Az-Zukhruf 43:83

Az-Zukhruf · from ayah 83

43:83

فَذَرْهُمْ یَخُوْضُوْا وَیَلْعَبُوْا حَتّٰی یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ ۟فَذَرۡهُمۡ يَخُوۡضُوۡا وَيَلۡعَبُوۡا حَتّٰى يُلٰقُوۡا يَوۡمَهُمُ الَّذِىۡ يُوۡعَدُوۡنَ

تو ان کو بک بک کرنے اور کھیلنے دو۔ یہاں تک کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے اس کو دیکھ لیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

So leave them to converse vainly and amuse themselves until they meet their Day which they are promised.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 7 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zukhruf

All translations of 43:83

اچھا، اِنہیں اپنے باطل خیالات میں غرق اور اپنے کھیل میں منہمک رہنے دو، یہاں تک کہ یہ اپنا وہ دن دیکھ لیں جس کا اِنہیں خوف دلایا جا رہا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو ان کو بک بک کرنے اور کھیلنے دو۔ یہاں تک کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے اس کو دیکھ لیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اب آپ انہیں اسی بحﺚ مباحثہ اور کھیل کود میں چھوڑ دیجئے، یہاں تک کہ انہیں اس دن سے سابقہ پڑجائے جن کا یہ وعده دیے جاتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

لہذا (اے پیغمبر) انہیں اپنے حال پر چھوڑ دو کہ یہ ان باتوں میں ڈوبے رہیں، اور ہنسی کھیل کرتے رہیں، یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن سے جاملیں جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو تم انہیں چھوڑو کہ بیہودہ باتیں کریں اور کھیلیں یہاں تک کہ اپنے اس دن کو پائیں جس کا ان سے وعدہ ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو آپ انہیں چھوڑ دیجئے، بے کار بحثوں میں پڑے رہیں اور لغو کھیل کھیلتے رہیں حتٰی کہ اپنے اس دن کو پا لیں گے جس کا اُن سے وعدہ کیا جا رہا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس انھیں چھوڑ دے فضول بحث کرتے رہیں اور کھیلتے رہیں، یہاں تک کہ اپنے اس دن کو جا ملیں جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ انہیں چھوڑیئے کہ وہ اپنی کج بحثوں اور کھیل کود میں لگے رہیں تاآنکہ وہ دن دیکھ لیں جس کا انہیں خوف دلایا جاتا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو ان کو چھوڑو یہ بوالفضولی اور ہنسی مسخری کرلیں یہاں تک کہ وہ اس دن سے دوچار ہوں جس کی ان کو دھمکی دی جا رہی ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس چھوڑو دو ان کو کہ یہ پڑے رہیں اپنی بےہودہ باتوں میں اور لگے رہیں اپنے کھیل تماشے میں یہاں تک کہ یہ خود دیکھ لیں اپنے اس (ہولناک) دن کو جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

تو آپ انہیں پڑا رہنے دیجئے کہ (یہی) شغل و تفریح کرتے رہیں یہاں تک کہ اس دن سے انہیں سابقہ پڑجائے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو (اے نبی ﷺ !) آپ ان کو چھوڑ دیجئے یہ میں میخ نکالتے رہیں اور لہو و لعب میں پڑے رہیں یہاں تک کہ یہ ملاقات کرلیں اپنے اس دن سے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو ان کو بک بک کرنے اور کھیلنے دو یہاں تک کہ جس دن ان سے وعدہ کیا جاتا ہے اس کو دیکھ لیں

— محترمہ رفعت اعجاز

So leave them alone to indulge in their vanities and to frolic about until they encounter that Day of theirs against which they have been warned.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, let them indulge (in their fallacy) and play, until they face their Day that they are promised.

— Muhammad Taqi Usmani

So, let them indulge (in their fallacy) and play, until they face their Day that they are promised.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So leave them (alone) to speak nonsense and play until they meet the Day of theirs which they have been promised.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So let them flounder (in their talk) and play until they meet the Day which they are promised.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So leave them to converse vainly and amuse themselves until they meet their Day which they are promised.

— Saheeh International

Leave them (to indulge) in their desires and play around until they face that day which has been promised to them.

— Muhammad Sarwar

So leave them plunging into false discourses and sporting until they meet their day which they are threatened with.

— Muhammad Habib Shakir

So let them thou alone wading and sporting until hey meet the Day which they are promised.

— Abdul Majid Daryabadi

So leave them to babble and play (with vanities) until they meet that Day of theirs, which they have been promised.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 43:83

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 81–89

جہالت و خباثت کی انتہاء اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ہے اے نبی آپ اعلان کر دیجئے کہ اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کی اولاد ہو تو مجھے سر جھکانے میں کیا تامل ہے ؟ نہ میں اس کے فرمان سے سرتابی کروں نہ اس کے حکم کو ٹالوں اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے میں اسے مانتا اور اس کا اقرار کرتا لیکن اللہ کی ذات ایسی نہیں جس کا کوئی ہمسر اور جس کا کوئی کفو ہو یاد رہے کہ بطور شرط کے جو کلام وارد کیا جائے اس کا وقوع ضروری نہیں بلکہ امکان بھی ضروری نہیں۔ جیسے فرمان باری ہے آیت (لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۙ سُبْحٰنَهٗ ۭ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ) 39۔ الزمر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 82–84

سورة الزُّخْرُف 65 یعنی آسمان اور زمین کے خدا الگ الگ نہیں ہیں، بلکہ ساری کائنات کا ایک ہی خدا ہے۔ اسی کی حکمت اس پورے نظام کائنات میں کار فرما ہے، اور وہی تمام حقائق کا علم رکھتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 81–87

معارف و مسائل (آیت) قُلْ اِنْ كَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌ ڰ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ (اگر خدائے رحمن کی کوئی اولاد ہوتی تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرتا) اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ معاذ اللہ خدا کی اولاد ہونے کا کسی بھی درجہ میں کوئی امکان ہے، بلکہ مقصد دراصل یہ بتانا ہے کہ میں تمہارے عقائد کا انکار کسی عناد یا ہٹ دھرمی سے نہیں کر رہا ہوں بلکہ دلائل کی وجہ سے کر رہا ہوں، اگر صحیح دلائل سے خدا کی اولاد کا وجود ثابت ہوجاتا تو میں اسے ضرور مان لیتا، لیکن عقل ونقل کی ہر دلیل اس کی تردید کرتی ہے، اس لئے ماننے کا کوئی سوال نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اہل باطل کے ساتھ مباحثہ کے وقت اپنی حق پسندی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فذرھم یخوضوا ویلعبوا حتی یلقوا یومھم الذی یوعدون 83 یعنی یہ فیصلہ کن چیلنج دے کر ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو۔ جو باتیں یہ چاہیں بنا لیں اور جو ہنسی مسخری کرنی چاہیں کرلیں، یہاں تک کہ وہ دن ان کے سامنے آجائے جس کی ان کو دھمکی دی جا رہی ہے اس دن ان پر ساری حقیت کھل جائے گی کہ جن کو انہوں نے خدا کی اولاد بنا کر پوجا وہ ان کے کچھ کام آنے والے نہیں بنے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 82–83

83۔ 1 یعنی اگر یہ ہدایت کا راستہ نہیں اپناتے تو اب انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیں اور دنیا کے کھیل کود میں لگا رہنے دیں۔ 83۔ 2 ان کی آنکھیں اس دن کھلیں گی جب ان کے اس رویے کا انجام ان کے سامنے آئے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 82–86

22: یعنی جن بتوں وغیرہ کو مشرکین نے اس اعتقاد سے خدائی میں اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہماری سفارش کریں گے تو درحقیقت ان کو سفارش کرنے کا کوئی اختیار ہی نہیں ہے۔ البتہ جو لوگ کسی کے بارے میں سچی گواہی دیں، اور پورے علم کے ساتھ دیں کہ وہ واقعی مومن تھا تو اس کی گواہی بیشک قبول کی جائے گی اور اس آیت کی ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ ”جن لوگوں نے حق کی گواہی دی ہو“ سے مراد وہ ہیں جنہوں نے ایمان قبول کر کے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور حضور اقدس ﷺ کے سچا پیغمبر ہونے کی گواہی دی ہو، ایسے لوگوں کی سفارش اللہ تعالیٰ کی اجازت سے قبول کی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 81–83

آیت نمبر 81 تا 83 یہ لوگ فرشتوں کی عبادت اس تصور پر کرتے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اگر اللہ کی اولاد ہوتی تو اس کے ساتھ جان پہچان اور اس کی بندگی کا حق دار سب سے پہلے نبی ہوتا۔ کیونکہ انسانوں میں سے خدا کے قریب نبی اور رسول ہی ہوتے ہیں۔ اور پھر اللہ کی بندگی اور اطاعت میں بھی وہ سب سے آگے ہوتے ہیں اور اگر کوئی اولاد ہوتی تو اس کی عزت بھی سب سے پہلے نبی کرتے۔ لہٰذا ان لوگوں کا یہ تصور اور زعم ہی محض افسانہ ہے۔ اس پر کوئی دلیل نہیں ہے ۔ اور اس قسم کی صفات کی اللہ کی طرف نسبت کرنا اس کے شایان شان نہیں ہے ، وہ پاک ہے۔ سبحن رب السموت والارض رب العرش عما یصفون (43 : 82) “ پاک ہے آسمان اور زمین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی غفلت و حماقت کے نشہ میں جو کچھ بکتے ہیں بکنے دیجئے۔ یہ لوگ چند روز اور دنیا کے کھیل تماشے میں گزار لیں، آخر وہ موعود دن آنا ہے جس میں ایک ایک کر کے ان کی گستاخیوں اور شرارتوں کا مزہ چکھایا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 83 { فَذَرْہُمْ یَخُوْضُوْا وَیَلْعَبُوْا } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ ان کو چھوڑ دیجئے ‘ یہ میں میخ نکالتے رہیں اور لہو و لعب میں پڑے رہیں“ { حَتّٰی یُلٰقُوْا یَوْمَہُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ } ”یہاں تک کہ یہ ملاقات کرلیں اپنے اس دن سے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 82–84

77 مشرکوں کے کچھ خدا آسمان میں اور کچھ زمین میں :۔ مشرکوں نے کچھ خدا تو آسمان میں بنا رکھے ہیں۔ جیسے فرشتے، شمس و قمر اور کئی دوسرے سیارے اور کچھ زمین میں جیسے بت، آستانے، شجر و حجر اور بزرگوں کے مزارات۔ پھر وہ سمجھتے بھی نہیں اور اپنی بات پر اکڑ گئے ہیں۔ اور فضول قسم کی کج بحثیوں پر اتر آئے ہیں۔ لہذا انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیجئے۔ قیامت کے دن ان کو خود بخود معلوم ہوجائے گا کہ معبود برحق صرف ایک ہی ذات ہوسکتی ہے۔ اور پوری کائنات کا وہی خالق ومالک ہے۔ صرف اسی کی حکومت ہے اس کا تصرف اور اختیار کارفرما ہے۔ باقی سب چیزیں اس کی مخلوق اور مملوک ہیں جو دوسروں کے نفع و نقصان تو کجا اپنی ذات کے لیے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

65۔ (اس وقت ساری حقیقت کھل جائے گی) ذکر ان گمراہوں کا ہورہا ہے جو باوجود وضوح حق کے اپنے عناد سے باز نہیں آتے۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ انہیں انکی حالت پر پڑا رہنے دیجئے اور ان کی طرف سے غافل وبے فکر ہوجائے یا یہ کہ تبلیغ بند کردیجئے بلکہ مطلب یہ ہے کہ آپ ان کی مخالفت کی طرف زیادہ التفات نہ کیجئے اور ان کی محرومی پر زیادہ غم وتاسف نہ کیجئے۔ (آیت) ” فذرھم “۔ صورۃ امر ہے لیکن مقصود کمال توہین و اظہار غضب ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 68–89

آیت نمبر 68 تا 89 ترجمہ : ان سے کہا جائے گا اے میرے بندو ! آج تم پر کوئی خوف نہیں اور نہ تم غم زدہ ہوگے، جو ہماری آیتوں قرآن پر ایمان لائے (الذین آمنوا) عبادی کی صفت ہے اور تھے بھی وہ فرمانبردار تم اور تمہاری بیویاں خوشی خوشی اور اکرام کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ (أنتم) مبتداء ہے (تُحْبَرُوْنَ ) اس کی خبر ہے ان کے پاس سونے کی رکابیاں اور گلاس لائے جائیں گے اکواب، کو بٌ کی جمع ہے، اس برتن کو کہتے ہیں جس میں ٹونٹی نہ ہو (مثلاً کٹورا اور گلاس) تاکہ پینے والا جدھر سے چاہے پیے، اور وہاں وہ چیزیں ملیں گی جن کو ان کا دل چاہے گا اور جن کو دیکھ کر آنکھیں لذت اندوز ہوں گی اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فذرھم یخرضوا ویلعبوا حتی یلقوا یومھم الذی یوعدون پس آپ ان کو اسی شغل و تفریح میں رہنے دیجئے ‘ یہاں تک کہ ان کو اپنے اسی دن سے سابقہ پڑجائے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔ یَغُرْضُوْا یعنی بیہودگیوں میں گھسے رہیں۔ یَلْعَبُوْا یعنی دنیوی لہو و لعب میں مشغول رہیں۔ یَوْمَھُمْ الخ یعنی روز قیامت کو پالیں۔ آیت دلالت کر رہی ہے کہ مشرکوں کا قول جہالت اور نفس پرستی پر منبی تھا اور انکے دلوں کی سرشت میں جہالت اور باطل پرستی داخل تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

سو آپ ان کو اسی جھوٹ اور قرآن کے ساتھ مذاق کے مشغلہ میں رہنے دیجیے، یہاں تک کہ ان کو اس دن کا سامنا کرنا پڑے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے اور اس میں موت و عذاب دونوں باتیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فذرھم یخوضوا ویلعبوا …: یعنی اگر یہ ہدایت کا راستہ اختیار نہیں کرتے تو انہیں ان کی فضول بحث اور کھیل کود میں لگا رہنے دیں ، یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن کو جا ملیں جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ اس وقت ان پر سب حقیقت کھل جائے گی۔ اس دن سے مراد قیامت کا دن ہے یا موت کا دن یا دنیا میں عذاب کا دن۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

مراد کفار ہیں جب انہوں نے عذاب آخرت کو جھٹلایا یعنی وہ اپنے باطل میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہیں اور اپنی دنیا میں کھیلتے رہیں۔ یا تو اس سے مراد دنیا کا عذاب ہے یا آخرت کا عذاب ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ حکم جہاد والی آیت سے منسوخ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت محکم ہے اسے دھمکی دینے کے اعتبار سے ذکر کیا گیا ہے ابن محیصن، مجاہد، حمید، ابن قعقاع اور ابن سمیقع نے اسے حتی یلقوا پڑھا ہے (2) یعنی الف نہیں، یہاں سورة طور اور سورة معارج میں قاف کو فتخہ دیا ہے جبکہ باقی قراء نے یلاقو پڑھا ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 81–85

1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل ان کان للرحمن ولدا “ (آپ کہہ دیجئے کہ اگر رحمن کی کوئی اولاد ہوتی) یعنی رحمن کی اولاد نہیں (آیت ) ” فانا اول العبدین “ (تو سب سے پہلے اس کی عبادت کرنے والا میں ہوتا) یعنی گواہی دینے والا۔ اللہ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے : 12:۔ طستی (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ کے اس قول (آیت ) ” فانا اول العبدین “ کے بارے میں بتائیے ؟ فرمایا میں سب سے برأت کا اظہار کرتا ہوں اس بات سے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہو۔ پھر پوچھا جائے گا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَذَرْهُمْ [ آپ چھوڑیں ان کو ] يَخُوْضُوْا [ بےپر کی اڑاتے رہیں ] وَيَلْعَبُوْا [ اور کھیلتے رہیں ] حَتّٰى يُلٰقُوْا [ یہاں تک کہ وہ لوگ ملاقات کریں ] يَوْمَهُمُ الَّذِيْ [ اپنے اس دن سے جس کا ] يُوْعَدُوْنَ [ ان سے وعدہ کیا جاتا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 82–83

پھر فرمایا کہ ان لوگوں کو آپ چھوڑ دیں یہ اپنی بیہودہ باتوں میں لگے رہیں اور دنیا میں کھیلتے رہیں دنیا میں ساری لہو و لعب ہے جیسا کہ سورة الحدید میں فرمایا ﴿اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ ﴾ ان لوگوں کا باطل میں لگا رہنا اور کھیل میں مشغول رہنا یہاں تک آگے بڑھتا رہے گا کہ یہ لوگ اس دن سے ملاقات کریں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے بعض حضرات نے موت کا دن اور بعض حضرات نے یوم بدر اور بعض حضرات نے یوم القیامۃ مراد لیا ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ آسمانوں میں بھی معبود ہے اور زمین میں بھی معبود ہے یعنی معبود حقیقی وہی ہے اور مستحق عبادت بھی وہی ہے جو لوگ اس کے علاوہ کسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–89

تنبیہ بر مخالفت از حق وبیان انعام واکرام مطیعین وذلت وناکامی مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فاختلف الاحزاب من بینھم ...... الی ...... فسوف یعلمون “۔ (ربط) آیات سابقہ میں مشرکین مکہ کے ایک لغو اور مہمل اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی دعوت توحید کا ذکر تھا اور یہ کہ ان کی زندگی کو اللہ نے اپنی قدرت کی ایک عظیم نشانی بنایا تھا، جب تک زمین پر رہے اللہ کی نشانیاں دکھاتے ہوئے اپنی قوم کو توحید ہی کی دعوت دی، اور جب قیامت کے قریب آسمان سے نزول فرمائیں گے تب بھی وہ یہی دعوت توحید دیتے ہوں گے، ان کی تعلیم وہدایت میں نہ کوئی ابہام تھا اور نہ اس سے اختلاف کی کوئی گنجائش…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

47:۔ ” فذرھم۔ الایۃ “ زجر مع تخویف اخروی ان معاندین کو انذار کا حق ادا ہوچکا اور حجت خداوندی ان پر قائم ہوچکی اب ان کو کفر و شرک اور عناد مکابرہ میں گھسنے دو اور دنیا میں لہو و لعب اور عیش و نشاط میں منہمک رہنے دو یہاں تک کہ قیامت کے دن کو پالیں جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے وہاں اپنے کیے کی پوری سزا پالیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 77–83

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ملنے والی بعض نعمتوں کا ذکر فرمایا۔ پھر محرموں کے متعلق فرمایا کہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اور ان سے عذاب میں تحخفیف نہیں کی جائے گی۔ گنہگار مایوس ہوجائیں گے کہ اب اس عذاب سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کے ساتھ ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی بلکہ انہوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا تو اس انجام کو پہنچے ہم نے تو ان کے لئے ہدایت کے تمام سامان مہیا کردیئے تھے مگر خود انہوں نے توحید کا انکار اور معاد پر یقین نہ لا کر اپنی عاقبت کو خربا کرلیا اس طرح اللہ نے ان لوگوں کی تھوڑی سی کیفیت بیان کردی۔ داروغہ جہنم سے درخواست اب آج…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَذَرْہُمْ يَخُوْضُوْا وَيَلْعَبُوْا حَتّٰى يُلٰقُوْا يَوْمَہُمُ الَّذِيْ يُوْعَدُوْنَ۝ 83 وذر [يقال : فلان يَذَرُ الشیءَ. أي : يقذفه لقلّة اعتداده به ] ، ولم يستعمل ماضيه . قال تعالی: قالُوا أَجِئْتَنا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ ما کانَ يَعْبُدُ آباؤُنا[ الأعراف/ 70] ، وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] ، فَذَرْهُمْ وَما يَفْتَرُونَ [ الأنعام/ 112] ، وَذَرُوا ما بَقِيَ مِنَ الرِّبا[ البقرة/ 278] إلى أمثاله وتخصیصه في قوله : وَيَذَرُونَ أَزْواجاً [ البقرة/ 234] ، ولم يقل : يترکون ويخلّفون، فإنه يذكر فيما بعد هذا الکتاب إن شاء اللہ . [ والوَذَرَةُ : قطعة من اللّحم، وتسمیتها بذلک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 79–89

تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ جہنم کا فرشتہ ان کے جواب میں کہے گا انکم ماکثون ولقد جئناکم بالحق ولکن اکثر کم للحق کارھون اب یہاں ان کی کراہتِ حق کو بیان فرماتا ہے کہ حق کے قبول کرنے کا تو کیا ذکر بلکہ وہ اس کے رد کرنے میں سینکڑوں مکرو تدابیر کیا کرتے تھے مگر کیا کرسکتے تھے کیونکہ ام ابرموا امرا کیا وہ قضاء و قدر میں مداخلت کر کے کوئی بات اس کے برعکس قائم کرسکتے تھے۔ نہیں بلکہ فانامبرمون مدبر امور ہم ہیں اور اس پر لطف یہ ہے کہ جانتے تھے خدا کو ہماری ان تدابیر و مکرو زور کی خبر نہیں حالانکہ ہمارے رسول یعنی فرشتے ان کے پاس ان کی باتیں لکھ رہے تھے۔ انسان جو کچھ کرتا ہے اس کا چھاپا عالم غیب میں لگ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَذَرْھُمْ یَخُوْضُوْا وَیَلْعَبُوْا حَتّٰی یُلٰـقُوْا یَوْمَہُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ ۔ (الزخرف : 83) (پس آپ ان کو چھوڑ دیجیے وہ اپنے باطل خیالات میں ڈوبے رہیں اور اپنے کھیل کھود میں منہمک رہیں یہاں تک کہ وہ اس دن سے دوچار ہوں جس دن سے انھیں ڈرایا جارہا ہے۔ ) مخالفین کو ان کے حال پر چھوڑ دیں یعنی جہاں تک افہام و تفہیم کا تعلق ہے اس کا حق ادا ہوچکا ہے اور جہاں تک ان کے اشتباہات کے ازالے کا سوال ہے اس میں بھی کوئی کمی باقی نہیں رہی۔ اس کے باوجود ان کے رویئے میں اگر سنجیدگی پیدا نہیں ہوتی تو آپ اس سے پریشان نہ ہوں، بلکہ آپ انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیں۔ وہ جس طرح کے باطل خیالات میں غرق اور ڈوبے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 81–84

فہم القرآن ربط کلام : نبی ﷺ کے ساتھ مکہ والوں کا بنیادی اختلاف ” اللہ “ کی توحید پر تھا۔ ان کا عقیدہ تھا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے کچھ ہستیوں کو اپنی خدائی میں شریک کر رکھا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو بیٹیاں بنا کر انہیں اپنی خدائی میں شریک کرلیا ہے۔ قرآن مجید نے کئی بار اس بات کی نفی کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نہ تو کسی کو اپنی خدائی میں شریک کیا ہے اور نہ ہی کسی کو اپنی اولاد بنایا ہے۔ اس موقع پر اس بات کا صرف یہ جواب دیا ہے کہ اے نبی ﷺ ! ان سے ارشاد فرمائیں کہ اگر الرّحمن کی اولاد ہوتی تو سب سے پہلے میں اس کی عبادت کرتا یعنی اسے تسلیم کرتا۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس کی اولاد ہے اور نہ میں اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 83: فَذَرْہُمْ یَخُوْضُوْا (تو آپ ان کو اس شغل میں چھوڑ دیجئے) ان کی باطل پرستی میں۔ وَیَلْعَبُوْا (اور تفریح میں) دنیا کی مشغولیت میں حَتّٰی یُلٰقُوْا یَوْمَہُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ (یہاں تک کہ ان کو اپنے اس دن سے سابقہ واقع ہو جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے) یوم سے قیامت کا دن مراد ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں وہ محض جہالت ‘ دنیا پرستی اور تفریح کا نتیجہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 82۔ پھر اپنی پاکی بیان کرتے ہوئے فرمایا، سبحان رب السموات والارض رب العرش عمایصفون، اس سے جو وہ جھوٹ کہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 81–84

81۔ 84۔ علاوہ ان فرشتوں کے جو ہر آدمی کے ساتھ ہر طرح کی آفت سے حفاظت کرنے کے لئے مقرر ہیں جن کا ذکر سورة رعد میں گزر چکا ہے۔ یہ دو فرشتے نیکی اور بدی لکھنے کی غرض سے ہر شخص کے ساتھ تعینات ہیں۔ صحیحین 1 ؎ کی اور حدیث کی کتابوں میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے جو ایک حدیث مشہور ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا آدمی کے دل میں جو وسوسہ آتا ہے جب تک اس وسوسہ کے موافق آدمی کوئی بات منہ سے نہ نکالے یا ہاتھ پیر سے کوئی کام نہ کرے تو وسوسہ معاف ہے اس صحیح حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سوا دل کے وسوسہ کے اور جو کچھ زبان سے نکلے یا ہاتھ پیروں سے کیا جائے وہ سب لکھا جاتا ہے بعض مفسروں نے حضرت عبد اللہ بن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 81–83

آیت 81 اے رسول مکرم ! ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دے رکھا ہے، حالانکہ وہ اکیلا اور بےنیاز ہے جس نے کوئی بیوی بنائی نہ بیٹا اور نہ اس کا کوئی ہم سر ہی ہے (آیت) ” کہہ دیجیے : اگر رحمٰن کے اولاد ہوتی تو میں سب سے پہلے عبادت کرنے والا ہوتا۔ “ اس بیٹے کی کیونکہ بیٹا اپنے باپ کا جزو ہوتا ہے میں تمام مخلوق میں ان تمام اوامر پر عمل کرنے میں سب سے آگے ہوں جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں مگر (تم دیکھ رہے ہو کہ) میں اس کا انکار کرنے والا پہلا شخص ہوں اور اس کی نفی کرنے میں سب سے زیادہ سخت ہوں، پس اس سے اس مشرکانہ قول کا بطلان ثابت ہوگیا۔ جو لوگ انبیائے کرام کے احوال کو جانتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 61–85

قول باری ہے (وانہ لعلم للساعۃ اور وہ تو ایک ذریعہ ہیں قیامت کے یقین کا) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے آیت کی تفسیر میں بیان کیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول قیامت کے علم کا ذریعہ ہے ۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن قیامت کے علم کا ذریعہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

108 منکرین سے اعراض و روگردانی کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پس چھوڑ دو انکو انکے حال پر یہاں تک کہ یہ پہنچ جائیں اپنے اس ہولناک انجام کو جو ان کے لیے کفر وانکار کی پاداش میں طے ہوچکا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ حق کی توضیح میں اب کوئی کسر باقی نہیں رہ گئی۔ اگر یہ لوگ پھر بھی نہیں مانتے تو ان کی اب زیادہ فکر نہ کریں بلکہ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں تاکہ یہ اپنے انجام کو پہنچ جائیں اور اپنے کئے کرائے کا بھگتان بھگتیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو یہ منکرین و مکذبین کے بارے میں فیصلہ کن اعلان ہے کہ اگر یہ لوگ اب بھی اپنے کفر وعناد اور ہٹ دھرمی پر اڑے ہوئے ہیں تو انکو انکے حال پر چھوڑ دو ۔ تاکہ یہ کھوئے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 68–89

فیصلے کا دن اور نیکو کاروں کے لیے خوشخبری اور گنہگاروں کے لیے سزا کی خبر تشریح : شروع کی آیات میں رب العزت بڑے پیار اور شفقت سے اپنے بندوں کو بتا رہے ہیں کہ یہ دنیا تمہارے لیے امتحان گاہ ہے میرا مقصد تو لوگوں کو سزا دینا ہرگز نہیں لیکن قرآن کے مطابق جو زندگی نہیں گزاریں گے ان کو سزا ضرور ملے گی مگر نیکی پر چلتے ہوئے جو لوگ نیک، اچھی، پاکیزہ اور صاف ستھری زندگیاں گزاریں گے ان کو مرنے کے بعد انتہائی سکون کی زندگی ملے گی بلکہ ایسی بہترین زندگی کہ جس کا تصور تم آیات 68 سے 73 تک کے مضمون سے بخوبی کرسکتے ہو۔ یہ تمام باتیں ایسی ویسی نہیں بلکہ یہ اس الہ العٰلمین کی کہی ہوئی ہیں جو اپنی تمام صفات میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 68–89

آیات 68 تا 89۔ اسرار ومعارف۔ اور جو ایک دوسرے کی نیکیوں کی اور نیکی کی طرف دعوت کی شہادت دیں گے انہیں اللہ کریم کی طرف سے بھی ارشاد ہوگا کہ اے میرے بندو آج کے دن تم ہر خوف سے آزاد ہو نہ کفار کا اندیشہ اور نہ عذاب کی فکر اور تمہیں کچھ کھونے کا غم کہ کافر کو تو دنیا کے کھونے کا رنج ہوگامگر مومن اس سے کہیں زیادہ اور حقیقی نعمتیں حاصل کرے گا کہ یہ وہ لوگ تھے جو ایمان لائے اللہ کی اطاعت کی اور اس کے احکام کو تسلیم کیا۔ آج کے روز جنت میں داخل ہوجاؤ تم اور تمہارے گھر والے یعنی جو دن کفار ک لیے انتہائی سخت ہوگاوہی مومنین کے لیے کامیابی کا دن ہوگا اور وہ جنت میں بہت عزت سے داخل ہوں گے جہاں ان کے لیے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 12 اس وقت سب حقیقت کھل جائے گی اور دماغ درست ہوجائے گا۔ دن سے مراد قیامت کا دن ہے یا موت کا دن یا دنیا میں عذاب کا دن۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(43:83) فذرھم : ذر فعل امر، واحد مذکر حاضر وذر (باب سمع و فتح) مصدر بمعنی چھوڑ دینا۔ اس کی ماضی نہیں آتی۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ۔ تو ان کو چھوڑ دے۔ یخوضوا۔ مضارع مجزوم بوجہ جواب امر۔ خوض باب نصر، مصدر بمعنی مشغول رہنا۔ وہ مشغول رہیں۔ ویلعبوا۔ مضارع مجزوم بوجہ جواب امر صیغہ جمع مذکر غائب ۔ لعب باب نصر۔ مصدر وہ کھیل میں پڑے رہیں۔ (پس اے حبیب ﷺ ) آپ ان کو بےہودہ باتوں میں مشغول اور کھیل تماشا میں پڑے رہنے دیں۔ حتی۔ حرف جر ہے انتہاء غایت کے لئے استعمال ہوتا ہے ، بمعنی یہاں تک کہ۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے سلام ہی حتی مطلع الفجر (97:5) سلامتی ہو یہاں تک فجر طلوع ہو۔ یلاقوا مضارع منصوب جمع…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 79–89

لغات القرآن آیت نمبر 79 تا 89 : ابرمو (انہوں نے ٹھان لی ، طے کرلی) یخرضوا (وہ گھستے ہیں) یلعبوا ( وہ کھیلتے ہیں) اصفح (در گزر کرلے ، منہ پھیر لے) سلام ( سلامتی ہو) ۔ تشریح : آیت نمبر 79 تا 89 : کفار مکہ اس بات سے بہت ڈرے ہوئے تھے کہ حضرت محمد ﷺ کی مقناطیسی شخصیت اور کلام الٰہی سے عرب کے نوجوان بڑی تیزی سے متاثر ہوتے چلے جا رہے ہیں ۔ جو بھی ان کی زبان سے کلام سنتا ہے تو وہ فوراً ہی اسلام کی سچائی کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے۔ کفار قریش نے نہایت خاموشی سے مکہ کے اہم لوگوں کو ایک جگہ جمع کر کے ان سے خفیہ مشورے کرنا شروع کردیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم اسی طرح ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 81–84

شرک کرنے والوں کابیان۔ (ف 1) شان نزول : نضر بن حارث نے کہا تھا کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اے محبوب ﷺ ان مشرکوں سے کہہ دو کہ اگر بفرض محال خدا کے اولاد ہوتی، تو سب سے پہلے میں اس اولاد کو پوجتا، کیونکہ میں دنیا میں سب سے زیادہ خدا کی عبادت کرنے والا ہوں، اور جس کو جس قدر علاقہ خدا کے ساتھ ہوگا، اسی نسبت سے اسکی اولاد کے ساتھ ہونا چاہیے پھر جب میں باوجود اول العابدین ہونے کے کسی ہستی کو اس کی اولاد نہیں مانتا، اور سو اللہ کے کسی عبادت نہیں کرتا، اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک کرنے کی وحی مجھ کو نہیں آئی تو اس سے معلوم ہوگیا کہ اللہ کا کوئی شریک اور اولاد…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 80–86

[37] یعنی قیامت کے دن سفارش کا اختیار تو کسی کو بھی نہ ہوگا البتہ اللہ تعالیٰ جن کو اجازت دے گا وہ حق بات کی گواہی دیں گے اور وہ گواہی اسی بات کی ہوگی جس کے بارے میں جانتے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 81–85

ف 1: ان لوگوں سے خطاب ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ کی جلالت قدر سے آگاہ نہیں ہیں ۔ اور اس کے لئے اولاد کو ثابت کرتے ہیں ۔ فرمایا : یہ بالکل غلط عقیدہ ہے ۔ آپ ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ اگر اللہ کے کوئی بیٹا ہوتا ۔ تو ہمیں انکار کرنے سے کیا ملتا ۔ آپ لوگ دیکھتے ۔ کہ ہم سب سے پہلے اس کی پوجا اور پرستش کرتے ۔ کیونکہ ہمیں جب اس سے محبت ہے ۔ تو ان لوگوں سے بھی قدرتاً محبت ہوتی ۔ اور جو اس کے عزیز اور رشتہ دار ہوتے ۔ مگر واقعہ یہ ہے ۔ کہ اس کی ذات ہر نوع کے شرک سے پاک اور بلند ہے ۔ اس کا کوئی رشتہ دار نہیں ۔ وہ مجرد اور بسیط حقیقت ہے ۔ آسمان کی بلندیوں سے لے کر زمین کی پستیوں تک ہر چیز اس کے تابع اور مسخر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(83) اب آپ ان کو اسی بےہودہ شغل اور کھیل و تفریح میں چھوڑ دیجئے یہاں تک کہ یہ اپنے اس دن سے ملاقات کرلیں جس دن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے - خوض کے معنی ہیں کسی باطل بات میں گھس جانا اور لغو مہمل امور میں غوروخوض کرنا ۔ مطلب یہ ہے کہ ان کو ان کے مہمل اور لغو مشاغل میں چھوڑ دیجئے یہاں تک کہ قیامت اور موت کے دن سے ملاقات کرلیں۔ کہتے ہیں کہ ایک دن نضر بن حارث قریش کے سرداروں میں بیٹھا ہوا استہزاً کہہ رہا تھا کہ بیشک محمد ہوکر کچھ کہتا ہے حق کہتا ہے اور میں بھی حق کہتا ہوں وہ کہتا ہے لا الہ الا اللہ میں بھی کہتا ہوں۔ لا الہ الا اللہ میں بلکہ اور زیادہ کہتا ہوں املئکۃ نبات الللہ۔ جب یہ واقعہ حضور ﷺ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 82–83

ف 4۔ رہنے دینے کا مطلب یہ نہیں کہ تبلیغ نہ کیجئے، بلکہ یہ مطلب ہے کہ ان کی مخالفت کی طرف التفات نہ کیجئے، اور ان کے ایمان نہ لانے سے مخزون نہ ہوجایئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ کی پاکیزگی بیان کرتے ہوئے کفار کو ان کے حال پر چھوڑ دو وہ کھیل کو دلیں 83 ؎ نبی اعظم وآخر ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ اے میرے رسول آپ ﷺ نے ان کو میرا پیغام سنانے میں کوئی کوتاہی نہیں کی لیکن اگر ان کے کان پر جوں بھی نہیں رینگی تو آپ ﷺ بھی ان کی فکر چھوڑ دیں یہ خود بخود اپنے کیے کے نتیجہ کو پہنچ جائیں گے۔ یہ دنیا کی زندگی آخر ہے ہی کیا چیز اور کتنی دیر کہ چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات ہے۔ یہ اس طرح کی بحثیں اٹھاتے ہیں کہ اس کی مخلوق میں سے کبھی انسانوں کو اور کبھی فرشتوں اور کبھی جنوں کے ساتھ اس کی رشتہ داری ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور اس طرح فضول بحثوں میں مبتلا ہو کر اپنا وقت ضائع کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 82–88

وَقِيلِهِ يَا رَ‌بِّ إِنَّ هَـٰؤُلَاءِ قَوْمٌ لَّا يُؤْمِنُونَ (And [ Allah has the knowledge ] of His prophet's saying, "0 my Lord, these are a people who do not believe." 43:88) The point made by this sentence is that there are very serious reasons for Allah's wrath descending upon these infidels. On the one hand, there are their severe crimes themselves, and on the other when the Messenger ﷺ ، who has been sent as a "blessing for the world" and "interceder for the sinners", himself complains against them and says that these people do not believe, despite repeated good counsels given to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 82–84

65 That is, "The gods of the heavens and the earth are not separate, but there is only One God of the entire universe. It is His wisdom that is working in the whole system of the universe and only He has the knowledge of all realities."

Read the full tafseer →