43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 43:1–2

حٰمٓۚۛ Open ayah 43:1 in the Quran reader

حا۔ میم۔

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 43:2 in the Quran reader

قسم ہے اس روشن کتاب کی

[1] قرآن مجید کی قسم جس بات پر کھائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ہم کو قسم ہے اس واضح کتاب کی جس کے نازل کرنے والے ہم ہیں جو حکمت سے لبریز کتاب ہے جس کی زبان، جس کا ادب اور جس کا حق وباطل کے درمیان ایک واضح خط امتیاز کھینچ دینے والی تعلیم اس حقیقت کی صریح شہادت دے رہی ہے کہ اس کا مصنف اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا ہو ہی نہیں سکتا۔
Ayah 43:3

اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 43:3 in the Quran reader

کہ ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں بنایا ہے تاکہ تم (لوگ) سمجھو

[2] کیونکہ عربی تمہاری مادری زبان ہے اور تمہارے ذریعے سے دنیا کی قومیں اس کتاب کو سیکھیں گی۔
Ayah 43:4

وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌؕ Open ayah 43:4 in the Quran reader

اور یقینا یہ ہمارے ہاں اُمّ الکتاب میں (لکھی ہوئی موجود) ہے (اور) بڑے پائے کی (اور) حکمت (ودانائی) والی (کتاب) ہے۔

[3] یعنی اصل کتاب۔ مراد اس سے لوح محفوظ ہے۔
Ayah 43:5

اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ Open ayah 43:5 in the Quran reader

تو کیا ہم (تمہاری اصلاح سے) بےتعلق ہو کر تمہیں نصیحت کرنا (صرف اس لئے) چھوڑ دیں کہ تم لوگ حد سے گزرے ہوئے ہو ؟

[4] یعنی اس سبب سے کہ تم نہیں مانتے کیا ہم اس قرآن کا بھیجنا موقوف کردیں ؟ ایسی توقع مت رکھو۔ اللہ کی حکمت و رحمت اس کی متقضی ہے کہ باوجود تمہاری زیادیتوں اور شرارتوں کے کتاب الہٰی کا نزول اور دعوت و نصیحت کا سلسلہ بند نہ کیا جائے کیونکہ بہت سی سعید روحیں اس سے مستفید ہوں گی اور منکرین پر کامل طور پر اتمام حجت ہوگا۔
Ayahs 43:6–8

وَ كَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:6 in the Quran reader

ہم نے اگلے لوگوں میں کتنے پیغمبر بھیجے

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 43:7 in the Quran reader

اور (ان لوگوں کا بھی یہی حال تھا کہ) جو پیغمبر ان کے پاس آتا وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے

فَاَهْلَكْنَاۤ اَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَّ مَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:8 in the Quran reader

اور پھر (آخرکار) ہم نے ان لوگوں کو کہ وہ ان سے کہیں زور آور تھے ہلاک کر مارا، اور اگلوں کی مثالیں (تو) گزر چکی ہیں۔

[5] یعنی تاریخ میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ یہ اشارہ عادوثمود اور ان قوموں کی طرف ہے جن کی تباہی کی تفصیلات پچھلی سورتوں میں بیان ہوچکی ہیں۔
Ayahs 43:9–10

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 43:9 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) اگر تم ان لوگوں سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو یہ ان کے پیدا کرنے کو لازماً (اسی اللہ) زبردست و دانا (وبینا) کی طرف منسوب کریں گے

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ Open ayah 43:10 in the Quran reader

جس نے زمین کو تم لوگوں کے لئے گہوارہ بنایا اور تمہارے (چلنے کے) لئے اس میں راستے نکالے تاکہ (اپنی منزل مقصود کی) راہ پاؤ

[6] یعنی پہاڑوں کے درمیان درے اور میدانی علاقوں میں دریا وہ قدرتی راستے ہیں جن کے ذریعے انسان آپس میں مل سکیں اور اپنے دنیوی و اخروی مقاصد کے حصول کے لئے راستہ معلوم کرلیں۔
Ayahs 43:11–15

وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ١ۚ فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ۚ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ Open ayah 43:11 in the Quran reader

اور جس نے ایک اندازے کے ساتھ آسمان سے پانی برسایا اور اس (کے ذریعے) سے ایک مردہ زمین کو زندہ کردیا۔ اسی طرح تم لوگ بھی (قیامت کے دن قبروں سے) نکالے جاؤ گے۔

وَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَۙ Open ayah 43:12 in the Quran reader

اور (وہی ہے) جس نے تمام چیزوں کے جوڑے پیدا کئے اور تمہارے لئے کشتیوں اور چوپایوں کو سواری بنایا

لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْهِ وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ Open ayah 43:13 in the Quran reader

تاکہ تم ان کی پیٹھ پر جم کر بیٹھو۔ پھر جب تم ان پر بیٹھ جاؤ تو اپنے رب کا احسان یاد کرو (اور اس کا شکر ادا کرو) اور کہو کہ پاک ہے وہ (ذات) جس نے ان چیزوں کو ہمارے بس میں کردیا ورنہ ہم تو ان کو قابو میں کرنے والے نہ تھے

وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ Open ayah 43:14 in the Quran reader

اور بیشک ہم کو اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔

وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِیْنٌؕ۠ Open ayah 43:15 in the Quran reader

اور (دیکھو، یہ جانتے اور مانتے ہوئے بھی کہ آسمان و زمین کا خالق اللہ ہے) ان لوگوں نے اس کے بندوں میں سے (بعض کو) اس کا جز ٹھہرا لیا۔ بیشک انسان کھلم کھلاناشکرا ہے۔

[7] یعنی ذات یا صفات میں اللہ کا شریک قرار دے لیا۔
Ayahs 43:16–17

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰىكُمْ بِالْبَنِیْنَ Open ayah 43:16 in the Quran reader

کیا اللہ نے اپنی مخلوقات میں سے (اپنے لئے تو) بیٹیاں (پسند کر) لیں اور تم لوگوں کو بیٹوں سے نوازا ؟

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 43:17 in the Quran reader

جب ان لوگوں میں سے کسی کو اس چیز کی خوشخبری دی جاتی ہے جس کی تہمت وہ (اللہ) رحمن پر رکھتا ہے تو (مارے غم کے) اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور وہ اندر ہی اندر گھٹتا رہتا ہے۔

[8] یعنی بیٹی کی۔
Ayahs 43:18–28

اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ هُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ Open ayah 43:18 in the Quran reader

کیا (بیٹی ذات) جو زیوروں میں پالی جاتی ہے اور بحث و حجت میں (اچھی طرح) اظہار (مدعا) بھی نہیں کرسکتی (وہ اللہ کی شان کے زیبا ہے) ؟

وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓئِكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا١ؕ اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ١ؕ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:19 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے فرشتوں کو جو ( اللہ) رحمن کے بندے ہیں عورتیں قرار دے دیا ہے۔ کیا یہ ان کی پیدائش کے وقت موجود تھے ؟ ان کا یہ دعویٰ لکھ لیا جائے گا اور (قیامت میں اس کی) ان سے بازپرس ہوگی۔

وَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ١ؕ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۗ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَؕ Open ayah 43:20 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں کہ ( اللہ) رحمن چاہتا تو ہم ان (فرشتوں) کی پرستش ہی نہ کرتے۔ ان کو اس کی کچھ خبر نہیں۔ یہ محض قیاس آرائیاں کر رہے ہیں۔

اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ فَهُمْ بِهٖ مُسْتَمْسِكُوْنَ Open ayah 43:21 in the Quran reader

کیا ہم نے اس (قرآن) سے قبل انہیں کوئی کتاب دی تھی جس کی سند (اپنی ملائکہ پرستی کے لئے) یہ پکڑ رہے ہیں ؟

بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:22 in the Quran reader

(نہیں) بلکہ (یہ تو یوں) کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقے پر پایا اور انہی کے قدم بہ قدم ہم بھی ٹھیک راستے پر جا رہے ہیں۔

وَ كَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ Open ayah 43:23 in the Quran reader

اور اسی طرح (اے پیغمبر، ) ہم نے تم سے پہلے جب کبھی کسی بستی میں کوئی پیغمبر بھیجا (تو) وہاں کے خوشحال لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقے پر پایا اور انہی کے قدم بہ قدم ہم (بھی ان کی) پیروی کر رہے ہیں۔

قٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْهِ اٰبَآءَكُمْ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:24 in the Quran reader

(اس پر ان کے پیغمبر نے ان سے) کہا کہ اگرچہ میں اس سے زیادہ بہتر طریقہ تمہارے پاس لایا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے (جب بھی تم انہی کے نقش قدم پر چلو گے ؟ ) انہوں نے جواب دیا کہ (کچھ بھی ہو، ) جو (دین) تم کو دے کر بھیجا گیا ہے ہم تو اس کے ماننے والے نہیں۔

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 43:25 in the Quran reader

آخرکار ہم نے ان سے (ان کی سرکشی کا) بدلہ لیا۔ تو دیکھ لو کیسا (برا) انجام ہوا (پیغمبروں کے) جھٹلانے والوں کا !

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖۤ اِنَّنِیْ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 43:26 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی قابل ذکر ہے) جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ میں ان (بتوں) سے بیزار ہوں جن کی تم پرستش کرتے ہو

اِلَّا الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّهٗ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 43:27 in the Quran reader

مگر (ہاں میں پرستش اس کی کرتا ہوں) جس نے مجھے پیدا کیا، پھر وہی میری رہنمائی کرتا ہے۔

وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:28 in the Quran reader

اور (ابراہیم) اس عقیدہ (توحید) کو اپنی اولاد میں ایک قائم رہنے والی بات (کی حیثیت سے) چھوڑ گیا تاکہ لوگ (آئندہ بھی توحید کی طرف) رجوع کریں

[9] یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کے ذکر سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ قریش کا یہ دعویٰ بالکل باطل ہے کہ جس دین کی وہ پیروی کر رہے ہیں یہ ان کو ان کے آباؤ اجداد سے وراثت میں ملا ہے۔ ان کے اصل جد امجد تو ابراہیم (علیہ السلام) ہیں جنہوں نے شرک سے اعلان برأت کیا۔ پھر یہ کیسے کہتے ہیں کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کے طریقے پر چل رہے ہیں۔
Ayahs 43:29–31

بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى جَآءَهُمُ الْحَقُّ وَ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:29 in the Quran reader

(لیکن یہ لوگ توحید سے غافل ہوگئے اور شرک کرنے لگے تو ہم نے ان کو مٹا نہیں دیا) بلکہ ان کو اور ان کے باپ دادوں کو متاع (دنیا) سے بہرہ مند کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پاس (دین) حق اور ایک صاف صاف بتلانے والا پیغمبر آگیا۔

وَ لَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ وَّ اِنَّا بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:30 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس (دین) حق آگیا (تو) کہنے لگے کہ یہ تو جادو ہے اور بیشک ہم اس کو نہیں مانتے

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ Open ayah 43:31 in the Quran reader

اور انہوں نے (یہ بھی) کہا کہ یہ قرآن ان دو بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ نازل کیا گیا ؟

[10] یعنی مکہ اور طائف۔
Ayah 43:32

اَهُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا١ؕ وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 43:32 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) کیا یہ لوگ تمہارے رب کی رحمت تقسیم کرتے ہیں (حالانکہ اس) دنیا کی زندگی میں تو ان کی معیشت کا سامان ہم نے ان کے درمیان تقسیم کیا ہے اور بعض کے درجے بعض پر بلند کر دئیے ہیں تاکہ یہ ایک دوسرے سے کام لیں اور تمہارے رب کی رحمت اس سے کہیں بہتر ہے جو یہ لوگ سمیٹ رہے ہیں۔

[11] یعنی نبوت کو۔ [12] یہ حکمت بیان فرمائی اس بات کی کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ذہنی اور مادی دونوں ہی اعتبار سے درجات و مراتب کا تفاوت کیوں رکھا ہے۔ فرمایا کہ ایسا اس لئے کیا گیا ہے کہ لوگ باہم ديگر تعاون کی زندگی بسر کریں اور ایک دوسرے کو اپنے کام میں لگا سکیں۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ یہ دنیا اللہ تعالیٰ نے انسان کی آزمائش کے لئے بنائی ہے اس وجہ سے اس کا نظام اس نے اس طرح رکھا ہے کہ اس میں ہر شخص دوسرے کا محتاج ہے اور دوسرے بھی اس کے محتاج۔ بڑے سے بڑا باشاہ بھی دوسروں کا محتاج ہے اور چھوٹے سے چھوٹا آدمی بھی اس میں محتاج الیہ ہے۔ غرض یہاں کوئی شخص بھی دوسروں سے مستغنی نہیں۔[13] یعنی نبوت۔
Ayahs 43:33–35

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَۙ Open ayah 43:33 in the Quran reader

اور اگر یہ بات (متوقع) نہ ہوتی کہ سب لوگ ایک ہی طریقے کے ہوجائیں گے تو (متاع دنیا جو ہمارے نزدیک اس قدر حقیر ہے کہ) ہم ( اللہ) رحمن سے کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتیں چاندی کی کردیتے اور زینے بھی (چاندی کے) جن سے وہ چڑھا (اترا) کرتے

وَ لِبُیُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیْهَا یَتَّكِئُوْنَۙ Open ayah 43:34 in the Quran reader

اور (چاندی ہی کے) ان کے گھروں کے دروازے (کر دیتے، ) اور (چاندی ہی کے) تخت جن پر وہ تکیے لگا لگا کر بیٹھتے

وَ زُخْرُفًا١ؕ وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 43:35 in the Quran reader

اور (یہ سب چیزیں) سونے کی بھی (کر دیتے) اور یہ چیزیں تو بس اس دنیا کی زندگی کی متاع ہیں اور (اے پیغمبر، ) آخرت تو تیرے رب کے ہاں (صرف) متقیوں کے لئے ہے۔

[14] یہاں متاع دنیا کی بےحقیقتی واضح کی گئی ہے جس کے غرور نے کفار کو اس خبط میں مبتلا کردیا تھا کہ وہ سمجھنے لگ گئے جب دنیا کی ساری شوکت و عظمت ہم کو حاصل ہے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ اللہ کو کوئی کتاب اتارنی ہوتی تو اس کے لئے وہ ہمارے سوا کسی اور کو تلاش کرتا۔ فرمایا کہ دنیا کے جس سروسامان پر ان کو ناز ہے اس کی حقیقت اللہ کی کی نگاہ میں کچھ بھی نہیں ہے اور اگر ایک خاص مصلحت مانع نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ کافروں کے مکانوں کی چھتیں، زینے، دروازے اور تخت سونے چاندی کے بنا دیتا لیکن اس نے ایسا اس لئے نہیں کیا کہ یہ آزمائش لوگوں کے لئے بہت سخت ہوجاتی۔ عام لوگ جب یہ دیکھتے کہ کافروں کو یہ کچھ حاصل ہے تو وہ کفر کا راستہ اختیار کرلیتے یہ سمجھ کر کہ رضائے الٰہی اس میں ہے۔
Ayah 43:36

وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ Open ayah 43:36 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) جو شخص ( اللہ) رحمن کی نصیحت سے اعراض کیا کرتا ہے ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیا کرتے ہیں اور وہ اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔

[15] یعنی قرآن سے۔
Ayahs 43:37–38

وَ اِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:37 in the Quran reader

اور یہ (شیاطین) ایسے لوگوں کو (اللہ کی) راہ سے روکتے رہتے ہیں اور وہ (اپنے تئیں) خیال کرتے ہیں کہ وہ راہ راست پر ہیں۔

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ Open ayah 43:38 in the Quran reader

جب وہ شخص (قیامت کے دن) ہمارے حضور میں حاضر ہوگا تو (وہ اپنے ساتھی شیطان کو دیکھ کر) کہے گا '' کاش میرے اور تیرے درمیان بعد المشرِقَین ہوتا۔ تو (تو بہت ہی) برا ساتھی (نکلا) ہے ''۔

[16] یعنی مشرق و مغرب کے درمیان کا فاصلہ۔ یہ عربی محاورہ ہے جو اردو میں بھی اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ مشرقین سے مراد دو مشرق نہیں بلکہ مشرق و مغرب ہیں۔
Ayah 43:39

وَ لَنْ یَّنْفَعَكُمُ الْیَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّكُمْ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 43:39 in the Quran reader

اور (اس وقت ان لوگوں سے کہا جائے گا کہ) جب تم (دنیا میں) ظلم کرچکے ہو تو آج یہ بات تمہارے لئے (ذرا بھی) نافع نہ ہوگی کہ تم (اور تمہارے شیاطین) عذاب میں ایک دوسرے کے شریک ہوں۔

[17] انسان کی طبیعت کا خاصہ ہے کہ وہ کسی کو شریک مصیبت دیکھ کر کسی قدر تسلی پاتا ہے جیسے کہا کرتے ہیں مرگ انبوہ جشنے دارد۔ لیکن دوزخیوں کو یہ تسلی بھی نصیب نہ ہوگی۔