43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 43:1–15

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 43:2 in the Quran reader

قسم ہے اس کتاب واضح کی

اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 43:3 in the Quran reader

یقینا ہم نے اس کو عربی (زبان کا) قرآن بنایا ہے تاکہ تم سمجھ لو

وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌؕ Open ayah 43:4 in the Quran reader

اور یقینا وہ ہمارے پاس بڑے رتبہ کی اور حکمت بھری کتاب (لوح محفوظ) میں ہے

اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ Open ayah 43:5 in the Quran reader

تو کیا اس لئے ہم تم کو نصیحت کرنے سے باز رہیں گے کہ تم حد سے نکلے ہوئے لوگ ہو

وَ كَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:6 in the Quran reader

اور ہم نے پہلے لوگوں میں بھی بہت سے پیغمبر بھیجے

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 43:7 in the Quran reader

اور ان (کافروں) کے پاس کوئی ایسا نبی نہیں آیا جس کا انہوں نے مذاق نہ اڑایا ہو

فَاَهْلَكْنَاۤ اَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَّ مَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:8 in the Quran reader

تو جو ان میں بہت زور والے تھے ہم نے ان کو ہلاک کردیا اور پہلے لوگوں کی یہ حالت ہوچکی

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 43:9 in the Quran reader

اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا فرمایا ؟ تو وہ ضرور کہہ دیں گے کہ زبردست (اور) علم والے (اللہ) نے ان کو پیدا فرمایا

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ Open ayah 43:10 in the Quran reader

جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا اور اس نے تمہارے لئے اس میں راستے بنائے تاکہ تم منزل تک پہنچ سکو

وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ١ۚ فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ۚ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ Open ayah 43:11 in the Quran reader

اور جس نے ایک اندازے سے آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے ہم نے ایک مردہ سر زمین کو زندہ کیا اسی طرح تم بھی (زندہ کرکے) نکالے جاؤ گے

وَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَۙ Open ayah 43:12 in the Quran reader

اور جس نے تمام اقسام پیدا فرمائیں اور تمہارے لئے کشتیاں اور چارپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو

لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْهِ وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ Open ayah 43:13 in the Quran reader

تاکہ تم ان کی پیٹھ پر بیٹھ چکو تو اپنے پروردگار کی نعمت کو یاد کرو اور (یوں) کہو پاک ہے وہ ذات جس نے ان (چیزوں) کو ہمارے بس میں کردیا اور ہم تو ایسے نہ تھے کہ ان کو قابو میں کرلیتے

وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ Open ayah 43:14 in the Quran reader

اور یقینا ہم کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے

وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِیْنٌؕ۠ Open ayah 43:15 in the Quran reader

اور انہوں (کافروں) نے اس (اللہ) کے بندوں میں سے اس (اللہ) کے لئے جز (اولاد) بنالیا۔ بیشک انسان صریح ناشکرا ہے

1 تا 15۔ قسم ہے اس کتاب مبین کی یعنی ہر بات کو واضح کرنے والی کتاب اپنی عظمت وصداقت پہ خود ایک بہت بڑا گواہ ہے اور ہم نے اسے عربی زبان میں نازل فرمایا ہے کہ اس کے اول مخاطب عرب اسے آسانی سے سمجھ سکیں اور دانش کی راہ اختیار کریں۔ اور یہ بھی جان لو کہ یہ کتاب بطور خاص ہماری حفاظت میں اور لوح محفوظ میں اپنے اعجاز اور حکیمانہ مضامین پر مشتمل بڑے رتبے والی ہے اس کی عظمت کا تقاضا کہ اسے حرف حرف ماناجائے گا لیکن اگر اپنی بدنصیبی سے تم نہ بھی مانو تو اس کے ذریعہ سے نصیحت کرنا ہم نہ چھوڑیں گے اور نہ قرآن کا نزول بند ہوگا۔ مبلغ کا کام بات پہنچانا ہے خواہ لوگ مانیں یا نہ مانیں۔ یہ بات بھی واضح ہوئی کہ مبلغ کو اپنا کام حکمت و دانش کے ساتھ جاری رکھناچاہیے ، اور نتائج کی پرواہ نہ کرے کہ کتنے لوگ مان رہے ہیں یا نہیں مان رہے اور بدبخت کفار کا توطریقہ یہی ہے کہ ان سے پہلوں کے پاس بھی جس قدر انبیاء آئے جو کہ اللہ کا بہت بڑا احسان تھا مگر انہوں نے انکامذاق اڑایا اور طرح طرح کی باتیں کیں جس کے نتیجے میں ہم نے ان لوگوں کو تباہ کردیا جنہیں اپنی طاقت پر بہت ناز تھا ایسی کتنی مثالیں دیکھی جاسکتی ہیں اگر آپ ان سے یہ سوال کریں کہ آسمانوں اور زمین کے اس رنگا رنگ جہاں کا مالک کون ہے تو یہ بھی کہہ اٹھیں گے کہ اس کا وہی اللہ ہے جو سب پر غالب ہے اور سب شے کا علم رکھنے والا ہے ۔ کہ یہ انسان کی مجبوری ہے کہ کوئی ایسا دوسرا خالق پیش نہیں کرسکے گا مگر بدبخت ایسے کہ اطاعت کو تیار نہیں حالانکہ وہی کریم ہے جس نے زمین کو وہ خصوصیات عطاکیں کہ وہ انسانوں کے لیے اپنا دامن بچھونے کی طرح پھیلائے ہوئے ہے اور انسانی زندگی بسر کرنے کے قابل ہے۔ پھر اس میں مختلف راستے بنادیے جو انسانوں کے آپس میں رابطے کا باعث بن کر انسانی بقا کے کام آتے ہیں اور جن پر انسانی معاشرہ تعمیر ہوتا ہے وہی کریم ہے جو حسب ضرورت بارش نازل فرماتا ہے اور مردہ زمین میں جان ڈال دیتا ہے کہ طرح طرح کی کونپلیں پھوٹ کرنکلتی اور مٹی میں ملے ہوئے بیج پھوٹنے لگتے ہیں غرض ہر ذرے میں زندگی کروٹ لینے لگتی ہے یہ اس بات پر بھی دلیل ہے کہ تم لوگوں کو بھی یوم حشر اسی طرح زندگہ کیا جائے گا وہ ایسا قادر ہے کہ ہر شے کو جوڑے بناکر بقائے نسل کا ایساطریقہ پیدا فرمادیا ہے جو صرف وہی کرسکتا ہے اور تمہارے لیے کشتیوں کی صنعت اور طرح طرح کی سواریوں کی صنعت آسان بنادی ایسی اشیاء پیدا فرمادیں جو صنعت میں کام آئیں اور انسان کو وہ شعور بخشا کہ انہیں کام میں لائے یا دوسری طرح کی سواری جو جانور ہیں پیدا فرمادیے جن سب کو تم استعمال میں لاتے ہو تو چاہیے یہ کہ کسی بھی سواری پر بیٹھو تو اللہ کے ان انعامات کو یاد کرو جب بھی بیٹھ چکو کہ اللہ کی ذات پاک ہی ہے اور وہی صاحب کمال ہے جس نے ہم کو ان سواریوں پہ قابودے دیا ورنہ ہم اپنے طور پر ان کو قابو میں نہ لاسکتے تھے اور آخر ایک روز ہمیں لوٹ کر اس کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے۔ مستحب طریقہ جو حضرت علی سے منقول ہے یہ ہے کہ سواری پر پاؤں رکھے تو بسم اللہ کہے بیٹھ جائے توالحمدللہ اور پھر یہ آیت مبارکہ پڑھے رسول اللہ سے مسنون دعا بھی ہے جو آجکل سعودیہ کے جہازوں میں پڑھی جاتی ہے مگر ان بدبختوں نے تو اللہ کے لیے بھی جز مان رکھے ہیں بیٹے اور بیٹیاں مان کر کہ اولاد باپ کا جز اور حصہ ہوتی ہے اور کل ہمیشہ جز کا محتاج ہوتا ہے جبکہ اللہ کی شان اس سے بہت بلند ہے بیشک انسان بہت بڑا ناشکرا ہے۔
Ayahs 43:16–25

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰىكُمْ بِالْبَنِیْنَ Open ayah 43:16 in the Quran reader

کیا اس نے اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں پسند فرمائیں اور تم کو چن کر بیٹے دیئے

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 43:17 in the Quran reader

اور جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی خوشخبری دی جاتی ہے جو انہوں نے رحمن (اللہ) کے لئے مقرر کی تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے

اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ هُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ Open ayah 43:18 in the Quran reader

اور کیا وہ جو زیور میں پرورش پائے اور جھگڑے کے وقت بات نہ کرسکتے ؟

وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓئِكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا١ؕ اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ١ؕ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:19 in the Quran reader

اور انہوں نے فرشتوں کو جو رحمن (اللہ) کے بندے ہیں عورت قرار دے رکھا ہے کیا یہ ان کی تخلیق کے وقت موجود تھے ؟ ان کا یہ دعویٰ لکھ لیا جاتا ہے اور ان سے پوچھا جائے گا

وَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ١ؕ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۗ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَؕ Open ayah 43:20 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اگر وہ (بہت بڑا) مہربان (اللہ) چاہتا تو ہم ان (بتوں) کی عبادت نہ کرتے۔ ان کو اس کا کچھ علم نہیں یہ تو صرف اٹکلیں دوڑا رہے ہیں

اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ فَهُمْ بِهٖ مُسْتَمْسِكُوْنَ Open ayah 43:21 in the Quran reader

کیا ہم نے ان کو اس سے پہلے کوئی کتاب دی تھی تو یہ اس سے (اپنے شرک کے لئے) سند پکڑتے ہیں

بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:22 in the Quran reader

بلکہ کہتے ہیں یقینا ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا اور ہم ان ہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں

وَ كَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ Open ayah 43:23 in the Quran reader

اور اسی طرح آپ سے پہلے ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا (پیغمبر) نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے یہی کہا ، ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقہ پر پایا ہے اور ہم بھی ان ہی کے پیچھے چلے جا رہے ہیں

قٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْهِ اٰبَآءَكُمْ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:24 in the Quran reader

فرمایا اگر میں تمہارے پاس ایسا (دین) لاؤں کہ جس راستے پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ، اس سے کہیں سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔ وہ کہنے لگے کہ بیشک آپ جو (دین) لے کر آئے ہیں ہم تو اس کو مانتے ہی نہیں

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 43:25 in the Quran reader

سو ہم نے ان سے بدلہ لیا پس دیکھ لو جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا

آیات 16 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ اور جز یا اولاد بھی ایسی تجویز کی کہ گویا اللہ نے اپنے لیے بیٹیاں پسند کیں اور تمہیں بیٹے عطا کردیے کہ مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے اور اگر تم میں سے کسی کو ایسی خوش خبری سنائی جائے یعنی بیٹی پیدا ہونے کی اطلاع ملے تو تمہارے منہ لٹک جاتے ہیں چہرے کی رنگت سیاہ ہوجاتی ہے اور دل ہی دل میں بہت دکھ محسوس کرتے ہو حالانکہ بیٹیاں اس طرح کوئی ذلت کی بات نہیں مگر یہ ضرور ہے کہ وہ بناؤ سنگھار میں پرورش والی ہوتیں ہیں اور مردوں کے مقابل قوت بیانیہ میں کمزور۔ بناؤ سنگھار خواتین کے لیے۔ یہاں ثابت ہے کہ عورتوں کے لیے بناؤ سنگھار جائز ہے مگر اس میں اس قدر انہماک کہ ہمہ وقت اسی میں لگی رہے درست نہیں نیز ضعف عقل اور رائے کی کمزوری کی دلیل بھی ہے اور خواتین فطرتا مردوں کی نسبت قوت بیانیہ میں کمزور ہوتی ہیں بتانا کچھ ہوتا ہے مضمون کوئی اور ملادیتی ہیں یہ قاعدہ اکثریہ کے اعتبار سے ہے کسی ایک آدھ خاتون کا ایسا نہ ہونا اس کے منافی نہیں۔ اور انہوں نے فرشتوں تک کو جو اللہ کے بندے اور اس کی مخلوق عورتیں مان رکھا ہے حالانکہ انہیں نظر تک تو آتے نہیں اور کوئی اللہ کے بتانے سے ہی جان سکتا ہے تو کیا کسی نے ان میں سے انہیں بنتے اور پیدا ہوتے دیکھا ہے ہرگز نہیں تو جب انہوں نے دیکھا بھی نہیں اللہ نے کسی کتاب میں ایسی بات نہیں بتائی تو ان کا یہ دعوی کس قدر جھوٹا ہے نیز ان کا یہ جھوٹ لکھ دیا گیا ہے اور ان سے اس کی پرسش ہوگی پھر یہ کہتے ہیں کہ اگر اللہ نہ چاہتا تو ہم فرشتوں کو یا اللہ کے سوا دوسروں کو کیوں پوجتے اگر اس کے باوجود ہمیں رزق صحت مال واولاد دے رہا ہے تو اس کا مطلب ہے وہ اس پر خوش ہے اور انہیں اس بات تک کی خبر نہیں کہ ایک یہی اختیار تو انسان کے پاس ہے کہ وہ کس کا بندہ بن کر جیتا ہے اور کس عقیدے پر مرتا ہے ورنہ اور تو کچھ اس کے بس میں نہیں لہذا یہ فیصلہ ان کا اپنا ہے اور انہی کے حق میں ہے یہی خود بھگتیں گے اور اب بغیرعلم کے اٹکل پچو لگا رہے ہیں ورنہ کیا قرآن حکیم سے پہلے اللہ نے کوئی ایسی کتاب نازل فرمائی تھی جس کو مان کر ایسے عقیدے پر قائم ہیں ہرگز نہیں بلکہ اس بات کا تودعوی تک نہیں کرتے ہاں کہتے ہیں کہ باپ دادا کو اس عقیدے پر پایاہم نے لہذا ہم نے اسے اپنارکھا ہے اور یہی بات ان انبیاء سے جن کو ہم نے آپ سے پہلے مبعوث فرمایا۔ وہاں کے خوشحال لوگوں اور طبقہ امراء نے کہی تھی کہ ہمیشہ قیادت طبقہ امراء کے پاس ہوتی ہے اور غریب عموما پیچھے چلنے والے ہوتے ہیں انہوں نے بھی یہی کہا کہ ہم نے باپ دادا کو جس عقیدے اور مذہب پر پایا ہم اس پر قائم ہیں اور اللہ کے رسولوں نے ان سے کہا کہ محض باپ دادا کا اتباع کیے جاؤ گے یا حق اور ناحق میں فرق کرکے اگر تمہیں بہتر اور آسان راستہ ملے جو منزل مقصود پہ پہنچانے والا ہو اور یہی حق کی خصوصیت تو وہ اختیار کرو گے تب انہوں نے ماننے سے انکار کردیا کہ جو تم لائے اگرچہ وہ حق بھی ہے ہم قبول نہیں کریں گے جب وہ اس حد تک آگے بڑھ گئے تو پھر ہم نے ان سے انتقام لیا اور دیکھ لیجئے انبیاء کی تکذیب کرنے والوں کیسابرا انجام ہوا۔
Ayahs 43:26–35

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖۤ اِنَّنِیْ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 43:26 in the Quran reader

اور جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور اس کی قوم سے فرمایا کہ جن چیزوں کی عبادت تم کرتے ہو بیشک میں ان سے الگ ہوں

اِلَّا الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّهٗ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 43:27 in the Quran reader

مگر جس نے مجھے پیدا فرمایا ہے سو بلاشبہ وہی میری راہنمائی فرمائے گا

وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:28 in the Quran reader

اور یہی بات وہ اپنی اولاد میں پیچھے چھوڑ گئے تاکہ وہ (اللہ کی طرف) رجوع کرتے رہیں

بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى جَآءَهُمُ الْحَقُّ وَ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:29 in the Quran reader

بلکہ ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو فائدہ حاصل کرنے دیا یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف صاف بیان کرنے والا پیغمبر آپہنچا

وَ لَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ وَّ اِنَّا بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:30 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس حق (قرآن) آیا تو کہنے لگے یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو نہیں مانتے

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ Open ayah 43:31 in the Quran reader

اور کہتے ہیں ان دونوں بستیوں (مکہ اور طائف) میں سے کسی بڑے آدمی پر یہ قرآن کیوں نازل نہیں کیا گیا ؟

اَهُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا١ؕ وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 43:32 in the Quran reader

کیا یہ لوگ آپ کے پروردگار کی رحمت (نبوت) کو بانٹتے ہیں ؟ دنیا کی زندگی میں ہم نے ان کی روزی کو ان میں تقسیم فرمایا اور ہم نے ایک کے دوسرے پر درجے بلند کیے تاکہ ایک ، دوسرے سے خدمت لے اور آپ کے پروردگار کی رحمت اس سے کہیں بہتر ہے جو کچھ یہ جمع کرتے ہیں

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَۙ Open ayah 43:33 in the Quran reader

اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ سب لوگ ایک ہی جماعت ہوجائیں گے تو جو رحمن کے منکر ہیں ہم ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتے اور سیڑھیاں (بھی) جن پر وہ چڑھا کرتے

وَ لِبُیُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیْهَا یَتَّكِئُوْنَۙ Open ayah 43:34 in the Quran reader

اور ان کے گھروں کے دروازے اور سخت ، جن پر تکیہ لگا کر بیٹھتے

وَ زُخْرُفًا١ؕ وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 43:35 in the Quran reader

اور سونے کے (بھی) ، اور یہ سب کچھ صرف دنیا کی زندگی کا (چند روزہ) سامان ہے۔ اور آپ کے پروردگار کے ہاں آخرت پرہیزگاروں کے لئے ہے

آیات 26 تا 35۔ اسرار ومعارف۔ اور انہیں باپ دادا ہی کی بات قبول تھی تو ابراہیم (علیہ السلام) کی بات قبول کرتے جنہوں نے باپ دادا کی رسومات قبول کرنے کے بجائے اللہ کی طرف سے عطا کردہ دین اپنایا اور انہیں صاف بتادیا کہ یہ جو کچھ رسومات تم کرتے ہو میں ان سے الگ اور بےزار ہوں بلکہ جس قادر مطلق نے مجھے پیدا فرمایا ہے وہ ہدایت کا راستہ بھی بتائے گا کہ وہ محض پیدا کرکے چھوڑ نہیں دے گا بلکہ انہوں نے نہ صرف پہلوں کے کفر وشرک کی تردید کی بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی حق اور توحید کی اس قدر تاکید فرماگئے کہ ان کے بعد صدیوں تک لوگ عقیدہ توحید پر قائم رہے اور آج تک یعنی بعثت نبوی تک بعض عرب اس پر قائم تھے اور بت پرستی کو براجانتے تھے یہاں یہ ثابت ہے کہ صرف اپنے عقیدے کی اصلاح کرلینا کافی نہیں بلکہ کافرانہ رسومات کی تردید اور خود ان سے برات کا اعلان بھی ضروری ہے نیز ان سے مقابلہ اور احقاق حق کے لیے اس قدر کوشش کی جائے کہ آئندہ نسلوں تک حق بات پہنچے اور اپنی اولاد اور نسل پر خاص توجہ دے۔ عقیدے اور عمل کا اعلان اور اولاد میں اس کا اہتمام۔ شیخ عبدالوہاب شعرانی فرماتے ہیں کہ اولاد کی اصلاح کے لیے بہت ہی موثر طریقہ یہ بھی ہے کہ ان کے لیے بطورخاص دعا کی جائے مگر ان کے آباؤ اجداد نے ان کی بات چھوڑ دی اور پھر سے رسومات ایجاد کرلیں اور ہم نے انہیں مہلت دی مال واولاد بخشی اور یہ بجائے شکر ادا کرنے کے اسی میں منہمک ہوگئے حتی کہ پھر اپنے کرم و احسان سے ان کے پاس کا حق کا پیغام پہنچایا قرآن کریم نازل فرمایا اور نبی برحق کو مبعوث فرمایا یہ کس قدر احسان عظیم تھا مگر جب ان کے پاس پہنچا تو کہنے لگے یہ تو جادو ہے اور ہم اس پر یقین نہیں رکھتے بلکہ ماننے سے انکار کرتے ہیں اور بطور دلیل یہ کہتے ہیں کہ اگر قرآن واقعی اللہ کی طرف سے نازل ہوا تھا تو مکہ اور طائف میں بڑے بڑے مالدار اور بااثر لوگ تھے جن کی بات مانی جاتی تھی اور ان پر کیوں نازل نہ ہوا۔ نبی کریم ﷺ تو مالدار بھی نہیں ہیں یہ بات اتنی بڑی جہالت ہے کہ وہ نبوت جیسی عظیم الشان نعمت کو اپنی رائے کے مطابق دینا چاہتے ہیں یعنی اللہ کی رحمت خاصہ کی تقسیم وہ کرنا چاہتے ہیں حالانکہ اس سے بہت ہی کم تر درجہ کی نعمت جو مومن وکافر سب کو ملتی ہے یعنی معشیت وہ بھی ہم اپنی مرضی سے تقسیم کرتے ہیں اور دنیا میں مختلف اوصاف میں لوگ مختلف حالات کے حامل ہیں کسی کو کچھ عطا ہوتا ہے تو دوسرے کو کچھ اور یوں لوگ ایکد وسرے سے کام لیتے ہیں اور انسانی معاشرہ تشکیل پاتا ہے جب دنیا کی نعمتوں کا یہ حال ہے کہ از خود انسان تقسیم نہیں کرسکتا تو یہ رحمت خاصہ تو اس مال وزر سے جس کے جمع کرنے میں یہ پاگل ہو رہے ہیں بہت زیادہ اعلی وارفع ہے۔ اسلامی معیشت یا اسلام کا معاشی نظام۔ اسلام نے معاش کو انسانی اداروں کے سپرد نہیں کیا کہ وہ طے کریں کہ کس کی ضروریات کیا ہیں اور انہیں کیسے پورا کیا جائے یا وسائل پیداوار حکومت کے سپرد ہوں اور وہ سب کو برابر تقسیم کردے کہ عملا ایسا ممکن نہیں اسلام نے ہر آدمی کو اس کی استعداد کے مطابق اس کا حق دیا ہے اور جس کو جتنا حق دیا ہے اس پر اتنے فرائض بھی رکھے ہیں اس طرح انسان ایک دوسرے کا محتاج ہے ایک ہنرمند مزدور کا محتاج ہے اور مزدور ہنر مند کا محتاج ہے کہ نقشہ توانجینئر نے ہی بنانا مگر اسے اینٹ گارے سے مکان کی شکل دینا مستری اور مزدور کا کام ہے پھر یہ سب مل کر اس مالدار یا مالک مکان کے محتاج ہیں جو سرمایہ مہیا کرے اب یہاں سب سے زیادہ بوجھ مزدور نے ڈھویا اس سے کم بوجھ مستری پر پڑا اور انجینئر نے محض کاغذ پہ لکیریں کھینچیں مگر اجرت انجیئنر کو زیادہ ملی مستری کو اس سے کم اور مزدور کو اس سے کم۔ اشتراکیت نے اسے غلط کہا مگر اسلام نے نجینئر کی عمر بھر کی تعلیم اور اس کی محنت کو شامل رکھ کر اس کی درجہ بندی کی ۔ مستری نے کام سیکھنے پہ جو مشقت اٹھائی وہ شمار کی اور ان کے مقابلے میں مزدور کی صرف وقتی قوت و محنت لگی لہذایہی حق ہے کہ جس پر جس قدر فرض اور ذمہ داری کا بوجھ ہے وہ اتنا پالے گا ، ہاں اگر اشتراکیت چاہے بھی تو تقسیم برابر نہیں کرسکتی کہ انسانی استعداد اس کی عقلی اور ذہنی رسائی اس کا کام کے ساتھ خلوص اور دیانت وامانت بھلا کیسے ماپاجاسکتا ہے ۔ نیز اس کے میلان طبعی کے خلاف اس سے کام لینا محال اور انسانی تقسیم ہر ایک کو اس کے میلان کے مطابق دینے سے قاصر جب کہ قدرتی تقسیم میں ہر فرد اپنی پسند سے اپنے میلان طبع کے مطابق کام اختیار کرتا ہے اور عجیب بات ہے کہ ہر کوئی خوش ہے سیاستدان اپنی جگہ دفتر کا بندہ اپنی جگہ اور کاشتکار اپنی مشقت پہ نازاں ہے اسی طرح اسلام نے سرمایہ دارانہ نظام کو بھی رد کردیا اور ناجائز وسائل سے دولت جمع کرنے کو منع کردیا ذخیرہ اندوزی ہی ، جوا ، سٹہ ، اور سود ، وغیرہ کو حرام قرار دے کر جائز آمدنی پر بھی زکوۃ وعشر جیسے واجبات اور صدقات پر ثواب کا وعدہ دے کر مال کے ایک جگہ جمع ہونے کو روکا یوں دونوں کے درمیان ایک معتدل راستہ قائم کیا۔ اسلامی مساوات۔ اسلامی مساوات سے یہ ہرگز مراد نہیں کہ ہر آدمی کو برابر سرمایہ ملے اور نہ یہ عملا ممکن ہے بلکہ اسلامی مساوات یہ ہے کہ جس کے ذمہ جتنے فرائض ہیں اتنے ہی اس کے حقوق ہیں وہ اپنے فرائض بھی پورے کرے اور اپنے حقوق حاصل کرنے میں بھی کسی کو کوئی دشواری نہ ہو ، یہ نہ ہو کہ کوئی امیر یابااثر تو اپناحق حاصل کرلے اور غریب یا مزدور ٹھوکریں کھاتا رہے اور حقوق وفرائض میں برابری ممکن نہیں ہے۔ اور نہ ہی قدرت نے پیدا کی ہے۔ انسان کے علاوہ بھی مخلوق ہے جس کے فرائض کم تر ہیں تو حقوق بھی کم تر ہیں جیسے جانور کہ حرام حلال یا جائز ناجائز کے مکلف نہیں تو انسان ان سے استفادہ کرتا ہے سواری باربرداری یاذبح کرکے کھا بھی لیتا ہے تو یہ کوئی ظلم نہیں ہاں ان سے اگر خدمت لے گا توکھاناپینا بھی دے گا یا آزاد رہنے دے پھر اللہ کریم خود ان کا مالک ہے روزی دے گا ایسے ہی انسان کو استعداد بخشی تو اس پر فرائض کا بوجھ بھی رکھا اگر دیانت داری سے پورے نہ کرے تو آخرت کا محاسبہ بھی ہوگا اسی قدر ہر ایک کو حقوق بھی عطا فرمائے ج اور جس طرح فرائض کی ادائیگی میں سب برابر ہیں اسی طرح حقوق حاصل کرنے میں سب برابر ہیں۔ اور اس کا اہتمام حکومت کی ذمہ داری ٹھہرایا۔ ان نادانوں نے دولت دنیا کو اتنی اہمیت دی کہ اسے شرط نبوت ٹھہرایا حالانکہ ہمارے نزدیک وہ ایسی حقیر ہے کہ اگر انسانی مزاج میں حرص کے غلبہ کے باعث یہ بات نہ ہوتی کہ اکثر لوگوں کی گمراہی کا سبب بن جائے گا توہم کافروں کو اس قدر دولت دیتے کہ ان کے مکان چھتیں زینے دروازے کواڑ اور تخت سونے چاندی کے ہوتے اور پھر وہ حسرت سے اس سب دولت کو چھوڑ کرمرتے کہ یہ سب محض حیات دنیا کے لیے ہے اور آخرت تو تمہارے پروردگار کے پاس ہے ان لوگوں کے لیے جو تقوی اختیار کرتے ہیں اور اللہ کے قرب کے طالب اور اس کے اطاعت گزار ہیں۔