43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 43:40–42

اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ اَوْ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ مَنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 43:40 in the Quran reader

تو (اے پیغمبر، ) کیا تم بہروں کو سناؤ گے یا اندھوں کو اور ان کو جو صریح گمراہی میں (پڑے) ہیں راہ دکھاؤ گے ؟

فَاِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنْهُمْ مُّنْتَقِمُوْنَۙ Open ayah 43:41 in the Quran reader

پھر اگر ہم تم کو (دنیا سے) اٹھا بھی لیں تو بھی ہمیں ان (کافروں) سے تو ضرور بدلہ لینا ہے۔

اَوْ نُرِیَنَّكَ الَّذِیْ وَعَدْنٰهُمْ فَاِنَّا عَلَیْهِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ Open ayah 43:42 in the Quran reader

یا (تمہاری زندگی میں) تم کو وہ چیز دکھائیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے (کیونکہ) ہمیں ان پر (پوری) قدرت حاصل ہے۔

[18] یعنی وعدہ عذاب۔
Ayahs 43:43–44

فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِیْۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 43:43 in the Quran reader

پس تم اس (قرآن) کو جو تمہاری طرف وحی کیا گیا ہے مضبوطی سے تھامے رہو، بیشک تم سیدھے راستے پر ہو۔

وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَ١ۚ وَ سَوْفَ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:44 in the Quran reader

اور یقینا یہ (قرآن) تمہارے اور تمہاری قوم کے لئے بڑا شرف ہے اور عنقریب تم (سب) سے (اس کی بابت) بازپرس ہونی ہے۔

[19] یعنی قرآن کریم تمہارے اور تمہاری قوم کے لئے خاص عزت و شرف کا سبب ہے۔ اس سے بڑی عزت اور خوش نصیبی ایک شخص کے لئے کیا ہوگی کہ تمام انسانوں میں اللہ تعالیٰ اسے نبوت کے لئے انتخاب فرمائے۔ پھر اس کی قوم کے لئے اس سے بڑا شرف کیا ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ہاں نبی پیدا کرے اور اس کی زبان میں اپنا کلام نازل فرمائے۔ [20] یعنی آگے چل کر پوچھ گچھ ہوگی کہ اس نعمت عظمیٰ کی کیا قدر کی تھی اور اس عزت و شرف کا کیا شکر ادا کیا تھا۔
Ayah 43:45

وَ سْئَلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً یُّعْبَدُوْنَ۠ Open ayah 43:45 in the Quran reader

اور تم سے پہلے جو ہم نے اپنے رسول بھیجے تھے ان سے پوچھ دیکھو۔ کیا ہم نے ( اللہ) رحمن کے سوا (دوسرے) معبود ٹھہرا دئیے تھے کہ ان کی پرستش کی جائے ؟

[21] یعنی ان کے عقائد جو ان کی کتابوں میں لکھے ہوئے ہیں دیکھ لو۔ ان کو دیکھنا گویا پیغمبروں سے پوچھنا ہے۔
Ayah 43:46

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَقَالَ اِنِّیْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 43:46 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) ہم ہی نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا تھا۔ (موسیٰ نے ان لوگوں سے) کہا کہ میں رب العالمین کی طرف سے پیغمبر (ہو کر آیا) ہوں۔

[22] یہاں سے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی سرگزشت شروع ہوتی ہے جس سے مقصود ایک تو اس انتقام الہٰی کی تاریخی شہادت پیش کرنا ہے اور جس کا ذکر آیات 42-41 میں ہوا ہے کہ رسول کی تکذیب کرنے والوں کا فیصلہ لازماً ہوجاتا ہے خواہ رسول کی زندگی میں ہو یا اس کی وفات یا ہجرت کے بعد۔ دوسرے یہ کہ فرعون نے بھی اپنی بادشاہی اور حشمت و دولت پر گھمنڈ کرتے ہوئے موسیٰ (علیہ السلام) کو اسی طرح حقیر سمجھا تھا جس طرح سرداران قریش اپنے مقابلے میں نبی ﷺ کو سمجھ رہے تھے۔ تیسرے یہ اس حقیقت کی مثال ہے جو آیت 04 میں بیان ہوئی ہے کہ جو لوگ جان بوجھ کر گمراہی اختیار کرلیتے ہیں ان کو کسی نشانی سے بھی ہدایت حاصل نہیں ہوتی۔ وہ بڑے سے بڑا معجزہ دیکھنے کے بعد بھی اندھے ہی بنے رہتے ہیں۔ [23] ان نشانیوں سے مراد وہ معجزے ہیں جنہیں لے کر موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے پاس گئے تھے یعنی لاٹھی کا سانپ بن جانا اور ہاتھ کا چمکنا۔ ان کا بیان سورة اعراف اور سورة طہ میں گزر چکا ہے۔
Ayahs 43:47–48

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِاٰیٰتِنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَضْحَكُوْنَ Open ayah 43:47 in the Quran reader

پھر جب اس نے ہماری نشانیاں ان کے سامنے پیش کیں تو وہ لگے ان کی ہنسی اڑانے۔

وَ مَا نُرِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ اِلَّا هِیَ اَكْبَرُ مِنْ اُخْتِهَا١٘ وَ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:48 in the Quran reader

اور ہم جو نشانی ان کو دکھاتے تھے وہ پہلی سے بڑھ کر ہی ہوتی تھی، اور ہم نے ان کو عذاب میں (بھی) پکڑا تاکہ وہ (کفر وعناد سے باز آجائیں اور ہماری طرف) رجوع کریں۔

[24] یہ ان نشانیوں کی طرف اشارہ ہے جو پہلی نشانیوں کی تکذیب کے بعد تنبیہی عذاب کے طور پر نازل ہوئیں۔ ملاحظہ ہو سورة اعراف آیت 133 صفحہ 360۔
Ayah 43:49

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَ السّٰحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ اِنَّنَا لَمُهْتَدُوْنَ Open ayah 43:49 in the Quran reader

اور (جب ان پر عذاب آتا تو وہ موسیٰ سے) کہتے، اے جادوگر، اپنے رب سے اس عہد کی بناء پر جو اس نے تجھ سے کر رکھا ہے ہمارے لئے دعا کر۔ (اگر تیری دعا سے عذاب ٹل گیا تو) ہم ضرور راہ راست پر آجائیں گے۔

[25] وہ عہد یا تو یہ ہے کہ آپ کی دعا مستجاب ہے یا ایمان لانے والوں پر سے عذاب اٹھا لینا۔
Ayahs 43:50–54

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 43:50 in the Quran reader

پھر جب ہم ان پر سے عذاب ہٹا دیتے تو وہ اپنا عہد توڑ دیتے۔

وَ نَادٰى فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِهٖ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْكُ مِصْرَ وَ هٰذِهِ الْاَنْهٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ١ۚ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَؕ Open ayah 43:51 in the Quran reader

اور (پھر ایک دن) فرعون نے اپنی قوم میں منادی کرائی، '' اے میری قوم (کے لوگو، ) کیا مصر کی سلطنت میری نہیں اور یہ نہریں میرے (ایوان شاہی کے) نیچے (نہیں) بہہ رہی ہیں ؟ کیا تم (یہ سب کچھ) دیکھتے نہیں ہو ؟

اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ مَهِیْنٌ١ۙ۬ وَّ لَا یَكَادُ یُبِیْنُ Open ayah 43:52 in the Quran reader

کیا میں اس (موسیٰ ) سے جو ایک ذلیل آدمی ہے اور اپنی بات بھی کھل کر نہیں کہہ سکتا، (بدرجہا) بہتر (نہیں) ہوں ؟

فَلَوْ لَاۤ اُلْقِیَ عَلَیْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَآءَ مَعَهُ الْمَلٰٓئِكَةُ مُقْتَرِنِیْنَ Open ayah 43:53 in the Quran reader

(اگر وہ مجھ سے بہتر ہوتا) تو کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن اتارے گئے یا فرشتے پر باندھ کر اس کے ساتھ آئے ہوتے۔ ''

فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 43:54 in the Quran reader

غرض اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انہوں نے اس کی اطاعت کی۔ درحقیقت وہ تھے ہی فاسد لوگ۔

[26] جب کوئی شخص اپنی مطلق العنانی چلانے کی کوشش کرتا ہے، ہر طرح کی چالیں چلتا ہے، ضمیروں کی خریدو فروخت کا کاروبار چلاتا ہے، اور جو بکتے نہیں انہیں بےدریغ کچلتا ہے تو خواہ زبان سے یہ بات نہ کہے مگر اپنے عمل سے صاف ظاہر کردیتا ہے کہ وہ درحقیقت اس ملک کے باشندوں کو عقل، اخلاق اور مردانگی کے لحاظ سے ہلکا سمجھتا ہے اور اس نے ان کے متعلق یہ رائے قائم کی ہے کہ میں ان بےوقوف، بےضمیر اور بزدل لوگوں کو جدھر چاہوں ہانک کرلے جاسکتا ہوں۔ پھر جب اس کی یہ تدبیریں کامیاب ہوجاتی ہیں اور ملک کے باشندے اس کے دست بستہ غلام بن جاتے ہیں تو وہ اپنے عمل سے ثابت کردیتے ہیں کہ اس خبیث نے جو کچھ انہیں سمجھا تھا واقعی وہ وہی کچھ ہیں اور ان کے اس ذلیل حالت میں مبتلا ہونے کی اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ بنیادی طور پر '' فاسق '' ہوتے ہیں۔
Ayahs 43:55–60

فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 43:55 in the Quran reader

پھر جب ان لوگوں نے (اپنی نافرمانیوں سے) ہم کو غصہ دلایا تو ہم نے ان سے بدلہ لیا اور ان سب کو غرق کردیا

فَجَعَلْنٰهُمْ سَلَفًا وَّ مَثَلًا لِّلْاٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 43:56 in the Quran reader

پس ان کو داستان پارینہ اور آنے والوں کے لئے نمونہ (عبرت) بنادیا۔

وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ یَصِدُّوْنَ Open ayah 43:57 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) جب مریم کے بیٹے (عیسیٰ ) کی مثال بیان کی گئی تو تمہاری قوم کے لوگ (مارے خوشی کے) غل مچانے لگے۔

وَ قَالُوْۤا ءَاٰلِهَتُنَا خَیْرٌ اَمْ هُوَ١ؕ مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ Open ayah 43:58 in the Quran reader

اور لگے کہنے کہ ہمارے معبود اچھے (ہوئے) یا وہ ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ مثال وہ تمہارے سامنے محض کٹ حجتی کے لئے لائے ہیں۔ اصل میں یہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ۔

اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْهِ وَ جَعَلْنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 43:59 in the Quran reader

وہ (عیسیٰ ) تو بس ہمارا ایک بندہ تھا جس پر ہم نے اپنا فضل فرمایا اور بنی اسرائیل کے لئے اس کو (اپنی قدرت کا) ایک نمونہ بنادیا۔

وَ لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَّلٰٓئِكَةً فِی الْاَرْضِ یَخْلُفُوْنَ Open ayah 43:60 in the Quran reader

اور ہم چاہتے تو تم سے فرشتے پیدا کردیتے جو زمین میں تمہارے جانشین ہوتے

[27] روایات میں ہے کہ جب نبی ﷺ نے مشرکین کے سامنے سورة انبیاء کی یہ آیت پڑھی۔ ( اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98؀) 21 ۔ الأنبیاء :98) (تم اللہ کے سوا جن چیزوں کو پوجتے ہو وہ دوزخ کا ایندھن ہیں) تو اس پر ایک مشرک بول اٹھا کہ اس سے تو فرشتوں اور عیسیٰ کا جنہیں لوگ پوجتے ہیں دوزخی ہونا لازم آیا اور جب بتوں کے ساتھ فرشتے اور عیسیٰ بھی دوزخی ہوئے تو فی الحقیقت بت مزے میں رہے کیونکہ پتھر کو آگ سے کوئی تکلیف نہیں۔ اس بات پر مشرکین نے قہقہہ لگایا کہ بولو اس کا کیا جواب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب دیا کہ یہ تمہاری کٹ حجتی ہے اور واقعی ان کا یہ کہنا کٹ حجتی میں داخل تھا کیونکہ ماتعبدون میں لفظ ماذوی العقول کے واسطے نہیں بولا جاتا۔ یعنی اس آیت سے صرف بت مراد ہیں۔ رہے عیسیٰ (علیہ السلام) تو وہ اللہ کے ایک بندے ہیں جن کو مثل اور پیغمبروں کے اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا تھا اور عام توالد و تناسل کے قاعدے سے فرشتوں اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا پیدا نہ ہونا اللہ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں۔ وہ چاہے تو انسانوں سے فرشتے پیدا ہونے لگیں۔
Ayah 43:61

وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَ اتَّبِعُوْنِ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 43:61 in the Quran reader

اور وہ دراصل قیامت کی ایک دلیل ہے۔ پس (اے پیغمبر، ان لوگوں سے کہہ دو کہ) تم لوگ قیامت (کے آنے) میں شک نہ کرو اور میری پیروی کرو، یہی سیدھا راستہ ہے

[28] یعنی عیسیٰ علیہ السلام۔ [29] یعنی جو اللہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو بےباپ کے پیدا کرنے پر قادر ہے وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ قیامت میں مردوں کو زندہ اٹھائے۔
Ayahs 43:62–63

وَ لَا یَصُدَّنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:62 in the Quran reader

اور شیطان تم کو (اس راستے سے) روکنے نہ پائے۔ بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

وَ لَمَّا جَآءَ عِیْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَ لِاُبَیِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 43:63 in the Quran reader

اور جب عیسیٰ کھلی نشانیاں لے کر آیا تو اس نے (لوگوں سے) کہا کہ میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں اور (میرے آنے کا ایک مقصد) یہ (بھی ہے) کہ بعض باتیں جن میں تم لوگ اختلاف کر رہے ہو تم پر واضح کر دوں۔ پس (لوگو، ) اللہ (کے عذاب) سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

[30] عیسیٰ (علیہ السلام) کسی نئی شریعت کے داعی نہیں تھے بلکہ شریعت موسوی کے پیرو تھے۔ البتہ انہوں نے حکمت یعنی روح دین سے بنی اسرائیل کو آشنا کرنا چاہا لیکن وہ اپنی ظاہر پرستی میں مبتلا رہے اور کچھ رسوم ادا کر کے سمجھتے رہے کہ انہوں نے دین کا حق ادا کردیا۔
Ayahs 43:64–65

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 43:64 in the Quran reader

بیشک اللہ ہی میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی۔ پس اسی کی تم عبادت کرو۔ یہی (دین کا) سیدھا راستہ ہے۔

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 43:65 in the Quran reader

مگر (عیسیٰ کی اس صاف دعوت توحید کے باوجود مختلف) گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا۔ پس تباہی ہے ظالموں کے لئے ایک دردناک عذاب کے دن سے۔

[31] یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) نے دعوت نہایت واضح الفاظ میں توحید ہی کی دی تھی لیکن ان کی امت میں اختلاف پڑگیا اور مختلف گروہوں نے مختلف مذہب اختیار کر لئے۔ ایک گروہ یعنی یہود نے ان کا انکار کیا، دوسرے گروہ یعنی نصاریٰ نے ان کا اقرار کیا لیکن عقیدت میں اتنا غلو کیا کہ اللہ کے درجے پر پہنچا دیا۔ پھر نصاریٰ میں بھی کئی فرقے ہوگئے۔ کوئی تو ان کو اللہ کا بیٹا کہتا ہے کوئی تین الہٰوں میں کا ایک کہتا ہے کوئی کچھ اور کہتا ہے۔ غرض عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم پر ایک بھی نہیں۔
Ayahs 43:66–67

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 43:66 in the Quran reader

کیا یہ لوگ بس قیامت ہی کے منتظر ہیں کہ وہ ان پر اچانک آجائے اور ان کو خبر بھی نہ ہو ؟

اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَئِذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَؕ۠ Open ayah 43:67 in the Quran reader

اس دن تمام دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے بجز متقیوں کے۔

[32] اس دن دوست دوست سے بھاگے گا کہ کہیں پکڑا نہ جاؤں۔ دنیا کی سب دوستیاں اور محبتیں منقطع ہوجائیں گی۔ آدمی پچھتائے گا کہ فلاں شریر آدمی سے دوستی کیوں کی تھی جس کے اکسانے سے مصیبت میں گرفتار ہونا پڑا۔ البتہ جن کی دوستی اللہ کے واسطے اور اللہ کے خوف پر مبنی تھی وہ وہاں قائم رہے گی۔
Ayahs 43:68–72

یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 43:68 in the Quran reader

(اس دن ہم متقی بندوں سے کہیں گے کہ) اے ہمارے بندو، آج تم کو کوئی خوف نہیں اور نہ تم غمگین ہو گے۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 43:69 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو (دنیا میں) ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور (ہمارے) فرماں بردار بن کر رہے۔

اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ اَنْتُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُوْنَ Open ayah 43:70 in the Quran reader

(ہم ان سے فرما دیں گے کہ) تم اور تمہاری بیویاں جنت میں داخل ہوجاؤ۔ (وہاں) تمہاری خاطریں ہوں گی۔

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَهَبٍ وَّ اَكْوَابٍ١ۚ وَ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْهِ الْاَنْفُسُ وَ تَلَذُّ الْاَعْیُنُ١ۚ وَ اَنْتُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 43:71 in the Quran reader

ان کے آگے سونے کی طشتریاں اور پیالے گردش کرائے جائیں گے اور جس چیز کو (ان کا) جی چاہے اور جو (ان کی) نظر میں بھلی معلوم ہو وہاں (ان کے لئے موجود) ہوگی اور (ان کو مژدہ سنایا جائے گا کہ) تم ہمیشہ (ہمیشہ) یہیں رہو گے۔

وَ تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْۤ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 43:72 in the Quran reader

اور یہ جنت کی میراث جو تم کو ملی ہے تو ان (نیک اعمال) کے عوض (ملی ہے) جو تم دنیا میں کرتے رہے۔

[33] جنت کو میراث اس لئے فرمایا کہ سب کے باپ آدم (علیہ السلام) بہشت میں رہے اور وہی ان کا اصلی گھر تھا۔ اس سے تمام انسان آدم (علیہ السلام) کے رشتے سے جنت کے وارث ہیں بشرطیکہ ایمان رکھتے ہوں اور نیکوکار بھی ہوں۔
Ayahs 43:73–78

لَكُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ كَثِیْرَةٌ مِّنْهَا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 43:73 in the Quran reader

یہاں تمہارے لئے کثرت سے میوے (موجود) ہیں جنہیں تم کھاؤ گے۔

اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ عَذَابِ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚۖ Open ayah 43:74 in the Quran reader

(اس کے برعکس) بیشک مجرمین ہمیشہ جہنم (کے عذاب) میں رہیں گے

لَا یُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَ هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَۚ Open ayah 43:75 in the Quran reader

جو (کبھی) ان پر سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وہ اس میں مایوس پڑے ہوں گے۔

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْا هُمُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 43:76 in the Quran reader

اور (یہ) ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ (اپنی بدکرداریوں سے خود ہی اپنے اوپر) ظلم کرتے رہے۔

وَ نَادَوْا یٰمٰلِكُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّكَ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ مّٰكِثُوْنَ Open ayah 43:77 in the Quran reader

اور وہ (داروغہ جہنم کو) پکاریں گے کہ اے مالک، تیرا رب ہمارا کام تمام ہی کر دے (تو اچھا ہے) ۔ وہ جواب دے گا کہ تم اسی حال میں رہو گے۔

لَقَدْ جِئْنٰكُمْ بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 43:78 in the Quran reader

ہم تمہارے پاس (دین) حق لے کر آئے تھے لیکن تمہاری اکثریت حق سے بیزار ہی رہی۔

[34] داروغہ جہنم کا یہ قول کہ '' ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے تھے '' ایسا ہی ہے جیسے حکومت کا کوئی افسر حکومت کی طرف سے بولتے ہوئے '' ہم '' کا لفظ استعمال کرتا ہے اور اس کی مراد یہ ہوتی ہے کہ ہماری حکومت نے یہ کام کیا یا یہ حکم دیا۔
Ayah 43:79

اَمْ اَبْرَمُوْۤا اَمْرًا فَاِنَّا مُبْرِمُوْنَۚ Open ayah 43:79 in the Quran reader

(اچھا، تو) کیا ان لوگوں نے کوئی اقدام (کرنے) کی ٹھان رکھی ہے ؟ تو (سمجھ رکھیں کہ) ہم نے بھی ٹھان رکھی ہے۔

[35] اشارہ ہے ان منصوبوں کی طرف جو کفار نبی ﷺ کی ایذا رسانی کے بارے میں کر رہے تھے۔ [36] یعنی ہم نے بھی ان کے منصوبوں کا توڑ سوچ رکھا ہے اور ان کا انجام ہلاکت ہے۔