43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsانوار البیان

Ayah 43:1
(43:1) حم : حرف مقطعات ہیں۔
Ayah 43:2

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 43:2 in the Quran reader

کتاب روشن کی قسم

(43:2) والکتب المبین واؤ قسمیہ ہے الکتب المبین ۔ موصوف و صفت مل کر مقسم بہٖ ۔ اور اگلی آیت میں قرانا عربیا مقسم علیہ۔ قسم ہے قرآن مبین کی۔ الکتب سے مراد قرآن مجید ہے جیسا کہ اگلی آیت سے واضح ہے۔ مبین اسم فاعل واحد مذکر ابانۃ باب افعال سے مصدر ۔ یہ لفظ لازم و متعدی دونوں صورتوں میں استعمال ہوتا ہے بمعنی ظاہر یا ظاہر کرنے والا۔ پہلی صورت میں مطلب ہوگا :۔ اس کتاب کی قسم جو بالکل واضح ظاہر اور روشن ہے یعنی اس کے مطالب و معارف بالکل عیاں اور شک و شبہ سے بالا تر ہیں۔ اور متعدی ہونے کی صورت میں اس کا مطلب ہوگا : اس کتاب کی قسم جو حق و باطل کو اواضح کرنے والی ہے یہاں یہ دونوں صفات اس کتاب میں پائی جاتی ہیں یہ کتاب بذات خود بڑی واضح اور روشن ہے اور حو ق باطل کو نمایاں اور آشکارا کرنے والی ہے۔
Ayah 43:3

اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 43:3 in the Quran reader

کہ ہم نے اس کو قرآن عربی بنایا ہے تاکہ تم سمجھو

(43:3) جعلنہ : جعلنا ماضی کا سیغہ جمع متکلم جعل باب فتح مصدر۔ بمعنی کرنا ۔ بنانا۔ ٹھہرانا وغیرہ۔ یہ لفظ مندرجہ ذیل پانچ طرح پر استعمال ہوتا ہے :۔ (1) بمعنی صار ، طفق : اس صورت میں یہ بطور فعل لازم کے آتا ہے مثلا جعل زید یقول کذا زید یوں کہنے لگا۔ (2) بمعنی اوجد (یعنی ایجاد یا پیدا کرنا۔ اس صورت میں یہ فعل متعدی بیک مفعول استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً وجعل الظلمت والنور (6:1) اور اس نے اندھیرے اور روشنی بنائی۔ (3) ایک شے کو دوسری شے سے پیدا کرنا اور بنانا۔ مثلا وجعل لکم من انفسکم ازواجا (42:11) اس نے تمہارے لئے تمہار ہی جنس سے جوڑے بنائے ۔ (4) بمعنی تصییر۔ یعنی کسی شے کو ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل کرنا۔ جیسے الذی جعل لکم الارض فراشا واسلامء بناء (2:22) جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا۔ اور آسمان کو چھت۔ یا انا جعلنہ قرانا عربیا (آیت ہذا) بیشک ہم نے اس کو قرآن عربی بنایا۔ (5) کسی چیز پر کسی چیز کے ساتھ حکم لگانا عام اس سے کہ وہ حکم حق ہو یا باطل۔ (ا) حق کی مثال :۔ انا رادوہ الیک وجاعلوہ من المرسلین (28:7) ہم اس کو تمہارے پاس واپس پہنچا دیں گے اور (پھر) اسے پیغمبر بنادیں گے۔ (ب) باطل کی مثال :۔ وجعلوا للّٰہ مما زراء من الحرث والانعام نصیبا (6:36) اور (یہ لوگ) خدا ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں سے یعنی کھیتوں اور چوپائیوں سے خدا کا بھی ایک حصہ مقرر کرتے ہیں۔ (راغب) ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب اس کا مرجع الکتب ہے۔ قرنا عربیا موصوف و صفت مل کر جعلنا کا مفعول ۔ بمعنی قرآن بزبان عربی۔ لعلکم تاکہ تم۔ لعل اصل میں حرف ترجی ہے۔ بمعنی شاید کہ۔ امید ہے کہ :۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے حاکمانہ و شاہانہ طرف کلام کے مطابق یہ لفظ تعلیل و تحقیق کے لئے استعمال فرمایا ہے ۔ بمعنی کی۔ جیسا کہ آیت ہذا میں آیا ہے کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ تعقلون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ عقل (باب ضرب) مصدر سے (تاکہ) تم (اسکے مطالب کو) سمجھو۔ یہ آیت جواب قسم ہے۔
Ayah 43:4

وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌؕ Open ayah 43:4 in the Quran reader

اور یہ بڑی کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں ہمارے پاس (لکھی ہوئی اور) بڑی فضیلت اور حکمت والی ہے

(43:4) انہ فی ام الکتب۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع الکتب (آیت نمبر 2) ام الکتب مضاف مضاف الیہ۔ بمعنی تمام کتابوں کی ماں۔ یا اصل۔ اس سے مراد لوح محفوظ ہے۔ جیسا کہ اور جگہ فرمایا بل ھو قرآن مجید فی لوح محفوظ (85:21-23) بلکہ یہ قرآن مجید ہے لوح محفوظ میں (لکھا ہوا) ۔ لدینا : لدی مضاف نا ضمیر جمع متکلم مضاف الیہ۔ ہمارے پاس ، ہمارے نزدیک اللہ کے پاس ہونا بےکیف اور تصور مکانیت سے پاک پے (قرب الٰہی نہ مکانی ہے نہ کسی جسمانی کیفیت کا حامل) بعض کے نزدیک لدینا سے پہلے محفوظا کا لفظ محذوف ہے یعنی قرآن ہمارے پاس تغیر سے محفوظ ہے۔ لعلی حکیم : لام تحقیق کے لئے ہے ۔ علی حکیم قرآن مجید کی صفات ہیں۔ علی بڑے رتبے والا۔ کسی کا ادراک وہاں تک نہیں پہنچ نہیں سکتا۔ یا اس کا یہ مطلب ہے کہ تمام آسمانی کتابوں میں اس کی شان بلند ہے۔ حکیم حکمت سے بھرا ہوا۔ یا محکم جس کو کوئی کتاب منسوخ نہیں کرسکتی (نیز ملاحظہ ہو 42:51)
Ayah 43:5

اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ Open ayah 43:5 in the Quran reader

بھلا اس لئے کہ تم حد سے نکلے ہوئے لوگ ہو ہم تم کو نصیحت کرنے سے باز رہیں گے

(43:5) افنضرب عنکم الذکر صفحا : ہمزہ استفہام انکاری کا ہےعطف کے لئے۔ نضرب عن : جب کوئی شخص کسی چیز سے منہ پھیر لے اور اسے نظر انداز کر دے۔ تو عرب کہتے ہیں کہ ضربت عنہ میں نے اس کو چھوڑ دیا۔ میں اس سے رک گیا۔ صفحا : صفح کا معنی ہے گردن کا ایک پہلو کسی کی طرف کردینا۔ (یعنی گردن پھیرلینا) صفحا مفعول مطلق من غیر لفظہ ہے۔ پہلو پھیرنا۔ دور ہوجانا۔ روگردان ہونا۔ یا صفحا مفعول مطلق ہے نضرب کا۔ جیسے قعدت جلوسا ہے۔ راغب نے لکھا ہے کہ صفح باب فتح کے معنی ترک تثریب۔ یعنی الزام یا اولاہنا چھوڑ دینے کے ہیں اور یہ فعو سے زیادہ بلیغ ہے جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے فاعفوا واصفحوا حتی یاتی اللّٰۃ بامرہ (2:109) سو تم درگزر کرو اور خیال میں نہ لاؤ جب تک بھیجے اللہ اپنا حکم ۔ اور یہ امر واقعہ ہے کہ کبھی انسان معاف تو کردیتا ہے لیکن الزام دینے نہیں چھوڑتا۔ الذکر : ذکر کے معنی پندو نصائح الذکر سے یہاں مراد قرآن اور اس کے پند و نصائح ہیں۔ ان کنتم قوما مسرفین : ان مصدریہ ہے مسرفین اسم فاعل جمع مذکر اسراف (افعال) سے جس کے معنی ہیں حد اعتدال سے تجاوز کرنا۔ مطلب یہ کہ :۔ تمہارے ایک حد سے تجاوز کرنے والی قوم ہونے پر کیا ہم تم کو نظر انداز کردیں گے اور قرآن عظیم اور اس میں مذکور فرائض و واجبات جن کی تعمیل تم پر لازمی ہے ان سے تم کو مطلع نہیں کریں گے۔ (ہمزہ استفہام انکاری کے داخل ہونے سے مطلب یہ ہوگیا کہ :۔ نہیں ہم تمہیں نظر انداز نہیں کریں گے اور اس ذکر عظیم (قرآن مجید) اور اس کے احکام سے تم کو ضرور مطلع کرتے رہیں گے) ۔
Ayah 43:6

وَ كَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:6 in the Quran reader

اور ہم نے پہلے لوگوں میں بھی بہت سے پیغمبر بھیجے تھے

(43:6) کم : دو طرح استعمال ہوتا ہے۔ (1) سوالیہ استفہام کے لئے۔ مقدار یا تعداد کو ظاہر کرنے کے لئے جیسے کم درھما عندک۔ تیرے پاس کتنے درہم ہیں ؟ (2) خبریہ :۔ جو مقدار کی پیشی اور تعداد کی کثرت کو ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اس صورت میں یہ من کے صلہ کے ساتھ بھی اور اس کے بغیر بھی آتا ہے۔ اس جملہ میں کم خبر یہ ہے۔ کم من نبی بہت سے نبی۔ فی الاولین۔ پہلے لوگوں کی طرف۔ ہم پہلے لوگوں کی طرف بہت سے نبی بھیجتے رہے ہیں۔
Ayah 43:7

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 43:7 in the Quran reader

اور کوئی پیغمبر ان کے پاس نہیں آتا تھا مگر وہ اس سے تمسخر کرتے تھے

(43:7) وما یاتیہم من نبی۔ واؤ عاطفہ ما نافیہ ہے۔ یاتی مضارع واحد مذکر غائب ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب کا مرجع الاولین ہے (مضارع کو استعمال کرکے ماضی کا حال بیان ہوا ہے) الا حرف استثناء کانوا یستھزء ون ماضی استمراری جمع مذکر غائب استھزاء (استفعال) مصدر سے بہ میں ہ ضمیر کا مرجع نبی ہے ان لوگوں کے پاس (کبھی) کوئی ایسا نبی نہیں آتا تھا جس کا انہوں نے مذاق نہ اڑایا ہو
Ayah 43:8

فَاَهْلَكْنَاۤ اَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَّ مَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:8 in the Quran reader

تو جو ان میں سخت زور والے تھے ان کو ہم نے ہلاک کردیا اور اگلے لوگوں کی حالت گزر گئی

(43:8) فاہلکنا اشد منھم بطشاسببیہ ہے اہلکنا ماضی جمع متکلم۔ اہلاک (افعال) مصدر اشد افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ قوی تر۔ نہایت قوی منھم میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب المسرفین المخاطبین کی طرف راجع ہے جس سے مراد مکہ کے مسرفین ہیں بطشا بوجہ تمیز منصوب ہے۔ بطش بمعنی قوت، سختی۔ پکڑ، گرفت، مصدر بدیں سبب ہم نے ان لوگوں کو جو ان (موجودہ مخاطبین) سے بھی زیادہ زور آور تھے غارت کر ڈالا۔ فاہلکنا قوما اشد بطشا من کفار مکۃ الذین کذبوا نبینا بسبب تکذیبھم رسلہم فلیحذر الذین کذبوک ان نھلکہم بسبب ذلک کما اہلکنا الذین کانوا اشد منھم بطشا ای اکثر منھم عددا وعددا وجلدا (اضواء البیان) پس ہم نے ان لوگوں کو جو ہمارے نبی کی تکذیب کر رہے ہیں ان سے بھی زیادہ طاقتور اور شہ زور تھے ہلاک کر ڈالا۔ کیونکہ انہوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی تھی سو (اے نبی علیہ السلام) ان کفارکو جو آپ کی تکذیب کر رہے ہیں ان کو بچنا چاہیے کہ ہم اس تکذیب کے سبب ان کو بھی ہلاک نہ کریں۔ جیسا کہ ہم نے ان سے زیادہ طاقت ور لوگوں کو (ایسے ہی قصور پر) ہلاک کردیا تھا۔ جو تعدادی لحاظ دے۔ سامان حرب کے لحاظ سے۔ اور ہمت و استقلال کے لحاظ سے ان سے کہیں بڑے تھے۔ ومضی مثل الاولین۔ واؤ عاطفہ ہے مضی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب مضی (باب ضرب) مصدر وہ گذر گیا۔ مضو (باب نصر) مصدر سے بھی اسی معنی میں آتا ہے مثل اسم مفرد امثال جمع حالت اور اگلے لوگوں کی (یہ) حالت (انسے پہلے) گزر چکی ہے۔ فائدہ : مثل قرآن مجید میں مندرجہ ذیل معانی میں آیا ہے۔ (1) جس جگہ مثل مرفوع آیا ہے اور اس کے بعد کمثل بھی آیا ہے۔ یعنی ممثل اور ممثل بہ دونوں مذکور ہیں تو مثل سے مراد صفت اور حالت ہے۔ (2) اگر لفظ مثل مرفوع مذکور ہے اور اس کے بعد کمثل نہیں ہے تو اس کا معنی بھی صفت ہے۔ ماسوائے آیت ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ ولما یاتکم مثل الذین خلوا من قبلکم (2:214) کے جہاں اس سے شبہ یعنی تشبیہی قصہ مراد ہے۔ ترجمہ :۔ کیا تم یہ گمان رکھتے ہو کہ جنت میں داخل ہوجاؤ گے درآں حالیکہ ابھی تم پر ان لوگوں کے حالاے جیسے حالات پیش نہیں آئے۔ (3) اگر مثل منصوب ہے خواہ اس کے بعد کمثل ہے یا نہیں بہرحال مثل سے مراد ہے صفت اور حالت۔ (4) اگر مثل مجرور بمعنی تنوین کے ہے وہ نادر معنی مراد ہے جو ندرت میں کہا وت کی طرح ہوگیا ہے صرف آیت ولایاتونک بمثل الا جئنک بالحق واحسن تفسیرا (25:33) اور یہ لوگ جیسا بھی عجیب سوال آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں ہم اس کا جواب ٹھیک اور وضاحت میں بڑھا ہوا آپ کو بتاتے ہیں۔ میں مثل کا معنی ہے اعتراض اور سوال عجیب۔ (5) اگر مثل مجرور بغیر تنوین کے ہو تو تشبیہی قصہ مراد ہے۔ (6) اور اگر المثل معرف باللام ہے اور ایسا حرف دو جگہ آیا ہے تو اس سے مراد ہے عظیم الشان صفت۔ (ماخوذ از لغات القرآن)
Ayah 43:9

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 43:9 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو کہہ دیں گے کہ ان کو غالب اور علم والے (خدا) نے پیدا کیا ہے

(43؛9) ولئن واؤ عاطفہ ہے لام تاکید کے لئے ہے ان حرف شرط۔ سألتہم صیغہ واحد مذکر حاضر۔ نبی کریم ﷺ مراد ہیں۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب اہل مکہ کے مسرفین المشرکین مراد ہیں سارا جملہ شرط ہے اور اگلا جملہ لیقولن ۔۔ العلم جواب شرط ہے۔ لیقولن لام جواب شرط کے لئے ہے۔ لیقولن مضارع تاکید بانون ثقیلہ صیغہ جمع مذکر غائب وہ ضرور کہیں گے۔ خلقھن : ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب السموت والارض کی طرف راجع ہے۔ العزیز : عزۃ سے فعیلن کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے۔ زبردست، غالب، گرامی قدر۔ العلیم : فعلین کے وزن پر علم سے مبالغہ کا صیغہ ہے، بہت بڑا دانا۔ خوب جاننے والا۔ دونوں اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہیں
Ayah 43:10

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ Open ayah 43:10 in the Quran reader

جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا اور اس میں تمہارے لئے راستے بنائے تاکہ تم راہ معلوم کرو

(43:10) فائدہ : آگے آیات 10-11-12 ۔ میں اس ذات العزیز العلیم کی صفات بیان فرمائی ہیں۔ مھدا مصدر ہے (باب فتح) بستر بچھانا۔ ٹھکانا بنانا۔ مھاد جمع امھدۃ و مھد : بستر، ہموار زمین۔ فرش، جیسا کہ فرمایا : وجعل لکم الارض فراشا (2:22) جس نے زمین کو تمہارے لئے بچھونا بنایا۔ لکم میں ضمیر جمع مذکر حاضر۔ مفعول لہ جعل کا۔ الارض مفعول ثانی۔ سبلا۔ راستے سبیل کی جمع جعل کا مفعول ثالث۔ فیہا میں ضمیر واحد مؤنث غائب مفعول فیہ الارض کی طرف راجع ہے۔ لعلکم تھتدون : تاکہ ان راستوں پر چل کر اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکو۔ فائدہ : (2) زمین کے سارے جغرافیائی تغیرات جن سے انسان کو مدد مل سکتی ہے اس کے تحت میں آگئے۔
Ayah 43:11

وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ١ۚ فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ۚ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ Open ayah 43:11 in the Quran reader

اور جس نے ایک اندازے کے ساتھ آسمان سے پانی نازل کیا پھر ہم نے اس سے شہر مردہ کو زندہ کیا اسی طرح تم (زمین سے) نکالے جاؤ گے

(43:11) بقدر۔ بقدر حاجت۔ مقررہ مقدار میں۔ اندازہ کے مطابق : ق د ر مادہ۔ اس مادہ سے مختلف مصادر سے مختلف معانی آتے ہیں۔ نیز قدر بمعنی کسی پر تنگی کردینے کے معنی میں آتا ہے۔ جیسے اللّٰہ یبسط الرزق لمن یشاء ویقدر (13:26) خدا جس پر چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ فانشرنا بہ :تعقیب کا ہے انشرنا ماضی جمع متکلم۔ انساء (افعال) مصدر سے جس کے معنی زندہ کرنے اور اٹھا کھڑا کرنے کے ہیں۔ ہم نے زندہ کردیا۔ ہم نے کھڑا کردیا۔ بہ میں باء سببیہ ہے اور ہ ضمیر واحد مذکر غائب ماء کی طرف راجع ہے۔ بوجہ اس پانی کے ۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ام اتخذوا الھۃ من الارض ہم ینشرون (21:21) بھلا لوگوں نے جو زمین کی چیزوں سے (بعض کو) معبود بنا لیا ہے (تو کیا) وہ ان کو (مرنے کے بعد) اٹھا کھڑا کریں گے۔ بلدۃ میتا۔ موصوف وصفت مل کر انشرنا کا مفعول ۔ مردہ بستی۔ اجڑا ہوا شہر جو پانی کے نہ ہونے سے اجڑ گیا ہو اور وہاں نباتات و حیوانات ختم ہوگئے ہوں (بارش ہونے پر نباتات اگ آئے حیوانات دوبارہ بس آئیں اور یوں اجڑی ہوئی بستی دوبارہ آباد و شاداب ہوجائے) ۔ کذلک : کاف حرف تشبیہ ذلک اسم اشارہ واحد مذکر۔ اجڑی ہوئی بستی کا آباد ہوجانا مثار الیہ، یعنی جس طرح ہم نے مردہ شہر کو زندہ کردیا یوں ہی تمہیں پھر (قبروں سے) اٹھا کھڑا کردیا جائے گا۔ تخرجون : مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ اخراج (افعال) مصدر۔ تم نکالے جاؤ گے۔ (قبروں سے) فائدہ : بادل، بارش، کاشتکاری، باغبانی کے سلسلہ کے چھوٹے بڑے تغیرات ہیں سب اس میں شامل ہیں۔
Ayah 43:12

وَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَۙ Open ayah 43:12 in the Quran reader

اور جس نے تمام قسم کے حیوانات پیدا کیے اور تمہارے لئے کشتیاں اور چارپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو

(43:12) والذی خلق الازواج کلہا۔ ازواج ، جوڑے۔ ہم مثل چیزیں۔ زوج کی جمع۔ حیوانات کے جوڑے میں سے نر ہو یا مادہ ہر ایک زوج کہتے ہیں اور اسی طرح غیر حوانات میں ہر اس شے کو جو کہ دوسری شے کے قرین ہو خواہ مماثل ہو یا متضاد زوج کہتے ہیں۔ زوج کے معنی یہاں صنف اور نوع کے ہیں۔ الزوج تطلقہ العرب علی الصنف (اضواء البیان) عرب زوج کا اطلاق صنف پر کرتے ہیں۔ الازواج میں اصناف نباتات، نبی آدم اور دیگر مخلوق جس کا علم صرف خدا تعالیٰ ہی کو ہے۔ سب شامل ہیں۔ اور جگہ فرمایا :۔ سبحان الذی خلق الازواج کلہا مما تنبت الارض ومن انفسھم ومما لا یعلمون (36:26) وہ خدا پاک ہے جس نے بنائے جوڑے سب چیز کے اس قسم سے جسے زمین اگاتی ہے اور ان کے اپنے میں سے اور ان چیزوں میں سے جن کا انہیں علم نہیں ہے۔ کلہا : کل منصوب (بوجہ الازواج کی صفت ہونے کے) مضاف ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع الازواج ہے۔ مضاف الیہ۔ سب۔ تمام۔ فائدہ : مخلوقات کی تنویع، تقسیم، تزویج سب اس کے تحت میں آگئی۔ وجعل لکم اور بنائی تمہارے لئے من الفلک کشتی کی قسم سے یعنی کشتیاں جہاز وغیرہ۔ والانعام اور چوپاؤں کی قسم سے یعنی اونٹ ، گھوڑے، گائے وغیرہ۔ ما موصولہ ترکبون مضارع جمع مذکر حاضر۔ رکوب (باب سمع) سے مصدر۔ تم سواری کرتے ہو ۔ تم سوار ہوتے ہو۔ فائدہ : اس میں دریائی زمینی جتنی بھی سواریاں ہیں سب اسی میں داخل ہیں۔ سب کو شامل ہے۔
Ayah 43:13

لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْهِ وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ Open ayah 43:13 in the Quran reader

تاکہ تم ان کی پیٹھ پر چڑھ بیٹھو اور جب ان پر بیٹھ جاؤ پھر اپنے پروردگار کے احسان کو یاد کرو اور کہو کہ وہ پاک ہے جس نے اس کو ہمارے زیر فرمان کردیا اور ہم میں طاقت نہ تھی کہ اس کو بس میں کرلیتے

(43:13) لتستوا لام کی۔ اور اس کے بعد ان مقدرہ ہے۔ تستوا مضارع جمع مذکر حاضر استواء (افتعال) مصدر سے علی کے صلہ کے ساتھ ، جس کا مطلب ہے اچی طرح سوار ہوجانا۔ تاکہ تم جم کر سوار ہوجاؤ۔ س و ی مادہ۔ ظھورہ مضاف مضاف الیہ۔ ظھور جمع ہے ظھر کی بمعنی پیٹھ، پشت ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ اور اسی طرح اذا ستویتم علمیہ۔ میں ضمیر ہ ما ترکبون کے لفظ ما کی طرف راجع ہے جو لفظ کے لحاظ سے مفرد ہے۔ لیکن معنوی لحاظ سے چونکہ کثیر سواریاں مراد ہیں اس لئے معنوی لحاظ سے ظھور جمع کا صیغہ لایا گیا ہے اور لفظی لحاظ سے ہ ضمیر واحد مذکر غائب استعمال کی گئی ہے۔ ثم تذکروا نعمۃ ربکم اذا استویتم علیہ : ای ثم اذا استویتم علیہ تذکروا نعمۃ ربکم پھر جب ان (سواریوں کی پشتوں پر) جم کر بیٹھ جاؤ تو اپنے رب کی نعمتوں کو یاد کرو۔ تذکروا مضارع منصوب جمع مذکر حاضر ذکر (باب نصر) مصدر سے نون اعرابی عامل لام کی آنے سے حذف ہوگیا۔ تاکہ تم یاد کرو۔ تم یاد کرنے لگو۔ وتقولوا واؤ عاطفہ۔ تقولوا مضارع منصوب جمع مذکر حاضر۔ قول (باب نصر) مصدر سے نون اعرابی بوجہ عامل حذف ہوگیا۔ کہ تم کہنے لگو، یا تم کہو۔ شخر ماضی واحد مذکر غائب تسخیر (تفعیل) مصدر۔ اس نے بس میں کردیا سخرلنا اس نے ہمارے بس میں کردیا۔ ہمارے تابع کردیا۔ ہمارے اختیار میں کردیا۔ تسخیر کے معنی ہیں کسی کو کسی خاص مقصد کی طرف زبردستی لے جانا۔ قرآن مجید میں ہے : وسخر لکم الشمس والقمر وائبین وسخر لکم الیل والنھار ۔۔ (14:33) اور (اسی طرح ایک اعتبار سے) سورج اور چاند کو تمہارے اختیار میں کردیا کہ دونوں پڑے چکر کھا رہے ہیں اور (ایسے ہی ایک طرح سے) رات اور دن کو تمہارے اختیار میں لگا دیا۔ (یعنی تمہارے کام میں لگا دیا) ۔ ھذا : ای ھذا المرکوب۔ اس سواری کو۔ ماکنالہ : ما نافیہ ہے کنا ماضی جمع متکلم کون (باب نصر) مصدر۔ ہم نہ تھے۔ لہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب المرکوب (سواری) کی طرف راجع ہے۔ مقرنین۔ اسم فاعل جمع مذکر منصوب بوجہ کان کی خبر کے۔ اقران (افعال) مصدر قابو میں لانے والے۔ بس میں کرنے والے۔ قرن مادہ۔ اس سے بہت سے مشتقات ہیں۔ اجتماعیت اور قرب کا مفہوم ضرور ہوتا ہے ، بعض مشتقات یہ ہیں۔ قرنِ سینگ، عورت کے بالوں کی پٹی، زمانہ، قوم کا سردار۔ قرون قومیں الگ الگ زمانے والیاں۔ قرین۔ ساتھی۔ دوست، قرینہ ساتھ۔ ساتھ وغیرہ۔
Ayah 43:14

وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ Open ayah 43:14 in the Quran reader

اور ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

(43:14) منقلبون۔ اسم فاعل جمع مذکر ، منقلب واحد۔ انقلاب (انفعال) مصدر۔ قلب مادہ۔ لوٹنے والے۔ قلب الشیء کے معنی کسی چیز کو پھیرنے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں۔ انقلاب کے معنی پلٹنے۔ پھرجانے کے ہیں ۔ قرآن مجید میں ہے : ومن ینقلب علی عقبیہ (3:142) اور جو الٹے پاؤں پھر جائے گا۔ بعض نے کہا کہ انسان کے دل کو بھی قلب اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ کثرت سے الٹتا پلٹتا رہتا ہے۔ وانا الیہ لمنقلبون : اور یقینا ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔
Ayah 43:15

وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِیْنٌؕ۠ Open ayah 43:15 in the Quran reader

اور انہوں نے اس کے بندوں میں سے اس کے لئے اولاد مقرر کی بیشک انسان صریح ناشکرا ہے

(43:15) وجعلوا لہ میں جعلوا کی ضمیر فاعل جمع مذکر غائب کا مرجع کفار ہیں اور لہ میں ہ کا مرجع اللہ ہے۔ انہوں نے بنادیا اس کیلئے من عبادہ : من تبعیضیہ ہے عبادہ مضاف مضاف الیہ۔ جزئ۔ حصہ۔ اولاد۔ جزء الشیء چیز کا وہ ٹکڑا جس سے وہ چیز مل کر بنے۔ اولاد کو بھی جس کا ٹکڑا کہتے ہیں کیونکہ اولاد باپ کے نطفہ سے بنتی ہے اور نطفہ انسان کا جزو ہوتا ہے اس لئے اولاد کو بھی جسم کا ٹکڑا کہتے ہیں۔ بخاری (رح) نے حضرت مسور بن مخرمہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ :۔ فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جس نے اس کو ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔ ترجمہ آیت :۔ اور انہوں نے اس (اللہ) کے لئے اس کے بعض بندوں کو (اس کا) جزو قرار دیا۔ یا بنادیا۔ اس کلام کا تعلق آیت : ولئن سئالتھم ۔۔ الخ (آیت 9 سورة ہذا) سے ہے۔ دونوں آیتوں میں نہایت تضاد ہے۔ سابق کلام میں جب اقرار کرلیا کہ اللہ ارض و سماوات کا خالق ہے تو پھر کسی مخلوق کو اس کا جزو کہنا بالکل ممکن نہیں۔ جو ذات قابل تجزیہ ہوتی ہے وہ نہ واجب الوجود ہوسکتی ہے اور نہ خالق ۔ (تفسیر مظہری) ان الانسان : ان حرف مشبہ بالفعل بمعنی تحقیق، بلاشک، یقینا، الانسان بمعنی القائل ما تقدم (جلالین) یہاں انسان سے مراد برعایت ال : وہ لوگ ہیں جن کا پہلے ذکر ہوچکا ہے یعنی کفار۔ لکفور میں لام تاکید کا ہے کفور صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر ، بہت ناشکرا کفروان و کفور (نصر) سے مصدر بھی ہے۔ مبین : اسم فاعل واحد مذکر ، ظاہر کرنے والا۔ ابانۃ (باب افعال) مصدر۔ اس مصدر سے فعل لازم بھی آتا ہے اور متعدی بھی ، اس لئے مبین کے معنی ظاہر بھی ہے اور ظاہر کرنے والا بھی، یہاں بطور لازم آیا ہے بمعنی ظاہر، کھلا ہوا۔ صریحا۔ یہاں کفار کی حد سے بڑھی ہوئی جہالت کو بیان کرنے کے لئے ان حرف تحقیق لام تاکید۔ (صفت مشبہ) اور مبین بیک وقت استعمال کیا گیا ہے۔
Ayah 43:16

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰىكُمْ بِالْبَنِیْنَ Open ayah 43:16 in the Quran reader

کیا اس نے اپنی مخلوقات میں سے خود تو بیٹیاں لیں اور تم کو چن کر بیٹے دے دئیے

(43:16) ام : استفہام انکاری کے معنی میں آیا ہے۔ اتخذ ماضی واحد مذکر غائب (ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے) اتخاذ (افتعال) مصدر اس نے اختیار کیا۔ اس نے پسند کیا۔ مما : من حرف جار۔ اور ما موصولہ سے مرکب ہے۔ یخلق صلہ ہے اپنے موصول کا نبات مفعول فعل اتخذ کا۔ کیا جو مخلوق اس نے پیدا کی ہے اس میں سے اس نے اپنے لئے بیٹیوں کو ہی پسند کیا ہے ؟ یہاں ام استفہام انکاری بطور زجر و توبیخ آیا ہے یعنی ایسا ہرگز ہرگز نہیں یہ تمہارا سراسر افتراء ہے۔ واصفکم : اصفی ماضی واحد مذکر غائب اصفاء (افعال) مصدر بمعنی منتخب کرنا۔ برگزیدہ کرنا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اور تمہیں چن لیا (بیٹوں کے لئے) ۔ اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے الکم الذکر ولہ الانثی ۔ تلک اذا قسمۃ ضیزی (53:21 :22) کیا تمہارے لئے تو بیٹے ہوں اور اس (اللہ) کے لئے بیٹیاں یہ تو پھر بڑی ڈھنگی اور بھونڈی تقسیم ہے۔
Ayahs 43:17–18

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 43:17 in the Quran reader

حالانکہ جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی خوش خبری دی جاتی ہے جو انہوں نے خدا کے لئے بیان کی ہے تو اس کا منہ سیاہ ہوجاتا اور وہ غم سے بھر جاتا ہے

اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ هُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ Open ayah 43:18 in the Quran reader

کیا وہ جو زیور میں پرورش پائے اور جھگڑے کے وقت بات نہ کرسکے (خدا کی) بیٹی ہوسکتی ہے ؟

(43:17) واذا میں واؤ حالیہ ہے اور اذا شرطیہ ۔ حالانکہ جب۔ بشر ماضی مجہول واحد مذکر غائب تبشیر (تفعیل) مصدر جس کے معنی خوشخبری سنانے کے ہیں۔ تبشیر میں کثرت سے خوشخبری دینے کے معنی ملحوظ ہیں۔ لیکن کبھی کبھی غصہ کے اظہار کے لئے تہکما یا طنزا افسوسناک یا بری خبر سنانے کے لئے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ یہاں یہی معنی مراد ہیں۔ احدہم۔ ان میں سے کوئی ایک۔ احد مضاف ہم مضاف الیہ۔ بما ضرب للرحمن مثلا : ما موصولہ۔ ضرب للرحمن مثلا (مثلا مفعول بہ ضرب کا) صلہ و موصول مل کر مفعول بہ ہوا بشر کا۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور حال یہ ہے کہ جب ان میں سے کسی کو اسی وصف، صفت یا حالت کی بشارت دی جائے (یعنی خبر دی جائے) جسے وہ اللہ کے لئے قرار دیتا ہے تو ۔۔ مثلا کے لئے مزید ملاحظہ ہو 43:8 متذکرہ بالا۔ صاحب تفسیر مظہری اس جملہ کی تشریح میں رقم طراز ہیں :۔ یعنی جب اس جنس کی بشارت دی جاتی ہے جس کو وہ خدا کی مثل قرار دیتا ہے (مطلب یہ ہے کہ ملائکہ کو وہ خدا کی بیٹیاں قرار دیتا ہے اور ان کو خدا کی مثل مانتا ہے) کیونکہ اولاد اپنے باپ کی مثل اور مشابہ ہوتی ہے یا مثل سے مراد ہے صفت، یعنی جب اس کو اس صفت کی بشارت دی جاتی ہے جس نے اس کو رحمان کا وصف قرار دیا ہے (تو انتہائی غم سے اس کا چہرہ سخت کالا ہوجاتا ہے) اذا ۔۔ مثلا جملہ شرط ہے۔ ظل وجھہ مسودا جملہ جواب شرط ہے۔ ظل ای صار۔ ماضی واحد مذکر غائب ظل وظلول (باب فتح و سمع) ہوگیا افعال ناقصہ میں سے ہے۔ مسودا۔ اسم مفعول واحد مذکر اسوداد (افعلال) مصدر۔ سواد سیاہی مسودا سیاہ۔ غم کی وجہ سے رنگ بگڑا ہوا تو اس کا رنگ غم کی وجہ سے کالا ہوجاتا ہے۔ وھو کظیم واؤ حالیہ۔ کظیم۔ الکظم اصل میں مخرج النفس یعنی سانس کی نالی کو کہتے ہیں۔ چناچہ محاورہ ہے اخذ بکظمہ اس کی سانس کی نالی کو پکڑ لیا۔ یعنی غم میں مبتلا کردیا۔ الکظوم کے معنی سانس رکنے کے ہیں اور مکظوم غم و غصہ سے بھرا ہوا۔ کظم الغیظ غصہ کو روکنا۔ کظیم صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر ، سخت غمگین جو اپنے غصہ کو گھونٹ کر رکھے اور ظاہر نہ ہونے دے۔ نیز ملاحظہ ہو 16:57-59) ۔
Ayah 43:19

وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓئِكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا١ؕ اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ١ؕ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:19 in the Quran reader

اور انہوں نے فرشتوں کو کہ وہ بھی خدا کے بندے ہیں (خدا کی) بیٹیاں مقرر کیا، کیا یہ ان کی پیدائش کے وقت حاضر تھے ؟ عنقریب ان کی شہادت لکھ لی جائے گی اور ان سے باز پرس کی جائے گی

(43:19) الملئکۃ مفعول اول جعلوا کا اناثا مفعول ثانی، الذین اسم موصول ۔ ہم عباد الرحمن صلہ۔ صلہ اور موصول مل کر صفت الملئکۃ کی۔ اور انہوں نے ٹھہرا لیا ہے فرشتوں کو جو (خداوند) رحمن کے بندے ہیں عورتیں ۔ یعنی فرشتوں کو عورتیں قرار دے رکھا ہے۔ اشھدوا : ہمزہ استفہامیہ۔ شھدوا ماضی جمع مذکر غائب شھادۃ وشھود (باب سمع) وہ موجود تھے۔ انہوں نے دیکھا۔ انہوں نے گواہی دی۔ انہوں نے اقرار کیا۔ خلقھم مضاف ، مضاف الیہ مل کر شھدوا کا مفعول۔ کیا انہوں نے ان کی پیدائش کو دیکھا۔ یا کیا وہ ان کی پیدائش کے وقت موجود تھے (کہ فرشتوں کو خدا نے عورتیں بنایا ہے) ستکتب : تکتب مضارع مجہول واحد مؤنث غائب۔ س مضارع کو مستقبل کے معنی میں کردیتا ہے۔ ان کی شہادت لکھ لی جائے گی۔ ویسئلون واؤ۔ عاطفہ۔ یسئلون مضارع مجہول جمع مذکر غائب ۔ ان سے سوال کیا جائے گا۔ ان سے باز پرس کی جائے گی۔ یعنی ان کے اس باطل شہادت پر ان سے باز پرس کی جائے گی۔ اور سزا کے مستوجب ہوں گے۔
Ayah 43:20

وَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ١ؕ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۗ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَؕ Open ayah 43:20 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اگر خدا چاہتا تو ہم ان کو نہ پوجتے ان کو اس کا کچھ علم نہیں یہ تو صرف اٹکلیں دوڑا رہے ہیں

(43:20) ما عبدنھم : ما نافیہ ہے ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع الملئکۃ ہے ہم ان کو پوجا نہ کرتے۔ یا ہم سے مراد بت ہیں جن کی کافر پرستش کیا کرتے تھے۔ بذلک : ای بذلک القول۔ یعنی ان کا یہ قول لوشاء الرحمن ما عبد نھم۔ من علم : علم سے مراد یہاں سند ہے۔ یعنی اپنے اس قول کی تائید میں ان کے پاس کوئی سند نہ ہے۔ ان ہم میں ان نافیہ ہے۔ یخرصون ۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ خرص (باب نصر) مصدر۔ وہ قیاسی باتیں کرتے ہیں۔ الخوص پھلوں کا اندازہ کرنا۔ اندازہ کئے ہوئے پھلوں کو خرص کہا جاتا ہے۔ یہ بمعنی مخروص ہے ہر وہ بات جو ظن اور تخمین سے کہی جائے اسے خرص کہا جاتا ہے۔ عام اس سے کہ وہ اندازہ غلط ہو یا صحیح۔ کیونکہ تخمینہ کرنے والا نہ تو علم سے بات کرتا ہے اور نہ سماع کی بناء پر کہتا ہے بلکہ اس کا اعتماد محض گمان پر ہوتا ہے جیسا کہ تخمینہ کرنے والا پھلوں کا تخمینہ کرتا ہے اور اس قسم کی بات کہنے والے کو بھی جھوٹا کہا جاتا ہے۔ ان ہم الا یخرصون ۔ وہ محض اٹکلیں دوڑا رہے ہیں ۔ بعض کے نزدیک یخرصون بمعنی یکذبون ہے یعنی یہ جھوٹ بول رہے ہیں۔
Ayah 43:21

اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ فَهُمْ بِهٖ مُسْتَمْسِكُوْنَ Open ayah 43:21 in the Quran reader

یا ہم نے ان کو اس سے پہلے کوئی کتاب دی تھی تو یہ اس سے سند پکڑتے ہیں

(43:21) ام : یہاں ام منقطعہ۔ یعنی بطریق عقل ان کے پاس اپنے اس قول کی کوئی سند نہیں ہے اور نہ بطریق نقل ان کو اس سے قبل کوئی کتاب دی ہے جس پر یہ سختی سے پابند ہیں۔ یعنی مطلب یہ کہ ان کے پاس اسکی نہ کوئی عقلی دلیل ہے نہ کوئی نقلی (روح المعانی) من قبلہ ای من قبل القران : بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع کتبا ہے۔ صاحب تفسیر مظہری فرماتے ہیں :۔ اس آیت کا ربط اشھدوا خلقھم سے ہے۔ مطلب یہ کہ کیا ان کی پیدائش کے وقت یہ لوگ موجود تھے یا قرآن سے پہلے ہم نے ان کو کوئی آسمانی کتاب دی تھی جس سے وہ استدلال کرتے ہیں ۔ اس صورت میں ام متصلہ ہے۔ مستمسکون۔ اسم فاعل جمع مذکر استمساک استفعال۔ چنگل سے پکڑنے والے مراد دلیل اور سند پکڑنے والے۔ مادہ مسک کے مفہوم میں رکنے یا روکنے کا معنی ضرور ہوتا ہے ممسک روکنے والا۔ بخیل۔ کنجوس ۔ مال کو روک رکھنے والا۔ استمساک سند پکڑنا۔ پنجہ میں مضبوط پکڑنا۔
Ayah 43:22

بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:22 in the Quran reader

بلکہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راستے پر پایا ہے اور ہم انہی کے قدم بقدم چل رہے ہیں

(43:22) بل قالوا۔ یہاں بل (حرف اضراب) پہلی بات کو برقرار رکھتے ہوئے مابعد کو اس حکم پر اور زیادہ کرنے کے لئے آیا ہے ۔ یعنی ستم بالائے ستم نہ تو اسن کے پاس کوئی عقلی دلیل ہے اور نہ نقلی۔ اور اب مزید برآں یہ کہہ رہے ہیں انا وجدنا ۔۔ امۃ۔ طریقہ، دین، جماعت، مدت، امت۔ اثرھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کے نشانات قدم۔ ان کے پیچھے۔ اثار اثر کی جمع ، نشانیاں، علامتیں، مجازا نشان قدم کے لئے بھی مستعمل ہے۔ مھتدون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ اھتداء (افتعال) مصدر سے۔ ہدایت پانے والے۔ مھتدی واحد۔
Ayah 43:23

وَ كَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ Open ayah 43:23 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے تم سے پہلے کسی بستی میں ہدایت کرنے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راہ پر پایا ہے اور ہم قدم بقدم ان ہی کے پیچھے چلتے ہیں

(43:23) وکذلک۔ واؤ عاطفہ ک حرف تشبیہ ذلک اسم اشارہ واحد مذکر ۔ اشارہ ہے آباء پرستی۔ جمود اور تقلید پسندی کی طرف۔ نذیر۔ صفت مشبہ مجرور۔ نکرہ ۔ ڈرانے والا۔ نذر جمع۔ نذر۔ نذر باب سمع مصدر۔ قرآن مجید میں نذیر (ڈرانے وال) سے مراد ہے نافرمانوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرانے والا۔ مترفوھا : مترفوا اصل میں مترفون تھا۔ اضافت کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا۔ مضاف ہے ھا ضمیر واحد مؤنث غائب مضاف الیہ۔ ھا کا مرجع قریۃ ہے۔ مترفون جمع مذکر اسم مفعول۔ وہلوگ جن کو عیش و آرام اور فراغت زندگی دی گئی۔ امیر اور فارغ البال۔ اتراف (افعال) مصدر۔ عیش دینا۔ آرام دینا۔ مقتدون : اسم فاعل جمع مذکر۔ مقتدی واحد۔ اقتداء (افتعال) مصدر پیروی کرنے والے۔ پیچھے پیچھے چلنے والے۔ نقل کرنے والے۔ اقتداء کرنے والے۔ مقتدی جس کی پیروی کی جائے۔ نیز ملاحظہ ہو آیت 22 متذکرۃ الصدر۔
Ayah 43:24

قٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْهِ اٰبَآءَكُمْ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:24 in the Quran reader

پیغمبر نے کہا اگرچہ میں تمہارے پاس ایسا (دین) لاؤں کہ جس راستے پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا اس سے کہیں سیدھا راستہ دکھاتا ہے کہنے لگے کہ جو (دین) تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے

(43:24) قال : اس کا فاعل وہ ضمیر ہے جو نذیر کی طرف راجع ہے۔ یعنی اس نذیر نے کہا۔ اولوجئتکم۔ ہمزہ استفہامیہ انکاریہ ہے واؤ عاطفہ ہے۔ ہمزہ استفہام کے بعد فعل محذوف ہے ای اتقتدون بابئکم ولوجئتکم۔ لو حرف شرط۔ جواب لو محذوف ہے۔ باھدی : ای بدین اھدی ، مما مرکب ہے من اور ما موصولہ سے وجدتم علیہ اباء کم۔ مضاف مضاف الیہ مل کر اس کا صلہ۔ اباء کم مفعول ہے وجدتم کا۔ ای قال لہم رسولہم اتتبعون دین اباء کم ولو جئتکم بدین اھدی من دین ابائکم (اس پر ان کو) پیغمبر نے کہا کیا تم اپنے اسلاف کے دین پر چلتے رہو گے گو میں اس سے زیادہ صحیح طریقہ تمہارے سامنے لے آؤں۔ بما ارسلتم بہ ما موصولہ ارسلتم بہ اس کا صلہ جو دین تم کو دے کر بھیجا گیا۔ جمع کا صیغہ اس لئے لائے ہیں کہ اس قوم کے لوگوں نے کہا کہ تم اور تم سے پہلے پیغمبروں کو جو دین دے کر بھیجا گیا ہم سب سے منکر ہیں۔ کفرون : ای جاحدون منکرون۔ انکاری ہیں۔ انکار کرنے والے ہیں۔
Ayah 43:25

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 43:25 in the Quran reader

تو ہم نے ان سے انتقام لیا سو دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا

(43:25) فانتقمناسببیہ ہے انتقمنا ماضٰ جمع متکلم۔ انتقام (افتعال) مصدر نقم مادہ۔ ہم نے سزا دی۔ ہم نے انتقام لیا۔ نقم منہ (باب ضرب) سزا دینا۔ انتقام لینا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے وما نقموا منہم الا ان یؤمنوا باللّٰہ (85:8) اور انہوں نے (مومنوں کو) محض اس لئے سزا دی کہ وہ اللہ پر ایمان رکھتے تھے۔ فانظر : انظر فعل امر واحد مذکر حاضر نظر (باب نصر) مصدر تو دیکھو تو غور کر۔ یہاں خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے عاقبۃ المکذبین : عاقبۃ انجام۔ آخر۔ مضاف ۔ المکذبین۔ اسم فاعل جمع مذکر ۔ تکذیب (تفعیل) مصدر سے جھٹلانے والے۔
Ayah 43:26

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖۤ اِنَّنِیْ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 43:26 in the Quran reader

اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ جن چیزوں کو تم پوجتے ہو میں ان سے بیزار ہوں

(43:26) واذ قال : ای واذکر الوقت اذقال۔ وہ وقت یاد کر جب کہا ابراہیم نے۔ براء بیزار۔ بیزاز ہونا۔ اصل میں اس کے معنی ہر اس چیز سے جس کا پاس رہنا برا لگتا ہو۔ اس سے چھٹکارا ڈھونڈھنے کے ہیں مصدر ہے جو صفت کے طور استعمال کیا گیا ہے ۔ اور جب صفت واقع ہو تو واحد تثنیہ، جمع، مذکر ، مؤنث۔ سب کے لئے برابر استعمال ہوتا ہے۔ ب ر ء مادہ۔
Ayahs 43:27–29

اِلَّا الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّهٗ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 43:27 in the Quran reader

ہاں جس نے مجھ کو پیدا کیا وہی مجھے سیدھا راستہ دکھائے گا

وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:28 in the Quran reader

اور یہی بات اپنی اولاد میں پیچھے چھوڑ گئے تاکہ وہ (خدا کی طرف) رجوع رہیں

بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى جَآءَهُمُ الْحَقُّ وَ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:29 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ میں ان کفار کو اور انکے باپ دادا کو متمتع کرتا رہا یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف صاف بیان کرنے والا پیغمبر آپہنچا

(43:27) فطرنی۔ فطر ماضی واحد مذکر غائب فطر (باب ضرب و نصر) بمعنی عدم سے وجود میں لانا۔ پیدا کرنا۔ فطر کے مفہوم میں پھاڑنے کے معنی ضرور ہونا چاہیے کیونکہ لغت میں فطر کے معنی پھاڑنے کے ہیں۔ عدم کے پردہ کو پھاڑ کر وجود میں لانا۔ یعنی پیدا کرنا اسی مناسبت سے اس کا مفہوم قرار پایا۔ نی ضمیر مفعول واحد متکلم ۔ فطرنی اس نے مجھے پیدا کیا۔ سیھدین : س مضارع کو مستقبل کے ساتھ خاص کردینے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ یھدین مضارع واحد مذکر غائب۔ ھدایۃ باب ضرب مصدر نون وقایہ یاء متکلم محذوف ہے وہ مجھے ہدایت کر دے گا۔ وہ میری راہنمائی کرے گا۔
Ayah 43:30

وَ لَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ وَّ اِنَّا بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:30 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس حق (یعنی قرآن) آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو نہیں مانتے

(43:30) لما جب۔ بہ ای بھذا الحق۔ قالوا ھذا سخر۔ یعنی یہ قرآن جادو ہے قرآن کریم کو جادو انہوں نے اسلئے کہا کہ وہ قرآن جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز تھے
Ayah 43:31

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ Open ayah 43:31 in the Quran reader

اور (یہ بھی) کہنے لگے کہ یہ قرآن ان دونوں بستیوں (یعنی مکہ اور طائف) میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا ؟

(43:31) لولا : کیوں نہ۔ رجل من القریتین عظیم : ای رجل عظیم من القریتین دونوں بستیوں میں سے کوئی بڑا آدمی۔ القریتین دو بستیاں۔ مراد مکہ و طائف۔
Ayah 43:32

اَهُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا١ؕ وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 43:32 in the Quran reader

کیا یہ لوگ تمہارے پروردگار کی رحمت کو بانٹتے ہیں ؟ ہم نے ان میں ان کی معیشت کو دنیا کی زندگی میں تقسیم کردیا اور ایک کے دوسرے پر درجے بلند کئے تاکہ ایک دوسرے سے خدمت لے اور جو کچھ یہ جمع کرتے ہیں تمہارے پروردگار کی رحمت اس سے کہیں بہتر ہے

(43:32) اہم۔ ہمزہ استفہام انکاری کا ہے ہم سے مراد وہ لوگ جو کہ کہتے تھے کہ یہ قرآن ان دو بستیوں کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ ناز ہوا۔ یقسمون۔ مضارع جمع مذکر غائب قسمۃ (باب ضرب) وہ بانٹتے ہیں۔ رحمۃ ربک : ربک مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ۔ رحمۃ مضاف یہ مضاف الیہ و مضاف مل کر مفعول اپنے فعل یقسمون کا۔ آپ کے رب کی رحمت کو مراد نبوت ہے۔ معیشتم : معیشت اسم مصدر مضاف ہم ضمیر جمع مذکر غائب مضاف الیہ۔ ان کا سامان زندگی۔ قسمنا کا مفعول درجت : درجۃ کی جمع۔ مرتبے۔ بلندیاں۔ درجے، منصوب بوجہ تمیز ہے۔ ازروئے درجات۔ مرتبوں کے لحاظ سے۔ لیتخذ : لام تعلیل کا ہے۔ یتخذ مضارع منصوب بوجہ عمل لام واحد مذکر غائب اتخاذ (افتعال) مصدر وہ بنالے۔ سخریا۔ خدمت گار۔ تابعدار۔ یتخذ کا مفعول ہے۔ مطلب یہ کہ سامان زندگی اللہ تعالیٰ تقسیم کرتا ہے کسی کو کثیر مال و متاع دے کر دنیاوی طور پر اونچا کردیتا ہے کسی کو رزق کی کمی سے پست کردیتا ہے تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لیتے رہیں۔ علامہ آلوسی (رح) لکھتے ہیں :۔ ترجمہ :۔ تاکہ وہ ایک دوسرے کو اپنی مصلحتوں کے لئے استعمال کریں اور مختلف پیشوں میں ان سے خدمت لیں۔ اور مختلف کاموں میں ان سے فائدہ اٹھائیں۔ رحمت ربک : تیرے رب کی رحمت۔ یعنی نبوت اور لوازم نبوت۔ مما : من اور ما سے مرکب ہے یجمعون مضارع جمع مذکر غائب جمع (باب فتح) مصدر، وہ جمع کرتے ہیں (یعنی دنیا کا وہ مال جو وہ ساری عمر اکٹھے کرتے رہتے ہیں اس سے مرتبہ نبوت اور اس کے لوازمات بدرجہا نہتر اور افضل ہیں۔
Ayah 43:33

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَۙ Open ayah 43:33 in the Quran reader

اور اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک ہی جماعت ہوجائیں تو جو لوگ خدا سے انکار کرتے ہیں ہم ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتے اور سیڑھیاں (بھی) جن پر وہ چڑھتے ہیں

(43:33) ولولا ان یکون الناس امۃ واحدۃ جملہ شرط ہے اور لجعلنا سے لے کر وزخرفا آیت 35 تک جواب شرط۔ لولا : اگر نہ۔ حرف شرط۔ ان مصدریہ یکون مضارع منصوب بوجہ عمل ان یکون فعل ناقص الناس اس کا اسم امۃ واحدۃ موصوف و صفت مل کر یکون کی خبر۔ لجعلنا : لام جواب شرط کے لئے ہے جعلنا ماضی جمع متکلم۔ ہم بنا دیتے ۔ لمن یکفر بالرحمن۔ لام اختصاص کا ہے من موصولہ ، یکفر بالرحمن اس کا صلہ لبیوتھم میں لام اختصاص کا بیوتھم مضاف مضاف الیہ۔ یہ بدل اشتمال ہے من یکفر سے سقفا۔ مفعول ہے جعلنا کا۔ سقف جمع سقف کی۔ چھتیں۔ ترجمہ : تو ہم بنا دیتے ان کے لئے جو انکار کرتے ہیں رحمن کا ان کے مکانوں کے لئے چاندی کی چھتیں۔ ومعارج علیہا یظھرون : واؤ عاطفہ۔ علیہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب معارج کے لئے ہے۔ یظھرون مضارع جمع مذکر غائب ظھر و ظھور باب فتح مصدر۔ وہ چڑھتے ہیں۔ وہ چڑھ کر اوپر پہنچ جاتے ہیں ۔ وہ غالب آتے ہیں۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے ای وجعلنا لمن یکفر بالرحمن لبیوتھم معارج علیہا یظھرون من فضۃ (اور ہم بنا دیتے ان کے لئے جو انکار کرتے ہیں رحمن کا ان کے گھروں کے لئے سیڑھیاں چاندی کی) ۔ معارج معراج کی جمع اسم آلہ۔ سیڑھیاں۔ عروج (باب ضرب) مصدر سے۔ بمعنی چڑھنا۔
Ayah 43:34

وَ لِبُیُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیْهَا یَتَّكِئُوْنَۙ Open ayah 43:34 in the Quran reader

اور ان کے گھروں کے دروازے بھی اور تخت بھی جن پر تکیہ لگاتے ہیں

(43:34) ولبیوتھم ابوابا وسررا علیہا یتکئون : اس جملہ کا عطف بھی جملہ جعلنا ۔۔ سقفا من فضۃ پر ہے۔ ابوابا جمع باب کی دروازہ۔ سررا جمع سریر کی۔ تخت : وہ جس پر ٹھاٹھ سے بیٹھا جائے۔ یہ سرور سے مشتق ہے : کیونکہ خوشحال لوگ ہی اس پر بیٹھتے ہیں۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے فیہا سرر مرفوعۃ (88:13) وہاں تخت ہوں گے اوپر بچھے ہوئے۔ یتکئون۔ مضارع جمع مذکر غائب اتکاء (افتعال) مصدر۔ وہ تکیہ لگاتے ہیں یا لگائیں گے۔ ت ک ء مادہ۔ المتکاء (اسم مکان ) سہارا لگانے کی جگہ چناچہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے۔ ہی عصای اتوکأ علیہا (20:18) یہ میری لاٹھی ہے اس پر میں سہارا لگاتا ہوں۔
Ayah 43:35

وَ زُخْرُفًا١ؕ وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 43:35 in the Quran reader

اور (خوب) تجمل و آرائش (کر دیتے) اور یہ سب دنیا کی زندگی کا تھوڑا سا سامان ہے اور آخرت تمہارے پروردگار کے ہاں پرہیزگاروں کے لئے ہے

(43:35) وزخرفا۔ واؤ عاطفہ ، زخرف کے متعلق لغات القرآن میں ہے ملمع۔ سنہری۔ سونا۔ آراستہ۔ زینت اور کسی شے کے کمال حسن کو زخرف کہتے ہیں لیکن جب قول ہوں گے ۔ جیسے ارشاد ہے زخرف القول غرورا (6:112) ملمع کی باتیں فریب کی۔ امام راغب (رح) لکھتے ہیں الزخرف اصل میں اس زینت کو کہتے ہیں جو کہ ملمع سے حاصل ہو۔ اسی سے سونے کو بھی زخرف کہا جاتا ہے کیونکہ یہ زیبائش کے کام آتا ہے۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے واخذت الارض زخرفھا (10:24) یہاں تک کہ زمین سبزے سے خوشنما اور آراستہ ہوگئی۔ اور سونے کے معنی میں :۔ بیت من زخرف (17:93) سونے کا گھر۔ بظاہر زخرفا کا عطف سقفا پر ہے اس صورت میں اس کا معنی نقش و نگار زیب و زینت ہوگا۔ اور اگر زخرف سے مراد سونا ہے تو پھر اس کا عطف ” من فضۃ “ پر ہوگا۔ اور اس کا نصب محل کی وجہ سے ہوگا۔ اور آیت کا معنی ہوگا کہ ان کی چھتیں، ان کے زینے ان کے دروازے۔ ان کے پلنگ بعض سونے کے بنے ہوتے ہیں اور بعض چاندی کے بنے ہوتے۔ (ضیاء القرآن) فائدہ : آیت 32 متذکرہ بالا میں ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے دنیا میں دنیاوی زندگی کے مال و متاع کی تقسیم میں بعض کو بعض پر فوقیت بخشی ہے تاکہ ایک دوسرے سے کام لیتا رہے ورنہ دنیاوی مال و دولت کی ہمارے نزدیک کوئی وقعت نہیں یہ ایک حقیر اور ادنی سی چیز ہے اگر ہم چاہتے تو اس بےبضاعت دولت سے منکروں اور کافروں کے گھروں کی چھتیں، دروازے۔ پلنگ، رینے وغیرہ سونے کے بنا دیتے ۔ لیکن اس حکمت کے پیش نظر کہ مبادا اس تجمل اور زینت کو دیکھ کر سارے یا اکثر لوگ کفر کی طرف راغب نہ ہوجاویں ایسا نہیں کیا گیا۔ وان کل ذلک ان نافیہ ہے کل ذلک مضاف مضاف الیہ ۔ یہ سب سنہری رو پہلی چیزیں (جن کا اوپر ذکر ہوا) لما متاع الحیوۃ الدنیا۔ میں لما استثنائیہ بمعنی الا ہے اور نہیں ہے یہ سب کچھ مگر دنیاوی زندگی کا سازوسامان۔
Ayah 43:36

وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ Open ayah 43:36 in the Quran reader

اور جو کوئی خدا کی یاد سے آنکھیں بند کرلے (یعنی تغافل کرے) ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں تو وہ اس کا ساتھی ہوجاتا ہے۔

(43:36) ومن یعش واؤ عاطفہ اور من شرطیہ ہے اگلا جملہ نقیض ۔۔ جواب شرط ہے۔ یعش مضارع واحد مذکر غائب عشو (باب نصر) مصدر۔ یعش اصل میں یعشو تھا۔ بوجہ جواب شرط واؤ ساقط ہوگیا۔ اس کے اصل معنی رات میں کہیں جانے کا قصد کرنے کے ہیں تو سیع استعمال کے بعد ہر قاصد کو عاشی کہا جانے لگا۔ عشو مصدر کے معنی کمزور نظر سے دیکھنا کے بھی ہیں اور رتوندی۔ تاریکی جو آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔ اسے العشاء کہتے ہیں۔ رجل اعشی جسے رتوندی کی بیماری ہو۔ مثل مشہور ہے ھو یخبط خبط عشواء وہ اندھی اونٹنی کی طرح ہاتھ پاؤں مارتا ہے یعنی بلا سوچے سمجھے معاملات سرانجام دیتا ہے۔ مختلف صلات کے ساتھ مختلف معانی دیتا ہے عشوت الیہ میں اس کی طرف مائل ہوگیا۔ عشوت عنہ میں نے اس سے منہ پھیرلیا۔ اس سے اعراض کیا۔ عشی عن۔ کسی چیز سے آنکھیں بند کر لیان۔ اندھا ہوجانا۔ آیت ہذا میں یہی معنی ہیں۔ ومن یعش عن ذکر الرحمن اور جو کوئی خدا کی یاد سے آنکھیں بند کرلے۔ (ع ش و، ع ش ی مادہ) نقیض : مضارع جمع متکلم ، نقیض (تفعیل) مصدر ق ی ض مادہ۔ ہم مقدر کرتے ہیں القیض کے معنی انڈے کے اوپر کے چھلکا کے ہیں اور چھلکا چونکہ اس کے باقی ماندہ اجزاء پر محیط اور مستولی ہوتا ہے لہٰذا اس سے قبض (فعل) کسی چیز پر غالب اور مستولی ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے لام کے صلہ کے ساتھ بمعنی مقدر کرنے۔ مقرر کرنے سبب بنا دینے اور تخلیہ کردینے ، کے استعمال ہوتا ہے۔ مثلا اور جگہ قرآن مجید میں ہے وقیضنا لہم قرناء (41:25) اور ہم نے (شیطانوں کو) ان کا ساتھی مقرر کردیا تھا۔ آیت ہذا میں نقض لہ شیطانا (ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں) کے معنی ہیں کہ ہم اس سے الگ ہوجاتے ہیں تاکہ شیطان اس پر اس طرح سے مسلط ہوجائے جیسے انڈے کے اوپر چھلکا اپنے مافیہا پر مستولی رہتا ہے۔ فھولہ قرین۔ پس شیطان اس کا ساتی بن جاتا ہے اور اس سے الگ نہیں ہوتا۔ قرین۔ ساتھی ۔ ہم نشین۔
Ayah 43:37

وَ اِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:37 in the Quran reader

اور یہ (شیطان) ان کو راستے سے روکتے رہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ سیدھے راستے پر ہیں

(43:37) وانھم واؤ عاطفہ انھم میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب شیاطین کی طرف راجع ہے۔ آیت 36 متذکرہ بالا میں ۔ شیطانا بطور جنس شیطان آیا ہے لہٰذا یہاں صیغہ جمع لایا گیا ہے مطلب یہ کہ وہ سارے شیطان جو ذکر رحمان سے اعراض کرنے والوں پر مقرر کر دئیے تھے اور جو ان کے ساتھی بن گئے تھے ان کو راہ ہدایت سے روکتے ہیں۔ لیصدونہم : یصدون : مضارع جمع مذکر غائب شیاطین کی طرف راجع ہے جو لفظا مفرد ہے اور معنی جمع ہے۔ السبیل وہ راہ ہدایت جس کی طرف ذکر رحمن کی دعوت دیتا ہے۔ ویحسبون انھم مھتدون : یحسبون کی ضمیر فاعل جمع مذکر غائب اور ہم کا مرجع من ہے اور بوجہ مذکورہ جمع ہے۔ ترجمہ : اور حقیقت یہ ہے کہ شیطان ان کو راہ ہدایت سے روکتے ہیں اور وہ (بہکے ہوئے لوگ) خیال کرتے ہیں کہ ہم راہ ہدایت پر ہیں
Ayah 43:38

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ Open ayah 43:38 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہمارے پاس آئے گا تو کہے گا کہ اے کاش مجھ میں اور تجھ میں مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا ! تو برا ساتھی ہے

(43:38) اس آیت میں اور آیت 36 میں شیطان اور جس پر اس کو مقرر کیا گیا تھا اس کے لفظی معنی کے لحاظ سے دونوں کے لئے الگ الگ صیغہ واحد استعمال ہوا ہے۔ جاء نا۔ ماضی بمعنی مستقبل۔ یہاں تک کہ جب ایسا شخص جس پر شیطان کو مقرر کیا گیا تھا ہمارے پاس آئے گا۔ (روز قیامت) قال۔ یعنی کافر جو ذکر اللہ (قرآن مجید) کی طرف سے اندھا ہوگیا تھا اپنے شیطان سے کہے گا۔ یلیت : یاء حرف نداء قرین منادی (محذوف) لیت حرف مشبہ بفعل ۔ تمنا کے لئے آیا ہے۔ اے کاش۔ بعد المشرقین : مضاف مضاف الیہ ۔ بعد دوری، فاصلہ۔ المشرقین دونوں مشرق۔ بمعنی مشر ق و مغرب، عرب کی عادت ہے کہ جب دو مقابل چیزوں کو بیان کرنا ہو تو ان میں جو زیادہ غالب ہو اسی کو تثنیہ کی صورت میں بیان کردیتے ہیں اس کو تسمیۃ الشیئین ای المتقابلین باسم احدھما کہتے ہیں۔ مثلا الموصل و الجزیرۃ کو الموصلین، الشمس والقمر کو القمران۔ ابوبکر و عمر کو العمران کہیں گے۔ اے ساتھی کاش : میرے اور تیرے درمیان (دنیا میں) اتنا فاصلہ ہوتا جتنا کہ مشرق اور مغرب کے درمیان تھا۔ فبئس القرین : ای فبئس القرین انت : تو برا ساتھی تھا۔
Ayah 43:39

وَ لَنْ یَّنْفَعَكُمُ الْیَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّكُمْ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 43:39 in the Quran reader

اور جب تم ظلم کرتے رہے تو آج تمہیں یہ بات فائدہ نہیں دے سکتی کہ تم (سب) عذاب میں شریک ہو

(43:39) لن ینفعکم الیوم : ای قیل لہم لن ینفعکم الیوم لن ینفع مضارع نفی تاکید بلن نفع باب فتح مصدر بمعنی نفع پہنچانا کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ الیوم (آج کے دن) مفعول فیہ۔ آج کے دن یا آج (یہ بات ہرگز تم کو نفع نہیں پہنچائے گی : اس جملہ سے پہلے سیقال لہم (ان سے کہا جائے گا) مقدرہ ہے۔ اذ ظلمۃ جب ظلم کرچکے تم (دنیا میں) ظلم کے معنی یہاں شرک کرنا۔ کفر کرنا کے ہیں۔ انکم فی العذاب مشترکون : مشترکون اسم فاعل جمع مذکر۔ اشتراک (افتعال) مصدر سے۔ شریک ہونے والے۔ شریک یہ جملہ فاعل ہے۔ لن ینفعکم کا۔ ای ولن ینفعکم اشتراککم فی العذاب او کو نکم مشترکین فی العذاب۔ یعنی آج تمہارا عذاب میں (اپنے شیاطین کے ساتھ) شریک ہونا ہرگز تم کو فائدہ نہیں پہنچائے گا۔ یعنی اس بات سے تمہیں ذرا بھی تسکین نہ ہوگی کہ تمہارے ساتھ تمہارے دنیا کے ساتھی مشرکین و کفار بھی دوزخ میں پڑے ہوئے ہیں۔ مرگ انبوہ جشنے دارد کا قانون وہاں نہ چل سکے گا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ :۔ فعل لن ینفعکم کی ضمیر فاعل عاشون عن القران کا شور و غوغا (آیت 38) ہے اور مطلب آیت ہذا کا یہ ہے کہ تمہارا یہ شور و غوغا کہ تمہارے اور شیاطینکے درمیان بعد المشرقین ہوتا اور یہ کہ وہ بڑے برے ساتھی تھے آج تمہارے کسی کام نہ آئے گا جبکہ (دنیا میں) تم ظلم کرتے رہے ہو تم سب اس عذاب میں آج حصہ دار ہو۔
Ayah 43:40

اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ اَوْ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ مَنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 43:40 in the Quran reader

کیا تم بہرے کو سنا سکتے ہو ؟ یا اندھے کو راستہ دکھا سکتے ہو ؟ اور جو صریح گمراہی میں ہو اسے (راہ پر لاسکتے ہو) ؟

(43:40) افانت۔ استفہام انکاری تعجبی ہے اس کی تین صورتیں بیان کی ہیں :۔ (1) افانت تسمع الصم کیا آپ بہروں کو سنا سکتے ہیں ؟ (2) افانت تھدی العمی کیا آپ اندھوں کو راہ دکھا سکتے ہیں ؟ (3) افانت تھدی من کان فی ضلل مبین : کیا آپ ان کو راہ راست دکھا سکتے ہیں جو صریح گمراہی میں ہیں (ومن کان کا عطف العمی پر ہے کیونکہ نابینا ہونا اور گمراہ ہونا دو صفتیں الگ الگ ہیں) ۔