہو ۔ کیا یہ عقیدہ اور عمل کا قضاء تمہارے لئے قابل غور نہیں ہے ۔ اومن تبسوف الحینۃ کہہ کر حقیقت واقعی کے مقصود کا اظہار کیا ہے ۔ کہ عورتوں کو زیورات کا بہت زیادہ شوق ہوتا ہے اور بےچاری اظہار جذبات پر قادر نہیں ہوتیں ۔ اس لئے ان کا خدا کی بیٹیاں ہونا ۔ تو اور بھی بعیداز عقل ہے ۔ حل لغات :۔ الخصام ۔ جھگڑا ۔ بحث و مباحثہ ۔
Ayah 43:19

وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓئِكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا١ؕ اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ١ؕ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:19 in the Quran reader

اور انہوں نے فرشتوں کو جو رحمن کے بندے ہیں عورت ٹھہرایا ہے ۔ کیا وہ ان کی پیدائش کو دیکھتے تھے ؟ ان کی یہ گواہی لکھی جائے گی اور ان سے پوچھ ہوگی

قدامت پرستی 1: مکہ والوں میں ایک بہت بڑا نقص یہ تھا کہ ان میں جمود تقلید کا مرض عام ہوچکا تھا ۔ اس سے غوروفکر کی تمام صلاحتیں چھن چکی تھیں ۔ ان کے ذہن مفلوج تھے اور ان کے سامنے اسلام کے حقائق لامعہ پیش کئے گئے ۔ تو انہیں محض اس لئے مان لینے میں قائل ہوا کہ ان کے آبائی علم ان کی تائید تمہیں کرتے تھے ۔ کہ ہم تو باپ دادا کے مسلک پر قائم رہینگے ۔ اور قطعاً یہ جرات نہیں کرینگے ۔ کہ ان آگے بڑھنے کی کوشش کرینگے گویا ان کے نزدیک یہ کا برحق وصداقت کا مجموعہ تھے ۔ اور ذہنی وفکری ارتقاء کا ایسا کامل نمونہ تھے کہ ان کی مخالفت عقل وخرد کی مخالفت کرنا تھا ۔ ان کے سامنے ہزار دلائل پیش کئے جاتے ۔ قرآن پڑھ کر سنایا جاتا ۔ معجزات خوارق دکھائے جاتے مگر وہ یہی کہے جاتے ۔ کہ یہ سب کچھ درست ہے کہ ہم کیا کریں ۔ کہ ہمارے اجداد ان باتوں کے قائل نہیں تھے ۔ حالانکہ محض قدامت پرستی کوئی معقول دلیل نہیں ۔ بلکہ اس کے برعکس اس بات کی دلیل ہے ۔ کہ اس کو ٹھکرادیا جائے ۔ اور بہتر قسم کی زندگی اختیار کی جائے ۔ یا بیش قیمت اجزا سے مرکب غذا یقینا پھینک دیا جاتا ہے ۔ جب کپڑا گہنہ اور اور بیگانہ ہوجائے ۔ تو اسے ایسی سیدردی سے اتار کر پھینک دیا جاتا ہے اور قطعاً خیال نہیں کیا جاتا ۔ کہ کتنے دنوں اس لباس نے ہمارا ساتھ دیا ہے ۔ اسی طرح کہنہ اور بوسید خیالات ناکارہ اور متعفن ہوجاتے ہیں ۔ تو چونکہ یہ ذہن کو خوراک اور لباس ہوتے ہیں ۔ اس لئے جس قدر جلدی ہوسکے ان سے علیحدگی اختیار کرلینی چاہیے ۔ اور نئے اور تازہ افکار کو قبول کرلینا چاہیے ۔ ہاں یہ درست ہے کہ صداقت کبھی کہنہ نہیں ہوتی ۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ صادقت کا ظن کہنہ ہونے پر اور نکھرتا ہے ۔ اس لئے اصل معیار کسی چیز کا پرانا اور نیا ہونا نہیں ہے ۔ بلکہ اس کی مقبولیت پر ہے ۔
Ayahs 43:20–22

وَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ١ؕ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۗ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَؕ Open ayah 43:20 in the Quran reader

اور کہتے کہ اگر حمن چاہتا تو ہم ان فرشتوں کو نہ پوجتے انہیں اس بات کا کچھ علم نہیں یہ سب اٹکلیں دوڑاتے ہیں

اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ فَهُمْ بِهٖ مُسْتَمْسِكُوْنَ Open ayah 43:21 in the Quran reader

کیا ہم نے اس قرآن سے پہلے انہیں کوئی کتاب دی ہے کہ وہ اسے مضبوط پکڑ رہے ہیں ؟

بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:22 in the Quran reader

بلکہ یہ یوں کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک راہ پر پایا اور ہم ان ہی کے نقش قدم سیدھی راہ پر چل رہے ہیں

حل لغات :۔ یخرصون : خوص سے ہے ۔ یعنی اٹکل سے اندازہ کرنا اثارھم ۔ نقوش قدم مترفوھا ۔ سرمایہ دار ۔ آسودہ حال لوگ ۔
Ayah 43:23

وَ كَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ Open ayah 43:23 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے تجھ سے پہلے جو ڈرانے والا کسی بستی میں بھیجا ۔ وہاں کے آسودہ لوگوں نے یہی کہا ۔ کہ بیشک ہم نے باپ دادوں کو ایک دین پر پایا ۔ اور ہم انہیں کے نقش قدم پرچلتے ہیں

اس حقیقت کا اظہار فرمایا ہے ۔ کہ ابتداء میں دین کی مخالفت ان لوگوں کی طرف سے ہوتی ہے ۔ جو طبقہ امراء سے تعلق رکھتے ہیں ۔
Ayah 43:24

قٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْهِ اٰبَآءَكُمْ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:24 in the Quran reader

وہ بولا اور جو میں تمہارے پاس ایسی چیز لایا ہوں جو ہدایت میں اس سے بڑھ کر ہو ۔ جس پر تم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے (تو بھی نہ مانو گے) وہ بولے جو پیغام تمہارے ہاتھ بھیجا گیا (ف 1) ہے ہم اس کے منکر ہیں

ف 1: یعنی ابتداء سے لوگ اس درجہ قدامت پسند رہے ہیں کہ ہرچند ان کے انبیاء نے انہیں یقین دلایا ۔ کہ ہم جو چیز تمہارے سامنے پیش کررہے ہیں ۔ وہ تمہارے قدماء کے پیش کردہ چیزوں سے بہتر ہے ۔ مگر انہوں نے یہی جواب دیا ۔ کہ ہمیں یہ منظور نہیں ۔
Ayahs 43:25–27

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 43:25 in the Quran reader

پھر ہم نے ان سے بدلہ لیا سو دیکھ کر جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا (ف 2)

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖۤ اِنَّنِیْ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 43:26 in the Quran reader

اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ میں ان کی عبادت سے جنہیں تم پوجتے ہو بیزار ہوں

اِلَّا الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّهٗ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 43:27 in the Quran reader

مگر جس نے مجھے پیدا کیا سو وہ مجھے راہ دکھائے گا

ف 2: ان کی اس سرکشی کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ لوگ صفحہ ہستی سے مٹ گئے ۔ اور قدامت پرستی کے عمیق غاروں میں مدفون ہوگئے ۔
Ayahs 43:28–31

وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:28 in the Quran reader

اور ابراہیم (ف 3) یہی بات اپنی اولاد میں پیچھے چھوڑ گیا ۔ شاید وہ رجوع رہیں

بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى جَآءَهُمُ الْحَقُّ وَ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:29 in the Quran reader

بلکہ میں نے ان (قریش) کو اور ان کے باپ دادوں کو بہرہ مند کیا ۔ یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور کھول کر سنانے والا رسول آپہنچا

وَ لَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ وَّ اِنَّا بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:30 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس حق (قرآن) آیا تو بولے کہ یہ جادو ہے اور ہم اس کو نہیں مانتے

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ Open ayah 43:31 in the Quran reader

اور بولے کہ یہ قرآن ان دو بستیوں (مکہ اور طائف) کے کسی بڑے شخص پر نازل کیوں نہ ہا ؟

آیت 26 ۔ 28: 3: ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مواعظ کا تذکرہ ہے ۔ کہ کیونکر انہوں نے اپنی مشرکانہ امثال وعواطف رکھنے والی قوم کی دلیرانہ مخالفت کی ۔ اور علی ا الاعلان اللہ کی توحید کو پیش کیا ۔ حل لغات :۔ عقبہ ۔ اولاد ۔
Ayah 43:32

اَهُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا١ؕ وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 43:32 in the Quran reader

کیا وہ لوگ تیرے رب کی رحمت کو تقسیم کرتے ہیں ؟ ہم نے ان کے درمیان دنیا کی زندگی میں ان کی معیشت تقسیم کردی ہے اور ہم نے ان میں سے بعض کے بعض پر درجے (ف 1) بلند کئے ہیں تاکہ بعض بعض کو محکوم بنائیں اور تیرے رب کی رحمت اس سے بہتر ہے جو وہ لوگ جمع کرتے ہیں

نبوت خدا کی دین ہے 1: مکہ والوں کو اس بات کی بہت جلن تھی ۔ کہ نبوت اور رسالت کے لئے حضور ﷺ کو کیوں منتخب کیا گیا ۔ حالانکہ مال و دولت اور دنیوی وجاہت و عظمت کے لحاظ سے ہم زیادہ استحقاق رکھتے تھے ۔ چاہیے تو یہ تھا ۔ کہ مکہ اور طائف میں جو آدمی زیادہ وجیہہ اور زیادہ دنیوی مسرتوں کا حامل نظر آتا ۔ اس کے سر پر تاج نبوت رکھدیا جاتا ۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ۔ کہ ایک یتیم اور بےکس انسان کو اس عہدہ جلیلہ کے لئے کیوں چن لیا گیا ہے ؟ جس کے پاس دولت ہے نہ اعوان وانصار اور نہ وہ بڑے بڑے لوگوں کی صف میں شمار ہونے کے لائق ہے ۔ ارشاد فرمایا ۔ کہ نبوت اللہ کا انعام ہے اور ایک نوع کے بخشش اور دین ہے ۔ تم حسد کیوں کرتے ہو ۔ وہ جس کو چاہے اس منصب پر فائز کردے ۔ اور جس کو چاہے محروم رکھے ۔ یہ تمام اختیارات اس کے اپنے ہاتھ میں ہیں ۔ جس طرح دنیا کے انعامات میں تفاوت ہے ۔ کوئی اہل و دولت کے انبار اپنے قبضہ میں رکھتا ہے اور کوئی نان شبینہ کا محتاج ہے اسی طرح ان بخششوں میں جس کا تعلق اقلیم روحانیت سے ہے ۔ تغاوت ہے کہ کچھ لوگ تو اس درجہ سعادتمند ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ سے مکالمہ اور گفتگو کا شرف حاصل ہے ۔ اور کچھ ایسے بدبخت اور محرومان ازلی ہیں کہ ان کے دامن میں سوائے کفر وحسد کے اور کچھ نہیں کائنات کا نظام اسی تنوع اور اختلاف پر قائم ہے ۔ ہاں یہ درست ہے کہ اس انتخاب کے لئے بھی کچھ معیار ہے اور ان معیاروں سے تم آگاہ نہیں ہو ۔ جس شخص کو تم حقیر سمجھتے ہو یہ ضرور نہیں کہ وہ اللہ کی نظروں میں بھی حقیر ہو ۔ بلکہ ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی مال و دولت پر فخر کررہے ہو ۔ وہ مال اس کے قدم چومے گا ۔ اور وہ اس کو کوئی اہمیت نہیں دے گا ۔ اپنے رفقاء اور دوستوں پر تمہیں ناز ہے ۔ مگر اس کے صحابہ خدائیت اور قربانی میں حیرت انگیز ابواب کا اضافہ کریں گے ۔ اور تاریخ ان کی مانند مخلص احباب پیدا نہیں کرسکے گی ۔ تمہیں اپنے اثرورسوخ پر غرہ ہے مگر جانتے ہو کہ مستقبل قریب میں اس کا قبضہ دلوں پر اور دلوں کی گہرائیوں پر ہوگا ۔ اور کروڑوں نفوس اس کے ساتھ عقیدت رکھنے کو مدار نجات قرار دینگے ۔ حل لغات :۔ سخریا ۔ محکوم ۔
Ayahs 43:33–40

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَۙ Open ayah 43:33 in the Quran reader

اور اگر یہ خوف نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک ہی دین پر ہوجائیں گے تو جو لوگ رحمن کے منکر ہیں ان کے لئے ہم ان کے گھروں کی چھتیں چاندی (ف 1) کی بنادیتے اور زینے بھی جس پر وہ چڑھتے رہتے

وَ لِبُیُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیْهَا یَتَّكِئُوْنَۙ Open ayah 43:34 in the Quran reader

اور ان کے گھروں کے دروازے اور تخت بھی جن پر وہ تکیہ لگا کر بیٹھتے

وَ زُخْرُفًا١ؕ وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 43:35 in the Quran reader

اور سونے کے بھی اور یہ سب کچھ اس سے زیادہ نہیں کہ صرف دنیا کے جیتے جی کا فائدہ ہے اور آخرت تیرے رب کے پاس متقیوں کے لئے ہے

وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ Open ayah 43:36 in the Quran reader

اور جو کوئی رحمن کے ذکر سے آنکھیں چرائے گا ۔ ہم اس پر ایک شیطان مقرر کرینگے سو وہ اس کا ہم نشین بن جائے گا

وَ اِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:37 in the Quran reader

اور شیاطین آدمیوں کو راہ سے روکتے ہیں اور آدمی سمجھتے ہیں کہ ہم راہ پر ہیں

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ Open ayah 43:38 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب آدمی ہمارے پاس آئے گا تو (شیطان ) سے کہے گا کاش کہ تجھ میں اور مجھ میں مغرب ومشرق کی دوری ہوتی تو کیا برا ساتھی ہے

وَ لَنْ یَّنْفَعَكُمُ الْیَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّكُمْ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 43:39 in the Quran reader

اور آج جبکہ تم ظالم ٹھہر چکے یہ بات تمہیں کچھ مفید نہ ہوگی کہ تم سب عذاب میں شریک ہو

اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ اَوْ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ مَنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 43:40 in the Quran reader

سو کیا تو بہروں کو سنا ئیگا یا اندھوں کو اور اس کو جو صریح گمراہی میں ہے راہ دکھائیگا

ف 1: ارشاد فرمایا : تمہارے نزدیک سونے اور چاندی کی بڑی قدرومنزلت ہے ۔ اور تم ان چیزوں کو معیار عظمت قرار دیتے ہو ۔ مگر ہم اس کو نہایت حقیر جانتے ہیں ۔ اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ کمزور عقل ودین والے ابتلاء اور آزمائش میں گرفتار ہوجائیں گے ۔ اور اپنے لئے کفر کو اختیار کرلیں گے ۔ تو ہم یہ ساری دولت اپنے دشمنوں کو دے دیتے ۔ ان کے گھرچاندی اور سونے کے ہوتے ۔ گھروں کی چھتیں چاندی اور سونے کی ہوتیں ۔ دروازے اور سیڑھیاں اور استعمال میں آنے کی تمام چیزیں چاندی اور سونے کی ہوتیں ۔ اور بحیثیت مجموعی ان کی زندگی بڑی آرائش اور ٹھاٹ کی ہوتی ۔ ہم اس متاع کو متاع غرور سمجھتے ہیں اور ہمارے پاکباز سندے بھی ان اشیاء کو کوئی وقعت نہیں دیتے ۔ ان کے نزدیک آخرت زیادہ قابل اعتنا اور بیش قیمت ہے ۔ حل لغات :۔ زخرقا ۔ سونا نقیص ۔ مقرر کردیتے ہیں ۔