Ayahs 43:1–31:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ سورة ” حم الزخرف “ مکہ میں نازل ہوئی۔
2:۔ ابن مردویہ (رح) نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی حضرموت سے ابن عباس ؓ کے پاس آیا اور اس نے کہا اے ابن عباس ؓ مجھے قرآن کے بارے میں بتائیے کیا وہ کلام ہے اللہ کے کلام میں سے یا مخلوق ہے اللہ کی مخلوق میں سے ؟ انہوں نے فرمایا بلکہ وہ کلام ہے اللہ کے کلام میں سے، کہا تو نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا (آیت ) ” وان احد من المشرکین استجارک فاجرہ حتی یسمع کلم اللہ “ (التوبہ آیت 6) اس آدمی نے کہا کہ کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں دیکھا انا جعلنہ قرء نا عربیا “ (ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنایا) یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کو لوح محفوظ میں عربی میں لکھا ہے ابن عباس ؓ نے فرمایا کیا تو نے اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا (آیت ) ” بل ھو قرآن مجید (21) فی لوح محفوظ (22) (سورۃ البروج) (بلکہ وہ قرآن لوح محفوظ ہے) المجید سے مراد ہے۔ عزیز یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کو لوح محفوظ میں لکھا ہے۔
3:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے مقائل بن حیان (رح) سے روایت کیا کہ آسمان والوں کا کلام عربی ہے پھر (یہ آیت) پڑھی حم ٓ (1) والکتب المبین (2) انا جعلنہ قرء نا عربیا “ (حم قسم ہے اس واضح کتاب کی کہ ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنایا )
Ayah 43:41:۔ ابن جریر (رح) ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا فرمایا پھر اس کو حکم فرمایا کہ لکھ جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے جبکہ کتاب اس کے پاس ہے پھر یہ (آیت ) ” وانہ فی ام الکتب لدینا لعلی حکیم “ (اور کوئی شبہ نہیں کہ وہ ہمارے پاس لوح محفوظ میں بڑے رتبہ کی اور حکمت بھری کتاب ہے)
2:۔ عبدالرزاق (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانہ فی ام الکتب “ میں ام الکتاب سے مراد کتاب کی اصل ہے اور اس کا مجموعہ ہے۔
3:۔ ابن المنذر (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانہ فی ام الکتب “ یعنی قرآن اللہ کے پاس ہے۔
4:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانہ فی ام الکتب لدینا “ یعنی یہ ذکر ہے حکمتوں سے بھرا ہوا اس میں ہر وہ چیز ہے جو (پہلے) تھی اور ہر وہ چیز جو بعد میں ہوگی اور جو کتاب بھی نازل ہوئی تو وہ اسی میں سے نازل ہوئی۔
5:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) اور ابوالشیخ (رح) نے العظمۃ میں ابن سابط (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانہ فی ام الکتب “۔ سے مراد ہے کہ وہ جو ہونے والا ہے قیامت کے دن تک، وہ ام الکتاب میں ہے۔ اور فرشتوں میں سے تین مقرر کئے گئے ہیں جو اس کی حفاظت کرتے ہیں (اور) جبرئیل (علیہ السلام) وحی پر مقرر کئے گئے ہیں جو اس کو لے کر رسولوں کے پاس نازل ہوتے اس قوم کو ہلاک کرنے پر نازل ہوتے ہیں جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرماتے ہیں وہ اپنی جنگوں میں (مسلمانوں کی) مدد کے لئے بھی مقرر کئے جاتے ہیں جب اللہ تعالیٰ مدد کرنے کا ارادہ فرماتے ہیں اور میکائل (علیہ السلام) عرش پر مقرر کئے گئے ہیں تاکہ وہ اس کی حفاظت کریں اور موت کے فرشتے کو جانوں کے قبض کرنے کے لئے مقرر کیا گیا جب دنیا (چلی جائے گی یعنی ختم ہوجائے گی تو اللہ تعالیٰ ان کو جمع کرے گا جن کو ان فرشتوں نے حفاظت میں لیا ہے اور ان کو جمع کرے گا جنہوں نے یہ کتاب محفوظ کی ہوگی۔
Ayahs 43:5–71:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” افنضرب عنکم الذکر صفحا “ (کیا ہم اس نصیحت نامے کو ہٹالیں گے) یعنی کیا تم گمان کرتے ہو کہ ہم تم سے درگزر کریں گے اور وہ تم نے نہیں کیا ان کاموں کو جن کا تم کو حکم دیا گیا تھا ؟
2:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” افنضرب عنکم الذکر صفحا “ سے مراد ہے کہ تم قرآن کو جھٹلاؤ پھر تم کو اس پر سزا بھی نہ دی جائے۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” افنضرب عنکم الذکر صفحا “ یعنی اللہ کی قسم اس امت کے لوگوں نے اس قرآن کو رد کیا اگر اللہ تعالیٰ اس قرآن کو اٹھا لیتا تو سب لوگ ہلاک ہوجاتے لیکن اللہ نے اپنی رحمت اور مہربانی اس امت پر دوبارہ کی اور ان کو اس کی طرف بلایا۔
کتاب اللہ کا نزول اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے :
4:۔ محمد بن نصر نے کتاب الصلاۃ میں حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر یہ کہ اس پر کتاب کو اتارا اگر اس کی قوم نے اس کو قبول کیا (تو ٹھیک) ورنہ اس کو اٹھالیا گیا، اسی کو فرمایا (آیت ) ” افنضرب عنکم الذکر صفحا ان کنتم قوما مسرفین “ (کیا ہم تم سے اس نصیحت نامہ کو اس بات پر ہٹالیں گے کہ تم کفر میں حد سے آگے بڑھنے والے لوگ ہو) یعنی تم اس کو قبول نہیں کرتے اور اس کے نبی کا دل اسے تلقین کرتا ہے انہوں نے کہا اے ہمارے رب ہم نے اس کو قبول کیا اے ہمارے رب ہم نے اس کو قبول کیا اور اگر وہ ایسا نہ کرتے تو (کتاب کو) اٹھالیا جاتا اور اس میں سے کوئی چیز زمین پر نہ چھوڑی جاتی۔
Ayahs 43:8–95:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ومضٰی مثل الاولین “ (اور پہلے لوگوں کی یہ حالت گزر چکی ہے) یعنی پہلے لوگوں کی سزا (گزر چکی ہے )
Ayahs 43:10–116:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” صفحا ان کتنم “ کو الف کے نصب کے ساتھ (آیت ) ’ جعل لکم الارض مھدا “ (جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا) میں ’ مھدا “ کو میم کے نصب کے ساتھ بغیر الف کے پڑھا۔
Ayah 43:127:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ آیت اس طرح پڑھتے ہوئے سنا (آیت ) ” وجعل لکم من الفلک والانعام ماترکبون (12) لتستوا علی ظھورہ ثم تذکروا نعمۃ ربکم اذا استویتم علیہ “ (اور تمہارے لئے کشتیاں اور چوپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے تاکہ تم ان کی پیٹھ پر جم کر بیٹھو پھر اپنے رب کی نعمت کو یاد کرو جب اس پر بیٹھ چکو) اور تم یوں کہو سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ہم پر (اپنے بندے اور اپنے رسول ﷺ کے ذریعہ احسان فرمایا پھر تم یوں کہو (آیت) ” سبحن الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین “ (پاک ہے وہ ذات جس نے ان چیزوں کو ہمارے بس میں کردیا اور ہم تم ایسے نہ تھے کہ خود ان کو قابو میں کرلیتے۔
8:۔ مسلم و ابوداؤد و ترمذی (رح) و نسائی (رح) وحاکم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر فرماتے تھے اور اپنی سواری پر سوار ہوتے تو تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے تھے پھر فرماتے (آیت) ” سبحن الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین “ (13) واناالی ربنا لمنقلبون “ (اور بلاشبہ ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں)
9:۔ طیالسی وعبدالرزاق (رح) و سعید بن منصور (رح) وابن ابی شیبہ (رح) واحمد (رح) وعبد بن حمید و ترمذی (رح) (وصححہ) وابن جریر (رح) والنسائی وابن المنذر (رح) وحاکم (رح) (رح) علیہ (وصححہ) وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں علی ؓ سے روایت کیا کہ آپ کے لئے ایک سواری کا جانور لایا گیا جب انہوں نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو کہا بسم اللہ پھر جب اس کی پیٹھ پر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے تو کہا ” الحمد للہ “ تین مرتبہ اور ” اللہ اکبر “ تین مرتبہ (اور یہ آیت پڑھی) (آیت) ” سبحن الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین “ (13) واناالی ربنا لمنقلبون “ (پھر یہ پڑھا)
سبحنک لا الہ الا انت قد ظلمت نفسی فاغفرلی ذنوبی انہ لا یغفرالذنوب الا انت۔
ترجمہ : اے اللہ : تیری ذات پاک ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں یقینی بات ہے کہ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا میرے گناہوں کو بخش دیجئے کیونکہ آپ کے سوا کوئی گناہوں کو بخش نہیں سکتا۔
پھر مسکرائے میں نے کہا اے امیر المؤمنین ! آپ کیوں مسکرائے ؟ تو فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا جیسے میں نے کہا پھر رسول اللہ ﷺ مسکرائے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ کس وجہ سے مسکرائے ؟ فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے علاوہ گناہوں کو کوئی نہیں بخش سکتا۔
10:۔ احمد نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے آپ کے جانور پر سوار ہوا جب آپ اس پر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے تو تین مرتبہ اللہ اکبر کہا ایک دفعہ ” لا الہ الا اللہ “ کہ پھر مسکرائے پھر فرمایا جو مسلمان مرد اپنی سواری پر سوار ہو تو اس طرح کرے جیسے میں نے کہا تو اللہ تعالیٰ متوجہ ہوتے ہیں اور اس کی طرف مسکراتے ہیں جس طرح میں تیرے لئے مسکرا رہا ہوں۔
11:۔ احمد وحاکم (رح) (وصححہ) نے محمد بن حمزہ بن عمرو اسلمی سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر اونٹ کی پیٹھ پر شیطان ہوتا ہے جب تم اس پر سوار ہو تو اللہ کے نام کو یاد کرو۔ پھر اپنی حاجتوں سے نہ رک جاؤ۔
12:۔ حاکم (رح) (وصححہ) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر اونٹ کی کوہان پر شیطان ہوتا ہے، ان پر سواری کرکے مطیع بناؤ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی سوار کرتے ہیں۔
13:۔ ابن سعد واحمد والبخوی والطبرانی (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) اور بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں ابو ل اس الخزاعی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی اونٹ نہیں ہوتا مگر اس کی کوہان پر شیطان ہوتا تم اس پر اللہ تعالیٰ کا نام لو جب تم اس پر سواری کرو جیسے تم کو حکم دیا گیا پھر ان کو اپنے لئے مطیع بناؤ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی سوار کرتے ہیں۔
14:۔ ابن المنذر نے شھر بن خوشب سے (آیت ) ” ثم تذکروا نعمۃ ربکم اذا استویتم علیہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ ” نعمۃ ربکم “ سے مراد ہے نعمت اسلام۔
Ayahs 43:13–1415:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابومجلز (رح) سے روایت کیا کہ حسین بن علی ؓ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ جانور پر سوار ہوا تو اس نے پڑھا (آیت) ” سبحن الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین “ (13) واناالی ربنا لمنقلبون “ انہوں نے پوچھا کیا اس کے ساتھ تو حکم کیا گیا اس نے پوچھا (اور) میں کس طرح کہوں، انہوں نے فرمایا (تو اس طرح کہہ) ” الحمد للہ الذی ھدانا للاسلام “ ساری تعریف اللہ کے لئے ہیں جس نے ہم کو اسلام کی ہدایت دی) ساری تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ” من علینا بمحمد ﷺ “ جس نے پر محمد ﷺ کے ذریعہ احسان فرمایا (ساری تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے تجھے آخر بہترین امت میں سے بنایا جو لوگوں کے لئے نکالی گئی، پھر تو یہ کہے (آیت) ” سبحن الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین “
16:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ جب آپ سواری پر سوار ہوئے تو یہ پڑھتے :
بسم اللہ اللہم ھذا من منک وفضلک علینا لک الحمد ربنا :
ترجمہ (اللہ کے نام کے ساتھ اے اللہ یہ آپ کے احسان اور آپ کے فضل میں سے ہے ہم پر اور آپ کیلئے ساری تعریفیں ہیں اے ہمارے رب پھر پڑھا :
(آیت) ” سبحن الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین “ (13) واناالی ربنا لمنقلبون “
17:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما کنا لہ مقرنین “ سے مراد ہے کہ ہم اس کی طاقت رکھنے والے نہ تھے۔
18:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما کنا لہ مقرنین “ (ہم ایسے نہ تھے کہ ان کو قابو کرلیتے) یعنی نہ وہ ہمارے ہاتھوں میں ہیں اور نہ ہو ہماری قوت میں ہیں۔
19:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے سلیمان بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ ایک قوم سفر میں تھی جب وہ سوار ہوئے تھے تو کہتے (آیت) ” سبحن الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین “ ان میں سے ایک آدمی تھا جس کی دبلی اونٹنی تھی اس نے کہا لیکن میں اس کی طاقت رکھتا ہوں یہ کہنا تھا کہ وہ اونٹنی اس کو لے کر دوڑ پڑی اور اس کو گرا دیا جس سے اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی (واللہ اعلم )
Ayahs 43:15–1620:۔ عبد بن حمید (رح) وعبد الرزاق وبن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وجعلوا لہ من عبادہ جزء ا “ (اور انہوں نے اس اللہ کے لئے اس کے بعض بندوں کو اس کا جزو قرار دیا) اس میں جزء کا معنی ہے عدل۔
21:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) ابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ وجعلوا لہ من عبادہ جزء ا “ (اور انہوں نے اس اللہ کے لئے اس کے لئے بعض بندوں کو اس کا جزو قرار دیا) اس میں جزء کا معنی ہے عدل۔
Ayah 43:1722:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ وجعلوا لہ من عبادہ جزء ا “ میں جزء سے مراد ہے بیٹا اور فرشتوں میں سے بیٹیاں کہ انہوں نے خدا سے بیٹا اور بیٹیوں کو تجویز کر رکھا ہے) (اور فرمایا) (آیت ) ” واذا بشر احدھم بما ضرب للرحمن مثلا “ (حالانکہ ان میں سے کسی کو اس چیز کے ہونے کی خبر دی جائے تو اس نے خدا کا نمونہ بنا رکھا ہے یعنی بیٹی ہونے کی خبر دی جائے (تو وہ غمگین ہوجاتا ہے )
23:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واذا بشر احدھم بما ضرب للرحمن مثلا ظل وجھہ مسودا وھو کظیم “ (حالانکہ ان میں سے کسی کو اس چیز کے ہونے کی خبر دی جائے جس کو اس نے خدا کا نمونہ بنارکھا ہے یعنی بیٹی ہونے کی خبر دی جائے تو اتنا ناراض ہوتا ہے کہ اس کا چہرا کالا ہوجاتا ہے اور وہ دل میں گھٹا رہتا ہے) یعنی وہ غمگین ہوجاتا ہے۔
24:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” بما ضرب للرحمن “ ضاد کے نصب کے ساتھ۔
Ayah 43:1825:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” او من ینشؤا فی الحلیۃ “ کیا جو عادۃ آرائش میں نشوونما پائے) یعنی انہوں نے لڑکوں کو رحمن کی اولاد بنا دیا (آیت ) ’ ’ فکیف تحکمون “ (کس طرح تم فیصلہ کرتے ہو)
26:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” او من ینشؤا فی الحلیۃ “ سے مراد عورتیں ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے اور مردوں کے لباس میں فرق کردیا ہے اور ان کی میراث اور شہادت کو بھی کم کردیا ہے اور ان کو گھروں میں بیٹھنے کا حکم فرمایا اور ان کو خوالف کا نام دیا یعنی پیچھے رہ جانے والیاں۔
27:۔ عبدالرزاق (رح) عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” او من ینشؤا فی الحلیۃ “ سے مراد ہے کہ اللہ کے لئے بیٹیاں بنادیں۔ (آیت ) ” واذا بشر احدھم “ یعنی جب وہ خوشخبری دیئے جاتے ہیں ان (بیٹیوں کے پیدا ہونے) کی (آیت ) ” ظل وجہہ مسودا وھو کظیم “ تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ غمگین ہوتا ہے (پھر فرمایا) (آیت ) ” وھو فی الخصام غیر مبین “ (اور وہ مباحثہ میں قوت سایہ بھی نہ رکھے) فرمایا کم ہی ایسا ہوا ہوگا کہ عورت اپنے حق میں دلیل لانے کیلئے گفتگو کا ارادہ کرتی ہے تو وہ ایسی گفتگو کرتی ہے جو اس کے خلاف دلیل ہوتی ہے۔
28:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آپ اس کو اس طرح پڑھتے تھے (آیت ) ” او من ینشؤا فی الحلیۃ “ یعنی الحلیہ کو یاء کی تخفیف کے ساتھ۔
29:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے (آیت ) ” او من ینشؤا فی الحلیۃ “ یعنی (آیت) ” ینشؤا “ کو تخفیف کے ساتھ اور یاء کے نصب کے ساتھ اور ہمزہ کے ساتھ۔
30:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ ان سے عورتوں کے لئے سونے کے استعمال کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کچھ حرج نہیں اللہ تعالیٰ فرماتین ہیں (آیت ) ” او من ینشؤا فی الحلیۃ “
Ayahs 43:19–251:۔ عبدبن حمید (رح) ابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجعلوا الملئکۃ الذین ھم عبد الرحمن اناثا “ (اور انہوں نے فرشتوں کو جو خدا کے بندے ہیں عورتیں قرار دے رکھا ہے) یعنی یہ باتیں کچھ لوگوں نے کہی اور ہم کسی کو نہیں جانتے سوائے یہودیوں کے کہ اللہ عزوجل نے (نعوذ باللہ) جنات سے شادی کی تو اس کی اولاد فرشتے ہیں۔
2:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ میں اس کو یوں پڑھتا تھا (آیت) ” عبد الرحمن اناثا اشھدوا خلقھم “ میں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا عباد الرحمن ہے میں نے کہا میرے مصحف میں (آیت) ” عند الرحمن “ ہے فرمایا اس کو مٹا دو اور اس کو لکھو ” عبادالرحمن “ الف اور باء کے ساتھ اور فرمایا آج ایک آدمی میرے پاس آیا ہے میں اس بات کو پسند کرتا تھا کہ وہ میرے پاس نہ آتا اس نے کہا آپ یہ آیت کس طرح پڑھتے ہیں (آیت) ” وجعلوا الملئکۃ الذین ھم عبد الرحمن اناثا “ اور ساتھ یہ بھی کہا کہ لوگ پڑھتے ہیں (آیت) ” الذین ھم عند الرحمن اناثا “ (یہ سن کر) وہ میں خاموش ہوگیا اور میں نے اس سے کہا اپنے گھروالوں کی طرف چلا جا۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” الذین ھم عند الرحمن اناثا “ پڑھا کون کے ساتھ۔
4:۔ ابوعبید وابن المنذر (رح) نے مروان (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح قرأت کی (آیت) ” وجعلوا الملئکۃ الذین ھم عبد الرحمن اناثا “ اس میں الذین ھم نہیں ہے۔
5:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” عبد الرحمن “ کو الف اور یاء کے ساتھ سے روایت کیا کہ انہوں نے ”‘ عبدالرحمن “ کو الف اور یاء کے ساتھ پڑھا (آیت) ” اشھدوا “ اس کو ہمزہ مفتوحہ اور شین کے ساتھ پڑھا (آیت ) ’ ’ ستکتب “ تاء کے رفع کے ساتھ پڑھا “
6:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) اور بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) وقالوا لوشآء الرحمن ما عبدنہم “ (اور انہوں نے کہا اگر رحمن چاہتے تو ہم ان کی عبادت نہ کرتے) سے وہ بت مراد ہیں کیونکہ وہ بتوں کی عبادت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت ) ” مالھم بذلک من علم “ (ان کے پاس اس کا کوئی علم نہیں) یعنی بہت کچھ نہیں جانتے (آیت ) ” ان ھم الا یخرصون “ (یہ محض من گھڑت باتیں کرتے ہیں) فرمایا وہ اللہ کی قدرت کو اس پر جانتے ہیں۔
7:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقالو الوشآء الرحمن ماعبدنھم “ (اور انہوں نے کہا اگر رحمن چاہتے تو ہم ان کی یعنی فرشتوں کی (عبادت نہ کرتے)
8:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ام اتینہم کتبا من قبلہ “ (کیا ہم نے ان کو کتاب دی اس سے پہلے) یعنی اس کتاب سے پہلے اس کو کتاب دی۔
9:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” بل قالوا انا وجدنآ ابآء نا علی امۃ “ (بلکہ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک دین پر پایا) یعنی دین پر۔
10:۔ طستی (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” انا وجدنآ ابآء نا علی امۃ “ کے بارے میں بتائیے تو فرمایا کہ اس دین پر (ہم نے آباؤ اجداد کو پایا) جو اس دین سے مختلف ہے جس کی طرف تم ہم کو بلاتے ہو پھر پوچھا کیا عرب کے اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے نابغہ بنی ذبیان کو کہتے ہوئے نہیں سنا۔ جب نعمان بن منذر کے سامنے معذرت کرتے ہوئے کہتا ہے۔
خلفت ولم اترک لنفسک ریبۃ وھل یأتمن ذو امۃ وھو طالع :
ترجمہ : میں نے قسم کھائی اور میں نے تیرے نفس کے لئے کوئی شک نہیں چھوڑا اور کیا دیندار آدمی رضا مندی سے گناہ کرسکتا ہے۔
11:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” بل قالوا انا وجدنآ ابآء نا علی امۃ وانا علی اثرھم مھتدون “ (بلکہ وہ کہتے ہیں ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقہ پر پایا ہے اور ہم بھی ان کے پیچھے پیچھے راستہ پر چل رہے ہیں یعنی ہم ان کے افعال کی پیروی کریں گے۔
12:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” بل قالوا انا وجدنآ ابآء نا علی امۃ وانا علی اثرھم مھتدون “ یعنی ہم ان آباؤ و اجداد کے فعل کی اقتدا کرنے والے ہیں۔
13:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ ” الامۃ “ کا لفظ قرآن میں کئی معنی پر ہے (آیت ) ” واذکر بعد امۃ “ (یوسف آیت 5) یہاں امتی دین (یعنی وقت کے معنی میں ہیں۔ (آیت ) ” وجد علیہ امۃ من الناس یسقون “ (القصص آیت 42) اس میں امۃ سے مراد ہے لوگوں کی جماعت (آیت) ” بل قالوا انا وجدنآ ابآء نا علی امۃ “ اس میں امۃ سے مراد ہے دین اور ان سب میں امۃ کا ہمزہ مرفوع ہے۔ اور (آیت ) ” قل اولو جئتکم “ میں ” جئتکم “ الف کے بغیر تاء کے ساتھ ہے۔
14:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فانتقمنا منھم فانظر کیف کان عاقبۃ المکذبین “ (آخر ہم نے ان سے انتقام لیا سو دیکھ لو تکذیب کرنے والوں کا کیسا برا انجام ہوا) یعنی اللہ کی قسم ان کا برا انجام ہوا اللہ تعالیٰ نے ان کو پکڑا زمین میں دھنسانے اور غرق کرنے کے ساتھ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا پھر ان کو آگ میں داخل کردیا۔
Ayahs 43:26–27ابراہیم (علیہ السلام) کا آبائی دین سے بیزار ہونا :
1:۔ الفضل بن شاذان نے کتاب القرأت میں اپنی سند کے ساتھ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اس کو یوں پڑھا (آیت) ” اننی برآء مما تعبدون “ (کہ میں ان چیزوں سے جن کو تم پوجتے ہو بیزار ہوں یاء کے ساتھ پڑھا۔
2:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اننی برآء مما تعبدون ‘ (26) الا الذی فطرنی فانہ سیھدین “ (اور میں ان چیزوں سے جن کو تم پوجتے ہو بیزار ہوں مگر ہاں جس نے مجھے پیدا کیا (اس کی عبادت کرتا ہوں) سو وہی میری رہنمائی کرتا ہے) فرمایا کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اللہ ہے (آیت ) ” ولئن سالتھم من خلقھم لیقولن اللہ “ (الزخرف آیت 87) اور اگر آپ ان سے سوال کریں کہ کس نے ان کو پیدا کیا تو وہ ضرور کہیں گے اللہ نے یعنی انہوں نے اپنے رب سے برأت ظاہر نہیں کی۔
Ayah 43:283:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وجعلھا کلمۃ باقیۃ فی عقبہ “ (اور ابراہیم (علیہ السلام) اس عقیدہ کو اپنی اولاد میں ایک قائم رہنے رہنے والی بات کرگئے) یعنی اسلام کے بارے میں اپنے بیٹے کو وصیت کی۔
4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وجعلھا کلمۃ باقیۃ فی عقبہ “ میں کلمہ باقیہ سے مراد اخلاص اور توحید اور توحید ہے جو ان کی اولاد میں ہمیشہ رہیں گے جو بھی اس کلمے کو کہے گا (آیت ) ” لعلہم یرجعون “ یعنی ممکن ہے وہ توبہ کریں یا نصیحت حاصل کریں۔
5:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابن عباس (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وجعلھا کلمۃ باقیۃ فی عقبہ “ یعنی ” لا الہ اللہ “ اس کی اولاد میں سے ہے۔ کہا فرمایا عقب ابراہیم سے مراد ان کا اولاد ہے۔
6:۔ عبد بن حمید (رح) نے زہری (رح) سے روایت کیا کہ عقب الرجل سے مراد اس کی اولاد ہے وہ مذکر ہو یا مؤنث اور مذکر کی آگے اور اولاد (پوتے وغیر) بھی اس میں شامل ہے۔
7:۔ عبد بن حمید (رح) نے عبیدہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے ابراہیم سے پوچھا عقب کیا ہے ؟ فرمایا اس کی مذکراولاد۔
8:۔ عبد بن حمید (رح) نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ ان سے ایک آدمی کے بارے پوچھا کہ ایک آدمی اسے اور اس کے بعد اس کے عقب کو مکان میں رہنے کی اجازت دیتا ہے تو اس کی بیوی بھی اس کے عقب میں ہوگی ؟ فرمایا نہیں لیکن اس کا لڑکا عقب میں شمار ہوگا۔
Ayahs 43:29–301:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا سے کہ وہ (آیت ) ” بل متعت ھؤلآء “ (بلکہ میں نے انکو خوب سامان دیا) میں ” متعت “ کو تاء کے رفع کے ساتھ پڑھتے تھے۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” بل متعت ھؤلآء وابآء ھم حتی جآء تھم الحق رسول مبین “ (بلکہ میں نے ان کو اور ان کے باپ دادوں کو خوب سامان دیا یہاں تک کہ ان کے پاس سچا قرآن اور احکام کو صاف صاف بیان کرنے والا پیغمبر آگیا) فرمایا کہ اہل کتاب والوں کا قول ہے اس امت کے لئے اور قتادہ ؓ سے اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت ) ” بل متعت ھؤلآء “ تاء کے نصب کے ساتھ۔
3:۔ ابن جریر (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولما جآء ھم الحق قالوا ھذا سحر “ اور جب ان کے پاس حق آیا تو انہوں نے کہا یہ جادو ہے، فرمایا اس سے قریش مراد ہیں جنہوں نے قرآن کے بارے میں کہا جس کو محمد ﷺ لے کر آئے کہ یہ جادو ہے۔
Ayah 43:31نبوت خالص اللہ کی رحمت ہے :
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وعبد بن حمید (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کا قول (آیت ) ” لولا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم “ کے بارے میں پوچھا کہ ہو کونسی دو بستیاں ہیں ؟ تو فرمایا طائف اور مکہ۔ پھر پوچھا وہ دو آدمی کون ہیں ؟ فرمایا عروہ بن مسعود اور قریش کے سردار۔
2:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” لولا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم “ (اور کہنے لگے یہ قرآن دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا) کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ قریتین سے مراد مکہ اور طائف ہیں اور عظیم سے مراد ہے الولید بن مغیرہ القریشی اور حبیب بن عمیر الثقفی۔
3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وقالوا لولا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم “ میں قریتین سے مراد مکہ اور طائف ہیں اور عظیم سے مراد الولید بن المغیرہ القرشی اور حبیب بن عمیر الثقفی۔
4:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وقالوا لولا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ لوگ اس سے ولید بن مغیرہ مکہ والوں میں سے اور مسعود بن عروہ الثقفی طائف والوں میں سے مراد لیتے تھے اور ان کو رسول اللہ ﷺ سے زیادہ عزت والے خیال کرتے تھے۔
5:۔ عبد الرزاق (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ولید بن مغیرہ نے کہا جو کچھ محمد ﷺ کہتے ہیں اگر وہ حق ہوتا تو مجھ پر یہ قرآن نازل ہوتا یا عروہ بن مسعود ثقفی پر نازل ہوتا تو (یہ آیت) نازل ہوئی (آیت ) ” وقالو الولا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم “
6:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے (آیت ) ” وقالو الولا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم “ کے بارے میں روایت کیا کہ بستیوں سے مراد ہے مکہ اور طائف یہ بات قریش کے مشرکین نے کہی تھی (پھر) فرمایا ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ قریش کے ہر چھوٹے خاندان نے بھی اس کو دعوی کیا انہوں نے کہا وہ عظیم ہم میں سے ہے، اور ہم پر بیان کرتے تھے کہ وہ ولید بن مغیرہ اور عروہ بن مسعود ثقفی ہیں پھر فرمایا کہ وہ لوگ کہتے تھے یہ قرآن ان دو میں سے کسی ایک پر کیوں نہیں اتارا گیا اور محمد ﷺ پر کیوں اتارا گیا۔
7:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا (آیت ) ” علی رجل من القریتین عظیم “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے عتبہ بن ربیعہ مکہ سے اور ابن عبید یا لیل بن کنانہ ثقفی طائف سے اور عمیر بن مسعود ثقفی مراد ہیں اور ایک روایت میں ابومسعود ثقفی مراد ہیں۔
8:۔ ابن عساکر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وقالو الولا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم “ سے مراد ہے عتبہ بن ربیعہ ہیں اور وہ ان دنوں قریش کا سردار تھا۔
9:۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے شعبی (رح) سے (آیت ) ” علی رجل من القریتین عظیم “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے ولید بن مغیرہ مخرومی یاکنانہ بن عمر بن عمیر مراد ہیں جو طائف کا سردار تھا۔
Ayah 43:3210:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” نحن قسمنا بینہم معیشتھم فی الحیوۃ الدنیا “ (اور ہم نے ہی دینوی زندگی میں ان کو ان کی روزی بانٹی ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان روزی کو اس طرح تقسیم کیا جس طرح ان کے درمیان ان کی صورتوں کو اور ان کے اخلاق کو تقیسم کیا ہمارے رب بلند ہیں اور فرمایا (آیت ) ” ورفعنا بعضہم فوق بعض درجت “ (اور آپ میں ایک کو دوسرے پر بہت درجے بڑھا چڑھا رکھا ہے۔ فرمایا پھر انہوں نے اس (روزی) کو کمزور حیلے سے اور اچھی بات کرنے والے نے حاصل کرلیا جبکہ اس کے رزق میں فراوانی سے اسے سخت محنت کرنے والا اچھی بات کرنے والا حاصل کرتا ہے جبکہ اس میں اس کے لئے تنگی ہوتی ہے (لیتخذ بعضھم بعضم سخریا “ (تاکہ ایک دوسرے کام لیتا) فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ اپنے بندوں کو آزماتے ہیں جو تمہارے غلام ہیں ان کے بارے میں اللہ سے ڈرو (آیت ) ” ورحمت ربک خیر مما یجمعون “ (اور آپ کے رب کی رحمت اس (مال) سے بہتر ہے جس کو یہ جمع کرتے ہیں فرمایا رحمت سے مراد جنت ہے۔
Ayahs 43:33–351:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر میرا مومن بندہ گھبرانہ جاتا تو میں کافر کو لوہے کی پٹی میں لپیٹ دیتا (یعنی مال کی کثرت سے) تو وہ ذرا بھی شکایت نہ کرتا اور میں انڈیل دیتا اس پر دنیا کو انڈیلتا ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس کی مثل کو قرآن میں اپنے اس قول میں بیان فرمایا (آیت ) ” ولولا ان یکون الناس امۃ واحدۃ لجعلنا لمن یکفر بالرحمن “ (اگر بات نہ ہوتی کہ تمام آدمی ایک ہی طریقہ کے یعنی کافر ہوجائیں گے جو لوگ رحمان کا انکار کرتے ہیں )
2:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولولا ان یکون الناس امۃ واحدۃ “ یعنی اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ سارے کافر ہوجائیں گے تو میں بنا دیتا کفار کے گھروں کی چھتوں کی چاندی کا (آیت ) ” ومعارج “ اور سیڑھیاں بھی چاندی کی ہوتیں (آیت ) ” علیھا یظھرون “ یعنی جن پر چڑھ کر وہ بالاخانوں میں جاتے اور ان کی چارپائیاں بھی چاندی کی ہوتیں۔” وزخرفا “ سونا ہے۔
3:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولولا ان یکون الناس امۃ واحدۃ “ سے مراد ہے کہ اگر لوگ کافر نہ ہوجاتے (آیت ) ” لجعلنا لمن یکفر بالرحمن لبیوتھم سقفا من فضۃ “ (تو جو لوگ رحمن کا انکار کرتے ہیں ہم ان کے گھروں کی چھتوں کو چاندی کا بنا دیتے) یعنی گھروں کے اوپر چھت (آیت ) ” ومعارج علیھا یظھرون “ یعنی سیڑھیاں کہ جن پر وہ چڑھتے ” وزخرفار “ یعنی سونے کی (آیت ) ” والاخرۃ عند ربک للمتقین “ اور آخرت تیرے رب کے پاس متقین کیلئے ہے) یعنی اختیار کرلیں گے۔
4:۔ ابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولولا ان یکون الناس امۃ واحدۃ “ یعنی اگر یہ نہ وہتا کہ لوگ کفر اختیار کرلیں گے۔
5:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سقفا “ سے مراد ہیں کڑیا (آیت ) ” ومعارج “ سیڑھیاں ” وزخرفا “ سونا۔
6:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن بصری (رح) نے (آیت ) ” ولولا ان یکون الناس امۃ واحدۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ یعنی اگر یہ بات نہ ہوتی کہ سب لوگ کافر ہوجائیں گے اور دنیا کی طرف مائل ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے لئے وہ ساری چیزیں بنادیتے جو اس نے ارشاد فرمایا اور فرمایا کہ یقینی بات ہے کہ دنیا کی طرف میلان ان کی سب سے بڑی خواہش ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ایسا کس طرح ہوتا کہ وہ ایسا کردیتا۔
7:۔ احمد وحاکم (رح) نے ابن مسعود ؓ سے (آیت) ” اھم یقسمون رحمۃ ربک “ (کیا یہ لوگ آپ کے رب کی رحمت (یعنی نبوت) خود ہی بانٹ لینا چاہتے ہیں) کے بارے میں روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان تقسیم کردیا تمہارے اخلاق کو جیسے تمہارے درمیان تمہارے رزقوں کو تقسیم کردیا اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ دنیا اسے بھی دیتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے اور اسے بھی دیتا ہے جس سے محبت نہیں کرتا اور دین نہیں دیتا مگر اس کو جس سے محبت کرتا ہے پس جس کو انہوں نے دین عطا فرمایا تو یقینی بات ہے کہ اسے انہوں نے محبت عطا فرمائی۔
8:۔ ترمذی (رح) (وصححہ) سہل بن سعد ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر ہوتی تو کافر کو اس میں ایک گھونٹ پانی بھی نہ دیتا۔
Ayahs 43:36–40اللہ کے نافر مانوں پر شیطان کا مسلط ہونا :
1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے محمد بن عثمان مخزومی (رح) سے روایت کیا کہ قریش نے باہم مشورہ کیا کہ محمد ﷺ کے ساتھیوں میں سے ہر ایک پر آدمی مقرر کردو تاکہ ہو جاکر اس کو پکڑ لے۔ حضرت ابوبکر ؓ کے لئے طلحہ بن عبداللہ کو مقرر کیا گیا۔ طلحہ حضرت ابوبکر ؓ کے پاس اس وقت پہنچے جب آپ لوگوں میں بیٹھے ہوئے تھے ابوبکر ؓ نے پوچھا تو مجھے کس بات کی دعوت دیتا ہے ؟ طلحہ نے کہا میں تجھے لات اور عزی کی پوجا کی طرف دعوت دیتا ہوں۔ ابوبکر ؓ نے فرمایا لات کیا ہے ؟ طلحہ نے کہا ہمارا رب۔ پوچھا عزی کیا ہے ؟ طلحہ نے کہا یہ الہ کی بیٹیاں ہیں ابوبکر نے پوچھا ان کی ماں کون تھی ؟ طلحہ لاجواب ہوگئے اور اپنے ساتھیوں سے کہا جواب دو سب خاموش رہے اس پر طلحہ نے کہا ابوبکر ؓ اٹھ کھڑے ہو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ا ہیں تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت ) ” ومن یعش عن ذکر الرحمن نقیض لہ شیطنا “ (الا یہ) (اور جو شخص اللہ کی نصیحت) یعنی قرآن کی طرف سے اندھا بن جاتا ہے ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں۔
2:۔ ابن جریر (رح) (رح) علیہ وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ومن یعش عن ذکر الرحمن “ میں یعش کا معنی ہے اندھا ہونا ابن جریر (رح) نے کہا یہ معنی اس وقت ہوگا جب شین پر زبر پڑھی جائے گا۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ومن یعش “ یعنی جو اعراض کرتا ہے (آیت ) ” وانہم لیصدونھم عن السبیل “ (اور حقیقت یہ ہے کہ شیطان ان کو راہ ہدایت سے روکتے ہیں) یعنی دین سے (آیت ) ” حتی اذا جآء نا “ (یہاں تک کہ جب ہمارے پاس آئیں گے) وہ بھی اور اس کا ساتھی بھی۔
4:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ’ ’ حتی اذا جآء نا “ پڑھا اور فرمایا یہاں ناضمیر سے مراد تثنیہ ہے یعنی وہ اور اس کا ساتھی۔
5:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ومن یعش “ (الآیہ) یعنی (جو اندھا ہوگیا) حق کی جانب سے اور اس کا انکار کیا حالانکہ وہ جانتا ہے کہ حلال حلال ہے، اور حرام حرام ہے۔ اور اس نے خواہشات نفس کی وجہ سے حلال اور حق کے علم کو چھوڑ دیا اور اس نے پانی ضرورت پوری کی۔ پھر اس نے حرام کا ارادہ کیا تو اس کے لئے شیطان مقرر کردیا جاتا ہے۔
6:۔ عبد الرزاق (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے سعید جزری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ نقیض لہ شیطنا “ (اور پر شیطان مسلط کردیتے ہیں) یعنی ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ کافر جب قیامت کے دن اپنی قبر سے اٹھایا جائے گا تو شیطان اس کا ہاتھ پکڑے ہوئے ہوگا اور وہ اس سے جدا نہیں ہوگا یہاں تک کہ دونوں کو اللہ تعالیٰ آگ کی طرف پہنچا دیں گے اس وجہ سے وہ اس وقت کہے (آیت ) ” یلیت بینی وبینک بعد المشرقین فبئس القرین “ (تو کہے گا کاش دنیا میں میرے تیرے درمیان اتنا فاصلہ ہوتا جتنا مشرق سے مغرب کا تھا تو برا ساتھی ہے لیکن مؤمن کے ساتھ ایک فرشتہ مقرر ہوگا یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے گا تو وہ اس کو جنت کی طرف لے جائے گا۔
7:۔ ابن حبان والبغوی وابن تانع والطبرنی وابن مردویہ نے شریک بن طارق (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی ایسا نہیں جس کے ساتھ شیطان نہ ہو صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ کے ساتھ بھی ہے ؟ فرمایا اور میرے ساتھ بھی ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس پر میری مدد فرمائی اور وہ مسلمان ہوگیا۔
8:۔ مسلم وابن مرودیہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے رات کو نکلے کہنے لگے میں نے اس پر عزت کی آپ تشریف لائے اور مجھے دیکھا جو میں کررہی تھی اپ نے فرمایا این عائشہ تجھے کیا ہوا کیا تجھ کو غیرت آگئی (میرے اس طرز عمل پر) میں نے عرض کیا کیا بھلا میری جیسی عورت کو آپ جیسے مرد پر کیوں نہ غیرت آئے گی آپ ﷺ نے فرمایا کیا تیرا شیطان آگیا میں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ کیا میرے ساتھ شیطان ہے ؟ فرمایا ہاں اور ہر انسان کے ساتھ ہے، میں نے کہا اور آپ نے کہا اور آپ کے ساتھ بھی ہے ؟ فرمایا ہاں لیکن میرے رب نے میری مدد فرمائی یہاں تک کہ وہ مسلمان ہوگیا۔
9:۔ مسلم وابن مردویہ (رح) نے عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی نہیں ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ اس کا ایک ساتھی جن میں سے مقرر کردیا ہے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ کے ساتھ بھی ہے ؟ فرمایا ہاں میرے ساتھ بھی مگر اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی اور وہ مسلمان ہوگیا اب وہ مجھے خیر کا ہی حکم دیتا ہے۔
10:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی نہیں ہے مگر اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ اس کا ایک ساتھی جن میں سے مقرر کردیا ہے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ کے ساتھ بھی (مقرر ہوا ؟ ) فرمایا : ہاں میرے ساتھ بھی مگر اللہ تعالیٰ نے اس پر میری مدد فرمائی اور وہ مسلمان ہوگیا۔
11:۔ احمد (رح) نے الزھد میں وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ دو آدمیوں میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے کہ اس کے ساتھ شیطان مقرر نہ ہو مگر کافر کے اس کے ساتھ اس کے کھانے میں سے کھاتا ہے اور اس کے پینے میں سے پیتا ہے اور اس کے ساتھ اس کے بستر پر سوتا ہے مگر مومن سے وہ ہٹ کر رہتا ہے اور انتظار کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب اس سے غفلت کو پاتا ہے تو اس پر کود پڑتا ہے اور شیطان کو دو آدمی بہت پسند ہیں بہت کھانے والا اور بہت سونے والا۔