43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 43:1–2

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 43:2 in the Quran reader

قسم ہے واضح کتاب کی

قرآن کتاب مبین ہے، عربی میں ہے، نصیحت ہے، انبیائے سابقین ( علیہ السلام) کی تکذیب کرنے والوں کو ہلاک کردیا اولاً قرآن ہی کی قسم کھا کر قرآن کی تعریف فرمائی کہ کتاب مبین کی قسم ہے ہم نے اپنی اسی کتاب کو عربی زبان کا قرآن بنایا یعنی یہ قرآن عربی زبان میں ہے اس کے اولین مخاطبین عرب ہیں یہ لوگ قرآن کو پڑھیں اور سمجھیں، سمجھنا چاہیں گے تو سمجھ لیں گے اور ہدایت پالیں گے۔ اس کے بعد قرآن کی برتری بیان فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ وہ ہمارے پاس ام الکتاب یعنی لوح محفوظ میں محفوظ ہے وہ بلند بھی ہے اور حکمتوں سے پر ہے اور بعض حضرات نے حکیم کا ترجمہ ” محکم “ کیا ہے مطلب یہ ہے کہ لفظی اور معنوی اعتبار سے استحکام ہے یعنی اس میں کوئی اختلاف اور تناقض نہیں ہے۔ سورة الواقعہ میں فرمایا ﴿اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِيْمٌۙ0077 فِيْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍۙ0078﴾ اور سورة البروج میں فرمایا ﴿بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِيْدٌۙ0021 فِيْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ (رح) 0022﴾ اس کے بعد فرمایا کہ ہم جو قرآن نازل کر رہے ہیں جس میں تمہارے لیے نصیحت ہے، یہ قرآن نازل ہوتا رہے گا تم یہ نہ سمجھنا کہ چونکہ ہم قرآن کو نہیں مانتے اس لیے قرآن کا نازل ہونا بند ہوجائے گا تمہارا یہ خیال غلط ہے اس میں تمہارے لیے نصیحت بھی ہے اور اس کے نازل ہونے میں تم پر حجت بھی قائم ہوتی ہے اور اہل ایمان کے لیے نافع اور مفید ہے۔ قال القرطبی وانتصب ” صفحًا “ علی المصدر لان معنی افنضرب افنصفح وقیل التقدیر افنضرب عنکم الذکر صافحین (علامہ قرطبی ؓ نے فرمایا ” صفحًا “ مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے منصوب ہے کیونکہ اَفَنَضْرِبُ معنی ہے افَنَصْفَحُ بعض نے کہا اصل عبارت یوں ہے : اَفَنَضْرِبُ عَنْكمُ الذّكر صافحین۔ اس کے بعد فرمایا ہم نے تم سے پہلے لوگوں میں کتنے ہی نبی بھیجے ہیں (لفظ ” كم “ تکثیر کے لیے ہے) مطلب یہ ہے کہ ہم نے کثیر تعداد میں نبی بھیجے لیکن امتوں کا طریقہ یہ رہا کہ جو بھی نبی بھیجا جاتا اس کا مذاق بناتے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں جو لوگ بہت زیادہ زور آور تھے، موجودہ مخاطبین سے قوت میں بڑھ کر تھے ہم نے ان کو ہلاک کردیا، ان مخاطبین کی ان لوگوں کے سامنے کچھ حیثیت نہیں ﴿ وَّ مَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِيْنَ 008﴾ اور پہلے لوگوں کی حالت گزر چکی ہے ان میں سے بعض کا انہیں علم بھی ہے پھر بھی قرآن کی تکذیب کر رہے ہیں اپنے انجام کی طرف نظر نہیں کرتے۔ وھذا مثل قولہ تعالیٰ ﴿وَ كَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ 1ۙ وَ مَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَاۤ اٰتَيْنٰهُمْ فَكَذَّبُوْا رُسُلِيْ 1۫ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيْرِ (رح) 0045﴾ (اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے جھٹلایا اور انہیں ہم نے جو کچھ دیا تھا یہ لوگ اس کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے سو انہوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا سو کیسا عذاب ہوا میرا۔ )
Ayahs 43:3–9

اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 43:3 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے اس کو قرآن عربی بنایا ہے تاکہ تم سمجھو

وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌؕ Open ayah 43:4 in the Quran reader

اور بلاشبہ وہ ام الکتاب میں ہمارے پاس ہے بلند ہے حکمت والا ہے،

اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ Open ayah 43:5 in the Quran reader

کیا ہم نصیحت کو تم سے اس وجہ سے ہٹا لیں گے کہ تم حد سے بڑھ جانے والے ہو،

وَ كَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:6 in the Quran reader

اور ہم نے پہلے لوگوں میں کتنے ہی نبی بھیجے،

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 43:7 in the Quran reader

اور ان کے پاس جو بھی کوئی نبی آتا تھا اس کا مذاق بناتے تھے

فَاَهْلَكْنَاۤ اَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَّ مَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:8 in the Quran reader

پھر ہم نے ان میں سے ان لوگوں کو ہلاک کردیا جو زور آوری میں خوب بڑھ کر تھے اور پہلے لوگوں کی یہ حالت گزر چکی ہے۔

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 43:9 in the Quran reader

اور اگر آپ ان سے سوال کریں کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو ضرور کہیں گے کہ انہیں عزیز علیم نے پیدا فرمایا

آسمان و زمین کی تخلیق، زمین کو بچھونا بنانا، کشتیوں اور چوپایوں کی نعمت عطا فرمانا ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی شان خالقیت اور مالکیت بیان فرمائی اور بندوں کے لیے جو نفع کی چیزیں پیدا فرمائی ہیں ان میں سے بعض چیزوں کا تذکرہ فرمایا ان سب چیزوں کو وجود بخشنے اور بندوں کے لیے مسخر کرنے میں توحید کے دلائل ہیں، ارشاد فرمایا کہ اگر آپ ان سے یہ دریافت کریں کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا فرمایا تو یہ لوگ خود ہی اقراری ہوں گے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے جو عزیز بھی ہے یعنی غالب اور زبردست ہے اور علیم بھی ہے جو سب کچھ جانتا ہے پھر فرمایا
Ayah 43:10

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ Open ayah 43:10 in the Quran reader

جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنا دیا اور تمہارے لیے اس نے راستے بنا دئیے تاکہ تم ہدایت پاؤ

﴿ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا ﴾ جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش بنایا جس پر آرام سے رہتے ہو اور بستے ہو ﴿وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِيْهَا سُبُلًا ﴾ (اور اس نے تمہارے لیے اس میں راستے بنائے) ﴿لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ0010﴾ (تاکہ تم ہدایت پاؤ) یعنی تم اپنے اسفار میں جاؤ تو ان راستوں سے گزرو اور اپنے مقاصد پورے کرو اور یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ تم فکر کرو اور ہدایت پاؤ اور توحید پر آؤ کہ جس ذات پاک نے یہ زمین پیدا فرمائی اور اس میں راستے بنائے وہ وحدہ لا شریک ہے۔
Ayah 43:11

وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ١ۚ فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ۚ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ Open ayah 43:11 in the Quran reader

اور جس نے ایک اندازے سے آسمان سے پانی برسایا پھر ہم نے اس کے ذریعے مردہ زمین کو زندہ کردیا۔ اسی طرح تم نکالے جاؤ گے،

مزید فرمایا ﴿وَ الَّذِيْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ 1ۚ﴾ (اور وہ ذات پاک ہے جس نے آسمان سے ایک خاص مقدار کے ساتھ پانی نازل فرمایا) ﴿فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّيْتًا 1ۚ﴾ (پھر ہم نے اس کے ذریعے زمین کے مردہ حصہ کو زندہ کردیا) ﴿كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ 0011﴾ جیسے اس نے مردہ زمین کو زندگی بخشی خشک ہونے کے بعد سرسبز اور شاداب ہوگئی اسی طرح سے تم قبروں سے نکالے جاؤ گے یعنی قیامت کے دن زندہ کرکے اٹھائے جاؤ گے اس کا نمونہ تمہارے سامنے ہے زمین کی موت اور حیات کو دیکھ لو اور اس سے سمجھ لو کہ تمہارا زندہ فرمانا کوئی مشکل نہیں ہے۔
Ayah 43:12

وَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَۙ Open ayah 43:12 in the Quran reader

اور جس نے تمام اقسام کو پیدا فرمایا اور تمہارے لیے کشتیاں اور جانوروں میں سے وہ چیزیں پیدا فرمائیں جن پر تم سوار ہوتے ہو

پھر فرمایا ﴿ وَ الَّذِيْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا ﴾ (اور وہی ذات ہے جس نے مخلوق میں طرح طرح کے انواع و اقسام پیدا فرما دئیے) مذکر بھی ہیں مونث بھی ہیں میٹھی چیزیں بھی ہیں اور کھٹی بھی، سفید بھی ہیں اور سیاہ بھی، اوپر بھی ہیں اور نیچے بھی، دائیں جانب بھی ہیں اور بائیں جانب بھی وغیرہ وغیرہ۔ ﴿وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَۙ0012﴾ (اور اس نے کشتیاں اور سواریاں پیدا فرمائیں جن پر تم سوار ہوتے)
Ayah 43:13

لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْهِ وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ Open ayah 43:13 in the Quran reader

تاکہ تم ان کی پشتوں پر بیٹھ جاؤ پھر اپنے رب کی نعمت کو یاد کرو جب تم اس پر بیٹھ جاؤ اور تم یوں کہو پاک ہے وہ ذات جس نے اس کو ہمارے لیے مسخر فرما دیا اور ہم اس کو قابو میں کرنے والے نہ تھے

﴿لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ﴾ (تاکہ تم اچھی طرح ان کی پشتوں پر بیٹھ جاؤ) جب خوب اچھی طرح جم کر جانوروں کی پشت پر بیٹھ جاتے ہیں تو اس کو ایڑھ مار کر چلاتے ہیں اور ان کی پشتوں پر بیٹھنے اور جمنے کے طریقے بھی اللہ تعالیٰ نے بتا دئیے ہیں، گھوڑے پر زین کستے ہیں اور اونٹ پر کجا وہ باندھتے ہیں اس کے اٹھے ہوئے کوہان کے باوجود اس کی کمر پر بیٹھتے ہیں اور اس پر سفر کرتے ہیں۔ وقولہٗ تعالیٰ : مَا تَرْكَبُوْنَ ما موصولة والعائد محذوف والضمیر المجرور فی ظھورہ عائد الی لفظ ما وجمع الظھور رعایة للمعنی۔ ” اللہ تعالیٰ کے ارشاد مَا تَرْكَبُوْنَ میں ماصولہ ہے اور اس کی طرف لوٹنے والی ضمیر محذوف ہے اور ظھورہ کی ضمیر مجرور لفظ ما کی طرف لوٹتی ہے اور ظھور کو معنی کی رعایت کرتے ہوئے جمع لایا گیا ہے۔ “ سوار ہونے کی دعاء ﴿ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ ﴾ (پھر تم اپنے رب کی نعمت کو یاد کرو جب ان پر ٹھیک طرح سے بیٹھ جاؤ) یہ یاد کرنا زبان سے اور دل دونوں سے ہونا چاہیے زبان سے یاد کرنے کی دعا بھی بتادی فرمایا ﴿وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِيْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِيْنَۙ0013﴾ (اور تم یوں کہو، پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے لیے مسخر کردیا اور ہم اسے قابو میں کرنے والے نہ تھے) ﴿وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ 0014﴾ (اور بلاشبہ ہم اپنے رب کی طرف جانے والے ہیں) اس میں یہ بتادیا کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو استعمال کریں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور ساتھ ہی اس بات کا بھی دھیان رکھیں اور بار بار مراقبہ کریں کہ اسی دنیا میں نہیں رہنا مرنا ہے، اور یہاں سے جانا ہے زندگی کا اور نعمتوں کا حساب بھی ہونا ہے۔ جب جانور پر سوار ہو تو اس دعا کا اہتمام کرنا چاہیے سنن ترمذی (کتاب الدعوات) میں ہے کہ حضرت علی ؓ کی خدمت میں سواری کے لیے جانور لایا گیا، جب رکاب میں پاؤں رکھا تو بسم اللہ کہا پھر جب اس کی پشت پر بیٹھ گئے تو الحمد للہ کہا پھر یہ آیت پڑھی ﴿سُبْحٰنَ الَّذِيْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِيْنَۙ0013 وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ۠0014﴾ (اللہ پاک ہے جس نے اس کو ہمارے قبضہ میں دے دیا اور اس کی قدرت کے بغیر ہم اسے قبضہ میں کرنے والے نہ تھے اور بلاشبہ ہم کو اپنے رب کی طرف جانا ہے) اس کے بعد تین بار اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اور تین بار اللّٰہُ اَكبَر کہا پھر یہ دعا پڑھی سُبْحَانَكَ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِیْ فَاِنَّہٗ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ الآّ اَنْتَ (اے اللہ تو پاک ہے بیشک میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے کیونکہ گناہوں کو صرف تو ہی بخشتا ہے) اس کے بعد آپ ہنسے عرض کیا گیا امیر المومنین آپ کیوں ہنسے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایسا ہی کیا جیسا میں نے کیا آپ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ آپ کس بات سے ہنسے ؟ آپ نے فرمایا رب تعالیٰ شانہٗ کو اس بات سے خوشی ہوتی ہے جب بندہ رب اغفرلی کہتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بندہ کو معلوم ہے کہ میرے علاوہ گناہوں کو کوئی نہیں بخشتا۔ (وھو فی المشکوٰۃ ص 214) سَخَّرَ لَنَا کی تشریح سواری کی جو دعا قرآن و حدیث میں بتائی اس میں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ اے انسانو ! اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے جو فائدہ اٹھاتے ہو یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، جانور پیدا فرمائے۔ پھر جانوروں کو تمہارے لیے مسخر کردیا، یہ مستقل نعمت ہے ان پر سواری کرو، سامان لادو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاؤ، اگر اللہ تعالیٰ ان کو مسخر نہ فرماتا تو ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے تھے (جانور بدک جاتا ہے قابو سے باہر ہوجاتا ہے اس وقت اللہ تعالیٰ کی تسخیر کا پتہ چلتا ہے۔ )
Ayahs 43:14–15

وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ Open ayah 43:14 in the Quran reader

اور بیشک ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔

وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِیْنٌؕ۠ Open ayah 43:15 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے اللہ کے لیے اس کے بندوں میں سے جزو ٹھہرا دیا، بلاشبہ انسان واضح طور پر ناشکرا ہے،

اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرنے والوں کی تردید، فرشتوں کو بیٹیاں بتانے والوں کی جہالت اور حماقت مشرکین عرب اور دیگر مشرکین جو دنیا میں پھیلے ہوئے تھے اور اب بھی پائے جاتے ہیں جن میں نصاریٰ بھی ہیں انہوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرلی، سب جانتے ہیں کہ اولاد اپنے باپ کا جزو ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرنا اس کے لیے جزو تجویز کرنا ہوا۔ اہل عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتاتے تھے جیسا کہ نصاریٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور یہود حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بتاتے ہیں، اللہ تعالیٰ شانہٗ نے مشرکین کا یہ عقیدہ بیان فرما کر ارشاد فرمایا ﴿ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِيْنٌؕ (رح) 0015﴾ (بلاشبہ انسان صریح ناشکرا ہے) اس پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرے لیکن وہ تو توحید کے خلاف بات کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرتا ہے۔ یہ منعم حقیقی کی شکر گزاری کے تقاضوں کے خلاف ہے اور صریح ناشکری ہے۔
Ayahs 43:16–19

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰىكُمْ بِالْبَنِیْنَ Open ayah 43:16 in the Quran reader

کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں پسند کیں اور تمہیں بیٹوں کے ساتھ مخصوص کردیا

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 43:17 in the Quran reader

اور جب ان میں سے کسی ایک کو اس کی بشارت دی جاتی ہے جسے اس نے رحمان کے لیے تجویز کیا ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ دل میں گھٹتا ہے،

اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ هُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ Open ayah 43:18 in the Quran reader

کیا جو زیور میں نشوونما پائے اور وہ مباحثہ میں واضح بیان نہ دے سکے،

وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓئِكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا١ؕ اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ١ؕ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:19 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے فرشتوں کو عورتیں قرار دے دیا جو اللہ کے بندے ہیں، کیا یہ ان کی پیدائش کے وقت موجود تھے، ان کا یہ دعویٰ لکھ لیا جاتا ہے اور ان سے باز پرس ہوگی۔

اس کے بعد فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتانے والوں کی تردید کی اور بطور استفہام انکاری ارشاد فرمایا کہ تم کیسی باتیں کرتے ہو کیا اس نے اپنے لیے اپنی مخلوقات میں سے بیٹیاں پسند کرلیں اور تمہیں بیٹوں کے ساتھ مخصوص کردیا اس کے لیے اولاد ہونا عیب کی بات ہے وہ اس عیب سے پاک ہے لیکن تم اپنی بیوقوفی تو دیکھو کہ رحمان جل مجدہٗ کے لیے اولاد تجویز کرنے بیٹھے تو اس کے لیے بیٹیاں تجویز کردیں اسی کو سورة النجم میں فرمایا ﴿اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى 0021 تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِيْزٰى0022﴾ (کیا تمہارے لیے بیٹے اور اس کے لیے بیٹیاں یہ تو اس حالت میں بےڈھنگی تقسیم ہے۔ ) اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ ان کا اپنا یہ حال ہے کہ جب انہیں خبر دی جاتی ہے کہ تمہارے ہاں لڑکی پیدا ہوئی تو اس خبر سے چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور غم میں گھٹنے لگتا ہے جس چیز کو اپنے لیے اتنا زیادہ مکروہ سمجھتے ہیں اس کو اللہ کے لیے تجویز کرتے ہیں اور یہ نہ سوچا کہ جو چیز زینت میں اور زیور میں نشوونما پاتی ہے یعنی لڑکی اور کسی سے جھگڑا ہوجائے تو ٹھیک طرح اپنا دعویٰ بھی بیان نہ کرسکے کیا ایسی چیز کو اللہ کی اولاد قرار دیتے ہیں ؟ ایسی کمزور چیز کو اللہ کی اولاد تجویز کر بیٹھے، حماقت پر حماقت کرتے چلے گئے۔ ﴿اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ 1ؕ﴾ (کیا یہ اس وقت حاضر تھے جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا فرمایا) یعنی یہ تو موجود نہیں تھے انہوں نے اللہ کی مخلوق کے بارے میں کیسے تجویز کرلیا کہ وہ عورتیں ہیں یہ ان کی جرات جاہلانہ اور مشرکانہ ہے ﴿سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ﴾ ان کا جو یہ دعویٰ ہے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں لکھا جاتا ہے قیامت کے دن اسے اپنے اعمال نامہ میں پائیں گے ﴿وَ يُسْـَٔلُوْنَ 0019﴾ (اور ان سے سوال کیا جائے گا) کہ تم نے جو یہ بات کہی تھی اس کی کیا دلیل تھی۔ والسین فی قولہ تعالیٰ ستکتب زیدت للتاکید کما ذکرہ صاحب الروح ص 27: ج 25 (اور ﴿ سَتُكْتَبُ ﴾ میں جو سین ہے یہ تاکید کے لیے زیادہ کی گئی ہے جیسا کہ صاحب روح المعانی نے ذکر کیا ہے۔ )
Ayah 43:20

وَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ١ؕ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۗ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَؕ Open ayah 43:20 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے کہا کہ اگر رحمان چاہتا تو ہم غیر اللہ کی عبادت نہ کرتے، انہیں اس بات کی کچھ بھی تحقیق نہیں وہ محض اٹکل سے بات کرتے ہیں،

مشرکین کی ایک جاہلانہ بات کی تردید، آباو اجداد کو پیشوا بنانے کی حماقت اور ضلالت جب مشرکین کو متنبہ کیا جاتا اور بتایا جاتا تھا کہ تم جو شرک میں پڑے ہوئے ہو یہ گمراہی ہے اور تمہارا خالق اور مالک جل مجدہٗ اس سے راضی نہیں ہے تو کٹ حجتی کے طور پر یوں کہتے تھے کہ اگر ہمارے اس عمل سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہے تو ہمیں اپنے علاوہ دوسروں کی عبادت کیوں کرنے دیتا ہے ان لوگوں کے نزدیک بت پرستی کا عمل صحیح ہونے کی یہ ایک بڑی دلیل تھی اللہ جل شانہٗ نے فرمایا ﴿مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ 1ۗ﴾ (ان کو اس بات کی کچھ تحقیق نہیں) ﴿ اِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَؕ0020﴾ (یہ لوگ صرف اٹکل پچو باتیں کرتے ہیں) مشرکین کی یہ بات سورة انعام کی آیت ﴿ سَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآء اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكْنَا﴾ (الآیۃ) اور سورة نحل کی آیت ﴿وَ قَالَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآء اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَيْءٍ ﴾ (الآیۃ) میں بھی گزر چکی ہے ان لوگوں کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادہ کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا جب اس نے ہمیں غیر اللہ کی عبادت کا موقع دیا یعنی ہمیں جبراً اس عمل سے نہیں روکا تو معلوم ہوگیا کہ وہ ہمارے عمل سے راضی ہے یہ ان لوگوں کی جاہلانہ اور احمقانہ دلیل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انسانوں کو ابتلاء اور آزمائش کے لیے پیدا فرمایا ہے اور آزمائش جب ہی ہوسکتی ہے جب حق اور ناحق بیان کردیا جائے اور اچھے برے اعمال بتا دئیے جائیں اور کرنے نہ کرنے کا اختیار دے دیا جائے اگر جبراً کوئی کام کروالیا جائے تو اس میں امتحان نہیں ہوتا لہٰذا ان لوگوں کا یہ کہنا کفر و شرک کے اعمال پر ہم کو قدرت اور اختیار دے دینا اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارے اس عمل سے اللہ تعالیٰ راضی ہے یہ ان لوگوں کی جہالت کی بات ہے کیونکہ امتحان کے لیے قدرت دے دینا راضی ہونے کی دلیل نہیں یہ لوگ اپنے کفر و شرک کو جائز کرنے کے لیے اٹکل پچو باتیں کرتے ہیں ﴿اَمْ اٰتَيْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ﴾ (کیا ہم نے انہیں اس قرآن سے پہلے کوئی کتاب دی ہے جس سے وہ اس پر استدلال کرتے ہیں) یعنی مشرکین عرب کے پاس ہم نے قرآن مجید سے پہلے کوئی کتاب نازل نہیں کی اگر اس سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل کی جاتی اور اس میں شرک کی اجازت ہوتی تو اس کی دلیل میں پیش کرتے، ان کے پاس باپ دادوں کی تقلید کے علاوہ کچھ نہیں ہے، جب انہیں تنبیہ کی جاتی ہے کہ تم باطل پر ہو تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقہ پر پایا ہے ہم انہیں کے پیچھے چل رہے ہیں اور اسی کو ہدایت سمجھ رہے ہیں۔ دلائل صحیحہ قاہرہ کو نہ ماننا اور باپ دادوں کا اتباع کرنا دنیا میں پرانی رسم ہے اسی کو فرمایا ﴿ وَ كَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِيْ قَرْيَةٍ مِّنْ نَّذِيْرٍ ﴾ اور جس طرح یہ لوگ جواب دیتے ہیں یہی حال ان لوگوں کا تھا جن کی طرف ہم نے آپ سے پہلے ڈرانے والے بھیجے تھے ان کے خوشحال لوگوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقے پر پایا ہے اور انہیں کے پیچھے پیچھے چل رہے ہیں وہ ہمارے امام تھے، اور ہم ان کے مقتدی ہیں۔ لوگوں کی یہ جاہلانہ بات سورة بقرہ اور سورة مائدہ اور سورة لقمان میں بھی ذکر فرمائی سورة بقرہ میں ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا ﴿اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ شَيْـًٔا وَّ لَا يَهْتَدُوْنَ 00170﴾ (کیا اپنے باپ دادوں کا اتباع کریں گے اگرچہ وہ سمجھ نہ رکھتے ہوں اور ہدایت پر نہ ہوں) سورة لقمان میں فرمایا ﴿ اَوَ لَوْ كَان الشَّيْطٰنُ يَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَاب السَّعِيْرِ 0021﴾ (کیا اپنے باپ دادوں کا اتباع کریں گے اگرچہ شیطان انہیں دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا رہا ہو) خلاصہ یہ کہ باپ دادوں کی تقلید کوئی چیز نہیں، ہاں اگر وہ ہدایت پر ہوں تو ان کا اتباع کیا جائے گمراہی میں کسی کا بھی اتباع کرنا گمراہی ہے، اتباع اس کا کرے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت یافتہ ہو۔ كما قال تعالیٰ ﴿ اتَّبِعْ سَبِيْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَيَّ ﴾
Ayahs 43:21–24

اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ فَهُمْ بِهٖ مُسْتَمْسِكُوْنَ Open ayah 43:21 in the Quran reader

کیا ہم نے انہیں اس سے پہلے کتاب دی ہے جس سے وہ دلیل پکڑتے ہیں ؟

بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:22 in the Quran reader

بلکہ انہوں نے یوں کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقہ پر پایا ہے اور ہم ان کے طریقوں کے مطابق راہ یاب ہیں

وَ كَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ Open ayah 43:23 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے آپ سے پہلے جس کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا بھیجا تو اس کے خوشحال لوگوں نے یوں کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقہ پر پایا ہے اور ہم ان کے طریقوں کا اقتداء کرنے والے ہیں،

قٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْهِ اٰبَآءَكُمْ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:24 in the Quran reader

ان کے پیغمبر نے کہا کیا اگرچہ میں تمہارے پاس اس سے بڑھ کر ہدایت والی چیز لایا ہوں جس پر تم نے اپنے دادوں کو پایا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ جس چیز کو دے کر تم بھیجے گئے ہو ہم اس کے منکر ہیں،

﴿قٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى ﴾ (الآیۃ) سابقہ امتوں کی طرف جو نذیر بھیجے گئے ان کے مالدار لوگوں نے جو انہیں جواب دیا کہ ہم اپنے باپ دادا کے طریقے پر ہیں اسی کا اقتداء کرتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے حضرات نے سوال کیا کہ تم نے جن طریقوں پر اپنے دادوں کو پایا ہے اگر ہم اس سے بڑھ کر اور بہتر ہدایت لے کر آئے ہوں کیا پھر بھی تم اپنے باپ دادوں کا اتباع کرتے رہو گے اس پر ان لوگوں نے جواب دیا کہ تم جو کچھ لے کر آئے ہو ہم اسے نہیں مانتے جب ان لوگوں نے حق کو نہ مانا اور حضرات انبیاء کرام کی تکذیب کردی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب میں مبتلا فرما دیا ﴿ فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِيْنَ۠ (رح) 0025﴾ (سو ہم نے ان سے انتقام لے لیا سو دیکھ لیجیے جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا ؟ )
Ayahs 43:25–26

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 43:25 in the Quran reader

سو ہم نے ان سے انتقام لے لیا۔ سو دیکھ لیجیے جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا۔

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖۤ اِنَّنِیْ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 43:26 in the Quran reader

اور جب ابراہیم نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا کہ بلاشبہ میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا شرک سے برات کا اعلان فرمانا اور دعوت حق کا ان کی نسل میں باقی رہنا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بابل کے قریب مشرکین کے علاقے میں پیدا ہوئے تھے ان کے علاقہ کے لوگ بت پرست بھی تھے اور ستارہ پرست بھی، ان کا باپ بھی مشرک بت پرست تھا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو توحید کی دعوت دی لیکن ان لوگوں نے نہ مانا اور حق کو قبول نہ کیا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے واضح طور پر اعلان فرما دیا کہ میں تمہارے معبودوں سے بری اور بیزار ہوں، میں تو صرف اس ذات کی عبادت کرتا ہوں جس نے مجھے پیدا کیا اسی نے مجھے ہدایت دی اور مجھے ہدایت پر رکھے گا لفظ فَطَرَنِيْ میں تعریض ہے کہ تم لوگ حماقت کے کام میں لگے ہوئے ہو تمہیں بھی اسی نے پیدا کیا جس نے مجھے پیدا کیا لہٰذا پیدا کرنے والے کی عبادت کرو۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے شرک سے بیزاری کا اعلان کردیا اور اپنی بیوی کو لے کر فلسطین چلے گئے راستہ میں ایک اور بیوی بھی مل گئی (جس کی تفصیل سو رۃ الانبیاء میں بھی گزر چکی ہے) دونوں بیویوں سے اولاد ہوئی بنی اسماعیل اور بنی اسرائیل ان کی اولاد ہیں وہ جو انہوں نے کلمہ توحید کی دعوت دی اور شرک سے بیزاری کا اعلان کیا ان کی یہ بات ان کی اولاد میں بھی باقی رہی ہے جسے یہاں ﴿ وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِيَةً فِيْ عَقِبِهٖ ﴾ اور سورة بقرہ میں ﴿وَ وَصّٰى بِهَاۤ اِبْرٰهٖمُ بَنِيْهِ وَ يَعْقُوْبُ ﴾ میں بیان فرمایا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کلمہ توحید کی دعوت دی اور اسے اپنی نسل میں باقی رکھا تاکہ ان کی نسل کے لوگ شرک سے باز آئیں ﴿لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ 0028﴾ میں یہ بات بتائی ہے۔ قریش مکہ اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے اور شرک اختیار کیے ہوئے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو توحید پر جمنے کی وصیت فرما کر اپنی ذمہ داری پوری فرما دی تھی لیکن اہل عرب اکثر مشرک ہوگئے تھے پھر جب نبی عربی سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے توحید کی دعوت دی تو برس ہابرس کی محنت کے بعد قریش مکہ نے شرک چھوڑا اور توحید پر آگئے۔ فصلی اللّٰہ علی خلیلہ وحبیبہ۔
Ayahs 43:27–29

اِلَّا الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّهٗ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 43:27 in the Quran reader

سوائے اس ذات کے جس نے مجھے پیدا فرمایا، سو اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ مجھے ہدایت دیتا ہے،

وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:28 in the Quran reader

اور اس نے اپنے بعد میں آنے والی اولاد میں باقی رہنے والا کلمہ چھوڑ دیا تاکہ وہ باز آئیں،

بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى جَآءَهُمُ الْحَقُّ وَ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:29 in the Quran reader

بلکہ میں نے انہیں اور ان کے باپ دادوں کو سامان دے دیا یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور رسول مبین آگیا،

اس کے بعد فرمایا ﴿بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ ﴾ (الآیۃ) ان لوگوں کے پاس حق تو آگیا ہے لیکن قبول کرنے سے گریز کر رہے ہیں اس کا سبب یہ ہے کہ ان کو اور ان کے باپ دادوں کو میں نے دنیا کا سامان دے دیا یہ لوگ اس میں مشغول ہیں اس مشغولی نے ان کو یہاں تک پہنچا دیا کہ جب ان کے پاس حق آگیا اور رسول مبین یعنی محمد رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے جنہوں نے واضح طور پر توحید کی دعوت دے دی جسے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بعد میں آنے والوں کے لیے باقی رکھا تھا تب بھی حق کو قبول کرنے سے اعراض کر رہے ہیں۔
Ayah 43:30

وَ لَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ وَّ اِنَّا بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:30 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس حق آیا تو کہنے لگے کہ یہ جادو ہے اور بیشک ہم اس کے منکر ہیں۔

﴿وَ لَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ وَّ اِنَّا بِهٖ كٰفِرُوْنَ 0030﴾ (اور جب ان کے پاس حق آگیا تو کہنے لگے یہ جادو ہے ہم اسے نہیں مانتے) قرآن کو ان لوگوں نے جادو بتادیا اور اس کی دعوت حق کو ماننے سے منکر ہوگئے۔
Ayah 43:31

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ Open ayah 43:31 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے کہا کہ یہ قرآن دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا ؟

مکہ والوں کا جاہلانہ اعتراض کہ مکہ یا طائف کے بڑے لوگوں میں سے نبی کیوں نہ آیا، اہل دنیا کو دنیا ہی محبوب ہے، سونے چاندی کے اموال دنیا میں کام آتے ہیں اور آخرت متقیوں کے لیے ہے دنیا دار دنیا ہی کو بڑی چیز سمجھتے ہیں جس کے پاس دنیاوی مال و اسباب زیادہ ہوں یا چودھری قسم کا آدمی ہو کسی قسم کی سرداری اور بڑائی حاصل ہو اسی کو بڑا آدمی سمجھتے ہیں، خواہ کیسا ہی بڑا ظالم، خائن، سودخور، کنجوس مکھی چوس ہو، جب کسی بستی یا محلہ میں داخل ہو اور دریافت کرو کہ یہاں کا بڑا آدمی کون ہے تو وہاں کے رہنے والے کسی ایسے ہی شخص کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو مالدار اور صاحب اقتدار ہو، اخلاق فاضلہ والے انسان، اللہ کے عبادت گزار بندے، علوم و معارف کے حاملین کی بڑائی کی طرف لوگوں کا ذہن جاتا ہی نہیں، عموماً انسانوں کا یہی مزاج اور حال رہا ہے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق فاضلہ اور خصائل حمیدہ کے سب معتقد اور معترف تھے لیکن جب آپ نے اپنی نبوت اور رسالت کا اعلان کیا تو جہاں تکذیب اور انکار کے لیے لوگوں نے بہت سے بہانے ڈھونڈے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ آپ پیسے والے آدمی نہیں اور آپ کو دنیاوی اعتبار سے کوئی اقتدار بھی حاصل نہیں لہٰذا آپ کیسے نبی اور رسول ہوگئے ؟ اگر اللہ کو رسول بھیجنا ہی تھا اور قرآن نازل کرنا ہی تھا تو شہر مکہ یا شہر طائف کے بڑے آدمیوں میں سے کسی شخص کو رسول بنانا چاہیے تھا وہی رسول ہوتا اسی پر قرآن نازل ہوتا اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے شخص کو رسول بنایا جو پیسہ کوڑی کے اعتبار سے برتر نہیں اور جسے کوئی اختیار اور اقتدار کی برتری حاصل نہیں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔ معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ ان لوگوں کا اشارہ ولید بن مغیرہ اور عروہ بن مسعود ثقفی کی طرف تھا پہلا شخص اہل مکہ میں اور دوسرا شخص اہل طائف میں سے تھا یہ دونوں دنیاوی اعتبار سے بڑے سمجھے جاتے تھے ان ناموں کی تعیین میں اور بھی اقوال ہیں اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان لوگوں کی بات کی تردید فرمائی اور جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ اَهُمْ يَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ 1ؕ﴾ (کیا یہ لوگ آپ کے رب کی رحمت یعنی نبوت کو تقسیم کرتے ہیں) یہ استفہام انکاری ہے مطلب یہ ہے کہ انہیں کیا حق ہے کہ منصب نبوت کو اپنے طور پر کسی کے لیے تجویز کریں رسول بنانے کا اختیار انہیں کس نے دیا ہے کہ یہ جس کے لیے چاہیں عہدہ نبوت تجویز کریں اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے اللہ بندوں میں سے جسے چاہے نبوت و رسالت سے سرفراز فرمائے وہ جسے منصب نبوت عطا فرماتا ہے اسے ان اوصاف سے متصف فرما دیتا ہے جن کا نبوت کے لیے ہونا ضروری ہے سورة انعام میں فرمایا ﴿اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ 1ؕ﴾ (اللہ خوب جاننے والا ہے اپنے پیغام کو جہاں بھیجے) ان لوگوں کو نہ کسی کو نبی بنانے کا اختیار ہے نہ نبی کے اوصاف تجویز کرنے کا۔ پھر فرمایا ﴿ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَّعِيْشَتَهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا﴾ (ہم نے ان کے درمیان معیشت یعنی زندگی کا سامان دنیا والی زندگی میں بانٹ دیا) ﴿ وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ﴾ (اور درجات کے اعتبار سے ہم نے بعض کو بعض پر فوقیت دے دی) کسی کو غنی بنایا کسی کو فقیر کسی کو مالک اور کسی کو مملوک ﴿لِّيَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِيًّا 1ؕ﴾ تاکہ بعض لوگ بعض لوگوں کو اپنے کام میں لاتے رہیں) اگر سبھی برابر کے مالدار ہوتے تو کوئی کسی کا کام کیوں کرتا، اب صورت حال یہ ہے کہ کم پیسے والے مالداروں کے باغوں اور کھیتوں اور کارخانوں میں کام کرتے ہیں اور طرح طرح کے کاموں کی خدمت انجام دیتے ہیں اس طرح سے عالم کا نظام قائم ہے مالدار کام لیتے ہیں کم پیسے والے مزدوری لیتے ہیں دنیا اس طرح چل رہی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ شانہٗ نے دنیاوی معیشت کو انسانوں کی رائے پر نہیں رکھا جو ادنیٰ درجہ کی چیز ہے اور اپنی حکمت کے موافق بندوں کی مصلحتوں کی رعایت فرماتے ہوئے خود ہی مال تقسیم فرما دیا تو نبوت کا منصب کسی کو لوگوں کی رائے کے موافق کیسے دے دیا جاتا، جو بہت ہی بلند وبالا چیز ہے۔ قال القرطبی فاذا لم یکن امر الدنیا الیھم فیکف یفوض امرا لنبوةالیہ، ﴿وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ 0032﴾ (علامہ قرطبی ؓ فرماتے ہیں جب دنیا کا معاملہ ان کے سپرد نہیں تو نبوت اس کے اختیار میں کیسے دی جاسکتی ہے اور آپ کے رب کی رحمت اس سے بہتر ہے جو یہ لوگ جمع کرتے ہیں) یعنی جن لوگوں کو دنیاوی چیزیں دی گئی ہیں وہ انہیں جمع کرنے سمیٹنے میں لگے ہوئے ہیں انہیں سمجھنا چاہیے کہ پروردگار جل مجدہٗ کی رحمت یعنی جنت اور وہاں کی نعمتیں اس سے بہتر ہیں۔
Ayahs 43:32–33

اَهُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا١ؕ وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 43:32 in the Quran reader

کیا وہ آپ کے رب کی رحمت کو تقسیم کرتے ہیں۔ ہم نے ان کے درمیان دنیا والی زندگی میں ان کی معیشت تقسیم کر رکھی ہے، اور ہم نے بعض کو بعض پر درجات کے اعتبار سے فوقیت دی ہے تاکہ ان میں سے ایک دوسرے سے کام لیتا رہے، اور آپ کے رب کی رحمت اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں،

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَۙ Open ayah 43:33 in the Quran reader

اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ سب لوگ ایک ہی طریقہ پر ہوجائیں گے تو ہم ان لوگوں کے لیے جو رحمان کے ساتھ کفر کرتے ہیں ان کے گھروں کی چھتوں کو چاندی کی کردیتے اور زینے بھی جن پر وہ چڑھتے ہیں

﴿وَ لَوْ لَاۤ اَنْ يَّكُوْنَ النَّاسُ ﴾ (الآیۃ الثلٰٓث) ان تینوں آیتوں میں دنیا کی حقارت بیان فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ ایک ہی طریقہ اختیار کرلیں گے اور ایک ہی جماعت بن جائیں گے یعنی دنیا کی رغبت رکھنے کی وجہ سے عام طور سے لوگ کفر ہی اختیار کرلیں گے تو ہم کافروں کو اتنا سونا چاندی دیتے کہ ان کے گھروں کی چھتیں اور ان کے زینے اور سیڑھیاں جن کے ذریعے وہ اوپر چڑھتے ہیں اور ان کے گھروں کے دروازے اور ان کے تخت جن پر تکیہ لگا کر بیٹھے ہیں ان سب کو سونے چاندی کا بنا دیتے انسان کا مزاج چونکہ دنیا کی چیزوں کو ترجیح دیتا ہے اس لیے یہ دیکھ کر کہ کافر ہونے میں دولت ملتی ہے ایمان قبول نہ کرتے اور کفر کو اختیار کیے رہتے اس لیے ایسا نہیں کیا گیا کہ مال و دولت صرف کافروں ہی کو دیا جائے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ایسا نظام رکھا ہے کہ اہل ایمان بھی مالدار رکھے ہیں اور کافروں میں بھی اور دونوں جماعتوں میں تنگدست بھی ہیں اور فقیر بھی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا بہت ہی زیادہ حقیر ہے حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ بھیڑ کے ایک بچہ کے پاس سے گزرے جو مرا ہوا تھا اور اس کے کان بھی کٹے ہوئے تھے اس کو دیکھ کر آپ ﷺ نے حاضرین سے فرمایا کہ تم میں سے کون شخص یہ پسند کرتا ہے کہ ایک درہم کے عوض اس کو لے لے ؟ حاضرین نے عرض کیا کہ اسے تو ہم مفت میں لینا بھی پسند نہیں کرتے ! آپ نے فرمایا اللہ کی قسم اللہ کے نزدیک پوری دنیا اس سے زیادہ ذلیل ہے جتنا یہ (بھیڑ کا مرا ہوا بچہ) تمہارے نزدیک ذلیل ہے۔ (رواہ مسلم) حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر دنیا اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو کافر کو ایک گھونٹ پانی بھی نہ پلاتا۔ (رواہ احمد والترمذی وابن ماجہ کما فی المشکوٰۃ ص 441) اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا اتنی زیادہ ذلیل ہے اگر وہ اسے اپنے دشمنوں کو بھی دیدے تو اس میں کیا تعجب کی بات ہے پھر کافر بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں انہیں آخرت میں کوئی نعمت نہیں ملتی لہٰذا انہیں دنیا میں بہت کچھ دے دیا جاتا ہے مومن بندوں کا کافروں کی دنیا دیکھ کر رال ٹپکانا مومنانہ سمجھداری کے خلاف ہے۔ حضرت شداد ؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ اے لوگو ! یہ بات بلاشک و شبہ ہے کہ دنیا ایک سامان ہے جو سب کے سامنے حاضر ہے اس میں سے نیک و بد سب کھاتے ہیں اور بلاشبہ آخرت کا وعدہ سچا ہے اس میں وہ بادشاہ فیصلہ کرے گا جو عادل ہے قادر ہے وہ حق ثابت فرمائے گا اور باطل کو باطل کردے گا تم آخرت کے بیٹے بنو اور دنیا کے بیٹے مت بنو کیونکہ ہر ماں کا بچہ اس کے پیچھے پیچھے جاتا ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح 445) قولہ تعالیٰ ﴿وَ زُخْرُفًا﴾ قال القرطبی الزخرف ھنا الذھب والنتصب زُخْرُفًا علی معنی وجعلنا لھم مع ذلک زخرفًا : وقیل بنزع الخافض والمعنی فجعلنا لھم سُقُفًا وابوابا وسررًا من فضة ومن ذھب فلما حذف ” من “ قال ﴿وَ زُخْرُفًا﴾ فنصب (اللہ تعالیٰ کا قول زخرفًا کے بارے میں علامہ قرطبی ؓ فرماتے ہیں یہاں زخرف سے مراد سونا ہے اور زخرفًا اس لیے منصوب ہے کہ معنی یہ بنے گا اور ہم نے ان کے لیے اس کے علاوہ سونا بنایا ہے۔ بعض نے کہا حرف جر کے محذوف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے معنی اس طرح ہے کہ ہم نے ان کے لیے چھتیں، دروازے اور تخت چاندی و سونے کے بنائے بھی (من ذھب) جب من حذف کیا تو زخرفًا کو نصب دے دی گئی۔
Ayahs 43:34–35

وَ لِبُیُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیْهَا یَتَّكِئُوْنَۙ Open ayah 43:34 in the Quran reader

اور گھروں کے لیے دروازے بھی اور تخت بھی جن پر وہ تکیہ لگاتے ہیں

وَ زُخْرُفًا١ؕ وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 43:35 in the Quran reader

اور سونے کے لیے بھی، اور یہ سب کچھ صرف دنیا والی زندگی کا سامان ہے۔ اور آپ کے رب کے پاس آخرت متقیوں کے لیے بہتر ہے۔

﴿وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا 1ؕ﴾ (اور یہ سب دنیا والی زندگی کے سامان کے سوا کچھ نہیں دنیا حقیر ہے اور فانی ہے یہ چیزیں بھی حقیر ہیں اور فانی ہیں۔ ﴿وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِيْنَ (رح) 0035﴾ (اور آخرت یعنی اس کی باقی رہنے والی نعمتیں آپ کے رب کے نزدیک متقین کے لیے ہیں) وہ وہاں ان سے متمتع ہوں گے اور وہ نعمتیں دائمی ہوں گی۔
Ayah 43:36

وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ Open ayah 43:36 in the Quran reader

اور جو شخص رحمن کی نصیحت سے اندھا بن جائے ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں، سو وہ اس کے ساتھ رہتا ہے

جو رحمٰن کے ذکر سے غافل ہو اس پر شیطان مسلط کردیا جاتا ہے، قیامت کے دن اس سے کچھ فائدہ نہ پہنچے گا کہ دوسروں کو بھی تو عذاب ہو رہا ہے، آپ ﷺ کی زندگی میں بھی ان پر عذاب آسکتا ہے لفظ ﴿یَعْشُ﴾ عَشیٰ یَعْشَوْ سے ﴿یَدْعُوْ﴾ کے وزن پر مضارع کا صیغہ ہے من شرطیہ داخل ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے جس کی وجہ سے واؤ حذف ہوگیا اس کا لغوی معنی یہ ہے کہ آنکھوں میں کوئی بیماری نہ ہو تب بھی نظر نہ آئے اور بعض حضرات نے اس کا یہ معنی بتایا ہے کہ نظر کمزور ہوجائے جس سے اچھی طرح نظر نہ آئے آیت کا مطلب یہ ہے بہت سے لوگوں کے پاس حق آیا اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصیحت آئی یعنی انہوں نے قرآن کو سنا اور سمجھا لیکن قصداً و ارادۃً اس کی طرف سے اندھے بن گئے جو لوگ اس طریقے کو اختیار کرلیتے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر ایک شیطان مسلط کردیا جاتا ہے اب یہی شیطان ان کا ساتھی بنا رہتا ہے اور ان کو حق قبول نہیں کرنے دیتا اور حق پر نہیں آنے دیتا یہ شیاطین جو اس قسم کے لوگوں کے ساتھی بن جاتے ہیں ان گمراہی اختیار کرنے والے لوگوں کو راہ حق سے روکتے رہتے ہیں اور یہ لوگ جن کے ساتھی شیاطین بن جاتے ہیں راہ حق سے ہٹ جانے اور گمراہی میں پڑجانے کے باوجود یہی سمجھتے رہتے ہیں کہ ہم ہدایت پر ہیں، یہ شیطان اس قرین کے علاوہ ہے جس کا حدیث شریف میں ذکر ہے کہ تم میں سے ہر ایک کے ساتھ ایک قرین فرشتہ اور ایک قرین شیطان مقرر ہے۔ (رواہ مسلم) ان گمراہوں کی دنیا میں تو شیاطین سے دوستی ہے لیکن جب قیامت کے دن حاضر ہوں گے تو گمراہ ہونے والا آدمی اپنے ساتھی یعنی شیطان سے کہے گا کہ تو نے میرا ناس کھویا کاش دنیا میں میرے اور تیرے درمیان اتنا فاصلہ ہوتا جتنا مغرب اور مشرق کے درمیان ہے تو میرا برا ساتھی تھا تو نے مجھے گمراہ کیا اور کفر و شرک اور برے اعمال کو اچھا کرکے بتایا۔ كما فی السورۃ حم السجدہ ﴿وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَيَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ ﴾ (اور ہم نے ان کے لیے کچھ ساتھ رہنے والے مقرر کر رکھے تھے سو انہوں نے ان کے اگلے پچھلے اعمال ان کی نظر میں اچھے بنا کر دکھا رکھے تھے۔ ) دنیا میں تو گمراہوں کا دوستانہ تھا شیاطین بھی کافر تھے اور جن انسانوں کو بہکاتے تھے وہ بھی ان کے بہکانے کی وجہ سے کفر پر جمے رہتے تھے پھر جب قیامت کے دن موجود ہوں گے تو سب کو دوزخ میں ڈال دیا جائے گا وہاں ایک دوسرے کو عذاب میں دیکھیں گے لیکن اس بات سے کسی کو کچھ نفع نہ ہوگا کہ سب دوزخ میں ہیں اور سب عذاب میں ہیں یعنی جس طرح دنیا میں ایک دوسرے کو مصیبت میں دیکھ کر تسلی ہوجاتی ہے کہ ہم تنہا مصیبت میں نہیں ہیں، دوسرے لوگ بھی اس مصیبت میں مبتلا ہیں جو ہم پر آئی ہے وہاں اس بات سے کسی کو کچھ نفع نہ ہوگا کہ سب عذاب میں شریک ہیں کیونکہ وہاں کا عذاب بہت سخت ہے۔ دنیا میں جو بہت سے لوگوں کو ایمان کی دعوت دی جاتی ہے تو حق کو جانتے اور پہچانتے ہوئے اسلام قبول نہیں کرتے اور نفس و شیطان ان کو یہ سمجھا دیتا ہے کہ اور بھی تو کروڑوں ایسے لوگ ہیں جو مسلمان نہیں ہیں جو ان کا حال ہوگا وہی ہمارا ہوجائے گا ایسے لوگوں کو بتادیا کہ عذاب میں پڑنے والوں کے ساتھ عذاب میں جانا یہ کوئی سمجھداری نہیں ہے جب سب عذاب میں جائیں گے تو یہ دیکھ کر کچھ فائدہ نہ ہوگا کہ دوسرے لوگ بھی عذاب میں ہیں۔ بہت سے وہ لوگ جو مسلمان ہونے کے دعویدار ہیں ان کا بھی یہ طریقہ ہے کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ فرائض انجام دو ، حرام سے بچو اور گناہوں کو چھوڑو تو کہہ دیتے ہیں کہ اور کون شریعت پر چل رہا ہے جو ہم چلیں، یہ جاہلانہ جواب ہے یہاں تو گنہگاروں کی جماعت میں شریک ہونا نفس کو اچھا لگ رہا ہے لیکن روز قیامت جب گنہگاروں کی صف میں کھڑے ہوں گے اور عذاب میں مبتلا ہوں گے اس وقت اس بات سے کسی کو کچھ فائدہ نہ ہوگا کہ ہم بھی عذاب میں ہیں تو کیا ہوا اور ہزاروں آدمی بھی تو عذاب میں ہیں اس بات کا خیال کرنے سے کسی کا عذاب ہلکا نہیں ہوجائے گا۔
Ayahs 43:37–40

وَ اِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:37 in the Quran reader

اور بلاشبہ وہ ان کو راستہ سے روکتے ہیں، اور یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں،

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ Open ayah 43:38 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہمارے پاس آئے گا تو کہے گا کہ اے کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق اور مغرب والی دوری ہوتی سو تو برا ساتھی تھا،

وَ لَنْ یَّنْفَعَكُمُ الْیَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّكُمْ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 43:39 in the Quran reader

اور جب تم نے ظلم کیا تو آج تمہیں یہ بات ہرگز نفع نہ دے گی کہ تم عذاب میں شریک ہو،

اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ اَوْ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ مَنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 43:40 in the Quran reader

کیا آپ بہروں کو سنا دیں گے یا اندھوں کو ہدایت دے دیں گے اور ان لوگوں کو جو صریح گمراہی میں ہیں،

﴿اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ ﴾ (الآیۃ) کیا آپ بہروں کو سنا سکتے ہیں یا اندھوں کو راہ پر لاسکتے ہیں جو صریح گمراہی میں ہیں اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ جو لوگ بہرے اور اندھے ہیں اور صریح گمراہی میں ہیں آپ انہیں ہدایت پر نہیں لاسکتے یعنی ان کو ہدایت دینا آپ کے اختیار سے خارج ہے اور آپ اپنی دعوت کا کام جاری رکھیں آپ کی اتنی ہی ذمہ داری ہے۔