43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 43:1–2

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 43:2 in the Quran reader

قسم ہے اس کتاب کی جو کہ کھول کھول کر بیان والی ہے

1 یہ کتاب مبین اپنی صداقت و حقانیت کی دلیل خود : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " قسم ہے کھول کر بیان کرنے والی اس عظیم الشان کتاب کی "۔ جو کھول کر بیان کرتی ہے حق و باطل کو، درست اور نا درست کو، جائز و ناجائز کو، حلال و حرام کو، اَسباب سعادت اور موجبات شقاوت کو۔ اور ہر اس چیز کو جس کی انسان کو سعادت دارین سے سرفرازی کے لئے ضرورت پیش آسکتی ہے۔ اور یہ سب کچھ پیش اور بیان بھی فرمایا جا رہا ہے اس ہستی کے ذریعے جو امی محض ہے اور جس نے نہ کبھی کسی انسان کے سامنے زانوئے تلمذ طے کئے اور نہ کسی انسان سے کبھی کوئی حرف تک سیکھا پڑھا۔ مگر اس کے باوجود علوم و معارف کے وہ خزانے پیش فرمائے جن کے مقابلے سے ساری دنیا عاجز و بےبس ہے اور جن کی نظیر چشم فلک نے نہ کبھی دیکھی اور نہ قیامت تک کبھی دیکھ سکے گی۔ پس یہ آپ ﷺ کی صداقت و حقانیت کا ایک کھلا اور قطعی ثبوت اور ایک صریح اور واضح دلیل ہے ۔ صلوات اللّٰہ وسلامہ علیہ وعلٰی اٰلہ وصحبہ ومن اھْتٰدی بِہَدْیِہ اِلٰی یَوْم الِدَّیّن ۔ سو یہ کتاب مبین ایسی واضح اور کھلی کتاب ہے کہ اپنے ہر دعوے پر خود حجت اور دلیل ہے۔ اور ایسی اور اس حد تک کہ کسی خارجی دلیل کی محتاج نہیں۔ سو جو لوگ اس کی تکذیب کیلئے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں وہ آفتاب نصف النہار کی روشنی کو اپنی بھونڈی کوششوں سے چھپانے کی حماقت کر رہے ہیں۔ جو کہ خود اپنی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ مقسم علیہ یہاں پر محذوف ہے۔ اور جہاں واضح قرینہ موجود ہو اور قسم خود مقسم علیہ کو واضح کر رہی ہو وہاں مقسم علیہ کو محذوف کردیتے ہیں۔ جیسا کہ سورة ق میں بھی موجود ہے اور دوسرے بھی کئی مقامات پر بھی اس کی مثالیں موجود ہیں ۔ والحمد للہ جل وعلا -
Ayah 43:3

اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 43:3 in the Quran reader

ہم ہی نے اس کو بنایا ہے قرآن عربی زبان کا تاکہ تم لوگ سمجھو

2 قرآن حکیم کا عربی زبان میں اتارا جانا عربوں پر ایک مستقل احسان : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے اس کو عربی زبان کا ایک عظیم الشان قرآن بنایا ہے "۔ تاکہ تم لوگ ۔ اے عرب۔ جو کہ اس کے اولین مخاطب ہو اور تمہیں اپنی زبان وبیان پر بھی دنیا ساری کے مقابلے میں ایک غرہ اور ناز تھا اور ہے، تم اس کتاب حکیم کو سمجھ سکو۔ اور پھر اس کے پیغام حق و ہدایت کو تم سارے عالم میں پہنچا سکو۔ اور یوں بھی عربی زبان کے علاوہ دوسری کوئی زبان ایسی تھی ہی نہیں اور ہے ہی نہیں جو قرآنی علوم و معارف کو اپنے دامن میں سمیٹ سکے کہ جن نزاکتوں اور باریکیوں پر یہ زبان حاوی و مشتمل ہے اور جو گہرائی، گیرائی اور وسعت و جامعیت اس زبان میں پائی جاتی ہے وہ دنیا کی دوسری کسی بھی زبان میں نہ تھی نہ ہے اور نہ ہوسکتی ہے۔ اس لئے قرآن حکیم کو اسی زبان یعنی عربی مبین میں نازل فرمایا گیا۔ سو قرآن حکیم کا عربی زبان میں اتارا جانا قدرت کی طرف سے عربوں پر ایک عظیم الشان احسان تھا اور ہے کہ خداوند قدوس نے اپنی آخری اور کامل کتاب کو ان کی زبان میں اتارا تاکہ یہ لوگ بلاواسطہ غیر اس سے فیض حاصل کرسکیں۔ انکو دوسروں کی تعلیم و تلقین کا رہین منت واحسان نہ ہونا پڑے بلکہ دوسرے انکے ممنون احسان بنیں۔ نیز اس کتاب حکیم کے عربی زبان کے قرآن کی شکل میں اتارنے میں عربوں پر اتمام حجت بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہی کی زبان میں اس کتاب حکیم کو اتار کر انکے ہر عذر کو ختم کردیا ہے۔ سو اب یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے یہاں اس طرح کا کوئی عذر نہیں کرسکتے کہ مخاطب عربی اور کلام عجمی وغیرہ۔
Ayah 43:4

وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌؕ Open ayah 43:4 in the Quran reader

اور بلاشبہ یہ اصل کتاب میں ثبت ہے ہمارے یہاں بڑے ہی مرتبے والی حکمت بھری کتاب ہے1

3 قرآن حکیم کی عظمت شان کا ایک خاص پہلو : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ یہ ثبت و مندرج ہے اصل کتاب میں "۔ یعنی ہمارے اس علم ازلی و قدیم میں جس کو لوح محفوظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ (ابن کثیر، صفوۃ اور مدارک وغیرہ) ۔ سو یہ کوئی معمولی کلام یا ہنسی مذاق کی چیز نہیں۔ بلکہ ایک نہایت ہی عالی نسب کلام اور بلند مرتبہ چیز ہے۔ سو اس کی ناقدری کرنا بڑا ظلم ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ کتاب حکیم اسی سرچشمہ فیض اور منبع نور سے نازل ہوئی ہے جس کے نور ہی سے آسمان و زمین میں روشنی ہے اور جو تمام علوم کا حقیقی سرچشمہ ہے۔ سو بڑے بدبخت ہوں گے وہ لوگ جو اس کی قدر نہ پہچانیں۔ اور اس طرح کے ناقدرے لوگ دراصل اپنا ہی نقصان کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 4 یہ ایک بڑی ہی بلند مرتبہ کتاب ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ یہ ہمارے یہاں بڑی ہی بلند مرتبہ کتاب ہے "۔ " اِنَّ " اور لام تاکید کی دو تاکیدوں کے ساتھ موکد کر کے بیان فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ یہ کتاب یعنی قرآن مجید ایسی بلند مرتبہ اور اتنی عظیم الشان کتاب ہے جس جیسی دوسری کوئی کتاب نہ اس سے پہلے کبھی ہوئی اور نہ آئندہ قیامت تک کبھی ممکن ہوسکتی ہے۔ اور یہ ایسی کتاب عظیم ہے جو پوری نوع انسانیت کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کی کفیل وضامن ہے۔ پس جو صدق دل سے اس کے دامن سے وابستہ ہوگیا وہ حق و حقیقت کے علوم و معارف سے بہرہ ور اور دولت حکمت سے مالا مال ہوگیا۔ اور جس نے اس سے منہ موڑا وہ خسران مبین کے ہولناک گڑھے میں گرگیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور جب یہ آسمانوں اور زمین کے خالق کی طرف سے اتارا جانے والا کلام ہے تو جس طرح اسکا نازل کرنے والا بےمثال ہے اسی طرح یہ کلام بھی بےمثال ہے۔ سو ایسی عظیم الشان اور بےمثال کتاب سے اعراض و روگردانی برتنا خساروں کا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے خسارے سے ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 43:5

اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ Open ayah 43:5 in the Quran reader

تو کیا ہم تم سے اس نصیحت کو اس لئے پھیر دیں گے کہ تم لوگ حد سے گزرنے والے ہو ؟

5 قرآن حکیم حکمتوں بھری کتاب : سو " علی " کے بعد اس کی دوسری صفت " حکیم " بیان فرمائی گئی۔ پس یہ سراسر حکمتوں بھری کتاب ہے۔ کہ اس کا ہر بیان مستحکم اور اس کی ہر بات حکمت والی ہے۔ اس قدر کہ اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال نہ کبھی ہوئی ہے نہ ہوسکتی ہے۔ پس محروم ہیں حق کے نور، حقیقت کی روشنی اور حکمت کی دولت سے وہ لوگ جو اس کتاب حکیم پر ایمان و یقین کی دولت سے محروم ہیں۔ اگرچہ وہ کتنے ہی بڑے بلند بانگ دعوے کیوں نہ کریں اور ان کو اپنی دنیاوی اور مادی ترقی پر کتنا ہی فخر و ناز کیوں نہ ہو ۔ والعیاذ باللہ مِنْ ھٰذا الحرمان ومن ذالک الْخُسران ۔ اور ایسا کیوں نہ ہو جبکہ اس کو اتارا گیا ہے اس ذات اقدس و اعلیٰ کی طرف سے جو کہ علیم و حکیم ذات ہے۔ اور یہ امر ظاہر و باہر اور یہ حقیقت اپنی جگہ ایک طے شدہ اور مسلم حقیقت ہے کہ یہ کلام اپنے متکلم کی صفات و خصوصیات کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ اس لیے یہ کلام حکیم بھی ایسا ہی بےمثال ہے جس طرح کہ اسے نازل فرمانے والی ذات اقدس و اعلیٰ بےمثال ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور جب اللہ پاک " علی " و " حکیم " ہے تو اس کا یہ کلام بھی " علی " و " حکیم " ہے۔ اور جو اس کے دامن سے وابستہ ہوں گے وہ بھی حقیقی عزت و عظمت سے سرفراز ہوں گے ۔ وباللہ التوفیق - 6 منکرین کی ناقدری کے باوجود اتمام حجت کا انتظام : سو ارشاد فرمایا گیا اور استفہام انکاری کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا کہ " کیا ہم تم سے اس نصیحت کو اس لیے پھیر دیں گے کہ تم لوگ حد سے گزرنے والے ہو ؟ "۔ اور اس کی ناقدری اور ناشکری کرتے ہو۔ سو کیا اس بنا پر تم کو یونہی اسراف و سرکشی میں مبتلا رہنے دیا جائے ؟ اور تم حیوانوں اور چوپایوں کی طرح بلکہ اس سے بھی بدتر زندگی گزارو ؟ سو نہیں اور ہرگز نہیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ یہ ہماری حکمت و رحمت کے بھی خلاف ہے اور تقاضائے عدل و انصاف کے بھی منافی۔ اس لئے ہم نے ہدایت و راہنمائی کو اپنے ذمہ کرم پر لازم کر رکھا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ { اِنَّ عَلَیْنَا لَلْھُدٰی } ۔ (اللیل : 12) نیز ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَعَلَی اللّٰہِ قَصْدُ السَّبِیْلِ وَمِنْہَا جَائِر } ۔ (النحل :9) ۔ سو اسی لئے ہم نے یہ کلام حکمت نظام نازل کر کے تمہاری ہدایت و راہنمائی کا بھرپور طریقے سے سامان کردیا۔ اب آگے تمہاری مرضی اور تمہارا اختیار کہ تم صدق دل سے اس پر ایمان لا کر اور اس کی تعلیمات مقدسہ سے فائدہ اٹھا کر اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی حاصل کرو یا اس سے اعراض کرکے اور منہ موڑ کر ابدی شقاوت میں جا گرو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو تم لوگ اس کی قدر کرو یا نہ کرو اس کی تعلیم و تذکیر کا یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ تم لوگوں پر اللہ کی حجت تمام نہ ہوجائے۔ تاکہ ہر کوئی اپنی زندگی کی راہ پوری بصیرت کے ساتھ اختیار کرے۔ اور جس نے ہلاک ہونا ہو وہ اتمام حجت کے بعد ہلاک ہو ۔ والعیاذ باللہ ۔ { لِیَہْلِکَ مَنْ ہَلَکَ عَنْ بَیِِّنَۃٍ وَّ یَحْیٰی مَنْ حَیَّ عَنْ بَّیِّنَۃٍ } ۔ (الانفال :42) ۔ سو اتمام حجت عقل ونقل دونوں کا تقاضا ہے۔
Ayah 43:6

وَ كَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:6 in the Quran reader

اور ہم نے کتنے ہی پیغمبر بھیجے (ان سے) پہلے لوگوں میں

7 پیغمبر کیلئے تسکین وتسلیہ کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے کتنے ہی پیغمبر بھیجے ان سے پہلے لوگوں کے اندر مگر ان کے پاس جو بھی کوئی پیغمبر آیا انہوں نے اس کا مذاق ہی اڑایا "۔ پس آپ ﷺ کے ساتھ جو کچھ۔ اے پیغمبر !۔ آج ہو رہا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں۔ بلکہ اس سے پہلے بھی ہوتا رہا ہے۔ اس لئے آپ صبر و برداشت ہی سے کام لیں۔ سو یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا کہ ۔ { مَا یُقَالُ لَکَ الاَّ مَا قَدْ قِیْلَ للرُّسُلِ مِنْ قَبلِکَ } ۔ (حمٓ السجدہ : 43) ۔ نیز فرمایا گیا ۔ { وَاِنْ یُّکَذِّ بُوْکَ فَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبِلِکَ } ۔ (فاطر : 4) یعنی اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلاتے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔ بلکہ آپ سے پہلے بھی کتنے ہی رسولوں کو جھٹلایا گیا۔ بہرکیف اس میں تاریخ کے حوالے سے درس دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے پہلے بھی کتنے ہی رسول اسی مقصد تذکیر و اصلاح کیلئے بھیجے۔ لیکن ہر قوم نے اپنے رسول کا مذاق اڑایا اور اس کی نصیحت کی تحقیر کی ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو بالآخر ایسی قوموں کو تباہ و برباد اور نیست و نابود کرکے قصہ پارنیہ بنادیا گیا۔ اور وہ قومیں اپنی قوت و شوکت کے اعتبار سے دور حاضر کے ان کفار و منکرین سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھیں اپنے آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کر رہیں۔ اور جب اللہ کے عذاب نے انکو پکڑا ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو ان کی ایک نہ چلی اور ان کی وہ قوت و شوکت جس پر انکو بڑا فخر و ناز تھا انکے کچھ کام نہ آسکی۔ جیسے قوم عاد وثمود اور قوم لوط وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو انکار اور تکذیبِ حق کا نتیجہ وانجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ تکذیب وانکارِ حق کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 43:7–8

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 43:7 in the Quran reader

مگر ان کے پاس جو بھی کوئی پیغمبر آیا تو انہوں نے اس کا مذاق ہی اڑایا

فَاَهْلَكْنَاۤ اَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَّ مَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:8 in the Quran reader

آخرکار ہم نے ہلاک کر ڈالا ان کو جو طاقت میں (موجودہ دور کے منکرین حق سے) کہیں بڑھ کر سخت تھے اور گزر چکیں مثالیں پہلوں کی2

8 تاریخ سے درس عبرت لینے کی تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ گزر چکی ہیں عبرتناک مثالیں پہلے لوگوں کی۔ اسی قرآن حکیم کے دوسرے مختلف مقامات پر۔ (محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ پس اس میں بڑا درس عبرت ہے دور حاضر کے اور اس کے بعد کے جملہ کفار و منکرین کے لئے کہ جس انجام سے گزشتہ دور کی یہ مختلف اقوام دوچار ہوئیں وہ ان دور حاضر کے منکرین کو بھی پیش آسکتا ہے کہ اللہ پاک کا قانون بےلاگ اور سب کے لئے یکساں ہے ۔ { وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلاً } ۔ (الاحزاب : 62) ۔ نیز ارشاد فرمایا گیا ۔ { فَجَعَلْنَاہُمْ سَلَفًا وَّمَثَلاً للآخِرِیْنَ } ۔ (الزخرف : 56) سو ان عبرتناک مثالوں میں بڑا سامان عبرت و بصیرت ہے ان لوگوں کیلئے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔ جس میں سب سے بڑا درس یہ ہے کہ حضرات انبیاء و رسل اور ان کی دعوت کے منکرین و مکذبین اور حق کا استہزاء کرنے والوں کا آخری انجام بہرحال تباہی و ہلاکت ہے۔ اور نہایت ہی ہولناک ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ و ضلال وسوء و انحراف وخزی وعذاب۔
Ayah 43:9

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 43:9 in the Quran reader

اور اگر آپ ﷺ ان سے پوچھیں کہ کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین (کی اس کائنات) کو تو یہ ضرور بالضرور یہی جواب دیں گے کہ ان سب کو اسی زبردست علم والی ہستی نے پیدا کیا ہے

9 مشرکین کا اقرار کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر آپ ان سے پوچھیں کہ کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین ۔ کی اس عظیم الشان کائنات ۔ کو ؟ تو اس کے جواب میں یہ لوگ یقینا یہی کہیں گے کہ ان کو اسی نے پیدا فرمایا ہے جو بڑا ہی زبردست سب کچھ جاننے والا ہے "۔ سو جب انہیں یہ تسلیم ہے کہ آسمان و زمین کی تخلیق میں اس وحدہ لاشریک کا کوئی شریک وسہیم نہیں تو پھر استحقاق عبودیت و بندگی میں کوئی اس کا شریک کس طرح ہوسکتا ہے ؟ عجیب مت ماری گئی ان لوگوں کی کہ مقدمات تو سب کے سب پوری طرح تسلیم کرتے ہیں مگر ان کے نتائج سے انکار کرتے ہیں ۔ { فَاَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ ؟ } ۔ یہاں سے دو باتیں مزید معلوم ہوئیں۔ ایک تو یہ کہ محض اللہ پاک کے خالق ومالک مان لینے سے بات نہیں بنتی جب تک کہ ہر شریک کی اس سے نفی نہ کی جائے۔ بلکہ نفی پہلے ہے اور اثبات بعد میں۔ جیسا کہ کلمہ طیبہ میں ہے۔ پس آج کے کلمہ گو مشرکوں کی یہ بات کافی نہیں کہ ہم تو اللہ کو خالق ومالک مانتے ہیں۔ کیونکہ اتنی بات تو مشرکین عرب بھی مانتے تھے۔ جیسا کہ قرآن پاک جابجا اس کی تصریح کرتا ہے۔ مگر اس کے باوجود وہ قطعی طور پر مشرک تھے۔ پس ضروری ہے کہ اللہ پاک کی وحدانیت کے اقرار کے ساتھ ساتھ مخلوق سے ہر قسم کی صفت الوہیت کا انکار بھی کیا جائے۔ کہ اس وحدہ لاشریک کے سوا نہ کوئی حاجت روا، نہ مشکل کشا۔ نہ کسی کے لئے دست بستہ قیام جائز اور نہ رکوع و سجود۔ نہ کسی کے گرد طواف کرنا، چکر لگانا اور پھیرے ماننا اور نہ کسی کے نام کی نذر و نیاز دینا کہ یہ سب مختلف شکلیں اور قسمیں ہیں عبادت کی۔ اور عبادت و بندگی کی ہر شکل اور ہر قسم کا حق دار وہی وحدہ لاشریک ہے جو کہ سب کا خالق ومالک اور معبود برحق ہے۔ مگر اس کے باوجود آج کا کلمہ گو مشرک ایمان و یقین کا دعویٰ کرنے اور توحید کا دم بھرنے کے باوصف طرح طرح کی شرکیات میں مبتلا ہے۔ غیر اللہ کے لئے سجدے ہو رہے ہیں۔ طواف کئے جا رہے ہیں۔ اور ان کو حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے غائبانہ پکارا جا رہا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللّٰہ جَلَّ و عَلَا ۔ اور دوسری بات یہاں سے یہ معلوم ہوئی کہ ۔ { اِذْ نُسَوِیّکُمْ بِرَبِّ الْعٰالَمِیْنَ } ۔ کا وہ مطلب نہیں جو اہل بدعت کے بعض بڑوں نے لیا ہے۔ کیونکہ مشرکین اپنے خودساختہ معبودوں کو من کل الوجوہ اللہ کا شریک نہیں ٹھہراتے تھے جیسا کہ قرآن تصریح کرتا ہے۔ پس اہل بدعت کے مغالطے بےبنیاد ہیں ۔ اللہ تعالیٰ زیغ وضلال کے ہر شائبے سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 43:10

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ Open ayah 43:10 in the Quran reader

جس نے بنادیا تمہارے لئے (اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے) اس زمین کو ایک عظیم الشان بچھونا اور کھول دئیے اس میں طرح طرح کے راستے تاکہ تم لوگ راہ پا سکو (اپنی منزل مقصود تک رسائی کی)

10 زمین کے عظیم الشان بچھونے میں سامان غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جس نے زمین کو تمہارے لیے ایک عظیم الشان بچھونا بنایا "۔ ایک ایسا عظیم الشان اور بےمثال قسم کا بچھونا جو اس کی بےحد و حساب اور گوناں گوں مخلوق اور اس مخلوق کی لاتعداد و بیشمار ضروریات کے لئے کفایت کرتا ہے۔ جبکہ تمہارے بنائے ہوئے بچھونے اے لوگو ! ہر طرح کے تکلفات کے باوجود بمشکل چند آدمیوں کے لئے کافی ہوسکتے ہیں اور وہ بھی ایک محدود دائرے میں۔ پس " مہداً " کی تنوین تعظیم کے لئے ہے اور اس میں اس طرح کے عظیم الشان مطالب و مضامین کے دفتروں کے دفتر مخفی و مستور ہیں ۔ فسبحان اللہ والحمد للّٰہِ رَبِّ العالمین ۔ سو اس ارشاد ربانی میں یہ تعلیم و تلقین ہے کہ انسان اگر چارسو پھیلی بکھری اس عظیم الشان کائنات اور اپنے پاؤں تلے بچھی زمین کے اس عظیم الشان بچھونے ہی میں صحیح طور سے غور و فکر کرلے تو اس کو اس میں حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کی قدرت مطلقہ، حکمت بالغہ، رحمت شاملہ اور عنایت کاملہ کے عظیم الشان مظاہر نظر آئیں گے۔ اور ایسے کہ وہ بےساختہ پکار اٹھے گا ۔ { رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذٰا بَاطِلاً ، سُبْحَانَکَ فَقِنَا عَذَاب النَّارِ } ۔ (آل عمران : 191) سو کائنات کی اس کھلی کتاب کے ان عظیم الشان مظاہر میں غور و فکر سے کام لینے والوں کیلئے اس کے خالق ومالک کی قدرت و حکمت، اس کی وحدانیت ویکتائی اور عقیدئہ قیامت و آخرت کی صداقت و حقانیت کے عظیم الشان دلائل ملیں گے ۔ { وَفَی الاَرْضِ آیٰاتٌ لِلْمُوْقِنِیْنَ } ۔ (الذاریات :20) ۔ مگر مشکلوں کی مشکل یہ ہے کہ غفلت کا مارا انسان اس بارے غور و فکر سے کام لیتا ہی نہیں۔ وہ حیوانوں کی طرح اس سے طرح طرح کے فائدے تو اٹھاتا ہے اور لگاتار و مسلسل اٹھاتا ہے لیکن اس بارے سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا کہ یہ سب کچھ آخر کیا دھرا کس کا ہے ؟ سو وہی ہے اللہ وحدہ لا شریک جو کہ معبود برحق ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ - 11 زمین کے اندر پائے جانے والے راستوں میں سامان غور وفکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی نے رکھ دیئے اس زمین کے اندر طرح طرح کے عظیم الشان راستے تاکہ تم لوگ ہدایت و راہنمائی حاصل کرسکو "۔ یعنی تاکہ تم ایک جگہ سے دوسری جگہ اور ایک ملک سے دوسرے ملک جانے کے لئے راستے پا سکو۔ اور اس عظیم الشان و بےمثال انتظام کو دیکھ کر تم لوگ اپنے خالق ومالک کی معرفت اور اس پر ایمان اور ہدایت کی راہ پا سکو کہ کس قدر رحیم و کریم وہاب وقدیر اور منعم و مہربان ہے ہمارا وہ رب جس نے ہمارے لئے طرح طرح کی ان عظیم الشان نعمتوں کو اس قدر و سعت و کشائش اور بےمثال حکمت و عنایت سے اس طرح پھیلا دیا۔ اور ہماری طرف سے کسی اپیل و درخواست کے بغیر ازخود محض اپنی شان کریمی سے ہمیں ان سے سرفراز فرما دیا۔ اور یہیں سے تم لوگ یہ بھی سوچو کہ اس کی معرفت اور اس کی عبادت و بندگی کا کس قدر بڑا اور عظیم الشان حق ہم پر عائد ہوتا ہے۔ سو کتنے ظالم اور کس قدر بےانصاف ہیں وہ لوگ جو اس ربِّ کریم کو بھول کر اور اس سے منہ موڑ کر ۔ والعیاذ باللہ ۔ غیروں کے آگے جھکتے اور طرح طرح کی بےحقیقت ہستیوں اور خود ساختہ اور فرضی " سرکاروں " کی پوجا پاٹ کی ذلت اٹھاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اگر تم لوگ صحیح طور پر غور و فکر سے کام لو تو تمہیں زمین کے اندر پائے جانے والے طرح طرح کے ان عظیم الشان نشانہائے قدرت سے راہ حق و ہدایت نصیب ہوسکتی ہے اور تم دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہوسکتے ہو ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 43:11

وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ١ۚ فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ۚ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ Open ayah 43:11 in the Quran reader

اور جس نے اتارا آسمان سے پانی ایک خاص اندازے کے ساتھ پھر جلا اٹھایا ہم نے اس کے ذریعے مردہ (اور ویران پڑی) زمین کو اسی طرح نکالا جائے گا تم لوگوں کو (تمہاری قبروں سے)

12 پانی کی نعمت میں غور و فکر کی دعوت و تحریک : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اس نے آسمان سے پانی اتارا ایک خاص اندازے کے ساتھ "۔ یعنی تمہاری ضروریات و حاجات کے عین مطابق۔ نہ اتنا کم کہ تمہاری ضرورتوں کے لئے کفایت نہ کرسکے اور نہ اتنا زیادہ کہ تمہیں غرق کر دے اور طوفان نوح کی طرح تمہاری ہلاکت و بربادی کا باعث بن جائے ۔ فالحمد للّٰہِ رَبِّ العالمین ۔ سو آسمان سے پانی کے اس جوہر حیات آفریں کا اس طرح اترنا اور ایک نہایت ہی معقول اور مناسب اندازے اور مقدار میں نازل ہونا کوئی بخت و اتفاق یا محض ہوا اور موسمی حالات کا نتیجہ نہیں۔ بلکہ یہ ایک خدائے عزیز وعلیم اور قدیر و حکیم کی تقدیر اور اس کی نہایت ہی پر حکمت منصوبہ بندی کا نتیجہ وثمرہ ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو یہ کتنی بےانصافی اور ناقدری ہے کہ انسان ظواہر و مظاہر میں اٹک کر اور الجھ کر اسی خدائے رحمن و رحیم، عزیز وعلیم اور خبیر و قدیر کو بھول جائے اور اس کی بجائے اس کی اس پر حکمت کائنات کے مختلف مظاہر ہی کو پوجنے لگے۔ کسی نے سورج کو اپنا معبود بنا لیا اور کسی نے جل پوجا کے نام سے پانی کی پوجا کے ظلم کا ارتکاب کیا اور کسی نے کسی اور ایری غیری مخلوق کی پوجا کی ذلت اٹھائی اور اپنی بربادی کا سامان کیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ و ضلال وسوء و انحراف۔ اللہ زیغ وضلال کی ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ 13 مردہ زمین کو زندہ کرنے میں سامان غور و فکر : سو اس سے پانی کے ذریعے مردہ زمین کے زندہ کرنے کے عمل میں غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر اسی پانی کے ذریعے ہم ہی نے جلا اٹھایا مردہ ۔ و ویران ۔ پڑی زمین کو "۔ اپنی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور عنایت شاملہ سے۔ تو جو خالق کل اور مالک مطلق تمہاری جسمانی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے اس طرح ظاہری اور حسی بارش کا انتظام فرماتا ہے اور اس کے ذریعے وہ مردہ پڑی زمین کو زندہ فرماتا ہے تو پھر یہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ تمہاری روحانی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے ہدایت و ارشاد کی معنوی اور روحانی بارش کا کوئی انتظام نہ فرمائے ؟ اور تمہارے دلوں کی کھیتیوں کی سرسبزی و شادابی کا بندوبست نہ کرے ؟ جبکہ جسم و جان کے اس مرکب میں اصل چیز تو قلب و روح ہی ہے۔ جسم تو بس اس کے لئے ایک سواری اور مرکب ہے۔ سو اس ربِّ رحمن و رحیم نے تمہاری ہدایت و راہنمائی کیلئے نہایت ہی عظیم الشان انتظام فرمایا ہے کہ ایک طرف تو اس نے تمہارے سامنے کائنات کی اس کھلی کتاب کو نہایت ہی پر حکمت طریقے سے سجا کر رکھ دیا ہے جس میں حق اور حقیقت کو روشن کرنے والے عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ہر چہار سو پھیلائے ہیں۔ اور اس طور پر کہ وہ اپنی زبان حال سے پکار پکار کر دعوت غور و فکر دیتے ہیں۔ اور دوسری طرف تمہارے خالق ومالک ربِّ علیم و قدیر نے تمہیں عقل و بصیرت کی اس عظیم الشان اور بےمثال روشنی سے نوازا اور سرفراز فرمایا جو ایک عظیم الشان اور بےمثال روشنی ہے۔ جس سے کام لیکر تم لوگ راہ حق و ہدایت کو پا اور اپنا سکتے ہو۔ اور تیسری طرف اس نے حضرات انبیاء و رسل کی قدسی صفات ہستیوں کو تمہاری ہدایت و راہنمائی کیلئے اپنا نمائندہ اور رسول بنا کر مبعوث فرمایا اور ان پر اپنی کتابیں نازل فرمائیں جنکی آخری اور کامل شکل قرآن مجید ہے۔ جو سب کتابوں کی جامع، انکے اصولی مضامین و مطالب کی محافظ و نگہبان اور ان کی امین و پاسدار ہے۔ سو اس سب کے باوجود جو لوگ راہ حق و ہدایت سے منہ موڑتے ہیں وہ بڑے ہی محروم اور بدبخت لوگ ہیں۔ اور ان کیلئے اب کسی عذر و معذرت کی کوئی گنجائش نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف پانی کے ذریعے زمین کو زندہ کرنے کے اس عمل میں عظیم الشان قدرت و حکمت ہے ۔ فالحمد للہ جل وعلا - 14 بعث بعد الموت کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اسی طرح تم سب لوگوں کو نکالا جائے گا تمہاری قبروں سے "۔ یعنی جس طرح کہ اس مردہ زمین سے وہ طرح طرح کی نباتات کو نکالتا ہے اور تم لوگ خود اس کا برابر اور ہمیشہ مشاہدہ کرتے ہو۔ مگر غور و فکر سے کام نہیں لیتے۔ کہ جس قادر مطلق ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کی قدرت مطلقہ اور حکمت بالغہ سے مردہ زمین اور اس کے اندر کی بیشمار مردہ چیزوں کو زندہ کرنے کا یہ کام پیہم جاری ہے آخر وہ تم کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے کیوں نہیں اٹھائے گا ؟۔ اور یہ کام آخر اس کیلئے کیوں کر مشکل ہوسکتا ہے ؟ سو اس طرح یہاں سے قیاس شرعی کی حجیت کا ثبوت بھی ملتا ہے کہ یہاں پر مردوں کے قبروں سے نکلنے کو زمین سے نباتات کے نکلنے پر قیاس فرمایا گیا ہے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جس طرح ہم پانی کے ذریعے مردہ پڑی ہوئی بےآب وگیاہ زمین کو اس طرح زندہ کردیتے ہیں کہ وہ لہلہا اٹھتی ہے۔ سو اسی طرح تم لوگوں کو مرنے اور گل سڑ جانے کے بعد دوبارہ اس زمین سے زندہ کرکے اٹھا کھڑا کیا جائے گا۔ یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ بارش کے ذریعے زمین کو زندہ کرنے کا یہ پہلو چونکہ خاص اہمیت کا حامل ہے اس لیے اس کو متکلم کے صیغے سے بیان فرمایا گیا ہے۔ جو اس کے اس پہلو کے اہتمام کو ظاہر کرتا ہے ۔ سبحان اللہ !۔ کیا کیا باریکیاں اور لطافتیں اور نزاکتیں اللہ تعالیٰ کے اس کلام مجید میں ہیں ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayahs 43:12–14

وَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَۙ Open ayah 43:12 in the Quran reader

اور جس نے پیدا فرمائے (قسما قسم کے) یہ تمام جوڑے اور اس نے بنادیں تمہارے (طرح طرح کے فائدوں کے) لئے یہ کشتیاں (اور بحری جہاز) اور پیدا کردیئے تمہارے (طرح طرح کے منافعوں کے) لئے وہ چوپائے جن پر تم لوگ سوار ہوتے ہو

لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْهِ وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ Open ayah 43:13 in the Quran reader

تاکہ تم ٹھیک (اور آرام دہ طریق سے) بیٹھو ان کی پیٹھوں پر پھر یاد کرو اپنے رب کے ان انعامات کو جن سے اس نے تم لوگوں کو نوازا ہے (اپنے فضل و کرم سے) پھر جب تم اس پر برابر بیٹھ جاؤ اور یوں کہو کہ پاک ہے وہ ذات جس نے (اپنے کرم سے) ہمارے تابع کردیا اس سواری کو ورنہ ہم ایسے نہ تھے کہ ازخود اس کو اپنے قابو میں لے آتے

وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ Open ayah 43:14 in the Quran reader

اور یقینی طور پر ہم سب کو بہرحال اپنے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے1

16 نعمتوں کے حقِّ شکر اور سفر آخرت کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب تم ان سواریوں پر ٹھیک طرح سے بیٹھ جاؤ تو یوں کہو کہ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے فضل و کرم سے اس سواری کو ہمارے تابع کردیا ورنہ ہم ایسے نہ تھے کہ از خود اور اپنے طور پر اس کو اپنے قابو میں لے آتے اور یقینا ہم سب کو بہرحال اپنے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے "۔ سو اس طرح اس مختصر اور عارضی سفر سے تم اپنے ذہن کو آخرت کے اس حقیقی اور آخری و دائمی سفر کی طرف منتقل کرلو جو تمہیں مسلسل درپیش ہے۔ سو اس طرح ایک مومن کی دنیا بھی دین بن جاتی ہے۔ اور وہ ہر چیز سے درس عبرت و اصلاح لینے کا عادی بن جاتا ہے۔ اور وہ مخلوق کی کسی چمک دمک کے آگے جھکنے کی بجائے خالق کی عظمت اور اس کی معرفت سے مزید از مزید سرشار ہوتا جاتا ہے۔ اور ان ظواہر میں سے کسی کو بھی دیکھ کر وہ " اللہ اکبر " ۔ " سبحان اللہ " ۔ " ما شاء اللہ " اور " لا حول ولا قوۃ الا باللہ " وغیرہ کلمات حمدو ثنا کہتا ہوا اپنے خالق حقیقی کی عظمت کا نقش اپنے دل و دماغ میں اور پختہ اور گہرا کرتا چلا جاتا ہے کہ تعریف و توصیف اور تسبیح و تقدیس کے لائق یہ دنیاوی اشیاء نہیں کہ یہ تو خود اپنے وجود کی بھی مالک نہیں۔ بلکہ اس کا اصل مستحق وہ خالق ہے جس نے ان تمام اشیاء کو پیدا فرمایا اور ان کو ہمارے کام میں لگا دیا۔ اس لئے مومن صادق اپنی نماز کا آغاز بھی ۔ " الحمد للہ " ۔ سے کرتا ہے۔ کہ تعریف کے حقدار یہ ظواہر و مظاہر نہیں بلکہ وہ اللہ واحد و یکتا ہے جس نے ان تمام ظواہر و مظاہر کو وجود بخشا ہے۔ اس کے برعکس ایک دنیادار و مادہ پرست اور مشرک انسان سب کچھ انہی مادی اشیاء کو سمجھنے لگتا ہے اور انہی میں الجھ کر وہ ہر چمکیلی شئی کے آگے جھکتا اور ہر بڑی و خوفناک چیز سے ڈر کر اس کے آگے سجدہ کرنے لگتا ہے۔ اور اس کو خوش کرنے کی فکر میں لگ جاتا ہے۔ سو یہاں سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایمان و اسلام کی دولت ایک انسان کو کس قدر عظمتوں اور رفعتوں سے ہمکنار کردیتی ہے ۔ فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ عَلٰی مَا شَرَّفَنَا بِہٰذہ النِّعْمَۃِ الْعُظْمٰی ۔ اسی لئے دین حنیف میں سواری پر سوار ہوتے وقت اس دعا کے پڑھنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے اور اس کے علاوہ اور بھی جو بہت سی پیاری اور عمدہ دعائیں احادیث کریمہ میں وارد ہوئی ہیں ان سب میں اسی درس کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے ۔ الحمد اللہ ۔ راقم آثم نے اپنی کتاب " قرآن و سنت کی مقدس دعائیں " میں ان میں سے بہت سی دعاؤں کو جمع کردیا ہے۔ اور ان کے ساتھ ہی ساتھ اپنی اس کتاب میں دعا سے متعلق اور بھی بہت سی عمدہ اور نفیس باتیں جمع کردی ہیں۔ اور یہ کتاب۔ الحمد للہ ۔ آج سے کوئی بیس برس پہلے چھپ کر منصہ شہود پر آچکی ہے اور کئی ہزار کی تعداد میں تقسیم بھی ہوچکی ہے ۔ فالحمد للہ ۔ اللہ پاک اس کو قبول فرمائے اور مؤلف کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ بنائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی سے ایک طرف تو نعمتوں پر حقِّ شکر کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے اور دوسری طرف دنیا کے ہر سفر سے آخرت کے اصل اور حقیقی سفر کی تذکیر و یاددہانی بھی فرمائی گئی ہے جو کہ ایک عظیم الشان سفر ہے۔ اور جو مسلسل و لگاتار جاری ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 43:15

وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِیْنٌؕ۠ Open ayah 43:15 in the Quran reader

مگر (اس سب کے باوجود) لوگوں نے اس کے کچھ بندوں کو اس کا جز بنا ڈالا واقعی انسان بڑا کھلا ناشکرا ہے

17 بندوں کی ناشکری کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس سب کے باوجود لوگوں نے اللہ کے بندوں میں سے کچھ کو اسکا جزو بنادیا "۔ یعنی اللہ پاک کی اس عظمت و رفعت شان اور خود ان لوگوں کے اس اقرار و اعتراف کے باوجود کہ خالق ومالک سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ ان لوگوں نے اس کے بندوں میں سے کچھ کو اسکا جز بنا ڈالا۔ کوئی ملائکہ کو اس کی بیٹیاں قرار دیتا ہے۔ کسی نے عزیر کو اور کسی نے مسیح کو اس کا بیٹا قرار دیا ہے۔ حالانکہ یہ سب مخلوق اور مادی جسم رکھنے والی ہستیاں ہیں۔ جبکہ اللہ پاک خالق اور جسم و جسمانیات سے پاک اور وراء الوراء ہے۔ افسوس کہ آج امت مسلمہ کے اندر بھی شرک اور شرکیات کی اس داء عضال کے جراثیم یہاں اور وہاں جگہ جگہ اور طرح طرح سے پائے جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کتنے ہی کلمہ گو مشرک ایسے ہیں جو اللہ کے بندوں اور اس کی پاکیزہ ہستیوں میں بعض کو " نور من نور اللہ " یعنی " اللہ کے نور میں سے ایک نور " اور اس کا جزء قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ زمین و آسمان کی اس ساری کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے۔ تو پھر وہ اسکا جزء اور اس کی ذات کا حصہ آخر کس طرح ہوسکتی ہے ؟ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو یہ انسان کا انتہائی ناشکرا پن اور اس کی اوندھی منطق ہے کہ ملتا تو اس کو سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے لیکن یہ اس میں شریک اور حصہ دار ان دوسری چیزوں کو ٹھہراتا ہے جن کا اس کی عطا و بخشش اور داد و دہش میں نہ کوئی حصہ ہوتا ہے اور نہ کوئی عمل دخل۔ اور نہ ایسے ہوسکتا ہے۔ پھر بھی یہ ناشکرا انسان اس واہب مطلق اور اس کے احسان کو بھول کر انہی خودساختہ شریکوں اور فرضی " ہستیوں " اور وہمی اور بناوٹی " سرکاروں " کے گن گاتا اور انہی کی پوجا و پرستش کرنے لگتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 18 انسان کی ناشکری کا شکوہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " واقعی یہ انسان بڑا ہی کھلا ناشکرا ہے "۔ کہ جو بھی کوئی غور کرے گا اس کو انسان کفور کی ناشکری کھلم کھلا نظر آئے گی۔ اور انسان سے یہاں پر مراد جنس انسان ہے نہ کہ کوئی خاص فرد ۔ " اَیْ جِنْسُہٗ " ۔ (جامع البیان) ۔ سو یہ اس انسان کا حال بیان فرمایا گیا ہے جو حق اور ہدایت کے نور سے محروم ہوتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ انسان جب سر سے پاؤں تک اور اول سے آخر تک اس واہب مطلق کی طرح طرح کی اور بےحد و حساب نعمتوں میں ڈوبا ہوا ہے پھر بھی اگر یہ اس سے منہ موڑ کر اوروں کے گن گائے تو اس سے بڑھ کر کفران اور ناشکری کی مثال اور کیا ہوسکتی ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یہاں پر یہ امر بھی واضح رہے کہ مشرکین کی دیویوں اور دیوتاؤں میں سے کچھ تو وہ تھے جن کو وہ خداوند قدوس کی صفات یا اس کے حقوق و اختیارات میں شریک مانتے تھے۔ لیکن ان میں کچھ ایسے بھی تھے جن کو وہ خدا کی ذات میں بھی شریک جانتے تھے۔ مثلا ملائکہ کے بارے میں ان لوگوں کا کہنا یہ تھا کہ یہ خدا کی بیٹیاں ہیں جو اس کی بڑی چہیتی ہیں۔ جو چاہیں اس سے منوا اور کروا سکتی ہیں۔ پس ہمارے لیے انہی کو راضی اور خوش رکھنا کافی ہے۔ انہی کی پوجا و پرستش ہماری شفاعت اور نجات کے لیے کافی ہے۔ سو قرآن حکیم میں یہاں پر ان کے اسی زعم باطل کی تردید فرمائی گئی۔ سو ان لوگوں کی ایسی تمام باتیں بےبنیاد اور من گھڑت ہیں جن کی نہ کوئی اساس و بنیاد ہے نہ ہوسکتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 43:16

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰىكُمْ بِالْبَنِیْنَ Open ayah 43:16 in the Quran reader

کیا اس نے اپنے لئے تو اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں چن لیں اور تمہیں بیٹوں سے نواز دیا ؟

19 مشرکین کے ضمیروں پر ایک دستک : سو مشرکوں کے ضمیروں پر دستک دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا اس نے اپنے لیے تو اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں چن لیں اور تم لوگوں کو بیٹوں سے نواز دیا ؟ "۔ یعنی جن کو تم لوگ خود اپنے لئے پسند نہیں کرتے جس کا کچھ نقشہ اگلی آیت کریمہ میں دکھلایا گیا ہے تو اس مخلوق کو تم لوگ حضرت خالق ۔ جَلَّ وَعَلاَ شَانُہٗ ۔ کی طرف کس طرح منسوب کرتے ہو ؟ تم کیسے لوگ ہو اور تمہاری عقلوں کو آخر کیا ہوگیا ؟ یہ بات جہاں حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی جناب اقدس میں سنگین گستاخی ہے وہاں یہ تمہاری عقلوں کے لئے بھی ماتم ہے کہ جو چیز تم خود اپنے لئے پسند نہیں کرتے وہ تم اس مالک الملک حضرت خالق اکبر اور ربِّ حقیقی کے لئے تجویز کرتے ہو۔ پس یہ استفہام تعجب و انکار کے لئے ہے۔ اور اس سے ان لوگوں کے عقیدے کے بھونڈے پن کو واضح فرمایا گیا ہے اور ان کے ضمیروں کو جھنجوڑا گیا ہے۔ سو جب خداوند قدوس سب کچھ پیدا کرتا ہے تو پھر یہ کیسے ہوا کہ اس نے اپنے لیے تو بیٹیاں چن لیں اور تم لوگوں کو بیٹوں سے نواز دیا ؟ ۔ { مَا لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ ؟} -
Ayahs 43:17–18

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 43:17 in the Quran reader

اور ان لوگوں کا اپنا حال یہ ہے کہ جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی خوشخبری دی جاتی ہے جس کو وہ خود (خدائے) رحمان کی طرف منسوب کرتا ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ کڑھنے لگتا ہے

اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ هُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ Open ayah 43:18 in the Quran reader

کیا اس کے لئے تم وہ مخلوق تجویز کرتے ہو جو زیوروں (اور آسائش و زیبائش) میں پروان چڑھے ؟ اور وہ بحث و حجت میں (اپنا مدعا بھی) پوری طرح واضح نہ کرسکے ؟

20 عربوں کے ایک عمومی احساس کی تعبیر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا وہ مخلوق ۔ اس کی شریک ہوسکتی ہے ۔ جو زیور میں پروان چڑھے ؟ "۔ معلوم ہوا کہ آرائش و زیبائش میں رہنا مردوں کی شان نہیں، عورتوں کی صفت ہے۔ مردوں کی زینت محنت و مشقت اور جہاد و دقتال ہے۔ چناچہ حضرت عمر۔ ؓ ۔ سے مروی ہے کہ آپ ؓ نے مردوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا کہ " روکھا سوکھا کھاؤ، موٹا جھوٹا پہنو اور محنت و مشقت کی زندگی گزارو "۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو عورت میدان حرب و ضرب کی مخلوق نہیں۔ عربوں کا عورت کے بارے میں یہی ذہن تھا اور یہاں پر اسی کو بیان فرمایا گیا ہے۔ سو عورت کے بارے میں یہ تبصرہ اللہ تعالیٰ کا نہیں بلکہ عربوں ہی کا ہے۔ کیونکہ عربوں کے یہاں عورت مبارزت اور مفاخرت کے میدان کی چیز تھی ہی نہیں۔ (تدبر قرآن) ۔ " خصام " کا لفظ یہاں پر " مبارزت " اور " مفاخرت " دونوں معنوں پر مشتمل ہے۔ اور زمانہ جاہلیت میں عربوں کے ہاں ان ہی دوچیزوں کی اصل اور بنیادی اہمیت تھی۔ ان کے یہاں آپس میں آئے دن جنگیں بھی برپا ہوتی رہتی تھیں اور باہمی مفاخرت کی مقابلے بھی۔ جن میں ان کے شعراء و خطباء اپنے اپنے قبیلوں کے مفاخر بیان کرتے اور داد وصول کرتے۔ اور ظاہر ہے کہ عورت ان دونوں ہی میدانوں میں ایک فروتر مخلوق تھی۔ اس لیے عربوں کی نگاہوں میں اس کی کوئی خاص اہمیت نہیں تھی۔ سو یہاں پر ان کو انکے اسی عمومی احساس کی بنا پر جھنجوڑا گیا ہے کہ ایسی کمزور اور فروتر مخلوق کو تم لوگ خداوند قدوس کا شریک اور اس کا جزء قرارد دیتے ہو۔ آخر تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا ہے اور تمہاری کیوں اور کہاں ماری گئی ؟۔ 21 مشرکین کے ضمیروں پر دستک مزید : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو اپنا مدعا بھی پوری طرح واضح نہ کرسکے " یعنی میدان مبارزت و مفاخرت میں وہ کوئی جوہر نہ دکھا سکے۔ اپنی عقل و فکر اور زبان وبیان کی کمزوری اور اپنی فطرت و طبعی ساخت و بناوٹ اور شرم و حیا کی وجہ سے۔ یہ صنف نازک کی عمومی خصوصیات اور اس کی جنسی نوعیت کا بیان ہے۔ باقی اگر کوئی اکا دکا مثال اس کے برعکس ہو تو وہ اس کے منافی نہیں کہ وہ شواذ کے حکم میں ہے۔ جبکہ اعتبار عموم اور کل کا ہوتا ہے نہ کہ شواذ و افراد کا۔ یہاں بھی استفہام رد و انکار کے لئے ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا۔ اور جیسا کہ ابھی اوپر کے حاشیے میں گزرا، عورت کے بارے میں یہ تبصرہ قرآن کا نہیں بلکہ عربوں کا ہے کہ ان کے نزدیک قدیم زمانے سے یہی کہنا اور ماننا تھا کہ عورت کا میدان مبارزت اور مفاخرت ہے ہی نہیں۔ اور اگر غور سے دیکھا جائے تو پتہ چلے گا کہ یہ بات کچھ عربوں ہی کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ہر جگہ اور ہر زمانے اور ماحول میں عورت کی حیثیت بالعموم یہی رہی کہ اپنی اصل اور عرف کے اعتبار سے وہ نہ زرہ بکتر اور شمشیر وسنان کی مخلوق ہے اور نہ ہی خطابت و شاعری کی۔ اور ہمارے اس دور میں بھی عورت کو جو اہمیت حاصل ہوئی ہے وہ نمائش کی مجالس کی حد تک ہی ہے۔ باہمی مبارزت و مفاخرت کے اعتبار سے وہ آج بھی وہیں ہے جہاں زمانہ جاہلیت کے عربوں کے ہاں تھی۔ اور یہ بات اس کے فطری تقاضوں کے بھی عین مطابق ہے۔ اسی لیے اس کو آج بھی صنف نازک ہی کہا جاتا ہے اور فاطر نے اس کی فطرت کو بنایا ہی ایسے ہے۔
Ayah 43:19

وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓئِكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا١ؕ اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ١ؕ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:19 in the Quran reader

نیز (اسی طرح) انہوں نے فرشتوں کو جو خدائے رحمان کے بندے ہیں عورتیں قرار دے دیا کیا یہ لوگ ان کی پیدائش کے وقت وہاں موجود تھے ؟ ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور ان کو اس کی جواب دہی کرنا ہوگی

22 مشرکین کے ایک اور وہم کی تردید : یعنی ان کے اس وہم کی تردید کہ فرشتے عورتیں اور خدا کی بیٹیاں ہیں۔ سو اس بارے ان سے سوال کیا گیا کہ کیا یہ لوگ فرشتوں کی پیدائش کے وقت وہاں موجود تھے ؟۔ اور ظاہر ہے کہ ایسا نہیں اور ہرگز نہیں۔ تو پھر یہ لوگ اتنی بڑی بات آخر کہتے کس بنیاد پر ہیں ؟۔ بس محض اٹکل کے تیر چلانے سے کچھ نہیں بن سکتا۔ سو اس سے انکے مشرکانہ خیال پر ایک اور ضرب لگائی گئی ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے جو فرشتوں کو عورتیں اور اللہ کی بیٹیاں سمجھ رکھا ہے تو آخر اتنے بڑے دعوے کیلئے انکے پاس بنیاد کیا ہے ؟ کیا جب اللہ نے فرشتوں کو پیدا کیا تھا تو یہ لوگ اس وقت وہاں موجود تھے ؟ اور جب نہیں اور یقینا نہیں تو پھر یہ لوگ اتنی بڑی بات آخر کس بنیاد پر کہتے ہیں ؟ سو ان کی ایسی تمام باتیں محض اٹکل پچو باتیں ہیں جن کی نہ کوئی اساس ہے نہ بنیاد۔ اور یہ لوگ محض اوہام و خرافات کی پیروی کر رہے ہیں ۔ { اِنْ یَتَّبِعُوْنَ الاَّ الظَّنَّ وَمَا تَہْوَی الاَنْفُسُ وَلَقَدْ جَائَ ہُمْ مِنْ رَبِّہِمُ الْہُدٰی } ۔ (النجم : 23) ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 43:20–21

وَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ١ؕ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۗ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَؕ Open ayah 43:20 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اگر (خدائے) رحمان چاہتا تو ہم کبھی ان کی پوجا نہ کرتے ان کو اس بارے میں کچھ علم نہیں یہ تو محض اٹکلیں دوڑاتے ہیں

اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ فَهُمْ بِهٖ مُسْتَمْسِكُوْنَ Open ayah 43:21 in the Quran reader

کیا ہم نے ان کو اس سے پہلے کوئی کتاب دے رکھی ہے جس کو یہ تھامے بیٹھے ہیں ؟

24 مشرکین کے مغالطے کی تردید کے لیے ان سے سوال : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا ہم نے انکو کوئی کتاب دی ہے جسکو انہوں نے تھام رکھا ہو ؟ "۔ اور ظاہر ہے کہ ایسا نہیں۔ اور ہرگز نہیں کہ ہم نے ان کو ایسی کوئی کتاب بھی نہیں دی۔ تو پھر آخر یہ لوگ عقل و نقل کی کس بنیاد پر ایسی باتیں کرتے ہیں ؟ اور اس کتاب عزیز سے یہ لوگ کیونکر منہ موڑ رہے ہیں جو کہ اب ان کو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے عطا ہو رہی ہے ؟ اور خداوند قدوس کی پسند اور ناپسند کو جاننے کا ذریعہ اللہ تعالیٰ کی کتابیں اور اس کے انبیاء و رسل کی تعلیمات ہی ہوسکتی ہیں۔ تو کیا ان لوگوں کو قرآن حکیم سے پہلے ایسی کوئی کتاب دی گئی ہے جسکو یہ سند میں پیش کرسکیں۔ اور اگر ایسا نہیں اور ظاہر ہے کہ نہیں تو پھر آخر یہ لوگ کس بنیاد پر ایسے دعوے کرتے ہیں۔ اور کس طرح یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ جو کچھ کر رہے ہیں اس کو خداوند قدوس کی تائید حاصل ہے ؟ سو اس سوال سے مشرکین کے اس مغالطے کی جڑ نکال دی گئی ۔ والحمد للہ جل وعلا ۔ اللہ تعالیٰ نفس و شیطان کے ہر مکر سے محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayah 43:22

بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:22 in the Quran reader

(کچھ بھی نہیں) بلکہ یہ تو بس یہی کہے جا رہے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم ان ہی کے نقش قدم پر چلے جا رہے ہیں

25 باپ دادا کی اندھی تقلید کا سہارا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں کی ایسی باتوں کی کوئی بنیاد نہیں۔ سوائے اس کے کہ ان کا کہنا یہ ہے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا۔ پس ہم ان ہی کے نقش قدم پر چلے جا رہے ہیں۔ یعنی عقل و نقل کی کوئی بھی دلیل ان لوگوں کے پاس موجود نہیں سوائے اپنے باپ دادا کی اندھی تقلید کے جس میں یہ لوگ اندھے ہو کر بہے چلے جا رہے ہیں اور بس۔ اور خود ان کو اس کا اقرار اور اعتراف بھی ہے۔ مگر اس کے باوجود یہ لوگ حق و ہدایت کے اس نور مبین کو ماننے اور اپنانے کے لئے تیار نہیں جو ان کے رب کی طرف سے ان کی راہنمائی کے لیے آیا ہے۔ اور اس طرح یہ کفر و شرک کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبتے چلے جا رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف یہ ان کی روایتی دلیل کا ذکر ہے کہ ہمارے بڑے ایسا کرتے آئے۔ لہذا ہم بھی ایسے ہی کیے جا رہے ہیں اور بس۔ یعنی عقل و نقل کی کوئی دلیل انکے پاس نہیں سوائے باپ دادا کی اندھی تقلید کے اور بس۔ اور یہی بات آج کا جاہل مسلمان اپنی رسوم و رواج کی تائید میں کہتا ہے جو اپنے دین کی تعلیمات مقدسہ سے غافل اور بےبہرہ ہے۔ چناچہ وہ بھی اپنی بدعات اور خرافات کے بارے میں یہی کہتا ہے کہ ہم نے اپنے بڑوں کو ایسے ہی کرتے پایا ہے اور بس۔ سو باپ دادا کی اندھی تقلید کوئی اساس اور بنیاد نہیں ہوسکتی۔
Ayahs 43:23–24

وَ كَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ Open ayah 43:23 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے آپ سے پہلے جس بستی میں بھی کوئی نذیر بھیجا تو اس کے خوشحال لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا اور ہم بھی انہی کے نقش قدم کی پیروی کئے جا رہے ہیں

قٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْهِ اٰبَآءَكُمْ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:24 in the Quran reader

پیغمبر نے کہا کیا (تم اسی ڈگر پر چلے جاؤ گے) اگرچہ میں تمہارے پاس اس سے کہیں بہتر طریقہ لے آؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ تو ان لوگوں نے جواب دیا کہ ہم تو بہرحال اس طریقے کے قطعی طور پر منکر ہیں جس کو دے کر تمہیں بھیجا گیا ہے

27 حق سے محروم باپ دادا کی پیروی باعث ہلاکت ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حق کے مقابلے میں باپ دادا کے طریقے کی تقلید کفار کا طریقہ ہے جو کہ باعث ہلاکت و تباہی ہے۔ بہرکیف اس سے معلوم ہوا کہ حق کے مقابلے میں باپ دادا ہی کے طریقے کو گلے لگانا اور حق سے منہ موڑنا اور اس کا انکار کرنا کفار کا طریقہ اور اندھی تقلید ہے۔ جس کا نتیجہ وانجام ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ البتہ اگر باپ دادا حق و ہدایت پر ہوں تو ان کی اقتداء و پیروی ممنوع و محذور نہیں بلکہ محمود و مطلوب ہے۔ کہ وہ دراصل حق اور ہدایت ہی کی پیروی ہوتی ہے۔ اس لئے اس کا حکم فرمایا گیا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ ہَدَی اللّٰہُ فَبِہُدَاہُمُ اقْتَدِہْ } ۔ (الانعام : 91) ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ انکے پیغمبر نے جب ان سے فرمایا کہ کیا تم لوگ اپنے باپ دادا ہی کی پیروی کرتے جاؤ گے اگرچہ میں اس سے کہیں بہتر راستہ تم کو دکھاؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ؟ تو اس کے جواب میں انہوں نے پوری ہٹ دھرمی اور ڈھٹائی سے کہا کہ ہم قطعی طو پر اس ہدایت اور پیغام کے منکر ہیں جسکے ساتھ تم کو بھیجا گیا ہے۔ یعنی بات اھدیٰ اور غیر اھدیٰ کی نہیں۔ بلکہ ہم تمہاری کوئی بات سننے اور ماننے کیلئے تیار ہی نہیں۔ سو یہ عناد و ہٹ دھرمی کی انتہاء ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 43:25

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 43:25 in the Quran reader

آخرکار ہم نے ان سے بدلہ لیا (تکذیب اور انکارحق کے سنگین جرم کا) پھر دیکھو کیسا ہوا انجام جھٹلانے والوں کا ؟1

28 تکذیب و انکار حق کا نتیجہ وانجام ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آخرکار ہم نے ان سے انتقام لیا "۔ ان کو طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا کر کے۔ (صفوۃ التفاسیر، ابن کثیر وغیرہ) ۔ یہاں تک کہ ان میں سے کئی قوموں کا استیصال کردیا گیا اور ان کو بیخ و بن سے ہمیشہ کے لئے اکھاڑ پھینکا گیا۔ (محاسن التاویل) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو انکار اور تکذیبِ حق کا انجام اور آخری نتیجہ بہرحال ہلاکت اور دائمی و ہولناک تباہی ہے۔ لہذا کبھی کسی کو اس امہال اور ڈھیل سے دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیئے جو قدرت کی طرف سے ایسے لوگوں کو دی جاتی ہے کہ ڈھیل خواہ کتنی ہی ہو وہ بہرحال ڈھیل ہی ہوتی ہے۔ جس نے آخرکار ختم ہو کر رہنا ہوتا ہے۔ اور اس کے اور ایسے ہٹ دھرم لوگوں کو ان کے اس انجام میں دھر لیا جاتا ہے جس کا مستحق انہوں نے اپنے آپ کو بنا لیا ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 29 منکرین کے انجام سے درس عبرت لینے کی تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پس تم دیکھ لو کہ کیسا ہوا انجام جھٹلانے والوں کا ؟ "۔ سو اس سے انکے اس انجام کے سبب کو بھی واضح فرما دیا گیا۔ یعنی تکذیبِ حق۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ عبرت پذیری اور سبق گیری کے لئے تباہ شدہ پرانی قوموں کے آثار کو دیکھنا ایک مطلوب اور محمود امر ہے۔ مگر افسوس کہ مسلمانوں نے بھی مغربی قوموں کی تقلید میں اس اصل مقصد کو فراموش کردیا ہے کہ لاکھوں کروڑوں کے اخراجات سے آثار قدیمہ کے کھنڈرات کو محفوط رکھنے کے انتظامات تو کئے جاتے ہیں مگر عبرت پذیری کی بجائے ان کو سیر و تفریح اور پکنک اور مزید غفلت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ فِیَا للاَسَفِ ۔ سو انکار اور تکذیبِ حق کا جرم ایک بڑا ہی سنگین جرم ہے جس کا نتیجہ وانجام بڑا ہی برا اور نہایت ہی ہولناک ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 43:26

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖۤ اِنَّنِیْ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 43:26 in the Quran reader

اور (وہ بھی یاد کرو کہ) جب ابراہیم نے کہا (اپنی مشرک قوم کو خطاب کرتے ہوئے) کہ میں قطعی طور پر بیزار (و بری) ہوں ان سب سے جن کی پوجا تم لوگ کر رہے ہو

30 اہل باطل سے اظہار بیزاری کا درس : سو اس سے شرک اور مشرکین سے اظہار بیزاری کے لیے اسوئہ ابراہیمی کی تذکیر و یاددہانی فرمائی گئی۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یاد کرو ابراہیم کو جب انہوں نے باپ اور اپنی قوم کو خطاب کر کے اعلان براءت کیا "۔ سو دیکھو کہ انہوں نے کس طرح اپنے باپ دادا کے شرکیہ طور طریقوں کے خلاف علم انکار و جہاد بلند کیا۔ پس تم لوگوں نے اے مشرکین مکہ، اگر باپ دادا ہی کی پیروی کرنی ہے تو پھر ابراہیم جیسے باپ دادا کی پیروی کرو جنہوں نے شرک اور مشرکین سے صاف طور پر اعلان براءت کیا۔ خاص کر جب کہ تم لوگ ان کی نسل میں سے ہونے کے دعویدار بھی ہو۔ اور اس انتساب پر فخر بھی کرتے ہو۔ بڑوں کی پیروی کرنی ہے تو ایسے علمبردارانِ حق و توحید کی پیروی کرو تاکہ تم راہ راست پا سکو نہ کہ ان مشرک باپ دادوں کی جو راہ حق و ہدایت سے بہک اور بھٹک کر ابدی ہلاکت اور تباہی کی راہ پر چلتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس طرح مشرکین مکہ کے دلوں پر دستک دی گئی اور انکے ضمیروں کو جھنجھوڑا گیا کہ اگر تم لوگوں نے اپنے آباء و اجداد کے طور طریقوں ہی پر چلنا ہے تو تم اپنے اصل جدِّ امجد حضرت ابراہیم خلیل کو کیوں بھول جاتے ہو جنہوں نے اس قدر واشگاف الفاظ میں شرک سے بیزاری کا اظہار کیا۔ اور شرک ہی کی بنا پر انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کو چھوڑا اور ان سے قطعی طور پر الگ ہوگئے۔ اور اپنے اس قول و فعل سے انہوں نے واضح کردیا کہ دین و ایمان کی دولت سب سے بڑی دولت ہے۔ اس لیے اس کی حفاظت سب سے مقدم اور سب پر فائق ہے ۔ وباللہ التوفیق - 31 شرک اور مشرکوں سے اعلان بیزاری سے متعلق اسوئہ ابراہیمی کا ذکر : سو اس سے حضرت ابراہیم کے شرک اور مشرکوں سے اعلان براءت و بیزاری اور اظہار علیحدگی سے متعلق اسوئہ ابراہیمی کا نمونہ پیش فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ابراہیم نے اپنے مشرک باپ اور مشرک قوک کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا کہ میں قطعی طور پر بری اور بیزار ہوں ان تمام معبودان باطلہ سے جنکی پوجا تم لوگ کرتے ہو ؟۔ " ’ بَرائ " جب باء کے فتحہ کے ساتھ ہو تو اس وقت یہ مصدر ہوتا ہے۔ جیسے طلاق اور اس صورت میں یہ حمل مصدر علی سبیل المبالغہ ہوگا۔ اور جب " بُرائ " یعنی باء کے ضمے کے ساتھ ہو تو اس وقت یہ اسم مفرد ہوگا مبالغہ کے لئے۔ جیسے طوال اور کرام وغیرہ۔ (محاسن التاویل) ۔ سو " برائ " کے اس لفظ میں مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ جیسے " زید عدل " میں ہے۔ پس اس اعتبار سے اس کا معنیٰ ہوگا کہ میں تم لوگوں سے پوری طرح اور یک قلم بری ہوں۔ میرے اور تمہارے درمیان اب کوئی رابطہ اور تعلق نہیں رہا۔ تم لوگ الگ اور میں الگ۔ سو مشرکین مکہ کو یہ درس دیا گیا کہ اگر تم لوگوں کو حضرت ابراہیم سے انتساب پر فخر ہے تو تم کو چاہئیے کہ انکے اس مثالی اسوہ اور نمونہ کو اپناؤ اور شرک اور مشرکین سے اسی طرح بیزاری اور لاتعلقی کا اعلان و اظہار کرو جس طرح حضرت ابراہیم نے کیا تھا ۔ (علیہ الصلوۃ والسلام) -
Ayahs 43:27–28

اِلَّا الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّهٗ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 43:27 in the Quran reader

سوائے اس ذات کے جس نے مجھے پیدا کیا کہ بلاشبہ وہی مجھے راہ دکھائی گی2

وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:28 in the Quran reader

اور یہی بات ابراہیم اپنے پیچھے بھی چھوڑ گئے تاکہ لوگ رجوع کرتے رہیں (حق کی طرف)

34 حضرت ابراہیم کا ترکہ اپنے اخلاف کے لیے کلمہ توحید : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی بات کو حضرت ابراہیم چھوڑ گئے اپنے پچھلوں میں "۔ کہ ایمان والوں کی ہر عبادت و بندگی کی اساس و بنیاد یہی کلمہ توحید ہو اور شرک والے اپنے شرکیہ عقائد و اعمال سے تائب ہو کر حق کی طرف رجوع کرتے رہیں۔ اور اسوئہ ابراہیمی اپنی بےمثال تابانیوں کے ساتھ ہمیشہ ان کی راہنمائی کرتا رہے۔ اور اس طرح ایک طرف تو دنیا کو حق و ہدایت کی روشنی ملتی رہے اور دوسری طرف حضرت ابراہیم خلیل ۔ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والتسلیم ۔ کے ذخیرئہ اجر وثواب میں بھی برابر اضافہ ہوتا رہے ۔ سبحان اللہ !۔ کیا کہنے ایسی پاکیزہ و مثالی بلکہ بےمثال زندگی اور اس کی عظمتوں کے ۔ اللہ ہمیں بھی اس کا کوئی حصہ نصیب فرما دے ۔ آمین۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے قول و فعل، عمل و کردار اور اپنے اعلان براءت و ہجرت کے ذریعے اپنی ذریت اور اپنے اخلاف کیلئے ایک تابناک اور قابل تقلید و پیروی مثال چھوڑی۔ تاکہ اسلاف کی یہ روایت اخلاف کیلئے نشان راہ کا کام دیتی ہے۔ تاکہ جب بھی شیطان ان کو بھٹکانے لگے یا نفس کی شرارتوں کی بنا پر خود ہی بھٹک جائیں تو اس نشان راہ کو دیکھ کر صراط مستقیم کی طرف پلٹ سکیں۔ اور اس طرح حضرت ابراہیم کا یہ فیض رہتی دنیا تک جاری وساری ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 43:29

بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى جَآءَهُمُ الْحَقُّ وَ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:29 in the Quran reader

(پھر بھی ان لوگوں کے کفر پر میں نے ان کو مٹایا نہیں) بلکہ میں تو برابر سامان زندگی دیتا رہا ان کو بھی اور ان کے باپ دادا کو بھی یہاں تک کہ آگیا ان کے پاس یہ (صاف وصریح) حق اور کھول کھول کر سنانے والا عظیم الشان رسول

35 انکار و تکذیبِ حق کے اصل سبب کی نشاندہی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ مادہ پرستوں کی رفاہیت و عیش پرستی ہی ان کے لیے باعث محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایسے منکر لوگ چونکہ قبول حق سے اپنے مادی مفادات اور دنیاوی فوائد و منافع پر زد پڑتے اور اپنی خواہشات پر قدغن لگتے دیکھتے ہیں۔ اس لیے یہ صریح اور واضح حق آجانے کے باوجود اس کے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے کہ ان کے نزدیک دنیائے دوں کے یہ عارضی اور فانی مفادات ہی سب کچھ ہیں۔ اس لیے یہ لوگ انکار و تکذیبِ حق کے لیے خواہ مخواہ بہانے ڈھونڈنے لگے بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ منکرین و مخالفین کے کفر و انکار اور ان کی محرومی کی اصل وجہ ان کی دنیاوی رفاہیت و عیش پرستی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو دنیاوی رفاہیت و عیش پرستی سے یہ لوگ مست و مگن اور مغرور و متکبر ہوگئے۔ اور اس سے یہ لوگ اس دھوکے میں پڑگئے کہ کفر و شرک کی جس راہ پر یہ بدبخت چل رہے ہیں وہ درست اور صحیح راہ ہے۔ اور اس طرح یہ لوگ راہ حق سے اور محروم اور مزید دور ہوتے گئے۔ یہاں تک کہ یہ گمراہی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوب گئے۔ تب ہم نے اپنی رحمت و عنایت سے ان کی ہدایت اور اصلاح کے لئے نیا انتظام کیا۔ اور ان کے لئے قرآن حکیم اور رسول مبین کی صورت میں اپنی وہ عظیم ترین نعمت بھیج دی جو ان کو حضیض حیوانیت اور قعر مذلت سے اٹھا کر شرف انسانیت اور اوج ثریا سے ہمکنار کرنے والی اور دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح سے بہرہ ور کرنے والی ہے۔ مگر ان ناشکرے اور بےانصاف لوگوں نے پھر بھی اس کی قدر نہ پہچانی اور اس کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اور انکار ہی کرتے گئے یہاں تک کہ یہ دائمی خسارے اور ہولناک ہلاکت کا شکار ہوگئے۔ سو انکار حق کا نتیجہ دائمی ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔