43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 43:1–3

حٰمٓۚۛ Open ayah 43:1 in the Quran reader

حا۔ میم،

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 43:2 in the Quran reader

قسم ہے (اس) کتاب واضح کی ،

اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 43:3 in the Quran reader

کہ ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم (خوب) سمجھ جاؤ،1۔

1۔ (اہل عرب بطور مخاطب اول کے) (آیت) ” والکتب المبین “۔ قرآں ایک بالکل واضح کتاب بلحاظ اپنے پیش کئے ہوئے مہمات عقائد کے بھی ہے اور بلحاظ اپنے احکام اساسی واولی کے۔ و۔ کلام عرب میں تاکید وزور کلام کے موقع پر قسم لانے کا دستور عام ہے، اور استشہاد کا پہلو جو قسم میں ہوتا ہے، وہ اس خاص موقع پر عیاں وظاہر ہے۔ یعنی قرآن پر غور کرنے سے خود اس کے مضامین کا اعجاز ظاہر ہوا جارہا ہے۔ عربی اسلوب بیان ہی سے کہ مثلا جب عرب ادیب، خطبی، شاعر کو اپنی شجاعت ودلیری کا اظہار مقصود ہوگا تو بجائے اس کے کہ اردومح اور ہ کے مطابق وہ یہ کہے کہ میرے کارناموں پر میری تلوار گواہ ہے، وہ یہ کہے گا کہ مجھے تلوار کی قسم ہے۔ اقسام قرآنی کی حقیقت کے لئے ملاحظہ ہوں۔ ” قرآنی قسمیں “ بطور (پ 14، سورة الحجر کے) ضمیمہ کے۔ (آیت) ” جعلنہ “۔ ضمیرہ ظاہر ہے کہ (آیت) ” الکتب “ کی جانب ہے۔ (آیت) ’ حم “۔ اس پر حاشیہ گذر چکا ہے۔ (آیت) ” انا جعلنہ “۔ بڑی پرانی بحث چلی آرہی ہے کہ قرآن مجید قدیم، غیر مخلوق ہے یا حادث و مخلوق، آیت کے لفظ (آیت) ” جعل “۔ سے اہل اعتزال کو اپنے مسلک حدوث قرآن کی گویا سند ہاتھ آگئی ہے۔ القائلون بحدوث القران احتجوا بھذہ الایۃ (کبیر) اہل سنت کا مذہب صحیح یہ ہے کہ قرآن مجید کی حیثیتیں دو ہیں۔ ایک معنوی، دوسرے تعبیری، معنوی حیثیت سے یعنی فی نفسہ کلام ہونے کے اعتبار سے دوسری صفات الہی کی طرح وہ بھی قدیم اور غیر مخلوق اور ہر عرض (صوت، صورت، حروف ولغت وغیرہ) سے منزہ ومبرا ہے۔ رہی اس کی دوسری یا تعبیری حیثیت، سو ہماری فہم وادارک کی گرفت میں لانے کے لئے وہ مجموعہ اعراض ہے اس میں حروف ہیں، کلمات ہیں۔ نقوش ہیں وقس علی ھذہ۔ اور اس اعتبار سے اس کا حادث و مخلوق ہونا بالکل ظاہر ہے۔ (آیت) ” المبین “۔ صفت مبین کا ایک پہلو تو ظاہر لفظ وعبارت کے لحاظ سے ہے، اور اس معنی میں وہ اپنے مخاطبین اول یعنی قوم عرب کیلئے بالکل واضح ہے۔ اور دوسرا پہلو اس کے معانی ومطالب کے لحاظ سے ہے کہ اس نے راہ ہدایت واصلاح کو طریق کفر وضلالت سے بالکل واضح وممتاز کردیا ہے اور اس معنی میں اس کی ابانت کا تعلق سارے عالم سے ہے۔ وفی وصف الکتب بکونہ مبینا وجوہ الاول انہ المبین للذین انزل الیھم لانہ بلغتھم ولسانھم والثانی المبین الذی ابان طریق الھدی من طریق الضلالۃ وابان کل باب عما سواہ وجعلھا مفصلۃ ملخصۃ (کبیر)
Ayah 43:4

وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌؕ Open ayah 43:4 in the Quran reader

اور بیشک وہ لوح محفوظ میں ہمارے پاس ہے بڑے مرتبہ کا، حکمت سے بھرا ہوا،2۔

2۔ (اپنے نازل کرنے والے کے ہم صفت) (آیت) ” لعلی حکیم “۔ سورة ماقبل کے ختم کے قریب حق تعالیٰ کی شان انہیں صفات کے ساتھ بیان ہوچکی ہے۔ (آیت) ” انہ علی حکیم “۔ اب ذکر اس کا ہے کہ کلام بھی متکلم ہی کی شان کے مطابق بڑے رتبہ والا ہے، خاک کو پاک بنادینے والا ہے اور حکمتوں اور دانائیوں سے لبریز ہے .... جس کتاب پر دارومدار سارے عالم کی ہدایت و رہنمائی کا ہو، بیشک اسے ہونا بھی ایسا ہی تھا۔ (آیت) ” الکتب “۔ سے یہاں مراد لوح محفوظ ہے (ابن جریر) (آیت) ” لدینا “۔ باعتبار شرف واختصاص کے ہے۔ یہ قرب رتبہ ہے، قرب مکان نہیں۔
Ayah 43:5

اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ Open ayah 43:5 in the Quran reader

کیا ہم تم سے (اس) نصیحت نامہ کو اس لیے ہٹالیں گے کہ تم حد سے گزر جانے والے ہو،3۔

3۔ یعنی کیا قرآن کا نزول اور اس کی تبلیغ اس لئے موقوف کردی جائے گی کی تم اس پر ایمان نہیں لاتے۔ حالانکہ عین حکمت و رحمت دونوں کا تقاضا ہے کہ یہ فیض کامل برابر جاری رہے۔ ھذا الکلام یحتمل وجھین الاول الرحمۃ والثانی المبالغۃ فی التغلیظ (کبیر)
Ayahs 43:6–7

وَ كَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:6 in the Quran reader

اور ہم پہلے لوگوں میں بہت سے نبی بھیجتے رہے ہیں

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 43:7 in the Quran reader

اور ان (لوگوں) کے پاس کوئی نبی (ایسا) نہیں آیا جس سے انہوں نے تمسخر نہ کیا ہو،4۔

4۔ (لیکن اس تکذیب و استہزاء کے باوجود سلسلہ ارشاد وہدایت برابر ہی جاری رہا) یہاں دو تاریخی حقیقتوں کا اعلان ہے۔ ایک یہ کہ زمانہ ماضی میں انبیاء کثرت سے آتے رہے، دوسرے یہ کہ ان کے ساتھ منکرین کی طرف سے تمسخر و استہزاء کا سلسلہ بھی برابر جاری رہا۔
Ayah 43:8

فَاَهْلَكْنَاۤ اَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَّ مَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:8 in the Quran reader

پھر ہم نے ان لوگوں کو جو ان (موجودہ مخاطبین) سے بھی زیادہ زور آور تھے غارت کرڈالا اور پہلے لوگوں کی یہ حالت گزر چکی ہے،5۔

5۔ (اس لئے آپ فکرنہ کریں، ان کا بھی یہی انجام ہونا ہے، اور خود یہ بھی مطمئن نہ رہیں کہ آخر پرانے نمونے ان کے سامنے موجودہی ہیں)
Ayah 43:9

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 43:9 in the Quran reader

اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو یہ یقیناً کہیں گے کہ انہیں پیدا کیا ہے (اسی خدائے) ہمہ تواں نے ہمہ داں نے،6۔

6۔ جہاں تک نفس تخلیق کا سوال ہے۔ مشرکین بھی اکثر اور عموما توحیت ذات ہی کے قائل ہیں اور صفت خالقیت میں بہت کم کسی کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ سارا زور شرک کا صفات ربوبیت وغیرہ میں اچھل پڑتا ہے۔ مشرکین عرب بھی خالق کو واحد ہی تسلیم کرتے تھے۔
Ayahs 43:10–12

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ Open ayah 43:10 in the Quran reader

وہی جس نے تمہارے زمین کو فرش کا بنادیا اور اس میں اس نے تمہارے لیے راستے بنادیئے، تاکہ تم راہ پاتے رہو

وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ١ۚ فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ۚ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ Open ayah 43:11 in the Quran reader

اور جس نے آسمان سے پانی ایک خاص انداز سے برسایا، پھر ہم نے اس سے خشک زمین کو زندہ کیا اسی طرح تم بھی (اپنی قبروں سے) نکالے جاؤ گے ،

وَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَۙ Open ayah 43:12 in the Quran reader

اور جس نے تمام اقسام بنائیں اور تمہارے لئے وہ کشتیاں اور چوپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو،7۔

7۔ مشرکین کو قائل کرنے کے لئے اب ذات خالق واحد کی دوسری صفات کا بیان ہورہا ہے۔ یعنی جس خالق کو یکتا تم خود تسلیم کرتے ہو، اسی کے صفات و کمالات یہ بھی تو ہیں۔ کائنات کے سارے انتظامات میں بھی تو وہی لاشریک لہ ہے۔ زمین کی یہ خاص ہئیت اسی کی حکمت کاملہ نے بنائی ہے کہ اس پر انسان کا رہنا ممکن ہو۔ سطح زمین کے راستوں، سڑکوں میں تقسیم یہ بھی اسی حکیم مطلق کا فعل ہے کہ تم بآسانی چل پھر سکو، آسمان کی طرف سے پانی برسانا ایک خاص مقدار میں، ایک معین وقت پر، حسب ضرورت ومصلحت، یہ سب بھی بس اسی کا کام ہے پھر اس بارش سے زمین خشک کو سبزہ زار بنادینا اسی کی حکمت وصنعت ہے جو بعث وحشر پر بھی اسی طرح قادر ہے۔ اور جو اس کے یہ ہلکے نمونے روز مرہ تمہاری آنکھوں کے سامنے لاتا رہتا ہے۔ پھر اشیاء مخلوق کی بیشمار قسمیں، باہم متناسب نمودار کرنا یہ بھی اسی کی کارسازی ہے اور بحری وبری سواریاں بہم پہنچا دینا یہ بھی اسی کا احسان عظیم ہے۔ (آیت) ” الذی جعل ...... سبلا “۔ زمین کے سارے جغرافی تغیرات جن سے انسان کو مدد مل سکتی ہے، اس کے تحت میں آگئے۔ (آیت) ” والذی ..... میتا “۔ بادل بارش، کاشتکاری، باغبانی کے سلسلہ کے چھوٹے بڑے جتنے تغیرات ہیں سب اس میں شامل ہیں۔ (آیت) ” والذی .... کلھا “۔ مخلوقات کی تنویع، تقسیم، تزویج سب اس کے تحت میں آگئی۔ قال ابن عباس (رح) والازواج الضروب والانواع کالحلو والحامض والابیض والاسود والذکر والانثی (کبیر) (آیت) ” وجعل ..... ماترکبون “۔ دریائی اور زمینی جتنی بھی سواریاں ہیں، سب اسی میں داخل ہیں۔ بعض محققین نے کہا ہے کہ مخلوقات جتنی بھی ہیں، سب جوڑے جوڑے ہیں، مثلا ذات وصفات، آگے پیچھے، داہنے بائیں، اوپر نیچے، ماضی، مستقبل، اچھا، برا، وغیرہ اور یہی دلیل ہے اس کے حادث وممکن الوجود ہونے کی۔ قال بعض المحققین کل مامور اللہ فھو زوج کالفوق والتحت والیمین والیسار وکونھا ازواجا یدل علی کونھا ممکنۃ الوجود فی ذوا تھا محدثۃ (کبیر) صرف ذات واجب الوجود فرد مطلق ہے، ہر رشتہ تضاد وتقابل وشرکت سے ماوراء ومافوق، فاما الحق سبحانہ فھو الفرد المنزہ عن الضد والند والمقابل والمعاضد (کبیر)
Ayahs 43:13–14

لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْهِ وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ Open ayah 43:13 in the Quran reader

تاکہ تم ان کی پیٹھ پرجم کر بیٹھو پھر جب تم اس پرجم کر بیٹھ چکو تو اپنے پروردگار کی (اس) نعمت کو یاد کرو اور کہو کہ پاک ذات ہے وہ جس نے ہمارے تابع کردیا اس (سواری) کو اور ہم تو ایسے تھے نہیں کہ اس کو قابو میں کرلیتے ،

وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ Open ayah 43:14 in the Quran reader

اور ہم کو تو اپنے پروردگار ہی کی طرف لوٹنا ہے،8۔

8۔ اسلام زندگی کے ہر ہر شعبہ کے لئے ایک مکمل دستور العمل ہے۔ وہ انسان کو خدا کی حاکمیت اور اپنی عبدیت کی طرف سے غفلت کی اجازت کسی وقت اور کسی حالت میں نہیں دیتا۔ سواری اچھے گھوڑے کی ہو یا موٹر کی یاریک کی یا جہاز کی، انسان جب کبھی اس نعمت سے مستفید ومحظوظ ہوتا ہے تو اکثر اس میں ایک گونہ تفاخر کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے اور اسے وہ اپنے کمال و استحقاق کی جانب منسوب کرکے فخر کرنے لگتا ہے، قرآن نے اس کی جڑ کاٹ دی اور ارشاد فرمادیا کہ جب سواریوں سے فائدہ اور لطف اٹھاؤ تو پہلے دل میں خدائی نعمتوں کا استحضار کرلو، اور یہ خیال تازہ کرلو کہ یہ جو کچھ بھی مل رہا ہے۔ سب عنایت وافضال الہی سے مل رہا ہے اسی نے تم میں اتنی طاقت، ہمت وتدبیر دے دی ہے اور بہتر یہ ہے کہ زبان سے بھی یہ کہہ ڈالے کہ ہم میں کوئی ذاتی استحقاق اس کا کب تھا۔ ہم ایسے طاقتور، یا ایسے ہنرورکب تھے کہ ان سواریوں کو قابو میں لے آتے۔ یہ تو محض آپ کا فضل وکرم ہے اور ہم کو عین وقت فرح ومسرت میں اپنا انجام یاد ہے کہ ہم اور ہماری لذتیں فانی ہیں، باقی نہیں، ہم سب کو اپنے پروردگار کے حضور میں حساب و جواب کے لئے حاضری دینا ہے۔ جس قوم کے دل میں اپنی عبدیت کا یہ استحضار اور جس کی زبان پر اس قسم کے کلمات خود شناسی رہیں۔ کہیں اسے بھی گھمنڈ اور دعوی اپنے ایٹم بم، ہائیڈروجن بم اور دوسری ہلاکت بار مشینوں کا ہوسکتا ہے ؟
Ayah 43:15

وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِیْنٌؕ۠ Open ayah 43:15 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے اللہ کا جزء اللہ کے بندوں میں سے ٹھہرا لیا، بیشک انسان کھلا ہوا ناشکرا ہے،9۔

9۔ یہ عام فطرت بشری کا بیان ہے کہ انسان بجائے نعمتوں کی شکر گذاری کے الٹا ناسپاسی ونافرمانی کی طرف چلا جاتا ہے۔ (آیت) ” وجعلوا ...... جزء ا “۔ مثلا مسیحی جو الوہیت کے اجزاء روح القدس ومسیح کو بھی قرار دیئے ہوئے ہیں۔ المراد انھم اثبتوا لہ ولدا (کبیر) فلسفہ قدیم کی اصطلاحوں میں مسء لہ کی تقریر یہ ہوگی کہ خدا کو جب خالق مان لیا تو لازم ہے کہ وہ قدیم بھی ہو کیونکہ حادث موجد کل ہو ہی نہیں سکتا۔ اور جب وہ قدیم ٹھہرا تو اس سے عدم ترکیب بھی اس کے لئے لازم آئی۔ جو مرکب ہے وہ قدیم کیونکر ہوسکتا ہے تو جو قدیم، غیر مرکب ہے اس کا کوئی جزء تسلیم کرنا اسے مرکب وحادث قرار دینا ہو ! آیت کے ایک معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ انہوں نے مخلوقات کے درمیان تقسیم کردی، کچھ کو اللہ کے لئے رکھا اور کچھ کو غیر اللہ کے سپرد کردیا۔ زعموا ان کل العباد لیس للہ بل بعضھا للہ وبعضھا لغیر اللہ (کبیر) (آیت) ” جعلوا ...... جعل “۔ آیت میں حکم لگانے یا قرار دینے کے معنی میں ہے۔ ومعنی الجعل ھھنا الحکم بالشیء (معالم)
Ayahs 43:16–17

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰىكُمْ بِالْبَنِیْنَ Open ayah 43:16 in the Quran reader

ہاں تو) کیا (اللہ) نے مخلوق میں سے اپنے لئے بیٹیاں پسند کرلیں اور تمہیں بیٹوں کے ساتھ مخصوص کردیا ؟

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 43:17 in the Quran reader

درآنحالیکہ ان لوگوں میں سے خود جب کسی کو اس کی بشارت دی جاتی ہے جسے (خدائے) رحمن کا نمونہ قرار دے رکھا ہے تو اس کا چہرہ دن بھر اداس رہتا ہے اور وہ اندر ہی اندر گھٹتا رہتا ہے،10۔

10۔ بہت سی مشرک قوموں نے دیویوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیا ہے۔ مشرکین عرب میں یہ مرض اور زیادہ تھا۔ مشرک قوموں نے عموما اور عرب نے خصوصا بیٹیوں کو ذلیل بھی بہت سمجھا ہے تو یہاں مقصود کلام یہ ہے کہ یہ احمق ایک تو اللہ کی اولاد فرض کر تین ہیں، اور پھر اولاد بھی بیٹیاں جنہیں خود اپنے لئے باعث ننگ وعار سمجھتے ہیں۔
Ayah 43:18

اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ هُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ Open ayah 43:18 in the Quran reader

تو کیا جو زیورات میں پرورش پائے اور مباحثہ میں بھی ژولیدہ بیان ہو (وہ اللہ کی اولاد بننے کے قابل ہے ؟ ) ،11۔

11۔ آیت سے فطرت نسوانی کے متعلق دو حقیقتیں ثابت ہوئیں، ایک یہ کہ زیور، آرائش ونمائش کا شوق عورت کی سرشت میں داخل ہے، دوسرے یہ کہ اس کی قوت استدلال ضعیف ہی ہے ..... ان دونوں کے لئے ملاحظہ ہوں انگریزی تفسیر القرآن کے حاشیے۔ (آیت) ” من ینشؤا فی الحلیۃ “۔ آج دیکھ لیا جائے کہ یورپ اور امریکہ کی زن جدید اپنی آرائش وزیبائش کے سامان پر، اپنی تزئین جمال اور اپنے بناؤ سنگھار پر کتنی دولت ہر سال بےدریغ خرچ کرتی رہتی ہے۔
Ayah 43:19

وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓئِكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا١ؕ اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ١ؕ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:19 in the Quran reader

اور انہوں نے فرشتوں کو جو (خدائے) رحمن کے بندے ہیں عورت قرار دے رکھا ہے تو کیا یہ ان کی پیدائش کے وقت موجود تھے، ان کا دعوی لکھ لیا جاتا ہے اور ان سے باز پرس ہوگی،12۔

12۔ فرشتوں کی نسائیت پر حاشیے اس کے قبل گذر چکے ہیں۔ پ 5 اور پ 15 میں۔ محققین نے آیت سے یہ استنباط کیا ہے کہ کسی عقیدہ کا بلادلیل قائل ہوجانا قابل ملامت ہے اور تقلید جامد جو محض رسم پرستی کی مرادف ہے مورد وعید ہے۔ ھذا یدل علی ان القول بغیر دلیل منکر وان التقلید یوجب الذم العظیم والعقاب الشدید (کبیر)
Ayah 43:20

وَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ١ؕ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۗ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَؕ Open ayah 43:20 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں کہ اگر (خدائے) رحمن کو (یہی) منظور ہوتا تو ہم فرشتوں کی پرستش (ہی) نہ کرتے انہیں اس بارے میں کچھ بھی تحقیق نہیں، محض اٹکل سے کام لے رہے ہیں،13۔

13۔ مشرکوں کا کہنا یہ تھا کہ یہ شرک اگر ایسی ہی بری چیز تھی تو خدا نے آخر ہمیں اس پر قدرت کیوں دی ؟ اسے یہی منظور ہوتا تو وہ ہمیں شرک کرنے ہی نہ دیتا۔ گویا استدلال یہ تھا کہ چونکہ اس نے ہمیں گناہ پر قادر کردیا ہے۔ اس لئے وہ گناہ پر راضی بھی ہے ! بالکل ظاہر ہے کہ انسان کو اختیار جو ملا ہے وہ تو محض اسے مکلف بنانے کے لئے۔ اسے محل احتساب، مستوجب عذاب وثواب بنانے کے لیے ہے۔ اختیار ہی اگر نہ ہوتا تو وہو تو بالکل مشین کے حکم میں داخل ہوتا اور عذاب وثواب کا کوئی سوال ہی نہ باقی رہتا۔
Ayah 43:21

اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ فَهُمْ بِهٖ مُسْتَمْسِكُوْنَ Open ayah 43:21 in the Quran reader

ہم نے کیا اس (قرآن) سے قبل انہیں کوئی کتاب دے رکھی ہے جس سے یہ سند پکڑ رہے ہیں ؟ ،14۔

14۔ مشرکوں کے استدلال عقلی کی تردید ابھی ہوچکی، اب ارشاد ہورہا ہے کہ ان کے پاس شرک پر کوئی دلیل نقلی ہے ؟ کسی قدیم نوشتہ الہی کی سند ہے ؟...... قرآن مجید نے بار بار مشرکوں کی یہ دکھتی ہوئی رگ پکڑی ہے، اور بار بار ان سے مطالبہ کیا ہے کہ اثبات شرک پر، اثبات تعداد الہہ پر کوئی دلیل عقلی یانقلی کسی قسم کی ہو، تو پیش کرو،
Ayah 43:22

بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:22 in the Quran reader

نہیں بلکہ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک خاص طریقہ پر پایا ہے اور ہم انہیں کے نقش قدم قدم رکھ رہے ہیں،15۔

15۔ یعنی بجز اندھی تقلید کے ان کے پاس دلیل کے نام سے کوئی چیز ہی نہیں، نہ عقلی نہ نقلی، امام رازی (رح) نے کہا ہے کہ آباء پرستی وتقلید جامد کی مذمت میں قرآن مجید میں اگر اور کہیں کچھ نہ ہوتا۔ جب بھی یہی آیات بالکل کافی تھیں، ولم یکن فی کتاب اللہ الا ھذہ الایات لکفت فی ابطال القول بالتقلید (کبیر)
Ayah 43:23

وَ كَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ Open ayah 43:23 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے آپ سے پہلے کسی بستی میں کوئی پیغمبر نہیں بھیجا، مگر یہ کہ وہاں کے خوشحال لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے تو اپنے باپ دادا کو ایک (خاص) طریقہ پر پایا ہے اور ہم انہیں کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں،16۔

16۔ یعنی یہ آباء پرستی اور جمود وتقلید پسندی کوئی نئی بات نہیں، گمراہیوں کا شعار ہمیشہ سے رہی ہے۔ (آیت) ” الا قال مترفوھا “۔ پیغمبروں کی مخالفت کے لیڈر اور سرغنہ، قوم کے امراء رؤساء ہی ہمیشہ ہوتے ہیں۔ عوام نے ان کی صرف تقلید کی ہے۔
Ayahs 43:24–25

قٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْهِ اٰبَآءَكُمْ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:24 in the Quran reader

(اس پر ان کے پیغمبر نے) کہا کہ اور اگر میں اس سے بہتر طریقہ منزل پر پہنچا دینے کے اعتبار سے لایا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ داد اکو پایا ہے ؟ وہ بولے (جب بھی) ہم اس کے تو ماننے والے نہیں جسے دے کر تمہیں بھیجا گیا ہے ،

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 43:25 in the Quran reader

سو ہم نے ان سے انتقام لے لیا، سودیکھئے تکذیب کرنے والوں کا کیسا انجام ہوا،7 1۔

17۔ ان آیتوں کا خلاصہ مطالب یہ ہے کہ پیغمبر جب اور جہاں کہیں اصلاح امت کے لئے مبعوث ہوئے ہیں، حق، دلیل وبرہان انہیں کے ساتھ رہا ہے۔ منکرین و مخالفین کے پاس بجز تعصب، ہٹ دھرمی، آبائی پاسداری، رسم و رواج کی شدت کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ وہ پیغمبرانہ حقائق کے مقابلہ میں صرف اپنے ہاں کے رسوم اور دستوروں کو پیش کرتے ہیں اور اس ضد وعناد میں ان کے رؤساء وسردار آگے آگے ہوتے ہیں، پیغمبروں کے دلائل و شواہد، وہ سب بےاثر رہتے ہیں، یہاں تک کہ قوم تباہ وہلاک ہو کر رہتی ہے۔ (آیت) ” او ..... ابآء کم “۔ پیغمبروں کا جواب ہمیشہ یہی رہا ہے کہ اپنے آبائی ریت ورسم اور ہماری لائی ہوئی شریعت کا مقابلہ کرکے دیکھ لونا ! کہ کون عملی، اخلاقی، ہر اعتبار سے بہتر ہے، رسول کے پیش کئے ہوئے دلائل پر غور نہ کرنے اور اپنی ضد، ہٹ تعصب تقلید پرستی پر قائم رہنے کی پوری مذمت آیت سے نکلتی ہے۔ فی الدلالۃ علی ابطال التقلید لذمہ ایاھم علی تقلید اباءھم وترکھم النظر فی مادعا ھم الیہ الرسول ﷺ (جصاص)
Ayah 43:26

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖۤ اِنَّنِیْ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 43:26 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی قابل ذکر ہے) جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا کہ میں ان چیزوں سے بیزار ہوں، جن کو تم پرستش کرتے ہو،18۔

18۔ قوم عرب جو قرآن کی مخاطب اول تھی اور سب سے زیادہ تقلید آبائی اور جمود میں گرفتار، وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی کی نسل سے تھی۔ حالانکہ آپ خود موحد اعظم تھے، ایک خاص غایت اس غایت اس محل پر کے ذکر کی یہ بھی ہے۔ (آیت) ” ابراہیم لابیہ “۔ ابراہیم اور آپ کے والد آزر دونوں پر حاشیے پہلے گذر چکے۔ (آیت) ” قومہ “۔ ضمیرہ ابراہیم کی طرف بھی جاسکتی ہے اور ابیہ کی طرف بھی حاصل دونوں صورتوں کا ایک ہی ہے۔ (آیت) ” مما تعبدون “۔ کلدانی قوم بت پرستی اور ستارہ پرستی کے دہرے شرک میں مبتلا تھی، جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے متعلق سابق کے حاشیوں میں گذر چکا۔
Ayah 43:27

اِلَّا الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّهٗ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 43:27 in the Quran reader

ہاں البتہ پرستش اس کی کرتا ہوں جس نے مجھے پیدا کیا، پھر وہی میری رہنمائی کرتا ہے،19۔

19۔ ایک موحد کی یہی شان ہے کہ وہ اسی طرح شرک و متعلقات شرک سے اپنی بےتعلقی وبیزاری کا اظہار کرتا رہے۔ آیت میں اثبات توحید دوگونہ صفات کے لحاظ سے ہے۔ سب کا فاطر و خالق بھی وہی ہے اور سب کا ہادی ومرشد حقیقی بھی وہی۔
Ayah 43:28

وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:28 in the Quran reader

اور وہ اس (عقیدۂ توحید) کو اپنے اخلاف میں ایک قائم رہنے والی بات کرگئے تاکہ (مشرک آیندہ بھی توحید کی طرف) رجوع کرتے رہیں،20۔

20۔ یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خود ہی تنہا موحد نہ تھے بلکہ اپنے سلسلہ میں بھی یہی پیام توحید چھوڑ گئے، (آیت) ” جعلھا “۔ ضمیر ھا کلمہ توحید کی جانب ہے۔ اے کلمۃ التوحید التی تکلم بھا (کبیر)
Ayah 43:29

بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى جَآءَهُمُ الْحَقُّ وَ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:29 in the Quran reader

اصل یہ ہے کہ میں نے ان لوگوں اور ان کے باپ دادوں کو (خوب سا) سامان دے دیا یہاں تک کہ ان کے پاس (کلام) حق اور ایک روشن رسول آگیا،21۔

21۔ (اور وہ اسی متاع دنیوی میں مشغول ومنہمک ہو کر دین حق کی طرف سے غافل بلکہ منکر ہوبیٹھے) (آیت) ” ھؤلآء “۔ یعنی قوم عرب جس کا ذکر ابھی (آیت) ” فی عقبہ “۔ میں ضمنا آچکا ہے۔ یعنی اھل مکۃ وھم من عقب ابراہیم بالمدفی العمر والنعمۃ (کبیر) قال مجاھد وقتادۃ یعنی کلمۃ التوحید (معالم) (آیت) ” الحق “۔ یعنی قرآن مجید۔ یعنی القران (معالم) (آیت) ” رسول مبین “۔ یعنی محمد مصطفے ﷺ ۔
Ayahs 43:30–31

وَ لَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ وَّ اِنَّا بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:30 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس (کلام) حق آگیا تو وہ بولے کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کے منکر ہیں ،

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ Open ayah 43:31 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ یہ قرآن دو (مشہور) بستیوں کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں نازل کیا گیا،22۔

22۔ یہ آخری اعتراض ہے جو رسول اللہ ﷺ کی صداقت پر معاندین کی طرف سے ساحر وغیرہ قرار دیئے جانے کے بعد عائد کیا جاتا تھا۔ یہ لوگ کہتے تھے کہ اگر یہ واقعی رسول ہیں تو یہ ہم میں سے کوئی بہت بڑے آدمی بلحاظ جاہ وتمول کے کیوں نہ ہوئے ؟ کہ عوام اپنے رؤساء کی راہ پر قدرۃ چلنے لگتے ہیں، گویا اعتراض کی اصل یہ تھی کہ ان لوگوں کے زعم میں جاہ و ریاست لوازم نبوت ومقبولیت میں سے ہے۔ (آیت) ” ھذا ..... کفرون “۔ معاندین نے اعجاز قرآنی سے عاجز ولاجواب ہو کر یہی کہنا شروع کیا تھا کہ یہ کلام جو اس درجہ مؤثر ہے، یہ تو سحر وساحری کا نتیجہ ہے۔ (آیت) ” القریتین “۔ دوشہروں سے مراد مکہ وطائف ہیں جو اس وقت حجاز کے مرکز تہذیب و تمدن تھے۔ (آیت) ” عظیم “۔ یہ صفت (آیت) ” رجل “۔ کی ہے۔ مراد یہ ہے کہ قرآن کو نازل ہی ہونا تھا تو کسی صاحب مال وجاہ یا صاحب ریاست پر کیوں نہ نازل ہوا۔ ھوالذی یکون کثیر المال والجاہ (کبیر) قریش کے ہاں اکثر جاہلی قوموں کی طرح کسی شخص کا اولاد اکبر میں سے ہونا ایک بڑا معیار ریاست وسرداری کا تھا، ہمارے حضور ﷺ کے والد اول تو اپنے والد کی اولاد اکبرنہ تھے۔ اور پھر حضور ﷺ کی پیدائشی یتیمی، جس کی بناء پر آپ اپنی کفالت کے لیے پہلے دادا اور پھر ایک نسبتا مفلس چچا کے دست نگر رہے۔ یہ سب باتیں مل ملا کر آپ کو کسی طرح بھی قریش کی نظر میں ” عظیم “ نہیں بننے دیتی تھیں،
Ayah 43:32

اَهُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا١ؕ وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 43:32 in the Quran reader

تو کیا آپ کے پروردگار کی رحمت (خاصہ) کو تقسیم یہ لوگ کرتے ہیں،23۔ ہم نے تو ان کے درمیان ان کی دنیوی زندگی (تک) میں ان کی روزی تقسیم کر رکھی ہے اور ہم نے ایک کے درجہ دوسرے سے بلند کر رکھے ہیں تاکہ ایک دوسرے سے کام لیتا رہے، اور آپ کے پروردگار کی رحمت اس سے (کہیں) بہتر ہے جسے یہ لوگ سمیٹے رہتے ہیں،24۔

23۔ کیا یہ احمق یہ سمجھتے ہیں کہ نبوت جو اللہ کا سب سے بڑا ممکن عطیہ ہے اور خاص الخاص رحمت و عنایت، اس کی تقسیم ان لوگوں کے صلاح ومشورہ سے کی جاتی ہیں ؟ اللہ ہی سب کی صلاحیتوں، اہلیتوں استعدادوں کا علم کامل رکھتا ہے اور اسی نے اپنے اس ہمہ گیر علم کی مناسبت سے موزوں ترین شخص کو اس منصب پر مامور کیا ہے۔ (آیت) ” رحمت ربک “۔ رحمۃ کے عام معنی کے علاوہ یہاں خصوصی اشارہ نبوت کی جانب بھی سمجھا گیا ہے۔ اے النبوۃ (مدارک) 24۔ مطلب یہ ہوا کہ دنیوی نعمتیں جو اس قدر حقیر ہیں، ان تک کی تقسیم اور ان کا انتظام ہم نے اپنے قبضہ قدرت میں رکھا ہے تو نبوت جیسی گراں بہانعمت کسی مخلوق کے ہاتھ میں کیسے چھوڑی جاسکتی تھی ؟ اس کی تقسیم اور اس کا انتظام تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کرسکتا ہے، آیت سے دو اور امور بھی مستنبط ہوتے ہیں :۔ (1) دنیا میں معاشی تقسیم یوں ہی اٹکل پچو نہیں، ایک خاص نظام تکوینی کے ماتحت چل رہی ہے۔ (2) معاشی حیثیت سے بھی درجات کا فرق بالکل فطری و طبعی ہے۔ کوئی دائن ہوگا، کوئی مدیون، کوئی دولت مند، کوئی بےمایہ۔ (آیت) ” رفعنا ..... سخریا “۔ معاشرہ میں فرق مراتب بالکل فطری و طبعی ہے۔ کوئی دولت مند ہوگا کوئی نادار، کوئی افسر کوئی ماتحت، بےطبقات معاشرہ (JAssless, Society) کا لفظ ہی سرے سے بےمعنی ہے .... اسلام صرف جو روجبر کو روکتا ہے۔ کسی پر ظلم کی گنجائش شریعت اسلامی میں نہیں، باقی بڑے چھوٹے کا نفس فرق تو قائم رہے گا، اور اسے قائم رہنا چاہئے۔ (آیت) ” رحمت ربک “۔ رحمۃ سے یہاں بھی مراد نبوت یا دین الہی سے لی گئی ہے۔ اے النبوۃ اودین اللہ (مدارک)
Ayahs 43:33–35

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَۙ Open ayah 43:33 in the Quran reader

اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ سب لوگ ایک ہی طریقہ کے ہوجائیں گے تو جو لوگ (خدائے) رحمن سے کفر کرتے ہیں ان کے گھروں کی چھتیں ہم چاندی کی کردیتے اور زینے بھی (چاندی کے کردیتے) جن پر یہ چڑھا کرتے ،

وَ لِبُیُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیْهَا یَتَّكِئُوْنَۙ Open ayah 43:34 in the Quran reader

اور ان کے مکانوں کے دروازے (تک بھی) اور وہ تخت بھی جس پر یہ تکیہ لگا کربیٹھتے ہیں ،

وَ زُخْرُفًا١ؕ وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 43:35 in the Quran reader

اور سونے کی بھی (یہ چیزیں کردیتے،25۔ لیکن یہ سب سامان صرف دنیاوی زندگی کی چند روزہ کامرانی ہے، اور آخرت تو آپ کے پروردگار تو آپ کے پروردگار کے ہاں خدا ترسوں ہی کے لئے ہے،26۔

25۔ مطلب یہ ہوا کہ دنیا میں اور اس کا سارا سازوسامان اللہ کے ہاں اس قدر حقیر وبے وقعت ہے کہ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ خلقت کا رجحان تمامتر کفر کی جانب ہوجاتا ہے اور قریب قریب سب ہی ملت کفر اختیار کرنے لگتے تو اللہ صرف کافروں ہی کو دولت دنیوی و سامان مادی سے نواز دیتا۔ سب کو چاندی سونے کا بنا دیتا لیکن اگر ایسا ہوتا تو لوگ یہی سمجھنے لگتے کہ مقبولیت طریق کفر کو حاصل ہے، اور اسی طرف جھک پڑتے، والمقصود من ھذا الکلام تحقیر الدنیا وبیان ما فی المال والجاہ من المضار العظیمۃ وذلک لان کثرۃ المال والجاہ تجعل الانسان کالاعشی عن مطالعۃ ذکر اللہ تعالیٰ ومن صار کذلک صار جلیسا للشیطان (کبیر) آیت سے یہ بھی نکل آیا کہ مال وجاہ کی افراط نقصان و حرمان ہی باعث ہوتی ہے۔ تثبت بما ذکرنا ان کثرۃ المال والجاہ تو جب کمال النقصان والحرمان فی الدین والدنیا (کبیر) آیت سے ان ” مصلحین “ کی روش پر بھی روشنی پڑگئی جو اپنی تحریروں، تقریروں میں یورپ اور امریکا کے مال و دولت کا ذکر للچائے ہوئے لہجہ میں کرتے رہتے اور مسلمانوں کو اس طرح ترغیب دیتے رہتے ہیں کہ جیسے یہزرداری ہی ترقی کی معراج ہے۔ 26۔ یعنی دنیا تو پوری کی پوری ہاتھ آجانے کے بعد بھی بہرحال فانی ہی فانی ہے۔ سرتا سر ناقابل قدر وناقابل طلب، قابل قدر وقابل طلب تو صرف آخرت ہے اور وہ تقوی یعنی ایمان وطاعت ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ علماء حق نے کہا ہے کہ آیت سے چار مضمون پیدا ہوتے ہیں۔ : (1) مومنین کے حق میں رعایت کہ کہیں یہ پھسل نہ جائیں اور دولت کو رضا الہی سمجھنے لگیں۔ (2) آخرت کی تخصیص مومنین متقین کے ساتھ۔ (3) دنیا کی تحقیر اور اس کی اصلا تحصیص کافروں کے ساتھ۔ (4) چاندی اور سونے کی ناپسندیدگی کی طرف اشارہ، کہ جو چیز کافروں کے سزا وار ہے، مومن کے پسند کی نہ ہونا چاہیے۔
Ayah 43:36

وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ Open ayah 43:36 in the Quran reader

اور جو کوئی بھی (خدائے) رحمن کی نصیحت کی طرف سے اندھا بن جائے ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں سو وہ اس کے ساتھ رہتا ہے،27۔

27۔ (اور ہر وقت اسے بدی کی ترغیب دیتا رہتا ہے) (آیت) ” نقیض ..... قرین “۔ یعنی انسان جب اپنے قصد و ارادہ سے کج روی اختیار کرلیتا ہے تو قوائے شیطانی بھی خارج سے برابر اسکی کج روی وگمراہی کو تقویت پہنچاتے رہتے ہیں۔ ایسا شخص گو سزائے ظاہری سے سردست محفوظ ہو، لیکن یہ عذاب کچھ کم ہے کہ ترقی سیئات ہی میں کرتا چلا جارہا ہے۔ اس فعل تقییض کی نسبت اللہ کی طرف بالکل ایسی ہی ہے جیسے (آیت) ” فلما زاغوا ازاغ اللہ قلوبھم “۔ میں ازاغۃ قلب کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے، محض علت علل یاتکوینی مسبب الاسباب کی حیثیت سے۔ اس تقییض سے مراد تقییض خصوصی ہے جس سے ضلالت مرتب ہی ہوجائے، ورنہ شیطان تو عمومی رنگ میں ہر انسان کے ساتھ رہتا ہی ہے جیسا کہ حدیث نبوی میں آچکا ہے۔ (آیت) ” عن ذکر الرحمن “۔ یعنی قرآن اور وحی الہی کی طرف سے۔ (آیت) ” ومن ..... الرحمن “۔ اشارہ قرآن کے مخاطبین اول کی جانب ہے جو رسالت کے دلائل اور اعجاز قرآنی کی طرف سے قصدا آنکھیں بندکیے رہتے تھے۔ آیت سے جب یہ معلوم ہوگیا کہ قرآن وذکر الہی کی طرف سے ارادی غفلت ہی تسلط شیطانی کا باعث ہوتی ہے تو اس مصیبت سے بچنے کا یہ کھلاہوا علاج بھی نکل آیا کہ قرآن وذکر کی جانب مشغولی دوام رہے۔ وفیہ اشارۃ الی ان من دوام علیہ لم یقرنہ الشیطان (مدارک)
Ayah 43:37

وَ اِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:37 in the Quran reader

اور وہ (شیاطین) ان لوگوں کو راہ (راست) سے روکتے ہیں اور یہ (اپنے لئے) خیال کرتے رہتے ہیں کہ ہم راہ یاب ہیں،28۔

28۔ (اور اس غلط اطمینان اور تغافل کی بدولت کبھی ضرورت ہی مزید تحقیق و کاوش کی نہیں سمجھتے) کیا حد ہے ان کی گمراہی کی عین گمراہی کو ہدایت سمجھ رہے ہیں ! (آیت) ” وانھم .... السبیل “۔ لوگوں کو راہ حق سے روکنا بھی تسلط شیطانی ہے۔ (آیت) ’ انھم “۔ میں ضمیر ھم شیاطین کی طرف ہے۔ (آیت) ” یحسبون انھم مھتدون “۔ اس میں ضمیریں سب انہیں اندھے بن جانے والے انسانوں کی طرف ہیں۔ اے العاشون (مدارک)
Ayah 43:38

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ Open ayah 43:38 in the Quran reader

(یہ تغافل قائم رہتا ہے) یہاں تک کہ جب وہ شخص ہمارے پاس آجاتا ہے تو (شیطان اس سے) کہتا ہے کہ کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق ومغرب کا فاصلہ ہوتا تو وہ (شیطان) کیسا برا ساتھی ہے،29۔

29۔ انکشاف حقیقت کے وقت انسان حسرت وندامت میں سب کچھ کرے گا کہ کیوں شیطان کا ساتھ ہوا۔ لیکن اس وقت سب بیکار ہوگا۔ ایک حدیث میں یہ مضمون آیا ہے کہ کافر کا شیطان خواب وخور میں اس کا شریک رہتا ہے۔ اور مومن کا شیطان منتظر رہتا ہے کہ کب اسے غفلت ہو اور پہنچے اور اسے دبائے۔ (آیت) ” حتی اذا جآء نا “۔ یعنی یہ تغافل اور یہ مغالطہ بس وہی دنیوی زندگی تک رہتا ہے، اس کے ختم ہوتے ہی کشف حقائق ہونے لگتا ہے۔ (آیت) ” بعد المشرقین “۔ سے محاورہ میں مراد دو مشرقوں سے نہیں بلکہ مشرق ومغرب سے ہوتی ہے۔ یرید المشرق والمغرب والاصل بعد المشرق من المغرب والمغرب من المشرق (کشاف) ومن عادۃ العرب تسمیۃ الشیئین المتقابلین باسم احدھما (کبیر)
Ayah 43:39

وَ لَنْ یَّنْفَعَكُمُ الْیَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّكُمْ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 43:39 in the Quran reader

اور آج یہ بات بھی تمہارے کام نہ آئے گی، جب کہ تم خود کفر کرچکے ہو کہ تم عذاب میں (دوسروں کے ساتھ) شریک ہو،30۔

30۔ یعنی جو لوگ دنیا میں کافر مرے، ان کی تسکین اس سے ذرا بھی نہ ہوسکے گی کہ دوسرے بھی بہت سے ان کے ساتھ دوزخ میں پڑے ہوئے ہیں، اور مرگ انبوہ جشنے دارد کا قانون وہاں بالکل نہ چل سکے گا۔ (آیت) ” اذ ظلمتم “۔ ظلم یہاں بھی کفر ہی کے معنی میں ہے۔ اے اشرکتم فی الدنیا (معالم)
Ayah 43:40

اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ اَوْ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ مَنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 43:40 in the Quran reader

تو کیا آپ بہروں کو سنا سکتے ہیں ؟ یا اندھوں کو اور ان لوگوں کو جو صریح گمراہی میں ہیں رستہ دکھا سکتے ہیں،31۔

31۔ یعنی ایسے ارادی کج روؤں اور گمراہوں کی ہدایت آپ ﷺ کے اختیار سے خارج ہے۔ آپ ﷺ ذرا بھی اس کے درپے نہ ہوں۔