43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsاحکام القرآن

Ayah 43:1
Ayah 43:2

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 43:2 in the Quran reader

کتاب روشن کی قسم

Ayah 43:3

اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 43:3 in the Quran reader

کہ ہم نے اس کو قرآن عربی بنایا ہے تاکہ تم سمجھو

Ayah 43:4

وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌؕ Open ayah 43:4 in the Quran reader

اور یہ بڑی کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں ہمارے پاس (لکھی ہوئی اور) بڑی فضیلت اور حکمت والی ہے

Ayah 43:5

اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ Open ayah 43:5 in the Quran reader

بھلا اس لئے کہ تم حد سے نکلے ہوئے لوگ ہو ہم تم کو نصیحت کرنے سے باز رہیں گے

Ayah 43:6

وَ كَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:6 in the Quran reader

اور ہم نے پہلے لوگوں میں بھی بہت سے پیغمبر بھیجے تھے

Ayah 43:7

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 43:7 in the Quran reader

اور کوئی پیغمبر ان کے پاس نہیں آتا تھا مگر وہ اس سے تمسخر کرتے تھے

Ayah 43:8

فَاَهْلَكْنَاۤ اَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَّ مَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:8 in the Quran reader

تو جو ان میں سخت زور والے تھے ان کو ہم نے ہلاک کردیا اور اگلے لوگوں کی حالت گزر گئی

Ayah 43:9

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 43:9 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو کہہ دیں گے کہ ان کو غالب اور علم والے (خدا) نے پیدا کیا ہے

Ayah 43:10

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ Open ayah 43:10 in the Quran reader

جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا اور اس میں تمہارے لئے راستے بنائے تاکہ تم راہ معلوم کرو

Ayah 43:11

وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ١ۚ فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ۚ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ Open ayah 43:11 in the Quran reader

اور جس نے ایک اندازے کے ساتھ آسمان سے پانی نازل کیا پھر ہم نے اس سے شہر مردہ کو زندہ کیا اسی طرح تم (زمین سے) نکالے جاؤ گے

Ayah 43:12

وَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَۙ Open ayah 43:12 in the Quran reader

اور جس نے تمام قسم کے حیوانات پیدا کیے اور تمہارے لئے کشتیاں اور چارپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو

Ayahs 43:13–19

لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْهِ وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ Open ayah 43:13 in the Quran reader

تاکہ تم ان کی پیٹھ پر چڑھ بیٹھو اور جب ان پر بیٹھ جاؤ پھر اپنے پروردگار کے احسان کو یاد کرو اور کہو کہ وہ پاک ہے جس نے اس کو ہمارے زیر فرمان کردیا اور ہم میں طاقت نہ تھی کہ اس کو بس میں کرلیتے

وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ Open ayah 43:14 in the Quran reader

اور ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِیْنٌؕ۠ Open ayah 43:15 in the Quran reader

اور انہوں نے اس کے بندوں میں سے اس کے لئے اولاد مقرر کی بیشک انسان صریح ناشکرا ہے

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰىكُمْ بِالْبَنِیْنَ Open ayah 43:16 in the Quran reader

کیا اس نے اپنی مخلوقات میں سے خود تو بیٹیاں لیں اور تم کو چن کر بیٹے دے دئیے

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 43:17 in the Quran reader

حالانکہ جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی خوش خبری دی جاتی ہے جو انہوں نے خدا کے لئے بیان کی ہے تو اس کا منہ سیاہ ہوجاتا اور وہ غم سے بھر جاتا ہے

اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ هُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ Open ayah 43:18 in the Quran reader

کیا وہ جو زیور میں پرورش پائے اور جھگڑے کے وقت بات نہ کرسکے (خدا کی) بیٹی ہوسکتی ہے ؟

وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓئِكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا١ؕ اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ١ؕ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:19 in the Quran reader

اور انہوں نے فرشتوں کو کہ وہ بھی خدا کے بندے ہیں (خدا کی) بیٹیاں مقرر کیا، کیا یہ ان کی پیدائش کے وقت حاضر تھے ؟ عنقریب ان کی شہادت لکھ لی جائے گی اور ان سے باز پرس کی جائے گی

سورة الزخرف سواری پر سوار ہوتے وقت بسم اللہ پڑھنے کا بیان قول باری ہے (لتستو وا علی ظھورہ ثم تذکرو انعمۃ ربکم اذا استویتم علیہ ۔ تاکہ تم ان کی پشت پر جم کر بیٹھو پھر جب تم اس پر جم کر بیٹھ چکو تو اپنے پروردگار کی اس نعمت کو یاد کرو) ۔ ہمیں عبداللہ بن اسحاق نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے ابواسحاق سے اور انہوں نے علی بن ربیعہ سے کہ انہوں نے حضرت علی ؓ کو سواری پر سوار ہوتے دیکھا تھا۔ جب انہوں نے اپنا پائوں رکاب میں رکھا تو بسم اللہ کہا۔ جب پوری طرح جم کر بیٹھ گئے تو الحمد للہ کہا۔ پھر یہ آیت پڑھی (سبحان الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین۔ پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لئے اسے مسخر کردیا اور ہم اسے قابو کرنے والے نہیں تھے) پھر تین دفعہ الحمد للہ اور تین دفعہ اللہ کبر کہنے کے بعد فرمایا : ” لا الہ الا انت ظلمت نفسی فاغفرلی فانہ لا یغفرالذنوب الاانت “ (تیرے سوا کوئی معبود نہیں میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے تو مجھے بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی اور گناہوں کو نہیں بخش سکتا) یہ کہہ کر حضرت علی ؓ ہنس پڑے لوگوں نے عرض کیا امیر المومنین ! آپ کو ہنسی کیوں آئی ؟ حضرت علی ؓ نے جواب میں فرمایا ” جو کچھ ابھی میں نے کیا ہے اور کہا ہے حضور ﷺ کو بھی اسی طرح کرتے اور کہتے دیکھا ہے۔ “ آپ سے بھی یہی دریافت کیا گیا تھا۔ ” اللہ کے نبی ﷺ ! آپ کو ہنسی کیوں آئی ؟ “ آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا تھا۔ ” بندے کا معاملہ عجیب ہے (یا یوں فرمایا، بندہ) جب کہتا ہے کہ ” لا الہ الا انت ظلمت نفسی فاغفرلی انہ لا یغفرالذنوب الا انت “۔ تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے سوا گناہوں کو اور کوئی معاف نہیں کرسکتا۔ ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی۔ انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے ابوطائوس سے انہوں نے اپنے والد سے کہ وہ جب سواری پر سوار ہوتے تو بسم اللہ پڑھتے پھر یہ کہتے : ” ھذا منک وفضلک علینا، الحمد للہ ربنا “ (یہ تیرا عطیہ ہے اور ہم پر یہ تیرا فضل ہے تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو ہمارا رب ہے) پھر کہتے (سبحان الذی سخرلنا وما کنا لہ مقرنین وانا الی ربنا لمنقلبون) ۔ حاتم بن اسماعیل نے جعفر سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (علی ذروۃ سنام کل بعیر شیطان فاذا رکبتموھا فقولو اکما امرکم اللہ سبحان الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین۔ “ ہر اونٹ کے کوہان کی چوٹی پر شیطان ہوتا ہے اس لئے جب تم اس پر سوار ہو تو اس طرح کہو جس طرح اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے یعنی سبحان الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین۔ سفیان سے مروی ہے، انہوں نے منصور سے اور انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے ابو معمر سے روایت کی ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا ” جب کوئی شخص جانور پر سوار ہوتا ہے اور اس وقت اللہ کا نام نہیں لیتا ہے تو شیطان اس کے پیچھے سوار ہوجاتا ہے پھر اس سے گانا گانے کے لئے کہتا ہے۔ اگر وہ اچھی طرح گا نہیں سکتا تو اس سے تمنا کرنے کے لئے کہتا ہے۔ “ عورتوں کے لئے زیورات پہننے کی اباحت کا بیان ابوالعالیہ اور مجاہد کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو سونا پہننے کی اجازت دی ہے پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی (اومن ینشوا فی الحلیۃ۔ تو کیا جو زیورات میں پرورش پائے) نافع نے سعید سے، انہوں نے ابوہند سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : لیس الحریر والذھب حرام علی ذکور امتی حلال لانا ثھا میری امت کے مردوں پر ریشم اور سونا پہننا حرام ہے اور عورتوں پر حلال ہے۔ شریک نے عباس بن زریح سے، انہوں نے النھی سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو اس وقت یہ فرماتے ہوئے سنا تھا جب آپ حضرت اسامہ کے چہرے پر لگے ہوئے زخم سے خون چوس چوس کر اس کی کلی کررہے تھے کہ ” اسامہ لڑکی ہوتے تو ہم انہیں زیورات پہناتے، اسامہ اگر لڑکی ہوتے تو ہم انہیں کپڑے پہناتے۔ “ حضور ﷺ نے حضرت اسامہ کی حیثیت لوگوں کی نظروں میں بڑھانے کے لئے یہ فرمایا تھا۔ عمرو بن شعیب کی روایت میں جو انہوں نے اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے کی ہے یہ ذکر ہے کہ آپ نے دو عورتوں کو دیکھا جنہوں نے سونے کے کنگن پہن رکھے تھے اور فرمایا (اتحبان ان یسورکما اللہ باسورۃ من نار، کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کے کنگن پہنا دے) ۔ انہوں نے نفی میں اس کا جواب دیا۔ اس پر آپ نے فرمایا (فادیاق ھذا۔ پھر اس کا حق ادا کرو) یعنی زکوۃ نکالو۔ حضرت عائشہ ؓ کا قول ہے کہ اگر زیورات کی زکوٰۃ نکال دی جائے تو انہیں پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ حضرت عمر ؓ نے حضرت ابوموسیٰ ؓ کو یہ لکھا کہ اپنے علاقے کے مسلمانوں کی عورتوں کو زیورات کی زکوٰۃ نکالنے کے لئے کہو۔ امام ابوحنیفہ نے عمروبن دینار سے روایت کی ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے اپنی بہنوں کو سونے کے زیورات پہنائے تھے۔ نیز حضرت ابن عمر ؓ نے بھی اپنی بیٹیوں کو سونا پہنایا تھا۔ خصیف نے مجاہد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ جب ہمیں حضور ﷺ نے سونا پہننے سے منع فرمادیا تو ہم نے عرض کیا : ” اللہ کے رسول (علیہ السلام) ! کیا ہم مشک کے ساتھ سونے کے اجزا نہ ملا لیا کریں۔ “ آپ نے فرمایا ” تم اسے چاندی کے ساتھ کیوں نہیں ملالیتیں اور پھر زعفران کے اندر اسے لت پت کرلو تو یہ سونے کی طرح ہوجائے گا۔ “ جریر نے مطرف سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں حضور ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ ایک عورت آئی اور کہنے لگی۔” اللہ کے رسول ! یہ سونے کے دو کنگن ہیں۔ “ آپ ﷺ نے فرمایا ” یہ آگ کے دو کنگن ہیں۔ “ اس نے پھر عرض کیا۔” سونے کی دو بالیاں ہیں۔ “ آپ ﷺ نے پھر فرمایا : ” یہ آگ کی دو بالیاں ہیں۔ “ اس نے پھر کہا : ” سونے کا ایک ہار ہے۔ “ آپ ﷺ نے جواب دیا : ” یہ آگ کا ایک ہار ہے۔ “ عورت نے عرض کیا : اللہ کے رسول ﷺ ! عورت اگر اپنے شوہر کے لئے زیورات وغیرہ پہن کر بنائو سنگھار نہ کرے تو وہ اس کی نظروں میں بو وقعت ہوکر رہ جاتی ہے۔ “ یہ سن کر آپ نے فرمایا : تمہارے لئے اس میں کیا رکاوٹ ہے کہ تم چاندی کی دو بالیاں بنالو اور پھر انہیں عنبر یعنی مشک یا زعفران سے رنگ دو ، وہ سونے کی بالیں جیسی نظر آئیں گی۔ “ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ زیورات پہننے کی اباحت میں حضور ﷺ اور صحابہ کرام سے جو روایات منقول ہیں وہ ممانعت کی روایات سے زیادہ واضح اور زیادہ مشہور ہیں اسی طرح آیت کی بھی یہی دلالت ہے کہ عورتوں کے لئے زیورات کی اباحت ہے۔ حضور ﷺ اور صحابہ کرام کے زمانے سے لے کر آج تک عورتوں کے لئے زیورات پہننے کی اباحت کی روایتیں استفاضہ کی حد کو پہنچ گئی ہیں اور کسی نے اس پر نکیر بھی نہیں کی۔ اس لئے اخبار آحاد کے ذریعے ان روایات پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔
Ayahs 43:20–21

وَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ١ؕ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۗ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَؕ Open ayah 43:20 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اگر خدا چاہتا تو ہم ان کو نہ پوجتے ان کو اس کا کچھ علم نہیں یہ تو صرف اٹکلیں دوڑا رہے ہیں

اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ فَهُمْ بِهٖ مُسْتَمْسِكُوْنَ Open ayah 43:21 in the Quran reader

یا ہم نے ان کو اس سے پہلے کوئی کتاب دی تھی تو یہ اس سے سند پکڑتے ہیں

نظریہ جبر کی تردید قول باری ہے (وقالوا لو شآء الرحمن ما عبدنا ھم مالھم بذالک من علم ان ھم الا یخرصون۔ اور کہتے ہیں کہ اگر رحمن کو یہی منظور ہوتا تو ہم فرشتوں کی پرستش ہی نہ کرتے انہیں اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے یہ محض اٹکل سے کام لے رہے ہیں) یعنی کافر کہتے ہیں کہ اگر خدا کو منظور ہوتا تو ہم نہ بتوں کی اور نہ ہی فرشتوں کی پرستش کرتے۔ ہم نے ان کی پرستش صرف اس لئے کی ہے کہ خدا کو ہم سے یہی منظور تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ محض اٹکل سے کام لے رہے ہیں۔ نیز اللہ کے بارے میں جھوٹ بول رہے ہیں۔ اللہ نے کبھی یہ نہیں چاہا کہ وہ کفر وشرک میں پڑجائیں۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (سیقول الذین اشرکوا لوشآء اللہ ما اشرکنا ولا ابائونا ولا حرمنا من شیء کذلک کذب الذین من قبلھم۔ جن لوگوں نے شرک کیا ہے وہ یہ کہیں گے کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے نہ ہمارے آبائو اجداد اور نہ ہی ہم کوئی چیز حرام کرتے۔ اسی طرح ان لوگوں نے بھی تکذیب کی تھی جوان سے پہلے گزر چکے ہیں) اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ یہ لوگ اس قول سے اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کررہے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے۔ اللہ نے یہ واضح کردیا کہ اس نے تو یہ چاہا تھا کہ یہ شرک نہ کریں۔ یہ تمام باتیں فرقہ جہمیہ کے جبر کے مذہب کو باطل کردیتی ہیں۔