43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 43:1
حٰمٓ۔
Ayah 43:2

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 43:2 in the Quran reader

کتاب روشن کی قسم

والکتب المبین حٰمٓ۔ قسم اس کتاب واضح کی۔ کتاب مبین سے مراد ہے قرآن مجید۔ قرآن پاک راہ ہدایت بتاتا اور ظاہر کرتا ہے۔ قرآن کے اعجاز کا تقاضا ہے کہ قرآن کی صداقت کو مانا جائے اور قرآن کی صداقت پر ایمان رکھنے سے ان تمام احکام و ضوابط کا علم ہوجانا ضروری ہے جس سے انسان کی دنیوی بہبودی اور اخروی فلاح وابستہ ہے۔ وَالْکِتٰبِ میں واؤ قسمیہ ہے اور اگر حٰآ کو مقسم بہ کہا جائے تو والکتاب کا واؤ عاطفہ ہوگا اور آئندہ جملہ جواب قسم قرار پائے گا۔
Ayah 43:3

اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 43:3 in the Quran reader

کہ ہم نے اس کو قرآن عربی بنایا ہے تاکہ تم سمجھو

انا جعلنہ قرء نا عربیا لعلکم تعقلون کہ ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ (اے عرب ! ) آسانی کے ساتھ) تم سمجھ لو۔ اِنَّا جَعَلْنٰہُ ہم نے اس کتاب کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم سمجھو۔ قرآن حقیقت میں اللہ کی صفت کلامیہ ہے جو مخلوق (یعنی مجعول) نہیں ہے (بنایا ہوا نہیں ہے) اسلئے آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس کتاب کو عربی الفاظ کا جامہ پہنایا ہے تاکہ تم پڑھ سکو اور اس کے معانی کو سمجھو۔ ا اللہ نے مختلف چیزوں کی قسمیں کھائی ہیں ‘ یعنی ان کو اپنی ہستی (اور وحدانیت اور دوسری صفات) کی دلیل بنایا ہے اور یہ سب چیزیں اللہ کی توحید وغیرہ پر شہادت دے رہی ہے۔ اللہ نے اس کتاب کے عربی زبان کا قرآن ہونے پر قرآن ہی کی قسم کھائی۔ یہ بڑی ندرت آگیں قسم ہے۔ مقسم بہ (کتاب مبین) اور مقسم علیہ (قرآنا عربیا) میں خاص تناسب ہے۔
Ayah 43:4

وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌؕ Open ayah 43:4 in the Quran reader

اور یہ بڑی کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں ہمارے پاس (لکھی ہوئی اور) بڑی فضیلت اور حکمت والی ہے

وانہ فی ام الکتب لدینا لعلی حکیم اور کوئی شبہ نہیں کہ وہ ہمارے پاس لوح محفوظ میں بڑے رتبہ کی اور حکمت بھری کتاب ہے۔ اُمِّ الْکِتٰبِ (تمام کتابوں کی اصل) یعنی لوح محفوظ۔ دوسری آیت سے اسکی تائید ہوتی ہے ‘ فرمایا ہے : بل ھو قراٰن مجید فی لوح محفوظ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اللہ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور جس مخلوق کو آئندہ پیدا کرنا چاہتا تھا ‘ اس کو لکھ دینے کا قلم کو حکم دیا۔ اس کے بعد آپ نے پڑھا : وانّہ فی امّ الکتٰب۔ لَدَیْنَا ہمارے پاس۔ اللہ کے پاس ہونا بےکیف اور تصور مکانیت سے پاک ہے (قرب الٰہی نہ مکانی ہے ‘ نہ کسی جسمانی کیفیت کا حامل) بعض علماء نے لدینا سے پہلے محفوظًا کا لفظ محذوف فرمایا ہے ‘ یعنی قرآن ہمارے پاس ہر تغیر سے محفوظ ہے۔ لَعَلِیٌّ بڑے رتبہ والا ‘ کسی کا ادراک وہاں تک نہیں پہنچ سکتا ‘ یا یہ مطلب ہے کہ تمام آسمانی کتابوں میں اسکی شان بلند ہے کیونکہ تمام سماویہ میں یہ ہی معجز ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی نے فرمایا : نظر کشف سے دکھائی دیتا ہے کہ تمام آسمانی کتابوں کے دائرہ میں قرآن مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ جس طرح مرکز افضل اور وسیع تر ہوتا ہے ‘ اسی طرح نگاہ کشف سے نظر آتا ہے کہ قرآن بہت ہی اجمالی مرکز ہے مگر شان سب سے اونچی رکھتا ہے۔ یوں سمجھو کہ جس طرح چاند ہالہ کے اندر دیکھنے والے کو ہالہ سے چھوٹا نظر آتا ہے لیکن واقع میں ہالہ کے دائرے سے کہیں زیادہ وسیع ہوتا ہے ‘ قرآن کی بھی یہی حیثیت ہے۔ حَکِیْمٌ حکمت کاملہ سے بھرا ہوا ‘ یا محکم جس کو کوئی کتاب منسوخ نہیں کرسکتی۔
Ayah 43:5

اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ Open ayah 43:5 in the Quran reader

بھلا اس لئے کہ تم حد سے نکلے ہوئے لوگ ہو ہم تم کو نصیحت کرنے سے باز رہیں گے

افنضرب عنکم الذکر صفحا ان کنتم قوما مسرفین کیا ہم تم سے اس نصیحت (نامہ) کو اس بات پر ہٹا لیں گے کہ تم (کفر میں) حد سے آگے بڑھنے والے لوگ ہو ؟ اَفَنَضْرِبُ ہمزۂ استفہامیہ انکاری ہے۔ ضَربْتُ عنہ اور اَضَربْتُ عنہ میں نے اس کو چھوڑ دیا ‘ میں اس سے رک گیا۔ صَفْحًا مفعول مطلق من غیر لفظہ ہے۔ پہلو پھیرنے کا معنی ہے دور ہوجانا ‘ روگرداں ہوجانا۔ صفحٌ کا لغوی معنی ہے گردن کا ایک پہلو کسی کی طرف کردینا (یعنی گردن پھیرلینا) ۔ اَنْ کُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ کافروں کا حد سے تجاوز کرنا۔ حقیقت میں ترک اعراض کا مقتضی ہے ‘ لیکن اس جگہ اسراف کفار کو موجب اعراض قرار دے کر اس پر ہمزۂ انکاریہ داخل کردی گئی ‘ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اس وجہ سے تم کفر میں بہت آگے بڑھ گئے ہو۔ ہم وحی بھیجنا چھوڑ دیں گے اور قرآن کو نازل کرنا ترک کردیں گے اور تم کو اچھے کاموں کا حکم نہیں دیں گے اور بری باتوں سے بازداشت نہیں کریں گے۔ بغوی نے قتادہ کا تفسیری بیان نقل کیا ہے کہ ابتداء وحی کے زمانہ کے کافروں نے جب قرآن کو ماننے سے انکار کردیا تھا ‘ اگر اسی زمانہ میں قرآن اٹھا لیا جاتا تو سب لوگ ہلاک ہوجاتے ‘ لیکن اللہ نے اپنی رحمت و مہربانی سے بیس سال تک ‘ یا جب تک اس نے چاہا قرآن کو نازل کیا اور ارسال وحی کو قائم رکھا۔ مجاہد اور سدی نے آیت کا یہ مطلب بیان کیا ہے : کیا ہم تم سے روگرداں ہوجائیں گے اور تم کو بغیر سزائے کفر کے یونہی چھوڑ دیں گے۔
Ayah 43:6

وَ كَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:6 in the Quran reader

اور ہم نے پہلے لوگوں میں بھی بہت سے پیغمبر بھیجے تھے

وکم ارسلنا من نبی فی الاولین اور ہم پہلے لوگوں میں بہت سے نبی بھیجتے رہے ہیں۔ یعنی گذشتہ لوگوں میں ہم نے بکثرت انبیاء بھیجے۔
Ayah 43:7

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 43:7 in the Quran reader

اور کوئی پیغمبر ان کے پاس نہیں آتا تھا مگر وہ اس سے تمسخر کرتے تھے

وما یاتیھم من نبی الاکانوا بہ یستھزؤن۔ اور ان لوگوں کے پاس (کبھی) کوئی ایسا نبی نہیں آیا جس کا انہوں نے مذاق نہ اڑایاہو ‘
Ayah 43:8

فَاَهْلَكْنَاۤ اَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَّ مَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:8 in the Quran reader

تو جو ان میں سخت زور والے تھے ان کو ہم نے ہلاک کردیا اور اگلے لوگوں کی حالت گزر گئی

فاھلکنا اشد منھم بطشاء ومضی مثل الاولین نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے ایسے لوگوں کو غارت کر ڈالا جو ان سے زیادہ زور آور تھے اور پہلے لوگوں کی یہ حالت (یعنی پیغمبروں کے انکار اور ان سے استہزاء کی وجہ سے تباہی) ہوچکی ہے۔ وَمَا یَأتِیْھِمْ گذشتہ حال کا بیان ہے ‘ یعنی ان کے پاس کوئی نبی ایسا نہ آتا تھا جس کا انہوں نے مذاق نہ اڑایا ہو۔ مِنْ نَّبِیِّ- مِن زائد ہے ‘ یعنی کوئی نبی۔ اِلاَّ کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِءُونَ اس میں رسول اللہ ﷺ کیلئے پیام تسکین ہے (یعنی صرف آپ ہی کے ساتھ کافر یہ معاملہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ تمام انبیاء کے ساتھ ان کا سلوک یہی ہوتا رہا ہے) ۔ فَاَھْلَکْنَا یعنی ان مکہ والوں سے جو پہلے لوگ زیادہ زور آور تھے ‘ ہم نے ان کو غارت کردیا۔ بَطْشًا قوت ‘ زور۔ مَضٰی مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ یعنی ان کا عجیب قصہ گذر چکا ہے ‘ قصہ بھی وہ جس کو کہاوت کی طرح پھیلنا چاہئے (یعنی کہاوت بن جانا چاہئے) اس جملہ میں درپردہ رسول اللہ ﷺ کیلئے (آخرکار) کامیابی کا وعدہ اور کافروں کیلئے تباہی کی وعید ہے۔
Ayah 43:9

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 43:9 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو کہہ دیں گے کہ ان کو غالب اور علم والے (خدا) نے پیدا کیا ہے

ولئن سالتھم من خلق السموت والارض لیقولن خلقھن العزیز العلیم اور اگر آپ ان (کفار مکہ) سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو وہ لامحالہ یہی کہیں گے کہ ان کو ایک غالب دانا ہستی نے پیدا کیا۔ یہ کافروں کا مقولہ اللہ نے نقل کیا ہے ‘ یا یہ کہ ان کے قول کو اللہ کا غالب اور علیم ہونا لازم تھا ‘ اسلئے اس کو ان کا مقولہ قرار دیا۔
Ayah 43:10

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ Open ayah 43:10 in the Quran reader

جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا۔ اور اس میں تمہارے لئے رستے بنائے تاکہ تم راہ معلوم کرو

الذی جعل لکم الارض مھدا وجعل لکم فیھا سبلا لعلکم تھتدون جس نے تمہارے (آرام کے) لئے زمین کو (مثل) فرش (کے) بنایا اور اس میں تمہارے لئے راستے بنائے تاکہ تم منزل مقصود تک پہنچ سکو۔ وَلَءِنْ سَاَلْتَھُمْ یعنی کفار مکہ سے اگر آپ دریافت کریں۔ مَھْدًا یعنی فرش ‘ جیسے بچہ کا بستر ہوتا ہے۔ سُبُلاً یعنی چلنے کیلئے اس نے زمین میں راستے بنا دئیے۔ لَّعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ تاکہ ان راستوں پر چل کر تم اپنے مقصد تک پہنچ جاؤ ‘ یا یہ مطلب ہے کہ زمین میں پیدا کی ہوئی راہوں پر غور کر کے حکمت صانع کو سمجھنے تک تمہاری ذہنی رسائی ہوجائے۔
Ayah 43:11

وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ١ۚ فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ۚ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ Open ayah 43:11 in the Quran reader

اور جس نے ایک اندازے کے ساتھ آسمان سے پانی نازل کیا۔ پھر ہم نے اس سے شہر مردہ کو زندہ کیا۔ اسی طرح تم زمین سے نکالے جاؤ گے

والذی نزل من السماء ماء بقدر فانشرنا بہ بلدۃ میتا کذلک تخرجون اور جس نے آسمان سے پانی ایک اندازہ کے موافق برسایا ‘ پھر ہم نے اس سے خشک زمین کو (اس کے حال کے مناسب) زندہ کیا ‘ اسی طرح تم کبھی (اپنی قبروں سے) نکالے جاؤ گے۔ بِقَدَرٍ ایک اندازہ کے ساتھ ‘ یعنی اتنی مقدار میں جو مفید ہو ‘ ضرر رساں نہ ہو۔ فَاَنْشَرْنَا پھر ہم نے زندہ کیا ‘ یعنی جس طرح ہم نے پانی سے زمین کو زندہ کیا ‘ اسی طرح تم کو بھی قبروں سے نکالا جائے گا ‘ یعنی تم کو زندہ کیا جائے گا۔ شیخین نے صحیحین میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پہلی مرتبہ صور پھونکنے اور دوسری بار صور پھونکنے کے درمیان چالیس کی مدت ہوگی۔ لوگوں نے حضرت ابوہریرہ سے دریافت کیا : کیا چالیس دن کی مدت ہوگی ؟ حضرت ابوہریرہ نے کہا : میں اس کا اقرار نہیں کرسکتا۔ لوگوں نے کہا : پھر کیا چالیس ماہ مراد ہیں ؟ حضرت ابوہریرہ نے کہا : مجھے اس سے بھی انکار ہے۔ لوگوں نے کہا : تو کیا چالیس سال کی مدت ہوگی ؟ حضرت ابوہریرہ نے اس کا بھی اقرار نہیں کیا (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :) پھر اللہ آسمان سے پانی برسائے گا جس سے مردے (زمین سے) ایسے اگیں گے جیسے سبزہ اگتا ہے۔ آدمی کی ہر چیز سوائے ایک ہڈی کے فنا ہوجاتی ہے اور وہ ہڈ ی دم گزے کی ہڈی ہے ‘ اسی سے جسمانی بناوٹ جوڑی جائے گی۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس کی روایت سے اور ابن جریر نے سعید بن جبیر کے حوالے سے بیان کیا کہ اصل عرش سے ایک وادی بہہ نکلے گی جس سے روئے زمین پر رینگنے والا ہر جاندار (سبزے کی طرح) اگے گا ‘ پھر روحوں کو حکم ہوگا کہ اڑ کر (اپنے اپنے) جسموں میں داخل ہوجائیں۔ اسی کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے : یا ایتھا النفس المطمئنۃ ارجعی الی ربک۔ امام احمد اور ابو یعلیٰ نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن لوگوں کو (قبروں سے) اٹھایا جائے گا اور آسمان سے ان پر ہلکی بارش ہوگی۔
Ayah 43:12

وَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَۙ Open ayah 43:12 in the Quran reader

اور جس نے تمام قسم کے حیوانات پیدا کئے اور تمہارے لئے کشتیاں اور چارپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو

والذین خلق الازواج کلھا وجعل لکم من الفلک والانعام ما ترکبون اور جس نے مخلوق کی تمام قسمیں پیدا کیں اور تمہارے لئے کشتیاں اور چوپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو۔ الْاَزْوَاج اصناف خلائق ‘ قسم قسم کی مخلوق۔
Ayah 43:13

لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْهِ وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ Open ayah 43:13 in the Quran reader

تاکہ تم ان کی پیٹھ پر چڑھ بیٹھو اور جب اس پر بیٹھ جاؤ پھر اپنے پروردگار کے احسان کو یاد کرو اور کہو کہ وہ (ذات) پاک ہے جس نے اس کو ہمارے زیر فرمان کر دیا اور ہم میں طاقت نہ تھی کہ اس کو بس میں کرلیتے

لتستوا علی ظھورثم تذکروا نعمۃ ربکم اذا استویتم علیہ وتقولوا سبحن الذی سخرلنا ہذا وما کنا لہ مقرنین تاکہ تم ان کی پیٹھ پر جم کر بیٹھو ‘ پھر جب اس پر بیٹھ چکو ‘ پھر اپنے رب کی نعمت کو یاد کرو اور یوں کہو : پاک ہے وہ جس نے ان چیزوں کو ہمارے بس میں کردیا اور ہم تو ایسے نہ تھے کہ (خود) ان کو قابو میں کرلیتے۔ عَلٰی ظُھُوْرِہٖ واحد غالب کی ضمیر ما ترکبون کی طرف راجع ہے جو لفظ کے لحاظ سے مفرد ہے لیکن معنوی لحاظ سے چونکہ کثیر سواریاں مراد ہیں ‘ اسلئے ظہور جمع کا صیغہ استعمال کیا۔ ثمَُّ تَذْکُرُوْا یعنی پھر دل سے یاد کرو کہ اللہ نے ان سواریوں کو تمہارے بس میں کردیا ‘ جن پر سوار ہو کر خشکی اور سمندر میں پھرتے ہو۔ وَتَقُوْلوْا اور زبانوں سے بطور شکر کہو۔ مُقْرِنِیْنَ یعنی قابو میں کرنے والے۔ اَقْرَنَ بس میں کرلیا ‘ قابو میں کرلیا۔ اَقْرَنَ کا اصل معنی ہے ساتھ بنا لیا اور ساتھی اس کو بنایا جاتا ہے جو سرکش نہ ہو ‘ قابو میں آجائے ‘ قوی کو کمزور کا ساتھی نہیں بنایا جاسکتا۔
Ayah 43:14

وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ Open ayah 43:14 in the Quran reader

اور ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

وانا الی ربنا لمنقلبون اور بلاشبہ ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ سوار ہونے کا مقصد ہوتا ہے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا اور سب سے بڑا انتقال اور سفر یہ ہے کہ اس دنیا سے اللہ کی طرف جائے ‘ اسلئے نعمت سواری کی ادائیگی شکر کے ساتھ رب کی طرف لوٹ جانے کا ذکر کیا۔ ابو داؤد ‘ ترمذی ‘ نسائی اور بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت علی نے جب اپنا قدم رکاب میں رکھا تو فوراً بسم اللہ کہا ‘ پھر جب ٹھیک ہو کر بیٹھ گئے تو الحمد اللہ کہا ‘ پھر فرمایا : سبحان اللہ الّذی سخّر لنا ھٰذا وما کنّا لہٗ مقرنین وانّا الٰی ربّنا لمنقلبون اسکے بعد تین بار الحمد اللہ اور تین بار اللہ اکبر کہا ‘ پھر کہا : لآ الٰہ الّآ انت ظلمت نفسی فاغفرلی ذنوبی فانّہ لا یغفر الذنوب الّآ انت اسکے بعد مسکرا دئیے۔ عرض کیا گیا : امیر المؤمنین ! آپ کس وجہ سے مسکرائے ؟ فرمایا : میں نے بھی عرض کیا : یا نبی اللہ ﷺ ! حضور کیوں مسکرائے ؟ فرمایا : جب بندہ لآ الٰہ الّآ اللہ ظلمت نفسی فاغفرلی انہ لا یغفر الذنوب الّآ ھو کہتا ہے تو اسکے اس فعل کو پسند کرتا ہے (اوکما قال) اس موقعہ پر حضور ﷺ مسکرائے تھے تو حضرت علی بھی مسکرائے۔
Ayah 43:15

وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِیْنٌؕ۠ Open ayah 43:15 in the Quran reader

اور انہوں نے اس کے بندوں میں سے اس کے لئے اولاد مقرر کی۔ بےشک انسان صریح ناشکرا ہے

وجعلوا لہ من عبادہ جزئا ان الانسان لکفور مبین اور انہوں نے اس (ا اللہ) کیلئے (اسکے) بعض بندوں کو (اس کا) جزء قرار دیا۔ بلاشبہ انسان کھلا ناشکرا (اور کافر) ہے۔ بعض بندوں کو اللہ کا جزء قرار دینے سے یہ مراد ہے کہ ملائکہ کو ان کی بیٹیاں کہتے ہیں اور ظاہر ہے کہ اولاد باپ کے نطفہ سے بنتی ہے اور نطفہ انسان کا جزء ہوتا ہے ‘ اسلئے اولاد کو باپ کا جزء یا ٹکڑا کہا جاتا ہے۔ بخاری نے حضرت مسور بن مخرمہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : فاطمہ میرا ٹکڑا ہے۔ جس نے اس کو ناراض کیا ‘ اس نے مجھے ناراض کیا۔ امام احمد اور حاکم کی روایت کے یہ الفاظ ہیں : فاطمہ میرا ٹکڑا ہے۔ جو بات اس کو ناراض کرتی ہے ‘ وہ مجھے ناراض کرتی ہے اور جو بات اس کو خوش کرتی ہے ‘ وہ مجھ کو خوش کرتی ہے۔ اس کلام کا تعلق آیت ولئن سالتھم الخ سے ہے۔ دونوں آیتوں میں انتہائی تضاد ہے۔ سابق کلام میں جب اقرار کرلیا کہ اللہ زمین کا خالق ہے تو پھر مخلوق کو اس کا جزء کہنا بالکل ممکن نہیں۔ جو ذات قابل تجزیہ ہوتی ہے ‘ وہ نہ واجب الوجود ہوتی ہے ‘ نہ خالق (گویا دونوں آیتوں میں علاقۂ تضاد ہے) ۔ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَکَفُوْرٌ یعنی انسان بڑا جاہل ہے (مخلوق کو خالق کا جزء کہتا ہے) ۔ مُّبِیْنٌ یعنی اس کی جہالت حد سے بڑھی ہوئی ہے اور ناشکری بالکل کھلی ہوئی ہے ‘ اس کو اتنا بھی نہیں معلوم کہ کس صفت کی اللہ کی طرف نسبت کرنی صحیح ہے اور کس صفت کی نسبت غلط ہے۔
Ayah 43:16

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰىكُمْ بِالْبَنِیْنَ Open ayah 43:16 in the Quran reader

کیا اس نے اپنی مخلوقات میں سے خود تو بیٹیاں لیں اور تم کو چن کر بیٹے دیئے

ام اتخذ مما یخلق بنت والصفکم بالبنین کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لئے تو لے لیں بیٹیاں اور تمہارے لئے مخصوص کر دئیے بیٹے ؟ ہمزہ مفید زجر و انکار ہے اور مظہر تعجب بھی ہے ‘ بلکہ کافروں کے قول اِنَّ لِلّٰہِ وَلَدًا سے اعراض پر دلالت کر رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کیلئے اجزاء ثابت کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا ‘ بلکہ مخلوق میں سے ایسی اولاد اس کیلئے پسند کی جو ان کافروں کو اپنے لئے پسند نہیں ہے۔ اگر ایسی اولاد (یعنی بیٹی) ہونے کی ان میں سے کسی کو بشارت دی جاتی ہے تو اس پر غم کی اندھیری چھا جاتی ہے۔
Ayah 43:17

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 43:17 in the Quran reader

حالانکہ جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی خوشخبری دی جاتی ہے جو انہوں نے خدا کے لئے بیان کی ہے تو اس کا منہ سیاہ ہوجاتا اور وہ غم سے بھر جاتا ہے

واذا بشر احدھم بما ضرب للرحمن مثلا ظل وجھہ مسودا وھو کظیم حالانکہ ان میں سے کسی کو اس چیز کے ہونے کی خبر دی جائے ‘ جس کو اس نے خدا کا نمونہ بنا رکھا ہے (یعنی بیٹی ہونے کی خبر دی جائے) تو اتنا ناراض ہوتا ہے کہ اس دن اس کا چہرہ بےرونق ہوجاتا ہے اور دل میں گھٹا رہتا ہے۔ بِمَا ضَرَبَ للرَّحْمٰنِ مَثَلاً یعنی جب اس جنس کی بشارت دی جاتی ہے تو جس کو وہ خدا کی مثل قرار دیتا ہے (مطلب یہ کہ ملائکہ کو وہ خدا کی بیٹیاں قرار دیتا ہے اور ان کو خدا کی مثل مانتا ہے) کیونکہ اولاد اپنے باپ کی مثل اور مشابہ ہوتی ہے ‘ یا مثل سے مراد ہے صفت ‘ یعنی جب اس کو اس وصف کی بشارت دی جاتی ہے جس کو اس نے رحمن کا وصف قرار دیا ہے تو انتہائی غم سے اس کا چہرہ سخت کالا ہوجاتا ہے۔ کَظِیْمٌ وہ شخص جس کے دل میں رنج اور اضطراب بھرا ہوا ہو۔
Ayah 43:18

اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ هُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ Open ayah 43:18 in the Quran reader

کیا وہ جو زیور میں پرورش پائے اور جھگڑے کے وقت بات نہ کرسکے (خدا کی) بیٹی ہوسکتی ہے؟

او من ینشؤ فی الحیلۃ وھو فی الخصام غیر مبین کیا جو (عادۃً ) آرائش میں نشو و نما پائے اور مباحثہ میں قوت بیانہ بھی نہ رکھے (اس کو خدا کی اولاد قرار دینا درست ہوسکتا ہے ؟ ) یُنَشَّؤُ (باب تفعیل) یعنی پرورش پاتا ہے ‘ اس سے عورتیں مراد ہیں۔ حسن صورت ‘ عورت کا طرۂ امتیاز ہے ‘ اسی لئے عورت زیور کی ضرورت مند ہے تاکہ اس کے حسن ظاہری میں اضافہ ہو۔ مردوں کا امتیاز اوصاف باطنی اور کمالات ذاتی پر موقوف ہے اور یہ زیور سے حاصل نہیں ہوتا ‘ اسلئے مردوں کو زیور کی ضرورت نہیں۔ آیت میں درپردہ ایماء ہے اس طرف کہ ظاہری ٹیپ ٹاپ اور زیور سے آراستگی عیب ہے ‘ مردوں کو اس سے پرہیز رکھنا چاہئے اور لباس تقویٰ سے آراستہ ہونا چاہئے۔ الْخِصَام مقابلہ خواہ زبان سے ہو یا اسلحہ سے ‘ عورت بہرحال دونوں میں کمزور ہے۔ اس کی سمجھ ناقص ‘ بدنی طاقت کمزور اور دل ضعیف ہے۔ قتادہ نے کہا : عورت جب اپنے مدعیٰ کو ثابت کرنے کیلئے کوئی دلیل بیان کرتی ہے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ دلیل اسکے مدعیٰ کے خلاف پڑتی ہے۔ اَوَمَنْ میں ہمزہ انکار کو پختہ کرنے ‘ زجر کرنے اور تعجب کو ظاہر کرنے کیلئے ہے اور معطوف کو معطوف علیہ سے مغایرت صفاتی ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے لڑکیوں کو اپنی اولاد بنایا ہے ‘ جو ان لوگوں کیلئے قابل نفرت ہیں اور جن کی پیدائش کی خبر سن کر ان کے چہرے کالے پڑجاتے ہیں اور جو زیور اور سجاوٹ میں پرورش پاتی ہیں ‘ جن کے دل کمزور اور بدنی ساخت ضعیف اور سمجھ بوجھ ناقص ہوتی ہے۔
Ayah 43:19

وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓئِكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا١ؕ اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ١ؕ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:19 in the Quran reader

اور انہوں نے فرشتوں کو کہ وہ بھی خدا کے بندے ہیں (خدا کی) بیٹیاں مقرر کیا۔ کیا یہ ان کی پیدائش کے وقت حاضر تھے عنقریب ان کی شہادت لکھ لی جائے گی اور ان سے بازپرس کی جائے گی

وجعلوا الملئکۃ الذین ھم عباد الرحمن اناثا اور انہوں نے فرشتوں کو جو اللہ کے بندے ہیں ‘ عورتیں قرار دے رکھا ہے۔ یعنی مشرکوں نے نازیبا اوصاف ہی اللہ کیلئے ثابت نہیں کئے ‘ اور اللہ کو صرف صاحب اولاد ہی نہیں قرار دیا اور محض اللہ ہی کی توہین نہیں کی ‘ بلکہ فرشتوں کی بھی تحقیر کی۔ وہ فرشتے جو اللہ کے برگزیدہ بندے اور مقرب بارگاہ خداوندی ہیں اور ان کا قرب ناقابل بیان ہے ‘ ان کو عورتیں قرار دے رکھا ہے۔ اشھدوا خلقھم کیا یہ فرشتوں کی پیدائش کے وقت موجود تھے (اور دیکھ رہے تھے کہ فرشتوں کو اللہ نے عورتیں بنایا ہے) ستکتب شھادتھم ویسئلون انکی شہادت لکھ لی جاتی ہے اور (قیامت کے دن) ان سے (اس بات کی) بازپرس کی جائے گی۔ سَتُکْتَبُ شَھَادَتُھُمْ الخ یعنی یہ مشرک جو ملائکہ کوا اللہ کی بیٹیاں کہتے ہیں اور اس کی شہادت دیتے ہیں ‘ ان کی یہ شہادت لکھ لی جاتی ہے۔ قیامت کے دن بطور زجر ان سے اس بات کی بازپرس کی جائے گی۔ ابن المنذر نے قتادہ کا قول نقل کیا کہ کچھ منافق اللہ کا رشتۂ زوجیت جنات سے جوڑتے تھے اور ملائکہ کو ان سے مانتے تھے ‘ ان کی تردید میں نازل ہوا : وجعلوا المآئکۃ الّذین ھم عباد الرحمٰن اناثا۔ بغوی نے بحوالۂ کلبی و مقاتل بیان کیا ہے کہ جب مکہ والوں نے یہ بات کہی (یعنی فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا) تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : تم کو کیسے معلوم ہوا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ؟ انہوں نے کہا : ہم نے اپنے بزرگوں سے ایسا ہی سنا ہے اور ہم کو یقین ہے کہ انہوں نے غلط نہیں کیا۔ اس پر آیت ستکتب شھادتھم ویسئلون نازل ہوئی۔
Ayah 43:20

وَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ١ؕ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۗ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَؕ Open ayah 43:20 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اگر خدا چاہتا تو ہم ان کو نہ پوجتے۔ ان کو اس کا کچھ علم نہیں۔ یہ تو صرف اٹکلیں دوڑا رہے ہیں

وقالوا لو شاء الرحمن ما عبدنھم اور انہوں نے کہا : اگر رحمنٰ چاہتا (کہ ہم ان کو نہ پوجیں) تو ہم انکو نہ پوجتے۔ مَا عَبَدْنٰھُمْ یعنی ہم ملائکہ کو نہ پوجتے (قتادہ ‘ مقاتل ‘ کلبی) یا ہم بتوں کو نہ پوجتے (مجاہد) ۔ مشرکوں نے غیر اللہ کی عبادت ممنوع نہ ہونے یا اس کے اچھا ہونے کا استدلال اس طرح کیا کہ اللہ کی مشیت اس بات کی نہیں ہے کہ ہم ان کو نہ پوجیں ‘ اس سے معلوم ہوا کہ غیرا اللہ کی عبادت ممنوع نہیں ہے یا اچھی ہے ‘ بری نہیں ہے۔ یہ طرز استدلال غلط ہے ‘ مشیت خداوندی تو ایسی صفت کو کہتے ہیں جو ممکنات (ومقدورات) میں سے ایک کو دوسرے پر ترجیح دیتی ہے۔ جس کو ترجیح دی ہے ‘ وہ اچھی ہے یا بری ‘ ممنوع ہے یا مباح ہے ‘ مشیت اس سے وابستہ نہیں ‘ اسی لئے آئندہ آیت میں اس استدلال کے قائلوں کو جاہل قرار دیا ‘ اور فرمایا : ما لھم بذلک من علم ان ھم الا یخرصون ان لوگوں کو اس کا (یعنی ملائکہ کے بنات اللہ ہونے کا یا اس بات کا کہ ملائکہ اپنے معبود ہونے پر راضی ہیں ‘ کوئی حسی یا عقلی) علم نہیں ‘ یہ محض من گھڑت باتیں کرتے ہیں۔ یَخْرُصُوْنَ یعنی بےبنیاد ‘ غلط بات ‘ محض اپنے تخیل اور گمان کی بنا پر کرتے ہیں۔ اللہ نے پہلے مشرکوں کے فاسد خیالات کی وجوہ بیان کیں اور ان کے غلط شبہات کو نقل کیا ‘ پھر فرمایا کہ ان کے پاس کوئی (حسی یا عقلی) علم نہیں ہے ‘ پھر نقلی علم کی نفی کیلئے آئندہ آیت اَمْ اٰتَیْنٰھُمْ الخ نازل فرمائی۔
Ayah 43:21

اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ فَهُمْ بِهٖ مُسْتَمْسِكُوْنَ Open ayah 43:21 in the Quran reader

یا ہم نے ان کو اس سے پہلے کوئی کتاب دی تھی تو یہ اس سے سند پکڑتے ہیں

ام اتینھم کتبا من قبلہ فھم بہ مستمسکون کیا ہم نے ان کو اس قرآن سے پہلے کوئی کتاب دے رکھی ہے کہ یہ اس کو پکڑے ہوئے ہیں ؟ اس آیت کا ربط آیت اشھد واخلقھم سے ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ کیا انکی پیدائش کے وقت یہ لوگ موجود تھے ‘ یا قرآن سے پہلے ہم نے ان کو کوئی آسمانی کتاب عطا کی تھی جس سے وہ استدلال کرتے ہیں ؟ مَنْ قَبْلِہٖ قرآن سے پہلے یا ان کے دعوے سے پہلے۔ یعنی کیا کوئی ایسی سابق آسمانی کتاب انکے پاس موجود ہے جو ان کے قول کی سچائی پر دلالت کرتی رہی ہو ؟
Ayah 43:22

بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:22 in the Quran reader

بلکہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک رستے پر پایا ہے اور ہم انہی کے قدم بقدم چل رہے ہیں

بل قالوا انا وجدنا اباء نا علی امۃ وانا علی اثرھم مھتدون بلکہ وہ کہتے ہیں : ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقہ پر پایا اور ہم بھی ان کے پیچھے پیچھے (صحیح) راستہ پر چل رہے ہیں۔ یعنی تخلیق کے وقت نہ تو یہ موجود تھے ‘ نہ ہم نے ان کو (ان مشرکانہ عقائد کی تعلیم دینے والی) کوئی کتاب دی ‘ بلکہ باپ دادا کی تقلید میں یہ ایسی باتیں کہتے ہیں۔ عَلٰٓی اُمَّۃٍ یعنی ایک دین اور طریقہ پر پایا۔ ملت کو امت کہنے کی وجہ یہ ہے کہ ملت کی طرف قصد کیا جاتا ہے ‘ جیسے رحلۃ اس شخص کو کہتے ہیں جس کی طرف لوگ سفر کر کے جاتے ہیں۔ مجاہد نے امّۃ کا ترجمہ امام کیا ہے۔ عَلٰٓی اٰثٰرِھِمْ مُّھْتَدُوْنَ یعنی ان لوگوں کے پاس کوئی عقلی ونقلی دلیل تو ہے نہیں ‘ صرف اپنے جاہل اسلاف کی کو رانہ تقلید کی طرف مائل ہیں اور اس جاہلانہ تقلید کو ہدایت یابی کہتے ہیں ‘ اسی کو سیدھا راستہ مانتے ہیں۔
Ayah 43:23

وَ كَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ Open ayah 43:23 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے تم سے پہلے کسی بستی میں کوئی ہدایت کرنے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راہ پر پایا اور ہم قدم بقدم ان ہی کے پیچھے چلتے ہیں

وکذلک ما ارسلنا قبلک فی قریۃ من نذیر الا قال مترفوھا انا وجدنا ابائنا علی امۃ وانا علی اثرھم مقتدون اور اسی طرح ہم نے آپ سے پہلے جس بستی میں کوئی پیغمبر بھیجا ‘ وہاں کے عیش پرست لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقہ پر پایا ہے اور ہم بھی ان کے پیچھے چلے جا رہے ہیں۔ مُتْرَفُوْھَا یعنی مالدار ‘ عیش پسند لوگ۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کیلئے پیام تسکین ہے کہ ان لوگوں کی گمراہی موروثی چلی آتی ہے۔ ان کے اسلاف کو بھی اپنے مذہب کا کوئی عقلی و نقلی علم نہ تھا ‘ وہ بھی یہی کہتے تھے جو یہ لوگ کہتے ہیں۔ مُتْرَفُوْھَاکا لفظ اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ عیش پرستی اور تنعم ‘ باطل پرستی کی بنیاد ہے ‘ بجائے صحیح نظر و فکر کے اسلاف کی تقلید اور حق سے روگرداں ہونے کا یہی قوی سبب ہے۔
Ayah 43:24

قٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْهِ اٰبَآءَكُمْ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:24 in the Quran reader

پیغمبر نے کہا اگرچہ میں تمہارے پاس ایسا (دین) لاؤں کہ جس رستے پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا وہ اس سے کہیں سیدھا رستہ دکھاتا ہے کہنے لگے کہ جو (دین) تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے

قل اولوجئتکم باھدی مما وجدتھم علیہ ابائکم قالوا انا بما ارسلتم بہ کفرون۔ اس پر انکے پیغمبر نے کہا کہ (کیا تم لوگ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے رہو گے) خواہ میں اس راستہ سے جس پر تم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے ‘ زیادہ صحیح طریقہ تمہارے سامنے لے آؤں۔ وہ کہنے لگے : ہم تو اس (دین) کو نہیں مانتے جس کو دے کر تم کو بھیجا گیا ہے۔
Ayah 43:25

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 43:25 in the Quran reader

تو ہم نے ان سے انتقام لیا سو دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا

فانتقمنا منھم فانظر کیف کان عاقبۃ المکذبین آخر ہم نے ان سے انتقام لیا ‘ سو دیکھ لو تکذیب کرنے والوں کا کیسا برا انجام ہوا۔ قال کا فاعل وہ ضمیر ہے جو نذیر کی طرف راجع ہے یعنی نذیر نے کہا ‘ یا رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہے۔ رفتار کلام سے اول قول کی تائید ہو رہی ہے ‘ کیونکہ آگے فانتقمنا منھم بعینہٖ ماضی فرمایا ہے۔ اَوْلَوْجِءْتُکُمْ ہمزۂ استفہامیہ انکاریہ ہے۔ بِاَھْدٰی زیادہ صحیح دین ‘ زیادہ صحیح راستہ (بہرحال موصوف محذوف ہے) ۔ قَالُوْا پیغمبروں کے جواب میں کافروں نے کہا۔ اُرْسِلْتُمْ بِہٖ یعنی کافروں نے اپنے زمانہ کے پیغمبروں سے کہا کہ تم کو اور تم سے پہلے پیغمبروں کو جو دین دے کر بھیجا گیا ہے ‘ ہم سب کے منکر ہیں ‘ خواہ تمہارا لایا ہوا دین زیادہ صحیح ہی ہو۔ یہ بات کہہ کر کافروں نے پیغمبر کی دعوت پر غور و فکر کرنے سے بھی انکار کردیا۔ فَانْتَقَمْنَا مِنْھُمْ یعنی ہم نے بطور انتقام ان کو بیخ و بن سے اکھاڑ دیا۔ فَانْظُرْ کَیْفَ کَان الخ یعنی دیکھ لو پیغمبروں کی تکذیب کرنے والوں کا کیسا برا انجام ہوا۔ یہی انجام ان لوگوں کا ہوگا جو آپ کی تکذیب کر رہے ہیں۔ ہم ان سے بھی منکرین انبیاء کی طرح انتقام لیں گے ‘ آپ ان کے انکار کی پروا نہ کریں۔
Ayah 43:26

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖۤ اِنَّنِیْ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 43:26 in the Quran reader

اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ جن چیزوں کو تم پوجتے ہو میں ان سے بیزار ہوں

واذ قال ابرھیم لابیہ وقومہ اننی براء مما تعبدون۔ اور (وہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے) جب ابراہیم نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ میں ان چیزوں سے جن کو تم پوجتے ہو ‘ بیزار ہوں ‘
Ayah 43:27

اِلَّا الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّهٗ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 43:27 in the Quran reader

ہاں جس نے مجھ کو پیدا کیا وہی مجھے سیدھا رستہ دکھائے گا

الا الذی فطرنی فانہ سیھدین مگر ہاں جس نے مجھے پیدا کیا (اس کی عبادت کرتا ہوں) سو وہی میری رہنمائی کرتا ہے۔ بَرَآءٌ یہ مصدر ہے ‘ اسی لئے نہ اس کی جمع آتی ہے ‘ نہ تثنیہ۔ اس جگہ مصدر صیغۂ صفت کے معنی میں بطور مبالغہ ذکر کیا گیا ہے۔ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَ- ما مصدری ہے ‘ یعنی تمہاری اس پوجا سے میں بیزار ہوں ‘ یا موصولہ ہے یعنی تمہارے معبودوں سے بیزار ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ اس زمانہ کا ذکر کرو ‘ جب ابراہیم نے اپنے باپ اور قوم سے یہ بات کہی تھی تاکہ ان کو معلوم ہوجائے کہ ابراہیم نے باپ دادا کی تقلید سے کیسا اظہار بیزاری کیا تھا اور تقلید سے بیزاری کو کس طرح دلیل سے ثابت کیا تھا۔ یا یہ مطلب ہے کہ اگر ان لوگوں کو تقلید ہی کرنی ہے اور اسلاف کی تقلید کے بغیر کوئی چارہ نہیں تو ان کو ابراہیم کی تقلید کرنی چاہئے ‘ وہ ان کے اسلاف میں سب سے زیادہ عالی قدر تھے۔ ان لوگوں کو اس بات کا اعتراف ہے۔ اِلاَّ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ یعنی جس نے مجھے پیدا کیا۔ یہ استثناء منقطع ہے ‘ یا متصل ہے کیونکہ مَا کا لفظ مَا تَعْبُدون میں عام ہے ‘ یا موصوفہ ہے اور تعبدون اس کی صفت ہے ‘ یعنی ما سے مراد کافروں کے معبود ہیں۔ سَیَھْدِیْنَ یعنی عطا کردہ ہدایت پر مجھے قائم رکھے گا ‘ یا معرفت کے درجہ بدرجہ مراتب مجھے عطا فرماتا رہے گا۔
Ayah 43:28

وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:28 in the Quran reader

اور یہی بات اپنی اولاد میں پیچھے چھوڑ گئے تاکہ وہ (خدا کی طرف) رجوع کریں

وجعلھا کلمۃ باقیہ فی عقبہ لعلھم یرجعون اور ابراہیم اس عقیدہ کو اپنی اولاد میں (بھی) ایک قائم رہنے والی بات کر گئے تاکہ (ہر زمانہ میں مشرک لوگ) شرک سے باز آتے رہیں۔ آیت اننی برآء مما تعبدون الا الذی فطرنی سے کلمۂ توحید مستفاد ہوتا ہے۔ جعلھا میں ھَا ضمیر کلمۂ توحید کی طرف راجع ہے ‘ یعنی حضرت ابراہیم نے کلمۂ توحید کو اپنی اولاد کیلئے باقی چھوڑا۔ قتادہ نے کہا : حضرت ابراہیم کی نسل میں ہمیشہ توحید کے پرستار باقی رہیں گے۔ قرطبی نے (جَعَلَ کا فاعل اللہ کو قرار دیا اور) کہا : اللہ حضرت ابراہیم کی نسل میں ہمیشہ وصیت ابراہمی کو قائم رکھے گا۔ ابن زید نے کہا : کلمۃً سے حضرت ابراہیم کا قول اسلمت لرب العالمین مراد ہے۔ ابن زید نے اس بیان کے وقت آیت سَمَّاکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ کی تلاوت بھی کی۔ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ یعنی ابراہیم کا قول اہل مکہ کے سامنے بیان کرو ‘ شاید یہ لوگ ابراہیم کے دین اور وصیت کی طرف لوٹ آئیں۔
Ayah 43:29

بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى جَآءَهُمُ الْحَقُّ وَ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:29 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ میں ان کفار کو اور ان کے باپ دادا کو متمتع کرتا رہا یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف صاف بیان کرنے والا پیغمبر آ پہنچا

بل متعت ھولاء واباءھم حتی جاءھم الحق و رسول مبین۔ بلکہ میں نے (کافروں) کو اور انکے باپ دادوں کو خوب سامان دیا ‘ یہاں تک کہ انکے پاس سچا (قرآن) اور احکام کو صاف صاف بیان کرنے والا پیغمبر آگیا
Ayah 43:30

وَ لَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ وَّ اِنَّا بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:30 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس حق (یعنی قرآن) آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو نہیں مانتے

ولما جاءھم الحق قالوا ھذا سحر وانا بہ کفرون اور جب انکے پاس یہ سچا قرآن پہنچا تو کہنے لگے : یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو نہیں مانتے۔ بَلْ مَتَّعْتُیہ لعلّھُم یرجعون سے اضراب اور اعراض ہے۔ ھٰٓؤُلَآء یعنی مکہ کے ان کافروں کو جو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں موجود تھے۔ وَاٰبَآءَھُمْ یعنی ان موجودہ کفار کے اسلاف جو ان سے پہلے گذر گئے ‘ مطلب یہ ہے کہ میں نے ان کو کفر کی فوری سزا نہیں دی۔ الْحَقُّ حق سے مراد ہے قرآن مجید۔ مقاتل نے کہا : اسلام مراد ہے۔ قَالُوْا ھٰذَا سِحْرٌ یعنی یہ قرآن جادو ہے۔ قرآن کو انہوں نے جادو اسلئے کہا کہ وہ قرآن جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز تھے۔ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ معجزات کے ذریعہ سے رسالت کو ظاہر کرنے والا ‘ یا آیات وبراہین کی روشنی میں توحید کو ظاہر کرنے والا ‘ یا اللہ کے احکام کو ظاہر کرنے والا۔ ابن جریر نے ضحاک کے حوالہ سے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ جب اللہ نے اپنے رسول کو مبعوث فرمایا تو عرب نے ماننے سے انکار کردیا اور کہنے لگے : کسی انسان کو اپنا پیغمبر بنا کر بھیجنے سے اللہ کی شان بلند وبالا ہے (یعنی وہ کسی انسان کو اپنا رسول نہیں بنا سکتا) اس پر اللہ نے آیات ذیل نازل فرمائیں : اَکَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَآ اِلٰی رَجُلٍ مّنْھُمْ ۔ اور وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ الاَّ رِجَالاً ۔ جب بار بار آیات کا (بکثرت) نزول ہونے لگا تو کہنے لگے : اگر آدمی کا ہی پیغمبر ہونا ضروری تھا تو محمد ﷺ کے علاوہ دوسرے لوگ رسالت کیلئے زیادہ اہل تھے ‘ ان کو پیغمبر ہونا چاہئے تھا۔
Ayah 43:31

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ Open ayah 43:31 in the Quran reader

اور (یہ بھی) کہنے لگے کہ یہ قرآن ان دونوں بستیوں (یعنی مکّے اور طائف) میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا؟

وقالوا لولا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم اور کہنے لگے : یہ قرآن دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا ؟ دو بستیوں سے مراد ہیں مکہ اور طائف۔ رجل عظیم سے مراد ہے بڑی عزت والا ‘ دنیوی آبرو دار اور بڑا مالدار۔ کافروں نے یہ سمجھا کہ رسالت بہت بڑا منصب ہے اور بڑا منصب بڑے آدمی کو ہی ملنا چاہئے ‘ انہوں نے یہ نہ سمجھا کہ نبوت ایک روحانی مرتبہ ہے ‘ جس کا دنیوی وجاہت و دولت سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ مرتبہ چاہتا ہے کہ جس کو اس درجہ پر فائز کیا جائے ‘ وہ فضائل اور کمالات قدسیہ کا حامل ہو ‘ ذاتی اور صفاتی تجلیات کی جلوہ گاہ بننے کی اس میں صلاحیت ہو۔ ابن المنذر بروایت قتادہ بیان کیا کہ ولید بن مغیرہ نے کہا تھا : اگر یہ قرآن جس کا نزول محمد ﷺ پر ہوتا ہے ‘ حق (یعنی من جانب اللہ) ہوتا تو مجھ پر یا ابن مسعود ثقفی پر نازل ہوتا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ بغوی نے لکھا ہے کہ مجاہد نے کہا : کافروں کی مراد یہ تھی کہ مکہ میں عتبہ بن ربیعہ پر اور طائف میں عبد یالیل پر نازل ہوتا۔ بعض نے کہا : مکہ میں ولید بن مغیرہ پر اور طائف میں حبیب بن عمرو بن عبید ثقفی پر قرآن کا نزول مراد تھا۔ ایک روایت میں حضرت ابن عباس کی طرف سے اس آخری قول کی نسبت کی گئی ہے۔ اللہ نے کافروں کے مذکورہ قول کی تردید میں فرمایا :
Ayah 43:32

اَهُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا١ؕ وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 43:32 in the Quran reader

کیا یہ لوگ تمہارے پروردگار کی رحمت کو بانٹتے ہیں؟ ہم نے ان میں ان کی معیشت کو دنیا کی زندگی میں تقسیم کردیا اور ایک کے دوسرے پر درجے بلند کئے تاکہ ایک دوسرے سے خدمت لے اور جو کچھ یہ جمع کرتے ہیں تمہارے پروردگار کی رحمت اس سے کہیں بہتر ہے

اھم یقسمون رحمت ربک نحن قسمنا بینھم معیشتھم فی الحیوۃ الدنیا ورفعنا بعضھم فوق بعض درجت لیتخذ بعضھم بعضا سخریا ورحمت ربک خیر مما یجمعون کیا یہ لوگ آپ کے رب کی رحمت (یعنی نبوت) کو خود بانٹ لینا چاہتے ہیں ؟ (حالانکہ) ہم نے ہی دنیوی زندگی میں ان کو ان کی روزی بانٹی ہے اور آپس میں ایک کو دوسرے پر بہت درجے بڑھا چڑھا رکھا ہے تاکہ ایک دوسرے سے کام لیتا رہے۔ اور آپ کے رب کی رحمت اس (مال) سے بہتر ہے جس کو یہ جمع کرتے ہیں۔ رحمت رب سے مراد ہے نبوت۔ استفہام انکاری ہے ‘ اس کا مقصد کافروں کی جہالت کا اظہار توبیح اور انکے قول پر تعجب ہے۔ مَعِیْشَت یعنی وہ رزق جس سے زندگی وابستہ ہے۔ وَرَفَعْنَا بَعْضَھُمْ الخ یعنی دولت اور دنیوی وجاہت میں بعض کو بعض سے اونچا کردیا۔ کسی کو غنی بنا دیا اور کسی کو محتاج ‘ کسی کو مالک اور کسی کو غلام۔ لِیَتَّخِذَ الخ سُخْرِیًّا یعنی تابع حکم ‘ فرمانبردار ‘ عملی خادم۔ سُخْرِیًّا میں یاء نسبتی ہے۔ قتادہ اور ضحاک نے کہا : بعض لوگ مال کے ذریعہ سے دوسرے کو اپنا غلام اور مملوک بنا لیتے ہیں اور کوئی بھی اپنی معاش میں کمی بیشی نہیں کرسکتا اور اللہ معیشت تنگ کر دے تو کوئی اعتراض کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ وَرَحْمَتُ رَبِّکَ یعنی نبوت اور لوازم نبوت دنیا کے اس بےمقدار حقیر مال سے بہتر ہیں ‘ جس کو یہ لوگ جمع کرتے ہیں۔ خلاصۂ بیان یہ ہے کہ دنیا میں جب کوئی بزرگی و برتری خود حاصل کرنے کی قدرت نہیں رکھتا اور کسی کو اس انتخاب میں دخل نہیں ہے تو نبوت میں جو انسانیت کا اعلیٰ مقام ہے ‘ کیسے ان کی مرضی اور مشیت کو دخل ہوسکتا ہے۔ اللہ کی بارگاہ میں بڑا آدمی اسباب دنیوی کی کثرت سے نہیں بنتا ‘ بلکہ نبوت عظمت انسانی کا اعلیٰ مرتبہ ہے۔ دنیوی متاع تو اللہ کی نظر میں بےقدر ‘ حقیر اور قابل نفرت ہے۔
Ayah 43:33

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَۙ Open ayah 43:33 in the Quran reader

اور اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک ہی جماعت ہوجائیں گے تو جو لوگ خدا سے انکار کرتے ہیں ہم ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتے اور سیڑھیاں (بھی) جن پر وہ چڑھتے ہیں

ولولا ان یکون الناس امۃ واحدۃ لجعلنا لمن یکفر بالرحمن لبیوتھم سقفا من فضۃ ومعارج علیھا یظرون۔ اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تمام آدمی ایک ہی طریقہ کے ‘ یعنی کافر ہوجائیں گے تو جو لوگ رحمن کا انکار کرتے ہیں ‘ ہم ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی کردیتے اور زینے بھی جن پر چڑھ کر چھتوں پر پہنچتے ہیں (چاندی کے کردیتے)
Ayah 43:34

وَ لِبُیُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیْهَا یَتَّكِئُوْنَۙ Open ayah 43:34 in the Quran reader

اور ان کے گھروں کے دروازے بھی اور تخت بھی جن پر تکیہ لگاتے ہیں

ولبیوتھم ابوابا وسررا علیھا یتکؤن۔ اور ان کے گھروں کے دروازے اور تخت بھی جن پر تکیہ لگا کر بیٹھتے ہیں اور سامان آرائش بھی ‘ سب کچھ (چاندی کا کردیتے) ۔ النَّاس یعنی سب لوگ۔ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ایک گروہ ‘ یعنی آخرت کی طرف سے یہ غفلت اور پیش نظر دنیا کی محبت کی وجہ سے سب لوگوں کے کافر بن جانے کا اگر خیال نہ ہوتا۔ سُقُفًا یہ سَقْفٌ کی جمع ہے ‘ جیسے دَھْنٌ کی جمع دُھُنٌ آتی ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : کوئی تیسری مثال ایسی نہیں کہ فَعْلٌ کی جمع فُعْلٌ آئی ہو۔ بعض کے نزدیک سُقُفٌ‘ سَقِیْفٌ کی جمع ہے۔ بعض کے نزدیک سَقُوْفٌ کی جمع الجمع ہے۔ مَعَارِجَ سیڑھیاں ‘ زینے۔ عَلَیْھَا یَظْھَرُوْنَ یعنی چھتوں پر زینہ سے چڑھ کر پہنچ جاتے۔ وَسُرُرًا اور چاندی کے تخت۔ سُرُرٌ‘ سریر کی جمع ہے۔ زُخْرُفًا زینت ‘ سجاوٹ۔ دوسری آیت میں اَوْ یَکُوْنَ لَکَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ میں بھی زخرف کا معنی زینت ہے۔ کافروں کیلئے عیش دنیا کو مخصوص کردینے کی یہ وجہ ہے کہ اللہ کی نظر میں دنیا قابل نفرت چیز ہے اور کافر بھی عند اللہ قابل نفرت ہیں ‘ پس قابل نفرت ‘ مکروہ چیز کو قابل نفرت لوگوں کیلئے مخصوص کردیا۔
Ayah 43:35

وَ زُخْرُفًا١ؕ وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 43:35 in the Quran reader

اور (خوب) تجمل وآرائش (کردیتے) اور یہ سب دنیا کی زندگی کا تھوڑا سا سامان ہے۔ اور آخرت تمہارے پروردگار کے ہاں پرہیزگاروں کے لئے ہے

وزخرفا وان کل ذلک لما متاع الحیوۃ الدنیا والاخرۃ عند ربک للمتقین اور نہیں ہے یہ سب (چاندی کی چھتیں اور سیڑھیاں اور دروازے اور تخت اور سامان آرائش) مگر دنیوی زندگی کا سر و سامان اور آخرت آپ کے رب کے نزدیک پرہیزگاروں کیلئے ہے۔ وَاِنْ- اِنْ نافیہ ہے۔ لِمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا۔ لَمَّا استثنائیہ ہے یعنی نہیں ہے ‘ مذکورہ بالا سارا سامان مگر اس زندگی کا اسباب عیش ہے۔ جو قریب زوال ہے ‘ باقی رہنے والی نہیں ہے ‘ اللہ کی نظر میں اس کی کوئی وقعت نہیں۔ الاٰخِرَۃ دار آخرت ‘ پچھلا مکان۔ عِنْدَ رَبِّکَ یعنی اللہ کے علم اور فیصلہ میں۔ لِلْمُتَّقِیْنَ یعنی ان لوگوں کیلئے دار آخرت ہے جو شرک و معاصی سے پرہیز کرتے ہیں۔ آیت والاٰخرۃ عند ربّک للمتّقین دلالت کر رہی ہے کہ عظیم وہ ہے جو آخرت میں عظیم ہو۔ دنیوی برائی ہیچ ہے۔ درپردہ اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ آسائش اور آرائش دنیا ساری کی ساری مؤمنوں ہی کو نہیں دی گئی ‘ بلکہ اللہ کے دشمنوں کو بھی اس میں حصہ دار بنایا گیا ہے کیونکہ دنیا اللہ کی نظر میں مبغوض ہے۔ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ سب لوگ کافر ہوجائیں گے تو دنیا پوری کافروں کیلئے مخصوص کردی جاتی اور اگر دنیا اللہ کے نزدیک اچھی اور پسندیدہ ہوتی تو کافروں کا ادنیٰ حقیر حصہ بھی اس میں نہ رکھا جاتا۔ حضرت سہل بن سعد راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر اللہ کے نزدیک دنیا کا وزن مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتا تو کافر کو اس میں سے ایک گھونٹ پانی اللہ نہ دیتا۔ دوسری روایت میں گھونٹ کی بجائے ” بوند “ کا لفظ آیا ہے (رواہ الترمذی والضیاء) حضرت مستورد بن شداد فہری کا بیان ہے : میں ان سواروں میں شامل تھا جو رسول اللہ ﷺ کے ہمرکاب ایک مردہ بکری کے بچہ پر جمع تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تم لوگ دیکھ رہے ہو کہ اس کو بےقدر سمجھ کر گھر والوں نے یہاں پھینک دیا ہے ؟ حاضرین نے عرض کیا : جی ہاں ‘ بےقدر سمجھ کر اس کو یہاں پھینکا گیا ہے۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : جتنا یہ گھر والوں کی نظر میں بےقدر ہے ‘ اس سے زیادہ اللہ کے نزدیک دنیا بےقدر ہے ‘ رواہ البغوی۔ ابو نعیم نے لکھا ہے کہ داؤد بن ہلال حنبی نے کہا : حضرت ابراہیم کے صحیفوں میں لکھا ہوا ہے : اے دنیا ! تو نیکوں کے سامنے آراستہ ہو کر آتی ہے ‘ لیکن تو ان کی نظر میں بہت حقیر ہے ‘ میں نے ان کے دلوں میں تیری نفرت اور تیری طرف سے بےرخی ڈال دی ہے تجھ سے زیادہ ذلیل میں نے اور کوئی مخلوق نہیں پیدا کی ‘ تو ہر حالت میں حقیر ہے (تیرا انجام فنا ہے) فنا کی طرف تو جا رہی ہے۔ جس روز میں نے تجھے پیدا کیا تھا ‘ اسی روز فیصلہ کردیا تھا کہ نہ تو کسی کیلئے ہمیشہ رہے گی ‘ نہ کوئی تیرے لئے ہمیشہ رہے گا ‘ خواہ تیرا حامل کتنا ہی تیرا حریص ہو اور کتنا ہی تیرے سلسلہ میں کنجوس ہو۔ خوشی ہو ان نیکوکاروں کیلئے جو (میری) خوشنودی پر قائم رہ کر اندرون قلب سے مجھے دیکھتے اور صدق و استقامت پر قائم رہ کر اپنے ضمیر سے میری طرف جھانکتے ہیں۔ خوب ہے ان کیلئے وہ ثواب جو میرے پاس ہے۔ جب وہ قبروں سے اٹھ کر میری طرف آئیں گے تو ان کا نور ان کے آگے آگے (اور دائیں طرف) دوڑتا ہوا آئے گا اور ملائکہ ان کو گھیرے ہوئے ہوں گے۔ اس وقت میں ان کو اپنی اس رحمت تک پہنچا دوں گا جس کے وہ امیدوار تھے۔ حضرت جابر راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دنیا ملعون ہے اور جو کچھ اس میں ہے وہ ملعون ہے ‘ سوائے اس چیز کے جو اللہ کی طرف سے ہے (یعنی ہدایت ‘ ایمان ‘ اسلام ‘ کتب الہٰیہ ‘ ملائکہ وغیرہ) رواہ الضیاء۔ ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے اور طبرانی نے الاوسط میں صحیح سند سے حضرت ابن مسعود کے حوالہ سے بھی یہ حدیث اسی طرح بیان کی ہے ‘ صرف اتنا فرق ہے کہ آخری استثنائیہ فقرہ کی بجائے یہ الفاظ ہیں : اللہ کا ذکر اور اللہ کے ذکر کے لوازم اور عالم اور طالب علم اس سے مستثنیٰ ہیں۔ بزار نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے استثنائیہ فقرہ اس طرح نقل کیا ہے : سوائے بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے ‘ یا اللہ کے ذکر کے۔ طبرانی نے الکبیر میں حضرت ابو درداء کی روایت سے آخری فقرہ اس طرح نقل کیا ہے : سوائے اس (عمل و قول) کے جس سے اللہ کی خوشنودی کی طلب مقصود ہو۔ حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دنیا اس کا گھر ہے جس کا آخرت میں (بہشت کے اندر) کوئی گھر نہیں اور یہ اس کیلئے مال ہے جس کا (خرت میں) کوئی مال نہیں۔ اس کو وہی جمع کرتا ہے جس کے اندر عقل نہیں ‘ رواہ احمد والبیہقی ‘ بیہقی نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے اس کو موقوفاً بھی نقل کیا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دنیا مؤمن کا قید خانہ اور اس کا خفیف سا خواب ہے۔ جب وہ دنیا کو چھوڑ جاتا ہے تو قید خانہ سے اور خواب سے چھوٹ جاتا ہے ‘ رواہ احمد والطبرانی والحاکم فی المستدرک و ابونعیم فی الحیلۃ۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دنیا مؤمن کا قید خانہ اور کافر کی جنت ہے ‘ رواہ احمد والترمذی وفی مسلم فی الصحیح۔ بیہقی اور حاکم نے حضرت سلمان کی روایت سے اور بزار نے حضرت ابن عمر کی روایت سے بھی یہ حدیث بیان کی ہے۔ حدیث سے مراد یہ ہے کہ مؤمن خواہ کتنے ہی عیش دنیوی میں ہو ‘ لیکن آخرت میں جو ثواب اس کیلئے مقرر کیا گیا ہے ‘ اس کے مقابلہ میں یہ عیش دنیا ایک قید خانہ ہے اور کافر اس زندگی میں خواہ کتنے ہی دکھ اور مصیبت میں ہو ‘ لیکن آخرت میں جو عذاب اس کیلئے مقرر کیا گیا ہے ‘ اس کے مقابلہ میں یہ دنیوی دکھ اس کیلئے جنت ہے۔ وا اللہ اعلم ایک سوال مؤلف مسند الفردوس نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دنیا اہل آخرت کیلئے حرام ہے اور آخرت اہل دنیا کیلئے حرام ہے اور دنیا و آخرت (دونوں) اہل اللہ کیلئے حرام ہیں ‘ اس کا کیا مطلب ہے ؟ جواب میرے نزدیک حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اہل آخرت یعنی مؤمنوں کیلئے دنیا کی محبت حرام ہے ‘ یہ معنی نہیں کہ دنیا سے بہرہ اندوز ہونا حرام ہے ‘ کیونکہ اللہ نے فرمایا : قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللہ الَّتِیْٓ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَالطَّیِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ قُلْ ھِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الحَیٰوۃِ الدُّنْیَا خالِصَۃً یَّوْمَ الْقِیٰمَۃِ (ا اللہ نے اپنے بندوں کیلئے دنیوی زیبائش اور پاکیزہ رزق حرام نہیں کیا ‘ ہاں قیامت کے دن یہ عیش و لذت مؤمنوں کیلئے مخصوص ہے) اب جو دنیا کی محبت میں مبتلا ہوتا ہے ‘ وہ اپنی آخرت خراب کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : جس نے اپنی دنیا سے محبت کی ‘ اس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا اور جس نے اپنی آخرت سے پیار کیا ‘ اس نے اپنی دنیا کو نقصان پہنچایا۔ تم غیر فانی (آخرت) کو فانی (دنیا) پر ترجیح دو (یعنی آخرت کو اختیار کرو) رواہ احمد والحاکم فی المستدرک عن ابی موسیٰ ۔ آخرت سے مراد ہیں آخرت کی خوش نصیبیاں ‘ لذتیں ‘ اہل دنیا یعنی کفار جن کا مقصد صرف دنیا کا حصول ہے ‘ آخرت کی لذتیں ان کیلئے حرام ہیں ‘ آیت مِنْھُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَمَالَہٗ فِی الْاَٰخِرَۃِ مِنْ خَلاَقٍ میں یہی لوگ مراد ہیں۔ باقی دنیا و آخرت یعنی دونوں کی محبت اہل اللہ کیلئے حرام ہے۔ اہل اللہ کے دلوں میں اللہ کی محبت ایسی رچی بسی ہوتی ہے کہ دوسری طرف وہ گوشۂ چشم سے بھی نہیں دیکھتے ‘ ان کے دلوں کی توجہ کسی اور طرف ہوتی ہی نہیں۔ روایت میں آیا ہے کہ رابعہ بصریہ ایک ہاتھ میں پانی سے بھرا ہوا کوئی برتن اور دوسرے ہاتھ میں آگ کا ٹکڑا پکڑے جا رہی تھیں ‘ کسی نے پوچھا : آپ کہاں جا رہی ہیں ؟ فرمایا : میں چاہتی ہوں کہ اس پانی سے دوزخ کی آگ بجھا دوں اور اس آگ سے جنت کو جلا دوں تاکہ جنت کے لالچ اور دوزخ کے خوف سے کوئی شخص اللہ کی عبادت نہ کرے ‘ بلکہ محض لوجہ اللہ عبادت کرے۔ مجدد الف ثانی نے فرمایا : رابعہ کا یہ قول سکر پر مبنی تھا۔ سلوک کی دنیا میں تو مؤمن کا فرض ہے کہ جنت کا خواہشمند ہو ‘ صرف اس وجہ سے کہ رحمت خداوندی کا مقام ہے اور دوزخ سے اللہ کی پناہ کا طلبگار ہو ‘ کیونکہ دوزخ اللہ کی ناراضگی اور غضب کا محل ہے۔ مؤمن کو فی نفسہٖ نہ جنت کی تمنا ہوتی ہے ‘ نہ دوزخ کا ڈر ‘ اس کی رجاء و بیم کی بناء اس بات پر ہوتی ہے کہ ایک مرکز رحمت اور دوسرا مقام غضب ہے (پس حقیقت میں جنت کی طلب رحمت خداوندی کی طلب اور دوزخ کا خوف اللہ کے غضب کا خوف ہوتا ہے ‘ مترجم) ۔ ایک سوال سامان دنیا سے بہرہ اندوز ہونا جائز ہے ‘ بشرطیکہ اللہ اور اس کے بندوں کی حق تلفی نہ ہو۔ اور طلب معاش جائز بلکہ فرض ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے : حلال (روزی) کی طلب فرض (الٰہی) ادا کرنے کے بعد فرض ہے۔ رواہ الطبرانی والبیہقی عن ابن مسعود۔ پھر دنیا اور محبت دنیا کی حرمت کا کیا معنی ؟ جواب دنیا کی محبت کا یہ مطلب ہے کہ آخرت پر دنیا کو ترجیح دینے لگے ‘ دنیا کمانے اور دنیوی عیش حاصل کرنے میں اتنا انہماک ہوجائے کہ حصول ثواب اور خوف عذاب سے غفلت ہوجائے ‘ مال جمع کرنے کی اتنی حرص پیدا ہوجائے کہ لمبی لمبی آرزوؤں میں گرفتار ہوجائے ‘ دولت مندوں کو ناداروں سے بہتر سمجھنے لگے ‘ اہل ثروت کی تعظیم محض اس وجہ سے کرنے لگے کہ وہ سرمایہ دار ہیں۔ کسی مضرت کو دفع کرنے یا احسان کا بدلہ دینے یا کسی اور جائز شرعی مقصد کے زیر اثر امیوں کی تعظیم نہ ہو ‘ محض ان کی دولت کی وجہ سے ہو ‘ یا امراء کی تعظیم و تکریم کر کے (ان کا قرب حاصل کرنے کے بعد) اپنا عروج اور بالا دستی چاہتا ہو ‘ یا تعمیر کو تخریب سے بدلنے کا خواستگار ہو اور ملک میں تباہی پھیلانا چاہتا ہو ‘ تو یہ سب صورتیں جائز ہیں۔ لیکن جو لوگ تجارت اور خریدو فروخت میں پھنس کر اللہ کی یاد اور اداء صلوٰۃ سے غافل نہ رہتے ہوں اور روز حشر سے ہر وقت خوفزدہ ہوں ‘ ان کیلئے کسب معاش حرام نہیں ہے۔ اگر تحصیل مال سے ان کا مقصد اپنی اور اپنے اہل و عیال کی پرورش اور ان کے حقوق کی ادائیگی ہو ‘ یا عبادت کیلئے جسمانی قوت حاصل کرنا ‘ یا اللہ کی راہ میں مستحقوں کو دینا مقصود ہو تو کسب معاش ان کیلئے مکروہ نہیں ہے بلکہ بعض صورتوں میں واجب اور بعض صورتوں میں مستحب اور بعض صورتوں میں مباح ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو آدمی حلال مال کمائے ‘ پھر اس میں سے خود کھائے یا پہنے اور اس کے بعد اللہ کی مخلوق کو کھلائے پہنائے جو اس سے قریبی تعلق رکھتی ہو تو یہ عمل اس کیلئے (گناہوں سے) پاکی کا ذریعہ ہوجائے گا ‘ رواہ ابن حبان فی صحیحہ من حدیث ابی سعید۔
Ayah 43:36

وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ Open ayah 43:36 in the Quran reader

اور جو کوئی خدا کی یاد سے آنکھیں بند کرکے (یعنی تغافل کرے) ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں تو وہ اس کا ساتھی ہوجاتا ہے

ومن یعش عن ذکر الرحمن نقیض لہ شیطنا فھو لہ قرین اور جو شخص اللہ کی نصیحت (یعنی قرآن) کی طرف سے اندھا بن جاتا ہے ‘ ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں ‘ سو وہ (ہر وقت) ان کے ساتھ لگا رہتا ہے۔ یعنی 1 ؂ جو قرآن کی طرف سے اعراض کرے گا اور خواہشات نفسانی میں انہماک رکھنے اور دنیوی لذتوں میں مشغول ہونے کی وجہ سے اللہ کے ذکر کی طرف سے اندھا بنا رہے گا۔ عَشَوْتُ اِلَیْہِ میں نے براہ راست اس کا قصد کیا۔ عَشَوْتُ عَنْہُ میں نے اس سے رخ پھیرلیا۔ اسی طرح عَدَلْتُ الیہ میں اس کی طرف مائل ہوگیا۔ عَدَلْتُ عَنْہ میں اس کی طرف سے مڑ گیا۔ رَغِبْتُ فِیْہِ میں نے اس کی طرف رغبت کی۔ رَغِبْت عَنْہ میں نے اس سے اعراض کیا۔ خلیل کا قول ہے کہ عَشْوٌ (مصدر) کا معنی ہے کمزور نظر سے دیکھنا۔ نُقَیِّضْ لَہٗ ہم شیطان کو اس پر مسلط کردیتے ہیں ‘ اس کے ساتھ شیطان کو ملا دیتے ہیں ‘ جوڑ دیتے ہیں۔ فَھُوَ لَہٗ قَرِیْنٌ پس شیطان اس کا ساتھی ہوجاتا ہے ‘ اس سے الگ نہیں ہوتا ‘ گناہوں اور بدکاریوں کو آراستہ کر کے اس کی نظر کے سامنے لاتا ہے اور یہ خیال اس کے ذہن میں پیوست کردیتا ہے کہ یہی ہدایت کا راستہ ہے۔
Ayah 43:37

وَ اِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:37 in the Quran reader

اور یہ (شیطان) ان کو رستے سے روکتے رہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ سیدھے رستے پر ہیں

وانھم لیصدونھم عن السبیل ویحسبون انھم مھتدون اور حقیقت یہ ہے کہ شیطان انکو راہ ہدایت سے روکتے ہیں اور وہ (بہکے ہوئے لوگ) خیال کرتے ہیں کہ ہم راہ ہدایت پر ہیں۔ مَنْ یَّعْشُ میں مَنْ کا لفظ مفرد ہے لیکن معنی کے لحاظ سے جمع ہے ‘ اسلئے یصدونھم میں ہم ضمیر جمع اور یحسبون میں صیغۂ جمع ذکر کیا۔
Ayah 43:38

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ Open ayah 43:38 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہمارے پاس آئے گا تو کہے گا کہ اے کاش مجھ میں اور تجھ میں مشرق ومغرب کا فاصلہ ہوتا تو برا ساتھی ہے

حتی اذا جاء نا قال یلیت بینی وبینک بعد المشرقین فبئس القرین یہاں تک کہ جب ایسا شخص ہمارے پاس آئے گا تو (اس شیطان سے) کہے گا کہ کاش (دنیا میں) میرے تیرے درمیان اتنا فاصلہ ہوتا جتنا مشرق سے مغرب کا تھا ‘ تو برا ساتھی ہے۔ قَال یعنی کافر جو قرآن کی طرف سے اندھا ہوگیا تھا ‘ اپنے شیطان سے کہے گا۔ یٰلَیْتَ یا اس جگہ حرف تنبیہ ہے ‘ یا حرف ندا ہی ہے اور منادیٰ محذوف ہے یعنی یاقرین۔ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنَ مشرقین مشرقین ‘ دو مشرق۔ اس سے مراد ہے مشرق اور مغرب ‘ یا دو مشرق سے مراد ہے گرمی اور سردی کے موسم میں سورج کے طلوع ہونے کے جدا جدا مقامات۔ حضرت ابو سعید خدری کا بیان ہے کہ جب کافر کو قبر سے اٹھایا جائے گا تو اس کے ساتھ اس کے شیطان کو ملا کر جوڑ دیا جائے گا ‘ شیطان اس سے الگ نہ ہوگا ‘ یہاں تک کہ دونوں دوزخ میں داخل ہوں گے۔
Ayah 43:39

وَ لَنْ یَّنْفَعَكُمُ الْیَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّكُمْ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 43:39 in the Quran reader

اور جب تم ظلم کرتے رہے تو آج تمہیں یہ بات فائدہ نہیں دے سکتی کہ تم (سب) عذاب میں شریک ہو

ولن ینفعکم الیوم اذ ظلمتم انکم فی العذاب مشترکون اور ان سے کہا جائے گا جب (دنیا میں) تم کفر کرچکے تو آج یہ بات تمہارے کام نہیں آئے گی کہ تم اور شیطان عذاب میں شریک ہو۔ اِذْ ظَّلَمْتُمْ یعنی جب اس روز ظاہر ہوجائے گا کہ دنیا میں تم نے خود اپنے اوپر ظلم کیا تھا اور سب مشترک تھے تو عذاب میں بھی باہم مشترک ہو گے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ عذاب میں تم سب کا باہم مشترک ہونا تمہارے لئے مفید نہ ہوگا (یعنی مرگ انبوہ دوزخ کے اندر عذاب کی تکلیف کو ہلکا نہیں کرسکے گا) دنیا میں قاعدہ ہے کہ جب سب لوگ کسی سختی میں مبتلا ہوجائیں تو سختی کا احساس ہلکا ہوجاتا ہے۔ عذاب کی شدت چونکہ ہر شیطان پر بدرجۂ اتم اور کامل ترین ہوگی ‘ اسلئے دوسرے ساتھیوں کو شدائد میں مبتلا ہونا اسکو فائدہ نہ پہنچا سکے گا۔
Ayah 43:40

اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ اَوْ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ مَنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 43:40 in the Quran reader

کیا تم بہرے کو سنا سکتے ہو یا اندھے کو رستہ دکھا سکتے ہو اور جو صریح گمراہی میں ہو (اسے راہ پر لاسکتے ہو)

افانت تسمع الصم او تھدی العمی ومن کان فی ضلل مبین کیا آپ ایسے بہروں کو سنا سکتے ہیں یا ایسے اندھوں کو اور ان لوگوں کو جو صریح گمراہی میں ہیں ‘ راہ دکھا سکتے ہیں ؟ وَمَنْ کَانَ کا عطف الْعُمْیَ پر ہے کیونکہ نابینا ہونا اور گمراہ ہونا ‘ دونوں صفتیں الگ الگ ہیں۔ اَفَانْتَ میں استفہام تعجبی انکاری ہے ‘ یعنی یہ کافر جب کفر کے خوگر ہوگئے اور گمراہی میں ایسے ڈوب گئے کہ ظلمت کفر کا پردہ ان کی آنکھوں پر پڑگیا اور ان کے کانوں میں ایسے گرانی آگئی کہ وہ آپ کا کلام گوش حق نیوش سے نہیں سنتے اور جو راستہ آپ ان کو دیکھا رہے ہیں ‘ وہ طریق حق ان کو نہیں سوجھتا تو ایسے بہروں کو آپ کلام حق نہیں سنا سکتے اور نہ ایسے اندھوں کو راہ راست دکھا سکتے ہیں۔